مندرجات کا رخ کریں

"احمد حسن البکر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
{{جعبہ معلومات شخصیت
 
| عنوان = احمد حسن البکر
{{Infobox person
| تصویر = احمد حسن البکر.jpg
| title = احمد حسن البکر
| نام = احمد حسن البکر
| image = احمد حسن البکر.jpg
| نام‌های دیگر = حسن البکر
| name = احمد حسن البکر  
| سال تولد = ۱۹۱۴ م
| other names =   حسن البکر
| تاریخ تولد =
| brith year =1913 م
| محل تولد = تکریت، [[عراق]]
| brith date =  
| سال درگذشت = ۱۹۸۲ م
| birth place = تکریت، [[عراق]]
| تاریخ درگذشت = ۴ اکتبر
| death year = 1982 م
| محل درگذشت = [[بغداد]]، عراق
| death date =03 اكتبر
| دین = [[اسلام]]
| death place = [[بغداد]]، عراق
| مذهب = سنی
| teachers =
| فعالیت‌ها = {{فهرست جعبه افقی |رئیس‌جمهور عراق |نخست‌وزیر عراق |نظامی | }}
| religion = [[اسلام]]  
| وبگاه =
| faith = [[سنی]]
}}
| works =  
| known for = عراقی  حزب بعث پارٹی کے سینئر رہنما جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔


'''احمد حسن البکر،''' عراقی سیاست دان اور فوجی افسر تھے جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔ وہ [[حزب بعث عراق |عراقی بعث پارٹی]] کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ۱۹۶۸ عیسوی کا وہ بغاوت جسے بعث پارٹی کی حمایت حاصل تھی، انہیں اقتدار تک لے گیا۔ ان کی حکمرانی کا دور عراق میں بعث پارٹی کی آمرانہ حکومت کا آغاز تھا جو ۲۰۰۳ عیسوی تک جاری رہی۔
'''احمد حسن البکر،''' عراقی سیاست دان اور فوجی افسر تھے جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔ وہ [[حزب بعث عراق |عراقی بعث پارٹی]] کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ۱۹۶۸ عیسوی کا وہ بغاوت جسے بعث پارٹی کی حمایت حاصل تھی، انہیں اقتدار تک لے گیا۔ ان کی حکمرانی کا دور عراق میں بعث پارٹی کی آمرانہ حکومت کا آغاز تھا جو ۲۰۰۳ عیسوی تک جاری رہی۔


== سوانح حیات ==
== سوانح حیات ==
احمد حسن البکر ۱۹۱۴ عیسوی میں شہر تکریت، [[عراق]] میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، ۱۹۳۶ عیسوی میں وہ عراقی فوج میں شامل ہوئے اور بتدریج فوجی عہدوں پر ترقی پاتے رہے۔ ۱۹۵۳ عیسوی سے انہوں نے فوجی خدمات کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی قدم رکھا۔
احمد حسن البکر ۱۹۱۴ عیسوی میں شہر تکریت، [[عراق]] میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، ۱۹۳۶ عیسوی میں وہ عراقی فوج میں شامل ہوئے اور بتدریج فوجی عہدوں پر ترقی پاتے رہے۔ ۱۹۵۳ عیسوی سے انہوں نے فوجی خدمات کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی قدم رکھا۔


== سیاسی اور فوجی سرگرمیاں ==
== سیاسی اور فوجی سرگرمیاں ==
احمد حسن البکر ان سینئر عراقی فوجی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے ۱۹۵۸ عیسوی کی بغاوت میں عراقی ایئر بیسز پر قبضہ کر کے بادشاہ فیصل کی بادشاہت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس بغاوت نے عراق میں بادشاہت کے نظام کا خاتمہ کر دیا۔ ۱۹۶۳ عیسوی میں انہوں نے عبدالکریم قاسم کے خلاف بغاوت میں بھی حصہ لیا۔ عبدالسلام عارف کی حکومت کے دوران وہ کچھ عرصے تک عراق کے وزیر اعظم رہے اور عبدالرحمن عارف کی صدارت کے دوران وہ نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ۱۹۶۸ عیسوی میں، احمد حسن البکر نے عراقی بعث پارٹی کی حمایت سے دوبارہ بغاوت کی اور اس بار خود اقتدار سنبھال لیا۔ یہ بغاوت ایک آمرانہ اور خونریز حکومت کا آغاز تھا جس نے تقریباً ۳۵ سال تک عراق کو داخلی جبر، علاقائی جنگوں اور وسیع انسانی بحرانوں میں الجھاے رکھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد، البکر نے عراق میں شدید دہشت کا ماحول پیدا کیا اور ہر قسم کی سیاسی مخالفت کو سختی سے کچل دیا۔ ۱۹۷۱ میں عراق اور [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکہ]] کے تعلقات خراب ہونے لگے اور ۱۹۷۲ عیسوی میں عراق اور سابق سوویت یونین کے درمیان ۱۵ سالہ دوستی کے معاہدے پر دستخط نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے پہلے نصف میں، عراقی کرد جو البکر کی حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے، [[رژیم پهلوی|شاہی]] [[ایران]] کی طرف سے ہتھیاروں سے لیس کیے جا رہے تھے۔ اس مسئلے نے ایران اور عراق کے تعلقات کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا۔ آخرکار ۱۹۷۵ عیسوی کے [[الجزائر]] معاہدے پر دستخط سے ان کشیدگیوں میں کافی کمی آئی۔
احمد حسن البکر ان سینئر عراقی فوجی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے ۱۹۵۸ عیسوی کی بغاوت میں عراقی ایئر بیسز پر قبضہ کر کے بادشاہ فیصل کی بادشاہت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس بغاوت نے عراق میں بادشاہت کے نظام کا خاتمہ کر دیا۔ ۱۹۶۳ عیسوی میں انہوں نے [[عبد الکریم قاسم]] کے خلاف بغاوت میں بھی حصہ لیا۔ عبدالسلام عارف کی حکومت کے دوران وہ کچھ عرصے تک عراق کے وزیر اعظم رہے اور عبدالرحمن عارف کی صدارت کے دوران وہ نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ۱۹۶۸ عیسوی میں، احمد حسن البکر نے عراقی بعث پارٹی کی حمایت سے دوبارہ بغاوت کی اور اس بار خود اقتدار سنبھال لیا۔ یہ بغاوت ایک آمرانہ اور خونریز حکومت کا آغاز تھا جس نے تقریباً ۳۵ سال تک عراق کو داخلی جبر، علاقائی جنگوں اور وسیع انسانی بحرانوں میں الجھاے رکھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد، البکر نے عراق میں شدید دہشت کا ماحول پیدا کیا اور ہر قسم کی سیاسی مخالفت کو سختی سے کچل دیا۔ ۱۹۷۱ میں عراق اور [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکہ]] کے تعلقات خراب ہونے لگے اور ۱۹۷۲ عیسوی میں عراق اور سابق سوویت یونین کے درمیان ۱۵ سالہ دوستی کے معاہدے پر دستخط نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے پہلے نصف میں، عراقی کرد جو البکر کی حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے، بادشاہی [[ایران]] کی طرف سے ہتھیاروں سے لیس کیے جا رہے تھے۔ اس مسئلے نے ایران اور عراق کے تعلقات کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا۔ آخرکار ۱۹۷۵ عیسوی کے الجزائر معاہدے پر دستخط سے ان کشیدگیوں میں کافی کمی آئی۔
 
 


== اقتدار سے دستبرداری اور صدام حسین کا کردار ==
== اقتدار سے دستبرداری اور صدام حسین کا کردار ==
احمد حسن البکر کی حکمرانی کے آغاز سے ہی، ان کے نائب [[صدام حسین]] نے عملی طور پر اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی تھی اور بتدریج مطلق اقتدار حاصل کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ ۱۹۷۹ عیسوی میں، ۱۹۵۸ کی بغاوت کی سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر، صدام حسین نے ایک منظم سازش کے ذریعے احمد حسن البکر کو اقتدار سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس سازش کے تحت، صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان التکریتی نے احمد حسن البکر کے بیٹے ہیثم کو یرغمال بنا کر اس وقت کے عراقی صدر پر دباؤ ڈالا۔ البکر مجبور ہو گئے کہ ایک ٹیلی ویژن تقریر میں، طے شدہ متن کے مطابق، صدام حسین کو نئے صدر کے طور پر متعارف کرائیں اور اقتدار سے الگ ہو جائیں۔
احمد حسن البکر کی حکمرانی کے آغاز سے ہی، ان کے نائب [[صدام حسین]] نے عملی طور پر اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی تھی اور بتدریج مطلق اقتدار حاصل کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ ۱۹۷۹ عیسوی میں، ۱۹۵۸ کی بغاوت کی سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر، صدام حسین نے ایک منظم سازش کے ذریعے احمد حسن البکر کو اقتدار سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس سازش کے تحت، صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان التکریتی نے احمد حسن البکر کے بیٹے ہیثم کو یرغمال بنا کر اس وقت کے عراقی صدر پر دباؤ ڈالا۔ البکر مجبور ہو گئے کہ ایک ٹیلی ویژن تقریر میں، طے شدہ متن کے مطابق، صدام حسین کو نئے صدر کے طور پر متعارف کرائیں اور اقتدار سے الگ ہو جائیں۔


== وفات ==
== وفات ==
اقتدار سے دستبرداری کے بعد، احمد حسن البکر کو مکمل طور پر عراقی سیاست سے خارج کر دیا گیا اور اپنی زندگی کے آخری مہینے وہ مکمل تنہائی میں گزارے۔ ان کا عراق سے باہر کا ہر رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ اس دوران، انہوں نے [[اسلامی انقلاب ایران]] کو تسلیم کرنے اور ایران کے نئے رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی کا مطالبہ کیا، لیکن بعث پارٹی کی قیادت میں صدام کے دھڑے نے اس موقف کی مخالفت کی۔ احمد حسن البکر آخر کار ۴ اکتبر ۱۹۸۲ عیسوی کو، ۶۸ سال کی عمر میں، تنہائی میں انتقال کر گئے۔
اقتدار سے دستبرداری کے بعد، احمد حسن البکر کو مکمل طور پر عراقی سیاست سے خارج کر دیا گیا اور اپنی زندگی کے آخری مہینے وہ مکمل تنہائی میں گزارے۔ ان کا عراق سے باہر کا ہر رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ اس دوران، انہوں نے [[اسلامی انقلاب ایران]] کو تسلیم کرنے اور ایران کے نئے رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی کا مطالبہ کیا، لیکن بعث پارٹی کی قیادت میں صدام کے دھڑے نے اس موقف کی مخالفت کی۔ احمد حسن البکر آخر کار ۴ اکتبر ۱۹۸۲ عیسوی کو، ۶۸ سال کی عمر میں، تنہائی میں انتقال کر گئے۔




== مزید دیکھیں ==
== مزید دیکھیں ==
*[[اسلامی انقلاب ایران]]
*[[اسلامی انقلاب ایران]]
*[[صدام حسین]]
*[[سید محمد باقر صدر]]
*[[بعث پارٹی]]
*[[بعث پارٹی]]
*[[بعثی رژیم]]
*[[عراق]]
*[[عراق]]


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
* [https://defapress.ir/fa/news/1228/%D8%B3%D8%B1%D9%86%D9%88%D8%B4%D8%AA-%DB%8C%DA%A9-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D9%88%D8%AF%D8%AA%D8%A7%DB%8C-%D8%A8%D9%87-%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA-%D8%B1%D8%B3%DB%8C%D8%AF%D9%86-%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86 ایک آمر کا انجام/ صدام حسین کے اقتدار میں آنے کی بغاوت، دفاع مقدس نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ]، اشاعت کی تاریخ: ۲۶ تیر ۱۳۹۲ شمسی، مشاہدے کی تاریخ: ۳ اسفند ۱۴۰۴ شمسی۔
* [https://defapress.ir/fa/news/1228/%D8%B3%D8%B1%D9%86%D9%88%D8%B4%D8%AA-%DB%8C%DA%A9-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%AA%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D9%88%D8%AF%D8%AA%D8%A7%DB%8C-%D8%A8%D9%87-%D9%82%D8%AF%D8%B1%D8%AA-%D8%B1%D8%B3%DB%8C%D8%AF%D9%86-%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86 ایک آمر کا انجام/ صدام حسین کے اقتدار میں آنے کی بغاوت، دفاع مقدس نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ]، اشاعت کی تاریخ: ۲۶ تیر ۱۳۹۲ شمسی، مشاہدے کی تاریخ: ۳ اسفند ۱۴۰۴ شمسی۔


[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:سیاسی شخصیات]]
[[زمرہ:سیاسی شخصیات]]

نسخہ بمطابق 14:43، 19 مئی 2026ء

{{Infobox person | title = احمد حسن البکر | image = احمد حسن البکر.jpg | name = احمد حسن البکر | other names = حسن البکر | brith year =1913 م | brith date = | birth place = تکریت، عراق | death year = 1982 م | death date =03 اكتبر | death place = بغداد، عراق | teachers = | religion = اسلام | faith = سنی | works = | known for = عراقی حزب بعث پارٹی کے سینئر رہنما جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔

احمد حسن البکر، عراقی سیاست دان اور فوجی افسر تھے جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔ وہ عراقی بعث پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ۱۹۶۸ عیسوی کا وہ بغاوت جسے بعث پارٹی کی حمایت حاصل تھی، انہیں اقتدار تک لے گیا۔ ان کی حکمرانی کا دور عراق میں بعث پارٹی کی آمرانہ حکومت کا آغاز تھا جو ۲۰۰۳ عیسوی تک جاری رہی۔

سوانح حیات

احمد حسن البکر ۱۹۱۴ عیسوی میں شہر تکریت، عراق میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، ۱۹۳۶ عیسوی میں وہ عراقی فوج میں شامل ہوئے اور بتدریج فوجی عہدوں پر ترقی پاتے رہے۔ ۱۹۵۳ عیسوی سے انہوں نے فوجی خدمات کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی قدم رکھا۔

سیاسی اور فوجی سرگرمیاں

احمد حسن البکر ان سینئر عراقی فوجی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے ۱۹۵۸ عیسوی کی بغاوت میں عراقی ایئر بیسز پر قبضہ کر کے بادشاہ فیصل کی بادشاہت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس بغاوت نے عراق میں بادشاہت کے نظام کا خاتمہ کر دیا۔ ۱۹۶۳ عیسوی میں انہوں نے عبد الکریم قاسم کے خلاف بغاوت میں بھی حصہ لیا۔ عبدالسلام عارف کی حکومت کے دوران وہ کچھ عرصے تک عراق کے وزیر اعظم رہے اور عبدالرحمن عارف کی صدارت کے دوران وہ نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ۱۹۶۸ عیسوی میں، احمد حسن البکر نے عراقی بعث پارٹی کی حمایت سے دوبارہ بغاوت کی اور اس بار خود اقتدار سنبھال لیا۔ یہ بغاوت ایک آمرانہ اور خونریز حکومت کا آغاز تھا جس نے تقریباً ۳۵ سال تک عراق کو داخلی جبر، علاقائی جنگوں اور وسیع انسانی بحرانوں میں الجھاے رکھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد، البکر نے عراق میں شدید دہشت کا ماحول پیدا کیا اور ہر قسم کی سیاسی مخالفت کو سختی سے کچل دیا۔ ۱۹۷۱ میں عراق اور امریکہ کے تعلقات خراب ہونے لگے اور ۱۹۷۲ عیسوی میں عراق اور سابق سوویت یونین کے درمیان ۱۵ سالہ دوستی کے معاہدے پر دستخط نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے پہلے نصف میں، عراقی کرد جو البکر کی حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے، بادشاہی ایران کی طرف سے ہتھیاروں سے لیس کیے جا رہے تھے۔ اس مسئلے نے ایران اور عراق کے تعلقات کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا۔ آخرکار ۱۹۷۵ عیسوی کے الجزائر معاہدے پر دستخط سے ان کشیدگیوں میں کافی کمی آئی۔

اقتدار سے دستبرداری اور صدام حسین کا کردار

احمد حسن البکر کی حکمرانی کے آغاز سے ہی، ان کے نائب صدام حسین نے عملی طور پر اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی تھی اور بتدریج مطلق اقتدار حاصل کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ ۱۹۷۹ عیسوی میں، ۱۹۵۸ کی بغاوت کی سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر، صدام حسین نے ایک منظم سازش کے ذریعے احمد حسن البکر کو اقتدار سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس سازش کے تحت، صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان التکریتی نے احمد حسن البکر کے بیٹے ہیثم کو یرغمال بنا کر اس وقت کے عراقی صدر پر دباؤ ڈالا۔ البکر مجبور ہو گئے کہ ایک ٹیلی ویژن تقریر میں، طے شدہ متن کے مطابق، صدام حسین کو نئے صدر کے طور پر متعارف کرائیں اور اقتدار سے الگ ہو جائیں۔

وفات

اقتدار سے دستبرداری کے بعد، احمد حسن البکر کو مکمل طور پر عراقی سیاست سے خارج کر دیا گیا اور اپنی زندگی کے آخری مہینے وہ مکمل تنہائی میں گزارے۔ ان کا عراق سے باہر کا ہر رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ اس دوران، انہوں نے اسلامی انقلاب ایران کو تسلیم کرنے اور ایران کے نئے رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی کا مطالبہ کیا، لیکن بعث پارٹی کی قیادت میں صدام کے دھڑے نے اس موقف کی مخالفت کی۔ احمد حسن البکر آخر کار ۴ اکتبر ۱۹۸۲ عیسوی کو، ۶۸ سال کی عمر میں، تنہائی میں انتقال کر گئے۔


مزید دیکھیں

حوالہ جات