"شوکت میر ضیایف" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 15: | سطر 15: | ||
| faith = [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]] | | faith = [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]] | ||
| works = ازبکستان کی قومی زرعی یونیورسٹی (تکنیکی علوم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری) | | works = ازبکستان کی قومی زرعی یونیورسٹی (تکنیکی علوم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری) | ||
| known for = {افقی فہرست| ازبکستان کے صدر | ازبکستان کے وزیر اعظم | جیزاخ کے گورنر | سمرقند کے گورنر | | known for = {افقی فہرست| ازبکستان کے صدر | ازبکستان کے وزیر اعظم | جیزاخ کے گورنر | سمرقند کے گورنر}} | ||
}} | |||
'''شوکت میرضیایف'''، ایک ازبک سیاستدان اور انجینئر ہیں، جو 2016ء سے اب تک، ازبکستان کی آزادی کے بعد دوسرے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صدر بننے سے قبل وہ ازبکستان کے وزیر اعظم (2003-2016ء) اور جیزاخ و سمرقند علاقوں کے گورنر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ میرضیایف نے اپنی ذمہ داریوں کے دوران، ملک کے اندر اور بیرون ملک اصلاحاتی پالیسیوں کا آغاز کیا، جس کی وجہ سے سرحدیں کھل گئیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے، سیاسی قیدیوں کی آزادی ہوئی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں (خاص طور پر کپاس کی فصل میں جبری مشقت) کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ | '''شوکت میرضیایف'''، ایک ازبک سیاستدان اور انجینئر ہیں، جو 2016ء سے اب تک، ازبکستان کی آزادی کے بعد دوسرے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صدر بننے سے قبل وہ ازبکستان کے وزیر اعظم (2003-2016ء) اور جیزاخ و سمرقند علاقوں کے گورنر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ میرضیایف نے اپنی ذمہ داریوں کے دوران، ملک کے اندر اور بیرون ملک اصلاحاتی پالیسیوں کا آغاز کیا، جس کی وجہ سے سرحدیں کھل گئیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے، سیاسی قیدیوں کی آزادی ہوئی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں (خاص طور پر کپاس کی فصل میں جبری مشقت) کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ | ||
نسخہ بمطابق 20:56، 9 مئی 2026ء
| شوکت میر ضیایف | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | شوکت میمیوناوغلی میرضیایف |
| دوسرے نام | شوکت میرضیایف |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1957ء |
| یوم پیدائش | 24 جون |
| پیدائش کی جگہ | جیزاخ علاقے ، ازبکستان سوشلسٹ جمہوریہ (سابق سوویت یونین) |
| وفات | death dat |
| مذہب | اسلام، سنی |
| اثرات | ازبکستان کی قومی زرعی یونیورسٹی (تکنیکی علوم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری) |
| مناصب | {افقی فہرست |
شوکت میرضیایف، ایک ازبک سیاستدان اور انجینئر ہیں، جو 2016ء سے اب تک، ازبکستان کی آزادی کے بعد دوسرے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صدر بننے سے قبل وہ ازبکستان کے وزیر اعظم (2003-2016ء) اور جیزاخ و سمرقند علاقوں کے گورنر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ میرضیایف نے اپنی ذمہ داریوں کے دوران، ملک کے اندر اور بیرون ملک اصلاحاتی پالیسیوں کا آغاز کیا، جس کی وجہ سے سرحدیں کھل گئیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے، سیاسی قیدیوں کی آزادی ہوئی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں (خاص طور پر کپاس کی فصل میں جبری مشقت) کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔
سوانح زندگی
میرضیایف 24 جولائی 1957ء کو جیزاخ علاقے میں، ازبکستان سوشلسٹ جمہوریہ (سابق سوویت یونین) میں پیدا ہوئے۔ وہ شادی شدہ اور پانچ بچوں کے والد ہیں۔ انہوں نے ۱۹۸۱ء میں تاشقند انسٹی ٹیوٹ آف ایرگیشن اینڈ لینڈ ری کلیمیشن سے گریجویٹ کیا اور فنی علوم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
1980ء کی دہائی کے آخر میں انہوں نے سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور ۱۹۹۰ء کی دہائی کے آغاز میں ازبکستان کی اعلیٰ کونسل کے نمائندہ منتخب ہوئے۔
انتظامی تجربات میں جیزاخ علاقے کی گورنری (۱۹۹۶-۲۰۰۱ء) اور سمرقند علاقے کی گورنری (۲۰۰۱-۲۰۰۳ء) شامل ہیں۔ دسمبر ۲۰۰۳ء میں اسلام کریموف (صدر وقت) نے انہیں وزیر اعظم مقرر کیا اور وہ ستمبر ۲۰۱۶ء تک اس عہدہ پر باقی رہے۔ وہ ایک فنی اور عملی سوچ رکھنے والے شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، جن کی توجہ اقتصادی اور بنیادی ڈھانچوں کے مسائل پر رہتی ہے۔
وزارت عظمیٰ کا دور
میرضیایف کے وزارت عظمیٰ کے دور میں ازبکستان نے جنوبی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو وسعت دی۔ ۲۰۰۶ء میں، ازبکستان کی یورینیم دھات جنوبی کوریا کو برآمد کرنے کے معاہدے طے ہوئے، جس میں امریکی کمپنیوں کی مداخلت کو ختم کیا گیا۔
تاہم، ان کے دور میں انسانی حقوق کے سلسلے میں خاص طور پر بچوں اور بڑوں کی جبری مشقت کے حوالے سے سنجیدہ تنقیدات سامنے آئیں، جیسا کہ ہیومن رائٹس واچ جیسے اداروں نے رپورٹ کیا کہ وہ کپاس کی اہم پیداوار والے علاقوں کی بحیثیت اعلیٰ حکام، اس نظام کی براہ راست نگرانی کرتے تھے۔
صدارت
اسلام کریموف کے ستمبر ۲۰۱۶ء میں انتقال کے بعد، میرضیایف پہلے جنازے کی تقریب کی کمیٹی کے سربراہ اور پھر عارضی صدر مقرر ہوئے۔
دسمبر ۲۰۱۶ء میں صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد، انہوں نے رسمی طور پر صدارت سنبھالی۔ وہ اصلاحات کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئے اور "نیا ازبکستان" پروگرام شروع کیا۔
اندرونی اصلاحات
میرضیایف نے سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی شعبوں میں وسیع اصلاحات کیں:
- سیاسی قیدیوں کی آزادی: انہوں نے سینکڑوں سیاسی قیدیوں کے آزاد ہونے کے احکامات صادر کیے، جو اندرون ملک اور عالمی سطح پر خوش آئند قرار دیے گئے۔
- معیشت: غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول، معاشی نظام میں سرکاری اجارہ داری کم کرنے اور بینکنگ میں اصلاحات کی کوششیں کیں۔
- ثقافتی میراث: ازبکستان کی شناخت کی احیاء اور یونیسکو کی حمایت سے بین الاقوامی فنون و ثقافت کے میلے منعقد کیے۔
- خواتین و اقلیتوں کے حقوق: خواتین کی حمایت کے لئے کونسلیں قائم کیں اور بے وطن افراد کو شہریت عطا کی جنہوں نے سالوں سے ازبکستان میں قیام کیا تھا۔
خارجہ پالیسی و علاقائی تعلقات
میرضیایف کا ایک اہم کارنامہ، ازبکستان کی علاقائی تعامل کی پالیسی میں تبدیلی ہے:
- ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری: انہوں نے کرغیزستان و تاجکستان کے ساتھ دیرینہ سرحدی و آبی اختلافات حل کیے، اور تاشقند و دوشنبه کے درمیان پروازیں دوبارہ شروع ہوئیں۔
- ٹرانزٹ منصوبے: انہوں نے "مزار شریف - کابل - پشاور" ریلوے منصوبے کی تجویز دی، جس سے وسط ایشیا کو جنوبی ایشیا سے جوڑنے اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کا مقصد تھا۔
- اکو تنظیم: ان کی قیادت میں ازبکستان نے اقتصادی تعاون کی تنظیم (ECO) میں زیادہ فعال کردار ادا کیا اور ۲۰۲۱ء میں اکو سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔
- ثقافتی سفارت کاری: خیوا شہر میں "وسط ایشیا چوراہے پر عالمی تہذیبیں" کے عنوان سے عالمی فورم منعقد کر کے ازبکستان کی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
ایران سے سفارتی تعلقات
اسلامی جمہوریہ ایران اور ازبکستان کے آپس میں سفارتی تعلقات ہیں، اور ایران کا سفیر ازبکستان میں سرگرم ہے۔ دونوں ممالک اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی تنظیموں کے رکن ہیں۔
امام خامنہ ای کی شہادت پر رد عمل
میرضیایف نے امام خامنہ ای کی شہادت اور جنگ رمضان کی خبر پر اپنے پیغام میں کہا کہ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای، رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران اور ان کے خاندان کی ناگوار خبر ہمارے دلوں کو شدت سے غمزدہ کر گئی۔
