"حضرت ابراہیم" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «'''حضرت ابراہیم (علیہ السّلام)''' جو <big>ابراہیم خلیل</big> کے نام سے مشہور ہیں، اللہ تعالیٰ کے عظیم انبیاء میں سے ایک اور پیامبران اولوالعزم میں شمار ہوتے ہیں۔ دین توحید کی نسبت اسی عظیم پیغمبر کی طرف کی جاتی ہے۔ آپ حضرت اسماعیل|حضرت اسماعیل (ع...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 51: | سطر 51: | ||
یہ بھی کہا گیا ہے کہ سارہ کی وفات کے بعد حضرت ابراہیم نے مزید دو عورتوں سے نکاح کیا، جن میں سے ایک سے چار اور دوسری سے سات بیٹے پیدا ہوئے، اس طرح ان کے بیٹوں کی مجموعی تعداد تیرہ تک پہنچ گئی<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۴۱</ref>۔ | یہ بھی کہا گیا ہے کہ سارہ کی وفات کے بعد حضرت ابراہیم نے مزید دو عورتوں سے نکاح کیا، جن میں سے ایک سے چار اور دوسری سے سات بیٹے پیدا ہوئے، اس طرح ان کے بیٹوں کی مجموعی تعداد تیرہ تک پہنچ گئی<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۴۱</ref>۔ | ||
== حضرت ابراہیم اور دعوتِ توحید == | |||
قرآنِ مجید کی روایت کے مطابق ابراہیم نے اس زمانے میں رائج اجرامِ آسمانی کی پرستش کو باطل قرار دے کر لوگوں کو ایک خدا کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ | |||
(انعام، آیات 76 تا 79) | |||
یہ قرآنی روایت، اگرچہ عہدِ عتیق میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا، لیکن یہود کے درمیان معروف رہی ہے اور یوسفوس نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے، نیز بعد کے یہودی مصادر میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ابراہیم کا اپنی قوم کے ساتھ مناقشہ ہوا۔ درحقیقت ابراہیم کی جانب سے اجرامِ آسمانی کی طرف نسبتِ اعتقاد اور پھر ان سے روگردانی اس لیے تھی کہ قوم کو اس عقیدے کی بے اعتباری دکھائی جائے اور انہیں خدا کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا جائے۔ | |||
(طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، ج۴، ص۱۸۶) | |||
جیسا کہ مسعودی کے بیان کے مطابق سارہ، جو ابراہیم کی زوجہ تھیں، اور لوط جو ان کے بھتیجے تھے، سب سے پہلے لوگ تھے جو ان پر ایمان لائے۔ | |||
(مسعودی، مروج الذهب، ج۱، ص۵۷) | |||
اور فان سترس کے مطابق غالباً ابراہیم خود بھی ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے اس طریقے سے توحید کی طرف رجوع کیا۔ | |||
-------------------------------------------------- | |||
== نبوت، امامت حضرت ابراہیم == | |||
قرآن کی متعدد آیات میں حضرت ابراہیم کی نبوت اور ان کی دعوتِ توحید کا ذکر آیا ہے: | |||
سورۂ مریم، آیات 41 تا 48 | |||
سورۂ انبیاء، آیات 51 تا 57 | |||
سورۂ شعراء، آیات 69 تا 82 | |||
سورۂ صافات، آیات 83 تا 100 | |||
سورۂ زخرف، آیات 26 و 27 | |||
سورۂ ممتحنہ، آیت 4 | |||
سورۂ عنکبوت، آیات 16 تا 25 | |||
اسی طرح سورۂ احقاف کی آیت 35 میں اولوالعزم انبیاء کا ذکر آیا ہے اور روایات کے مطابق ابراہیم ان میں شامل ہیں اور حضرت نوح کے بعد دوسرے اولوالعزم پیغمبر ہیں۔ | |||
(طباطبائی، المیزان، ج۱۸، ص۲۱۸) | |||
سورۂ بقرہ کی آیت 124 کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو چند آزمائشوں کے بعد مقامِ امامت عطا کیا۔ علامہ طباطبائی کے مطابق اس آیت میں امامت سے مراد باطنی ہدایت ہے؛ ایک ایسا مقام جس تک پہنچنا بلند روحانی اور وجودی کمال کا تقاضا کرتا ہے جو طویل مجاہدات کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ | |||
(المیزان، ج۱، ص۲۷۲) | |||
قرآن کی آیات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو خلیل (دوست) کے طور پر منتخب کیا۔ اسی وجہ سے انہیں خلیل اللہ کہا جاتا ہے۔ | |||
(سورۂ نساء، آیت 125) | |||
علل الشرائع میں نقل شدہ روایات کے مطابق کثرتِ سجدہ، لوگوں کی درخواست کو رد نہ کرنا، غیرِ خدا سے کچھ طلب نہ کرنا، لوگوں کو کھانا کھلانا اور رات کی عبادت کرنا ان وجوہات میں سے ہیں جن کی بنا پر اللہ نے انہیں اپنا خلیل بنایا۔ | |||
(صدوق، علل الشرائع، ج۱، ص۳۴ و ۳۵) | |||
-------------------------------------------------- | |||
== داستان حضرت ابراہیم از نظر قرآن == | |||
حضرت ابراہیم کا نام اور ان سے متعلق واقعات قرآن کی درج ذیل آیات میں بیان ہوئے ہیں: | |||
سورۂ بقرہ: 124 تا 131، 258 تا 260 | |||
سورۂ آل عمران: 95 تا 97 | |||
سورۂ نساء: 125 | |||
سورۂ انعام: 74 تا 90 اور آیت 161 | |||
سورۂ ہود: 69 تا 76 | |||
سورۂ ابراہیم: 35 تا 41 | |||
سورۂ نحل: 120 تا 122 | |||
سورۂ مریم: 41 تا 50 | |||
سورۂ انبیاء: 51 تا 73 | |||
سورۂ حج: 26 تا 30 | |||
سورۂ شعراء: 69 تا 89 | |||
سورۂ عنکبوت: 26، 31، 32 | |||
سورۂ احزاب: 7 | |||
سورۂ صافات: 83 تا 111 | |||
سورۂ ص: 45 و 46 | |||
سورۂ شوریٰ: 13 | |||
سورۂ زخرف: 28 | |||
سورۂ ذاریات: 24 تا 37 | |||
سورۂ نجم: 37 | |||
سورۂ حدید: 26 | |||
سورۂ ممتحنہ: 4 | |||
سورۂ اعلیٰ: 18 و 19 | |||
قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم بچپن سے لے کر شعور کی عمر تک اپنے معاشرے سے دور ایک پناہ گاہ میں زندگی گزارتے رہے۔ جب وہ سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچے تو اپنی قوم کے درمیان آئے اور دیکھا کہ ان کے والد اور پوری قوم بتوں کی عبادت کرتی ہے۔ چونکہ ان کی فطرت پاکیزہ تھی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ملکوت کی معرفت عطا کی تھی، اس لیے انہوں نے اس عمل کو ناپسند کیا اور خاموش نہ رہے۔ | |||
انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد سے گفتگو کی اور انہیں بت پرستی سے منع کیا اور خدا کی توحید کی دعوت دی۔ لیکن جب والد نے دیکھا کہ ابراہیم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو انہوں نے انہیں گھر سے نکال دینے اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔ | |||
(سورۂ مریم، آیات 41 تا 48) | |||
ابراہیم نے نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ جواب دیا، سلام کیا اور ان کے لیے استغفار کا وعدہ کیا، لیکن واضح کر دیا کہ اگر وہ خدا کے راستے کو قبول نہ کریں گے تو وہ ان سے جدا ہو جائیں گے۔ | |||
اسی طرح انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ بھی بتوں کے بارے میں مناظرہ کیا۔ | |||
(سورۂ انبیاء، آیات 51 تا 56؛ سورۂ شعراء، آیات 69 تا 77) | |||
انہوں نے ان لوگوں سے بھی بحث کی جو ستاروں، سورج اور چاند کی عبادت کرتے تھے اور اس طرح ان کے عقیدے کی کمزوری کو ظاہر کیا۔ | |||
(سورۂ انعام، آیات 74 تا 82) | |||
ایک دن جب قوم اپنے مذہبی جشن کے لیے شہر سے باہر گئی ہوئی تھی تو ابراہیم بیماری کا بہانہ کر کے شہر میں ٹھہر گئے۔ جب شہر خالی ہو گیا تو وہ بت خانے میں داخل ہوئے اور تمام بتوں کو توڑ دیا اور صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ جب لوگ واپس آئے تو انہوں نے اس واقعے کے ذمہ دار کو تلاش کیا اور کہا کہ یہ کام ایک نوجوان نے کیا ہے جس کا نام ابراہیم ہے۔ | |||
جب انہیں لوگوں کے سامنے لایا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے؟ تو ابراہیم نے کہا: شاید یہ کام بڑے بت نے کیا ہو، اگر یقین نہیں تو اسی سے پوچھ لو۔ لوگ جانتے تھے کہ بت بول نہیں سکتے، اس لیے وہ خاموش ہو گئے۔ تب ابراہیم نے کہا: کیا تم ان چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان؟ | |||
قوم نے فیصلہ کیا کہ اسے جلا دیا جائے۔ انہوں نے ایک عظیم آگ جلائی اور ابراہیم کو اس میں ڈال دیا، مگر اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا۔ | |||
(سورۂ انبیاء، آیات 56 تا 70؛ سورۂ صافات، آیات 88 تا 98) | |||
اسی دوران ابراہیم کی ملاقات نمرود سے بھی ہوئی۔ نمرود نے ربوبیت کا دعویٰ کیا تھا۔ ابراہیم نے فرمایا: میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے کہا: میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اس پر ابراہیم نے فرمایا: اللہ سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے، اگر تم سچے ہو تو اسے مغرب سے طلوع کر کے دکھاؤ۔ اس پر نمرود حیران رہ گیا۔ | |||
(سورۂ بقرہ، آیت 258) | |||
آگ سے نجات کے بعد بھی ابراہیم نے توحید کی دعوت جاری رکھی اور کچھ لوگ ان پر ایمان لائے، جن میں لوط اور ان کی زوجہ بھی شامل تھیں۔ بعد ازاں اللہ کے حکم سے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سرزمینِ مقدس کی طرف ہجرت کر گئے۔ | |||
(سورۂ ممتحنہ، آیت 4؛ سورۂ انبیاء، آیت 71) | |||
وہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں اسحاق اور اسماعیل کی بشارت دی۔ اس کے بعد پہلے اسماعیل اور پھر اسحاق پیدا ہوئے اور اللہ نے ان کی نسل میں برکت قرار دی۔ | |||
کچھ عرصے بعد ابراہیم اللہ کے حکم سے اسماعیل اور ان کی والدہ ہاجر کو مکہ لے گئے اور اس بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا۔ بعد میں ابراہیم اور اسماعیل نے مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ | |||
(سورۂ بقرہ، آیات 126 تا 129؛ سورۂ آل عمران، آیات 96 تا 97) | |||
ابراہیم نے حج کے مناسک بھی مقرر کیے۔ | |||
(سورۂ حج، آیات 26 تا 30) | |||
بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بیٹے اسماعیل کی قربانی کا حکم دیا۔ | |||
(سورۂ صافات، آیات 101 تا 107) | |||
قرآن میں ابراہیم کی داستان کا آخری حصہ وہ دعائیں ہیں جو انہوں نے مکہ میں کیں۔ | |||
(سورۂ ابراہیم، آیات 35 تا 41) | |||
-------------------------------------------------- | |||
== منزلت حضرت ابراہیم در نزد خداوند == | |||
قرآن کریم میں ساٹھ سے زیادہ مقامات پر ابراہیم کا ذکر آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت کو مختلف انداز سے بیان کیا ہے۔ ان میں سے چند خصوصیات یہ ہیں: | |||
1. اللہ نے ابتدا ہی سے انہیں رشد اور ہدایت عطا کی۔ | |||
(سورۂ انبیاء، آیت 51) | |||
2. اللہ نے انہیں دنیا میں منتخب کیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں ہوں گے۔ | |||
(سورۂ بقرہ، آیات 130 تا 131) | |||
3. انہوں نے اپنا رخ خالصتاً خدا کی طرف کیا اور کبھی شرک نہیں کیا۔ | |||
(سورۂ انعام، آیت 79) | |||
4. انہوں نے آسمانوں اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ کیا اور یقین حاصل کیا۔ | |||
(سورۂ بقرہ، آیت 260) | |||
5. اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا۔ | |||
(سورۂ نساء، آیت 125) | |||
6. اللہ نے ان پر اور ان کے اہلِ بیت پر رحمت اور برکت نازل کی۔ | |||
(سورۂ نجم، آیت 37) | |||
7. انہیں حلیم، اوّاہ اور منیب کہا گیا۔ | |||
(سورۂ ہود، آیات 73 تا 75) | |||
8. وہ ایک خدا پرست امت اور حنیف تھے اور کبھی شرک نہیں کیا۔ | |||
(سورۂ نحل، آیات 120 تا 122) | |||
9. وہ ایک صدیق نبی تھے۔ | |||
(سورۂ مریم، آیت 41) | |||
10. اللہ نے انہیں امام بنایا۔ | |||
(سورۂ بقرہ، آیت 124) | |||
11. اللہ نے نبوت اور کتاب کو ان کی نسل میں قرار دیا اور ان کے لیے آنے والی نسلوں میں نیک نامی باقی رکھی۔ | |||
(سورۂ حدید، آیت 26) | |||
قرآن کریم فرماتا ہے کہ اسلام دراصل ابراہیم کا دین ہے: | |||
“ملۃ ابیکم ابراہیم هو سماکم المسلمین من قبل” | |||
(سورۂ حج، آیت 78) | |||
اور یہ بھی فرمایا: | |||
“دیناً قیماً ملۃ ابراہیم حنیفاً” | |||
(سورۂ انعام، آیت 161) | |||
اللہ تعالیٰ نے اس کعبہ کو جسے ابراہیم نے تعمیر کیا، بیت الحرام اور تمام عالم کا قبلہ قرار دیا اور حج کے مناسک اس لیے مقرر کیے تاکہ ان کی ہجرت، ان کی عبادت، اور اللہ کی راہ میں ان کی قربانیوں کی یاد باقی رہے۔ | |||
نسخہ بمطابق 14:17، 20 اپريل 2026ء
حضرت ابراہیم (علیہ السّلام) جو ابراہیم خلیل کے نام سے مشہور ہیں، اللہ تعالیٰ کے عظیم انبیاء میں سے ایک اور پیامبران اولوالعزم میں شمار ہوتے ہیں۔ دین توحید کی نسبت اسی عظیم پیغمبر کی طرف کی جاتی ہے۔ آپ حضرت اسماعیل (علیہ السّلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السّلام) کے معزز والد ہیں، اور انہی دونوں کے ذریعے بہت سے انبیاء کا نسب آپ تک پہنچتا ہے، جن میں حضرت موسیٰ (علیہ السّلام), حضرت عیسیٰ (علیہ السّلام) اور حضرت محمد (صلّی اللہ علیہ وآلہ) شامل ہیں۔
نام حضرت ابراہیم
ابراہیم نام کی مختلف صورتیں دینی اور غیر دینی منابع میں حروف اور ہجّوں کے اضافہ، ادغام یا تبدیلی کے ساتھ ملتی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ نام ہلالِ خصیب کے علاقے میں معروف اور رائج تھا۔ شکل ابرام پہلی بار اس مقام پر مذکور ہوئی ہے جہاں عہد عتیق میں اس کا ذکر آیا ہے[1]۔ یعقوب اور یوسف جیسے ناموں کی طرح یہ نام بھی بیسویں اور انیسویں صدی قبل مسیح میں آموریوں اور اس خطے کی دیگر اقوام کے درمیان پایا جاتا تھا[2]۔
جوالیقی نے بھی اس نام کی مختلف شکلیں جیسے ابراہام، ابراہْم اور ابراہِم ذکر کی ہیں اور اسے ایک قدیم اور غیر عربی نام قرار دیا ہے[3]۔ بظاہر سب سے قدیم ماخذ جس میں یہ نام **ابراہیم** کی صورت میں درج ہوا ہے، قرآن ہے۔
معنیٰ ابراہیم
نام ابرام کے معنی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا پہلا حصہ (اَب) سامی زبان میں باپ کے معنی دیتا ہے۔ دوسرے حصے کو بعض نے محبت کرنے والا اور بعض نے بلند مرتبہ یا عالی مقام کے معنی میں لیا ہے۔ اس بنیاد پر ابرام کے معنی “بلند مرتبہ باپ” یا “عالی مقام باپ” ہونا بعید نہیں[4]۔
اسی طرح ابراہام (جس کی ایک بولی کی شکل: اورہام ہے) کے معنی “بہت سی قوموں کا باپ” بیان کیے گئے ہیں، لیکن غالباً یہ عوامی اشتقاق ہے، اگرچہ اسے عربی لفظ رُہام (کثیر اور بے شمار) کے ساتھ ہم ریشہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو دیگر معانی اور صورتیں بیان کی گئی ہیں وہ زیادہ درست معلوم نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر نووی نے ماوردی کے حوالے سے اس کے سریانی معنی “مہربان باپ” نقل کیے ہیں اور وہب بن منبہ نے ابرہہ کو ابراہیم کی حبشی شکل قرار دیتے ہوئے اس کے معنی “سفید چہرہ” بتائے ہیں، لیکن یہ معنی صحیح معلوم نہیں ہوتے[5]۔
خاندان اور اصل نسب حضرت ابراہیم
عہد عتیق کی روایت کے مطابق ابراہیم ان آرامی قبائل سے تعلق رکھتے تھے جو جزیرۃ العرب سے ہجرت کر کے فرات کے کناروں تک پہنچے تھے[6]۔ بعض محققین نے ابراہیم کے اجداد کو آموریوں میں شمار کیا ہے جو جزیرۂ عرب سے عراق کی طرف آئے تھے[7]۔
آرامی لوگ حرّان میں، جو بلیخ اور خابور دریاؤں کے سرچشموں کے قریب واقع تھا، آباد تھے۔ غالباً تیسری ہزارہ قبل مسیح کے دوسرے نصف کے وسط میں شہر **اور** کی اقتصادی ترقی کی وجہ سے ان کے بعض گروہ وہاں ہجرت کر گئے تھے۔ لیکن جب آموری قبائل کے حملوں اور عیلامیوں کی یورش کے باعث شہر اور تباہ ہو گیا تو یہ آرامی مہاجر دوبارہ اپنے اصل وطن واپس لوٹ گئے۔ ابراہیم کے والد ان خاندانوں میں سے ایک کے سربراہ تھے جو اسی ہجرت کے دوران اور سے حرّان کی طرف روانہ ہوئے تھے[8]۔
آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم کا خاندان دوسری ہزارہ قبل مسیح کے اوائل میں اس خطے میں منتقل ہوا تھا[9]۔ قدیم مؤرخین اور مصنفین نے بھی حرّان کو ابراہیم کے والد کا وطن قرار دیا ہے[10]۔
تاریخ ولادت اور جائے پیدائش حضرت ابراہیم
ابراہیم کی پیدائش کے وقت کے بارے میں، جو روایت کے مطابق ستر سال کی عمر میں ایک واقعے سے متعلق بیان ہوئی ہے، کوئی ایسا مستند تاریخی ثبوت دستیاب نہیں جو درست یا قریب ترین تاریخ فراہم کرے[11]۔ تاہم موجودہ دور کے اکثر محققین بیسویں صدی قبل مسیح کو ان کی ولادت کا زمانہ قرار دیتے ہیں اور بعض نے ۱۹۹۶ قبل مسیح کی زیادہ دقیق تاریخ ذکر کی ہے[12]۔
ابراہیم کی جائے پیدائش کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگرچہ عہد عتیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اورِ کلدانیان میں پیدا ہوئے تھے[13]، لیکن بعض نے ان کی پیدائش الورکاء (اوروک) میں بتائی ہے۔ بہت سے اسلامی مصادر نے کوثیٰ کو ان کا مولد قرار دیا ہے جس کے کھنڈرات آج تل ابراہیم کے نام سے معروف ہیں[14]۔ اسی طرح ابن بطوطہ (ص ۱۰۱) نے عراق میں حلہ اور بغداد کے درمیان بُرص نامی مقام کا ذکر کیا ہے جسے بعض لوگ ابراہیم کی جائے پیدائش کہتے ہیں۔ بعض روایات میں حرّان کو بھی ان کی ولادت کی جگہ بتایا گیا ہے[15]۔ تاہم اکثر معاصر محققین اس بات پر متفق ہیں کہ اور ہی حضرت ابراہیم کی پیدائش اور ابتدائی نشوونما کی جگہ تھی۔
نام پدر حضرت ابراہیم
حضرت ابراہیم کے والد کے نام کے بارے میں عہد عتیق اور قرآن کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے مفسرین کے درمیان بھی مختلف آراء ہیں۔ عہد عتیق میں ان کا نام ترح درج ہے جبکہ قرآن میں آزر آیا ہے[16]۔
مفسرین اور لغت کے ماہرین نے لفظ **آزر** کو غیر عربی اور معرّب قرار دیا ہے[17]۔ جدید مستشرقین کے نزدیک ممکن ہے کہ یہ لفظ عبرانی نام **العاذر (الیعزر)** کی تحریف ہو، جو عہد عتیق کے مطابق ابراہیم کے خادم کا نام تھا۔ تاہم تفسیری منابع میں مختلف اقوال موجود ہیں: بعض کے مطابق آزر ہی ابراہیم کے والد کا نام تھا اور بعض اس احتمال کو رد کرتے ہیں۔
بہت سے مفسرین اور مورخین نے ابراہیم کے والد کا نام تارح ذکر کیا ہے[18] اور قرآن میں مذکور نام آزر کے بارے میں مختلف توجیہات پیش کی ہیں۔ بعض نے آزر کے معنی مددگار یا شریک بیان کیے ہیں، جس کے مطابق آیت وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا...|سوره = انعام|آیه = ۷۴ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ابراہیم کے والد بت پرستی میں اپنی قوم کے شریک تھے۔
کچھ نے آزر کو اس بت کا نام قرار دیا ہے جس کی پرستش ابراہیم کے والد کرتے تھے، اور آیت میں اصناماً کو اس کا بدل قرار دیا ہے[19]۔
بعض علماء نے کہا ہے کہ تارح ابراہیم کے حقیقی والد تھے اور آزر ان کے چچا کا نام تھا، کیونکہ عربی میں لفظ اب چچا کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں بھی اسماعیل کو یعقوب کا باپ کہا گیا ہے۔ غالباً یہ نظریہ اس حدیث کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے جس میں رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: نَقَلَنِیَ اللّٰہُ مِنْ أَصْلَابِ الطَّاہِرِینَ إِلَی أَرْحَامِ الطَّاہِرَاتِ اسی بنا پر محمد بن حسن طوسی نے یہ احتمال بھی بیان کیا ہے کہ آزر دراصل حضرت ابراہیم کے نانا تھے۔
بچپن حضرت ابراہیم
روایات کے مطابق حضرت ابراہیم کی والدہ نے نمرود کے خوف سے، جو ہر نومولود بچے کو قتل کروا دیتا تھا، انہیں اپنے گھر کے قریب ایک غار میں چھپا دیا۔ روایت ہے کہ یہ بچہ ایک دن میں اتنا بڑھتا جتنا عام بچہ ایک مہینے میں بڑھتا ہے۔ پندرہ ماہ گزرنے کے بعد ان کی والدہ رات کے وقت انہیں غار سے باہر لے آئیں[20]۔
ازدواج اور اولاد حضرت ابراہیم
حضرت ابراہیم کی پہلی زوجہ سارہ تھیں اور تورات کے مطابق انہوں نے اورِ کلدانیان میں ان سے نکاح کیا تھا[21]۔ تورات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ابراہیم کی سوتیلی بہن تھیں[22]، لیکن شیعہ روایات کے مطابق سارہ ابراہیم کی خالہ زاد بہن اور حضرت لوط (علیہ السّلام) کی بہن تھیں[23]۔
ایک روایت کے مطابق حضرت ابراہیم نے کوثا میں سارہ سے نکاح کیا۔ سارہ بہت مالدار تھیں اور نکاح کے بعد ان کا مال حضرت ابراہیم کے اختیار میں آ گیا۔ حضرت ابراہیم نے اس مال کو مزید بڑھایا یہاں تک کہ اس علاقے میں کوئی شخص ان سے زیادہ مال و مویشی کا مالک نہ تھا[24]۔
سارہ سے حضرت ابراہیم کو اولاد نہیں ہوئی، اس لیے سارہ نے اپنی کنیز ہاجر کو حضرت ابراہیم کے حوالے کر دیا۔ ہاجر سے حضرت ابراہیم کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اسماعیل رکھا گیا[25]۔ چند سال بعد سارہ کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اسحاق رکھا گیا۔ اسحاق کی ولادت اسماعیل کے پانچ یا تیرہ سال بعد بیان کی گئی ہے[26]۔
بعض روایات کے مطابق اسحاق کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم کی عمر سو سال سے زیادہ اور سارہ کی عمر نوے سال تھی[27]۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اسحاق اسماعیل کے تیس سال بعد پیدا ہوئے اور اس وقت حضرت ابراہیم کی عمر ایک سو بیس سال تھی[28]۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ سارہ کی وفات کے بعد حضرت ابراہیم نے مزید دو عورتوں سے نکاح کیا، جن میں سے ایک سے چار اور دوسری سے سات بیٹے پیدا ہوئے، اس طرح ان کے بیٹوں کی مجموعی تعداد تیرہ تک پہنچ گئی[29]۔
حضرت ابراہیم اور دعوتِ توحید
قرآنِ مجید کی روایت کے مطابق ابراہیم نے اس زمانے میں رائج اجرامِ آسمانی کی پرستش کو باطل قرار دے کر لوگوں کو ایک خدا کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ (انعام، آیات 76 تا 79)
یہ قرآنی روایت، اگرچہ عہدِ عتیق میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا، لیکن یہود کے درمیان معروف رہی ہے اور یوسفوس نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے، نیز بعد کے یہودی مصادر میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ابراہیم کا اپنی قوم کے ساتھ مناقشہ ہوا۔ درحقیقت ابراہیم کی جانب سے اجرامِ آسمانی کی طرف نسبتِ اعتقاد اور پھر ان سے روگردانی اس لیے تھی کہ قوم کو اس عقیدے کی بے اعتباری دکھائی جائے اور انہیں خدا کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا جائے۔ (طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، ج۴، ص۱۸۶)
جیسا کہ مسعودی کے بیان کے مطابق سارہ، جو ابراہیم کی زوجہ تھیں، اور لوط جو ان کے بھتیجے تھے، سب سے پہلے لوگ تھے جو ان پر ایمان لائے۔ (مسعودی، مروج الذهب، ج۱، ص۵۷) اور فان سترس کے مطابق غالباً ابراہیم خود بھی ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے اس طریقے سے توحید کی طرف رجوع کیا۔
نبوت، امامت حضرت ابراہیم
قرآن کی متعدد آیات میں حضرت ابراہیم کی نبوت اور ان کی دعوتِ توحید کا ذکر آیا ہے: سورۂ مریم، آیات 41 تا 48 سورۂ انبیاء، آیات 51 تا 57 سورۂ شعراء، آیات 69 تا 82 سورۂ صافات، آیات 83 تا 100 سورۂ زخرف، آیات 26 و 27 سورۂ ممتحنہ، آیت 4 سورۂ عنکبوت، آیات 16 تا 25
اسی طرح سورۂ احقاف کی آیت 35 میں اولوالعزم انبیاء کا ذکر آیا ہے اور روایات کے مطابق ابراہیم ان میں شامل ہیں اور حضرت نوح کے بعد دوسرے اولوالعزم پیغمبر ہیں۔ (طباطبائی، المیزان، ج۱۸، ص۲۱۸)
سورۂ بقرہ کی آیت 124 کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو چند آزمائشوں کے بعد مقامِ امامت عطا کیا۔ علامہ طباطبائی کے مطابق اس آیت میں امامت سے مراد باطنی ہدایت ہے؛ ایک ایسا مقام جس تک پہنچنا بلند روحانی اور وجودی کمال کا تقاضا کرتا ہے جو طویل مجاہدات کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ (المیزان، ج۱، ص۲۷۲)
قرآن کی آیات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو خلیل (دوست) کے طور پر منتخب کیا۔ اسی وجہ سے انہیں خلیل اللہ کہا جاتا ہے۔ (سورۂ نساء، آیت 125)
علل الشرائع میں نقل شدہ روایات کے مطابق کثرتِ سجدہ، لوگوں کی درخواست کو رد نہ کرنا، غیرِ خدا سے کچھ طلب نہ کرنا، لوگوں کو کھانا کھلانا اور رات کی عبادت کرنا ان وجوہات میں سے ہیں جن کی بنا پر اللہ نے انہیں اپنا خلیل بنایا۔ (صدوق، علل الشرائع، ج۱، ص۳۴ و ۳۵)
داستان حضرت ابراہیم از نظر قرآن
حضرت ابراہیم کا نام اور ان سے متعلق واقعات قرآن کی درج ذیل آیات میں بیان ہوئے ہیں: سورۂ بقرہ: 124 تا 131، 258 تا 260 سورۂ آل عمران: 95 تا 97 سورۂ نساء: 125 سورۂ انعام: 74 تا 90 اور آیت 161 سورۂ ہود: 69 تا 76 سورۂ ابراہیم: 35 تا 41 سورۂ نحل: 120 تا 122 سورۂ مریم: 41 تا 50 سورۂ انبیاء: 51 تا 73 سورۂ حج: 26 تا 30 سورۂ شعراء: 69 تا 89 سورۂ عنکبوت: 26، 31، 32 سورۂ احزاب: 7 سورۂ صافات: 83 تا 111 سورۂ ص: 45 و 46 سورۂ شوریٰ: 13 سورۂ زخرف: 28 سورۂ ذاریات: 24 تا 37 سورۂ نجم: 37 سورۂ حدید: 26 سورۂ ممتحنہ: 4 سورۂ اعلیٰ: 18 و 19
قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم بچپن سے لے کر شعور کی عمر تک اپنے معاشرے سے دور ایک پناہ گاہ میں زندگی گزارتے رہے۔ جب وہ سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچے تو اپنی قوم کے درمیان آئے اور دیکھا کہ ان کے والد اور پوری قوم بتوں کی عبادت کرتی ہے۔ چونکہ ان کی فطرت پاکیزہ تھی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ملکوت کی معرفت عطا کی تھی، اس لیے انہوں نے اس عمل کو ناپسند کیا اور خاموش نہ رہے۔
انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد سے گفتگو کی اور انہیں بت پرستی سے منع کیا اور خدا کی توحید کی دعوت دی۔ لیکن جب والد نے دیکھا کہ ابراہیم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو انہوں نے انہیں گھر سے نکال دینے اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔ (سورۂ مریم، آیات 41 تا 48)
ابراہیم نے نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ جواب دیا، سلام کیا اور ان کے لیے استغفار کا وعدہ کیا، لیکن واضح کر دیا کہ اگر وہ خدا کے راستے کو قبول نہ کریں گے تو وہ ان سے جدا ہو جائیں گے۔
اسی طرح انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ بھی بتوں کے بارے میں مناظرہ کیا۔ (سورۂ انبیاء، آیات 51 تا 56؛ سورۂ شعراء، آیات 69 تا 77)
انہوں نے ان لوگوں سے بھی بحث کی جو ستاروں، سورج اور چاند کی عبادت کرتے تھے اور اس طرح ان کے عقیدے کی کمزوری کو ظاہر کیا۔ (سورۂ انعام، آیات 74 تا 82)
ایک دن جب قوم اپنے مذہبی جشن کے لیے شہر سے باہر گئی ہوئی تھی تو ابراہیم بیماری کا بہانہ کر کے شہر میں ٹھہر گئے۔ جب شہر خالی ہو گیا تو وہ بت خانے میں داخل ہوئے اور تمام بتوں کو توڑ دیا اور صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ جب لوگ واپس آئے تو انہوں نے اس واقعے کے ذمہ دار کو تلاش کیا اور کہا کہ یہ کام ایک نوجوان نے کیا ہے جس کا نام ابراہیم ہے۔
جب انہیں لوگوں کے سامنے لایا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے؟ تو ابراہیم نے کہا: شاید یہ کام بڑے بت نے کیا ہو، اگر یقین نہیں تو اسی سے پوچھ لو۔ لوگ جانتے تھے کہ بت بول نہیں سکتے، اس لیے وہ خاموش ہو گئے۔ تب ابراہیم نے کہا: کیا تم ان چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان؟
قوم نے فیصلہ کیا کہ اسے جلا دیا جائے۔ انہوں نے ایک عظیم آگ جلائی اور ابراہیم کو اس میں ڈال دیا، مگر اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا۔ (سورۂ انبیاء، آیات 56 تا 70؛ سورۂ صافات، آیات 88 تا 98)
اسی دوران ابراہیم کی ملاقات نمرود سے بھی ہوئی۔ نمرود نے ربوبیت کا دعویٰ کیا تھا۔ ابراہیم نے فرمایا: میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے کہا: میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اس پر ابراہیم نے فرمایا: اللہ سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے، اگر تم سچے ہو تو اسے مغرب سے طلوع کر کے دکھاؤ۔ اس پر نمرود حیران رہ گیا۔ (سورۂ بقرہ، آیت 258)
آگ سے نجات کے بعد بھی ابراہیم نے توحید کی دعوت جاری رکھی اور کچھ لوگ ان پر ایمان لائے، جن میں لوط اور ان کی زوجہ بھی شامل تھیں۔ بعد ازاں اللہ کے حکم سے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سرزمینِ مقدس کی طرف ہجرت کر گئے۔ (سورۂ ممتحنہ، آیت 4؛ سورۂ انبیاء، آیت 71)
وہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں اسحاق اور اسماعیل کی بشارت دی۔ اس کے بعد پہلے اسماعیل اور پھر اسحاق پیدا ہوئے اور اللہ نے ان کی نسل میں برکت قرار دی۔
کچھ عرصے بعد ابراہیم اللہ کے حکم سے اسماعیل اور ان کی والدہ ہاجر کو مکہ لے گئے اور اس بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا۔ بعد میں ابراہیم اور اسماعیل نے مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ (سورۂ بقرہ، آیات 126 تا 129؛ سورۂ آل عمران، آیات 96 تا 97)
ابراہیم نے حج کے مناسک بھی مقرر کیے۔ (سورۂ حج، آیات 26 تا 30)
بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بیٹے اسماعیل کی قربانی کا حکم دیا۔ (سورۂ صافات، آیات 101 تا 107)
قرآن میں ابراہیم کی داستان کا آخری حصہ وہ دعائیں ہیں جو انہوں نے مکہ میں کیں۔ (سورۂ ابراہیم، آیات 35 تا 41)
منزلت حضرت ابراہیم در نزد خداوند
قرآن کریم میں ساٹھ سے زیادہ مقامات پر ابراہیم کا ذکر آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت کو مختلف انداز سے بیان کیا ہے۔ ان میں سے چند خصوصیات یہ ہیں:
1. اللہ نے ابتدا ہی سے انہیں رشد اور ہدایت عطا کی۔ (سورۂ انبیاء، آیت 51)
2. اللہ نے انہیں دنیا میں منتخب کیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں ہوں گے۔ (سورۂ بقرہ، آیات 130 تا 131)
3. انہوں نے اپنا رخ خالصتاً خدا کی طرف کیا اور کبھی شرک نہیں کیا۔ (سورۂ انعام، آیت 79)
4. انہوں نے آسمانوں اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ کیا اور یقین حاصل کیا۔ (سورۂ بقرہ، آیت 260)
5. اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا۔ (سورۂ نساء، آیت 125)
6. اللہ نے ان پر اور ان کے اہلِ بیت پر رحمت اور برکت نازل کی۔ (سورۂ نجم، آیت 37)
7. انہیں حلیم، اوّاہ اور منیب کہا گیا۔ (سورۂ ہود، آیات 73 تا 75)
8. وہ ایک خدا پرست امت اور حنیف تھے اور کبھی شرک نہیں کیا۔ (سورۂ نحل، آیات 120 تا 122)
9. وہ ایک صدیق نبی تھے۔ (سورۂ مریم، آیت 41)
10. اللہ نے انہیں امام بنایا۔ (سورۂ بقرہ، آیت 124)
11. اللہ نے نبوت اور کتاب کو ان کی نسل میں قرار دیا اور ان کے لیے آنے والی نسلوں میں نیک نامی باقی رکھی۔ (سورۂ حدید، آیت 26)
قرآن کریم فرماتا ہے کہ اسلام دراصل ابراہیم کا دین ہے: “ملۃ ابیکم ابراہیم هو سماکم المسلمین من قبل” (سورۂ حج، آیت 78)
اور یہ بھی فرمایا: “دیناً قیماً ملۃ ابراہیم حنیفاً” (سورۂ انعام، آیت 161)
اللہ تعالیٰ نے اس کعبہ کو جسے ابراہیم نے تعمیر کیا، بیت الحرام اور تمام عالم کا قبلہ قرار دیا اور حج کے مناسک اس لیے مقرر کیے تاکہ ان کی ہجرت، ان کی عبادت، اور اللہ کی راہ میں ان کی قربانیوں کی یاد باقی رہے۔
- ↑ پیدائش، ۱۱: ۲۶
- ↑ البرایت، ۳؛ سوسہ، ۲۳۳
- ↑ المعرب، ۱۳
- ↑ جودائیکا، وہی
- ↑ نووی، ص ۱۳۶
- ↑ سوسہ، ۲۵۲
- ↑ کلر، وہی
- ↑ اپشتاین، ۱۱؛ سوسہ، ۴۴۶
- ↑ سوسہ، ۲۵۲
- ↑ طبری، تاریخ، ۱/۳۴۶؛ نووی، ۱(۱)/۱۰۱
- ↑ پیدائش، ۱۱: ۲۶
- ↑ ہاکس، ۴؛ نیز دیکھئے: سوسہ، ۲۵۰، ۲۵۱
- ↑ پیدائش، ۱۱: ۲۸–۳۰
- ↑ طبری، تاریخ، ۱/۲۵۲؛ یاقوت، ذیل کوثی
- ↑ ثعلبی، ۷۲
- ↑ سورہ انعام، آیت ۷۴
- ↑ جوالیقی، موهوب، المعرب، ج۱، ص۱۵، بتحقیق احمد محمد شاکر، تہران، ۱۹۶۶م
- ↑ ابن ہشام، عبدالملک، السیرة النبویة، ج۱، ص۳، تحقیق مصطفی السقا و دیگران، بیروت
- ↑ میبدی، ابوالفضل رشیدالدین، کشف الاسرار و عدة الابرار، ج۳، ص۴۰۲، تحقیق علی اصغر حکمت، تہران، ۱۳۶۱ش
- ↑ محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم والملوک، ج۱، ص۱۶۴، بیروت، مؤسسہ اعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۳ق
- ↑ پیدائش، ۱۱: ۲۹
- ↑ پیدائش، ۲۰: ۱۲
- ↑ طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۲۲۹؛ عیاشی، تفسیر عیاشی، ج۲، ص۲۵۴
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج۷، ص۲۲۹
- ↑ ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۰۱
- ↑ مسعودی، اثبات الوصیة، ص۴۱–۴۲
- ↑ مسعودی، اثبات الوصیة، ص۴۶
- ↑ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۴۱
- ↑ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۴۱