"انجیل" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 261: | سطر 261: | ||
==== رسولِ اکرم صلیاللهعلیهوآله کی بعثت کی بشارت ==== | ==== رسولِ اکرم صلیاللهعلیهوآله کی بعثت کی بشارت ==== | ||
[[قرآن]] | بنابر نصِ صریح بعضی آیات [[قرآن]] اور بعض دیگر کے ظاہر کے مطابق، [[بعثت]] [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله کی خبر، نیز ان کا نام اور اوصاف، اللہ کی طرف سے نازل شدہ [[تورات]] اور انجیل میں مذکور تھے۔ یہ موضوع [[قرآن]] میں بیان ہونے والی [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل کی تعلیمات میں خاص نمایاں حیثیت رکھتا ہے: | ||
«الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبًا عِندَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ....» | |||
<ref>اعراف: 157</ref> | |||
آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ تینوں اوصاف یعنی «رسول»، «نبی» اور «اُمّی» (یعنی نہ پڑھا لکھا ہونا اور نہ لکھنا جاننا) سب کے سب [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله کے بارے میں [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں مذکور تھے۔ | |||
<ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 6، ج 9، ص 112 ـ 113 / اسماعیل بن کثیر دمشقی، سابق، ج 2، ص 262؛ ج 3، ص 427 / سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 8، ص 280.</ref> | |||
آیت | اگر آیت کا مقصد یہی بیان نہ ہوتا تو تینوں اوصاف کا ایک ساتھ ذکر کرنا — جو صرف اسی آیت میں آیا ہے — خصوصاً تیسرے وصف کو ذکر کرنا کوئی واضح نکتہ نہ رکھتا۔ | ||
<ref>سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 8، ص 280.</ref> | |||
ایک | ایک دوسری آیت میں [[حضرت عیسیٰ]] علیہالسّلام کی زبان سے اس رسول کے نام کی صراحت کی گئی ہے جو ان کے بعد آئے گا، یعنی [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله: | ||
«وَ إِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَدُ....» | |||
(صف: 6) | |||
یہ آیت اگرچہ [[حضرت مسیح]] علیہالسّلام کی زبان سے [[محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله کی بعثت اور نام «احمد» کی بشارت کو بیان کرتی ہے اور صراحتاً یہ نہیں کہتی کہ یہ انجیل میں درج تھا، | |||
<ref>همان، ج 19، ص 253.</ref> | |||
لیکن چونکہ وہ اس سلسلے میں [[وحی]] الٰہی اور انجیل کی تعلیمات کے علاوہ کچھ نہیں کہتے تھے، اس لیے یہ بشارت انجیل ہی سے ماخوذ ہو سکتی ہے۔ | |||
اس آیت نے بعض مفسرین <ref>محمد بن حسن طوسی، سابق، ج 4، ص 559 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 4، ص 749 / محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 29، ص 313 ـ 314.</ref> | |||
اور 107 مسلمان محققین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ وہ موجودہ اناجیل میں «احمد» کے نام کی تلاش کریں۔ اس سلسلے میں ان کی توجہ یونانی لفظ «فارقلیط» (Paraclete) یا «بارکلیت» کی طرف گئی۔ یہ لفظ یونانی ہے اور اس کے معنی «تسلی دینے والا» اور «دل جوئی کرنے والا» کے ہیں، جبکہ [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیان]] اس کا مصداق «روحالقدس» کو قرار دیتے ہیں۔ | |||
لیکن مذکورہ مفسّران اور محققین کا خیال ہے کہ اصل میں یہ لفظ ایک خاص نام تھا اور «پریکلیتوس» کی صورت میں استعمال ہوتا تھا، جس کا معنی «احمد» یا «بہت زیادہ قابلِ ستائش» تھا، اور بعد میں اس میں تبدیلی کر دی گئی۔ | |||
اس کے مقابلے میں بعض [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیت]] کے محققین اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ یہ آیت انجیل میں «احمد» کے نام کے ذکر پر دلالت کرتی ہے۔ ان کے نزدیک «فارقلیط» پر اس کی تطبیق کی کوششیں غیر ضروری اور ناکام ہیں۔ وہ بعض قابلِ دفاع دلائل کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لفظ [[اسلام]] سے کئی صدیوں پہلے بھی اسی شکل میں «تسلی دینے والے» کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور اس کا مصداق بھی «روحالقدس» سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک عہد جدید کے بعض دوسرے مقامات میں انجیل کی بشارت عمومی اوصاف کی صورت میں — نہ کہ کسی خاص نام کے ساتھ — [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله کی آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ | |||
<ref>عبدالرحیم سلیمانی، «قرآن کریم و بشارتهای پیامبران»، فصلنامه هفت آسمان، ش 16 زمستان 1381، ص 51 ـ 61.</ref> | |||
[[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله کی بعثت، نام اور اوصاف کے بارے میں جو بیانات موجود تھے، وہ اس قدر واضح اور دقیق تھے کہ یہود و نصاریٰ — یا کم از کم ان کے علماء — کے لیے آپ کی شناخت اور آپ کی دعوت و رسالت کی حقانیت میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی؛ | |||
<ref>سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 7، ص 41.</ref> | |||
لیکن ان میں سے ایک گروہ مختلف محرکات کی بنا پر ان حقائق کو چھپاتا تھا: | |||
«الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ.» | |||
<ref>بقره: 146</ref> | |||
اس آیت اور اسی طرح کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیانات زمانۂ نزول میں موجود [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں بھی موجود تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہود و نصاریٰ اسی بنیاد پر — بطور بہترین دلیل — شدت کے ساتھ [[قرآن]]، [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله اور آپ کی دعوت کی تکذیب کرتے۔ | |||
<ref>محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 17، ص 94 / سید ابوالقاسم خوئی، البیان، چاپ هشتم، انوارالهدی، 1401، ص 122 / سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 19، ص 253.</ref> | |||
حالانکہ ان میں سے بعض افراد — خصوصاً یہود و نصاریٰ کے چند علماء — انہی بشارتوں اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله کی سابقہ شناخت کی بنا پر آپ پر ایمان لے آئے: | |||
«الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ یُؤْمِنُونَ وَ إِذَا یُتْلَی عَلَیْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا کُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِینَ.» | |||
<ref>قصص: 52 ـ 53</ref> | |||
[[حضرت عیسیٰ]] علیہالسّلام کے بعد آنے والے «فارقلیط» کی بشارت — جو انجیل یوحنا میں ان کی زبان سے نقل ہوئی ہے — بھی اسی قبیل سے ہے۔ | |||
<ref>یوحنا، 14:15 ـ 17 و 25 ـ 26؛ 15:26 ـ 27؛ 16: 5 ـ 15.</ref> | |||
یہ بشارت متعدد شیعہ<ref>فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 4، ص 749 / محمدتقی مصباح، سابق، ج 1، ص 188ـ189 / محمد صادقی، سابق، ج 26ـ27، ص 306.</ref> | |||
اور سنّی مفسرین <ref>محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 29، ص 313 / محمد رشید رضا، سابق، ج 9، ص 291 / سید محمود آلوسی، سابق، مج 15، ج 28، ص 128.</ref> | |||
کی توجہ اور استدلال کا مرکز رہی ہے۔ | |||
البتہ چونکہ عہد جدید کی بہت سی روایات تاریخی اعتبار سے صحیح نہیں سمجھی جاتیں، اس لیے جو کچھ [[قرآن]] نے اس بارے میں بیان کیا ہے وہ مکمل طور پر اس میں موجود نہیں۔ جو کچھ ملتا ہے وہ بعض عمومی عبارات ہیں جنہیں [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله پر منطبق کیا جا سکتا ہے، جبکہ [[قرآن]] کی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں اس رسول کی آمد کی خبر واضح اور صریح انداز میں دی گئی تھی۔ | |||
<ref>محمدتقی مصباح، سابق، ص 188.</ref> | |||
سورۂ فتح کی آیت 29 میں بھی [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله اور ان کے سچے پیروکاروں کی بعض صفات کے [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں مذکور ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کے مطابق ان کتابوں میں آیا ہے کہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)]] صلیاللهعلیهوآله اور ان کے پیروکار دشمنوں کے مقابلے میں سخت اور آپس میں انتہائی مہربان ہیں۔ مزید یہ کہ انہیں ایک ایسی کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے جو بتدریج بڑھتی، مضبوط ہوتی اور کاشتکاروں کو حیران کر دیتی ہے؛ یعنی مسلمان ابتدا میں کم تعداد میں تھے، مگر وقت کے ساتھ ان کی تعداد اور قوت اس قدر بڑھ گئی کہ کافران کے لیے باعثِ غیظ اور خوف بن گئی۔ | |||
<ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 / محمد بن احمد قرطبی، سابق، ج 16، ص 292.</ref> | |||
«مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِیمَاهُمْ فِی وُجُوهِهِم مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْإِنجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِهِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ....»<ref>فتح: 29</ref> | |||
یہ بات مفسرین کے درمیان محل اختلاف ہے کہ مذکورہ تمام اوصاف دونوں کتابوں میں آئے ہیں یا ان میں سے کچھ [[تورات]] اور کچھ انجیل میں مذکور ہیں۔ | |||
کچھ شیعہ مفسّرین<ref>محمد بن حسن طوسی، سابق، ج 9، ص 337 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 9، ص 192.</ref> | |||
اور سنّی <ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 ـ 146 / اسماعیل بن کثیر دمشقی، سابق، ج 4، ص 219 / ابوجعفر نحاس، سابق، ج 6، ص 515.</ref> | |||
نے ابتدائی مفسرین جیسے قتادہ، ضحاک اور ابن جبیر کی پیروی کرتے ہوئے کہا ہے کہ «ذلک» سے پہلے والے اوصاف [[توریت(تورات)|تورات]] میں اور کھیتی کی مثال انجیل میں بیان ہوئی ہے۔ | |||
<ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 / عبدالرزاق صنعانی، تفسیر صنعانی، بہ کوشش محمود محمد عبده، بیروت، دارالکتب العلمیه، 1419، ج 3، ص 228 / جمالالدین جوزی، زاد المسیر فی علم التفسیر، چہارم، بیروت، المکتب الاسلامی، 1407، ج 7، ص 449.</ref> | |||
طبری اس موقف کے ثبوت میں کہتے ہیں کہ اگر «کَزَرع» پہلے اوصاف پر عطف ہوتا اور [[توریت(تورات)|تورات]] سے بھی متعلق ہوتا تو اسے حرفِ عطف «واو» کے ساتھ آنا چاہیے تھا۔ | |||
<ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 146.</ref> | |||
اس کے برعکس شوکانی «کَزَرع» کو جملۂ مستأنفہ قرار دیتے ہوئے — مجاہد کی پیروی میں — یہ کہتے ہیں کہ آیت کے آغاز سے آخر تک بیان کردہ تمام صفات [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل دونوں میں مذکور ہیں۔ | |||
<ref>محمد بن علی شوکانی، فتح القدیر، بیروت، دارالمعرفه، ج 5، ص 56.</ref> | |||
ابوسلیمان دمشقی کے مطابق بھی کھیتی کی یہ تشبیہ [[تورات]] اور انجیل دونوں میں آئی ہے۔ | |||
<ref>جمالالدین جوزی، سابق، ج 7، ص 448 / ج 3، ص 503.</ref> | |||
==== جہاد ==== | |||
ایک اور تعلیم جس کے بارے میں [[قرآن]] بیان کرتا ہے کہ اس کا ذکر [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں بھی موجود ہے، وہ اللہ کی راہ میں جنگ و جہاد اور اس راہ میں جان و مال قربان کرنے والے مؤمنین کے لیے یقینی جنت کی بشارت ہے: | |||
«إِنَّ اللّهَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ....» | |||
<ref>توبہ: 111</ref> | |||
اس آیت کے نزول کو «بیعتِ عقبہ» کے اصحاب کے بارے میں قرار دیا گیا ہے | |||
<ref>جمالالدین جوزی، سابق، ج 7، ص 448 / ج 3، ص 503.</ref> | |||
اور مفسّران کے نزدیک یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حکمِ جہاد تمام آسمانی ادیان میں موجود رہا ہے۔ | |||
<ref>محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 16، ص 201 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 5، ص 113 ـ 114 / سعید بن هبهالله راوندی، فقه القرآن، بہ کوشش سید احمد حسینی، چاپ دوم، قم، کتابخانه آیهالله مرعشی نجفی، 1405، ج 1، ص 349.</ref> | |||
مذکورہ تعلیمات کے علاوہ، وہ ہدایات بھی جو [[حضرت مسیح]] علیہالسّلام نے اپنے پیروکاروں کو [[قرآن]] میں دی ہیں، ممکن ہے کہ اسی انجیل کی تعلیمات کا حصہ ہوں جو ان پر نازل ہوئی تھی؛ مثلاً [[تقویٰ]] کی تلقین، توحید کی دعوت، ان کی پیروی کا حکم، [[توریت(تورات)|تورات]] کی تصدیق اور شرک کی نفی۔ | |||
<ref>آل عمران: 50 ـ 51؛ مائدہ: 72؛ توبہ: 31</ref> | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
نسخہ بمطابق 15:27، 26 اپريل 2026ء

اِنجیل، (یونانی لفظ εὐαγγέλιον – اِئوانگِلیون / euangelion کا عربی شدہ روپ، بمعنی خوش خبری یا مژدہ) مسیحی مذہب کی مقدس کتاب ہے۔ عہدِ جدید کی پہلی چار کتابیں، جو بالترتیب مَتّی، مَرقُس، لوقا اور یوحنا کی طرف منسوب ہیں، انجیل کہلاتی ہیں۔ مسیحیوں کے نزدیک انجیل کوئی ایسی آسمانی کتاب نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہالسلام پر نازل ہوئی ہو، بلکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ عیسیٰ خود مجسم وحی اور خدا کا عین پیغام تھے۔
قرآنِ کریم اور اسلامی احادیث میں، انجیل اس کتاب کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہالسلام) پر وحی کے ذریعے نازل فرمائی۔ لیکن ادیان کی تاریخ سے متعلق کتابوں میں، اور خصوصاً مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق، وہ کتابیں جو مسیحیت کے ابتدائی صدیوں میں حضرت مسیح کے اقوال اور اعمال کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی گئیں، انجیل کہلاتی ہیں۔
انجیلوں کے مصنفین نے حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی کے حالات و واقعات لکھتے وقت ان بیانات اور روایات سے استفادہ کیا جو ان کے شاگردوں اور عینی شاہدین کے ذریعے ان تک پہنچے تھے۔
کتابِ آسمانی
اسلام کے نقطۂ نظر کے مطابق انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہالسّلام پر نازل فرمائی تاکہ وہ اسے لوگوں تک پہنچائیں۔ یہ کتاب ہدایت، نصیحت اور احکامِ الٰہی پر مشتمل تھی۔ لیکن مسیحی اس تصور کو سرے سے قبول نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ نے کوئی کتاب لائی تھی۔ اس معنی میں وحی لانا، جس طرح حضرت موسیٰ نے تورات اور حضرت محمد ﷺ نے قرآن پہنچایا، مسیحی الہیات میں کوئی جایگاہ نہیں رکھتا۔ اناجیلِ اربعہ حضرت عیسیٰ علیہالسّلام کے شاگردوں نے لکھے، اور مختلف انجیلوں میں سے انہی کو منتخب اور رائج کیا گیا۔
مسیحیوں کے نزدیک انجیل کی حقیقت یہ ہے کہ وہ نجات کی بشارت ہے جو خدا کے عیسیٰ میں مجسّم ہونے، صلیب اور وفات کے بعد ان کے زندہ ہونے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان انجیل کے تصور میں دو بالکل مختلف قراءتیں موجود ہیں۔
جدید انگریزی میں لفظ Gospel کا استعمال انجیل کے معنی میں ہوتا ہے،[1] جس کی اصل قدیم انگلوسیکسن زبان کا لفظ God‑Spell ہے۔[2] یہ لفظ دو اجزاء God اور Spell پر مشتمل ہے، اور مجموعی طور پر اس کے معنی کلامِ الٰہی،[3] یا خداوند کا املا[4] یا خوش خبری [5] کے ہیں۔
یہ لفظ یونانی Evangelion (اوانگلیون) کا ترجمہ ہے جو لاطینی میں Evangelium (اوانجِلیوم)بنا۔ یہ لفظ فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور دیگر نئی یورپی زبانوں میں بھی داخل ہوا۔ [6]
چونکہ ابتدائی مسیحی متون یونانی زبان میں لکھے گئے تھے، لہٰذا ’’انجیل‘‘ کا ماخذ بھی بالآخر اسی یونانی لفظ اوانگلیون کی طرف جاتا ہے؛ البتہ یہ لفظ عربی میں کس راستے سے داخل ہوا — مستقیم یا بالواسطہ — اس میں اختلاف ہے۔
نولدکے (Nöldeke) اس بات پر دلیل قائم کرتا ہے کہ یہ لفظ حبشی زبان کے لہجے Wangel کے ذریعے عربی میں آیا۔[7]
کچھ محققین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ لفظ براہِ راست یونانی سے یا سریانی، عبری یا سبائی زبانوں کے ذریعے عربی میں پہنچا۔[8]
بعض مسلمان مفسّرین نے، اسے عربی ثابت کرنے کے لیے، اسے وزنِ افعیل پر ایک عربی لفظ قرار دیتے ہوئے ن ج ل سے مشتق بتایا ہے، اور اس کے لیے مختلف معانی بھی بیان کیے ہیں:[9] لیکن عربی لغت نگاروں نے اس رائے کو قبول نہیں کیا۔ [10]
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ لفظ دخیل ہے، اور اس کا اصل عبری، یونانی یا سریانی ہے۔ [11]
زیادہ تر مسلم مفسّرین بھی انجیل کو غیر عربی (دخیل) لفظ مانتے ہیں،[12] اور زمخشری و بیضاوی جیسے علماء اس لفظ کو عربی قرار دینے کی کوشش کو درست نہیں سمجھتے۔[13]
مسیحی دینی ادب میں ’’انجیل‘‘
مسیحیوں کا تصورِ انجیل، اسلامی تصور سے یکسر مختلف ہے۔ انجیل بطور وحیِ مکتوب جو حضرت عیسیٰ علیہالسّلام پر نازل ہوئی ہو، بالکل اسی طرح جیسے تورات یا قرآن، مسیحی الہیات میں کوئی مقام نہیں رکھتی۔
مسیحی یہ مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ خود ’’تجسّمِ وحی‘‘ تھے—یعنی وہ خدا کا مجسّم کلام تھے، نہ کہ وحی کے حامل۔ اس لیے وہ یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ حضرت عیسیٰ نے کوئی کتاب لکھی یا اپنے شاگردوں کو املا کروائی۔ [14]
ان کے نزدیک ’’انجیل‘‘ سے مراد وہ بشارت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہالسّلام اور ان کی نجات دہندہ حیثیت کے بارے میں ہے۔ [15] یہ مفہوم سب سے زیادہ پولس کے خطوط میں نظر آتا ہے۔ [16]
بعض مسیحی علماء ’’انجیل‘‘ کے مفہوم میں فداء (Atonement) کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں:[17] یعنی مسیح علیہالسّلام نے اپنی مصیبت، موت اور قیامت کے ذریعے انسان کے گناہوں کا کفّارہ ادا کیا۔
موجودہ ’’چار اناجیل‘‘ دراصل عہد جدید کی پہلی چار کتابیں ہیں، اور یہ نام دوسری صدی کے آخر میں ان تحریروں پر رکھا گیا جن میں حضرت عیسیٰ کی زندگی، معجزات، تعلیمات، اقوال اور صعود کا بیان ہے۔[18] کیونکہ یہ تحریریں ’’انسان کے لیے سب سے بہتر بشارت‘‘ رکھتی ہیں۔ [19]
ان چار کتابوں کو ’’انجیل‘‘ کہلانے کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی زندگی اور تعلیمات کو سب سے زیادہ تفصیل سے بیان کیا۔ تاہم عہد جدید کے دیگر حصے بھی ایسے ہیں جو حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل ہیں اور انہیں بھی کبھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ پولس اپنے خطوط کو کئی بار ’’انجیل‘‘ کہتا ہے، اور بعض اوقات پورے عہد جدید کو بھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔[20]
قابلِ توجہ یہ ہے کہ خود اناجیل اور دیگر کتابوں میں لفظ ’’انجیل‘‘ (مفرد صیغہ) استعمال ہوا ہے، اور اس سے مراد چار موجودہ اناجیل نہیں ہوتیں۔ [21] قدیم کلیسا بھی انجیل کی وحدت کا قائل تھا۔ [22]
مسیحی اناجیل کے مصنفین اور عہد جدید کے دیگر لکھاریوں کو نبی نہیں مانتے، لیکن یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ متون الہام اور خدائی رہنمائی سے لکھے ہیں۔ [23] وہ خود بھی اس بات کا ذکر کرتے ہیں۔ [24]
لیکن یہ کہ آخر بے شمار اناجیل، خطوط، مکاشفات اور دیگر تحریروں میں سے صرف ۲۷ کتابیں ہی ’’وحی الٰہی‘‘ کی حامل کیوں مان لی گئیں—اس کی کوئی مدلّل اور واضح وجہ مسیحی الہیات میں موجود نہیں۔ بعض نے اسے ’’روح القدس کی رہنمائی‘‘ قرار دیا ہے۔ [25]
مسیحی جو لوگ قرآن کے عیسٰی اور انجیل کے تصور سے واقف ہیں، انجیل کو ’’آسمانی کتاب‘‘ کہنا قبول نہیں کرتے۔ قرآن میں لفظ ’’انجیل‘‘ کا جمع (اناجیل) نہ آنا بھی وہ ایک اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ قرآن کی بعض روایات — جیسے تازہ کھجور کا معجزہ، [26] گہوارے میں گفتگو، [27] گلین پرندوں کا جاندار بن جانا، [28] کو ’’غیر رسمی یا غیر معتبر اناجیل‘‘ سے لیا ہوا سمجھتے ہیں۔ [29]
لیکن یہ اعتراض اس حقیقت کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے کہ قرآن وحیِ الٰہی ہے، جب کہ اناجیل بشری تحریریں ہیں جن کی متعدد نسخے اور تاریخی اختلافات موجود ہیں۔
انجیل کی تاریخ
مسیحیت کی تاریخ کے ابتدائی دو تین عشروں اور اس بات کے بارے میں کہ اس زمانے میں ’’انجیل‘‘ نامی کوئی کتاب موجود تھی اور وہ حضرت مسیح علیہالسلام سے منسوب تھی، مسیحی اور اسلامی متون سے ہٹ کر مستقل تاریخی منابع میں خاصی ابہام کی کیفیت پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض محققین نے خود حضرت عیسیٰ علیہالسلام کے وجود کے بارے میں بھی تردید ظاہر کی ہے۔[30]
تاہم تاریخی روایات کی کمی اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ انجیل تاریخی طور پر موجود ہی نہ تھی۔ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہالسلام کے ظہور اور ان پر نازل ہونے والی وحی سے متعلق بعض تفصیلات کسی نامعلوم وجہ سے تاریخ میں درج نہ ہو سکیں یا بعد میں ضائع ہو گئی ہوں۔ البتہ اناجیلِ اربعہ میں بعض مقامات پر خود حضرت مسیح علیہالسلام کی انجیل کا ذکر بھی ملتا ہے۔[31]
عیسوی تاریخ کے ابتدائی تیس سے چالیس برسوں تک مسیحیت کی تعلیمات زیادہ تر زبانی طور پر اور کبھی خطوط کے ذریعے پھیلائی جاتی تھیں۔ حواری اپنے وعظ و نصیحت میں حضرت مسیح علیہالسلام کی تعلیمات بیان کرتے اور آپ کی زندگی کے واقعات کے ذریعے انہیں واضح کرتے تھے۔ لیکن رسائل اور زبانی روایات کی محدودیت نے بالآخر انجیلوں کی تحریر کا راستہ ہموار کیا۔[32]
اسی بنا پر عہد جدید کی تصنیف اور اس مجموعے کی تشکیل، جسے آج ’’مسیحیوں کی مقدس کتاب‘‘ کہا جاتا ہے، عموماً پہلی صدی عیسوی کے ابتدائی نصف کے بعد، یعنی حضرت مسیح علیہالسلام کے عروج (صعود) کے تقریباً بیس سے تیس سال بعد شروع ہوئی۔[33]
یہ تحریریں حضرت مسیح کے رسولوں اور ان کے شاگردوں کے ذریعے مرتب ہوئیں اور انہیں چار بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا: ’’رسولوں کے خطوط‘‘، ’’اعمالِ رسولان‘‘، ’’اناجیلِ اربعہ‘‘ اور ’’مکاشفات‘‘۔
رسولوں کے خطوط دراصل ان تعلیمات اور ہدایات پر مشتمل ہیں جو پولس، یوحنا، یعقوب، برنابا، یہودا اور پطرس جیسے رسولوں نے مختلف افراد، جماعتوں اور علاقوں کو حضرت مسیح علیہالسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے بعض خطوط عہد جدید کے مجموعے میں شامل کیے گئے جبکہ بعض کو ابتدائی صدیوں میں کلیسا نے مسترد کر دیا۔ عہد جدید کے تمام حصوں میں سب سے قدیم تحریریں پولس کے خطوط سمجھی جاتی ہیں۔[34]
’’اعمالِ رسولان‘‘ دراصل حواریوں اور رسولوں کی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ہے جسے لوقا جیسے افراد نے قلم بند کیا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہالسلام کی زندگی، معجزات، تعلیمات، سیرت اور اقوال کے بارے میں جو تحریریں لکھی گئیں، وہ بھی عہد جدید کا اہم حصہ بن گئیں۔ یہ تحریریں یا تو مصنفین کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھیں یا انہوں نے عینی شاہدین سے سن کر انہیں قلم بند کیا تھا۔ ان تحریروں کو پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز تک ’’رسولوں کی یادداشتیں‘‘ کہا جاتا تھا، لیکن دوسری صدی کے اواخر میں انہیں ’’اناجیل‘‘ کا نام دیا گیا۔[35]
مسیحی محققین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی تقریباً پچاس انجیلیں موجود تھیں، تاہم ان میں سے تقریباً بیس کے بارے میں ہی کچھ معلومات دستیاب ہیں۔ ان میں انجیل عبرانیان، انجیل پطرس، انجیل مصریان، انجیل فیلیپ، انجیل توما، انجیل یعقوب، انجیل نیکوداموس، انجیل بارہ حواری، انجیل یہودا اور انجیل مرقیون قابلِ ذکر ہیں۔[36]
اس کے علاوہ بعض دیگر اناجیل بھی موجود تھیں، جیسے ’’عربی انجیلِ طفولیت‘‘ جس میں حضرت عیسیٰ علیہالسلام کے بچپن کے معجزات کا بیان ہے۔[37]
دوسری صدی عیسوی کے آخر میں کلیسا کے رہنماؤں نے اس وسیع اور متنوع ذخیرۂ تحریرات میں سے بعض کو کلیسائی تعلیمات کے مطابق قرار دے کر ’’قانونی‘‘ اور معتبر کتابوں کے طور پر منتخب کیا اور انہیں ’’عہد قدیم‘‘ کے ساتھ ’’عہد جدید‘‘ کے نام سے مسیحیوں کی مقدس کتاب کا دوسرا حصہ بنا دیا۔[38]
سن 382ء میں اسقفوں کی ایک مجلس نے 27 کتابوں اور رسائل پر مشتمل ایک فہرست کو حتمی شکل دی، جس کی بعد میں کونسل آف ٹرینٹ (1545–1547ء) نے بھی توثیق کی۔[39]
عہد جدید کا آغاز چار اناجیل سے ہوتا ہے جو متی، مرقس، لوقا اور یوحنا سے منسوب ہیں۔ اس کے بعد ’’اعمال رسولان‘‘ کی کتاب آتی ہے، پھر پولس کے تیرہ یا چودہ خطوط، اس کے بعد یعقوب کا ایک خط، پطرس کے دو خطوط، یوحنا کے تین خطوط اور یہودا کا ایک خط شامل ہیں۔ اس مجموعے کا آخری حصہ ’’مکاشفۂ یوحنا‘‘ ہے۔
مضمون کے اعتبار سے عہد جدید کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: تاریخی، عقیدتی اور پیش گوئی پر مبنی حصہ۔
چار اناجیل اور ’’اعمال رسولان‘‘ عہد جدید کے تاریخی حصے کو تشکیل دیتے ہیں اور بنیادی طور پر حضرت مسیح علیہالسلام اور حواریوں کی زندگی اور سرگرمیوں کی تاریخ تقریباً 63ء تک بیان کرتے ہیں۔[40]
عہد جدید کا عقیدتی حصہ اس میں شامل 21 خطوط پر مشتمل ہے جن میں عیسائی عقائد کی وضاحت، ان کا دفاع اور دیگر نظریات کی تردید کی گئی ہے۔ پیش گوئی سے متعلق حصہ آخری زمانے کے واقعات اور حضرت مسیح علیہالسلام کی دوبارہ آمد سے متعلق ہے، جو ’’مکاشفۂ یوحنا‘‘ میں خواب اور الہامی مناظر کی صورت میں بیان ہوا ہے۔
عہد جدید کے مجموعے میں عقائد اور عملی تعلیمات کے لحاظ سے ایک طرح کی دوگانگی اور عدمِ ہم آہنگی بھی نظر آتی ہے۔ اس کا ایک حصہ عہد قدیم کا تسلسل معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح علیہالسلام کو انسان اور خدا کے رسول کے طور پر پیش کرتے ہوئے شریعتِ موسوی کی پابندی پر زور دیتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ ان کی الوہیت پر تاکید کرتا ہے اور شریعت موسوی کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتا۔ یہ اختلاف دراصل پطرس اور پولس کے درمیان موجود فکری اور عقیدتی کشمکش کی جھلک ہے۔[41]
وہ دیگر تحریریں جنہیں کلیسا نے قبول نہیں کیا ’’اپوکریفا‘‘ کہلاتی ہیں، یعنی مشتبہ یا غیر معتبر کتابیں۔ ان میں سے بہت سی تحریریں ضائع ہو چکی ہیں اور بعض اب بھی موجود ہیں۔[42]
انجیل برنابا، جو یوسف کے ساتھی برنابا سے منسوب ہے اور پولس و مرقس کا دوست بتایا جاتا ہے، اسی نوع کی ایک انجیل ہے۔ چوتھی صدی عیسوی کے بعد کلیسا نے اس کے مطالعے کو ممنوع قرار دے دیا۔ بعض محققین نے اسے اسلام اور مسیحیت کے درمیان گم شدہ رابطہ قرار دیا ہے۔
اگرچہ اس انجیل کی بعض تعلیمات اسلامی اور سرکاری مسیحی عقائد دونوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں، تاہم اس میں کئی بنیادی نکات ایسے ہیں جو قرآن کے ساتھ قابلِ ذکر موافقت رکھتے ہیں۔ مثلاً حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی صریح بشارت، حضرت مسیح علیہالسلام کی الوہیت اور ابنیت کی نفی، حضرت اسماعیل علیہالسلام کو ذبیح قرار دینا نہ کہ حضرت اسحاق علیہالسلام کو، اور حضرت عیسیٰ علیہالسلام کے مصلوب نہ ہونے بلکہ یہودا اسخریوطی کے ان کی جگہ قتل کیے جانے کا بیان۔
چار اناجیل (اناجیلِ اربعہ)
عہد جدید کے معروف ترین حصّوں میں سب سے پہلے چار اناجیل کا تذکرہ آتا ہے۔ مسیحی الہیات میں اس بات پر ایمان رکھا جاتا ہے کہ انجیلیں اور عہد جدید کے دیگر اجزاء حضرت عیسیٰ علیہالسّلام پر ’’وحی‘‘ کی صورت میں نازل نہیں ہوئے، بلکہ یہ حضرت مسیحؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد عام انسانوں نے تحریر کیے۔[43]
اناجیل کے مصنفین کے نام پر انہیں انجیل متّی، انجیل مرقس، انجیل لوقا اور انجیل یوحنا کہا جاتا ہے۔ ان کے زمانۂ تالیف، مصنفین کی حقیقی شناخت اور ان کی سند کے تسلسل پر وسیع تحقیقی کام ہونے کے باوجود ان مسائل میں کوئی قطعی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ اگرچہ بہت سے سنجیدہ اعتراضات اور علمی چیلنج موجود ہیں، لیکن بعض قرائن اور شواہد کی بنا پر کچھ مضبوط احتمالات بھی پیش کیے گئے ہیں۔[44]
انجیلِ مرقس
روایات کے مطابق مرقس حضرت عیسیٰ علیہالسّلام کے صحابی نہیں تھے، بلکہ پطرس حواری کے دوست، ہم سفر اور شاگرد تھے۔ کبھی کبھی وہ پولس کے ساتھ بھی سفر کرتے تھے اور اپنی روایات پطرس سے حاصل کرتے تھے۔[45]
ان کی انجیل اناجیل میں سب سے مختصر سمجھی جاتی ہے، اسے رومی زبان میں لکھا ہوا قرار دیا گیا ہے،[46] اور اکثر محققین کے مطابق اس کی تصنیف 65 سے 70 عیسوی کے درمیان روم میں ہوئی۔[47]
انجیلِ متّی
یہ اناجیل میں سب سے مفصل ہے اور اسے متّی حواری سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جدید نقّادیوں سے پہلے اسے سب سے قدیم انجیل سمجھا جاتا تھا اور اس کی تصنیف 38 سے 60 عیسوی کے درمیان قرار دی جاتی تھی۔[48]
تاہم محققین نے اندرونی شواہد اور انجیل مرقس کے پورے مواد کے اس میں شامل ہونے کی بنا پر یہ رائے اختیار کی کہ اس کی تالیف بھی 65 سے 70 عیسوی کے درمیان اور مرقس کے بعد ہوئی۔[49]
اس کا اصل نسخہ عبرانی زبان میں تھا، لیکن اب موجود نہیں۔ بعد میں اسے یونانی سمیت دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔[50]
محققین نے اس کی نسبت متّی حواری کی طرف مشکوک قرار دی ہے،[51] اور یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اسے کوئی دوسرا شخص لکھنے والا تھا جس کا نام متّی جیسا تھا۔[52]
اکثر محققین اس کے لکھے جانے کی جگہ کو انطاکیہ قرار دیتے ہیں۔[53]
انجیلِ لوقا
لوقا حواری نہیں تھے، انہوں نے حضرت مسیح علیہالسّلام کو نہیں دیکھا، اور نصرانیت انہوں نے پولس سے سیکھی۔ انجیل لوقا کی زیادہ تر روایات مرقس اور متّی سے ماخوذ سمجھی جاتی ہیں۔[54]
یہ تینوں اناجیل (مرقس، متّی، لوقا) مشترکات کی وجہ سے ’’ہمنوا اناجیل‘‘ کہلاتی ہیں۔[55]
روایتی مسیحی نقطۂ نظر میں اسے لوقا (پولس کے ساتھی) کی تصنیف مانا جاتا ہے۔ اس کی تحریر کا زمانہ 70 سے 90 عیسوی کے درمیان، اور زیادہ امکان کے ساتھ 80 تا 85 عیسوی بتایا جاتا ہے۔[56]
اس میں حضرت عیسیٰ علیہالسّلام کے بچپن سے متعلق بعض حکایات ایسی ہیں جو دیگر اناجیل میں موجود نہیں۔[57]
انجیلِ یوحنا
یہ چاروں میں سب سے آخری انجیل ہے۔[58] اس کی تاریخِ تالیف کے بارے میں اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ بعض نے اسے 65 عیسوی تک قدیم بتایا ہے، لیکن زیادہ مضبوط اور روایتی مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق اس کی تصنیف 90 سے 115 عیسوی کے درمیان ہوئی۔[59]
یوحنا کو حضرت مسیحؑ کا محبوب ترین شاگرد کہا جاتا ہے، لیکن اس انجیل کی نسبت ان کی طرف بھی قابلِ توجہ اختلافات موجود ہیں۔
انجیل یوحنا تینوں اناجیل سے بالکل مختلف ہے اور اس میں حضرت مسیحؑ کی زندگی کے بیانات کے ساتھ یونانی فلسفیانہ افکار بھی شامل نظر آتے ہیں۔[60]
جزیرۂ عرب میں انجیل
یہ کہا جاتا ہے کہ سن 400 عیسوی تک مشرق وسطی کے علاقوں، خاص طور پر شام میں رائج سرکاری انجیل ایک واحد انجیل تھی جو چاروں اناجیل کے ادغام سے تیار کی گئی تھی۔ [61]
اس انجیل کو دیاتسرون (Diatessaron) کہا جاتا تھا۔ اسی بنا پر یہ احتمال موجود ہے کہ قرآن کے نزول کے زمانے میں بھی یہ انجیل کم و بیش جزیرۂ عرب کے نصارا میں رائج رہی ہو۔ [62]
اس وقت اس انجیل کا اصل مکمل نسخہ جو زبانِ سُریانی میں تھا، موجود نہیں ہے اور صرف اس کے بعض حصّوں کے ترجمے مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں۔ [63]
ایک اور انجیل جو ممکن ہے اُس زمانے میں رائج رہی ہو، وہ بچپن کی انجیل ہے جو زبان عربی میں تھی (Arabic Infancy Gospel)۔ اس میں حضرت عیسی علیهالسّلام کے بچپن کی کچھ روایات بیان کی گئی ہیں، جو اس موضوع میں قرآن کریم میں مذکور داستانوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔
انجیل قرآن میں
لفظ «انجیل» قرآن کی 6 سورہ کی 12 آیات میں کل 12 بار، اور ہمیشہ مفرد صورت میں، صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ [64]
اسی طرح متعدد مقامات پر «ما بَینَ یَدَیه» [65] اور «الَّذی بَینَ یَدَیه» [66] جیسے تعبیرات کے ذریعے، قرآن سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابوں میں سے ایک کے طور پر اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازاین، «الکِتاب» کے مرکبات جیسے «اَهل الکِتاب» [67] اور «الَّذینَ اُوتوا الکِتب» [68] میں، انجیل ان مصادیقِ قطعی میں سے ہے جن پر یہ عناوین اطلاق پاتے ہیں۔
قرآن مختلف مناسبتوں سے انجیل کا ذکر کرتا ہے: اس کے وحیانی ہونے کی تصریح، حضرت عیسی علیهالسّلام پر آیات کے مجموعہ کی حیثیت سے نازل ہونا [69]، تورات کی حقانیت پر اس کی گواہی [70]، قرآن کا اس کی تصدیق کرنا [71]، اور محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله کی بعثت اور دعوتِ عام کی بشارت [72] نیز اس کی بعض تعلیمات کے تحریف، کتمان اور حذف ہونے کا بیان [73]۔
انجیل؛ حضرت مسیح علیهالسّلام کی آسمانی کتاب
قرآن، حضرت عیسی علیهالسّلام کی بعثت کو رسل کی سلسلہ وار آمد اور کتابوں کے نزول کی تداوم کے طور پر بیان کرتا ہے اور ان کی کتاب آسمانی کا نام صراحت کے ساتھ «انجیل» قرار دیتا ہے اور اس کے وحیانی ہونے پر زور دیتا ہے: [74]
«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ... ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ...» [75] و نیز: [76]
آیۂ 30 مریم میں «کتاب» کا لفظ بھی «انجیل» کی طرف اشارہ ہے: [77]
دوسری طرف، اگرچہ انجیلوں کی تعداد بہت زیادہ تھی — خصوصاً نزول کے زمانے میں موجود چار رسمی اناجیل — لیکن قرآن نے انجیل کے متعلق تمام آیات میں واحد صیغہ استعمال کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک حضرت مسیح علیهالسّلام پر ایک ہی انجیل نازل ہوئی تھی۔
لہٰذا قرآن، اس انجیل کے وحیانی اور یکتائی ہونے کو بیان کرکے موجودہ اناجیل اور عهد جدید کی دیگر تحریروں کے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ عین وہ انجیل نہیں ہیں جو حضرت عیسی علیهالسّلام پر نازل ہوئی تھی،[78] بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کے کچھ اجزاء یا اس کی روایات کی صورتیں اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اور غالب احتمال کے مطابق وہ اصلی انجیل، بعض وجوہات کی بنا پر ضائع ہوگئی۔[79]
ان وجوہات میں نئے مسیحیان کے لیے انتہائی دشوار حالات، اور یہود اور رومی حکومتوں کی سختیوں اور تعاقب کا ماحول شامل ہے۔[80]
اسی طرح، قرآن کا انجیل کو تورات اور قرآن کے ساتھ ایک ‘‘کتاب’’ کے طور پر ذکر کرنا، اس کے آسمانی ہونے اور خارجی موجودیت کا ثبوت ہے: 8 مرتبہ تورات کے جوڑے کے طور پر [81] اور دو مرتبہ تورات و قرآن کے ساتھ اکٹھے: «نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ... وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ...» [82]
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ قرآن نے صرف ‘‘آیات’’ کے ایک وحی شدہ مجموعہ کو ‘‘انجیل’’ کے نام سے بیان کیا ہے، نہ کہ کسی کتابِ مکتوب کو۔ اور حضرت عیسی علیهالسّلام کی حیات میں اس کی کتابت یا آپ کی املاء کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ لہٰذا ‘‘انجیل’’ کو — اسلامی اصطلاح میں — وہی آیاتِ نازل شدہ مانا جا سکتا ہے، جن میں سے کچھ کو اناجیلِ اربعہ نے (درست یا نادرست) طور پر نقل کیا ہے۔
تورات کی حقّانیت پر انجیل کی گواہی
قرآن کریم، حضرت عیسی علیهالسّلام اور انجیل کو تورات کا تصدیقکننده قرار دیتا ہے:
«وَ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِعَیسَیبْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ....» [83]
«تصدیق» کا دو بار تکرار اور الگ الگ حضرت عیسی علیهالسّلام اور ‘‘انجیل’’ کی طرف نسبت اس بات کی دلیل ہے کہ تورات کی حقّانیت اور الٰہی نزول کی گواہی، مسیح علیهالسّلام کے اقوال سے بھی ثابت ہے، اور انجیل کی آیات سے بھی۔
مراد یقیناً وہ اصلی تورات ہے جو حضرت موسی علیهالسّلام پر نازل ہوئی تھی، نہ کہ وہ موجودہ تورات جس میں تحریفات شامل ہوچکی تھیں۔[84]
بعض مفسرین کے مطابق، انجیل نے تورات کے بیشتر احکام کی تائید اور تکمیل کی، اور صرف محدود احکام میں نسخ آیا ہے۔[85] اناجیلِ رسمی (مثلاً انجیل متّا) میں بھی یہی بات حضرت مسیح علیهالسّلام کے اقوال میں موجود ہے۔[86]
بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض غذائیں، جو تورات میں بنیاسرائیل پر حرام کردی گئی تھیں، انجیل کے ذریعے حلال قرار پائیں: «وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَ الَّذِی حُرِّمَ عَلَیْکُمْ.» [87]
قرآن کی طرف سے انجیل کی تصدیق
خداوند نے متعدد آیات میں قرآن کریم کو سابقہ آسمانی کتابوں، خصوصاً تورات و انجیل، کا ‘‘مصدّق’’ قرار دیا ہے:
«وَ أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتَابِ وَ مُهَیْمِنا عَلَیْهِ...» [88]
مفسرین نے ‘‘تصدیق’’ کے معنی میں مختلف آراء پیش کی ہیں: اس سے مراد ان کتابوں کے الٰہی نزول کی تصدیق یا ان کی بعض تعلیمات کی تائید یا یہ کہ انہی کتابوں نے قرآن کی آمد کی پیشگوئی کی تھی [89]
دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ‘‘تصدیق’’ کے آیات دو گروہوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
الف) «الَّذی بَینَ یَدَیه» والی آیات یہ آیات واضح طور پر قرآن کے ذریعے اصل نازل شدہ کتابوں کی تصدیق بیان کرتی ہیں، نہ کہ موجودہ محرف نسخوں کی۔ [90]
ب) «لِما مَعَکُم» والی آیات یہ آیات اہلِ کتاب کے پاس موجود تحریروں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، لیکن تمام مواد کی نہیں بلکہ صرف غیرمحرف حصوں کی تائید کرتی ہیں۔[91]
موجودہ اناجیل میں کئی ایسی عقائد اور نسبتیں موجود ہیں جو حضرت عیسی علیهالسّلام اور توحید کے مخالف ہیں — مثلاً صلیب پر قتل، الوہیتِ عیسی، ‘‘پسر خدا’’ ہونا، «تثلیث» وغیرہ — اور قرآن ان سب کو باطل قرار دیتا ہے۔ [92]
اجمالی طور پر نزول کے زمانے کے اناجیل کی موجودگی کا مفہوم بعض دیگر آیات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سورۂ مائدہ کی آیت 66 قابلِ ذکر ہے جس میں اہلِ کتاب کو تورات اور انجیل کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ آسمان اور زمین کی برکتوں سے بہرہ مند ہونا ہوگا: «وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَ مِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم....»
مفسرین کے نزدیک تورات اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان دونوں کی تعلیمات پر ایمان اور عمل ہے، جو مبدأ اور معاد سے متعلق عقائد،[93] الٰہی احکام اور حدود[94] نیز محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلی الله علیه و آله کی بشارت کے اعتراف پر مشتمل ہیں،[95] اور یہ سب کچھ کسی قسم کی تحریف یا کتمان کے بغیر ہونا چاہیے۔[96]
لہٰذا کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں موجود اناجیل میں الٰہی نازل شدہ انجیل کی کچھ تعلیمات ضرور موجود تھیں۔ بصورتِ دیگر، جب حقیقی انجیل ہی موجود نہ ہوتی تو اس کے قیام کی دعوت دینا عقلی طور پر درست نہ ہوتا۔ اسی طرح کی ضمنی اور اجمالی تائید سورۂ مائدہ کی آیت 68 سے بھی ملتی ہے: «قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِن رَّبِّکُمْ....»
اس آیہ کے شأن نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعض یہودیوں نے محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله سے پوچھا کہ کیا وہ تورات کی تصدیق کرتے ہیں؟ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا: ہم بھی تورات کو مانتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے۔ اس پر خدا نے اس آیت کے ذریعے اعلان کیا کہ تورات اور انجیل پر ایمان اور عمل کے بغیر ان کا دین و مذہب بے بنیاد اور بے وقعت ہے۔ اور ان دونوں پر حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله اور قرآن پر بھی ایمان لایا جائے۔
قرآن کریم ایک اور مقام پر انجیل کے پیروکاروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے: «وَلْیَحْکُمْ أَهْلُ الإِنجِیلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِیهِ....» [97]
یہ آیت بھی نزول کے زمانے کے اناجیل کی ضمنی اور اجمالی تائید کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
انجیل کی تعلیمات
قرآن کریم کبھی بعض عمومی اوصاف کے ذریعے اور کبھی بعض واضح احکام و تعلیمات کا ذکر کرکے انجیل کے مندرجات کی نسبتاً مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ ان میں سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
ہدایت، نور اور نصیحت
« وَ آتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَمُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ.» [98]
مفسرین کے مطابق «ہدایت» سے مراد ایسی تعلیمات ہیں جن میں خدا کی توحید، اس کو بیوی، اولاد، شریک اور ہمسر سے پاک قرار دینا،[99] معاد سے متعلق معارف،[100] انبیا کی تصدیق و تنزیہ، بعثت محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله کی بشارت،[101] اور الٰہی احکام و ان کے دلائل شامل ہیں۔[102]
اسی طرح «نور» کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ انجیل میں شرعی احکام کی وضاحت،[103] دلائل، مثالیں، فضائل اور حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اقدار بیان کی گئی ہیں[104] اور یہ جہالت اور نادانی کی تاریکیوں کو دور کرتی ہے۔[105]
جبکہ «موعظہ» سے مراد گناہوں سے بچنے کے احکام، عبادات کی تاکید اور بلیغ نصیحتیں ہیں۔[106]
رسولِ اکرم صلیاللهعلیهوآله کی بعثت کی بشارت
بنابر نصِ صریح بعضی آیات قرآن اور بعض دیگر کے ظاہر کے مطابق، بعثت محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله کی خبر، نیز ان کا نام اور اوصاف، اللہ کی طرف سے نازل شدہ تورات اور انجیل میں مذکور تھے۔ یہ موضوع قرآن میں بیان ہونے والی تورات اور انجیل کی تعلیمات میں خاص نمایاں حیثیت رکھتا ہے: «الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبًا عِندَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ....» [107]
آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ تینوں اوصاف یعنی «رسول»، «نبی» اور «اُمّی» (یعنی نہ پڑھا لکھا ہونا اور نہ لکھنا جاننا) سب کے سب محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله کے بارے میں تورات اور انجیل میں مذکور تھے۔ [108]
اگر آیت کا مقصد یہی بیان نہ ہوتا تو تینوں اوصاف کا ایک ساتھ ذکر کرنا — جو صرف اسی آیت میں آیا ہے — خصوصاً تیسرے وصف کو ذکر کرنا کوئی واضح نکتہ نہ رکھتا۔ [109]
ایک دوسری آیت میں حضرت عیسیٰ علیہالسّلام کی زبان سے اس رسول کے نام کی صراحت کی گئی ہے جو ان کے بعد آئے گا، یعنی محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله: «وَ إِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَدُ....» (صف: 6)
یہ آیت اگرچہ حضرت مسیح علیہالسّلام کی زبان سے محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله کی بعثت اور نام «احمد» کی بشارت کو بیان کرتی ہے اور صراحتاً یہ نہیں کہتی کہ یہ انجیل میں درج تھا، [110] لیکن چونکہ وہ اس سلسلے میں وحی الٰہی اور انجیل کی تعلیمات کے علاوہ کچھ نہیں کہتے تھے، اس لیے یہ بشارت انجیل ہی سے ماخوذ ہو سکتی ہے۔
اس آیت نے بعض مفسرین [111] اور 107 مسلمان محققین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ وہ موجودہ اناجیل میں «احمد» کے نام کی تلاش کریں۔ اس سلسلے میں ان کی توجہ یونانی لفظ «فارقلیط» (Paraclete) یا «بارکلیت» کی طرف گئی۔ یہ لفظ یونانی ہے اور اس کے معنی «تسلی دینے والا» اور «دل جوئی کرنے والا» کے ہیں، جبکہ مسیحیان اس کا مصداق «روحالقدس» کو قرار دیتے ہیں۔
لیکن مذکورہ مفسّران اور محققین کا خیال ہے کہ اصل میں یہ لفظ ایک خاص نام تھا اور «پریکلیتوس» کی صورت میں استعمال ہوتا تھا، جس کا معنی «احمد» یا «بہت زیادہ قابلِ ستائش» تھا، اور بعد میں اس میں تبدیلی کر دی گئی۔
اس کے مقابلے میں بعض مسیحیت کے محققین اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ یہ آیت انجیل میں «احمد» کے نام کے ذکر پر دلالت کرتی ہے۔ ان کے نزدیک «فارقلیط» پر اس کی تطبیق کی کوششیں غیر ضروری اور ناکام ہیں۔ وہ بعض قابلِ دفاع دلائل کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لفظ اسلام سے کئی صدیوں پہلے بھی اسی شکل میں «تسلی دینے والے» کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور اس کا مصداق بھی «روحالقدس» سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک عہد جدید کے بعض دوسرے مقامات میں انجیل کی بشارت عمومی اوصاف کی صورت میں — نہ کہ کسی خاص نام کے ساتھ — محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله کی آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ [112]
تورات اور انجیل میں محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله کی بعثت، نام اور اوصاف کے بارے میں جو بیانات موجود تھے، وہ اس قدر واضح اور دقیق تھے کہ یہود و نصاریٰ — یا کم از کم ان کے علماء — کے لیے آپ کی شناخت اور آپ کی دعوت و رسالت کی حقانیت میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی؛ [113] لیکن ان میں سے ایک گروہ مختلف محرکات کی بنا پر ان حقائق کو چھپاتا تھا: «الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ.» [114]
اس آیت اور اسی طرح کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیانات زمانۂ نزول میں موجود تورات اور انجیل میں بھی موجود تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہود و نصاریٰ اسی بنیاد پر — بطور بہترین دلیل — شدت کے ساتھ قرآن، محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله اور آپ کی دعوت کی تکذیب کرتے۔ [115]
حالانکہ ان میں سے بعض افراد — خصوصاً یہود و نصاریٰ کے چند علماء — انہی بشارتوں اور محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله کی سابقہ شناخت کی بنا پر آپ پر ایمان لے آئے: «الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ یُؤْمِنُونَ وَ إِذَا یُتْلَی عَلَیْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا کُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِینَ.» [116]
حضرت عیسیٰ علیہالسّلام کے بعد آنے والے «فارقلیط» کی بشارت — جو انجیل یوحنا میں ان کی زبان سے نقل ہوئی ہے — بھی اسی قبیل سے ہے۔ [117]
یہ بشارت متعدد شیعہ[118] اور سنّی مفسرین [119] کی توجہ اور استدلال کا مرکز رہی ہے۔
البتہ چونکہ عہد جدید کی بہت سی روایات تاریخی اعتبار سے صحیح نہیں سمجھی جاتیں، اس لیے جو کچھ قرآن نے اس بارے میں بیان کیا ہے وہ مکمل طور پر اس میں موجود نہیں۔ جو کچھ ملتا ہے وہ بعض عمومی عبارات ہیں جنہیں محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله پر منطبق کیا جا سکتا ہے، جبکہ قرآن کی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تورات اور انجیل میں اس رسول کی آمد کی خبر واضح اور صریح انداز میں دی گئی تھی۔ [120]
سورۂ فتح کی آیت 29 میں بھی محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله اور ان کے سچے پیروکاروں کی بعض صفات کے تورات اور انجیل میں مذکور ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کے مطابق ان کتابوں میں آیا ہے کہ محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا) صلیاللهعلیهوآله اور ان کے پیروکار دشمنوں کے مقابلے میں سخت اور آپس میں انتہائی مہربان ہیں۔ مزید یہ کہ انہیں ایک ایسی کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے جو بتدریج بڑھتی، مضبوط ہوتی اور کاشتکاروں کو حیران کر دیتی ہے؛ یعنی مسلمان ابتدا میں کم تعداد میں تھے، مگر وقت کے ساتھ ان کی تعداد اور قوت اس قدر بڑھ گئی کہ کافران کے لیے باعثِ غیظ اور خوف بن گئی۔ [121]
«مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِیمَاهُمْ فِی وُجُوهِهِم مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْإِنجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِهِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ....»[122]
یہ بات مفسرین کے درمیان محل اختلاف ہے کہ مذکورہ تمام اوصاف دونوں کتابوں میں آئے ہیں یا ان میں سے کچھ تورات اور کچھ انجیل میں مذکور ہیں۔
کچھ شیعہ مفسّرین[123] اور سنّی [124] نے ابتدائی مفسرین جیسے قتادہ، ضحاک اور ابن جبیر کی پیروی کرتے ہوئے کہا ہے کہ «ذلک» سے پہلے والے اوصاف تورات میں اور کھیتی کی مثال انجیل میں بیان ہوئی ہے۔ [125]
طبری اس موقف کے ثبوت میں کہتے ہیں کہ اگر «کَزَرع» پہلے اوصاف پر عطف ہوتا اور تورات سے بھی متعلق ہوتا تو اسے حرفِ عطف «واو» کے ساتھ آنا چاہیے تھا۔ [126]
اس کے برعکس شوکانی «کَزَرع» کو جملۂ مستأنفہ قرار دیتے ہوئے — مجاہد کی پیروی میں — یہ کہتے ہیں کہ آیت کے آغاز سے آخر تک بیان کردہ تمام صفات تورات اور انجیل دونوں میں مذکور ہیں۔ [127]
ابوسلیمان دمشقی کے مطابق بھی کھیتی کی یہ تشبیہ تورات اور انجیل دونوں میں آئی ہے۔ [128]
جہاد
ایک اور تعلیم جس کے بارے میں قرآن بیان کرتا ہے کہ اس کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی موجود ہے، وہ اللہ کی راہ میں جنگ و جہاد اور اس راہ میں جان و مال قربان کرنے والے مؤمنین کے لیے یقینی جنت کی بشارت ہے:
«إِنَّ اللّهَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ....» [129]
اس آیت کے نزول کو «بیعتِ عقبہ» کے اصحاب کے بارے میں قرار دیا گیا ہے [130] اور مفسّران کے نزدیک یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حکمِ جہاد تمام آسمانی ادیان میں موجود رہا ہے۔ [131]
مذکورہ تعلیمات کے علاوہ، وہ ہدایات بھی جو حضرت مسیح علیہالسّلام نے اپنے پیروکاروں کو قرآن میں دی ہیں، ممکن ہے کہ اسی انجیل کی تعلیمات کا حصہ ہوں جو ان پر نازل ہوئی تھی؛ مثلاً تقویٰ کی تلقین، توحید کی دعوت، ان کی پیروی کا حکم، تورات کی تصدیق اور شرک کی نفی۔ [132]
حوالہ جات
- ↑ منیر بعلبکی، المورد قاموس انکلیزی ـ عربی، بیروت، دارالعلم للملایین، 1995، ص 395.
- ↑ Encyclopedia Of Religion and Ethics, James Hastings (ed), New York, Charles Scribners Sons, 13 Vols, Vol. 6, p. 333.
- ↑ Ibid, Vol. 6, p. 333.
- ↑ محمدرضا زیبائینژاد، مسیحیتشناسی مقایسهای، تهران، سروش، 1382، ص 139.
- ↑ The Catholic Encyclopedia, Charles G. Herrermann (ed), New York, The Encyclopedia Press, Inc, 1913, Vol. 6, p. 656.
- ↑ Ibid; Britannica, 2002, Deluxe Edition CD‑Rom, Vol. 5, p. 379.
- ↑ Encyclopedia Of Islam, prepared by a Number of Leading Orientalists, Leiden, 1986, Vol. 3, p. 1205.
- ↑ آرتور جعفری، واژههای دخیل در قرآن، ترجمۂ فریدون بدرهای، توس، 1372، ص 131 ـ 132.
- ↑ محمدبن حسن طوسی، التبیان … ج 3، ص 542 / فضلبن حسن طبرسی، مجمعالبیان … ج 2، ص 6 / محمدبن احمد قرطبی، الجامع … ج 4، ص 6.
- ↑ سید محمدمرتضی حسینی زبیدی، تاج العروس … ج 8، ص 128 / ابن منظور، لسان العرب … ج 14، ص 58 / حسن مصطفوی، التحقیق … ج 12، ص 39، مادہ نجل.
- ↑ ابن اثیر، النهایه … ج 5، ص 23 / فخرالدین طریحی، مجمع البحرین … ج 4، ص 274 / ابن منظور، پیشین، ج 4، ص 58.
- ↑ محمدبن عمر فخر رازی، التفسیر الکبیر … ج 7، ص 171 / محمد رشید رضا، تفسیر المنار … ج 3، ص 158 / محمود آلوسی، روح المعانی … ج 3، ص 124.
- ↑ زمخشری، الکشاف … ج 1، ص 335 / بیضاوی، تفسیر بیضاوی … ج 1، ص 237 / قمی مشهدی، کنزالدقائق، ص 237.
- ↑ توماس میشل، کلام مسیحی … ص 49 ـ 50 / و. م. میلر، تاریخ کلیسا … ص 66.
- ↑ New Catholic Encyclopedia, 2nd ed., Vol. 6, p. 366.
- ↑ رومیان، 1:1، 9، 16.
- ↑ Encyclopedia Of Fundamentalism, Brenda E. Brasher (ed), 2002, p. 193.
- ↑ New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.
- ↑ مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ص 111.
- ↑ … ر. ک. انجیل عیسی مسیح ترجمه تفسیری عهد جدید … انجیل شریف …
- ↑ و. م. میلر، پیشین، ص 66.
- ↑ The New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.
- ↑ توماس میشل، پیشین، ص 50 ـ 51.
- ↑ ہمان، ص 43 و 50 / میلر، پیشین، ص 70.
- ↑ ویلیام گلبن … دوم تیموتاؤس، 3:16.
- ↑ مریم 24 ـ 26
- ↑ مریم 29 ـ 33
- ↑ آل عمران 49؛ مائدہ 110
- ↑ Encyclopedia of Islam, Vol. 3, pp. 1205–1206.
- ↑ ویل دورانت، تاریخ تمدّن، ترجمہ احمد آرام، ع. پاشایی و امیرحسین آریانپور، چ ششم، تهران، علمی و فرهنگی، 1378، ج 3، ص 651 / سید جلالالدین آشتیانی، تحقیقی در دین مسیح، تهران، نگارش، 1368، ص 170 ـ 174؛ Carl Lofmark, What is the Bible, 1990, P. 66.
- ↑ فاضل خانهمدانی، پیشین / انجیل متی، 26:13 / انجیل مرقس، 14:9 ـ 10.
- ↑ و. م. میلر، پیشین، ص 66 ـ 69.
- ↑ عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، مسیحیت، قم، زلال کوثر، 1381، ص 67 / موریس بوکای، القرآن و التوراة والانجیل و العلم، ترجمه قسم الترجمه بالدار، القاهره، مکتبه مدبولی، 1996، ص 107.
- ↑ جوان، اُ. گریدی، مسیحیت و بدعتها، ترجمه عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، قم، طه، 1377، ص 46 ـ 47 / توماس میشل، پیشین، ص 54.
- ↑ سید جلالالدین آشتیانی، پیشین، ص 41 ـ 42 / قس. موریس بوکای، پیشین، ص 77.
- ↑ The International Standard Bible Encyclopedia, Geoffrey W. Bromiley (ed), WM. B. Eerdmans Publishing Company, USA, 1988, Vol. 2, p. 529; Encyclopedia Of Fundamentalism, p. 193; New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.
- ↑ International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, p. 183.
- ↑ توماس میشل، پیشین، ص 42.
- ↑ Carl Lofmark, op.cit., p. 27; The International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, pp. 601‑606.
- ↑ The Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 656; The New International Dictionary of the Bible, p. 105.
- ↑ عبدالرحیم سلیمانی، «عهد جدید» تاریخ نگارش و نویسندگان، فصلنامه هفت آسمان، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان و مذاهب، ش 3 ـ 4 (1378)، ص 73، 74، 79 و 81.
- ↑ موریس بوکای، پیشین، ص 103 ـ 105 / محمدجواد شکور، خلاصه ادیان، چ دوم، تهران، شرق، 1362، ص 168.
- ↑ و. م. میلر، پیشین، ص 67 / توماس میشل، پیشین، ص 28 / محمّدعلی بروّ العاملی، الکتاب المقدّس فی المیزان، بیروت، الدارالاسلامیة، 1413، ص 238.
- ↑ ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / سید جلالالدین آشتیانی، پیشین، ص 57 ـ 70 / موریس بوکای، پیشین، ص 99 ـ 101.
- ↑ مریل سی بن، معرفی عهد جدید، ترجمه طاطهوس میکائیلیان، تهران، حیات ابدی، 1362، ص 171 ـ 173؛ The Encyclopedia of Religion, V, P. 208.
- ↑ موریس بوکای، پیشین، ص 86 ـ 90.
- ↑ جماعة من اللاهوتیین، … ص 90 ـ 91 / القس فهیم عزیز، … ص 21 / موریس بوکای، … ص 88.
- ↑ القس فهیم عزیز، پیشین، ص 247؛ Cross, F.L. … P. 859.
- ↑ القس فهیم عزیز، پیشین، ص 221 / جماعه من اللاهوتیین، پیشین، ج 5، ص 91.
- ↑ مستر هاکس، پیشین، ص 782 / محمّدعلی بّرو العاملی، پیشین، ص 244 ـ 245 / The Oxford Dictionary … p.359.
- ↑ القس فهیم عزیز، پیشین، ص 242 ـ 247؛ The Encyclopedia of Religion, V. 9. P. 285.
- ↑ القس فهیم عزیز، پیشین، ص 245؛ Achtemeier … P. 613.
- ↑ مریل سی بن، پیشین، ص 159.
- ↑ ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / موریس بوکای، پیشین، ص 90 ـ 92.
- ↑ ویل دورانت… / مستر هاکس… / سلیمانی اردستانی…
- ↑ The Encyclopedia of Religion … p.51; Harper’s Bible Dictionary p.583.
- ↑ موریس بوکای، ص 92.
- ↑ Harper’s Bible Dictionary, P. 583.
- ↑ القس فهیم عزیز، … ص 560 ـ 561 / مریل سی بن … ص 209 / The new International Dictionary … P. 499, 534.
- ↑ ویل دورانت… / موریس بوکای…
- ↑ Britanica, V. 7, P. 69.
- ↑ Neal Robinson, Jesus in the Quran, The Historical Jesus, P. 8.
- ↑ New Catholic Encyclopedia, V. 4, P. 731.
- ↑ آل عمران: 3، 48، 65؛ مائده: 46، 47، 66، 68، 110؛ اعراف: 157؛ توبه: 111؛ فتح: 29؛ حدید: 27
- ↑ آلعمران: 3؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30
- ↑ انعام: 92؛ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ سبأ: 31
- ↑ آل عمران: 64 ـ 65؛ نساء: 171
- ↑ بقره: 146؛ نساء: 47، 13؛ مائده: 5
- ↑ آل عمران: 3؛ مائده: 46، 110؛ حدید: 27
- ↑ مائده: 46
- ↑ مائده: 48؛ یونس: 37
- ↑ اعراف: 157؛ فتح: 29
- ↑ مائده: 14 ـ 15
- ↑ محمّدبن جریر طبری... ج 6، ص 358 / ...
- ↑ حدید: 25 و 27
- ↑ مائده: 46، 110
- ↑ «قال انّی عبداللّه آتانی الکتاب...» مریم: 30
- ↑ ...
- ↑ ...
- ↑ ...
- ↑ ...
- ↑ آل عمران: 3 ـ 4؛ مائده: 46 ـ 48
- ↑ مائده: 46
- ↑ ...
- ↑ ...
- ↑ ...
- ↑ آلعمران: 50
- ↑ مائده: 48
- ↑ ...
- ↑ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ بقره: 97؛ آلعمران: 3؛ مائده: 48...
- ↑ ...
- ↑ نساء: 157، 171؛ مائده: 17، 72 ـ 73، 116 ـ 117؛ توبه: 30
- ↑ سید محمّدحسین طباطبایی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.
- ↑ محمّدبن عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 46 / تفسیر بیضاوی، ج 1، ص 444 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.
- ↑ ابوجعفر نحّاس، معانیالقرآن، به کوشش الصابونی، عربستان، جامعة امّالقری، 1409، ج 2، ص 337 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 46/ اسماعیلبنکثیردمشقی، پیشین، ج 1، ص 169.
- ↑ محمّدبن حسن طوسی، پیشین، ج 3، ص 585 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 341 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.
- ↑ مائده: 47
- ↑ مائده: 46؛ آلعمران: 3 ـ 4
- ↑ محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّد عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 9 / محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.
- ↑ محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
- ↑ محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
- ↑ محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 314.
- ↑ محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
- ↑ محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.
- ↑ محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358.
- ↑ فضلبن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 311 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
- ↑ اعراف: 157
- ↑ محمد بن جریر طبری، سابق، مج 6، ج 9، ص 112 ـ 113 / اسماعیل بن کثیر دمشقی، سابق، ج 2، ص 262؛ ج 3، ص 427 / سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 8، ص 280.
- ↑ سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 8، ص 280.
- ↑ همان، ج 19، ص 253.
- ↑ محمد بن حسن طوسی، سابق، ج 4، ص 559 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 4، ص 749 / محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 29، ص 313 ـ 314.
- ↑ عبدالرحیم سلیمانی، «قرآن کریم و بشارتهای پیامبران»، فصلنامه هفت آسمان، ش 16 زمستان 1381، ص 51 ـ 61.
- ↑ سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 7، ص 41.
- ↑ بقره: 146
- ↑ محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 17، ص 94 / سید ابوالقاسم خوئی، البیان، چاپ هشتم، انوارالهدی، 1401، ص 122 / سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 19، ص 253.
- ↑ قصص: 52 ـ 53
- ↑ یوحنا، 14:15 ـ 17 و 25 ـ 26؛ 15:26 ـ 27؛ 16: 5 ـ 15.
- ↑ فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 4، ص 749 / محمدتقی مصباح، سابق، ج 1، ص 188ـ189 / محمد صادقی، سابق، ج 26ـ27، ص 306.
- ↑ محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 29، ص 313 / محمد رشید رضا، سابق، ج 9، ص 291 / سید محمود آلوسی، سابق، مج 15، ج 28، ص 128.
- ↑ محمدتقی مصباح، سابق، ص 188.
- ↑ محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 / محمد بن احمد قرطبی، سابق، ج 16، ص 292.
- ↑ فتح: 29
- ↑ محمد بن حسن طوسی، سابق، ج 9، ص 337 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 9، ص 192.
- ↑ محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 ـ 146 / اسماعیل بن کثیر دمشقی، سابق، ج 4، ص 219 / ابوجعفر نحاس، سابق، ج 6، ص 515.
- ↑ محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 / عبدالرزاق صنعانی، تفسیر صنعانی، بہ کوشش محمود محمد عبده، بیروت، دارالکتب العلمیه، 1419، ج 3، ص 228 / جمالالدین جوزی، زاد المسیر فی علم التفسیر، چہارم، بیروت، المکتب الاسلامی، 1407، ج 7، ص 449.
- ↑ محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 146.
- ↑ محمد بن علی شوکانی، فتح القدیر، بیروت، دارالمعرفه، ج 5، ص 56.
- ↑ جمالالدین جوزی، سابق، ج 7، ص 448 / ج 3، ص 503.
- ↑ توبہ: 111
- ↑ جمالالدین جوزی، سابق، ج 7، ص 448 / ج 3، ص 503.
- ↑ محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 16، ص 201 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 5، ص 113 ـ 114 / سعید بن هبهالله راوندی، فقه القرآن، بہ کوشش سید احمد حسینی، چاپ دوم، قم، کتابخانه آیهالله مرعشی نجفی، 1405، ج 1، ص 349.
- ↑ آل عمران: 50 ـ 51؛ مائدہ: 72؛ توبہ: 31