مندرجات کا رخ کریں

"جنگ احزاب" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 38: سطر 38:
چنانچہ ابو سفیان کی قیادت میں قریش چار ہزار افراد کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے اور جنگ کی قیادت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کے سپرد کی گئی۔ ان کے لشکر کے پاس ایک ہزار اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے <ref>لسان‌الملک سپهر، محمدتقی، ناسخ التواریخ، ج۲، ص۱۰۱۵، انتشارات اساطیر، ۱۳۸۰ش، تهران</ref>۔  
چنانچہ ابو سفیان کی قیادت میں قریش چار ہزار افراد کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے اور جنگ کی قیادت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کے سپرد کی گئی۔ ان کے لشکر کے پاس ایک ہزار اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے <ref>لسان‌الملک سپهر، محمدتقی، ناسخ التواریخ، ج۲، ص۱۰۱۵، انتشارات اساطیر، ۱۳۸۰ش، تهران</ref>۔  


جب وہ مر الظہران پہنچے تو اسلم، اشجع، بنو مرہ، کنانہ، فزارہ اور غطفان کے قبائل سے مزید دو ہزار افراد ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ وہاں سے وہ منزل بہ منزل مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور راستے میں مختلف جانب سے مزید قبائل ان کے ساتھ شامل ہوتے گئے یہاں تک کہ مدینہ کے قریب پہنچتے پہنچتے ان کی مجموعی تعداد دس ہزار افراد تک پہنچ گئی
جب وہ مر الظہران پہنچے تو اسلم، اشجع، بنو مرہ، کنانہ، فزارہ اور غطفان کے قبائل سے مزید دو ہزار افراد ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ وہاں سے وہ منزل بہ منزل مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور راستے میں مختلف جانب سے مزید قبائل ان کے ساتھ شامل ہوتے گئے یہاں تک کہ مدینہ کے قریب پہنچتے پہنچتے ان کی مجموعی تعداد دس ہزار افراد تک پہنچ گئی۔
== مشرکین کی تعداد ==
 
اس جنگ میں تمام قبائل اور احزاب سے تعلق رکھنے والے مشرکین کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں سے چار ہزار افراد قریش اور ان کے اتحادی قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے پاس تین سو گھوڑے اور پندرہ سو اونٹ تھے۔
 
تاہم بعض منابع میں مشرکین کی تعداد اٹھارہ ہزار اور مسلمانوں کی تعداد تین ہزار بیان ہوئی ہے۔
بعض دیگر منابع میں قریش غطفان سلیم اسد اشجع قریظہ نضیر اور دوسرے یہودی قبائل سمیت ان کی تعداد چوبیس ہزار بیان کی گئی ہے۔
 
بہرحال اس غزوہ میں مشرکین اور یہودیوں کا متحد ہو کر وسیع پیمانے پر جنگ کے لیے جمع ہونا اس بات کی واضح علامت تھا کہ وہ اسلام کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ عزم رکھتے تھے۔ اسی لیے رسول خدا نے فرمایا کہ اس موقع پر تمام اسلام تمام شرک کے مقابلے میں آ کھڑا ہوا ہے
 
اس کے مقابلے میں بعض منابع نے مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار بیان کی ہے۔ یعقوبی نے مسلمانوں کی تعداد سات سو افراد ذکر کی ہے۔
 
== پیغمبر کی مشاورت ==
 
جب رسول خدا کے قبیلہ خزاعہ سے تعلق رکھنے والے بعض اتحادیوں نے آپ کو مشرکین کے ارادے سے آگاہ کیا تو آپ نے مدینہ میں رہنے یا شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کرنے کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا۔
 
سلمان فارسی نے کہا کہ ہم [[ایران]] میں جب دشمن کے سواروں کی طرف سے خطرہ محسوس کرتے تھے تو اپنے گرد خندق کھود لیا کرتے تھے
 
اہل مدینہ نے غزوہ احد میں پیغمبر کے مشورے کی مخالفت کے نتیجے میں پیش آنے والے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے شہر کے اندر رہنے کا فیصلہ کیا اور سلمان کی تجویز کے مطابق خندق کھودنے پر رضامند ہوگئے۔ اس وقت عربوں کے درمیان خندق کھودنے کا رواج عام نہیں تھا اور اس وجہ سے مسلمانوں اور مشرکین دونوں کو حیرت ہوئی۔
 
== خندق کھودنے کا فیصلہ ==
 
یہ فیصلہ کیا گیا کہ احد سے راتج تک ایک خندق کھودی جائے۔ پیغمبر نے لوگوں کو حکم دیا کہ پہاڑ سلع کو اپنے پیچھے رکھتے ہوئے سامنے کی جانب خندق کھودیں۔
 
آپ نے خندق کی کھدائی مذاد سے شروع کرنے کا حکم دیا جو مسجد فتح کے مغرب میں واقع ایک قلعہ تھا اور اسے ذباب کے علاقے اور پہاڑ راتج تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ راتج پہاڑ بنی عبید کے پہاڑ کے قریب وادی بطحان کے مغرب میں واقع تھا۔
 
رسول خدا نے ہر دس افراد کے لیے چالیس ذراع کا حصہ مقرر کیا اور خندق کے ہر حصے کی کھدائی ایک قبیلے کے سپرد کردی۔ جبل بنی عبید سے راتج تک کا حصہ رسول خدا کی نگرانی میں کھودا گیا۔
 
ایک روایت کے مطابق مہاجرین کو راتج سے ذباب تک اور انصار کو ذباب سے جبل بنی عبید تک خندق کھودنے کی ذمہ داری دی گئی۔
== خندق کی کھدائی میں پیغمبر کی شرکت ==
 
رسول خدا نے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خود بھی خندق کھودنے میں حصہ لیا۔ آپ نے خندق کے لیے دروازے بھی مقرر کیے اور ہر قبیلے سے ایک شخص کو ان کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی۔
 
== آلات ادھار لینا ==
 
مسلمانوں نے خندق کھودنے کے لیے بیلچے کلہاڑیاں کدالیں اور ٹوکریاں جیسے بہت سے آلات یہودی قبیلہ بنی قریظہ سے ادھار لیے۔ اس وقت بنی قریظہ رسول خدا کے اتحادی تھے۔
 
== خندق کی کھدائی کے دوران آیات کا نزول ==
 
اللہ تعالیٰ نے ان مؤمنین کے بارے میں آیات نازل فرمائیں جو رسول خدا کی اجازت کے بغیر کام سے دست بردار نہیں ہوتے تھے اور ان منافقین کے بارے میں بھی جو کام میں سستی کا مظاہرہ کرتے تھے اور رسول خدا کی اجازت کے بغیر اپنے گھروں اور اہل خانہ کے پاس چلے جاتے تھے۔
 
== مسلمانوں کی فتوحات کی پیغمبر کی بشارت ==
 
خندق کی کھدائی کے دوران مسلمانوں کو ایک سخت چٹان کا سامنا ہوا۔ رسول خدا نے اس چٹان پر تین ضربیں لگائیں اور ہر ضرب سے نکلنے والی چمک کے ساتھ مسلمانوں کو مستقبل میں شام یمن اور ایران میں حاصل ہونے والی فتوحات کی بشارت دی۔
 
== خندق کی کھدائی کا دورانیہ ==
 
خندق کھودنے میں چھ دن لگے۔ اس جنگ میں براء بن عازب عبداللہ بن عمر اور زید بن ثابت جیسے نوجوانوں نے بھی رسول خدا کی اجازت سے شرکت کی۔ ان میں سے بعض کی عمر پندرہ سال سے زیادہ نہیں تھی۔
 
== بنی قریظہ کا معاہدہ توڑنا ==
 
جب قریش مدینہ کے قریب پہنچ کر مقیم ہوگئے تو ابوسفیان بن حرب نے حیی بن اخطب کو بلایا اور اس سے کہا کہ اگر تم یہودیوں کے قبیلہ بنی قریظہ کو بھی محمد کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑنے پر آمادہ کرسکو تو یہ بہت اچھا ہوگا۔
 
حیی بن اخطب بنی قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا۔ ابتدا میں کعب نے اسے اندر آنے کی اجازت نہیں دی اور رسول خدا کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑنے سے خوف محسوس کیا لیکن حیی بن اخطب نے اسے معاہدہ توڑنے پر آمادہ کرلیا۔
 
جب یہ خبر رسول خدا تک پہنچی تو آپ نے سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کو صورت حال کی تحقیق کے لیے بھیجا۔ جب یہ دونوں بنی قریظہ کے قلعے میں پہنچے تو کعب بن اسد کی طرف سے سعد بن معاذ اور رسول خدا کے لیے دشنام طرازی کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں واپس آئے اور رسول خدا کے حکم کے مطابق بنی قریظہ کی عہد شکنی کی اطلاع ایک رمزی انداز میں آپ کو دی۔
== کافروں اور مسلمانوں کی فوجی صف بندی ==
 
احزاب تین لشکروں پر مشتمل تھے اور ان کی مجموعی کمان ابوسفیان بن حرب کے پاس تھی۔ قریش اپنے ساتھ موجود مختلف قبائل کے گروہوں یعنی احابیش اور اپنے اتحادی قبائل کنانہ اور تہامہ کے ساتھ رومہ کے مقام پر جرف اور زغابہ کے درمیان قیام پذیر ہوئے۔
 
قبیلہ غطفان اپنے اتحادی قبائل کے ساتھ احد کے قریب خیمہ زن ہوا۔ رسول خدا بھی مسلمانوں کے ساتھ پہاڑ سلع کے دامن میں قیام پذیر ہوئے جبکہ خواتین اور بچوں کو قلعوں میں ٹھہرا دیا گیا۔

نسخہ بمطابق 22:21، 18 ستمبر 2026ء

جنگ احزاب، جسے جنگ خندق بھی کہا جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غزوات میں سے ایک غزوہ ہے جو پانچ ہجری میں مشرکین اور مخالف گروہوں بالخصوص یہودیوں کے ساتھ پیش آیا۔ اسے جنگ احزاب کے نام سے بھی معروف کیا جاتا ہے [1]۔ [2]۔

بنی نضیر کو خیانت کی وجہ سے ان کے علاقے سے نکالے جانے کے بعد وہ خیبر کی طرف چلے گئے اور انہوں نے دوسرے یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ پر اکسایا۔ اسے جنگ خندق کے اہم اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد انہوں نے مکہ کے مشرکین کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا۔ اس جنگ میں تمام مشرک قوتوں اور ان یہودی قبائل نے جو اسلام کے مخالف تھے اپنی تمام طاقت جمع کرلی تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کو ختم کرسکیں۔

لیکن مسلمانوں نے ان کے مقابلے میں سلمان فارسی کی تجویز پر مدینہ کے اطراف خندق کھودی۔ اس وقت عربوں میں خندق کھودنے کا طریقہ رائج نہیں تھا جس کی وجہ سے مسلمان اور مشرکین دونوں حیران ہوئے۔ اس فوجی حکمت عملی کے ساتھ اللہ کی غیبی مدد بھی شامل ہوئی اور مشرکین اور یہودیوں کی سازش ان کے لیے کسی بڑی جنگ کے بغیر ہی شدید شکست پر ختم ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف دشمن دوبارہ منظم ہوکر لشکر کشی کرنے سے عاجز ہوگئے بلکہ مدینہ کی اسلامی حکومت کی قوت اور اقتدار میں بھی اضافہ ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں قرآن مجید کی بعض سورتوں کی آیات نازل ہوئیں

جنگ کا زمانہ

بعض منابع میں اس جنگ کے واقع ہونے کا زمانہ شوال کا مہینہ بیان کیا گیا ہے[3]۔ [4]۔ جبکہ بعض دوسرے منابع میں ذیقعدہ کا مہینہ ذکر ہوا ہے [5]۔

بعض روایات کے مطابق یہ جنگ آٹھ سے تیئیس ذیقعدہ تک جاری رہی [6]۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعرات دس شوال کو اس جنگ کے لیے روانہ ہوئے اور ہفتہ یکم ذیقعدہ کو جنگ اختتام پذیر ہوئی [7]۔

جنگ کا سبب

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیانت کی وجہ سے بنی نضیر کو ان کے علاقے سے نکال دیا [8]۔ [9]۔ تو وہ خیبر کی طرف چلے گئے اور انہوں نے دوسرے یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ پر اکسایا۔

اسے جنگ کے آغاز کا بنیادی سبب قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد بنی نضیر اور بنی وائل کے بعض یہودی رہنما جیسے حیی بن اخطب نضری، سلام بن ابی الحقیق نضری، کنانہ بن ربیع بن ابی الحقیق نضری، ہَوَذہ بن قیس وائلی اور ابو عمار وائلی جنہیں واقدی نے ابو عامر راہب کہا ہے، مکہ گئے اور انہوں نے ابو سفیان اور قریش کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا

جب ابو سفیان نے ان سے کہا کہ تم بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح اہل کتاب ہو اور ممکن ہے یہ تمہاری اپنی سازش ہو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہاری بات کو سچ مانیں تو تمہیں ان دو بتوں لات اور عزی کے سامنے سجدہ کرنا ہوگا۔

یہودیوں نے قریش اور مکہ کے سرداروں کو جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے مشرکین مکہ کے بتوں کے سامنے سجدہ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی [10]۔

جب ابو سفیان نے بت پرستی اور اسلام کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم حاجیوں کے لیے کوہان والے مضبوط اونٹ ذبح کرتے ہیں اور ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کردیا ہے۔

اس کے بعد اس نے یہودیوں سے اس بارے میں فیصلہ طلب کیا کہ ان دونوں میں سے کون سا دین حق پر ہے تو انہوں نے مشرکین کے دین کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین پر ترجیح دی [11]۔ اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی [12]۔

"اَلَمْ تَرَ اِلیَ الَّذِینَ اُوتُواْ نَصِیبًا مِّنَ الْکِتَابِ یُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّغُوتِ وَ یَقُولُونَ لِلَّذِینَ کَفَرُواْ هَؤُلَاءِ اَهْدَی‌ مِنَ الَّذِینَ ءَامَنُواْ سَبِیلاً اُوْلَئکَ الَّذِینَ لَعَنهَُمُ اللَّهُ وَ مَن یَلْعَنِ اللَّهُ فَلَن تجَِدَ لَهُ نَصِیرًا؛" [13]۔

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے۔ وہ جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو ایمان لائے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کرے تم اس کے لیے ہرگز کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔

ابو سفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دشمنی اور جنگ کے سلسلے میں ان کی پیش کردہ اتحاد کی تجویز کا خیر مقدم کیا اور یہودیوں اور قریش کے درمیان باہمی اتحاد قائم ہوگیا [14] [15] [16]۔

اس کے بعد وہ یہودی قبیلہ غطفان کے پاس گئے جس کی قیادت عیینہ بن حصن فزاری کررہے تھے اور انہوں نے خیبر کی ایک سال کی کھجوروں کی پیداوار دینے کا وعدہ کرکے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ میں اپنے ساتھ شامل کرلیا [17] [18] پھر وہ بنی سلیم بن منصور کے پاس گئے اور ان کی رضامندی بھی حاصل کرلی [19]۔

چنانچہ ابو سفیان کی قیادت میں قریش چار ہزار افراد کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے اور جنگ کی قیادت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کے سپرد کی گئی۔ ان کے لشکر کے پاس ایک ہزار اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے [20]۔

جب وہ مر الظہران پہنچے تو اسلم، اشجع، بنو مرہ، کنانہ، فزارہ اور غطفان کے قبائل سے مزید دو ہزار افراد ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ وہاں سے وہ منزل بہ منزل مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور راستے میں مختلف جانب سے مزید قبائل ان کے ساتھ شامل ہوتے گئے یہاں تک کہ مدینہ کے قریب پہنچتے پہنچتے ان کی مجموعی تعداد دس ہزار افراد تک پہنچ گئی۔

مشرکین کی تعداد

اس جنگ میں تمام قبائل اور احزاب سے تعلق رکھنے والے مشرکین کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں سے چار ہزار افراد قریش اور ان کے اتحادی قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے پاس تین سو گھوڑے اور پندرہ سو اونٹ تھے۔

تاہم بعض منابع میں مشرکین کی تعداد اٹھارہ ہزار اور مسلمانوں کی تعداد تین ہزار بیان ہوئی ہے۔ بعض دیگر منابع میں قریش غطفان سلیم اسد اشجع قریظہ نضیر اور دوسرے یہودی قبائل سمیت ان کی تعداد چوبیس ہزار بیان کی گئی ہے۔

بہرحال اس غزوہ میں مشرکین اور یہودیوں کا متحد ہو کر وسیع پیمانے پر جنگ کے لیے جمع ہونا اس بات کی واضح علامت تھا کہ وہ اسلام کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ عزم رکھتے تھے۔ اسی لیے رسول خدا نے فرمایا کہ اس موقع پر تمام اسلام تمام شرک کے مقابلے میں آ کھڑا ہوا ہے

اس کے مقابلے میں بعض منابع نے مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار بیان کی ہے۔ یعقوبی نے مسلمانوں کی تعداد سات سو افراد ذکر کی ہے۔

پیغمبر کی مشاورت

جب رسول خدا کے قبیلہ خزاعہ سے تعلق رکھنے والے بعض اتحادیوں نے آپ کو مشرکین کے ارادے سے آگاہ کیا تو آپ نے مدینہ میں رہنے یا شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کرنے کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا۔

سلمان فارسی نے کہا کہ ہم ایران میں جب دشمن کے سواروں کی طرف سے خطرہ محسوس کرتے تھے تو اپنے گرد خندق کھود لیا کرتے تھے

اہل مدینہ نے غزوہ احد میں پیغمبر کے مشورے کی مخالفت کے نتیجے میں پیش آنے والے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے شہر کے اندر رہنے کا فیصلہ کیا اور سلمان کی تجویز کے مطابق خندق کھودنے پر رضامند ہوگئے۔ اس وقت عربوں کے درمیان خندق کھودنے کا رواج عام نہیں تھا اور اس وجہ سے مسلمانوں اور مشرکین دونوں کو حیرت ہوئی۔

خندق کھودنے کا فیصلہ

یہ فیصلہ کیا گیا کہ احد سے راتج تک ایک خندق کھودی جائے۔ پیغمبر نے لوگوں کو حکم دیا کہ پہاڑ سلع کو اپنے پیچھے رکھتے ہوئے سامنے کی جانب خندق کھودیں۔

آپ نے خندق کی کھدائی مذاد سے شروع کرنے کا حکم دیا جو مسجد فتح کے مغرب میں واقع ایک قلعہ تھا اور اسے ذباب کے علاقے اور پہاڑ راتج تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ راتج پہاڑ بنی عبید کے پہاڑ کے قریب وادی بطحان کے مغرب میں واقع تھا۔

رسول خدا نے ہر دس افراد کے لیے چالیس ذراع کا حصہ مقرر کیا اور خندق کے ہر حصے کی کھدائی ایک قبیلے کے سپرد کردی۔ جبل بنی عبید سے راتج تک کا حصہ رسول خدا کی نگرانی میں کھودا گیا۔

ایک روایت کے مطابق مہاجرین کو راتج سے ذباب تک اور انصار کو ذباب سے جبل بنی عبید تک خندق کھودنے کی ذمہ داری دی گئی۔

خندق کی کھدائی میں پیغمبر کی شرکت

رسول خدا نے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے خود بھی خندق کھودنے میں حصہ لیا۔ آپ نے خندق کے لیے دروازے بھی مقرر کیے اور ہر قبیلے سے ایک شخص کو ان کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی۔

آلات ادھار لینا

مسلمانوں نے خندق کھودنے کے لیے بیلچے کلہاڑیاں کدالیں اور ٹوکریاں جیسے بہت سے آلات یہودی قبیلہ بنی قریظہ سے ادھار لیے۔ اس وقت بنی قریظہ رسول خدا کے اتحادی تھے۔

خندق کی کھدائی کے دوران آیات کا نزول

اللہ تعالیٰ نے ان مؤمنین کے بارے میں آیات نازل فرمائیں جو رسول خدا کی اجازت کے بغیر کام سے دست بردار نہیں ہوتے تھے اور ان منافقین کے بارے میں بھی جو کام میں سستی کا مظاہرہ کرتے تھے اور رسول خدا کی اجازت کے بغیر اپنے گھروں اور اہل خانہ کے پاس چلے جاتے تھے۔

مسلمانوں کی فتوحات کی پیغمبر کی بشارت

خندق کی کھدائی کے دوران مسلمانوں کو ایک سخت چٹان کا سامنا ہوا۔ رسول خدا نے اس چٹان پر تین ضربیں لگائیں اور ہر ضرب سے نکلنے والی چمک کے ساتھ مسلمانوں کو مستقبل میں شام یمن اور ایران میں حاصل ہونے والی فتوحات کی بشارت دی۔

خندق کی کھدائی کا دورانیہ

خندق کھودنے میں چھ دن لگے۔ اس جنگ میں براء بن عازب عبداللہ بن عمر اور زید بن ثابت جیسے نوجوانوں نے بھی رسول خدا کی اجازت سے شرکت کی۔ ان میں سے بعض کی عمر پندرہ سال سے زیادہ نہیں تھی۔

بنی قریظہ کا معاہدہ توڑنا

جب قریش مدینہ کے قریب پہنچ کر مقیم ہوگئے تو ابوسفیان بن حرب نے حیی بن اخطب کو بلایا اور اس سے کہا کہ اگر تم یہودیوں کے قبیلہ بنی قریظہ کو بھی محمد کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑنے پر آمادہ کرسکو تو یہ بہت اچھا ہوگا۔

حیی بن اخطب بنی قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا۔ ابتدا میں کعب نے اسے اندر آنے کی اجازت نہیں دی اور رسول خدا کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑنے سے خوف محسوس کیا لیکن حیی بن اخطب نے اسے معاہدہ توڑنے پر آمادہ کرلیا۔

جب یہ خبر رسول خدا تک پہنچی تو آپ نے سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کو صورت حال کی تحقیق کے لیے بھیجا۔ جب یہ دونوں بنی قریظہ کے قلعے میں پہنچے تو کعب بن اسد کی طرف سے سعد بن معاذ اور رسول خدا کے لیے دشنام طرازی کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں واپس آئے اور رسول خدا کے حکم کے مطابق بنی قریظہ کی عہد شکنی کی اطلاع ایک رمزی انداز میں آپ کو دی۔

کافروں اور مسلمانوں کی فوجی صف بندی

احزاب تین لشکروں پر مشتمل تھے اور ان کی مجموعی کمان ابوسفیان بن حرب کے پاس تھی۔ قریش اپنے ساتھ موجود مختلف قبائل کے گروہوں یعنی احابیش اور اپنے اتحادی قبائل کنانہ اور تہامہ کے ساتھ رومہ کے مقام پر جرف اور زغابہ کے درمیان قیام پذیر ہوئے۔

قبیلہ غطفان اپنے اتحادی قبائل کے ساتھ احد کے قریب خیمہ زن ہوا۔ رسول خدا بھی مسلمانوں کے ساتھ پہاڑ سلع کے دامن میں قیام پذیر ہوئے جبکہ خواتین اور بچوں کو قلعوں میں ٹھہرا دیا گیا۔

  1. ابن سعد، محمد، طبقات الکبری، ج۲، ص۶۵
  2. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۲، ص۵۶۴
  3. ابن‌هشام، عبد‌الملک، السیرة النبویه، ج۳، ص۲۱۴
  4. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۲، ص۵۶۴
  5. واقدی، محمد بن عمر، مغازی، ج۲، ص۴۴۰، چاپ مارسدن جونس، لندن ۱۹۶۶
  6. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۱، ص۳۴۳
  7. ابن‌حبیب، محمد، المُحَبر، ص۱۱۳، بیروت ۱۳۶۱
  8. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۲، ص۵۶۵
  9. قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر قمی، ج۲، ص۱۷۷، قم، دارالکتاب للطباعة و النشر، ۱۴۰۴ه
  10. حلبی، علی، السیره الحلبیه، ج۲، ص۴۱۵
  11. واقدی، محمد بن عمرالمغازی، ج۲، ص۴۴۲، دکتر مارسدن جونس (تحقیق)، بیروت، عالم الکتب، ۱۴۰۴ ه، سوم
  12. طبری، محمد بن جریر، جامع البیان، ج۸، ص۴۶۸
  13. نساء/سوره۴، آیه۵۱-۵۲
  14. واقدی، محمد بن عمر، مغازی، ج۲، ص۴۴۲-۴۴۱، چاپ مارسدن جونس، لندن ۱۹۶۶
  15. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۱، ص۳۴۳
  16. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۲، ص۵۶۵
  17. واقدی، محمد بن عمر، مغازی، ج۲، ص۴۴۳-۴۴۲، چاپ مارسدن جونس، لندن ۱۹۶۶
  18. طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۲، ص۵۶۶
  19. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۱، ص۳۴۳
  20. لسان‌الملک سپهر، محمدتقی، ناسخ التواریخ، ج۲، ص۱۰۱۵، انتشارات اساطیر، ۱۳۸۰ش، تهران