مندرجات کا رخ کریں

"حلال" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:حلال کو حلال کی جانب منتقل کیا
 
(کوئی فرق نہیں)

حالیہ نسخہ بمطابق 15:14، 1 ستمبر 2026ء

حلال سے مراد وہ چیز ہے جو شرع اور عقل کی نظر میں روا اور جائز ہو اور حرام کے مقابلے میں ہو۔ بعض فقہی منابع میں لفظ ’’حلال‘‘ کو مباح کا مترادف قرار دیا گیا ہے، لیکن دونوں کے فرق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ حلال ان احکام میں سے ہے جو براہِ راست مکلفین کے افعال سے متعلق نہیں ہوتے اور مباح سے زیادہ عام ہے؛ کیونکہ ہر مباح حلال ہے، لیکن ہر حلال مباح نہیں ہوتا۔

فقہا کے مطابق اگر کسی چیز کے حرام یا حلال ہونے میں شک ہو تو قاعدۂ حلیت کے مطابق اس کے حلال ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔ روایات میں حلال و حرام کے احکام سیکھنے اور حلال روزی کمانے کی تاکید کی گئی ہے۔

معنا شناسی

حلال، حرام کے مقابلے میں، اس چیز کو کہتے ہیں جو شرع اور عقل کی نظر میں روا اور جائز ہو۔[1] دوسرے لفظوں میں، حلال وہ چیز ہے جس سے حرمت کا حکم اٹھا لیا گیا ہو اور جسے انجام دینے یا ترک کرنے پر عذاب نہ ہو۔[2]

حلال لغت میں ’’گرہ کھولنے‘‘ کے معنی میں ہے۔[3] علی اکبر قرشی کے مطابق ’’حِل‘‘ حلال کے معنی میں ہے اور کسی چیز میں گرہ کھولنے اور کشادگی پیدا کرنے سے بطورِ استعارہ لیا گیا ہے؛ حلال وہ چیز ہے جسے ممانعت کی قید سے آزاد کر دیا گیا ہو۔[4]

بعض محققین کے مطابق فقہا کی عبارات میں ’’یجوز‘‘ کا استعمال کبھی ’’یصح‘‘، یعنی کسی چیز کے درست ہونے، اور کبھی ’’یحل‘‘، یعنی کسی چیز کے حلال ہونے، کے معنی میں ہوتا ہے اور ان امور کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے جن میں شرعی ممانعت نہ ہو۔[5]

جعفر بن محمد صادق (علیہ السلام) سے منقول ایک روایت میں کسی راست گو شخص سے حلال و حرام کے بارے میں ایک حدیث سیکھنے کو دنیا، سونے اور چاندی سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔[6]

حلال کی اقسام

فقہا نے حلال کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے:

  1. ایسا فعل جو کسی مصلحت اور مفسدے سے خالی ہو؛ جیسے بعض جسمانی حرکات یا بعض اقوال۔
  2. ایسا فعل جس میں لازم مصلحت کے ساتھ لازم مفسدہ، یا غیر لازم مصلحت کے ساتھ غیر لازم مفسدہ جمع ہو، اس طرح کہ دونوں میں سے کسی کو دوسرے پر ترجیح حاصل نہ ہو۔

پہلی قسم کو حلالِ لااقتضائی، یعنی ایسا حلال جس میں کسی جانب کا اقتضا نہ ہو، اور دوسری قسم کو حلالِ اقتضائی کہتے ہیں۔

مباح سے فرق

بعض لوگوں نے ’’حلال‘‘ اور ’’مباح‘‘ کو مترادف قرار دیا ہے۔[7] بعض دوسرے علما نے ان دونوں الفاظ میں فرق کیا ہے[8] اور ان کے درمیان درج ذیل فرق بیان کیے ہیں:

حلال فقہ میں حرام کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے اور غیر حرام امور، جیسے واجب، مستحب، مکروہ اور مباح، سب کو شامل ہوتا ہے۔[9] اس لیے حلال، مباح سے زیادہ عام ہے؛ یعنی ہر مباح حلال ہے، لیکن ہر حلال مباح نہیں۔ مثلاً مکروہ حلال ہے، لیکن مباح نہیں۔[10]

مباح احکامِ تکلیفی میں سے ہے اور براہِ راست مکلفین کے افعال سے متعلق ہوتا ہے۔[11] لیکن حلال احکامِ وضعی میں سے ہے اور خارجی موجودات سے تعلق رکھتا ہے۔[12]

حلال تحریم کی گرہ کھولنے اور ممانعت دور کرنے کے معنی میں ہے، جبکہ مباح فعل و ترک، دونوں کے اعتبار سے عمل میں وسعت کے معنی رکھتا ہے۔[13]

حلیت یا حرمت میں شرعی اصل

ہر ایسا فعل یا قول جس کی حرمت یا وجوب کے بارے میں شارع کی جانب سے کوئی دلیل وارد نہ ہوئی ہو، فی الواقع حلال ہے۔ اسی طرح جب کسی فعل یا قول کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہو، خواہ اس کی حرمت یا حلیت کی دلیل ہم تک نہ پہنچی ہو، دلیل مجمل ہو، یا دو دلیلیں باہم متعارض ہوں، تو اس میں ظاہری اصل حلیت ہے۔[14]

قاعدۂ حلیت

قاعدۂ حلیت ایک فقہی قاعدہ ہے جو ان امور میں تصرف کے جائز ہونے پر دلالت کرتا ہے جن کے حلال یا حرام ہونے میں تردید ہو۔[15] اس قاعدے کے مطابق جب کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہو تو اس کے حلال ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔[16]

اس قاعدے کے اثبات کے لیے سورۂ بقرہ کی آیت ۲۹ سے استدلال کیا گیا ہے:

وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے، سب تمہارے لیے پیدا کیا۔قرآن، سورۂ بقرہ، آیت ۲۹۔

[17]

نیز اس حدیث سے بھی استدلال کیا گیا ہے:

ہر چیز تمہارے لیے حلال ہے، سوائے اس چیز کے جس کے حرام ہونے کا تمہیں علم ہو۔|[18]}}

حلال روزی

حلال روزی اس آمدنی کو کہتے ہیں جو شرعی قوانین کے دائرے میں حاصل کی گئی ہو، جس میں خدا کے حقوق، جیسے خمس اور زکات، ادا کیے گئے ہوں اور اس میں کسی انسان کا حق شامل نہ ہو۔[19]

روایات میں حلال روزی کمانے کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[20] مثال کے طور پر امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ایک روایت میں حلال روزی کمانے کے لیے کوشش کرنے والے شخص کو راہِ خدا میں جہاد کرنے والے شخص سے تشبیہ دی گئی ہے۔[21]

اسی طرح پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ایک روایت میں آیا ہے کہ عبادت کے ستر حصے ہیں اور ان میں سب سے افضل حصہ حلال روزی کمانا ہے۔[22]

عالمی حلال انسٹی ٹیوٹ

عالمی حلال انسٹی ٹیوٹ ۲۰۰۷ء میں حلال ثقافت کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کیا گیا۔ یہ ادارہ صنعت و غذائی مواد، ادویہ و آرائش، ریستوران و ہوٹل، سیاحت، کھیل اور حلال تجارت کے شعبوں میں سرگرم ہے۔[23]

چند اسلامی ممالک کی تجویز اور عالمی حلال انسٹی ٹیوٹ کے حکم پر ۱۷ رمضان کو عالمی حلال دن کا نام دیا گیا ہے۔[24] عالمی حلال خبر رساں مرکز کی رپورٹ کے مطابق چونکہ ۱۷ رمضان کو یہ آیت نازل ہوئی:

اے لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں، ان میں سے کھاؤ۔قرآن، سورۂ بقرہ، آیت ۱۶۸۔

[25]

اس لیے اس دن کو عالمی حلال دن کا نام دیا گیا ہے۔[26]

ہر سال اس دن عالمی حلال دن کی یاد میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کی جاتی ہے اور حلال صنعت کے اہم واقعات، مسائل اور مشکلات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔[27]

ایران میں اس کانفرنس کا پہلا دور ۱۵ تیر ۱۳۹۳ش کو برجِ میلاد تہران کے کانفرنس مرکز میں منعقد ہوا۔[28]

حوالہ جات

  1. مشکینی، مصطلحات الفقہ، ۱۴۱۹ق، ص ۲۱۶۔
  2. عبدالمنعم، معجم المصطلحات والألفاظ الفقہیۃ، دار الفضیلۃ، ج ۱، ص ۵۸۵۔
  3. راغب اصفہانی، المفردات، لفظ ’’حل‘‘ کے ذیل میں۔
  4. قرشی، قاموس قرآن، لفظ ’’حل‘‘ کے ذیل میں۔
  5. حفناوی، گنجینۂ اصطلاحاتِ فقہی و اصولی، ۱۳۹۵ش، ص ۸۹۔
  6. برقی، المحاسن، دار الکتب الإسلامیۃ، ج ۱، ص ۲۲۹۔
  7. مؤسسۂ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، موسوعۃ الفقہ الاسلامی، ۱۴۲۴ق، ج ۲، ص ۸۳۔
  8. مؤسسۂ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، موسوعۃ الفقہ الاسلامی، ۱۴۲۴ق، ج ۲، ص ۸۴۔
  9. سعدی، القاموس الفقہاء لغۃً واصطلاحاً، ۱۴۰۸ق، ص ۹۹۔
  10. سعدی، القاموس الفقہاء لغۃً واصطلاحاً، ۱۴۰۸ق، ص ۹۹۔
  11. صدر، دروس فی علم الاصول، ۱۴۰۶ق، ج ۱، ص ۵۳؛ مؤسسۂ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، فرہنگِ فقہِ فارسی، ۱۳۸۷ش، ج ۱، ص ۲۱۸۔
  12. مرکزِ اطلاعات و منابعِ اسلامی، فرہنگ نامۂ اصولِ فقہ، ۱۳۸۹ش، ج ۱، ص ۱۰۶۔
  13. مؤسسۂ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، موسوعۃ الفقہ الاسلامی، ۱۴۲۴ق، ج ۲، ص ۸۴۔
  14. مؤسسۂ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، فرہنگِ فقہِ فارسی، ج ۳، ص ۳۶۶۔
  15. ملاحظہ ہو: ولائی، فرہنگِ تشریحیِ اصطلاحاتِ اصول، ۱۳۸۷ش، ج ۱، ص ۸۵۔
  16. مؤسسۂ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، الموسوعۃ الفقہیۃ، ۱۴۲۳ق، ج ۱۳، ص ۳۲۰۔
  17. فاضل تونی، الوافیۃ، ۱۴۱۲ق، ص ۱۸۵۔
  18. کلینی، الکافی، ۱۴۳۰ق، ج ۱۰، ص ۵۴۲؛ فاضل لنکرانی، تفصیل الشریعۃ، ۱۴۲۶ق، ص ۱۹۳۔
  19. عیسیٰ زادہ، ’’آیات و روایات کی روشنی میں انسانی روحانی صحت پر حلال رزق کا کردار‘‘، ص ۳۔
  20. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج ۱۳، ص ۱۲۔
  21. قاضی نعمان مغربی، دعائم الإسلام، ۱۳۸۵ق، ج ۲، ص ۱۵۔
  22. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج ۱۳، ص ۱۲۔
  23. ’’عالمی حلال انسٹی ٹیوٹ‘‘، عالمی حلال انسٹی ٹیوٹ کی ویب گاہ۔
  24. ’’سترہ رمضان، عالمی حلال دن‘‘، عالمی حلال خبر رساں مرکز۔
  25. سورۂ بقرہ، آیت ۱۶۸۔
  26. ’’سترہ رمضان، عالمی حلال دن‘‘، عالمی حلال خبر رساں مرکز۔
  27. ’’برجِ میلاد تہران کے کانفرنس مرکز میں عالمی حلال دن کی کانفرنس کا انعقاد‘‘، عالمی حلال خبر رساں مرکز۔
  28. ’’برجِ میلاد تہران کے کانفرنس مرکز میں عالمی حلال دن کی کانفرنس کا انعقاد‘‘، عالمی حلال خبر رساں مرکز۔