"محمد باقر قالیباف" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 4: | سطر 4: | ||
| name = محمدباقر قالیباف | | name = محمدباقر قالیباف | ||
| other names = | | other names = | ||
| brith year | | brith year = 1962 ء | ||
| brith date = | | brith date = | ||
| birth place = ایران، خراسان رضوی صوبه قرطبه | | birth place = ایران، خراسان رضوی صوبه قرطبه | ||
نسخہ بمطابق 16:28، 15 اپريل 2026ء
| محمدباقر قالیباف | |
|---|---|
| پورا نام | محمدباقر قالیباف |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1962 ء، 1340 ش، 1381 ق |
| پیدائش کی جگہ | ایران، خراسان رضوی صوبه قرطبه |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | چیئرمین مجلس شورای اسلامی |
محمدباقر قالیباف، جنگِ تحمیلی کے کمانڈروں میں سے ایک، سیاست دان اور سنہ 1399 ش سے مجلس شورای اسلامی کے چیئرمین ہیں۔ مجمع تشخیص مصلحت نظام کی رکنیت، میئر تہران، کمانڈر نیروی انتظامی، کمانڈر فضائیہ سپاہ، کمانڈر قرارگاہ سازندگی خاتم الانبیاء، کمانڈر لشکر 25 کربلا، کمانڈر بریگیڈ امام رضا (علیہالسلام) اور لشکر 5 نصر خراسان در دفاع مقدس، نیز شورای عالی فضای مجازی کی رکنیت، ان کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔
سوانح حیات
محمدباقر قالیباف شهریور 1340 ش میں طرقبه، صوبہ خراسان رضوی میں پیدا ہوئے[1]۔
تعلیم
قالیباف نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی۔ جنگی محاذوں پر موجودگی کے باعث کچھ عرصہ تعلیم کا سلسلہ منقطع رہا۔ جنگ کے بعد، سنہ 1372 ش میں دانشگاه تهران سے جغرافیائے انسانی میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔ سنہ 1375 ش میں اسی مضمون میں ماسٹرز مکمل کیا۔ سنہ 1380 ش میں، جب وہ نیروی انتظامی کے کمانڈر تھے، تهران کی دانشگاه تربیت مدرس سے جغرافیائے سیاسی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا مقالہ تھا: «بررسی سیر تکوین نهادهای محلی ایران در دورۀ معاصر»۔ وہ اس وقت دانشگاه تهران میں جغرافیائے سیاسی کے شعبہ میں بطور دانشیار تدریس سے وابستہ ہیں[2]۔
انقلابی سرگرمیاں
انہوں نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز نوجوانی میں انقلاب اسلامی ایران کے دوران کیا۔ مشهد میں سید علی حسینی خامنهای اور شیخ علی تہرانى کی تقاریر میں شرکت کرتے رہے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد، 18 برس کی عمر میں بسیج میں شامل ہوئے۔
محاذ پر موجودگی
جنگ ایران و عراق کے آغاز پر وہ سپاه پاسداران انقلاب اسلامی میں شامل ہوئے اور جنوب مغربی محاذ پر تعینات ہوئے۔ سنہ 1361 ش میں بریگیڈ امام رضا (ع) کے کمانڈر مقرر ہوئے اور ایک سال بعد لشکر 5 نصر خراسان کے کمانڈر بنے۔ جنگ کے بعد قرارگاہ نجف کے کمانڈر اور بعد ازاں نیروی مقاومت بسیج کے نائب مقرر ہوئے۔
ذمہ داریاں
- قرارگاہ سازندگی خاتم الانبیاء کے کمانڈر (1373 ش)
- کمانڈر فضائیہ سپاه پاسداران انقلاب اسلامی (1376 ش)
- کمانڈر نیروی انتظامی (1379 ش)
- سربراہ ستاد مبارزه با قاچاق کالا و ارز (1383 ش)
- میئر تہران (1384 ش؛ تجدید تقرری 1388 ش)
- رکن، گیارہویں اور بارہویں مجلس شورای اسلامی
- چیئرمین مجلس شورای اسلامی
- رکن مجمع تشخیص مصلحت نظام (1396 ش سے)
- رکن شورای عالی فضای مجازی[3]
فضائیہ سپاہ کی کمان
سنہ 7 آبان 1376 ش کو سید علی حسینی خامنهای نے انہیں فضائیہ سپاہ کا کمانڈر مقرر کیا[4]۔
نیروی انتظامی کی کمان
7 تیر 1379 ش کو انہیں نیروی انتظامی کا کمانڈر مقرر کیا گیا[5]۔
تحقیقی سرگرمیاں
انہوں نے متعدد مقالات کے علاوہ تین کتب تصنیف کیں:
- حکومت محلی یا استراتژی توزیع فضایی قدرت سیاسی در ایران
- ایران و دولت توسعهگرا
- خاورمیانه معاصر: تاریخ سیاسی پس از جنگ جهانی اول[6]
صدارتی انتخابات میں شرکت
انہوں نے سنہ 1384 ش کے صدارتی انتخابات میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ سنہ 1392 ش میں «ایران سربلند» کے نعرے کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیا اور دوسرے نمبر پر رہے۔ سنہ 1396 ش میں سید ابراهیم رئیسی کے حق میں دستبردار ہوئے۔ چودھویں صدارتی انتخابات میں پہلے مرحلے میں تیسرے نمبر پر رہے[7]۔
متعلقہ موضوعات
- مشهد
- جنگ ایران و عراق
- اسلامی جمہوریہ ایران
- مجلس شورای اسلامی
- شورای عالی فضای مجازی
- سید علی حسینی خامنهای
- مجمع تشخیص مصلحت نظام