"نیٹو" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ نیٹو کو مسودہ:نیٹو کی جانب منتقل کیا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 34: | سطر 34: | ||
نیٹو نے 12 ممالک کے ساتھ آغاز کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس میں نمایاں توسیع ہوئی۔ سرد جنگ کے اختتام اور سوویت یونین کے زوال کے بعد مشرقی یورپ کے کئی ممالک یکے بعد دیگرے نیٹو کا حصہ بنتے گئے۔ | نیٹو نے 12 ممالک کے ساتھ آغاز کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس میں نمایاں توسیع ہوئی۔ سرد جنگ کے اختتام اور سوویت یونین کے زوال کے بعد مشرقی یورپ کے کئی ممالک یکے بعد دیگرے نیٹو کا حصہ بنتے گئے۔ | ||
یہ متن کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے: | |||
=== ناتو کی توسیع کا عمل === | |||
| توسیع کا دور | سال | نئے ارکان کی تعداد | نئے ارکان | | |||
|---------------|------|--------------------|-------------| | |||
| قیام | 1949ء | 12 | امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا، اٹلی، بیلجیم، نیدرلینڈز، لگزمبرگ، ڈنمارک، ناروے، پرتگال، آئیس لینڈ | | |||
| پہلی توسیع | 1952ء | 2 | یونان، ترکی | | |||
| دوسری توسیع | 1955ء | 1 | مغربی جرمنی | | |||
| تیسری توسیع | 1982ء | 1 | اسپین | | |||
| سرد جنگ کے بعد | 1999ء | 3 | پولینڈ، ہنگری، چیک جمہوریہ | | |||
| 2004ء کی توسیع | 2004ء | 7 | اسٹونیا، لیتھونیا، لٹویا، سلواکیا، سلووینیا، رومانیہ، بلغاریہ | | |||
| 2009ء کی توسیع | 2009ء | 2 | البانیا، کرویشیا | | |||
| 2017ء کی توسیع | 2017ء | 1 | مونٹینیگرو | | |||
| 2020ء کی توسیع | 2020ء | 1 | شمالی مقدونیہ | | |||
| 2024ء کی توسیع | 2024ء | 1 | سویڈن | | |||
ناتو کا تازہ ترین رکن سویڈن ہے، جو 7 مارچ 2024ء کو اتحاد میں شامل ہوا۔ | |||
اس کے بعد ناتو کے کل ارکان کی تعداد 32 ممالک تک پہنچ گئی۔ | |||
== موجودہ ارکان: == | |||
البانیا، جرمنی، امریکہ، اسپین، اسٹونیا، سلواکیا، سلووینیا، اٹلی، آئس لینڈ، برطانیہ، بیلجیم، بلغاریہ، پرتگال، ترکی، ٹوکلاو، ڈنمارک، رومانیہ، روانڈا، زمبابوے، جاپان، سویڈن، سینیگال، چلی، سربیا، فرانس، فن لینڈ، قرغیزستان، قازقستان، کینیڈا، کرویشیا، کولمبیا، کوسوو، جارجیا، لٹویا، لگزمبرگ، لیتھونیا، ہنگری، شمالی مقدونیہ، مالڈووا، مونٹینیگرو، ناروے، نیدرلینڈز، یونان۔ | |||
'''نوٹ:''' آخری فہرست میں چند ممالک جیسے *توکلاو، روانڈا، زمبابوے، جاپان، سینیگال، چلی، صربیا، قرغیزستان، قازقستان، کولمبیا، کوسوو، جارجیا، مالڈووا* دراصل ناتو کے رکن نہیں ہیں۔ ناتو کے حقیقی ارکان 32 ہیں جن میں تازہ ترین *سویڈن* ہے۔ | |||
نسخہ بمطابق 11:39، 23 اپريل 2026ء
نیٹو، جس کا پورا نام "نارتھ اٹلانٹک ٹیٹی آرگنائزیشن (NATO)"(انگلش: North Atlantic Treaty Organization, NATO) ہے، ایک بین الاقوامی عسکری اور سیاسی اتحاد ہے جو 4 اپریل 1949 کو ’’معاہدۂ اٹلانٹک شمالی‘‘ پر دستخط کے ذریعے 12 ممالک نے قائم کیا۔ آج یہ دنیا کی اہم ترین سلامتی اور دفاعی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ نیٹو کا مرکزی دفتر برسلز، بیلجیم میں واقع ہے اور اس کے موجودہ سیکریٹری جنرل مارک رُتے ہیں۔ اس وقت نیٹو کے 32 رکن ممالک ہیں اور تقریباً 20 ہزار فوجی اہلکار مختلف بین الاقوامی مشنوں میں تعینات ہیں [1]۔
پس منظر اور قیام
نیٹو کے قیام کا بنیادی مقصد ’’باہمی دفاعی تعاون‘‘ کا ایک ایسا معاہدہ بنانا تھا جو سوویت یونین کی توسیع پسندی، خصوصاً جوزف اسٹالن کی پالیسیوں کا مقابلہ کر سکے۔ بانی ممالک یہ تھے:
امریکا، برطانیہ، فرانس، کینیڈا، اٹلی، بیلجیم، نیدرلینڈز، لکسمبرگ، ڈنمارک، ناروے، پرتگال اور آئس لینڈ۔
نیٹو نے اپنی تاریخ میں صرف ایک مرتبہ باضابطہ طور پر آرٹیکل 5 کو فعال کیا، اور وہ تھا 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر دہشت گردانہ حملے کے بعد۔ اس کے بعد سے یہ تنظیم شام، یوکرین کی جنگ اور دیگر بحرانوں میں بھی دفاعی تعاون اور مربوط اقدامات میں شامل رہی ہے۔
اصول اور ڈھانچہ
آرٹیکل 5 (اجتماعی دفاع)
نیٹو کی بنیاد آرٹیکل 5 پر رکھی گئی ہے، جو اجتماعی دفاع کے اصول پر زور دیتا ہے۔ اس کے مطابق، اگر نیٹو کے کسی ایک رکن پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے
اور تمام ممالک اس کی دفاع میں مدد کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ یہ اصول نیٹو کے تحفظ اور اجتماعی سلامتی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔
اجماع کا اصول
نیٹو میں تمام فیصلے متفقہ رائے سے کیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی فیصلے پر تمام رکن ممالک کا اتفاق ہونا ضروری ہے اور کسی فیصلہ کو اس وقت تک نافذ نہیں کیا جا سکتا
جب تک ہر ملک اس کی منظوری نہ دے۔ اس ڈھانچے سے ہر ملک کو عملی طور پر ویٹو کا حق حاصل ہوتا ہے، جس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ تمام ارکان کے مفادات کو ملحوظ رکھا جائے۔
ادارے اور کمانڈ اسٹرکچر
نیٹو کا مرکزی دفتر برسلز میں واقع ہے، جہاں روزانہ رکن ممالک کے فوجی اور سیاسی نمائندوں کے درمیان مشاورت اور حفاظتی اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ سالانہ تقریباً 5000 اجلاس یہاں ہوتے ہیں۔
نیٹو کا کمانڈ اسٹرکچر ’’سٹرٹیجک ہیڈکوارٹرز (SHAPE)‘‘ اور خصوصی آپریشنز کی کمانڈ پر مشتمل ہے۔
نیٹو کی توسیع
نیٹو کے ابتدائی ارکان
نیٹو نے 12 ممالک کے ساتھ آغاز کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس میں نمایاں توسیع ہوئی۔ سرد جنگ کے اختتام اور سوویت یونین کے زوال کے بعد مشرقی یورپ کے کئی ممالک یکے بعد دیگرے نیٹو کا حصہ بنتے گئے۔ یہ متن کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:
ناتو کی توسیع کا عمل
| توسیع کا دور | سال | نئے ارکان کی تعداد | نئے ارکان | |---------------|------|--------------------|-------------| | قیام | 1949ء | 12 | امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا، اٹلی، بیلجیم، نیدرلینڈز، لگزمبرگ، ڈنمارک، ناروے، پرتگال، آئیس لینڈ | | پہلی توسیع | 1952ء | 2 | یونان، ترکی | | دوسری توسیع | 1955ء | 1 | مغربی جرمنی | | تیسری توسیع | 1982ء | 1 | اسپین | | سرد جنگ کے بعد | 1999ء | 3 | پولینڈ، ہنگری، چیک جمہوریہ | | 2004ء کی توسیع | 2004ء | 7 | اسٹونیا، لیتھونیا، لٹویا، سلواکیا، سلووینیا، رومانیہ، بلغاریہ | | 2009ء کی توسیع | 2009ء | 2 | البانیا، کرویشیا | | 2017ء کی توسیع | 2017ء | 1 | مونٹینیگرو | | 2020ء کی توسیع | 2020ء | 1 | شمالی مقدونیہ | | 2024ء کی توسیع | 2024ء | 1 | سویڈن |
ناتو کا تازہ ترین رکن سویڈن ہے، جو 7 مارچ 2024ء کو اتحاد میں شامل ہوا۔ اس کے بعد ناتو کے کل ارکان کی تعداد 32 ممالک تک پہنچ گئی۔
موجودہ ارکان:
البانیا، جرمنی، امریکہ، اسپین، اسٹونیا، سلواکیا، سلووینیا، اٹلی، آئس لینڈ، برطانیہ، بیلجیم، بلغاریہ، پرتگال، ترکی، ٹوکلاو، ڈنمارک، رومانیہ، روانڈا، زمبابوے، جاپان، سویڈن، سینیگال، چلی، سربیا، فرانس، فن لینڈ، قرغیزستان، قازقستان، کینیڈا، کرویشیا، کولمبیا، کوسوو، جارجیا، لٹویا، لگزمبرگ، لیتھونیا، ہنگری، شمالی مقدونیہ، مالڈووا، مونٹینیگرو، ناروے، نیدرلینڈز، یونان۔
نوٹ: آخری فہرست میں چند ممالک جیسے *توکلاو، روانڈا، زمبابوے، جاپان، سینیگال، چلی، صربیا، قرغیزستان، قازقستان، کولمبیا، کوسوو، جارجیا، مالڈووا* دراصل ناتو کے رکن نہیں ہیں۔ ناتو کے حقیقی ارکان 32 ہیں جن میں تازہ ترین *سویڈن* ہے۔
- ↑ [< https://snn.ir/fa/news/1321524/%D9%86%D8%A7%D8%AA%D9%88-%DA%86%DB%8C%D8%B3%D8%AAاتو چیست؟|- شائع شدہ از: 1آبان 1404ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 21 اپریل 2026ء