"ابوالحسن اشعری" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 80: | سطر 80: | ||
{{حوالہ جات}} | {{حوالہ جات}} | ||
[[زمرہ:شخصیات] | [[زمرہ:شخصیات]] | ||
[[زمرہ:علما]] | [[زمرہ:علما]] | ||
[[زمرہ:اہلِ سنت علما]] | [[زمرہ:اہلِ سنت علما]] | ||
[[زمرہ:عراق]] | [[زمرہ:عراق]] | ||
[[fa: ابوالحسن اشعری]] | [[fa: ابوالحسن اشعری]] | ||
نسخہ بمطابق 21:35، 2 جون 2026ء
| ابوالحسن اشعری | |
|---|---|
| پورا نام | علی بن اسماعیل بن اسحاق اشعری |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 260 ق |
| پیدائش کی جگہ | عراق، بصره |
| وفات | 324 ق |
| مذہب | اسلام، اہل سنت |
| اثرات | مقالات الاسلامیین، الإبانة عن اصول الدیانة |
| مناصب | ماهر علم کلام • مکتبِ کلامِ اشعری کے بانی۔ |
علی بن اسماعیل بن اسحاق اشعری، (۲۶۰-۳۲۴ھ / ۸۷۴-۹۳۶ء)، جو ابوالحسن اشعری کے نام سے مشہور ہیں، ایک نامور متکلم اور اسلامی عقائد میں ایک فکری مکتب کے بانی تھے۔ اس مکتب کے پیروکار اشاعرہ کہلاتے ہیں۔ اس کلامی مکتب کی بنیادی خصوصیت اہلِ سنت اور اصحابِ حدیث کے عقائد کا عقلی دفاع ہے۔
پیدائش اور انتساب
ابوالحسن اشعری بصرہ میں پیدا ہوئے اور معروف صحابی ابوموسیٰ اشعری، جو پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے صحابی تھے، کی نسل سے تھے[1][2]۔
اعتقادی منہج
چونکہ ابوالحسن اشعری کے والد اہلِ حدیث کے مسلک پر تھے، اس بنا پر وہ بھی ابتدا میں اسی منہج پر چلے۔ لیکن بعد میں ان کا میلان مکتبِ اعتزال کی طرف ہوگیا اور وہ اس مکتب کے مدافعین میں شمار ہونے لگے۔ پھر ایک بار پھر اُن کی فکر میں تبدیلی آئی، وہ معتزله سے الگ ہوگئے، اور اپنے اُس مکتب کی بنیاد رکھی جو بعد میں مکتبِ اشعری کے نام سے معروف ہوا۔
مکتبِ معتزلہ سے رجوع کی وجہ
اشعری کا مکتبِ معتزلہ سے علیحدہ ہونا مختلف روایات سے وابستہ ہے، لیکن جو بات زیادہ مشہور ہے وہ یہ ہے کہ اشعری اور اُن کے استاد ابو علی جبّائی معتزلی کے درمیان ایک مشہور مناظرہ ہوا۔ اس مناظرے میں اشعری اپنے استاد پر غالب آگئے، اور یہی واقعہ اُن کے معتزلی عقائد سے رجوع کا سبب بنا۔ چونکہ وہ پہلے ہی اس مکتب کے اصول و مبانی سے پوری طرح واقف تھے اور فنِ مناظرہ میں بھی مہارت رکھتے تھے، اس لیے انہوں نے پوری قوت کے ساتھ معتزلہ کی مخالفت اور اُن کے عقائد کی تردید کا بیڑا اٹھایا۔
ابن ندیم، جو قدیم ترین مؤرخین میں سے ایک ہیں، کے مطابق اشعری ایک جمعہ کی رات بصرہ کی جامع مسجد گئے، وہاں اپنے اعتقادی تغیر اور توبہ کا اعلان کیا، اور کہا کہ وہ معتزلہ کو رسوا کریں گے[3]۔ ابن عساکر بھی نقل کرتے ہیں کہ اشعری نے مسجد میں کہا کہ وہ محض عقلی دلائل کے ذریعے حقیقت تک نہیں پہنچ سکے، اور آخرکار الٰہی ہدایت اور کتاب و سنت کے ازسرِ نو مطالعے سے انہوں نے معتزلہ کے عقائد کا بطلان جان لیا[4]۔ اس کے علاوہ اشعری کی فکری تبدیلی کے محرکات کے بارے میں دوسری روایات بھی ملتی ہیں، جن میں بعض کے مطابق اشعری نے یہ دعویٰ کیا کہ معتزلہ سے اُن کے رجوع کی وجہ بعض الہامات اور قابلِ اعتنا خواب و رؤیا تھے[5]۔
کلامی مبانی
ضروری اور اکتسابی معرفت ابوالحسن اشعری معرفت کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: ضروری اور اکتسابی۔ اکتسابی معرفت وہ ہے جو فکر اور عقلی استدلال کے ذریعے حاصل ہو، جبکہ ضروری معرفت وہ تمام معارف ہیں جو غیر نظری طریقے سے حاصل ہوں، خواہ وہ حسی ادراک کے ذریعے ہوں، یا بدیہیات کے علم سے حاصل ہوں، یا قابلِ اعتماد خبروں کے ذریعے حاصل ہوں[6]۔ اشعری کے نزدیک خدا کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش انسان پر واجب ہے۔ البتہ وہ معرفت جو مکلف بننے کا سبب ہو، اکتسابی معرفت سے مشروط ہے، اور اکتسابی معرفت عقلی استدلال کے راستے سے حاصل ہوتی ہے؛ لہٰذا خدا کی معرفت تقلیدی نہیں ہوسکتی[7]۔
خدا کی معرفت کے وجوب کا نظریہ: اشعری کے نزدیک شریعت حکم دیتی ہے کہ انسان خدا کی معرفت کے لیے اپنی عقل سے کام لے۔ تاہم وہ عقل کے لیے اس بات کی کوئی مستقل اہلیت تسلیم نہیں کرتے کہ وہ خود یہ طے کرے کہ انسان پر خدا کے مقابلے میں کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں[8]۔
حسن و قبحِ شرعی بمقابلہ حسن و قبحِ عقلی: حسن و قبحِ شرعی کا نظریہ اشعری نے حسن و قبحِ عقلی کے بالمقابل پیش کیا، جسے دوسرے مکاتب قبول کرتے تھے۔ یہ نظریہ اُس فرق پر قائم ہے جو اشعری احکامِ نظری اور احکامِ عقلی کے درمیان کرتے ہیں۔ وہ عقل کے دائرۂ کار کو صرف نظری احکام تک محدود کرتے ہیں؛ اسی بنا پر عقل اس بات کی قدرت نہیں رکھتی کہ افعال کے اچھے یا برے ہونے کے بارے میں فیصلہ دے سکے۔ نتیجتاً عقل کے ذریعے وجوب یا حرمت کا حکم ثابت نہیں کیا جاسکتا، بلکہ صرف شریعت ہی اس امر کا تعین کرسکتی ہے[9]۔
قابلِ اعتماد خبر کے ذریعے معرفت: اشاعرہ کے نزدیک وہ معرفت جو کسی موثق ذریعے سے حاصل ہو، مثلاً حسی ادراکات کے نتیجے میں، ضروری معرفت شمار ہوتی ہے۔ حسی معلومات انسان کے لیے شک کی بہت کم گنجائش چھوڑتی ہیں، یہاں تک کہ وہ استدلال کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ اسی اصول پر، معتبر خبروں سے انسان کو جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ بھی حسی معرفت کے حکم میں آسکتا ہے[10]۔ جبکہ پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے خبر دی ہے کہ اگر لوگ اُن کی دعوت اور نشانیوں میں غور و فکر نہ کریں تو وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ہوں گے؛ کیونکہ رسول کی سچائی کے بارے میں جو معرفت انسانوں کو حاصل ہے، اُس کی بنا پر اُن کی نبوت کی نشانیوں میں غور کرنا اُن پر واجب ہوجاتا ہے۔ اور اس تعقل کا نتیجہ ایمان بالغیب اور احکامِ شرع کے سامنے بے چون و چرا تسلیم ہوگا[11]۔ لہٰذا اشعری کے نقطۂ نظر میں انسانی تکلیف کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے۔
شاہد سے غائب پر استدلال: ابوالحسن اشعری کے نزدیک دینی عقائد میں عقلی استدلال، شاہد سے غائب پر استدلال کے مانند ہے؛ یعنی محسوس سے غیر محسوس پر استدلال۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے عقلی استدلال کے عمل میں دنیاوی امور کے اُن احکام کو، جو محسوسات سے متعلق ہوتے ہیں، عالمِ غیب یا نامعلوم جہان کے مشابہ موضوعات تک سرایت دیتا ہے[12]۔ البتہ اشعری قیاس کے اعتبار کو قبول کرتے ہیں، اور اپنے دلائل میں بعض عقلی مفاہیم سے بھی استفادہ کرتے ہیں، نیز عقلی نتائج کو دینی نصوص کی پابندی کے منافی نہیں سمجھتے۔ لیکن وہ عقل کے اعتبار کے دائرے کو محدود رکھتے ہیں اور عقل کو وہ حیثیت نہیں دیتے جو معتزلہ نے دی تھی۔ اس کے باوجود، کلامی آراء کے منطقی لوازم کی طرف اشعری کی توجہ بعض مواقع پر اُن کے عقیدے کو اصحابِ حدیث سے مختلف بنا دیتی ہے۔ یہی خصوصیت اکثر انہیں اصحابِ حدیث اور عقل گرا رجحان کے درمیان ایک درمیانی مقام پر رکھتی ہے[13]۔
بعض آراء اور عقائد کی وضاحت
اللہ تعالیٰ کی صفاتِ ازلیہ: اشاعرہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ قدیم ہے اور اس کی صفات یعنی علم، قدرت، ارادہ، حیات، سمع، بصر اور کلام سب قدیم ہیں؛ ان کو مجموعی طور پر "قدمائے ثمانیہ" (آٹھ قدیم صفات) کہا جاتا ہے[14]۔ ابوالحسن اشعری کا ماننا ہے کہ صفاتِ ازلی نہ عینِ ذات ہیں اور نہ ہی غیرِ ذات، اگرچہ اپنی حقیقت میں وہ ذات کے ساتھ قائم ہیں[15]۔
صفاتِ خبریہ: "صفاتِ خبریہ" سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ صفات ہیں جن کا ذکر قرآن و احادیث میں آیا ہے اور ان کا ثبوت محض "نقل" (سماع) پر منحصر ہے[16]۔ مثلاً استواء علی العرش[17]، آمد (آنا)[18]، وجہ (چہرہ)[19]، ید (ہاتھ)[20] اور عین (آنکھ)[21]۔ ان صفات سے متعلق آیات کو "متشابہات" کہا جاتا ہے۔ معتزلہ ان آیات کی "تاویل" کے قائل ہیں، جبکہ اہلِ حدیث (مجسمہ اور مشبہہ) ان کے ظاہری مفہوم سے تمسک کرتے ہیں۔ اشعری نے ان دونوں کے درمیان ایک درمیانی راستہ اختیار کیا؛ وہ معتزلہ کی تاویل کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقی طور پر ان صفات سے متصف ہے، لیکن ان کی کیفیت (ہو کیسی) پر بحث کرنا ممنوع ہے۔ اشعری کی یہ تفسیر ایک مشہور اصول کی شکل اختیار کر گئی ہے جسے "بلا کیف" (کیفیت پوچھے بغیر ایمان لانا) کہا جاتا ہے[22]۔
کلامِ الہی کا حدوث و قدم: اہلِ حدیث اور حنابلہ کا ماننا ہے کہ قرآن قدیم ہے اور جو اسے حادث (نئی پیدا شدہ چیز) کہے وہ کفر کا مرتکب ہے۔ معتزلہ قرآن کو حادث مانتے ہیں۔ ابوالحسن اشعری یہاں اہلِ حدیث کے عقیدے کی پیروی کرتے ہیں، البتہ وہ یہ وضاحت کرتے ہیں کہ کلامِ الہی کی دو قسمیں ہیں: ۱۔ کلامِ نفسی، ۲۔ کلامِ لفظی۔ وہ بتاتے ہیں کہ کلامِ نفسی حقیقی کلام ہے اور قدیم ہے، جبکہ کلامِ لفظی حقیقی کلام نہیں بلکہ اس کے اظہار و ابلاغ کا ذریعہ ہے[23]۔
انسانی افعال اور نظریۂ کسب: یہ نظریہ جو اشعری اور ان کے پیروکاروں کی خلقِ افعالِ عباد کی تفسیر کا نتیجہ ہے، علمِ کلام کے مشہور نظریات میں سے ہے، اگرچہ اس کی جڑیں اشعری سے پہلے کے دور (مسئلہ قدر و جبر) میں ملتی ہیں۔ معتزلہ نے عدل و حکمتِ الہی کے دفاع میں "تفویض" کا نظریہ اپنایا اور انسان کو اپنے افعال کا خود خالق قرار دیا۔ اس کے برعکس، اہلِ حدیث نے ارادہ و قدرِ الہی کی عمومیت اور توحیدِ خالقیت کے تحفظ کے لیے انسان سے ہر قسم کی فاعلیت کی نفی کی اور اسے "خلقِ افعالِ عباد" کا نام دیا۔ ابوالحسن اشعری نے معتزلہ سے علیحدگی کے بعد اس عقیدے کی حمایت کی کہ "بندوں کے افعال اللہ کے مخلوق اور اس کی قدرت میں ہیں"[24]۔ لیکن اختیار کو ثابت کرنے اور جبر کے الزامات سے بچنے کے لیے انہوں نے "نظریۂ کسب" اختیار کیا (جو ان سے پہلے حسین نجار اور ضرار بن عمرو نے پیش کیا تھا)۔ اشعری کے نزدیک اللہ خالقِ افعال ہے اور انسان ان افعال کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ (آلۂ کسب) ہے۔ وہ کسب کی تعریف یوں کرتے ہیں: "حقیقت میرے نزدیک یہ ہے کہ اکتساب کا مطلب فعل کا قوتِ حادثہ کے ساتھ ہم زمان واقع ہونا ہے، پس کسب کرنے والا وہ ہے جس میں فعل قدرت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے"[25]۔ فاضل قوشجی نے اس کی سادہ تعریف یوں کی ہے: "کسب سے مراد فعل کے وجود کا انسان کی قدرت و ارادہ کے ساتھ مقارنت (جڑا ہونا) ہے، بغیر اس کے کہ انسان کی قدرت و ارادہ فعل کے تحقق میں کوئی اثر رکھتی ہو"[26]۔ واضح رہے کہ بعد کے اشعری متکلمین نے "کسب" کی ایسی تشریح کی جو امامیہ کے "امر بین الامرین" کے قریب تر محسوس ہوتی ہے۔
عدل اور حسن و قبحِ عقلی کا انکار: اشاعرہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب یا ضروری نہیں ہے، کیونکہ وجوب کا قائل ہونا اللہ کو محدود کرنے اور اس کے لیے فریضہ طے کرنے کے مترادف ہے۔ اسی بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ "اللہ پر عدل کرنا لازم ہے یا ظلم کرنا ممنوع ہے"؛ بلکہ اللہ جو کچھ بھی کرے وہ عینِ عدل ہے، خواہ وہ تمام مومنوں کو جہنم میں اور تمام کافروں کو جنت میں بھیج دے (یہی حسن و قبحِ شرعی ہے)[27]۔ البتہ اللہ نے قرآن و حدیث میں جو وعدہ کیا ہے، اس کے مطابق وہ کبھی ظلم نہیں کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا دے گا۔
عقل کے بارے میں نقطۂ نظر: اشعری عقل پر مطلق بھروسے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، جس کی وجہ سے معتزلہ ان پر تنقید کرتے تھے۔ انہوں نے عقل کے معاملے میں میانہ روی اختیار کی۔ شہرستانی کے مطابق اشعری کا قول ہے کہ: اللہ کی معرفت عقل سے حاصل ہوتی ہے لیکن (اس کا حصول) شرع سے واجب ہوتا ہے[28]۔
تکلیفِ مالا یطاق (طاقت سے باہر ذمہ داری): شہرستانی کے بقول، اشعری "تکلیفِ مالا یطاق" کو جائز سمجھتے ہیں[29]۔ یعنی اللہ کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایسے کام کا حکم دے جو اس کی طاقت سے باہر ہو، جیسے کسی بغیر پروں والے انسان کو پرندوں کی طرح اڑنے کا حکم دینا۔
ایمان: اشعری کے نزدیک ایمان "تصدیقِ قلبی" (دل سے ماننے) کا نام ہے، جبکہ زبان سے اقرار اور ارکانِ دین پر عمل کرنا ایمان کی فروع (شاخیں) ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ایمان وہ توفیق ہے جو اللہ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اور توفیق سے مراد اطاعت پر قدرت پیدا کرنا ہے[30]۔
مرتکبِ کبیرہ کا حکم: اشعری اور ان کے پیروکاروں کے نزدیک گناہِ کبیرہ کے مرتکب کو دائرۂ ایمان سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنا انسانوں کے بس میں نہیں، بلکہ اسے اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے[31]۔
حوالہ جات
- ↑ خطیب بغدادی، احمد، ج۱۱، ص۳۴۶، تاریخ بغداد، قاہرہ، ۱۳۵۰ق.
- ↑ ابنعساکر، علی، ج۱، ص۳۴، تبیین کذب المفتری فیما نسب الی الامام ابیالحسن الاشعری، بتحقیق حسام الدین قدسی، دمشق، ۱۳۴۷ق.
- ↑ ابن ندیم، الفہرست، ص۲۳۱
- ↑ ابن عساکر علی، تبیین الکذب المفتری فیما نسب الی الامام ابی الحسن الاشعری، ص۳۹
- ↑ ر ک، ابن عساکر، ص۳۸–۴۳، ۹۱؛ ابن جوزی، ج۶، ص۳۳۳؛ سبکی، ج۳، ص۳۴۷-۳۴۹
- ↑ ابن فورک، ص۱۳، ۱۵، ۱۷
- ↑ اشعری، رسالة فی استحسان الخوض فی علم الکلام، ص۲؛ ابن فورک، ص۱۵، ۲۵۱-۲۵۲؛ نسفی، ج۱، ص۲۸–۲۹
- ↑ ابن فورک، ص۳۲، ۲۵۰، ۲۸۵، ۲۹۲–۲۹۳
- ↑ ابن فورک، ص۳۲، ۲۸۵–۲۸۶؛ شهرستانی، نهایة الاقدام، ص۳۷۱
- ↑ ابن فورک، ص۲۸۷
- ↑ ابن فورک، ص۲۳، ۲۸۵
- ↑ ابن فورک، ص۲۸۶
- ↑ انواری محمدجواد، اشعری، در دائرةالمعارف بزرگ اسلامی، ج۹، ص۵۴
- ↑ تاریخ علم کلام و مذاہب اسلامی، موسسه انتشارات بعثت، تہران، 1367، ج2، ص468۔
- ↑ شهرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، محقق بدران، محمد، ج 1، ص 108۔
- ↑ سبحانی، جعفر، سیمای عقائد شیعه، ترجمہ جواد محدثی، ص 66۔
- ↑ سورہ طہ، آیت 5۔
- ↑ سورہ فجر، آیت 22
- ↑ سورہ الرحمن، آیت 27
- ↑ سورہ فتح، آیت 10
- ↑ سورہ ہود، آیت 37۔
- ↑ درآمدی بر علم کلام، ص 275 و 276۔
- ↑ ایضاً، ص 276۔
- ↑ ر ک اشعری، ابوالحسن، مقالات الإسلامیین و اختلاف المصلین، ص 291؛ و سبحانی، جعفر، الإنصاف فی مسائل دام فیها الخلاف، ج 3، ص 107 و 108۔
- ↑ اشعری، ابوالحسن؛ مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، دار احیا التراث العربی، بیروت، ط 3، ص 532
- ↑ ر ک درآمدی بر علم کلام، ص 278، بحوالہ فاضل قوشجی، شرح تجرید، ص 445۔
- ↑ ابن فورک، ص۳۲، ۲۸۵ – ۲۸۶ و شهرستانی نهایة الاقدام، ص۳۷۱
- ↑ شهرستانی، محمد ابن عبدالکریم؛ الملل والنحل، تصحیص محمد سید گیلانی، قاہرہ، 1961، ج1، ص129۔
- ↑ شهرستانی، محمد ابن عبدالکریم؛ پیشین، ص124
- ↑ ولوی، علیمحمد؛ پیشین، ص474۔
- ↑ ایضاً، ص475۔