"دعا" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 68: | سطر 68: | ||
ربنا آتنا من لدنک رحمة و هیی ء لنا من امرنا رشدا. سورہ = کہف/آیت = 10 ؛ «اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے معاملے میں ہمارے لیے راہِ راست و کامیابی مہیا فرما»۔ | ربنا آتنا من لدنک رحمة و هیی ء لنا من امرنا رشدا. سورہ = کہف/آیت = 10 ؛ «اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے معاملے میں ہمارے لیے راہِ راست و کامیابی مہیا فرما»۔ | ||
ائمہ معصومین کی دعاؤں کا مطالعہ، جیسا کہ | ائمہ معصومین کی دعاؤں کا مطالعہ، جیسا کہ [[صحیفۂ سجادیہ( کتاب)|صحیفۂ سجادیہ]] اور [[مفاتیح الجنان |مفاتیح الجنان]] میں موجود ہے، ہمیں دعا مانگنے کے درست سلیقے اور معیار سے روشناس کراتا ہے۔ مثلاً حضرت امام حسین (علیہ السلام) دعائے عرفہ کے ایک فقرے میں اللہ تعالیٰ سے یوں التجا فرماتے ہیں: | ||
<blockquote> | <blockquote> | ||
«اللهم اجعلنی اخشاک کانی اراک، و اسعدنی بتقواک، و لا تشقنی من معصیتک»<ref>''مفاتیح الجنان''، دعائے عرفہ۔</ref>؛ اے اللہ! مجھے اپنی بارگاہ میں اس طرح خوف و خشیت عطا فرما کہ گویا میں تجھے دیکھ رہا ہوں، اور اپنے تقویٰ کے ذریعے مجھے سعادت مند بنا، اور گناہ کے سبب مجھے بدبخت نہ کر۔ | |||
</blockquote> | </blockquote> | ||
نسخہ بمطابق 10:59، 5 ستمبر 2026ء

دعا ان کلمات کو کہا جاتا ہے جو مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری، طلبِ مغفرت، خیر و برکت کے حصول اور حاجت روائی کے لیے پڑھے جاتے ہیں۔ دعا دراصل خدا کی طرف متوجہ ہونے اور اس کی بارگاہ میں رغبت کا نام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے یا کسی دوسرے کے لیے حاجت طلب کرنا ہے۔ اسلامی روایات اور قرآن میں یہ لفظ بار بار وارد ہوا ہے۔ دعائیں خود ایک اعتبار سے تفسیرِ قرآن اور اسلامی معارف کی تشریح ہیں۔ مثال کے طور پر امام زین العابدین (علیہ السلام) کی کتاب صحیفۂ سجادیہ ایک مکمل دعائیہ کتاب ہے۔
لغت میں دعا کا معنی
دعا لغت میں پکارنے اور مدد طلب کرنے کے معنی میں ہے، اور اصطلاحِ شرع میں حق تعالیٰ سے اس طور پر کلام و مناجات کرنے کو کہتے ہیں جس میں بارگاہِ الٰہی سے حاجت براری اور مشکلات کے حل کی درخواست کی گئی ہو۔[1] روایات میں دعا کی قبولیت کے آداب و شرائط اور اس کی عدمِ قبولیت کی رکاوٹیں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔
قرآن اور روایات میں دعا کا مقام
قرآنِ کریم نے نہایت تاکید اور مختلف انداز میں لوگوں کو دعا کی طرف متوجہ کیا ہے اور رحمت و سعادت کی اس کلید سے فائدہ نہ اٹھانے پر غفلت سے خبردار کیا ہے:
- «اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں، تو (کہہ دیجیے کہ) میں یقیناً قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس انہیں چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں»۔[2]
- اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: «اور تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا»۔[3]
- کبھی مستجاب دعاؤں کی وہ مثال پیش کی گئی ہے جس کا تجربہ اکثر انسانوں کو ہوتا ہے: «[کیا وہ خود ساختہ شریک بہتر ہیں] یا وہ ذات جو بے قرار کی پکار سنتی ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتی ہے؟۔۔۔»۔[4]
- بعض مقامات پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کی قدر و قیمت اور منزلت بارگاہِ الٰہی میں دعا ہی سے ہے: «کہہ دیجیے: اگر تمہاری دعا و پکار نہ ہو تو میرا رب تمہاری کوئی پروا نہیں کرے گا»۔[5]
- اس کے برعکس، ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو صرف مصیبت اور پریشانی کے وقت خدا کو پکارتے ہیں، اور جو لوگ دعا اور بندگی سے گریز کرتے ہیں انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی ہے: «یقیناً جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں، عنقریب ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے»۔[6]
دعا کی فضیلت اور اہمیت پر متعدد روایات بھی دلالت کرتی ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
- رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے: اپنی ضروریات میں دامنِ الٰہی تھامو، اپنی مصیبتوں میں اسی کی پناہ لو، اس کی بارگاہ میں تضرع و زاری کرو اور اسے پکارو؛ کیونکہ دعا عبادت کا مغز ہے۔[7]
- حنان بن سدیر کہتے ہیں کہ میرے والد نے امام محمد باقر (علیہ السلام) سے دریافت کیا: سب سے افضل عبادت کون سی ہے؟ آپؑ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں کہ بندہ اس کی بارگاہ سے اس کے فضل و رحمت کی درخواست کرے۔[8]
قرآن میں دعا کے آداب
- دعا ایمان اور عملِ صالح کے ہمراہ ہو: یستجیب الذّین آمنوا و عملوا الصالحات. سورہ = شوریٰ |آیت = 26 ۔
- خلوصِ نیت کے ساتھ ہو: {{قرآنی متن |فادعوا اللّه مخلصین له الدین. سورہ = غافر/آیت = 14 ۔
- عاجزی، تضرع اور پوشیدہ انداز میں ہو: ادعوا ربّکم تضرعاً و خُفیة. سورہ = اعراف/آیت = 55 ۔
- خوف اور امید کے امتزاج کے ساتھ ہو: و ادعوه خوفاً و طمعاً. سورہ = اعراف/آیت = 56 ۔
- خاص اوقات و ساعات میں مانگی جائے: یدعون ربّهم بالغداة و العشی. سورہ = انعام/آیت = 52 ۔
معصومین کی روایات میں دعا کے آداب
- دعا کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا آغاز حمد و ثنائے الٰہی اور صلوات سے کیا جائے۔ امیر المؤمنین حضرت علی (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری حاجت برآئے تو دعا کا آغاز یوں کرو: «لا اله إلّا الله الحلیم الکریم، لا اله إلّا الله العلی العظیم، سبحان الله رَبِّ السماواتِ السبعِ و ما فیهنّ و ربِّ العرشِ العظیمِ، والحمد لله رب العالمین، اللهم إنّی أسألک بأنّک ملِکٌ مقتدرٌ و انت علی کل شئءٍ قدیرٌ، ما تشاءُ مِن کلِ شئءٍ یکُونُ»؛ اور اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرو۔[9]
- دعا کی استجابت کے بنیادی اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ انسان تمام مخلوقات سے امید منقطع کر کے محض اللہ تعالیٰ کی ذات سے لو لگائے۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی روایت کے مطابق: «فإذا علم الله ذلک من قلبه، لم یسأل الله شیئاً إلّا أعطاه»؛ پس جب اللہ بندے کے دل میں یہ کیفیت پاتا ہے، تو وہ جو بھی مانگتا ہے، اللہ اسے عطا فرماتا ہے۔[10] ایک اور روایت میں قلبی توجہ پر زور دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول نہیں فرماتا جس میں دل خدا کی طرف متوجہ نہ ہو اور غفلت و سہو کا شکار ہو؛ پس جب تم دعا کرو تو: «فأقبل بقلبک، ثم استیقن بالإجابة»؛ اپنے دل کے ساتھ متوجہ ہو اور پھر قبولیت کا یقین رکھو۔[11]
- مزید برآں، امام صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ دعا سے قبل سورۂ حمد، سورۂ توحید، آیت الکرسی اور سورۂ قدر کی تلاوت کی جائے جن میں اسم اعظم شامل ہے، اور اس کے بعد رُو بہ قبلہ ہو کر دعا کی جائے۔[12]
نیز امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ دعا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ انسان سجدہ کرے اور سجدے کی حالت میں حاجت بیان کرنے سے پہلے سات مرتبہ «یا ارحم الراحمین» کہے۔[13]
بعض دیگر روایات میں آپؑ سے منقول ہے کہ حاجت پیش کرنے سے پہلے یہ اذکار پڑھے جائیں: دس مرتبہ «یا الله، یا الله»؛ یا دس مرتبہ «یا ربّ، یا الله»۔[14][15]
دعا کا معیار اور بے جا دعاؤں سے پرہیز
سورۂ فرقان کی آیت 74 میں صراحت کی گئی ہے کہ اللہ کے برگزیدہ بندے اہل دعا ہوتے ہیں اور وہ بارگاہِ الٰہی سے یہ تین اہم مطالبات رکھتے ہیں:
- نیک اور صالح شریکِ حیات؛
- نیک اولاد؛
- یہ کہ وہ اس مقام پر فائز ہوں جہاں لوگوں کے پیشوا، نمونۂ عمل اور رہنما بن سکیں؛ یعنی وہ دعا کے معیار پر نگاہ رکھتے ہیں، اہم اور بلند پایہ امور کا سوال کرتے ہیں اور ان کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
وہ عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہماری ازواج اور اولاد کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دے۔ یہ تعبیر (آنکھوں کی ٹھنڈک) کمال اور سعادت کی علامت ہے؛ کیونکہ نیک شریکِ حیات اور صالح اولاد انسان کی قلبی تسکین اور خوشحالی کا باعث بنتے ہیں، جس سے آنکھیں روشن ہوتی ہیں۔ باالفاظِ دیگر، شائستہ گھرانہ انسان کی زندگی کو نور اور وقار بخشتا ہے اور دنیا و آخرت میں سرخروئی کا سبب بنتا ہے۔
ایسی دعا نتیجہ خیز اور درخشاں اثرات کی حامل ہوتی ہے، برعکس ان بے ہودہ یا کم فائدہ دعاؤں کے جن کی کوئی خاص قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ انسان کو ہر معاملے، حتیٰ کہ دعا میں بھی، بلند ہمت اور وسیع النظر ہونا چاہیے، تاکہ دعا کے نور کی بدولت اعلیٰ مدارج تک پہنچ سکے، یہاں تک کہ وہ تقویٰ شعار لوگوں کا امام اور نمونہ بننے کی تمنا کرے۔
دعا کو محض مادی اور حقیر امور تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔
اسی اصول کے پیشِ نظر امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا کہ چار گروہوں کی دعا قبول نہیں ہوتی:
- وہ شخص جو گھر میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور کہے: «اے اللہ! مجھے رزق دے»، تو اسے کہا جاتا ہے: کیا میں نے تجھے محنت اور جستجو کا حکم نہیں دیا تھا؟
- وہ شخص جس کی بیوی ناسازگار ہو اور وہ اس کے چھٹکارے کی دعا کرے، تو اسے کہا جاتا ہے: کیا میں نے تجھے طلاق کا اختیار نہیں دیا تھا؟
- وہ شخص جس کے پاس مال تھا اور اس نے بغیر گواہ کے کسی کو قرض دیا (اور قرض دار منکر ہو گیا، اب وہ دعا کرتا ہے کہ خدا مقروض کا دل نرم کرے اور وہ قرض ادا کر دے)، تو اسے کہا جاتا ہے: کیا میں نے تجھے قرض دیتے وقت گواہ بنانے کا حکم نہیں دیا تھا؟[16]
- جو شخص اپنے مال کو بے جا خرچ کر کے ضائع کر دے اور پھر رزق کی دعا کرے۔
جب ہم انبیاء، ائمہ اور اولیاء اللہ کی دعاؤں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مطالبات کا محور اکثر بلند پایہ معنوی، اخلاقی، سماجی اور دینی مقاصد ہوا کرتے تھے۔
مثال کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا یوں تھی: ربنا اجعلنی مقیم الصلاة و من ذریتی ربنا و تقبل دعاء. سورہ = ابراہیم (14)/آیت = 40 ؛ «اے میرے پروردگار! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما»۔
راسخون فی العلم (ائمہ معصومین) کی دعا یہ ہے: ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هدیتنا و هب لنا من لدنک رحمة انک انت الوهاب. سورہ = آل عمران/آیت = 8 ؛ «اے ہمارے پروردگار! جب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر، اور ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بڑا عطا فرمانے والا ہے»۔
اصحاب کہف کی دعا اس طرح تھی: ربنا آتنا من لدنک رحمة و هیی ء لنا من امرنا رشدا. سورہ = کہف/آیت = 10 ؛ «اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے معاملے میں ہمارے لیے راہِ راست و کامیابی مہیا فرما»۔
ائمہ معصومین کی دعاؤں کا مطالعہ، جیسا کہ صحیفۂ سجادیہ اور مفاتیح الجنان میں موجود ہے، ہمیں دعا مانگنے کے درست سلیقے اور معیار سے روشناس کراتا ہے۔ مثلاً حضرت امام حسین (علیہ السلام) دعائے عرفہ کے ایک فقرے میں اللہ تعالیٰ سے یوں التجا فرماتے ہیں:
«اللهم اجعلنی اخشاک کانی اراک، و اسعدنی بتقواک، و لا تشقنی من معصیتک»[17]؛ اے اللہ! مجھے اپنی بارگاہ میں اس طرح خوف و خشیت عطا فرما کہ گویا میں تجھے دیکھ رہا ہوں، اور اپنے تقویٰ کے ذریعے مجھے سعادت مند بنا، اور گناہ کے سبب مجھے بدبخت نہ کر۔
اس نکتے کی مزید وضاحت کے لیے درج ذیل سبق آموز واقعہ پیشِ نظر ہے:
روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں عابد سے کہہ دو کہ تمہاری تین دعائیں ہماری بارگاہ میں مستجاب ہوں گی۔ اس پیغمبر نے یہ الٰہی پیام عابد تک پہنچا دیا۔ عابد نے یہ بات اپنی بیوی کو بتائی۔[18] بیوی نے بے حد اصرار کیا کہ ان دعاؤں میں سے ایک دعا میرے حق میں مختص کر دو۔ عابد نے بات مان لی۔ بیوی نے کہا: «دعا کرو کہ اللہ مجھے اپنے زمانے کی سب سے خوبصورت عورت بنا دے»۔ عابد نے دعا کی اور وہ دنیا کی حسین ترین خاتون بن گئی۔
اس حسن کے نتیجے میں امراء اور حریص نوجوان اس کی طرف مائل ہوئے اور پیغامات بھیجے کہ اپنے اس مفلوک الحال اور بوڑھے زاہد شوہر کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی گزارو۔ وہ عورت فریب میں آ گئی اور اپنے شوہر سے بدسلوکی کرنے لگی اور نافرمانی پر اتر آئی۔ عابد اس کی روش سے تنگ آ گیا اور اس نے دوسری دعا کا سہارا لے کر کہا: «اے خدا! میری بیوی کو کتیہ بنا دے»۔
دعا قبول ہوئی اور وہ کتیہ بن گئی۔ اب اس عورت کے بھائی اور رشتہ دار عابد کے پاس آئے اور گریہ و زاری کرنے لگے کہ اس طرح معاشرے میں ہماری رسوائی ہو رہی ہے، لہٰذا تیسری دعا استعمال کر کے اسے پہلے والی حالت پر لوٹا دو۔ ان کے شدید اصرار پر عابد نے مجبورا تیسری دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور عرض کی: «اے اللہ! میری بیوی کو اس کی اصل انسانی شکل میں واپس پلٹا دے»۔ یہ دعا بھی قبول ہوئی اور وہ عورت اپنی اصلی حالت پر آ گئی۔ اس طرح اس عابد کی تینوں مستجاب دعائیں ضائع ہو گئیں۔[19] اگر وہ زاہد دانشمندی سے کام لیتا تو اس سنہری موقعے سے دنیا اور آخرت کی ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ فیومی، احمد، المصباح المنیر، قم: انتشارات ہجرت، دوسرا ایڈیشن، 1414ھ، ذیل مادۂ «دعا»۔
- ↑ سورۂ بقرہ، 186۔
- ↑ سورۂ غافر، 60۔
- ↑ سورۂ نمل، 62۔
- ↑ سورۂ فرقان، 77۔
- ↑ سورۂ غافر، 60۔
- ↑ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت: مؤسسۃ الوفاء، دوسرا ایڈیشن، 1403ھ، ج 93، ص 302، ح 39۔
- ↑ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، بیروت: احیاء التراث العربی، 1991ء، ج 7، ص 30۔
- ↑ احمد بن محمد برقی، المحاسن، ج 1، ص 35–36۔
- ↑ الکافی، ج 2، ص 148۔
- ↑ الکافی، ج 2، ص 473۔
- ↑ کفعمی، المصباح، فصل 31، ص 308۔
- ↑ وسائل الشیعہ، ج 7، ص 88، ح 8810۔
- ↑ الکافی، ج 2، ص 519–520۔
- ↑ حاج سید احمد زنجانی (متوفی اکتوبر 1973ء) کے فرمودات سے ماخوذ۔
- ↑ اصول کافی، ج 2، ص 511۔
- ↑ مفاتیح الجنان، دعائے عرفہ۔
- ↑ کتاب سیاست نامہ، ص 222 میں اس شوہر اور بیوی کے نام بالترتیب «یوسف» اور «کرسف» ذکر ہوئے ہیں۔
- ↑ بحار الانوار، ج 14، ص 485۔