"ابوموسیٰ اشعری" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{ | |||
| | {{خانہ معلومات شخصیت | ||
| | | title = ابوموسیٰ اشعری | ||
| | | image = ابوموسی اشعری-1.jpg | ||
| | | name = عبدالله بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب | ||
| | | other names = ابن قیس | ||
| | | brith year = | ||
| | | brith date = | ||
| | | birth place = یمن | ||
| | | death year = ۴۲ ق | ||
| | | death date = | ||
| | | death place = کوفه یا مکه | ||
| | | teachers = | ||
| | | students = | ||
| | | religion = [[اسلام]] | ||
| faith = | |||
| | | works = | ||
| | | known for = حکم صفین اور قاضی | ||
}} | }} | ||
'''ابوموسیٰ اشعری''' [[محمد | '''ابوموسیٰ اشعری''' [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)]] کے اصحاب میں سے تھے جو جنگ صفین کے بعد امرِ حکمیت میں اپنے اثر و رسوخ اور خلافت کی بنی امیہ کو منتقلی کی وجہ سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ وہ علمِ قضا میں ماہر تھے۔ | ||
وہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)]] کے دور کے فقہا اور [[عمر بن خطاب|عمر]] و [[عثمان بن عفان|عثمان]] کے عہد میں فتویٰ دینے والے صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ ابوموسیٰ جو ایک سادہ لوح انسان تھے، جنگِ صفین میں حکم کے طور پر منتخب کیے گئے اور عمرو بن عاص کی چالاکی سے [[علی ابن ابی طالب|امام علی (علیہ السلام)]] کو خلافت سے معزول کروا دیا۔ وہ [[جمہوری اسلامی ایران|ایران]] اور [[شام]] کی فتح میں [[عمر بن خطاب|عمر]] کی فوج کے کمانڈروں میں شامل تھے۔ | |||
== نسب ابوموسیٰ اشعری == | == نسب ابوموسیٰ اشعری == | ||
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن عتر بن بکر بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن حماہر بن اشعر اشعری، مشہور بہ عبداللہ بن قیس اشعری، وہ | ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن عتر بن بکر بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن حماہر بن اشعر اشعری، مشہور بہ عبداللہ بن قیس اشعری، وہ حدیث کے راویوں میں سے ہیں۔ ان کا نام [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ]] کے صحابہ کی فہرست میں لایا جاتا ہے۔ وہ دمشق، بصرہ، عدن اور کوفہ میں رہتے تھے<ref>موسوعة الحدیث۔</ref>۔ | ||
== ابوموسیٰ اشعری کا تعارف == | == ابوموسیٰ اشعری کا تعارف == | ||
ابوموسیٰ کا نام عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار تھا، وہ یمن کے گاؤں رمع کے باشندے تھے اور وہاں کے [[اشاعره|اشعریوں]] میں سے تھے<ref>الحموی، شہاب الدین ابوعبداللہ یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، ط الثانیة، ۱۹۹۵ء، ج۳، ص۶۸۔</ref>۔ | ابوموسیٰ کا نام عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار تھا، وہ [[یمن]] کے گاؤں رمع کے باشندے تھے اور وہاں کے [[اشاعره|اشعریوں]] میں سے تھے<ref>الحموی، شہاب الدین ابوعبداللہ یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، ط الثانیة، ۱۹۹۵ء، ج۳، ص۶۸۔</ref>۔ | ||
وہ | وہ هجرت سے اکیس سال قبل [[یمن]] میں پیدا ہوئے<ref>ابن سعد کاتب واقدی، محمد، طبقات، ترجمہ محمود مہدوی دامغانی، تہران، انتشارات فرهنگ و اندیشہ، ۱۳۷۴ش، پاورقی، ج۲، ص۳۳۰۔</ref>۔ | ||
ان کی والدہ کا نام ظبیہ بنت وہب تھا جو قبیلہ بنی عک سے تھیں؛ انہوں نے [[اسلام]] قبول کیا اور [[مدینہ]] میں وفات پائی<ref> ابن الاثیر الجزری، عزالدین ابوالحسن علی بن محمد، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۹/۱۹۸۹، ج۳، ص۲۶۳۔</ref>۔ | ان کی والدہ کا نام ظبیہ بنت وہب تھا جو قبیلہ بنی عک سے تھیں؛ انہوں نے [[اسلام]] قبول کیا اور [[مدینہ]] میں وفات پائی<ref> ابن الاثیر الجزری، عزالدین ابوالحسن علی بن محمد، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۹/۱۹۸۹، ج۳، ص۲۶۳۔</ref>۔ | ||
ابوموسیٰ قد میں چھوٹے، پتلے جسم والے اور گنجے تھے۔ ان کے نکاح میں چار | ابوموسیٰ قد میں چھوٹے، پتلے جسم والے اور گنجے تھے۔ ان کے نکاح میں چار قریشی خواتین تھیں، جن میں ام کلثوم بنت ابی الفضل بن عباس بن عبدالمطلب بھی شامل تھیں<ref> البلاذری، احمد بن یحییٰ بن جابر، انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دار الفکر، ط الاولی، ۱۴۱۷/۱۹۹۶، ج۴، ص۲۶۔</ref>۔ | ||
ابوموسیٰ کی پہلی اولاد مدینہ میں پیدا ہوئی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان کا نام ابراہیم رکھا اور ان کے منہ میں کھجور رکھی<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیة، ط الاولی، ۱۴۱۰/۱۹۹۰، ج۴، ص۸۰۔</ref>۔ | ابوموسیٰ کی پہلی اولاد مدینہ میں پیدا ہوئی۔ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|نبی کریم]] (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان کا نام ابراہیم رکھا اور ان کے منہ میں کھجور رکھی<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیة، ط الاولی، ۱۴۱۰/۱۹۹۰، ج۴، ص۸۰۔</ref>۔ | ||
== ابوموسیٰ اشعری کا خاندان == | == ابوموسیٰ اشعری کا خاندان == | ||
ان کے بیٹے ابوبردہ | ان کے بیٹے ابوبردہ حجاج بن یوسف کے دور میں کوفہ کے قاضی تھے، اور ابوبردہ کے بیٹے بلال نے بھی بصرہ میں منصبِ قضا سنبھالا<ref>ابن حبیب، ص۳۷۸؛ ابن قتیبہ، المعارف، ص۵۸۹۔</ref>۔ ان کے خاندان کی سب سے اہم شخصیت مشہور متکلم ابوالحسن اشعری ہیں، جن کا نسب ظاہراً آٹھ واسطوں سے ابوموسیٰ تک پہنچتا ہے<ref>سمعانی، ج۱، ص۲۶۷ـ۲۶۶۔</ref>۔ | ||
== جنگِ صفین اور ابو موسیٰ اشعری == | == جنگِ صفین اور ابو موسیٰ اشعری == | ||
=== حضرت علیؑ کے نمائندے کے طور پر ابو موسیٰ اشعری کے انتخاب کی وجہ === | === حضرت علیؑ کے نمائندے کے طور پر ابو موسیٰ اشعری کے انتخاب کی وجہ === | ||
مستند تاریخی دستاویزات کے مطابق [[علی | مستند تاریخی دستاویزات کے مطابق [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی]] علیه السلام نے اپنی مرضی سے تحکیم (فیصلہ سازی) کو قبول نہیں کیا، بلکہ ان پر یہ امر تھوپا گیا۔ جب معاویہ کو یہ احساس ہوا کہ وہ امام (علیہ السلام) کی فوج کے مقابلے میں مزاحمت کی تاب نہیں رکھتا اور اگر جنگ جاری رہی تو امام کی فتح یقینی ہے، تو اس نے عمرو بن عاص کے مشورے سے دو خطرناک شیطانی چالیں چلیں: | ||
* جنگ کو روکنے اور عارضی جنگ بندی کے لیے؛ | * جنگ کو روکنے اور عارضی جنگ بندی کے لیے؛ | ||
* علی (علیہ السلام) کی افواج کو منتشر یا کمزور کرنے کے لیے۔ | * [[علی ابن ابی طالب|علی (علیہ السلام)]] کی افواج کو منتشر یا کمزور کرنے کے لیے۔ | ||
ان دونوں فریبوں نے امام کی فوج میں موجود مخبروں کی مدد سے کامیابی حاصل کی۔ | ان دونوں فریبوں نے امام کی فوج میں موجود مخبروں کی مدد سے کامیابی حاصل کی۔ | ||
# پہلا فریب نیزوں پر قرآن اٹھا کر امام (علیہ السلام) کو [[قرآن]] کی حکمیت کی دعوت دینا تھا، جس نے جنگ کو روک دیا۔ | # پہلا فریب نیزوں پر [[قرآن]] اٹھا کر امام (علیہ السلام) کو [[قرآن]] کی حکمیت کی دعوت دینا تھا، جس نے جنگ کو روک دیا۔ | ||
# دوسرا فریب تحکیم (فیصلہ سازی) کا تھا جو انتہائی پیچیدہ طریقے سے عمل میں لایا گیا، یہاں تک کہ آخر کار امام کی سب سے مؤثر قوتوں کا ایک حصہ ان کے سامنے کھڑا ہو گیا، اسی وجہ سے امام کو بعد میں | # دوسرا فریب تحکیم (فیصلہ سازی) کا تھا جو انتہائی پیچیدہ طریقے سے عمل میں لایا گیا، یہاں تک کہ آخر کار امام کی سب سے مؤثر قوتوں کا ایک حصہ ان کے سامنے کھڑا ہو گیا، اسی وجہ سے امام کو بعد میں جنگ نہروان میں اپنے ہی ساتھیوں سے لڑنا پڑا۔ جنگ صفین میں بھی ان کے دباؤ کو قبول کرنے اور تحکیم پر راضی ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ تحکیم کو قبول کرتے وقت امام کا مشہور جملہ: '''کل تک میں حکم دینے والا تھا اور آج حکم ماننے والا بن گیا ہوں، کل تک میں منع کرنے والا تھا اور آج مجھے منع کیا جا رہا ہے'''<ref>ابوجعفر اسکافی، المعیار والموازنة، ترجمہ دامغانی، ناشر: نشر نی، ص154۔</ref> اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس بنیاد پر اصل تحکیم امام پر تھوپ دی گئی<ref>جعفر سبحانی، فروغ ولایت، انتشارات صحیفہ، ص 591۔</ref>۔ | ||
تحکیم پر دستخط کے بعد، جب دونوں حکموں (فیصلہ سازوں) کے پاس معاملہ غور و فکر کے لیے تھا، تو عمرو بن عاص نے اپنی خاص چالاکی سے ابو موسیٰ کو یہ یقین دلا دیا کہ علی (علیہ السلام) عثمان کے قاتلوں کو پناہ دینے اور جنگ چھیڑنے کی وجہ سے حکومت کے لائق نہیں ہیں۔ ابو موسیٰ نے بھی | تحکیم پر دستخط کے بعد، جب دونوں حکموں (فیصلہ سازوں) کے پاس معاملہ غور و فکر کے لیے تھا، تو عمرو بن عاص نے اپنی خاص چالاکی سے ابو موسیٰ کو یہ یقین دلا دیا کہ [[علی ابن ابی طالب|علی]] (علیہ السلام) [[عثمان بن عفان|عثمان]] کے قاتلوں کو پناہ دینے اور جنگ چھیڑنے کی وجہ سے حکومت کے لائق نہیں ہیں۔ ابو موسیٰ نے بھی معاویہ پر اعتراض کیا اور اسے حکومت کے لائق نہ سمجھا، پھر دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دونوں اپنے اپنے امیر کو خلافت سے معزول کر دیں گے اور خلافت کا معاملہ [[مسلمان|مسلمین]] کے سپرد کر دیں گے تاکہ وہ جسے چاہیں خلیفہ منتخب کر لیں۔ طے پایا کہ دونوں اس رائے کا اعلان کریں گے۔ مقررہ دن آ گیا۔ | ||
سب لوگ دومۃ الجندل میں جمع ہوئے تاکہ دونوں حکم اپنی رائے کا اظہار کریں۔ ابو موسیٰ نے عمرو بن عاص سے کہا کہ وہ منبر پر چڑھ کر متفقہ رائے کا اعلان کرے، لیکن عمرو بن عاص نے چالاکی سے ابو موسیٰ کو آگے بڑھایا اور کہا: "تم رسول خداؐ کے صحابی ہو، میں کبھی تم پر سبقت نہیں کروں گا!" | سب لوگ دومۃ الجندل میں جمع ہوئے تاکہ دونوں حکم اپنی رائے کا اظہار کریں۔ ابو موسیٰ نے عمرو بن عاص سے کہا کہ وہ منبر پر چڑھ کر متفقہ رائے کا اعلان کرے، لیکن عمرو بن عاص نے چالاکی سے ابو موسیٰ کو آگے بڑھایا اور کہا: "تم [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول خداؐ]] کے صحابی ہو، میں کبھی تم پر سبقت نہیں کروں گا!" عبدالله ابن عباس جو مجلس میں موجود تھے، انہوں نے ابو موسیٰ سے کہا: پہلے عمرو بن عاص کو اپنی رائے ظاہر کرنے دو، وہ تمہیں دھوکہ دے رہا ہے۔ | ||
لیکن ابو موسیٰ نے قبول نہ کیا اور | لیکن ابو موسیٰ نے قبول نہ کیا اور منبر پر چڑھ کر لوگوں کے سامنے کہا: ہم نے مشورے اور غور و فکر کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ [[علی ابن ابی طالب|علی]] اور معاویہ کو خلافت سے معزول کر دیا جائے اور خلافت کے انتخاب کا معاملہ [[مسلمان|مسلمین]] کے سپرد کر دیا جائے، لہذا میں علی کو خلافت سے معزول کرتا ہوں، جیسے میں یہ انگوٹھی اپنی انگلی سے اتار رہا ہوں! عمرو بن عاص ابو موسیٰ کے فوراً بعد منبر پر گیا اور کہا: اس نے علی کو خلافت سے معزول کر دیا، میں بھی اسے معزول کرتا ہوں اور معاویہ کو خلافت پر بٹھاتا ہوں، جیسے میں یہ انگوٹھی اپنے ہاتھ میں پہناتا ہوں! دھوکہ کھا جانے والے ابو موسیٰ نے چیخ کر کہا: خدا کی لعنت ہو تجھ پر، تو ایک کتے کی مانند ہے۔ عمرو بن عاص فاتحانہ انداز میں منبر سے اترتے ہوئے اس سے کہا: تم بھی اس گدھے کی مانند ہو جس پر کتابیں لاد دی گئی ہوں<ref>محمد جریر طبری، تاریخ طبری، قاہرہ، مطبعہ الاستقامہ بالقاہرہ، 1358ھ-1939ء، ج 4، ص5 وغیرہ؛ دیکھیں: ابوحنیفہ دینوری، الأخبار الطوال، قم، ناشر: رضی، 1368 شمسی، ص200۔</ref>۔ | ||
=== ابو موسیٰ اشعری کا انتخاب === | === ابو موسیٰ اشعری کا انتخاب === | ||
متعدد تاریخی رپورٹوں کے مطابق، امام علی (علیہ السلام) ابو موسیٰ کے انتخاب کے حق میں نہیں تھے، کیونکہ امام اس کی سادہ لوحی سے واقف تھے<ref>جعفر شہیدی، علی از زبان علی (علیہ السلام)، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1378، نوین طباعت، ص 124۔</ref>۔ لہذا انہوں نے | متعدد تاریخی رپورٹوں کے مطابق، [[علی ابن ابی طالب|امام علی]] (علیہ السلام) ابو موسیٰ کے انتخاب کے حق میں نہیں تھے، کیونکہ امام اس کی سادہ لوحی سے واقف تھے<ref>جعفر شہیدی، علی از زبان علی (علیہ السلام)، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1378، نوین طباعت، ص 124۔</ref>۔ لہذا انہوں نے عبدالله ابن عباس کو تجویز کیا: میں عبدالله ابن عباس کو فیصلہ سازی کے لیے منتخب کرتا ہوں۔ لیکن امام کے ساتھیوں نے کہا: ایسے شخص کو منتخب کریں جو آپ اور معاویہ دونوں کے لیے یکساں ہو۔ دونوں حکم ایک ہی قبیلے سے نہیں ہو سکتے۔ اشعث نے کہا کہ عمرو بن عاص اور عبدالله بن عباس دونوں قبیلہ مضر سے ہیں اور دو مضری افراد کو اکٹھے فیصلہ سازی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ایک مضری ہو (مثلاً عمرو بن عاص) تو دوسرا ضروری طور پر یمنی (ابو موسیٰ اشعری) ہونا چاہیے۔ | ||
لہذا | لہذا اشعث نے کہا: خدا کی قسم! اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک حکم یمنی ہو تو ہمارے لیے بہتر ہے، چاہے وہ ہماری خواہش کے خلاف فیصلہ کرے، اور اگر دونوں مضری ہوں تو ہمارے لیے ناپسندیدہ ہے، چاہے وہ ہماری خواہش کے مطابق فیصلہ کریں۔ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اب جب کہ تم ابو موسیٰ اشعری پر اصرار کر رہے ہو، تو تمہاری مرضی؛ جو چاہو کرو<ref>جعفر سبحانی، وہی، ص587 وغیرہ۔</ref>۔ اس بنیاد پر امام کے ساتھیوں نے اصرار کیا کہ حکموں میں سے ایک یمنی ہو، لہذا انہوں نے ابو موسیٰ کو منتخب کیا۔ دوسری طرف، امام کے ساتھیوں کا اصرار تھا کہ فیصلہ ساز وہ شخص ہو جو امام علی (علیہ السلام) سے اچھے تعلقات نہ رکھتا ہو۔ | ||
لہذا ان لوگوں نے | لہذا ان لوگوں نے مالک اشتر اور عبدالله بن عباس کے انتخاب کی مخالفت کی۔ جعفر شہیدی لکھتے ہیں: علی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے اپنے لیے ایسا فیصلہ ساز کیوں چنا؟ اشعث بن قیس ابو موسیٰ کے انتخاب پر کیوں اڑا رہا؟ اس کی وجہ اشعث کی علی (علیہ السلام) سے ناراضگی کے علاوہ قبائلی روایات اور عادات کے دوبارہ زندہ ہونے میں تلاش کی جانی چاہیے<ref>جعفر شہیدی، علی از زبان علی (علیہ السلام)، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1378، نوین طباعت، ص 129۔</ref>۔ حالانکہ ابو موسیٰ کو منتخب نہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو یقین رکھتا تھا کہ [[عثمان بن عفان|عثمان]] بے جا قتل کیا گیا ہے اور چونکہ عثمان بے جا قتل ہوا ہے، اس کے قاتلوں کو قصاص ہونا چاہیے۔ | ||
یہ قاتل ابھی علی کے گرد جمع ہیں۔ علی کو انہیں معاویہ کے حوالے کرنا چاہیے<ref>جعفر شہیدی، علی از زبان علی (علیہ السلام)، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1378، نوین طباعت، ص 128۔</ref>۔ یہ امر اس بات کا نتیجہ ہے کہ امام کے ساتھیوں نے قبیلہ پرستی، امام سے ناراضگی اور ابو موسیٰ کی غلط فہمی کی وجہ سے اسے منتخب کیا اور اس عمل سے وہی غلطی دہرائی جو اصل میں امام پر تحکیم تھوپنے کے وقت کی گئی تھی۔ امام کے زیادہ تر ساتھی ایسے لوگ تھے جن میں سیاسی رشد و بلوغت نہیں تھی، لہذا وہ حق و باطل کی تمیز میں مشکل کا شکار ہو جاتے تھے؛ ابو موسیٰ کا انتخاب انہی مثالوں میں سے ایک ہے۔ | یہ قاتل ابھی علی کے گرد جمع ہیں۔ علی کو انہیں معاویہ کے حوالے کرنا چاہیے<ref>جعفر شہیدی، علی از زبان علی (علیہ السلام)، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1378، نوین طباعت، ص 128۔</ref>۔ یہ امر اس بات کا نتیجہ ہے کہ امام کے ساتھیوں نے قبیلہ پرستی، امام سے ناراضگی اور ابو موسیٰ کی غلط فہمی کی وجہ سے اسے منتخب کیا اور اس عمل سے وہی غلطی دہرائی جو اصل میں امام پر تحکیم تھوپنے کے وقت کی گئی تھی۔ امام کے زیادہ تر ساتھی ایسے لوگ تھے جن میں سیاسی رشد و بلوغت نہیں تھی، لہذا وہ حق و باطل کی تمیز میں مشکل کا شکار ہو جاتے تھے؛ ابو موسیٰ کا انتخاب انہی مثالوں میں سے ایک ہے۔ | ||
== ابوموسیٰ اشعری کی صفات و خصوصیات == | == ابوموسیٰ اشعری کی صفات و خصوصیات == | ||
ابوموسیٰ اشعری کی آواز انتہائی دلکش اور اثر انگیز تھی۔ حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں: ایک رات میں گھر سے نکلا اور | ابوموسیٰ اشعری کی آواز انتہائی دلکش اور اثر انگیز تھی۔ حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں: ایک رات میں گھر سے نکلا اور مدینہ میں چل رہا تھا یہاں تک کہ میرا راستہ مسجد نبوی سے گزرا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو دیکھا کہ آپ مسجد کے باہر کھڑے ہیں اور کسی کی آواز سن رہے ہیں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم مسجد میں داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص [[نماز]] ادا کر رہا ہے، اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا رکھے ہیں اور کہہ رہا ہے: «'''اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی أَشْهَدُ أَنَّکَ أَنْتِ اللّٰهُ الَّذِی لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُوًا أَحَدٌ'''»؛ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس گواہی کی بنیاد پر کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو یکتا اور بے نیاز ہے، نہ تو نے کسی کو جنا ہے اور نہ تو جنا گیا ہے، اور نہ ہی تیرا کوئی ہمسر و مثل ہے۔ | ||
[[محمد | [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ]] نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، [اس شخص] نے اسمِ اعظم کے ذریعے اپنی حاجت مانگی ہے؛ وہی دعا جس کے ذریعے ہر خواہش پوری ہوتی ہے اور ہر ضرورت دور ہوتی ہے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ وہ شخص [[قرآن]] کی تلاوت شروع کرنے لگا۔ اس کی آواز واقعی دلکش تھی اور انسان کو سرور میں ڈال دیتی تھی۔ رسول اللہ نے فرمایا: اس نے اپنی خوش الحانی داؤد علیہ السلام کی آل سے وراثت میں پائی ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی اس پر مہربانی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے یہ خوشخبری سنا دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! میں نے اسے یہ بشارت سنائی اور یہی واقعہ باعث بنا کہ وہ ہمیشہ کے لیے میرا گہرا دوست بن گیا<ref>مسند احمد: حدیث 22952۔ ذہبی، سیر أعلام النبلاء: 2/386۔</ref>۔ | ||
ابوموسیٰ فقہ اور احکام کے علم میں اس درجے کو پہنچ چکے تھے کہ مشکل ترین مسائل کا جواب نہایت فصیح عبارت اور آسان ترین انداز میں دیتے تھے۔ وہ | ابوموسیٰ فقہ اور احکام کے علم میں اس درجے کو پہنچ چکے تھے کہ مشکل ترین مسائل کا جواب نہایت فصیح عبارت اور آسان ترین انداز میں دیتے تھے۔ وہ فتویٰ دینے کے معاملے میں اس مقام پر فائز تھے کہ صفوان بن سلیم کہتے ہیں: «لم یکن یفتی فی المسجد زمن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) غیر ہؤلاء: عمر و علی و معاذ و أبی موسیٰ»؛ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے دور میں مسجد نبوی میں ان چند افراد کے سوا کوئی فتویٰ نہیں دیتا تھا: عمر، علی، معاذ اور ابوموسیٰ<ref>سیر أعلام النبلاء: 2/389۔</ref>۔ | ||
مسروق نے بھی روایت کی ہے: «کان القضاء فی الصحابة إلی ستة: [[عمر بن خطاب|عمر]] و [[علی ابن ابی طالب|علی]] و ابن مسعود و أبیّ و زید و أبی موسیٰ»؛ صحابہ کرام میں قضا کا کام چھ افراد کے سپرد تھا: [[عمر]]، علی، عبداللہ بن مسعود، زید، ابی بن کعب اور ابوموسیٰ<ref>المصری، اصحاب الرسول: 2/202۔</ref>۔ | |||
انس روایت کرتے ہیں: «بعثنی الأشعری إلی عمر، فقال لی: کیف ترکت الأشعری؟ قلت: ترکته یعلّم الناس القرآن۔ فقال: أمّا إنہ کیّس! و لاتسمعہا إیاہ»؛ ابوموسیٰ اشعری نے مجھے [بصرہ کی ولایت کے دوران کارکردگی کی رپورٹ کے لیے] حضرت عمر کے پاس بھیجا۔ حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا: تم ابوموسیٰ اشعری کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہو؟ میں نے جواب دیا: میں نے انہیں اس حالت میں چھوڑا کہ وہ لوگوں کو قرآن سکھا رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا: بے شک وہ ایک ہوشیار شخص ہے! لیکن تم یہ بات ان تک نہ پہنچانا<ref>وہی: 2/203۔ بہ نقل از طبقات ابن سعد: 4/108۔</ref>۔ | |||
== ابوموسیٰ اشعری کی وفات == | == ابوموسیٰ اشعری کی وفات == | ||
ابوموسیٰ کی وفات کے سال اور مقام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ان کی وفات [[مکہ]] میں اور بعض دیگر نے ثویہ کو | ابوموسیٰ کی وفات کے سال اور مقام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ان کی وفات [[مکه|مکہ]] میں اور بعض دیگر نے ثویہ کو کوفہ کے قریب ایک مقام بتایا ہے<ref>الفتوح/ترجمہ متن، سابقہ، ص 968۔</ref>۔ مؤرخین کے اختلاف کی بنا پر ان کی وفات کے سال 42<ref>الطبقات الکبری، سابقہ، ج 6، ص 95۔</ref>، 44، 45، 49، 52 اور 53 ہجری بھی بیان کیے گئے ہیں<ref>اسد الغابہ، سابقہ، ج 3، ص 265۔</ref>۔ | ||
== مزید دیکھیے == | == مزید دیکھیے == | ||
* [[ | * [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب]] | ||
=حوالہ جات= | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[fa:ابولهب]] | |||
[[زمرہ:شخصیات]] | [[زمرہ:شخصیات]] | ||
[[زمرہ:تاریخی شخصیات]] | [[زمرہ:تاریخی شخصیات]] | ||
[[زمرہ:صحابہ]] | [[زمرہ:صحابہ]] | ||
[[fa:ابوموسی اشعری]] | |||
نسخہ بمطابق 12:03، 19 مئی 2026ء
| ابوموسیٰ اشعری | |
|---|---|
| پورا نام | عبدالله بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب |
| دوسرے نام | ابن قیس |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | یمن |
| وفات | ۴۲ ق |
| وفات کی جگہ | کوفه یا مکه |
| مذہب | اسلام |
| مناصب | حکم صفین اور قاضی |
ابوموسیٰ اشعری رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے اصحاب میں سے تھے جو جنگ صفین کے بعد امرِ حکمیت میں اپنے اثر و رسوخ اور خلافت کی بنی امیہ کو منتقلی کی وجہ سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ وہ علمِ قضا میں ماہر تھے۔
وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے دور کے فقہا اور عمر و عثمان کے عہد میں فتویٰ دینے والے صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ ابوموسیٰ جو ایک سادہ لوح انسان تھے، جنگِ صفین میں حکم کے طور پر منتخب کیے گئے اور عمرو بن عاص کی چالاکی سے امام علی (علیہ السلام) کو خلافت سے معزول کروا دیا۔ وہ ایران اور شام کی فتح میں عمر کی فوج کے کمانڈروں میں شامل تھے۔
نسب ابوموسیٰ اشعری
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن عتر بن بکر بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن حماہر بن اشعر اشعری، مشہور بہ عبداللہ بن قیس اشعری، وہ حدیث کے راویوں میں سے ہیں۔ ان کا نام رسول اللہ کے صحابہ کی فہرست میں لایا جاتا ہے۔ وہ دمشق، بصرہ، عدن اور کوفہ میں رہتے تھے[1]۔
ابوموسیٰ اشعری کا تعارف
ابوموسیٰ کا نام عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار تھا، وہ یمن کے گاؤں رمع کے باشندے تھے اور وہاں کے اشعریوں میں سے تھے[2]۔ وہ هجرت سے اکیس سال قبل یمن میں پیدا ہوئے[3]۔ ان کی والدہ کا نام ظبیہ بنت وہب تھا جو قبیلہ بنی عک سے تھیں؛ انہوں نے اسلام قبول کیا اور مدینہ میں وفات پائی[4]۔
ابوموسیٰ قد میں چھوٹے، پتلے جسم والے اور گنجے تھے۔ ان کے نکاح میں چار قریشی خواتین تھیں، جن میں ام کلثوم بنت ابی الفضل بن عباس بن عبدالمطلب بھی شامل تھیں[5]۔ ابوموسیٰ کی پہلی اولاد مدینہ میں پیدا ہوئی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان کا نام ابراہیم رکھا اور ان کے منہ میں کھجور رکھی[6]۔
ابوموسیٰ اشعری کا خاندان
ان کے بیٹے ابوبردہ حجاج بن یوسف کے دور میں کوفہ کے قاضی تھے، اور ابوبردہ کے بیٹے بلال نے بھی بصرہ میں منصبِ قضا سنبھالا[7]۔ ان کے خاندان کی سب سے اہم شخصیت مشہور متکلم ابوالحسن اشعری ہیں، جن کا نسب ظاہراً آٹھ واسطوں سے ابوموسیٰ تک پہنچتا ہے[8]۔
جنگِ صفین اور ابو موسیٰ اشعری
حضرت علیؑ کے نمائندے کے طور پر ابو موسیٰ اشعری کے انتخاب کی وجہ
مستند تاریخی دستاویزات کے مطابق حضرت علی علیه السلام نے اپنی مرضی سے تحکیم (فیصلہ سازی) کو قبول نہیں کیا، بلکہ ان پر یہ امر تھوپا گیا۔ جب معاویہ کو یہ احساس ہوا کہ وہ امام (علیہ السلام) کی فوج کے مقابلے میں مزاحمت کی تاب نہیں رکھتا اور اگر جنگ جاری رہی تو امام کی فتح یقینی ہے، تو اس نے عمرو بن عاص کے مشورے سے دو خطرناک شیطانی چالیں چلیں:
- جنگ کو روکنے اور عارضی جنگ بندی کے لیے؛
- علی (علیہ السلام) کی افواج کو منتشر یا کمزور کرنے کے لیے۔
ان دونوں فریبوں نے امام کی فوج میں موجود مخبروں کی مدد سے کامیابی حاصل کی۔
- پہلا فریب نیزوں پر قرآن اٹھا کر امام (علیہ السلام) کو قرآن کی حکمیت کی دعوت دینا تھا، جس نے جنگ کو روک دیا۔
- دوسرا فریب تحکیم (فیصلہ سازی) کا تھا جو انتہائی پیچیدہ طریقے سے عمل میں لایا گیا، یہاں تک کہ آخر کار امام کی سب سے مؤثر قوتوں کا ایک حصہ ان کے سامنے کھڑا ہو گیا، اسی وجہ سے امام کو بعد میں جنگ نہروان میں اپنے ہی ساتھیوں سے لڑنا پڑا۔ جنگ صفین میں بھی ان کے دباؤ کو قبول کرنے اور تحکیم پر راضی ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ تحکیم کو قبول کرتے وقت امام کا مشہور جملہ: کل تک میں حکم دینے والا تھا اور آج حکم ماننے والا بن گیا ہوں، کل تک میں منع کرنے والا تھا اور آج مجھے منع کیا جا رہا ہے[9] اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس بنیاد پر اصل تحکیم امام پر تھوپ دی گئی[10]۔
تحکیم پر دستخط کے بعد، جب دونوں حکموں (فیصلہ سازوں) کے پاس معاملہ غور و فکر کے لیے تھا، تو عمرو بن عاص نے اپنی خاص چالاکی سے ابو موسیٰ کو یہ یقین دلا دیا کہ علی (علیہ السلام) عثمان کے قاتلوں کو پناہ دینے اور جنگ چھیڑنے کی وجہ سے حکومت کے لائق نہیں ہیں۔ ابو موسیٰ نے بھی معاویہ پر اعتراض کیا اور اسے حکومت کے لائق نہ سمجھا، پھر دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دونوں اپنے اپنے امیر کو خلافت سے معزول کر دیں گے اور خلافت کا معاملہ مسلمین کے سپرد کر دیں گے تاکہ وہ جسے چاہیں خلیفہ منتخب کر لیں۔ طے پایا کہ دونوں اس رائے کا اعلان کریں گے۔ مقررہ دن آ گیا۔
سب لوگ دومۃ الجندل میں جمع ہوئے تاکہ دونوں حکم اپنی رائے کا اظہار کریں۔ ابو موسیٰ نے عمرو بن عاص سے کہا کہ وہ منبر پر چڑھ کر متفقہ رائے کا اعلان کرے، لیکن عمرو بن عاص نے چالاکی سے ابو موسیٰ کو آگے بڑھایا اور کہا: "تم رسول خداؐ کے صحابی ہو، میں کبھی تم پر سبقت نہیں کروں گا!" عبدالله ابن عباس جو مجلس میں موجود تھے، انہوں نے ابو موسیٰ سے کہا: پہلے عمرو بن عاص کو اپنی رائے ظاہر کرنے دو، وہ تمہیں دھوکہ دے رہا ہے۔
لیکن ابو موسیٰ نے قبول نہ کیا اور منبر پر چڑھ کر لوگوں کے سامنے کہا: ہم نے مشورے اور غور و فکر کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ علی اور معاویہ کو خلافت سے معزول کر دیا جائے اور خلافت کے انتخاب کا معاملہ مسلمین کے سپرد کر دیا جائے، لہذا میں علی کو خلافت سے معزول کرتا ہوں، جیسے میں یہ انگوٹھی اپنی انگلی سے اتار رہا ہوں! عمرو بن عاص ابو موسیٰ کے فوراً بعد منبر پر گیا اور کہا: اس نے علی کو خلافت سے معزول کر دیا، میں بھی اسے معزول کرتا ہوں اور معاویہ کو خلافت پر بٹھاتا ہوں، جیسے میں یہ انگوٹھی اپنے ہاتھ میں پہناتا ہوں! دھوکہ کھا جانے والے ابو موسیٰ نے چیخ کر کہا: خدا کی لعنت ہو تجھ پر، تو ایک کتے کی مانند ہے۔ عمرو بن عاص فاتحانہ انداز میں منبر سے اترتے ہوئے اس سے کہا: تم بھی اس گدھے کی مانند ہو جس پر کتابیں لاد دی گئی ہوں[11]۔
ابو موسیٰ اشعری کا انتخاب
متعدد تاریخی رپورٹوں کے مطابق، امام علی (علیہ السلام) ابو موسیٰ کے انتخاب کے حق میں نہیں تھے، کیونکہ امام اس کی سادہ لوحی سے واقف تھے[12]۔ لہذا انہوں نے عبدالله ابن عباس کو تجویز کیا: میں عبدالله ابن عباس کو فیصلہ سازی کے لیے منتخب کرتا ہوں۔ لیکن امام کے ساتھیوں نے کہا: ایسے شخص کو منتخب کریں جو آپ اور معاویہ دونوں کے لیے یکساں ہو۔ دونوں حکم ایک ہی قبیلے سے نہیں ہو سکتے۔ اشعث نے کہا کہ عمرو بن عاص اور عبدالله بن عباس دونوں قبیلہ مضر سے ہیں اور دو مضری افراد کو اکٹھے فیصلہ سازی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ایک مضری ہو (مثلاً عمرو بن عاص) تو دوسرا ضروری طور پر یمنی (ابو موسیٰ اشعری) ہونا چاہیے۔
لہذا اشعث نے کہا: خدا کی قسم! اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک حکم یمنی ہو تو ہمارے لیے بہتر ہے، چاہے وہ ہماری خواہش کے خلاف فیصلہ کرے، اور اگر دونوں مضری ہوں تو ہمارے لیے ناپسندیدہ ہے، چاہے وہ ہماری خواہش کے مطابق فیصلہ کریں۔ امام (علیہ السلام) نے فرمایا: اب جب کہ تم ابو موسیٰ اشعری پر اصرار کر رہے ہو، تو تمہاری مرضی؛ جو چاہو کرو[13]۔ اس بنیاد پر امام کے ساتھیوں نے اصرار کیا کہ حکموں میں سے ایک یمنی ہو، لہذا انہوں نے ابو موسیٰ کو منتخب کیا۔ دوسری طرف، امام کے ساتھیوں کا اصرار تھا کہ فیصلہ ساز وہ شخص ہو جو امام علی (علیہ السلام) سے اچھے تعلقات نہ رکھتا ہو۔
لہذا ان لوگوں نے مالک اشتر اور عبدالله بن عباس کے انتخاب کی مخالفت کی۔ جعفر شہیدی لکھتے ہیں: علی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے اپنے لیے ایسا فیصلہ ساز کیوں چنا؟ اشعث بن قیس ابو موسیٰ کے انتخاب پر کیوں اڑا رہا؟ اس کی وجہ اشعث کی علی (علیہ السلام) سے ناراضگی کے علاوہ قبائلی روایات اور عادات کے دوبارہ زندہ ہونے میں تلاش کی جانی چاہیے[14]۔ حالانکہ ابو موسیٰ کو منتخب نہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو یقین رکھتا تھا کہ عثمان بے جا قتل کیا گیا ہے اور چونکہ عثمان بے جا قتل ہوا ہے، اس کے قاتلوں کو قصاص ہونا چاہیے۔
یہ قاتل ابھی علی کے گرد جمع ہیں۔ علی کو انہیں معاویہ کے حوالے کرنا چاہیے[15]۔ یہ امر اس بات کا نتیجہ ہے کہ امام کے ساتھیوں نے قبیلہ پرستی، امام سے ناراضگی اور ابو موسیٰ کی غلط فہمی کی وجہ سے اسے منتخب کیا اور اس عمل سے وہی غلطی دہرائی جو اصل میں امام پر تحکیم تھوپنے کے وقت کی گئی تھی۔ امام کے زیادہ تر ساتھی ایسے لوگ تھے جن میں سیاسی رشد و بلوغت نہیں تھی، لہذا وہ حق و باطل کی تمیز میں مشکل کا شکار ہو جاتے تھے؛ ابو موسیٰ کا انتخاب انہی مثالوں میں سے ایک ہے۔
ابوموسیٰ اشعری کی صفات و خصوصیات
ابوموسیٰ اشعری کی آواز انتہائی دلکش اور اثر انگیز تھی۔ حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں: ایک رات میں گھر سے نکلا اور مدینہ میں چل رہا تھا یہاں تک کہ میرا راستہ مسجد نبوی سے گزرا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو دیکھا کہ آپ مسجد کے باہر کھڑے ہیں اور کسی کی آواز سن رہے ہیں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم مسجد میں داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص نماز ادا کر رہا ہے، اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا رکھے ہیں اور کہہ رہا ہے: «اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ بِأَنِّی أَشْهَدُ أَنَّکَ أَنْتِ اللّٰهُ الَّذِی لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُوًا أَحَدٌ»؛ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس گواہی کی بنیاد پر کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو یکتا اور بے نیاز ہے، نہ تو نے کسی کو جنا ہے اور نہ تو جنا گیا ہے، اور نہ ہی تیرا کوئی ہمسر و مثل ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، [اس شخص] نے اسمِ اعظم کے ذریعے اپنی حاجت مانگی ہے؛ وہی دعا جس کے ذریعے ہر خواہش پوری ہوتی ہے اور ہر ضرورت دور ہوتی ہے۔ اچانک میں نے دیکھا کہ وہ شخص قرآن کی تلاوت شروع کرنے لگا۔ اس کی آواز واقعی دلکش تھی اور انسان کو سرور میں ڈال دیتی تھی۔ رسول اللہ نے فرمایا: اس نے اپنی خوش الحانی داؤد علیہ السلام کی آل سے وراثت میں پائی ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی اس پر مہربانی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے یہ خوشخبری سنا دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! میں نے اسے یہ بشارت سنائی اور یہی واقعہ باعث بنا کہ وہ ہمیشہ کے لیے میرا گہرا دوست بن گیا[16]۔
ابوموسیٰ فقہ اور احکام کے علم میں اس درجے کو پہنچ چکے تھے کہ مشکل ترین مسائل کا جواب نہایت فصیح عبارت اور آسان ترین انداز میں دیتے تھے۔ وہ فتویٰ دینے کے معاملے میں اس مقام پر فائز تھے کہ صفوان بن سلیم کہتے ہیں: «لم یکن یفتی فی المسجد زمن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) غیر ہؤلاء: عمر و علی و معاذ و أبی موسیٰ»؛ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے دور میں مسجد نبوی میں ان چند افراد کے سوا کوئی فتویٰ نہیں دیتا تھا: عمر، علی، معاذ اور ابوموسیٰ[17]۔
مسروق نے بھی روایت کی ہے: «کان القضاء فی الصحابة إلی ستة: عمر و علی و ابن مسعود و أبیّ و زید و أبی موسیٰ»؛ صحابہ کرام میں قضا کا کام چھ افراد کے سپرد تھا: عمر، علی، عبداللہ بن مسعود، زید، ابی بن کعب اور ابوموسیٰ[18]۔
انس روایت کرتے ہیں: «بعثنی الأشعری إلی عمر، فقال لی: کیف ترکت الأشعری؟ قلت: ترکته یعلّم الناس القرآن۔ فقال: أمّا إنہ کیّس! و لاتسمعہا إیاہ»؛ ابوموسیٰ اشعری نے مجھے [بصرہ کی ولایت کے دوران کارکردگی کی رپورٹ کے لیے] حضرت عمر کے پاس بھیجا۔ حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا: تم ابوموسیٰ اشعری کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہو؟ میں نے جواب دیا: میں نے انہیں اس حالت میں چھوڑا کہ وہ لوگوں کو قرآن سکھا رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا: بے شک وہ ایک ہوشیار شخص ہے! لیکن تم یہ بات ان تک نہ پہنچانا[19]۔
ابوموسیٰ اشعری کی وفات
ابوموسیٰ کی وفات کے سال اور مقام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ان کی وفات مکہ میں اور بعض دیگر نے ثویہ کو کوفہ کے قریب ایک مقام بتایا ہے[20]۔ مؤرخین کے اختلاف کی بنا پر ان کی وفات کے سال 42[21]، 44، 45، 49، 52 اور 53 ہجری بھی بیان کیے گئے ہیں[22]۔
مزید دیکھیے
حوالہ جات
- ↑ موسوعة الحدیث۔
- ↑ الحموی، شہاب الدین ابوعبداللہ یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، ط الثانیة، ۱۹۹۵ء، ج۳، ص۶۸۔
- ↑ ابن سعد کاتب واقدی، محمد، طبقات، ترجمہ محمود مہدوی دامغانی، تہران، انتشارات فرهنگ و اندیشہ، ۱۳۷۴ش، پاورقی، ج۲، ص۳۳۰۔
- ↑ ابن الاثیر الجزری، عزالدین ابوالحسن علی بن محمد، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۹/۱۹۸۹، ج۳، ص۲۶۳۔
- ↑ البلاذری، احمد بن یحییٰ بن جابر، انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دار الفکر، ط الاولی، ۱۴۱۷/۱۹۹۶، ج۴، ص۲۶۔
- ↑ ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیة، ط الاولی، ۱۴۱۰/۱۹۹۰، ج۴، ص۸۰۔
- ↑ ابن حبیب، ص۳۷۸؛ ابن قتیبہ، المعارف، ص۵۸۹۔
- ↑ سمعانی، ج۱، ص۲۶۷ـ۲۶۶۔
- ↑ ابوجعفر اسکافی، المعیار والموازنة، ترجمہ دامغانی، ناشر: نشر نی، ص154۔
- ↑ جعفر سبحانی، فروغ ولایت، انتشارات صحیفہ، ص 591۔
- ↑ محمد جریر طبری، تاریخ طبری، قاہرہ، مطبعہ الاستقامہ بالقاہرہ، 1358ھ-1939ء، ج 4، ص5 وغیرہ؛ دیکھیں: ابوحنیفہ دینوری، الأخبار الطوال، قم، ناشر: رضی، 1368 شمسی، ص200۔
- ↑ جعفر شہیدی، علی از زبان علی (علیہ السلام)، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1378، نوین طباعت، ص 124۔
- ↑ جعفر سبحانی، وہی، ص587 وغیرہ۔
- ↑ جعفر شہیدی، علی از زبان علی (علیہ السلام)، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1378، نوین طباعت، ص 129۔
- ↑ جعفر شہیدی، علی از زبان علی (علیہ السلام)، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1378، نوین طباعت، ص 128۔
- ↑ مسند احمد: حدیث 22952۔ ذہبی، سیر أعلام النبلاء: 2/386۔
- ↑ سیر أعلام النبلاء: 2/389۔
- ↑ المصری، اصحاب الرسول: 2/202۔
- ↑ وہی: 2/203۔ بہ نقل از طبقات ابن سعد: 4/108۔
- ↑ الفتوح/ترجمہ متن، سابقہ، ص 968۔
- ↑ الطبقات الکبری، سابقہ، ج 6، ص 95۔
- ↑ اسد الغابہ، سابقہ، ج 3، ص 265۔