مندرجات کا رخ کریں

"ابن ندیم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
سطر 52: سطر 52:


== ابنِ ندیم کی تصانیف ==
== ابنِ ندیم کی تصانیف ==
[[پرونده:کتاب الفهرست.jpg|200px|بی‌قاب|چپ]]
[[فائل:کتاب الفهرست.jpg|200px|تصغیر|بائیں|]]
ابنِ ندیم نے کثیر تعداد میں کتب تصنیف کیں، لیکن ان کی سب سے اہم اور عالمی شہرت یافتہ کتاب "الفہرست" ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں "الاوصاف والتشبیهات" بھی شامل ہے۔ ابنِ ندیم کی شہرت کا بڑا سبب ان کی کتاب "الفہرست" ہی ہے۔
ابنِ ندیم نے کثیر تعداد میں کتب تصنیف کیں، لیکن ان کی سب سے اہم اور عالمی شہرت یافتہ کتاب "الفہرست" ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں "الاوصاف والتشبیهات" بھی شامل ہے۔ ابنِ ندیم کی شہرت کا بڑا سبب ان کی کتاب "الفہرست" ہی ہے۔
الفہرست سن 377 ہجری (987 عیسوی) میں مکمل ہوئی اور ممکن ہے کہ اس کے بعد بھی ابنِ ندیم نے اس میں مزید معلومات کا اضافہ کیا ہو۔ یہ کتاب پہلی چار صدیوں ہجری میں عمومی کتابیات (ببلیوگرافی) کے حوالے سے جامع ترین اثر ہے، جس میں اس دور تک عربی زبان میں لکھی گئی تمام کتب کی فہرست اور ان کے مصنفین کے تعارف شامل ہیں۔ یہ کتاب اسلام سے قبل کے دور سے لے کر مصنف کے عہد تک تاریخ، ثقافت، ادب اور مذہب کا ایک دائرۃ المعارف کی حیثیت رکھتی ہے<ref>«ابن ندیم، دائرةالمعارف اسلامی»۔</ref>۔<ref>مزید تفصیل کے لیے مدخل الفہرست ملاحظہ فرمائیں۔</ref>۔
الفہرست سن 377 ہجری (987 عیسوی) میں مکمل ہوئی اور ممکن ہے کہ اس کے بعد بھی ابنِ ندیم نے اس میں مزید معلومات کا اضافہ کیا ہو۔ یہ کتاب پہلی چار صدیوں ہجری میں عمومی کتابیات (ببلیوگرافی) کے حوالے سے جامع ترین اثر ہے، جس میں اس دور تک عربی زبان میں لکھی گئی تمام کتب کی فہرست اور ان کے مصنفین کے تعارف شامل ہیں۔ یہ کتاب اسلام سے قبل کے دور سے لے کر مصنف کے عہد تک تاریخ، ثقافت، ادب اور مذہب کا ایک دائرۃ المعارف کی حیثیت رکھتی ہے<ref>«ابن ندیم، دائرةالمعارف اسلامی»۔</ref>۔<ref>مزید تفصیل کے لیے مدخل الفہرست ملاحظہ فرمائیں۔</ref>۔

نسخہ بمطابق 16:56، 13 مئی 2026ء

ابن ندیم
پورا نامابوالفرج محمد بن ابی یعقوب اسحاق بن محمد بن اسحاق
ذاتی معلومات
پیدائش320 ق
پیدائش کی جگہعراق بغداد
وفات385 ق
مذہباسلام، شیعه
مناصبچوتھی ہجری صدی کے بغدادی کتاب شناس فہرست نگار اور محقق ہیں ان کی کتاب الفهرست ہے جو چوتھی ہجری صدی کے آخر تک عالمِ اسلام میں تصنیف شدہ اور منقولہ تمام کتب کا ایک خزانہ ہے۔

ابوالفرج محمد بن ابی یعقوب اسحاق بن محمد بن اسحاق، معروف بہ ابنِ ندیم چوتھی ہجری صدی کے بغدادی کتاب شناس، فہرست نگار اور محقق ہیں۔ ابنِ ندیم کی زندگی اور علمی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ ان کے بعد کے مصنفین اور تذکرہ نویسوں نے شاید عقیدتی اور مذہبی اختلافات کی وجہ سے ان کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ ان کا مختلف علوم سے نسبتاً واقفیت تھی اور ممکن ہے کہ وہ بعض شعبوں جیسے ادبیات عرب اور علوم اوائل خاص طور پر فلسفہ اور تاریخِ فلسفہ میں صاحبِ رائے رہے ہوں۔ ان کی کتاب الفهرست ہے جو چوتھی ہجری صدی کے آخر تک عالمِ اسلام میں تصنیف شدہ اور منقولہ تمام کتب کا ایک خزانہ ہے، نیز اس میں مصنفین اور ناقلین کے حالاتِ زندگی اور گزشتہ ادیان و مذاہب، ملل و نحل کی تفصیل سمیت بہت سے دیگر فوائد بھی شامل ہیں۔

ابنِ ندیم کا تعارف

ابنِ ندیم کے احوال کے بارے میں قدیم ترین ماخذ ابنِ شہر آشوب (وفات 588 ہجری) کی کتاب معالم العلماء میں موجود مختصر رپورٹ ہے[1]۔ ان کے بعد یاقوت حموی (وفات 626 ہجری) نے الفہرست سے ماخوذ ایک مختصر تعارف میں ابنِ ندیم کی تعریف کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ اثر کتاب شناسی اور مختلف علوم میں مصنف کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے[2]۔ متاخر ماخذ میں لسان المیزان ابن حجر هیتمی[3] کا ذکر ضروری ہے، جس میں ابن نجار اور ذہبی کے اقوال کی بنیاد پر ابنِ ندیم کا نسبتاً تفصیلی تعارف شامل ہے اور الفہرست کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ ابنِ حجر کے کام کی خاصیت ابنِ ندیم کی شخصیت پر سخت تنقید ہے۔

ابنِ ندیم کا اصل و نسب

ابنِ ندیم کے نسب اور خاستگاه کے بارے میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن چونکہ انہوں نے الفهرست میں اپنی کسی عرب قبیلے سے نسبت یا وابستگی کا ذکر نہیں کیا، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ وہ شاید عرب نہیں تھے۔اسی طرح، الفہرست کے مذاہب اور ادیان کے حصے میں ایرانی ادیان پر بحث نہ کرنا اور اس کے صفحات 239-240 پر درج بعض مطالب اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ وہ ایرانی بھی نہیں تھے۔ دوسری طرف، ابنِ ندیم کا علومِ اوائل سے لگاؤ، بغداد کے مسیحی علماء سے دوستی[4] اور اسلام سے قبل بین النهرین کی حالتِ زار کی ان کی قابلِ تعریف تفصیل شاید اس بات کی دلیل ہو کہ وہ ان اقوام سے تعلق رکھتے تھے جو اسلام کی آمد سے قبل بین النہرین میں آباد تھیں۔ جیسا کہ ان کے والد اور دادا کا نام 'اسحاق' اور ان کی اور ان کے والد کی کنیتیں – ابوالفرج اصفهانی اور ابویعقوب –اس احتمال کو مضبوط بناتی ہیں۔

پیدائش

چونکہ الفہرست میں ہمیشہ انہیں 'محمد بن اسحاق الندیم' کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور نیز زیادہ تر منابع رجالی اور تاریخی ماخذ میں ان کا نام اسی طرح یا ابن‌الندیم کی صورت میں درج ہے[5]، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ندیم ان کے والد کا لقب تھا، تاہم اس نام گذاری کی وجہ معلوم نہیں ہے۔ ابنِ ندیم کی جائے پیدائش کے بارے میں بھی کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ صرف یہ معلوم ہے کہ وہ بغداد میں رہتے تھے اور کچھ عرصہ موصل میں بھی قیام کیا تھا[6]۔ ابنِ ندیم کی تاریخِ پیدائش کے حوالے سے ان کا اپنا الفہرست[7] میں دیے گئے وہ بیان رہنمائی فراہم کرتا ہے جس میں انہوں نے 340 ہجری میں خارجی فقیہ ابوبکر بردعی سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ اس ملاقات میں ابنِ ندیم کے بردعی کے آثار اور عقائد کے بارے میں جمع کیے گئے معلومات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس وقت علمی بلوغت کو پہنچ چکے تھے اور ان کی عمر تقریباً تیس سے چالیس سال کے درمیان تھی۔

مذہب

ابنِ ندیم کے مذهب کے بارے میں جو اختلافِ رائے پایا جاتا ہے، اس کی جڑ الفہرست میں ان کے متفرق اور متنوع خیالات میں ہے۔ الفہرست میں موجود قرائن ان کے اعتزال اور معتزله مکتبِ فکر کی طرف مائل ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:

  • اعتزال کے فکر کے سرچشمے کے طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں معتزلہ کے اقوال کا نقل کرنا[8]۔
  • معتزلہ کو دو گروہوں 'مخلص' اور 'بدعت گذار' میں تقسیم کرنا[9]۔
  • معتزله پر 'اہل العدل والتوحید' کا اطلاق کرنا[10] اور اس کے برعکس حشویه کا اطلاق اہلِ سنت پر کرنا[11]؛
  • متکلمین کے حصے میں ابوالحسن اشعری کا ذکر مجبرہ اور حشویه کے تحت کرنا[12]۔

ابنِ ندیم کے شیعہ ہونے کی دلیلیں

چونکہ انہوں نے بعض شیعہ اماموں اور ان کی اولاد کا ذکر '(علیہ السلام)' کے ساتھ کیا ہے[13] اور اهل بیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعریف ایک شیعہ فرد کی طرح کی ہے[14] اور شیخین، دیگر خلفا اور طلحہ، زبیر بن عوام اور عائشہ جیسی شخصیات کے لیے 'رضی اللہ عنہ' کا لفظ استعمال نہیں کیا[15]، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ وہ شیعہ المذہب پیروکار تھے۔ یہ بھی اضافہ کرنا چاہیے کہ الفہرست کے چاپی نسخوں[16] میں بعض مقامات پر عمر بن خطاب اور دیگر کے لیے 'ترضیہ' (رضی اللہ عنہ) کا لفظ نظر آتا ہے، لیکن اس اثر کے اصل نسخوں میں اس کا کوئی اثر نہیں ہے، لہٰذا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ الفاظ کاتبین نے بعد میں شامل کیے ہیں۔ کچھ دیگر قرائن بھی ہیں جو ان کے تشیع کی نشاندہی کر سکتے ہیں:

  • شیعون کے لیے 'خاصہ' اور اہلِ سنت کے لیے 'عامہ' کی اصطلاح کا استعمال[17]؛
  • واقدی سے ایک روایت کا نقل کرنا کہ علی بن ابی‌طالب|علی (علیہ السلام) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معجزه تھے[18]۔
  • واقدی کو 'حسن المذهب' کہنا، حالانکہ وہ خود انہیں شیعہ مانتے ہیں[19]۔
  • هشام بن حکم کی تعریف کرنا جو امامت امام صادق (علیہ السلام) کے قائل تھے[20]۔
  • اہلِ سنت کے رجال نویسوں نے ہمیشہ ابنِ ندیم کے تشیع اور اعتزال کی طرف مائل ہونے کی تصریح کی ہے اور بعض اوقات ان پر سخت تنقید بھی کی ہے[21]۔
  • یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ امامیه کے علماء جیسے شیخ طوسی اور نجاشی، اگرچہ انہوں نے الفہرست سے استفادہ کیا ہے، لیکن انہوں نے ابنِ ندیم کو امامیہ کے رجال میں شمار نہیں کیا[22]۔

ابنِ ندیم کی تصانیف

ابنِ ندیم نے کثیر تعداد میں کتب تصنیف کیں، لیکن ان کی سب سے اہم اور عالمی شہرت یافتہ کتاب "الفہرست" ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں "الاوصاف والتشبیهات" بھی شامل ہے۔ ابنِ ندیم کی شہرت کا بڑا سبب ان کی کتاب "الفہرست" ہی ہے۔ الفہرست سن 377 ہجری (987 عیسوی) میں مکمل ہوئی اور ممکن ہے کہ اس کے بعد بھی ابنِ ندیم نے اس میں مزید معلومات کا اضافہ کیا ہو۔ یہ کتاب پہلی چار صدیوں ہجری میں عمومی کتابیات (ببلیوگرافی) کے حوالے سے جامع ترین اثر ہے، جس میں اس دور تک عربی زبان میں لکھی گئی تمام کتب کی فہرست اور ان کے مصنفین کے تعارف شامل ہیں۔ یہ کتاب اسلام سے قبل کے دور سے لے کر مصنف کے عہد تک تاریخ، ثقافت، ادب اور مذہب کا ایک دائرۃ المعارف کی حیثیت رکھتی ہے[23]۔[24]۔

وفات

ابنِ ندیم کی وفات کا سال مورخین کے درمیان محلِ اختلاف ہے۔ صفدی نے اسے 380 ہجری لکھا ہے، جبکہ مقریزی نے "بدھ 20 شعبان 380 ہجری" کو بغداد میں ان کی وفات درج کی ہے۔ نیز ابنِ نجار کے قول کے مطابق ایک جگہ ابنِ ندیم کی وفات "بدھ 20 شعبان 385 ہجری" اور دوسری جگہ "شعبان سنۃ ثمان و ثلاثین" (338 ہجری) بیان ہوئی ہے۔ بعض معاصرین نے مؤخر الذکر تاریخ کی بنیاد پر ان کی وفات پانچویں صدی ہجری کے اوائل میں لکھی ہے۔ پہلی صورت میں ظاہراً تحریفِ کتابت واقع ہوئی ہے، جبکہ دوسری صورت ابنِ ندیم کی پیدائش کے مذکورہ وقت کے پیشِ نظر بعید از قوت معلوم ہوتی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ الفہرست میں 380 ہجری کے بعد کی جو تواریخ ملتی ہیں، وہ قریباً یقیناً کاتبین کے اضافے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ مصنف نے خود اپنی کتاب میں قارئین سے درخواست کی تھی کہ وہ اس اثر کی تکمیل میں کوشش کریں۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. ابن شہر آشوب، ص143۔
  2. یاقوت، ص17-18۔
  3. ابن حجر، ج5، ص72-73۔
  4. "علم ابن الندیم بالیهودیه و النصرانیه"، ج8، ص84-113؛ ج10، ص156-183۔
  5. شیخ طوسی، ص41، ص68، مختلف مقامات؛ نجاشی، ص114؛ ابن شہر آشوب، ص143؛ فقطی، ج1، ص7، 8، 9؛ ابن ابی اصیبعہ، ج1، ص57، ص287۔
  6. ابن ندیم، ص94، ص181۔
  7. ابن ندیم، ص295۔
  8. ابن ندیم، ص202۔
  9. ابن ندیم، ص 201-202۔
  10. ابن ندیم، ص 201-202۔
  11. ابن ندیم، ص 287۔
  12. ابن ندیم، ص 231۔
  13. ابن ندیم، ص95، 120، 252۔
  14. ابن ندیم، ص 197، 276۔
  15. ابن ندیم، ص 27، 115، 136۔
  16. ابن ندیم، ص 115، 146، 224، 251۔
  17. ابن ندیم، ص 246، 287، 289۔
  18. ابن ندیم، ص 111۔
  19. ابن ندیم، ص 111۔
  20. ابن ندیم، ص 223-224۔
  21. یاقوت، ص17-18؛ تاریخ الاسلام۔
  22. ابن شہر آشوب، ص143۔
  23. «ابن ندیم، دائرةالمعارف اسلامی»۔
  24. مزید تفصیل کے لیے مدخل الفہرست ملاحظہ فرمائیں۔

سانچہ:علمائے اسلام