نیٹو
نیٹو، جس کا پورا نام "نارتھ اٹلانٹک ٹیٹی آرگنائزیشن (NATO)"(انگلش: North Atlantic Treaty Organization, NATO) ہے، ایک بین الاقوامی عسکری اور سیاسی اتحاد ہے جو 4 اپریل 1949 کو ’’معاہدۂ اٹلانٹک شمالی‘‘ پر دستخط کے ذریعے 12 ممالک نے قائم کیا۔ آج یہ دنیا کی اہم ترین سلامتی اور دفاعی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ نیٹو کا مرکزی دفتر برسلز، بیلجیم میں واقع ہے اور اس کے موجودہ سیکریٹری جنرل مارک رُتے ہیں۔ اس وقت نیٹو کے 32 رکن ممالک ہیں اور تقریباً 20 ہزار فوجی اہلکار مختلف بین الاقوامی مشنوں میں تعینات ہیں[1]۔
پس منظر اور قیام
نیٹو کے قیام کا بنیادی مقصد ’’باہمی دفاعی تعاون‘‘ کا ایک ایسا معاہدہ بنانا تھا جو سوویت یونین کی توسیع پسندی، خصوصاً جوزف اسٹالن کی پالیسیوں کا مقابلہ کر سکے۔ بانی ممالک یہ تھے:
امریکا، برطانیہ، فرانس، کینیڈا، اٹلی، بیلجیم، نیدرلینڈز، لکسمبرگ، ڈنمارک، ناروے، پرتگال اور آئس لینڈ۔
نیٹو نے اپنی تاریخ میں صرف ایک مرتبہ باضابطہ طور پر آرٹیکل 5 کو فعال کیا، اور وہ تھا 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر دہشت گردانہ حملے کے بعد۔ اس کے بعد سے یہ تنظیم شام، یوکرین کی جنگ اور دیگر بحرانوں میں بھی دفاعی تعاون اور مربوط اقدامات میں شامل رہی ہے۔
اصول اور ڈھانچہ
آرٹیکل 5 (اجتماعی دفاع)
نیٹو کی بنیاد آرٹیکل 5 پر رکھی گئی ہے، جو اجتماعی دفاع کے اصول پر زور دیتا ہے۔ اس کے مطابق، اگر نیٹو کے کسی ایک رکن پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے
اور تمام ممالک اس کی دفاع میں مدد کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ یہ اصول نیٹو کے تحفظ اور اجتماعی سلامتی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔
اجماع کا اصول
نیٹو میں تمام فیصلے متفقہ رائے سے کیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی فیصلے پر تمام رکن ممالک کا اتفاق ہونا ضروری ہے اور کسی فیصلہ کو اس وقت تک نافذ نہیں کیا جا سکتا
جب تک ہر ملک اس کی منظوری نہ دے۔ اس ڈھانچے سے ہر ملک کو عملی طور پر ویٹو کا حق حاصل ہوتا ہے، جس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ تمام ارکان کے مفادات کو ملحوظ رکھا جائے۔
ادارے اور کمانڈ اسٹرکچر
نیٹو کا مرکزی دفتر برسلز میں واقع ہے، جہاں روزانہ رکن ممالک کے فوجی اور سیاسی نمائندوں کے درمیان مشاورت اور حفاظتی اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ سالانہ تقریباً 5000 اجلاس یہاں ہوتے ہیں۔
نیٹو کا کمانڈ اسٹرکچر ’’سٹرٹیجک ہیڈکوارٹرز (SHAPE)‘‘ اور خصوصی آپریشنز کی کمانڈ پر مشتمل ہے۔
نیٹو کی توسیع
نیٹو کے ابتدائی ارکان
نیٹو نے 12 ممالک کے ساتھ آغاز کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس میں نمایاں توسیع ہوئی۔ سرد جنگ کے اختتام اور سوویت یونین کے زوال کے بعد مشرقی یورپ کے کئی ممالک یکے بعد دیگرے نیٹو کا حصہ بنتے گئے۔
- ↑ [https://snn.ir/fa/news/1321524/%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88-%DA%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA ناتو چیست؟|- شائع شدہ از: 1آبان 1404ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 21 اپریل 2026ء