"طواف" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 23: | سطر 23: | ||
== کعبہ کے گرد مسلمانوں کے طواف کی حکمت == | == کعبہ کے گرد مسلمانوں کے طواف کی حکمت == | ||
امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "جس طرح تم اپنے جسم کے ساتھ مسلمانوں کے ہمراہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہو، اپنے دل کے ساتھ فرشتوں کے ہمراہ عرش کے گرد طواف کرو۔" <ref>«وَ طُفْ بِقَلْبِکَ مَعَ الْمَلَائِکَةِ حَوْلَ الْعَرْشِ کَطَوَافِکَ مَعَ الْمُسْلِمِینَ بِنَفْسِکَ حَوْلَ الْبَیْتِ»؛ منسوب به امام جعفر صادق(علیهالسّلام)، مصباح الشریعة، ص 50، اعلمی، بیروت، چاپ اول، 1400ق</ref>۔ | امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "جس طرح تم اپنے جسم کے ساتھ مسلمانوں کے ہمراہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہو، اپنے دل کے ساتھ فرشتوں کے ہمراہ عرش کے گرد طواف کرو۔" <ref>«وَ طُفْ بِقَلْبِکَ مَعَ الْمَلَائِکَةِ حَوْلَ الْعَرْشِ کَطَوَافِکَ مَعَ الْمُسْلِمِینَ بِنَفْسِکَ حَوْلَ الْبَیْتِ»؛ منسوب به امام جعفر صادق(علیهالسّلام)، مصباح الشریعة، ص 50، اعلمی، بیروت، چاپ اول، 1400ق</ref>۔ | ||
# ایک اور روایت میں امام صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے: "ہم اپنے والد امام باقر (علیہ السلام) کے ساتھ حجرِ اسماعیل میں تھے اور وہ نماز میں مشغول تھے کہ ایک شخص آیا اور سلام کیا۔ اس نے پوچھا: اس گھر کے طواف کا فلسفہ کیا ہے؟ | |||
# میرے والد نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتوں نے ابتدائی طور پر اس میں تامل (تردید) کیا، تو اللہ ان پر ناراض ہوا۔ پھر فرشتوں نے اللہ سے معافی مانگی اور توبہ کی۔ اللہ نے انہیں 'بیت المعمور' کے گرد طواف کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح بنی آدم کے لیے بھی کعبہ کو قرار دیا تاکہ یہ ان کے گناہوں کی بخشش کا سبب بنے۔" <ref>کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، ج 4، ص 188، دار الکتب الإسلامیة، تهران، چاپ چهارم، 1407ق.</ref>۔ | |||
# ابی حمزہ ثمالی کہتے ہیں: میں نے امام سجاد (علیہ السلام) سے پوچھا: طواف سات چکروں پر کیوں مقرر کیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "کیونکہ جب اللہ نے فرشتوں سے کہا: *إِنِّی جاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلیفَةً* (میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں)، تو انہوں نے اعتراض کیا اور کہا: *أَ تَجْعَلُ فیها مَنْ یُفْسِدُ فیها وَ یَسْفِکُ الدِّماءَ* (کیا تو اس میں ایسے کو بنائے گا جو فساد پھیلائے اور خون بہائے؟)۔ اللہ نے جواب میں فرمایا: *إِنِّی أَعْلَمُ ما لا تَعْلَمُونَ* (میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے)۔ | |||
اس اعتراض سے پہلے اللہ کا نور ان کے لیے ظاہر تھا، لیکن اس کے بعد سات ہزار سال تک ان کے اور اللہ کے نور کے درمیان پردہ حائل ہو گیا (وہ انوارِ الہیٰ کا مشاہدہ نہیں کر پا رہے تھے)۔ پس اس دوران انہوں نے پروردگار کی پناہ لی، اللہ نے ان پر رحمت کی، ان کی توبہ قبول فرمائی اور بیت المعمور جو چوتھے آسمان پر تھا اسے ان کے لیے پناہ گاہ قرار دیا۔ پھر بیت اللہ الحرام کو اس کے نیچے قرار دیا تاکہ وہ بھی لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنے؛ پس اللہ نے طواف کے سات چکر واجب کیے، ہر ہزار سال کے بدلے ایک چکر۔" <ref>شیخ صدوق، علل الشرائع، ج 2، ص 406، کتاب فروشی داوری، قم، چاپ اول، 1385ش</ref>۔ | |||
اس اعتراض سے پہلے اللہ کا نور ان کے لیے ظاہر تھا، لیکن اس کے بعد سات ہزار سال تک ان کے اور اللہ کے نور کے درمیان پردہ حائل ہو گیا (وہ انوارِ الہیٰ کا مشاہدہ نہیں کر پا رہے تھے)۔ پس اس دوران انہوں نے پروردگار کی پناہ لی، اللہ نے ان پر رحمت کی، ان کی توبہ قبول فرمائی اور بیت المعمور جو چوتھے آسمان پر تھا اسے ان کے لیے پناہ گاہ قرار دیا۔ پھر بیت اللہ الحرام کو اس کے نیچے قرار دیا تاکہ وہ بھی لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنے؛ پس اللہ نے طواف کے سات چکر واجب کیے، ہر ہزار سال کے بدلے ایک چکر۔" | |||
جہاں تک آپ کے سوال کے دوسرے حصے کا تعلق ہے، روایات کے مطابق، اولیائے الٰہی خود ان اعمال کے بنانے والے نہیں تھے، بلکہ اللہ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے انہیں مناسک کی انجام دہی کا طریقہ سکھایا، اور بے شک کچھ اعمال جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ نے انجام دیے، وہ دوسری امتوں کے لیے ایک علامتی سنت کے طور پر باقی رہے۔ | جہاں تک آپ کے سوال کے دوسرے حصے کا تعلق ہے، روایات کے مطابق، اولیائے الٰہی خود ان اعمال کے بنانے والے نہیں تھے، بلکہ اللہ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے انہیں مناسک کی انجام دہی کا طریقہ سکھایا، اور بے شک کچھ اعمال جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ نے انجام دیے، وہ دوسری امتوں کے لیے ایک علامتی سنت کے طور پر باقی رہے۔ | ||
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: | امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: | ||
“اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو، اس وقت جب اسماعیل بھی ان کے ساتھ تھے، حکم دیا کہ وہ حج کریں اور حرم (مکہ) میں سکونت اختیار کریں۔ وہ دونوں ایک سرخ اونٹنی پر حج کے لیے روانہ ہوئے، اور ان کے ساتھ جبرئیل کے سوا کوئی نہ تھا<ref>شیخ صدوق، علل الشرائع، ج 2، ص 586، کتاب فروشی داوری، قم، چاپ اول، 1385ش</ref>۔ | |||
جب وہ حرم میں پہنچے تو جبرئیل نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا: اتر جائیے اور حرم میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیجیے۔ چنانچہ وہ سواری سے اترے اور غسل کیا۔ | |||
پھر جبرئیل نے انہیں احرام کی تیاری کا طریقہ دکھایا اور ان کو وہ چار تلبیے سکھائے جو اللہ کے رسول کہا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ دونوں کو صفا کے دروازے تک لے گیا۔ وہ اونٹ سے اترے، اور جبرئیل ان دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر کعبہ کی طرف متوجہ ہوا اور تکبیر کہی، تو انہوں نے بھی تکبیر کہی۔ اس نے اللہ کی حمد کی، تو انہوں نے بھی حمد کی۔ اس نے پروردگار کی مجد و ثنا بیان کی، تو انہوں نے بھی اسی کی پیروی کی۔ | پھر جبرئیل نے انہیں احرام کی تیاری کا طریقہ دکھایا اور ان کو وہ چار تلبیے سکھائے جو اللہ کے رسول کہا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ دونوں کو صفا کے دروازے تک لے گیا۔ وہ اونٹ سے اترے، اور جبرئیل ان دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر کعبہ کی طرف متوجہ ہوا اور تکبیر کہی، تو انہوں نے بھی تکبیر کہی۔ اس نے اللہ کی حمد کی، تو انہوں نے بھی حمد کی۔ اس نے پروردگار کی مجد و ثنا بیان کی، تو انہوں نے بھی اسی کی پیروی کی۔ | ||
ان اعمال کے بعد وہ انہیں حجرِ اسود کے پاس لے آیا۔ پھر جبرئیل نے اپنا ہاتھ اس پر پھیرا اور انہیں بھی ایسا کرنے کا حکم دیا۔ پھر ان کے ساتھ سات چکر طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پاس آیا، پھر جبرئیل نے دو رکعت نماز پڑھی اور انہوں نے بھی پڑھی۔ اس کے بعد اس نے انہیں اعمالِ حج اور ہر اس چیز کی تعلیم دی جو انہیں انجام دینی تھی...” | ان اعمال کے بعد وہ انہیں حجرِ اسود کے پاس لے آیا۔ پھر جبرئیل نے اپنا ہاتھ اس پر پھیرا اور انہیں بھی ایسا کرنے کا حکم دیا۔ پھر ان کے ساتھ سات چکر طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پاس آیا، پھر جبرئیل نے دو رکعت نماز پڑھی اور انہوں نے بھی پڑھی۔ اس کے بعد اس نے انہیں اعمالِ حج اور ہر اس چیز کی تعلیم دی جو انہیں انجام دینی تھی...” | ||
اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: | اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: | ||
| سطر 60: | سطر 60: | ||
“قافلے پانی نہ ہونے کی وجہ سے مکہ کے راستے سے ہٹ جاتے تھے۔ اس لیے حضرت ابراہیم کے بیٹے نے شدتِ پیاس سے اپنے پاؤں زمین پر رگڑے، تو زمین سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔ جب ماں مروہ سے اس کی طرف آئی اور جوش مارتا ہوا چشمہ دیکھا، تو اس نے چشمے کے گرد مٹی ڈال دی تاکہ پانی بہہ نہ نکلے؛ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو یقیناً چشمہ جاری ہو جاتا۔ | “قافلے پانی نہ ہونے کی وجہ سے مکہ کے راستے سے ہٹ جاتے تھے۔ اس لیے حضرت ابراہیم کے بیٹے نے شدتِ پیاس سے اپنے پاؤں زمین پر رگڑے، تو زمین سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔ جب ماں مروہ سے اس کی طرف آئی اور جوش مارتا ہوا چشمہ دیکھا، تو اس نے چشمے کے گرد مٹی ڈال دی تاکہ پانی بہہ نہ نکلے؛ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو یقیناً چشمہ جاری ہو جاتا۔ | ||
وہ پانی اس مٹی کے تودے میں ایک حوض کی صورت اختیار کر گیا، اور پرندے اس کے گرد جمع ہونے لگے۔ یمن کی طرف سے آنے والا ایک قافلہ جب پرندوں کو اس جگہ جمع ہوتے دیکھتا تو کہتا: یہ پرندے یہاں پانی کے بغیر جمع نہیں ہوئے ہوں گے۔ چنانچہ وہ وہاں پہنچے، پانی دیکھا، اس سے پیا اور وہیں اپنا کھانا بھی کھایا...” | وہ پانی اس مٹی کے تودے میں ایک حوض کی صورت اختیار کر گیا، اور پرندے اس کے گرد جمع ہونے لگے۔ یمن کی طرف سے آنے والا ایک قافلہ جب پرندوں کو اس جگہ جمع ہوتے دیکھتا تو کہتا: یہ پرندے یہاں پانی کے بغیر جمع نہیں ہوئے ہوں گے۔ چنانچہ وہ وہاں پہنچے، پانی دیکھا، اس سے پیا اور وہیں اپنا کھانا بھی کھایا...”<ref>شیخ صدوق، علل الشرائع، ج 2، ص 432، کتاب فروشی داوری، قم، چاپ اول، 1385ش</ref>۔ | ||
شیعہ فقہ میں طواف کی اقسام اور اہلِ سنت کے نظریات کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے: | شیعہ فقہ میں طواف کی اقسام اور اہلِ سنت کے نظریات کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے: | ||
== شیعہ فقہ میں طواف کی اقسام == | |||
=== طوافِ تحیت: === | |||
اسے طوافِ ورود بھی کہا جاتا ہے۔ جب انسان مکہ میں داخل ہو تو مستحب ہے کہ خانہ کعبہ کے طواف کی طرف جلدی کرے اور اس مقدس گھر کے گرد چکر لگائے۔ شیعہ فقہ <ref>عبدالله بن تاج الشریعه، ص 319</ref>۔ اور نیز حنفی، شافعی اور حنبلی مذاہب میں یہ طواف مستحب ہے <ref>الجزیری، عبدالرحمن، ج 1، ص 663</ref>۔ | |||
=== طوافِ زیارت یا طوافِ حج: === | |||
شیعہ فقہ میں یہ عمل واجب ہے، بلکہ حج کے ارکان میں سے شمار ہوتا ہے <ref>محمد جواد مغنیه، ج 1، ص 188، 1420 ق</ref>۔ | |||
=== طوافِ نساء: === | |||
شیعہ فقہ میں یہ طواف واجب ہے لیکن حج کے ارکان میں شامل نہیں ہے۔ یہ حج تمتع، حجِ قران، حجِ افراد اور عمرہ مفرودہ (سوائے عمرہ تمتع کے) میں واجب ہے۔ اس کا حکم مرد اور عورت دونوں پر یکساں ہے۔ | |||
اگر کوئی اس عمل کو ترک کر دے تو اگر وہ عورت ہو تو جب تک اگلے سال طوافِ نساء نہ کر لے، اس کا شوہر اس پر حرام رہتا ہے۔ اگر مرد ہو تو اسی طرح اس پر عورت حرام رہتی ہے، اور اگر کسی نے شادی نہیں کی تو اسے دوبارہ یہ طواف کرنے تک شادی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ | |||
=== طوافِ نساء کا وقت: === | |||
حلق (سر منڈوانے) یا تقصیر کے بعد مکہ واپس آ کر طوافِ زیارت اور اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جاتی ہے۔ سعی کے بعد طوافِ نساء کیا جاتا ہے (جس کے بعد طوافِ زیارت کی طرح دو رکعت نماز بھی پڑھی جاتی ہے)۔ طوافِ نساء، صفا و مروہ کے درمیان سعی سے پہلے اور طوافِ زیارت سے پہلے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا صحیح وقت سعی کے بعد ہے<ref>الفاضل اللنکرانی، ج 5، ص 383، 1418</ref>۔ | |||
=== طوافِ وداع: === | |||
یہ وہ طواف ہے جو انسان مکہ سے نکلتے وقت کرتا ہے اور یہ مکہ میں انجام دیا جانے والا آخری عمل ہوتا ہے۔ اسے طوافِ وداع اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ گویا حاجی اس طواف کے ذریعے مکہ اور مسجد الحرام سے خدا حافظی کر رہا ہوتا ہے۔ شیعہ فقہ کی نظر میں یہ طواف مستحب ہے <ref>عبدالله بن تاج الشریعه، ص 319</ref>۔ | |||
تاہم اہل سنت میں اس پر تین آراء موجود ہیں: حنفی اور حنبلی حضرات اسے واجب مانتے ہیں، مالکی اسے مستحب سمجھتے ہیں، جبکہ شافعیوں کے ہاں دو آراء ہیں (بعض واجب اور بعض مستحب کہتے ہیں) <ref>عبدالرحمن الجزیری، ج 1، ص 663</ref>۔ | |||
== اہلِ سنت فقہ میں طواف کی اقسام == | |||
=== طوافِ قدوم: === | |||
یہ وہ طواف ہے جو مکہ میں پہلی بار داخل ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک یہ واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے <ref>عبدالرحمن الجزیری، ج 1، ص 663 | |||
</ref>۔ | |||
=== طوافِ رکن: === | |||
طوافِ رکن یا طوافِ زیارت، جسے حج کا دوسرا رکن مانا جاتا ہے۔ اس کا وقت ۱۰ ذوالحجہ ہے۔ حنفی مسلک کے مطابق اس کا وقت عمر بھر ہے (یعنی اگر دسویں تاریخ کو نہ ہو سکے تو زندگی میں کبھی بھی ادا کیا جا سکتا ہے)۔ | |||
مالکی حضرات کا ماننا ہے کہ اس کا وقت ۱۰ ذوالحجہ سے لے کر آخرِ ذوالحجہ تک ہے۔ شافعی اور حنبلی حضرات کے مطابق اس کا ابتدائی وقت ۱۰ ذوالحجہ کی نصف شب ہے اور اس کی کوئی آخری حد نہیں (یعنی اسے مؤخر بھی کیا جا سکتا ہے) <ref>عبدالرحمن الجزیری، ج 1، ص 664</ref>۔ | |||
=== طوافِ الوداع: === | |||
یہ وہ طواف ہے جو حجاج مکہ سے روانگی سے قبل آخری بار کرتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اسے اس لیے طوافِ وداع کہا جاتا ہے کیونکہ حاجی اس کے ذریعے مکہ اور کعبہ سے رخصت ہوتا ہے۔ | |||
واضح رہے کہ اہل سنت، "طوافِ نساء" نامی کسی طواف کو تسلیم نہیں کرتے <ref>المغنیه، محمد جواد، الفقه علی مذاهب الخمسه، دار الجود، بیروت، 1404ق</ref>۔ | |||
یہ وہ طواف ہے جو مکہ | |||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ:سعودی عرب]] | |||
[[زمرہ:تصورات اور اصطلاحات]] | |||
[[زمرہ:اسلامی تصورات اور اصطلاحات]] | |||
[[fa: طواف]] | |||
نسخہ بمطابق 14:58، 22 مئی 2026ء

طواف کعبہ کا طواف، دینِ اسلام کی شریعت میں حج کے واجبات میں سے ایک شمار ہوت ہے ، جس میں انسان کو خاص شرائط کے ساتھ خانہ خدا (کعبہ) کے گرد سات چکر لگانے ہوتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر 'شوط' (چکر) حجرِ اسود سے شروع ہو کر وہیں پر ختم ہونا چاہیے۔ فقہ میں 'شوط' طواف کا ہی دوسرا نام ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ 'طواف' سات شوط مکمل کرنے کے مجموعے کو کہا جاتا ہے۔
طواف ایک قدیم عبادت ہے اور اس کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ہے، جسے دینِ اسلام نے برقرار رکھا اور اس کی توثیق کی۔ یہ عمل زمانہ جاہلیت میں بھی موجود تھا، جہاں لوگ بتوں کے گرد بطورِ طواف چکر لگایا کرتے تھے۔
طواف کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم
'طواف' کے لغوی معنی کسی چیز کا احاطہ کرنا [1]۔ اور پیدل چل کر کسی چیز کے گرد گھومنا ہے [2]۔
'طائف' اسے کہتے ہیں جو خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتا ہو [3]۔ ؛ جبکہ فقہی اصطلاح میں 'طائف' وہ شخص ہے جو قربانی کے دن 'بیتِ عتیق' (کعبہ) کے گرد طواف کرے
قرآن مجید میں مادہ "طواف" لغوی اور اصطلاحی دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لغوی معنی کے لیے اس آیت سے استناد کیا جا سکتا ہے: ﴿فَطَافَ عَلَیهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّک وَهُمْ نَائِمُونَ﴾ <refسورہ قلم، آیہ ۱۹</ref>۔ (پھر آپ کے رب کی طرف سے ایک مصیبت (رات کے اندھیرے میں) ان کے باغ پر آ گئی، جبکہ وہ سب سوئے ہوئے تھے۔)
یہاں 'طائف' سے مراد وہ بلا اور مصیبت ہے جو رات کے وقت نازل ہوتی ہے
اور کچھ آیات میں فقہی اصطلاحی مفہوم کی طرف اشارہ ہے: ﴿وَلْیطَّوَّفُوا بِالْبَیتِ الْعَتِیقِ﴾ [4]۔ (...اور انہیں چاہیے کہ اس گھر (کعبہ) کا طواف کریں۔) کعبہ کو 'بیتِ عتیق' (قدیم گھر) اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے دوران محفوظ رہا تھا [5]۔
کعبہ کے گرد مسلمانوں کے طواف کی حکمت
امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "جس طرح تم اپنے جسم کے ساتھ مسلمانوں کے ہمراہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہو، اپنے دل کے ساتھ فرشتوں کے ہمراہ عرش کے گرد طواف کرو۔" [6]۔
- ایک اور روایت میں امام صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے: "ہم اپنے والد امام باقر (علیہ السلام) کے ساتھ حجرِ اسماعیل میں تھے اور وہ نماز میں مشغول تھے کہ ایک شخص آیا اور سلام کیا۔ اس نے پوچھا: اس گھر کے طواف کا فلسفہ کیا ہے؟
- میرے والد نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتوں نے ابتدائی طور پر اس میں تامل (تردید) کیا، تو اللہ ان پر ناراض ہوا۔ پھر فرشتوں نے اللہ سے معافی مانگی اور توبہ کی۔ اللہ نے انہیں 'بیت المعمور' کے گرد طواف کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح بنی آدم کے لیے بھی کعبہ کو قرار دیا تاکہ یہ ان کے گناہوں کی بخشش کا سبب بنے۔" [7]۔
- ابی حمزہ ثمالی کہتے ہیں: میں نے امام سجاد (علیہ السلام) سے پوچھا: طواف سات چکروں پر کیوں مقرر کیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "کیونکہ جب اللہ نے فرشتوں سے کہا: *إِنِّی جاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلیفَةً* (میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں)، تو انہوں نے اعتراض کیا اور کہا: *أَ تَجْعَلُ فیها مَنْ یُفْسِدُ فیها وَ یَسْفِکُ الدِّماءَ* (کیا تو اس میں ایسے کو بنائے گا جو فساد پھیلائے اور خون بہائے؟)۔ اللہ نے جواب میں فرمایا: *إِنِّی أَعْلَمُ ما لا تَعْلَمُونَ* (میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے)۔
اس اعتراض سے پہلے اللہ کا نور ان کے لیے ظاہر تھا، لیکن اس کے بعد سات ہزار سال تک ان کے اور اللہ کے نور کے درمیان پردہ حائل ہو گیا (وہ انوارِ الہیٰ کا مشاہدہ نہیں کر پا رہے تھے)۔ پس اس دوران انہوں نے پروردگار کی پناہ لی، اللہ نے ان پر رحمت کی، ان کی توبہ قبول فرمائی اور بیت المعمور جو چوتھے آسمان پر تھا اسے ان کے لیے پناہ گاہ قرار دیا۔ پھر بیت اللہ الحرام کو اس کے نیچے قرار دیا تاکہ وہ بھی لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنے؛ پس اللہ نے طواف کے سات چکر واجب کیے، ہر ہزار سال کے بدلے ایک چکر۔" [8]۔
جہاں تک آپ کے سوال کے دوسرے حصے کا تعلق ہے، روایات کے مطابق، اولیائے الٰہی خود ان اعمال کے بنانے والے نہیں تھے، بلکہ اللہ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے انہیں مناسک کی انجام دہی کا طریقہ سکھایا، اور بے شک کچھ اعمال جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ نے انجام دیے، وہ دوسری امتوں کے لیے ایک علامتی سنت کے طور پر باقی رہے۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو، اس وقت جب اسماعیل بھی ان کے ساتھ تھے، حکم دیا کہ وہ حج کریں اور حرم (مکہ) میں سکونت اختیار کریں۔ وہ دونوں ایک سرخ اونٹنی پر حج کے لیے روانہ ہوئے، اور ان کے ساتھ جبرئیل کے سوا کوئی نہ تھا[9]۔
جب وہ حرم میں پہنچے تو جبرئیل نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا: اتر جائیے اور حرم میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیجیے۔ چنانچہ وہ سواری سے اترے اور غسل کیا۔
پھر جبرئیل نے انہیں احرام کی تیاری کا طریقہ دکھایا اور ان کو وہ چار تلبیے سکھائے جو اللہ کے رسول کہا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ دونوں کو صفا کے دروازے تک لے گیا۔ وہ اونٹ سے اترے، اور جبرئیل ان دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر کعبہ کی طرف متوجہ ہوا اور تکبیر کہی، تو انہوں نے بھی تکبیر کہی۔ اس نے اللہ کی حمد کی، تو انہوں نے بھی حمد کی۔ اس نے پروردگار کی مجد و ثنا بیان کی، تو انہوں نے بھی اسی کی پیروی کی۔
ان اعمال کے بعد وہ انہیں حجرِ اسود کے پاس لے آیا۔ پھر جبرئیل نے اپنا ہاتھ اس پر پھیرا اور انہیں بھی ایسا کرنے کا حکم دیا۔ پھر ان کے ساتھ سات چکر طواف کیا اور مقامِ ابراہیم کے پاس آیا، پھر جبرئیل نے دو رکعت نماز پڑھی اور انہوں نے بھی پڑھی۔ اس کے بعد اس نے انہیں اعمالِ حج اور ہر اس چیز کی تعلیم دی جو انہیں انجام دینی تھی...”
اسی طرح امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
“جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل کو، جو اس وقت دودھ پیتا بچہ تھا، مکہ میں چھوڑا، تو وہ پیاسا تھا۔ صفا اور مروہ کے درمیان ایک درخت تھا۔ اسماعیل کی والدہ اپنے گھر سے نکلیں، یہاں تک کہ کوہِ صفا تک پہنچیں، وہاں کسی کو نہ پایا، تو کہا: کیا اس وادی میں کوئی ہے؟
کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر وہ وہاں سے مروہ کی طرف گئیں، وہاں بھی کسی کو نہ دیکھا، دوبارہ کہا: کیا یہاں کوئی ہے؟ کوئی جواب نہ آیا۔ پھر وہ صفا کی طرف واپس آئیں اور وہی بات دہرائی، مگر جواب نہ ملا۔ پھر مروہ گئیں، اور یہ عمل سات بار دہرایا۔ پس اللہ نے اسے سنت قرار دیا کہ حاجی صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا سات مرتبہ جائیں۔
جبرئیل ہاجرہ کے پاس نازل ہوئے اور ان سے پوچھا: تم کون ہو؟
انہوں نے کہا: میں ابراہیم کے بیٹے کی ماں ہوں۔
جبرئیل نے کہا: ابراہیم تمہیں کس کے سپرد کرکے گئے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا: یہی جملہ میں نے جب ابراہیم جانے لگے تو ان سے کہا تھا، اور انہوں نے جواب میں فرمایا تھا: میں تمہیں خدائے تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔
جبرئیل نے کہا: انہوں نے تمہیں اس ذات کے سپرد کیا ہے جو سب کے لیے کافی ہے۔”
امام صادق علیہ السلام نے مزید فرمایا:
“قافلے پانی نہ ہونے کی وجہ سے مکہ کے راستے سے ہٹ جاتے تھے۔ اس لیے حضرت ابراہیم کے بیٹے نے شدتِ پیاس سے اپنے پاؤں زمین پر رگڑے، تو زمین سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔ جب ماں مروہ سے اس کی طرف آئی اور جوش مارتا ہوا چشمہ دیکھا، تو اس نے چشمے کے گرد مٹی ڈال دی تاکہ پانی بہہ نہ نکلے؛ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو یقیناً چشمہ جاری ہو جاتا۔
وہ پانی اس مٹی کے تودے میں ایک حوض کی صورت اختیار کر گیا، اور پرندے اس کے گرد جمع ہونے لگے۔ یمن کی طرف سے آنے والا ایک قافلہ جب پرندوں کو اس جگہ جمع ہوتے دیکھتا تو کہتا: یہ پرندے یہاں پانی کے بغیر جمع نہیں ہوئے ہوں گے۔ چنانچہ وہ وہاں پہنچے، پانی دیکھا، اس سے پیا اور وہیں اپنا کھانا بھی کھایا...”[10]۔ شیعہ فقہ میں طواف کی اقسام اور اہلِ سنت کے نظریات کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:
شیعہ فقہ میں طواف کی اقسام
طوافِ تحیت:
اسے طوافِ ورود بھی کہا جاتا ہے۔ جب انسان مکہ میں داخل ہو تو مستحب ہے کہ خانہ کعبہ کے طواف کی طرف جلدی کرے اور اس مقدس گھر کے گرد چکر لگائے۔ شیعہ فقہ [11]۔ اور نیز حنفی، شافعی اور حنبلی مذاہب میں یہ طواف مستحب ہے [12]۔
طوافِ زیارت یا طوافِ حج:
شیعہ فقہ میں یہ عمل واجب ہے، بلکہ حج کے ارکان میں سے شمار ہوتا ہے [13]۔
طوافِ نساء:
شیعہ فقہ میں یہ طواف واجب ہے لیکن حج کے ارکان میں شامل نہیں ہے۔ یہ حج تمتع، حجِ قران، حجِ افراد اور عمرہ مفرودہ (سوائے عمرہ تمتع کے) میں واجب ہے۔ اس کا حکم مرد اور عورت دونوں پر یکساں ہے۔
اگر کوئی اس عمل کو ترک کر دے تو اگر وہ عورت ہو تو جب تک اگلے سال طوافِ نساء نہ کر لے، اس کا شوہر اس پر حرام رہتا ہے۔ اگر مرد ہو تو اسی طرح اس پر عورت حرام رہتی ہے، اور اگر کسی نے شادی نہیں کی تو اسے دوبارہ یہ طواف کرنے تک شادی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
طوافِ نساء کا وقت:
حلق (سر منڈوانے) یا تقصیر کے بعد مکہ واپس آ کر طوافِ زیارت اور اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جاتی ہے۔ سعی کے بعد طوافِ نساء کیا جاتا ہے (جس کے بعد طوافِ زیارت کی طرح دو رکعت نماز بھی پڑھی جاتی ہے)۔ طوافِ نساء، صفا و مروہ کے درمیان سعی سے پہلے اور طوافِ زیارت سے پہلے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا صحیح وقت سعی کے بعد ہے[14]۔
طوافِ وداع:
یہ وہ طواف ہے جو انسان مکہ سے نکلتے وقت کرتا ہے اور یہ مکہ میں انجام دیا جانے والا آخری عمل ہوتا ہے۔ اسے طوافِ وداع اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ گویا حاجی اس طواف کے ذریعے مکہ اور مسجد الحرام سے خدا حافظی کر رہا ہوتا ہے۔ شیعہ فقہ کی نظر میں یہ طواف مستحب ہے [15]۔
تاہم اہل سنت میں اس پر تین آراء موجود ہیں: حنفی اور حنبلی حضرات اسے واجب مانتے ہیں، مالکی اسے مستحب سمجھتے ہیں، جبکہ شافعیوں کے ہاں دو آراء ہیں (بعض واجب اور بعض مستحب کہتے ہیں) [16]۔
اہلِ سنت فقہ میں طواف کی اقسام
طوافِ قدوم:
یہ وہ طواف ہے جو مکہ میں پہلی بار داخل ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک یہ واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے [17]۔
طوافِ رکن:
طوافِ رکن یا طوافِ زیارت، جسے حج کا دوسرا رکن مانا جاتا ہے۔ اس کا وقت ۱۰ ذوالحجہ ہے۔ حنفی مسلک کے مطابق اس کا وقت عمر بھر ہے (یعنی اگر دسویں تاریخ کو نہ ہو سکے تو زندگی میں کبھی بھی ادا کیا جا سکتا ہے)۔
مالکی حضرات کا ماننا ہے کہ اس کا وقت ۱۰ ذوالحجہ سے لے کر آخرِ ذوالحجہ تک ہے۔ شافعی اور حنبلی حضرات کے مطابق اس کا ابتدائی وقت ۱۰ ذوالحجہ کی نصف شب ہے اور اس کی کوئی آخری حد نہیں (یعنی اسے مؤخر بھی کیا جا سکتا ہے) [18]۔
طوافِ الوداع:
یہ وہ طواف ہے جو حجاج مکہ سے روانگی سے قبل آخری بار کرتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، اسے اس لیے طوافِ وداع کہا جاتا ہے کیونکہ حاجی اس کے ذریعے مکہ اور کعبہ سے رخصت ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اہل سنت، "طوافِ نساء" نامی کسی طواف کو تسلیم نہیں کرتے [19]۔
حوالہ جات
- ↑ افراهیدی، خلیل بن احمد؛ کتاب العین، تحقیق مهدی مخزمی، ایران، دارالهجرة، ۱۴۰۹ق، ج۷، ص.۴۵۸
- ↑ جوهری، اسماعیل؛ الصحاح، تحقیق احمد عبدالغفور، بیروت، دارالعلم للملایین، ۱۴۰۷ق، چاپ چهارم، ج۴، ص۱۳۹۶ و ابن منظور، محمد بن مکرم؛ لسان العرب، قم، ادب، ۱۴۰۵ق، چاپ اول، ج۹، ص۲۲۵
- ↑ راغب اصفهانی، حسین بن محمد؛ مفردات الفاظ القرآن، تحقیق صفوان عدنان، قم، طلیعه نور، ۱۴۲۶ق، چاپ اول، ص۵۳۱
- ↑ سورۂ حج، آیۂ۲۹
- ↑ قمی، علی بن ابراهیم؛ تفسیر قمی، تحقیق طیب موسوی، قم، دارالکتاب، ۱۴۰۴ق، چاپ سوم، ج۲، ص۸۴ و طوسی، محمد بن حسن؛ التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد حبیب قصیر، نجف اشرف، امین، بی تا، ج۷، ص۳۱۱
- ↑ «وَ طُفْ بِقَلْبِکَ مَعَ الْمَلَائِکَةِ حَوْلَ الْعَرْشِ کَطَوَافِکَ مَعَ الْمُسْلِمِینَ بِنَفْسِکَ حَوْلَ الْبَیْتِ»؛ منسوب به امام جعفر صادق(علیهالسّلام)، مصباح الشریعة، ص 50، اعلمی، بیروت، چاپ اول، 1400ق
- ↑ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، ج 4، ص 188، دار الکتب الإسلامیة، تهران، چاپ چهارم، 1407ق.
- ↑ شیخ صدوق، علل الشرائع، ج 2، ص 406، کتاب فروشی داوری، قم، چاپ اول، 1385ش
- ↑ شیخ صدوق، علل الشرائع، ج 2، ص 586، کتاب فروشی داوری، قم، چاپ اول، 1385ش
- ↑ شیخ صدوق، علل الشرائع، ج 2، ص 432، کتاب فروشی داوری، قم، چاپ اول، 1385ش
- ↑ عبدالله بن تاج الشریعه، ص 319
- ↑ الجزیری، عبدالرحمن، ج 1، ص 663
- ↑ محمد جواد مغنیه، ج 1، ص 188، 1420 ق
- ↑ الفاضل اللنکرانی، ج 5، ص 383، 1418
- ↑ عبدالله بن تاج الشریعه، ص 319
- ↑ عبدالرحمن الجزیری، ج 1، ص 663
- ↑ عبدالرحمن الجزیری، ج 1، ص 663
- ↑ عبدالرحمن الجزیری، ج 1، ص 664
- ↑ المغنیه، محمد جواد، الفقه علی مذاهب الخمسه، دار الجود، بیروت، 1404ق