مندرجات کا رخ کریں

نیکولس مادورو

ویکی‌وحدت سے


نیکولس مادورو
دوسرے نامنیکولس مادورو موروس
ذاتی معلومات
پیدائش1961 ء، 1339 ش، 1380 ق
پیدائش کی جگہکراکس، وینزویلا
مذہب، یہودی النسل، رومن کیتھولک
مناصب
  • مزدور یونین کے رہنما
  • وینزویلا کی قومی اسمبلی کے رکن
  • وزیر خارجۂ وینزویلا
  • نائب صدر
  • صدرِ وینزویلا

نیکولس مادورو (ہسپانوی: Nicolás Maduro Moros) وینزویلا کے سیاست دان اور ملک کے چھیالیسویں منتخب و قانونی صدر ہیں۔ نیکولس مادورو وینزویلا کے سیاست دان اور اس ملک کے منتخب و قانونی صدر ہیں جنہیں 3 جنوری 2026ء کو ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایک غیر قانونی فوجی کارروائی کے دوران کراکس سے اغوا کر کے نیویارک منتقل کیا۔ امریکا نے ان پر دہشت گردی اور منشیات اسمگلنگ کے بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ وہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے، فلسطین کو تسلیم کرنے، بشار الاسد کی حمایت اور چین، روس اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے باعث عالمی سیاست میں نمایاں رہے۔

ابتدائی زندگی

نیکولس مادورو 23 نومبر 1962ء کو کراکس میں پیدا ہوئے۔

تعلیم

مادورو نے باقاعدہ یونیورسٹی تعلیم حاصل نہیں کی۔ 24 سال کی عمر میں وہ کیوبا گئے جہاں انہوں نے ایک سال تک **خولیو انتونیو میلا نیشنل کیڈر اسکول** میں کمیونسٹ نظریاتی تعلیم حاصل کی۔

مذہبی عقائد

وہ رومن کیتھولک ماحول میں پلے بڑھے۔ 2012ء میں ان کے بارے میں رپورٹ ہوا کہ وہ سائی بابا کے پیروکار رہے، جو ایک ہندو روحانی شخصیت تھے۔ 2013ء کے ایک انٹرویو میں مادورو نے کہا کہ ان کے دادا دادی یہودی تھے جو بعد میں کیتھولک مذہب اختیار کر گئے۔

سیاست میں آمد

مادورو کی سیاست سے وابستگی اسکول کے زمانے میں شروع ہوئی۔ بعد ازاں وہ کراکس میٹرو میں ڈرائیور بنے اور وہاں ایک غیر رسمی مزدور یونین قائم کی۔ انہوں نے 1983ء میں صدارتی امیدوار خوسے رنگل کے محافظ کے طور پر کام کیا۔

1990ء کی دہائی میں انہوں نے **پانچویں جمہوری تحریک** کے قیام میں اہم کردار ادا کیا جس نے ہیوگو شاویز کی حمایت کی۔ 1998ء سے 2006ء تک وہ مختلف قانون ساز اداروں کے رکن اور قومی اسمبلی کے صدر بھی رہے۔ 2006ء میں شاویز نے انہیں وزیر خارجہ مقرر کیا اور **اکتوبر 2012ء** میں نائب صدر بنایا۔

صدارتی انتخاب میں کامیابی

ہیوگو شاویز کی وفات کے بعد **اپریل 2013ء** میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مادورو نے **51٪ ووٹ** حاصل کر کے کامیابی حاصل کی اور وینزویلا کے صدر بنے۔

جائے پیدائش پر تنازع

مخالفین نے مادورو کی قومیت پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے مختلف اوقات میں کراکس کے مختلف علاقوں کو اپنی جائے پیدائش بتایا، جس پر سیاسی تنازع پیدا ہوا۔

خارجہ تعلقات

اپنی صدارت کے دوران مادورو نے:

قتل اور تختہ الٹنے کی کوششیں

  • 2018ء: ڈرون حملے کی ناکام کوشش
  • 2020ء: امریکی نجی سیکیورٹی کمپنی کے ذریعے بغاوت کی کوشش
  • 2024ء:غیر ملکی سنائپرز کی گرفتاری
  • امریکا نے ان پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کر کے 50 ملین ڈالر انعام مقرر کیا

امریکا کا حملہ اور اغوا (2026)

3 جنوری 2026ء کو امریکی فضائی و خصوصی افواج نے وینزویلا پر حملہ کیا، مادورو کو گرفتار کر کے بحری جہاز USS Iwo Jima منتقل کیا اور پھر نیویارک لے جایا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں کہا: "وینزویلا کے پاس بہت تیل ہے [1]۔

عالمی ردِعمل

امریکا

مارکو روبیو نے مادورو کو غیر قانونی صدر قرار دیا۔

وینزویلا

حکومت نے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

لاطینی امریکا

کولمبیا، برازیل، چلی نے حملے کی مذمت کی۔

عالمی طاقتیں

روس، چین، ایران، کیوبا نے امریکا کی شدید مذمت کی۔

یورپی یونین

یورپی یونین نے مادورو کو غیر جائز قرار دیتے ہوئے امریکا کے مؤقف کی تائید کی۔

نیویارک میں عدالتی پیشی

5 جنوری 2026ء کو مادورو نے عدالت میں کہا: "میں وینزویلا کا صدر ہوں، میں خود کو جنگی قیدی سمجھتا ہوں۔" انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

1. <a href="https://example.com/trump-statement-venezuela-2026" target="_blank">ٹرمپ کے بیانات – وینزویلا آپریشن 2026</a> 2. <a href="https://example.com/international-reactions-venezuela" target="_blank">عالمی ردِعمل بر حملۂ امریکا بر وینزویلا</a> 3. <a href="https://example.com/maduro-ny-court-statement" target="_blank">نیکولس مادورو کا نیویارک عدالت میں بیان</a>