"عدل" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) « '''عدل'''، مسلمانوں کے بنیادی اعتقادی موضوعات میں سے ایک ہے۔ قرآن کریم کی آیات میں عادل ہونا اور عدل قائم کرنا خداوند کی ایک مثبت صفت کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ یعنی قرآن میں صرف خداوند کو ظلم و ستم سے منزّہ قرار دینے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ برا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 43: | سطر 43: | ||
«جب ہم خداوند کو عدل اور حکمت سے متصف کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ خداوند کوئی قبیح فعل انجام نہیں دیتا، نہ ہی اسے اختیار کرتا ہے، اور جو چیز اس پر واجب ہو اسے ترک نہیں کرتا، اور اس کے تمام افعال حسن ہیں۔» | «جب ہم خداوند کو عدل اور حکمت سے متصف کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ خداوند کوئی قبیح فعل انجام نہیں دیتا، نہ ہی اسے اختیار کرتا ہے، اور جو چیز اس پر واجب ہو اسے ترک نہیں کرتا، اور اس کے تمام افعال حسن ہیں۔» | ||
(نحن اذا وصفنا القدیم تعالی بانه عدل حکیم، فالمراد به انه لایفعل القبیح، او لا یختاره، و لا یخل بما هو واجب علیه، و ان افعاله کلها حسنة.)<ref>معتزلی، عبدالجبار بن احمد، شرح الاصول الخمسة، ص۲۰۳.</ref> | (نحن اذا وصفنا القدیم تعالی بانه عدل حکیم، فالمراد به انه لایفعل القبیح، او لا یختاره، و لا یخل بما هو واجب علیه، و ان افعاله کلها حسنة.)<ref>معتزلی، عبدالجبار بن احمد، شرح الاصول الخمسة، ص۲۰۳.</ref> | ||
:::writing | |||
=== سدید الدین حمصی کا نظریہ === | |||
شیخ سدید الدین حمصی (چھٹی صدی ہجری) نے اس بارے میں کہا ہے: | |||
«عدل کے بارے میں گفتگو دراصل خداوند کے افعال کے بارے میں گفتگو ہے، اور یہ کہ خداوند کے تمام افعال نیک اور پسندیدہ ہیں، وہ قبائح سے منزہ ہے اور جو چیز حکمت کے تقاضے سے لازم ہو اسے ترک نہیں کرتا۔ | |||
(الکلام فی العدل فی افعاله تعالی، و انها کلها حسنة، و تنزیهه عن القبائح و عن الاخلال بالواجب فی حکمته)»<ref>حمصی رازی، محمود بن علی، المنقذ من التقلید، ج۱، ص۱۵۰.</ref> | |||
=== حکیم لاہیجی کا نظریہ === | |||
حکیم لاہیجی نے بھی کہا ہے: | |||
«عدل سے مراد یہ ہے کہ واجب الوجود کی ذات افعالِ حسن و جمیل سے متصف ہو اور وہ ظلم و قبیح فعل سے منزہ ہو۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح توحید ذات و صفات میں واجب کا کمال ہے، اسی طرح عدل افعال میں واجب کا کمال ہے۔»<ref>لاہیجی قمی، ملاعبدالرزاق، سرمایہ ایمان، باب دوم.</ref> | |||
دیگر متکلمینِ عدلیہ نے بھی عدل کی اصطلاحی تعریف میں اسی قسم کے تعبیرات استعمال کیے ہیں۔ | |||
=== دیگر متکلمین کا نظریہ === | |||
متکلمینِ عدلیہ (خواہ شیعہ ہوں یا معتزلہ) اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ توحید اور عدل کے باب میں وہ [[علی بن ابیطالب|امام علی (علیہالسلام)]] کے مقروض ہیں۔ عدلِ الٰہی کی جو تعریف انہوں نے بیان کی ہے وہ دراصل امام علی (علیہالسلام) کے ایک قول سے ماخوذ ہے۔ | |||
آپ سے توحید اور عدل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: | |||
التوحید الا تتوهمه، و العدل الا تتهمه؛<ref>دشتی، محمد، نہج البلاغہ، ج۱، ص۳۸۶، حکمت ۴۷۰.</ref> | |||
یعنی توحید یہ ہے کہ تم خداوند کے بارے میں وہم و گمان سے فیصلہ نہ کرو، اور عدل یہ ہے کہ تم خداوند کو ناروا کاموں کا متہم نہ ٹھہراؤ۔ | |||
(اس قول کی شرح کے لیے ابن ابی الحدید اور ابن میثم بحرانی کی شرح نہج البلاغہ کی طرف رجوع مناسب ہے۔) | |||
اسی طرح کا قول امام صادق (علیہالسلام) سے بھی روایت ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: | |||
«اما التوحید فان لا تجوز علی خالقک ما جاز علیک، و اما العدل فان لا تنسب الی خالقک ما لامک علیه؛<ref>شیخ صدوق، محمد بن علی، التوحید، ص۹۶.</ref> | |||
توحید یہ ہے کہ جو صفاتِ نقص اور حاجت تم پر روا ہیں انہیں اپنے خالق کی طرف نسبت نہ دو، اور عدل یہ ہے کہ جس چیز پر خداوند نے تمہیں ملامت کیا ہے اسے خداوند کی طرف منسوب نہ کرو۔» | |||
== شیعہ عقائد میں عدل کا مقام == | |||
عدل علم، قدرت اور حکمت کی طرح خداوند کی صفات میں سے ہے؛ لیکن تشیع میں اسے اصولِ مذہب میں شمار کیا جاتا ہے اور علمِ کلام کی وسیع مباحث اسی سے متعلق ہیں۔ بعض اہلِ نظر کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی فرقوں نے مختلف اسباب کی بنا پر اس مسئلہ کے بارے میں خاص حساسیت دکھائی اور اس پر بہت اختلافات پیدا ہوئے۔<ref>پیام قرآن، ج۴، ص۴۱۸.</ref> | |||
جبکہ بعض دیگر علماء کے نزدیک عدل کی اہمیت کی اصل بنیاد قرآن کی تعلیمات میں ہے۔ قرآن کریم واضح طور پر کائنات کے نظام کو عدل، درستی، توازن اور مخلوقات کی قابلیت و استحقاق پر قائم قرار دیتا ہے۔<ref>آل عمران/سورہ۳، آیت۱۸.</ref><ref>الرحمن/سورہ۵۵، آیت۷.</ref> | |||
== قرآن کی آیات میں عدل == | |||
قرآنی آیات توحید، معاد اور نبوت کے ساتھ ساتھ فردی و اجتماعی مقاصد کو بھی عدل کے محور پر قرار دیتی ہیں۔ قرآن کا یہ طرزِ بیان انسان کے کائنات کے بارے میں تصور کو ایک خاص شکل دیتا ہے، ایک مخصوص قسم کی جہان بینی پیدا کرتا ہے اور فرد و معاشرے کی حرکت کے لیے عادلانہ معیار قائم کرتا ہے۔ | |||
لہٰذا شیعہ تعلیمات میں عدل کی بنیادی اہمیت کا اصل سبب بلا شبہ قرآنی تعلیمات ہیں، اگرچہ اس مسئلے میں مسلمانوں کے نظری مباحث اور اختلافات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔<ref>مطہری، مرتضیٰ، مجموعہ آثار، ج۱، ص۶۵-۵۹.</ref> | |||
=== سورہ بقرہ آیت ۲۸۶ === | |||
قرآن کریم فرماتا ہے: | |||
«لا یُکَلِّفُ اللهُ نفساً الّا وُسعَها». <ref>بقرہ (۲)، آیت۲۸۶.</ref> | |||
اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ | |||
لہٰذا عدلِ الٰہی کا ایک پہلو یہ ہے کہ خداوند انسان کے ساتھ اس کی قدرت اور اختیاری کوشش کے مطابق معاملہ کرتا ہے اور اسی بنیاد پر اسے استحقاق کے مطابق جزا یا سزا دیتا ہے۔ اس سلسلے میں دو آیات قابلِ توجہ ہیں: | |||
=== سورہ یونس آیت ۵۴ === | |||
پہلی آیت بیان کرتی ہے کہ گناہگاروں کو عدل کے مطابق سزا دی جائے گی: | |||
«... وَقُضِیَ بَینَهُم بِالقِسطِ وَهُم لا یُظلَمون». <ref>یونس (۱۰)، آیت۵۴.</ref> | |||
یعنی ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ | |||
=== سورہ یٰس آیت ۵۴ === | |||
دوسری آیت یاد دلاتی ہے کہ انجام کار نیکوکاروں کو ان کے اعمال کا اجر اور گناہگاروں کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی: | |||
«فَالیَومَ لا تُظلَمُ نَفسٌ شیئاً وَلا تُجزَونَ الّا ما کُنتُم تَعمَلون».<ref>یس (۳۶)، آیت۵۴.</ref> | |||
آج کسی جان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں صرف انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ | |||
== عدل کے اسباب == | |||
عدل کے لیے دو بنیادی اسباب بیان کیے جا سکتے ہیں: | |||
۱۔ حکیمانہ عمل انجام دینا۔ | |||
۲۔ دوسروں کے حقوق کی رعایت کرنا۔ | |||
ان دونوں اصولوں کی بنیاد پر خداوند کا عدل اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ تمام انسان یا تمام اشیاء برابر ہوں۔ مثال کے طور پر ایک عادل استاد وہ نہیں جو محنتی اور غیر محنتی شاگردوں کو یکساں انعام یا سزا دے؛ بلکہ عادل استاد وہ ہے جو ہر شاگرد کے استحقاق اور قابلیت کے مطابق اسے انعام یا سزا دے۔ | |||
اسی طرح حکمت اور عدلِ الٰہی کا تقاضا یہ بھی نہیں کہ تمام مخلوقات کو ایک جیسا پیدا کیا جائے۔ خالق کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا کو اس طرح پیدا کیا جائے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ خیر اور کمال پیدا ہو، اور مختلف مخلوقات کو ان کی مختلف ساخت کے ساتھ اس طرح پیدا کیا جائے کہ وہ اپنی خلقت کے آخری مقصد یعنی کمالِ نهایی کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ | |||
اسی طرح حکمت اور عدلِ الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کی قدرت کے مطابق ذمہ داری دی جائے اور اس کے اعمال کی بنیاد پر اسے جزا یا سزا دی جائے۔ | |||
== متکلمین کی اصطلاح میں حکمت == | |||
علمِ کلام میں لفظ حکمت مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے: | |||
=== حکمتِ عملی === | |||
حکمتِ علمی: یعنی بہترین علم کے ذریعے بہترین معلوم کی معرفت، جس کا مصداق خداوند کا اپنی ذات اور اپنے افعال کا علم ہے۔ | |||
«ان الحکمة عبارة عن معرفة افضل المعلومات بافضل العلوم، فالحکیم بمعنی العلیم». <ref>رازی، فخرالدین، شرح اسماء الله الحسنی، ص۲۷۹-۲۸۰.</ref> | |||
=== تخلیق میں احکام و اتقان === | |||
یعنی کائنات کی تخلیق اور تدبیر میں مضبوطی اور کمال۔ | |||
«حکیم فعیل بمعنی مفعل، کالیم بمعنی مؤلم، و معنی امر احکام فی حق الله تعالی فی خلق امر اشیاء اتقان التدبیر فیها و حسن التقدیر بها». <ref>رازی، فخرالدین، شرح اسماء الله الحسنی، ص۲۷۹-۲۸۰.</ref> | |||
قرآن کی آیت «الذی احسن کل شیء خلقه»<ref>سجده/سورہ۳۲، آیت۷.</ref> اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ | |||
علامہ حلی اس معنی کو یوں بیان کرتے ہیں: | |||
«حکمت کبھی اشیاء کی معرفت کے معنی میں ہوتی ہے اور کبھی کسی کام کو کامل اور بہترین طریقے سے انجام دینے کے معنی میں۔ چونکہ خدا کی معرفت سے بڑھ کر کوئی معرفت نہیں، اس لیے خداوند دونوں معنی میں حکیم ہے۔» <ref>علامہ حلی، کشف المراد، مقصد سوم، فصل سوم.</ref><ref>ملاصدرا، محمد بن ابراہیم، اسفار، ج۶، ص۳۶۸.</ref> | |||
=== تنزہ اور پاکیزگی === | |||
فاعل کا قبیح اور ناروا افعال سے پاک ہونا۔ فخرالدین رازی لکھتے ہیں: | |||
«الثالث: الحکمة عبارة عن کونه مقدسا عن فعل مالا ینبغی» | |||
یعنی حکمت کا تیسرا معنی یہ ہے کہ خداوند ایسے کاموں سے پاک ہے جو شایانِ شان نہیں۔ | |||
انہوں نے اس کے لیے دو آیات پیش کی ہیں: | |||
۱۔ «ا فحسبتم انما خلقناکم عبثا و انکم الینا لا ترجعون». <ref>مؤمنون/سورہ۲۳، آیت۱۱۵.</ref> | |||
۲۔ «و ما خلقنا السماء و الارض و ما بینهما باطلا». <ref>ص/سورہ۳۸، آیت۲۷.</ref> | |||
=== افعالِ الٰہی کا بامقصد ہونا === | |||
یعنی خداوند کے افعال کا مقصد اور غایت ہونا۔ حکیم لاہیجی نے عدلِ الٰہی کے مباحث میں ایک فصل کو اسی معنی کی وضاحت کے لیے مخصوص کرتے ہوئے لکھا ہے: | |||
«جان لو کہ اگر خداوند کے افعال کا کوئی مقصد نہ ہو تو وہ عبث ہوں گے، اور واجب الوجود سے عبث فعل کا صادر ہونا محال ہے۔» | |||
== عدلِ الٰہی کے اثبات کے دلائل == | |||
=== عقلی دلائل === | |||
الف) حسن و قبح کے اصول کے مطابق ظلم قبیح ہے اور خداوندِ حکیم قبیح فعل سے منزہ ہے، کیونکہ قبیح فعل ملامت کا مستحق ہوتا ہے اور حکیم ایسا فعل انجام نہیں دیتا۔ | |||
ب) ظلم کے اسباب میں حاجت، جہالت، خودخواہی، ضعف، انتقام اور حسد شامل ہیں۔ یہ تمام صفات نقص ہیں اور خداوند کی ذات ہر نقص سے پاک ہے، کیونکہ وہ کمالِ مطلق ہے۔ لہٰذا خداوند سے صرف خیر، عدالت، رأفت اور رحمت ہی صادر ہوتی ہے، اور جو سزا بدکاروں کو ملتی ہے وہ دراصل ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ | |||
=== نقلی دلائل === | |||
بہت سی قرآنی آیات اور روایات عدلِ الٰہی کی گواہی دیتی ہیں اور صراحت یا اشارے کے ساتھ خداوند کی ذات کو ظلم اور ستم سے منزہ قرار دیتی ہیں۔<ref>یونس/سورہ۱۰، آیت۴۴.</ref><ref>کہف/سورہ۱۸، آیت۴۹.</ref><ref>توبہ/سورہ۹، آیت۷.</ref><ref>روم/سورہ۳۰، آیت۹.</ref><ref>آل عمران/سورہ۳، آیت۱۰۸.</ref><ref>انبیاء/سورہ۲۱، آیت۴۷.</ref><ref>فصلت/سورہ۴۱، آیت۴۶.</ref><ref>امام علی علیہالسلام، نہج البلاغہ، خ۱۸۵.</ref><ref>امام علی علیہالسلام، نہج البلاغہ، خ۱۹۱.</ref><ref>امام علی علیہالسلام، نہج البلاغہ، خ۲۱۴.</ref><ref>بحار الانوار، ج۳، ص۳۰۶.</ref><ref>بحار الانوار، ج۵، ص۵۱.</ref> | |||
== نتیجہ == | |||
عدل اور حکمت کے بارے میں متکلمین کی اصطلاحات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ علمِ کلام میں حکمت کا استعمال عدل سے زیادہ عام ہے، کیونکہ حکمت علم کو بھی شامل ہے جبکہ عدل صرف افعالِ الٰہی سے متعلق ہے۔ دوسری طرف حکمت کا تیسرا معنی (قبیح فعل سے پاک ہونا) علمِ کلام میں عدل کے معنی کے برابر ہے، کیونکہ دونوں کا مفہوم یہ ہے کہ خداوند کے افعال ہر قسم کی قباحت اور برائی سے منزہ ہیں۔ | |||
دوسرے الفاظ میں دونوں کا تعلق عقلِ عملی کے دائرے سے ہے، یعنی وہ میدان جس میں “کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے” جیسے اصول زیرِ بحث آتے ہیں۔ اس طرح افعالِ الٰہی کے بارے میں حکمت کے استعمالات بھی علمِ کلام میں عدل کے استعمالات سے زیادہ وسیع ہیں۔ | |||
اسی طرح حکمت کے اس معنی کو کہ فعل میں اتقان اور استحکام ہو، اس معنی کی طرف بھی لوٹایا جا سکتا ہے کہ فعل ہر قسم کی ناروا بات سے پاک ہو، کیونکہ دانا اور قادر فاعل کے لیے غیر محکم اور ناقص فعل مناسب نہیں ہوتا۔ اسی طرح افعال کے غایتمند ہونے کا معنی بھی اسی تیسرے معنی (قبیح فعل سے تنزہ) کی ایک مثال ہے۔ | |||
عدل اور حکمت کے درمیان یہی گہرا تعلق اس بات کا سبب بنا ہے کہ متکلمین عام طور پر ان دونوں اصطلاحات کو ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں اور عدلِ الٰہی کے مباحث میں دونوں کو ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ | |||
== مآخذ == | |||
* سائٹ اندیشہ قم، مقالہ «تعریف عدل الٰہی» سے ماخوذ، تاریخ بازیابی: ۱۳۹۵/۰۲/۲۱۔ | |||
* پژوهشکدہ تحقیقات اسلامی، فرهنگ شیعہ، ص۳۳۴، انتشارات زمزم ہدایت۔ | |||
* عدل الٰہی، محمدتقی رکنی لموکی۔ | |||
== متعلقه مضامین == | |||
* [[شیعہ]] | |||
* [[معتزله]] | |||
* [[اشاعره]] | |||
* [[وہابیت]] | |||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ:مفاہیم اور اصطلاحات]] | |||
[[fa: عدل]] | |||
نسخہ بمطابق 13:31، 10 مئی 2026ء
عدل، مسلمانوں کے بنیادی اعتقادی موضوعات میں سے ایک ہے۔ قرآن کریم کی آیات میں عادل ہونا اور عدل قائم کرنا خداوند کی ایک مثبت صفت کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ یعنی قرآن میں صرف خداوند کو ظلم و ستم سے منزّہ قرار دینے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ براہِ راست خداوند کے لیے صفتِ عدالت کو بھی ثابت کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: «شهدالله انه لا اله الا هو والملائکة واولوالعلم قائما بالقسط؛ اللہ، فرشتے اور علم رکھنے والے گواہی دیتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عدل کو قائم رکھنے والا ہے»۔[1] لہٰذا اسلام کی نظر میں عدلِ الٰہی ایک حقیقی امر ہے اور عدالت ان صفات میں سے ہے جن سے یقیناً خداوند کو متصف کرنا چاہیے۔
عدل کے معانی
عربی لغات میں لفظ عدل کے لیے مختلف معانی اور استعمالات ذکر کیے گئے ہیں، جن میں اہم ترین یہ ہیں: توازن اور تناسب، مساوات اور برابری، اعتدال یا امور میں درمیانی حد کی رعایت، اور استواری و استقامت۔[2][3][4][5][6] ان تمام معانی کا جامع مفہوم یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جائے، اس طرح کہ وہ اپنے وجود اور کمالات میں سے اپنا مناسب اور شایستہ حصہ حاصل کرے اور دوسروں کے حق میں تجاوز نہ کرے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ امام علی (علیہالسلام) کا یہ قول کہ: «العدل یضع الامور مواضعها»[7] اس بارے میں نہایت دقیق تعبیر ہے۔ اسی طرح فلاسفہ کی یہ عبارت بھی: «وضع کل شیء فی موضعه و اعطاء کل ذی حق حقه»[8] اسی معنی کو بیان کرتی ہے۔
مولوی نے اسی مفہوم کو نظم کی صورت میں اور تمثیل کے ذریعے یوں بیان کیا ہے: عدل کیا ہے؟ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھنا ظلم کیا ہے؟ کسی چیز کو نامناسب جگہ رکھنا
عدل کیا ہے؟ درختوں کو پانی دینا ظلم کیا ہے؟ کانٹوں کو پانی دینا[9]
حکمت لغت اور اصطلاح میں
لفظ حکمت کے لغوی استعمالات میں استواری اور نقص، خلل اور فساد سے روکنا مراد لیا جاتا ہے۔ چنانچہ گھوڑے کی لگام کو «حکمہ» کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ گھوڑے کو سرکشی اور بے ترتیب حرکتوں سے روکتی ہے۔ شارع کو اس لیے مولیٰ اور حاکم کہا جاتا ہے کہ وہ مکلف کو ناپسندیدہ اعمال سے روکتا ہے۔ قاضی کو اس لیے حاکم کہا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے حقوق کے ضائع ہونے اور دوسروں کے حقوق پر تعدی کو روکتا ہے۔ علمی تصدیق کو حکم اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ ذہن کے شک اور تردید کو دور کر دیتی ہے۔ جب کوئی چیز استواری اور مضبوطی رکھتی ہو تو وہ اختلال سے محفوظ رہتی ہے۔
لہٰذا لفظ حکمت خلل سے محفوظ ہونے، استواری اور استحکام کے ساتھ ملازم ہے، چاہے اس کا تعلق علم سے ہو یا عمل سے۔[10][11][12]
اسلامی حکما کی نظر میں عدلِ الٰہی
مسلم حکما کے نزدیک عدلِ الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ خداوند موجودات کو وجود اور کمال عطا کرتے وقت ان کی قابلیت اور لیاقت کو نظرانداز نہیں کرتا۔ تناسب اور ہم آہنگی نظامِ آفرینش کی خصوصیات میں سے ہیں۔ اس نظام میں مظاہر کے درمیان توازن اور تناسب ملحوظ رکھا گیا ہے۔ عدل کا معنی محض برابری نہیں ہے۔ دنیا کے مظاہر کے درمیان حکمتِ الٰہی کی بنیاد پر کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں جو برابری کی نشاندہی نہیں کرتے، مگر وہ عادلانہ ہیں۔
علامہ طباطبائی کا نظریہ
علامہ طباطبائی نے حقیقتِ عدل کی تحلیل کرتے ہوئے فرمایا: حقیقتِ عدل یہ ہے: «اقامة المساواة و الموازنة بین الامور بان یعطی کل من السهم ما ینبغی ان یعطاه. فیتساوی فی ان کلا منها واقع فی موضعه الذی یستحقه؛[13] عدل کی حقیقت یہ ہے کہ امور کے درمیان مساوات اور توازن قائم کیا جائے، اس طرح کہ ہر ایک کو اس کا مناسب حصہ دیا جائے۔ نتیجتاً سب اس لحاظ سے برابر ہوتے ہیں کہ ہر ایک اپنے شایستہ مقام پر واقع ہوتا ہے۔»
پھر مزید فرماتے ہیں: «جو کچھ بیان ہوا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ عدل حسن کے ساتھ ملازم ہے، کیونکہ امور میں حسن و زیبائی اس میں ہے کہ ہر چیز ایسی ہو جسے انسانی نفس پسند کرے اور اس کی طرف مائل ہو۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز کا اپنے مناسب مقام پر قرار پانا اسی قسم کی زیبائی کو لازم قرار دیتا ہے۔»[14]
استاد مطہری کا نظریہ
استاد مطہری عدل کے مختلف معانی بیان کرنے کے بعد اس کے کلامی مفہوم کو یوں بیان کرتے ہیں: «وجود عطا کرنے میں استحقاق کا لحاظ رکھنا اور جس چیز میں وجود یا کمالِ وجود کی قابلیت ہو اسے فیض اور رحمت سے محروم نہ کرنا۔»[15]
دیگر متکلمینِ عدلیہ نے بھی عدل کی اصطلاحی تعریف میں اسی قسم کے تعبیرات استعمال کیے ہیں۔[16]
متکلمین کی اصطلاح میں عدل
علم کلام میں عدل کا موضوع خداوند کا فعل ہے اور اس کی حقیقت حسن اور نیکی ہے۔ یعنی خداوند کے تمام افعال حسن اور پسندیدہ ہیں، اور خداوند کبھی کوئی قبیح یا ناپسندیدہ فعل انجام نہیں دیتا اور جو چیز واجب اور نیک ہو اسے ترک نہیں کرتا۔ اس سلسلے میں بعض متکلمین کے اقوال ذکر کیے جاتے ہیں:
قاضی عبدالجبار کا نظریہ
معتزلی عالم قاضی عبدالجبار (متوفی ۴۱۵ھ) کہتے ہیں: «جب ہم خداوند کو عدل اور حکمت سے متصف کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ خداوند کوئی قبیح فعل انجام نہیں دیتا، نہ ہی اسے اختیار کرتا ہے، اور جو چیز اس پر واجب ہو اسے ترک نہیں کرتا، اور اس کے تمام افعال حسن ہیں۔» (نحن اذا وصفنا القدیم تعالی بانه عدل حکیم، فالمراد به انه لایفعل القبیح، او لا یختاره، و لا یخل بما هو واجب علیه، و ان افعاله کلها حسنة.)[17]
- writing
سدید الدین حمصی کا نظریہ
شیخ سدید الدین حمصی (چھٹی صدی ہجری) نے اس بارے میں کہا ہے: «عدل کے بارے میں گفتگو دراصل خداوند کے افعال کے بارے میں گفتگو ہے، اور یہ کہ خداوند کے تمام افعال نیک اور پسندیدہ ہیں، وہ قبائح سے منزہ ہے اور جو چیز حکمت کے تقاضے سے لازم ہو اسے ترک نہیں کرتا۔ (الکلام فی العدل فی افعاله تعالی، و انها کلها حسنة، و تنزیهه عن القبائح و عن الاخلال بالواجب فی حکمته)»[18]
حکیم لاہیجی کا نظریہ
حکیم لاہیجی نے بھی کہا ہے: «عدل سے مراد یہ ہے کہ واجب الوجود کی ذات افعالِ حسن و جمیل سے متصف ہو اور وہ ظلم و قبیح فعل سے منزہ ہو۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح توحید ذات و صفات میں واجب کا کمال ہے، اسی طرح عدل افعال میں واجب کا کمال ہے۔»[19] دیگر متکلمینِ عدلیہ نے بھی عدل کی اصطلاحی تعریف میں اسی قسم کے تعبیرات استعمال کیے ہیں۔
دیگر متکلمین کا نظریہ
متکلمینِ عدلیہ (خواہ شیعہ ہوں یا معتزلہ) اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ توحید اور عدل کے باب میں وہ امام علی (علیہالسلام) کے مقروض ہیں۔ عدلِ الٰہی کی جو تعریف انہوں نے بیان کی ہے وہ دراصل امام علی (علیہالسلام) کے ایک قول سے ماخوذ ہے۔ آپ سے توحید اور عدل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:
التوحید الا تتوهمه، و العدل الا تتهمه؛[20] یعنی توحید یہ ہے کہ تم خداوند کے بارے میں وہم و گمان سے فیصلہ نہ کرو، اور عدل یہ ہے کہ تم خداوند کو ناروا کاموں کا متہم نہ ٹھہراؤ۔ (اس قول کی شرح کے لیے ابن ابی الحدید اور ابن میثم بحرانی کی شرح نہج البلاغہ کی طرف رجوع مناسب ہے۔)
اسی طرح کا قول امام صادق (علیہالسلام) سے بھی روایت ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: «اما التوحید فان لا تجوز علی خالقک ما جاز علیک، و اما العدل فان لا تنسب الی خالقک ما لامک علیه؛[21] توحید یہ ہے کہ جو صفاتِ نقص اور حاجت تم پر روا ہیں انہیں اپنے خالق کی طرف نسبت نہ دو، اور عدل یہ ہے کہ جس چیز پر خداوند نے تمہیں ملامت کیا ہے اسے خداوند کی طرف منسوب نہ کرو۔»
شیعہ عقائد میں عدل کا مقام
عدل علم، قدرت اور حکمت کی طرح خداوند کی صفات میں سے ہے؛ لیکن تشیع میں اسے اصولِ مذہب میں شمار کیا جاتا ہے اور علمِ کلام کی وسیع مباحث اسی سے متعلق ہیں۔ بعض اہلِ نظر کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی فرقوں نے مختلف اسباب کی بنا پر اس مسئلہ کے بارے میں خاص حساسیت دکھائی اور اس پر بہت اختلافات پیدا ہوئے۔[22] جبکہ بعض دیگر علماء کے نزدیک عدل کی اہمیت کی اصل بنیاد قرآن کی تعلیمات میں ہے۔ قرآن کریم واضح طور پر کائنات کے نظام کو عدل، درستی، توازن اور مخلوقات کی قابلیت و استحقاق پر قائم قرار دیتا ہے۔[23][24]
قرآن کی آیات میں عدل
قرآنی آیات توحید، معاد اور نبوت کے ساتھ ساتھ فردی و اجتماعی مقاصد کو بھی عدل کے محور پر قرار دیتی ہیں۔ قرآن کا یہ طرزِ بیان انسان کے کائنات کے بارے میں تصور کو ایک خاص شکل دیتا ہے، ایک مخصوص قسم کی جہان بینی پیدا کرتا ہے اور فرد و معاشرے کی حرکت کے لیے عادلانہ معیار قائم کرتا ہے۔ لہٰذا شیعہ تعلیمات میں عدل کی بنیادی اہمیت کا اصل سبب بلا شبہ قرآنی تعلیمات ہیں، اگرچہ اس مسئلے میں مسلمانوں کے نظری مباحث اور اختلافات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔[25]
سورہ بقرہ آیت ۲۸۶
قرآن کریم فرماتا ہے: «لا یُکَلِّفُ اللهُ نفساً الّا وُسعَها». [26] اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
لہٰذا عدلِ الٰہی کا ایک پہلو یہ ہے کہ خداوند انسان کے ساتھ اس کی قدرت اور اختیاری کوشش کے مطابق معاملہ کرتا ہے اور اسی بنیاد پر اسے استحقاق کے مطابق جزا یا سزا دیتا ہے۔ اس سلسلے میں دو آیات قابلِ توجہ ہیں:
سورہ یونس آیت ۵۴
پہلی آیت بیان کرتی ہے کہ گناہگاروں کو عدل کے مطابق سزا دی جائے گی: «... وَقُضِیَ بَینَهُم بِالقِسطِ وَهُم لا یُظلَمون». [27] یعنی ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
سورہ یٰس آیت ۵۴
دوسری آیت یاد دلاتی ہے کہ انجام کار نیکوکاروں کو ان کے اعمال کا اجر اور گناہگاروں کو ان کے اعمال کی سزا ملے گی: «فَالیَومَ لا تُظلَمُ نَفسٌ شیئاً وَلا تُجزَونَ الّا ما کُنتُم تَعمَلون».[28] آج کسی جان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں صرف انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ہو۔
عدل کے اسباب
عدل کے لیے دو بنیادی اسباب بیان کیے جا سکتے ہیں: ۱۔ حکیمانہ عمل انجام دینا۔ ۲۔ دوسروں کے حقوق کی رعایت کرنا۔
ان دونوں اصولوں کی بنیاد پر خداوند کا عدل اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ تمام انسان یا تمام اشیاء برابر ہوں۔ مثال کے طور پر ایک عادل استاد وہ نہیں جو محنتی اور غیر محنتی شاگردوں کو یکساں انعام یا سزا دے؛ بلکہ عادل استاد وہ ہے جو ہر شاگرد کے استحقاق اور قابلیت کے مطابق اسے انعام یا سزا دے۔
اسی طرح حکمت اور عدلِ الٰہی کا تقاضا یہ بھی نہیں کہ تمام مخلوقات کو ایک جیسا پیدا کیا جائے۔ خالق کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا کو اس طرح پیدا کیا جائے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ خیر اور کمال پیدا ہو، اور مختلف مخلوقات کو ان کی مختلف ساخت کے ساتھ اس طرح پیدا کیا جائے کہ وہ اپنی خلقت کے آخری مقصد یعنی کمالِ نهایی کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ اسی طرح حکمت اور عدلِ الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کی قدرت کے مطابق ذمہ داری دی جائے اور اس کے اعمال کی بنیاد پر اسے جزا یا سزا دی جائے۔
متکلمین کی اصطلاح میں حکمت
علمِ کلام میں لفظ حکمت مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے:
حکمتِ عملی
حکمتِ علمی: یعنی بہترین علم کے ذریعے بہترین معلوم کی معرفت، جس کا مصداق خداوند کا اپنی ذات اور اپنے افعال کا علم ہے۔ «ان الحکمة عبارة عن معرفة افضل المعلومات بافضل العلوم، فالحکیم بمعنی العلیم». [29]
تخلیق میں احکام و اتقان
یعنی کائنات کی تخلیق اور تدبیر میں مضبوطی اور کمال۔ «حکیم فعیل بمعنی مفعل، کالیم بمعنی مؤلم، و معنی امر احکام فی حق الله تعالی فی خلق امر اشیاء اتقان التدبیر فیها و حسن التقدیر بها». [30]
قرآن کی آیت «الذی احسن کل شیء خلقه»[31] اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
علامہ حلی اس معنی کو یوں بیان کرتے ہیں: «حکمت کبھی اشیاء کی معرفت کے معنی میں ہوتی ہے اور کبھی کسی کام کو کامل اور بہترین طریقے سے انجام دینے کے معنی میں۔ چونکہ خدا کی معرفت سے بڑھ کر کوئی معرفت نہیں، اس لیے خداوند دونوں معنی میں حکیم ہے۔» [32][33]
تنزہ اور پاکیزگی
فاعل کا قبیح اور ناروا افعال سے پاک ہونا۔ فخرالدین رازی لکھتے ہیں: «الثالث: الحکمة عبارة عن کونه مقدسا عن فعل مالا ینبغی» یعنی حکمت کا تیسرا معنی یہ ہے کہ خداوند ایسے کاموں سے پاک ہے جو شایانِ شان نہیں۔
انہوں نے اس کے لیے دو آیات پیش کی ہیں: ۱۔ «ا فحسبتم انما خلقناکم عبثا و انکم الینا لا ترجعون». [34] ۲۔ «و ما خلقنا السماء و الارض و ما بینهما باطلا». [35]
افعالِ الٰہی کا بامقصد ہونا
یعنی خداوند کے افعال کا مقصد اور غایت ہونا۔ حکیم لاہیجی نے عدلِ الٰہی کے مباحث میں ایک فصل کو اسی معنی کی وضاحت کے لیے مخصوص کرتے ہوئے لکھا ہے: «جان لو کہ اگر خداوند کے افعال کا کوئی مقصد نہ ہو تو وہ عبث ہوں گے، اور واجب الوجود سے عبث فعل کا صادر ہونا محال ہے۔»
عدلِ الٰہی کے اثبات کے دلائل
عقلی دلائل
الف) حسن و قبح کے اصول کے مطابق ظلم قبیح ہے اور خداوندِ حکیم قبیح فعل سے منزہ ہے، کیونکہ قبیح فعل ملامت کا مستحق ہوتا ہے اور حکیم ایسا فعل انجام نہیں دیتا۔
ب) ظلم کے اسباب میں حاجت، جہالت، خودخواہی، ضعف، انتقام اور حسد شامل ہیں۔ یہ تمام صفات نقص ہیں اور خداوند کی ذات ہر نقص سے پاک ہے، کیونکہ وہ کمالِ مطلق ہے۔ لہٰذا خداوند سے صرف خیر، عدالت، رأفت اور رحمت ہی صادر ہوتی ہے، اور جو سزا بدکاروں کو ملتی ہے وہ دراصل ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔
نقلی دلائل
بہت سی قرآنی آیات اور روایات عدلِ الٰہی کی گواہی دیتی ہیں اور صراحت یا اشارے کے ساتھ خداوند کی ذات کو ظلم اور ستم سے منزہ قرار دیتی ہیں۔[36][37][38][39][40][41][42][43][44][45][46][47]
نتیجہ
عدل اور حکمت کے بارے میں متکلمین کی اصطلاحات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ علمِ کلام میں حکمت کا استعمال عدل سے زیادہ عام ہے، کیونکہ حکمت علم کو بھی شامل ہے جبکہ عدل صرف افعالِ الٰہی سے متعلق ہے۔ دوسری طرف حکمت کا تیسرا معنی (قبیح فعل سے پاک ہونا) علمِ کلام میں عدل کے معنی کے برابر ہے، کیونکہ دونوں کا مفہوم یہ ہے کہ خداوند کے افعال ہر قسم کی قباحت اور برائی سے منزہ ہیں۔
دوسرے الفاظ میں دونوں کا تعلق عقلِ عملی کے دائرے سے ہے، یعنی وہ میدان جس میں “کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے” جیسے اصول زیرِ بحث آتے ہیں۔ اس طرح افعالِ الٰہی کے بارے میں حکمت کے استعمالات بھی علمِ کلام میں عدل کے استعمالات سے زیادہ وسیع ہیں۔
اسی طرح حکمت کے اس معنی کو کہ فعل میں اتقان اور استحکام ہو، اس معنی کی طرف بھی لوٹایا جا سکتا ہے کہ فعل ہر قسم کی ناروا بات سے پاک ہو، کیونکہ دانا اور قادر فاعل کے لیے غیر محکم اور ناقص فعل مناسب نہیں ہوتا۔ اسی طرح افعال کے غایتمند ہونے کا معنی بھی اسی تیسرے معنی (قبیح فعل سے تنزہ) کی ایک مثال ہے۔
عدل اور حکمت کے درمیان یہی گہرا تعلق اس بات کا سبب بنا ہے کہ متکلمین عام طور پر ان دونوں اصطلاحات کو ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں اور عدلِ الٰہی کے مباحث میں دونوں کو ساتھ ذکر کرتے ہیں۔
مآخذ
- سائٹ اندیشہ قم، مقالہ «تعریف عدل الٰہی» سے ماخوذ، تاریخ بازیابی: ۱۳۹۵/۰۲/۲۱۔
- پژوهشکدہ تحقیقات اسلامی، فرهنگ شیعہ، ص۳۳۴، انتشارات زمزم ہدایت۔
- عدل الٰہی، محمدتقی رکنی لموکی۔
متعلقه مضامین
حوالہ جات
- ↑ آل عمران/سورہ۳، آیت۱۸.
- ↑ معجم مقاییس اللغة، ابن فارس، ج ۴، ص ۲۴۶.
- ↑ شرتونی، سعید، اقرب الموارد، ج۲، ص۷۵۳.
- ↑ شرتونی، سعید، اقرب الموارد، ج۳، ص۴۹۴.
- ↑ فیومی، احمد بن محمد، المصباح المنیر، ص۵۱-۵۲.
- ↑ راغب اصفہانی، حسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، ص۳۲۵.
- ↑ دشتی، محمد، نہج البلاغہ، ج۱، ص۳۸۲، حکمت ۴۳۷.
- ↑ حکیم سبزواری، ملا ہادی، شرح الاسماء الحسنی، ص۵۴.
- ↑ مثنوی معنوی، ص۱۱۶۹، چاپ نہم، دفتر ششم.
- ↑ فیومی، احمد بن محمد، المصباح المنیر، ج۱، ص۱۷۸.
- ↑ راغب اصفہانی، حسین بن محمد، المفردات فی غریب القرآن، ص۱۳۶.
- ↑ طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، ج۷، ص۲۵۴.
- ↑ طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، ج۱۲، ص۳۳۱.
- ↑ طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان، ج۱۲، ص۳۳۱.
- ↑ مطہری، مرتضیٰ، مجموعہ آثار، ج۱، ص۸۱-۸۲.
- ↑ عقائد استدلالی (۱)، ص۱۶۶.
- ↑ معتزلی، عبدالجبار بن احمد، شرح الاصول الخمسة، ص۲۰۳.
- ↑ حمصی رازی، محمود بن علی، المنقذ من التقلید، ج۱، ص۱۵۰.
- ↑ لاہیجی قمی، ملاعبدالرزاق، سرمایہ ایمان، باب دوم.
- ↑ دشتی، محمد، نہج البلاغہ، ج۱، ص۳۸۶، حکمت ۴۷۰.
- ↑ شیخ صدوق، محمد بن علی، التوحید، ص۹۶.
- ↑ پیام قرآن، ج۴، ص۴۱۸.
- ↑ آل عمران/سورہ۳، آیت۱۸.
- ↑ الرحمن/سورہ۵۵، آیت۷.
- ↑ مطہری، مرتضیٰ، مجموعہ آثار، ج۱، ص۶۵-۵۹.
- ↑ بقرہ (۲)، آیت۲۸۶.
- ↑ یونس (۱۰)، آیت۵۴.
- ↑ یس (۳۶)، آیت۵۴.
- ↑ رازی، فخرالدین، شرح اسماء الله الحسنی، ص۲۷۹-۲۸۰.
- ↑ رازی، فخرالدین، شرح اسماء الله الحسنی، ص۲۷۹-۲۸۰.
- ↑ سجده/سورہ۳۲، آیت۷.
- ↑ علامہ حلی، کشف المراد، مقصد سوم، فصل سوم.
- ↑ ملاصدرا، محمد بن ابراہیم، اسفار، ج۶، ص۳۶۸.
- ↑ مؤمنون/سورہ۲۳، آیت۱۱۵.
- ↑ ص/سورہ۳۸، آیت۲۷.
- ↑ یونس/سورہ۱۰، آیت۴۴.
- ↑ کہف/سورہ۱۸، آیت۴۹.
- ↑ توبہ/سورہ۹، آیت۷.
- ↑ روم/سورہ۳۰، آیت۹.
- ↑ آل عمران/سورہ۳، آیت۱۰۸.
- ↑ انبیاء/سورہ۲۱، آیت۴۷.
- ↑ فصلت/سورہ۴۱، آیت۴۶.
- ↑ امام علی علیہالسلام، نہج البلاغہ، خ۱۸۵.
- ↑ امام علی علیہالسلام، نہج البلاغہ، خ۱۹۱.
- ↑ امام علی علیہالسلام، نہج البلاغہ، خ۲۱۴.
- ↑ بحار الانوار، ج۳، ص۳۰۶.
- ↑ بحار الانوار، ج۵، ص۵۱.