جنگ بدر

جنگ بدر یا غزوۂ بدر مسلمانوں اور کفارِ قریش کے درمیان ہونے والی پہلی بڑی جنگ تھی، جو ہجرت کے دوسرے سال پیش آئی اور دشمن کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس جنگ میں شرکت فرمائی اور جنگ کی قیادت اپنے ہاتھ میں رکھی۔ بدر، مدینہ کے جنوب مغرب میں مدینہ اور مکہ کے درمیان واقع ہے۔ اسے بدر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہاں موجود پانی کے کنویں کے مالک کا نام بدر تھا۔ اس جنگ کا بنیادی سبب وہ دباؤ اور مظالم تھے جو کفارِ قریش مسلمانوں پر روا رکھتے تھے۔ دوسری طرف کفارِ قریش نے مکہ میں مہاجر مسلمانوں کے اموال ضبط کر لیے تھے اور مجموعی طور پر وہ چاہتے تھے کہ مدینہ میں موجود مسلمانوں کو معاشی محاصرے اور دباؤ میں رکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ دباؤ اسی طرح جاری رہتا تو کم از کم اسلام کی ترقی اور پھیلاؤ کی راہ ضرور روک دی جاتی۔ اس معرکے میں، جو اسلام اور کفر کے درمیان پہلی بڑی براہِ راست جنگ تھی، مسلمانوں کی تعداد 313 تھی۔ ان میں 77 مہاجرین تھے جبکہ باقی انصار میں سے تھے۔ بالآخر جنگ مسلمانوں کی فتح اور دشمن کی شکست پر ختم ہوئی۔ مسلمانوں میں سے چودہ یا بائیس افراد کو شہادت کا شرف حاصل ہوا، جبکہ کفار میں سے 70 افراد مارے گئے اور 70 افراد گرفتار کر لیے گئے۔
غزوۂ بدر کا زمانہ
غزوۂ بدر ماہِ رمضان کی 17 یا 19 تاریخ، ہجرت کے دوسرے سال پیش آیا [1]۔
جنگِ بدر کے وقوع پذیر ہونے کے اسباب
ہجرت سے قبل مسلمان مکہ کے کفار کے شدید دباؤ میں تھے اور انہیں اذیت، ظلم اور مختلف قسم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لیکن اس وقت خداوندِ متعال کی طرف سے انہیں مشرکینِ قریش کے ساتھ مقابلہ کرنے اور جنگ کرنے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ انہیں صرف صبر کی تلقین کی جاتی تھی۔
جب مسلمان مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تو خداوندِ متعال نے مسلمانوں پر کیے جانے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے انہیں دفاع اور مقابلے کی اجازت عطا فرمائ[2]۔
اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے:"اُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِیرٌ الَّذِینَ أُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ یَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیهَا اسْمُ اللَّهِ کَثِیرًا وَلَیَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ یَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِیٌّ عَزِی" [3]۔
جن لوگوں سے جنگ کی جا رہی ہے، انہیں اجازت دی گئی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے: ہمارا پروردگار اللہ ہے۔
اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور وہ مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، ضرور منہدم کر دی جاتیں۔ اور یقیناً اللہ ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ بے شک اللہ طاقتور اور غالب ہے [4]۔
مسلمانوں کے پاس اس ظلم کا بدلہ لینے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ مکہ کے تجارتی قافلوں کے سامان کو اپنے قبضے میں لے لیں۔ کیونکہ مہاجر مسلمانوں کے وہ اموال جو وہ مدینہ میں مقیم ہونے کے بعد اپنے ساتھ نہیں لا سکے تھے، قریش نے ضبط کر لیے تھے۔
اس لیے یہ بات ایک طرح سے مناسب سمجھی جاتی تھی کہ مسلمان بھی ان کے تجارتی سامان کو ضبط کریں اور اگر قریش مسلمانوں کے اموال غصب کرنے کی روش پر قائم رہیں تو مسلمان بھی ان کے تجارتی سامان کو جنگی غنیمت کے طور پر اپنے قبضے میں لے لیں [5]۔
جنگِ بدر سے پہلے مسلمانوں نے قریش کے خلاف چند سریّے اور غزوات انجام دیے تھے۔ ان کا مقصد قریش کو نقصان پہنچانا اور ان کے تجارتی قافلوں کو اپنے قبضے میں لینا تھا، اگرچہ سریۂ نخلہ کے علاوہ ان میں سے کسی مہم کو نمایاں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔
سریۂ نخلہ ماہِ حرام میں عبداللہ بن جحش کی قیادت میں، غزوۂ بدر سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل پیش آیا۔ اس واقعے میں ایک مشرک، عمرو بن حضرمی ، مارا گیا، دو افراد گرفتار ہوئے اور تجارتی قافلہ مسلمانوں کے ہاتھ غنیمت آیا۔
قریش اس شکست کو عرب کے قبائل کے درمیان اپنی رسوائی کا باعث سمجھتے تھے اور عمرو بن حضرمی کے خون کا بدلہ لینے کے خواہش مند تھے۔ اس واقعے نے جنگِ بدر کے وقوع پذیر ہونے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
جن تجارتی قافلوں کو مسلمان اپنے قبضے میں نہیں لے سکے، ان میں سے ایک وہ قافلہ تھا جس کی قیادت ابوسفیان کر رہا تھا اور جو غزہ کی طرف جا رہا تھا۔ رسولِ خدا ﷺ ذوالعُشیرہ تک پہنچے، جو مدینہ سے تقریباً پانچ منزل کے فاصلے پر تھا، لیکن قافلہ وہاں نہ ملا؛ چنانچہ آپ ﷺ مدینہ واپس تشریف لے آئے۔
ابوسفیان کو ملنے والی بعض اطلاعات سے معلوم ہو گیا تھا کہ واپسی کے وقت مسلمان اس کے قافلے کی گھات میں ہوں گے۔ چنانچہ اس نے ضمضم بن عمرو کو مکہ روانہ کیا تاکہ قریش سے مدد طلب کرے۔
دوسری طرف رسولِ خدا ﷺ کے خبر رساں افراد نے، اور ایک روایت کے مطابق جبرئیلؑ نے بھی، آپ ﷺ کو یہ اطلاع دی کہ تجارتی قافلہ غزہ سے مکہ کی طرف واپس آ رہا ہے [6]۔
رسولِ خدا ﷺ نے مسلمانوں کو روانگی کا حکم دیا۔ لوگ روانہ ہوئے۔ بعض افراد نے جوش و شوق کے ساتھ رسولِ خدا ﷺ کے حکم کی اطاعت کی، جبکہ کچھ لوگ قریش کی انتقامی کارروائی کے خوف سے اس حکم کو بادلِ نخواستہ اور ناگواری کے ساتھ قبول کر رہے تھے۔
بہت سے صحابہ، چونکہ رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ نکلنے پر آمادہ نہیں تھے، اس لیے آپ ﷺ کے ساتھ روانہ نہیں ہوئے۔ اس معاملے میں بہت سی گفتگو اور بحث بھی ہوئی [7]۔
خداوندِ متعال نے قرآنِ کریم میں مسلمانوں کے اس ردِعمل کو یوں بیان فرمایا ہے:"کَمَا أَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ بَیْتِکَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنَ الْمُؤْمِنِینَ لَکَارِهُونَ یُجَادِلُونَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ کَأَنَّمَا یُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ یَنْظُرُونَ" [8]۔
جس طرح تمہارے پروردگار نے تمہیں تمہارے گھر سے حق کے ساتھ نکالا، حالانکہ مؤمنوں میں سے ایک گروہ اسے ناپسند کر رہا تھا۔ وہ حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی تم سے اس کے بارے میں بحث کر رہے تھے، گویا انہیں موت کی طرف ہانکا جا رہا ہو اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔