مندرجات کا رخ کریں

مصطفی شیخ

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 09:56، 15 دسمبر 2025ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) («'''مصطفی شیخ''' == بلتستان کا اصل ہیرو،حاجی مصطفےشیخ مرحوم == آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چند لیڈر نما شخصیات کی محبت میں ہم اپنے ہی رشتے ۔ناطے اور سماجی تعلقات قربان کرنے پر تل جاتے ہیں ۔ وہ لیڈر جو پانچ سال کے عرصے میں عوام کو چند میگاواٹ بجلی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

مصطفی شیخ

بلتستان کا اصل ہیرو،حاجی مصطفےشیخ مرحوم

آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چند لیڈر نما شخصیات کی محبت میں ہم اپنے ہی رشتے ۔ناطے اور سماجی تعلقات قربان کرنے پر تل جاتے ہیں ۔ وہ لیڈر جو پانچ سال کے عرصے میں عوام کو چند میگاواٹ بجلی تک فراہم نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے آج بلتستان کا ہیڈکوارٹر سکردو اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے ۔ ایسے ماحول میں جب ہمیں صاحب ویژن قیادت کی اشد ضرورت ہے ، میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں سکردو کھرگڑونگ کرفوٹوق کے عظیم فرزند حاجی مصطفے'شیخ مرحوم کو جن کا احسان بلتستان کے لوگوں پر اتنا عظیم ہے کہ شاید یہ قوم کبھی اس کا حق ادا نہ کرسکے۔

مرحوم مصطفے شیخ فیلڈ مارشل ایوب خان کے ذاتی خانساماں تھے۔ اللہ نے ان کے ہاتھ میں ایسی لذت رکھی تھی کہ ایوب خان ان کے بنائے بغیر کھانا نہیں کھاتے بلکہ انہیں اپنے گھر کے افراد کی طرح سمجھتے۔

بلتستان سکردو روڈ بنانے میں ان کا کردار

یہ اس دور کی بات ہے جب گلگت سکردو روڈ کا نام ونشان تک نہیں تھا ۔ ایک بار مصطفے شیخ مرحوم کو ایک ماہ کی چھٹی ملی مصطفے'شیخ تین ماہ بعد ایوب خان کے گھر واپس پہنچے۔ تاخیر کی وجہ پوچھی تو مصطفے'شیخ نے کہا:

"ایک ماہ پیدل چل کے بلتستان پہنچے ایک ماہ گھر میں قیام کیا واپسی پر ایک ماہ پیدل چل کے آپ کے پاس پہنچا ہوں۔ ایوب خان اس صورتحال پر بے حد متاثر ہوئے انہوں نے مصطفے شیخ سے فوری سکردو روڈ بنانے کا وعدہ کیا ۔ چند دن بعد ایوب خان نے ملتان میں مصطفے شیخ کے لئے 80کنال زمین الاٹ کرتے ہوئے کہا:

"مصطفے شیخ اگر تمہیں اس کے علاؤہ کسی اور چیز کی ضرورت یا خواہش ہو تو ضرور بتانا میں تیری ہر خواہش پوری کرونگا ۔" مگر غربت کے دور میں مشکلات کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے اس عظیم انسان نے کہا : " حضور نہ مجھے زمین چاہئیے نہ کوئی اور خواہش ہے میری ایک ہی آرزو ہے کہ میری زندگی میں بلتستان کے عوام کے لئے سڑک بنا دیں"۔

تاریخ گواہ ہے ایوب خان نے اپنے اس محبوب خانسامے کی خواہش پر سکردو روڈ کی تعمیر فوری طور شروع کرنے کا حکم صادر فرمایا وہی روڈ جس پر آج لوگوں لوگ سفر کرتے ہیں جس نے بلتستان کو پورے پاکستان سے جوڑ دیا۔

کاش ہمارے منتخب نمائیندے بھی کم از کم اس خانساماں کے برابر ثابت ہوتے ہر پانچ سال میں ایک بڑا مسئلہ سب مل کے حل کرلیتے تو شاید بلتستان کا ہیڈ کوارٹر آج اندھیرے میں نہ ڈوبے ہوتے۔ افسوس ہم میں سے بہت سے لوگ اس عظیم محسن کو جانتے بھی نہیں جس نے وہ کام کر دکھایا جو آج تک ہمارے نمائیندے اکھٹے ہوکر بھی نہیں کرسکے ۔ خدا مرحوم حاجی مصطفے'شیخ کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔جو بھی یہ پیغام پڑھے مرحوم کے لئے ایک مرتبہ سورہ فاتحہ ضرور پڑھیں [1]۔

  1. تحریر:احمد چو شگری