"غیبت کبری" کے نسخوں کے درمیان فرق
Halimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
[فائل:غیبت کبری.jpg|تصغیر|بائیں|]] | |||
'''غیبت کبری''' سے مراد [[محمد بن حسن المهدی|امام زمان]](عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی طویل اور مخفی زندگی کا آغاز ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حضرت [[اللہ]] کے اذن سے ظہور نہ فرمائیں۔ غیبت کبرا فوراً [[غیبت صغری]] کے بعد اور حضرت کے آخری نائب کی وفات کے بعد شروع ہوئی۔ لہٰذا غیبت صغری اور غیبت کبری کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہے اور صرف فرق یہ ہے کہ غیبت کبری کے دور میں امام نے لوگوں کے لیے کوئی خاص نائب مقرر نہیں کیا ہے اور لوگوں کو دینی مسائل اور اسلامی احکامات امام کے نائبینِ عام سے سیکھنے ہوں گے۔ [[شیعہ|شیعیان]] کے عقیدہ کے مطابق، غیبت کبری عالم اور خاص طور پر انسانی معاشرے تک امام کی فیض رسانی میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔ جابر بن عبداللہ انصاری|جابر انصاری] نے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ (ص)]] سے پوچھا کہ کیا شیعیان زمانۂ غیبت میں قائم (ع) کے مبارک وجود سے فیض یاب ہوں گے؟ آپ (ص) نے جواب دیا: ہاں، اس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت کے لیے مبعوث کیا، وہ اس کی غیبت میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں گے اور اس کی ولایت سے فیض یاب ہوں گے؛ جس طرح لوگ سورج سے فیض یاب ہوتے ہیں، اگرچہ بادل اس کا چہرہ ڈھانپ لیں۔ <ref>علامہ مجلسی محمد باقر، بحار الأنوار، تہران، انتشارات اسلامیہ، ج۵۲، ص، ۹۳</ref> | '''غیبت کبری''' سے مراد [[محمد بن حسن المهدی|امام زمان]](عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی طویل اور مخفی زندگی کا آغاز ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حضرت [[اللہ]] کے اذن سے ظہور نہ فرمائیں۔ غیبت کبرا فوراً [[غیبت صغری]] کے بعد اور حضرت کے آخری نائب کی وفات کے بعد شروع ہوئی۔ لہٰذا غیبت صغری اور غیبت کبری کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہے اور صرف فرق یہ ہے کہ غیبت کبری کے دور میں امام نے لوگوں کے لیے کوئی خاص نائب مقرر نہیں کیا ہے اور لوگوں کو دینی مسائل اور اسلامی احکامات امام کے نائبینِ عام سے سیکھنے ہوں گے۔ [[شیعہ|شیعیان]] کے عقیدہ کے مطابق، غیبت کبری عالم اور خاص طور پر انسانی معاشرے تک امام کی فیض رسانی میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔ جابر بن عبداللہ انصاری|جابر انصاری] نے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ (ص)]] سے پوچھا کہ کیا شیعیان زمانۂ غیبت میں قائم (ع) کے مبارک وجود سے فیض یاب ہوں گے؟ آپ (ص) نے جواب دیا: ہاں، اس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت کے لیے مبعوث کیا، وہ اس کی غیبت میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں گے اور اس کی ولایت سے فیض یاب ہوں گے؛ جس طرح لوگ سورج سے فیض یاب ہوتے ہیں، اگرچہ بادل اس کا چہرہ ڈھانپ لیں۔ <ref>علامہ مجلسی محمد باقر، بحار الأنوار، تہران، انتشارات اسلامیہ، ج۵۲، ص، ۹۳</ref> | ||
نسخہ بمطابق 22:50، 2 ستمبر 2026ء
[فائل:غیبت کبری.jpg|تصغیر|بائیں|]] غیبت کبری سے مراد امام زمان(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی طویل اور مخفی زندگی کا آغاز ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حضرت اللہ کے اذن سے ظہور نہ فرمائیں۔ غیبت کبرا فوراً غیبت صغری کے بعد اور حضرت کے آخری نائب کی وفات کے بعد شروع ہوئی۔ لہٰذا غیبت صغری اور غیبت کبری کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہے اور صرف فرق یہ ہے کہ غیبت کبری کے دور میں امام نے لوگوں کے لیے کوئی خاص نائب مقرر نہیں کیا ہے اور لوگوں کو دینی مسائل اور اسلامی احکامات امام کے نائبینِ عام سے سیکھنے ہوں گے۔ شیعیان کے عقیدہ کے مطابق، غیبت کبری عالم اور خاص طور پر انسانی معاشرے تک امام کی فیض رسانی میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔ جابر بن عبداللہ انصاری|جابر انصاری] نے رسول اللہ (ص) سے پوچھا کہ کیا شیعیان زمانۂ غیبت میں قائم (ع) کے مبارک وجود سے فیض یاب ہوں گے؟ آپ (ص) نے جواب دیا: ہاں، اس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت کے لیے مبعوث کیا، وہ اس کی غیبت میں اس کے نور سے روشنی حاصل کریں گے اور اس کی ولایت سے فیض یاب ہوں گے؛ جس طرح لوگ سورج سے فیض یاب ہوتے ہیں، اگرچہ بادل اس کا چہرہ ڈھانپ لیں۔ [1]
آغاز غیبت کبرا
غیبت کبری کا آغاز سنہ ۳۲۹ ہجری قمری سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اور غیبت صغری کے دور میں، شیعیان حضرت سے اپنے مسائل چار خاص نائبین کے ذریعے پوچھ سکتے تھے جو حضرت اور شیعیان کے درمیان واسطہ تھے، لیکن سنہ ۳۲۹ ہجری قمری میں حضرت علی بن محمد سمری، امام کے آخری خاص نمائندے، کی وفات کے ساتھ ہی غیبت کبرا شروع ہوتی ہے۔[2] انہیں اپنی موت سے چھ دن پہلے امام کی طرف سے اپنی موت کی خبر دی گئی تھی۔ حضرت نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے لیے کوئی دوسرا نائب منتخب نہ کریں،[3] [4] [5] کیونکہ غیبت کبرا کا دور شروع ہو چکا ہے اور اس کے ختم ہونے کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اس مدت میں ساری زمین پر فساد، ظلم اور زیادتی چھا جائے گی یہاں تک کہ ظہور کا وقت آئے اور پھر ہر جگہ امام کے ذریعے انصاف اور عدل سے بھر دی جائے گی۔ [6] [7] [8] [9]
خصوصیات عصر غیبت کبرا
غیبت کبری کے دور کی بعض خصوصیات جو اسے مختصر دورِ غیبت صغری سے ممتاز کرتی ہیں، درج ذیل ہیں:
طویل المدت ہونا غیبت کبرا، غیبت صغرا کے برعکس، ایک طویل زمانے پر محیط ہوگی اور اس کے ختم ہونے کی خبر اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔
نیابت عامہ (عام نیابت) غیبت صغری کے دور میں لوگوں کا حضرت سے رابطہ خاص نائبین کے ذریعے ممکن تھا، لیکن سنہ ۳۲۹ق میں علیبنمحمد سمری (چوتھے خاص نائب) کی وفات کے بعد، کسی بھی شخص کو امام کا نمائندہ مقرر نہیں کیا گیا، بلکہ امامِ دوازدہم (ع) کا لوگوں سے تمام براہِ راست رابطے اور امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی وکالت کا دور ختم ہو جاتا ہے۔[10] لہٰذا چونکہ غیبت کبری کے زمانے میں حضرت تک کوئی براہِ راست رسائی نہیں تھی، اس لیے لوگوں کو دینی احکام کی تعلیم کے لیے ان مجتہدینِ جامعالشرایط کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو امام کے نائبینِ عام کے منصب پر فائز ہیں اور ان کی صفات روایات میں بیان کی گئی ہیں۔[11]
نیابت عامہ سے مراد خاص نیابت کے دور کے بعد، عام فقہاء کا امام معصوم کے قائم مقام ہونا ہے۔[12] یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی نیابت کی شرائط (جیسے فقاہت، عدالت وغیرہ) رکھتا ہے، وہ امام معصوم کا جانشین سمجھا جاتا ہے اور اسے مخصوص اختیارات اور ذمہ داریاں حاصل ہوں گی۔[13]
شیعہ احادیث میں وہ افراد جو نیابت کا منصب سنبھالتے ہیں، عناوین جیسے محدثین (راویانِ حدیث) اور حلال و حرام کو پہچاننے والے، بطور فقہاء و علماء متعارف کرائے گئے ہیں۔[14] ان احادیث کی روشنی میں، غیبت کے دور میں شیعہ فقہاء و علماء، ائمہ (ع) کی جانشینی کے ذمہ دار ہوں گے۔[15]
دوام فیض (فیض کا تسلسل) شیعیان کا اعتقاد ہے کہ اگرچہ غیبت کبری کے دور میں معاشرہ امام کی براہِ راست موجودگی اور ظاہری ہدایت سے بہرہ مند نہیں ہے، لیکن چونکہ زمین ایک دن بھی حجت کے بغیر نہیں رہ سکتی، اس لیے حضرت کا غیبی فیض انسانی معاشرے میں جاری رہے گا اور امام اپنے نورانی باطن کے ذریعے لوگوں کے شایستہ دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے دلوں کو کمال قبول کرنے کے لیے جذب کرتے ہیں۔[16] علی بن الحسین (زین العابدین)| سے روایت ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے اللہ نے آسمان کو زمین پر قائم رکھا ہے اور زمین والوں کو ہلاکت سے بچایا ہے۔ ہماری وجہ سے بارش برستی ہے اور اللہ کی رحمت پھیلائی جاتی ہے اور زمین اپنی برکتیں پیش کرتی ہے اور اگر ہر عصر و زمان میں ہم اہلبیت میں سے کوئی امام نہ ہوتا تو زمین اپنے باشندوں کو نگل جاتی اور انہیں ہلاک کر دیتی۔ حضرت آدم کی تخلیق سے لے کر قیامت تک زمین کبھی اللہ کی حجت سے خالی نہیں رہی اور نہ رہے گی؛ چاہے اس کی حجت لوگوں میں ظاہر اور معروف ہو یا غائب اور پوشیدہ۔ حجت کے بغیر اللہ کی عبادت نہیں ہوتی۔[17]
ثواب انتظار
رسول اللہ (ص) سے روایت ہے: «أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِی انْتِظَارُ الْفَرَجِ» یعنی فرج کا انتظار کرنا افضل عبادات ہے[18] اور اس پر بہت زیادہ ثواب مرتب ہے۔[19]
دورِ انتظار کی آفات اور نقصانات (آسیب شناسی)
بہت سی احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ چونکہ غیبت کبری کا دور طویل ہوگا، اس لیے امام زمان (عجل اللہ فرجہ الشریف) کی امامت کے قائلین میں سے بعض شک و تردید کا شکار ہو جائیں گے اور یہ شیعیان کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔ شیخ صدوق جعفر بن محمد (صادق)| سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ امام زمان (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی غیبت شیعیان کے لیے ایک آزمائش ہے۔ وہ یہ باتیں کہیں گے کہ حضرت کا انتقال ہو گیا ہے، یا یہ کہ معلوم نہیں وہ کہاں ہیں، حالانکہ مومنین کی آنکھیں ان کے آنے کے انتظار میں اشکبار ہیں۔ [20] بعض مصنفین نے لکھا ہے کہ واضح ہے کہ یہ امور بندگانِ خدا کی آزمائش کے لیے پیشبینی کیے گئے ہیں اور اگر قطعی دلائل سے امام کی طویل عمر ہمارے لیے ثابت نہ ہوتی تو مادیت کی طرف رجحان جیسی وجوہات کی بنا پر ان کی بقا میں شک و تردید بےجا نہ ہوتا۔[21]
عصرِ غیبت میں اسلامی معاشرے کے انتظام کا طریقہ
بعض بڑے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ دینی اور شیعی معاشرہ غیبت کبری کے زمانے میں بھی امام زمان (ع) کے ذریعے ہی ادارہ کیا جائے گا اور حضرت وہ ذمہ داریاں انجام دیں گے جو امامت کی طرف سے ان پر عائد ہیں۔ [22] البتہ امام کے فرائض صرف دینی تعلیمات کے بیان اور معاشرے کی ظاہری ہدایت تک محدود نہیں ہیں، بلکہ امام کا دوسرا فریضہ معاشرے کی باطنی اور معنوی ولایت و رہنمائی بھی ہے جس کے ذریعے لوگوں کی معنوی زندگی منظم ہوتی ہے۔ لہٰذا امام زمان (ع) اگرچہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں، لیکن باطن کے راستے سے لوگوں کے جان و روح پر اشراف رکھتے ہیں اور ان کی ہدایت کرتے ہیں۔[23]
حوالہ جات
- ↑ علامہ مجلسی محمد باقر، بحار الأنوار، تہران، انتشارات اسلامیہ، ج۵۲، ص، ۹۳
- ↑ پور سید آقایی، تاریخ عصر غیبت صغرا، ص۱۸۱
- ↑ اربلی علی بن عیسی، کشف الغمّه، ۱۴۰۱ق، ج۲، ص۵۳۰
- ↑ طبرسی ابو منصور، الاحتجاج، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۵۵۵و۵۵۶
- ↑ شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۵۱۶
- ↑ شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ج ۲، ص ۵۱۶
- ↑ اربلی، کشف الغمه، ۱۴۰۱ق، ج۲، ص۵۳۰
- ↑ شیخ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۵۵۵و۵۵۶
- ↑ شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۵۱۶۔
- ↑ سلیمیان خدامراد، درس نامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۷۔
- ↑ از کتاب فرهنگ نامہ مہدویت، نوشتہ خدامراد سلیمیان، ص ۳۲۷ و ۳۲۸ بہ نقل
- ↑ موسوی خلخالی، الحاکمیۃ فی الاسلام، ۱۴۲۵ق، ص۲۹
- ↑ سلیمیان خدامراد، درس نامہ مہدویت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۲۳۸۔
- ↑ شیخ محمد سند، دعوی السفارۃ فی الغیبۃ الکبری، ۱۴۳۱ق، ج۱، ص۸۳-۹۲
- ↑ .شیخ محمد سند، دعوی السفارۃ فی الغیبۃ الکبری، ۱۴۳۱ق، ج۱، ص۸۳-۹۲۔
- ↑ از مقالہ برکات وجودی حضرت ولی عصر (عج) در عصر غیبت، نوشتہ محمد نصیری، فصل نامہ حصون، سال ۱۳۸۶، ش۱۲
- ↑ شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ج۱، ص۲۰۷۔
- ↑ شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، تہران، انتشارات اسلامیہ، سال ۱۳۹۵ قمری، ج۲، ص: ۶۴۴
- ↑ شیخ صدوق، کمالالدین و تمام النعمہ، تہران، انتشارات اسلامیہ، سال ۱۳۹۵ قمری، ج۲، ص ۶۴۴-۶۴۷
- ↑ شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، تہران، انتشارات اسلامیہ، سال ۱۳۹۵ قمری، ج۲، ص ۳۴۷
- ↑ صدر سید محمد، تاریخ غیبت کبرا، ترجمہ افتخار زادہ، تہران، نشر نیک معارف، سال ۱۳۸۲ش، ص۳۰۶۔
- ↑ از کتاب شیعہ در اسلام، سید محمد حسین طباطبایی، قم، دفتر انتشارات اسلامی سال ۱۳۸۳ش، ص۲۳۶۔
- ↑ از کتاب شیعہ در اسلام، سید محمد حسین طباطبایی، قم، دفتر انتشارات اسلامی سال ۱۳۸۳ش، ص۲۳۶