"سید محمد باقر حکیم" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ سید محمد باقر الحکیم کو مسودہ:سید محمد باقر الحکیم کی جانب منتقل کیا |
(کوئی فرق نہیں)
| |
نسخہ بمطابق 14:54، 22 جنوری 2026ء
| سید محمد باقر حکیم | |
|---|---|
![]() | |
| دوسرے نام | شہید آیتاللہ سید محمدباقر طباطبائی حکیم |
| ذاتی معلومات | |
| یوم پیدائش | 25 جمادی الاولیٰ |
| پیدائش کی جگہ | نجف عراق |
| یوم وفات | 1 رجب |
| وفات کی جگہ | نجف عراق |
| اساتذہ |
|
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات |
|
| مناصب |
|
سید محمد باقر الحکیم (1940ء–2003ء) عراق کے ممتاز شیعہ عالمِ دین، مجتہد، مفکر، سیاسی رہنما اور بعثی آمریت کے خلاف جدوجہد کی علامت تھے۔ وہ عراق میں اسلامی تحریک کے اہم قائدین میں شمار ہوتے ہیں اور مجلسِ اعلیٰ برائے اسلامی انقلابِ عراق** کے سربراہ رہے۔
خاندانی پس منظر
سید محمدباقر حکیم، عظیم مرجعِ تقلید آیتاللہ العظمیٰ سید محسن حکیم کے فرزند تھے۔ ان کا تعلق مشہور و علمی خاندانِ حکیمسے تھا، جس کا نسب امام حسن مجتبیٰؑ سے جا ملتا ہے۔ یہ خاندان صدیوں سے عراق میں علمی، دینی اور سماجی خدمات انجام دیتا آ رہا ہے اور بعثی دور میں شدید ظلم و ستم کا شکار رہا۔
تعلیم و تربیت
سید محمدباقر حکیم نے اپنی تعلیم نجف اشرف کے مکتب خانوں سے شروع کی اور کم عمری میں حوزۂ علمیہ نجف میں داخل ہوئے۔ انہوں نے نحو، صرف، منطق، فقہ اور اصول کی اعلیٰ کتابیں کم عمری ہی میں مکمل کر لیں۔
انہوں نے ممتاز اساتذہ سے کسبِ فیض کیا، جن میں شامل ہیں:
- آیتاللہ سید ابوالقاسم خوئی
- آیتاللہ سید محسن حکیم
- علامہ شہید سید محمدباقر صدر
1384ھ میں فقہ، اصول اور علومِ قرآن میں **درجۂ اجتہاد** حاصل کیا۔
تدریسی و علمی خدمات
انہوں نے مسجد ہندی (نجف) میں اعلیٰ سطح کی تدریس کی اور بعد ازاں **جامعہ اصول الدین، بغداد** کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ 25 برس تک تدریس کے دوران انہوں نے علومِ قرآن، اہلِ بیتؑ کی سیرت، فلسفہ، تاریخ اور سیاسی تجزیہ جیسے موضوعات پر تعلیم دی۔ انہوں نے نجف میں **مدرسۂ علومِ اسلامی** بھی قائم کیا تاکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ مبلغین تیار کیے جا سکیں۔
سیاسی و سماجی کردار
سید محمدباقر حکیم:
- **حزب الدعوۃ الاسلامیہ** کے بانیوں میں شامل تھے
- **مجلس اعلیٰ برائے اسلامی انقلابِ عراق** کے سربراہ رہے
- بعثی حکومت کے شدید مخالف اور جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے
- ایران میں قیام کے دوران عالمی سطح پر شیعہ اتحاد اور اسلامی بیداری کے لیے سرگرم رہے
- **مجمعِ جهانی تقریبِ مذاہب اسلامی** کی قیادت بھی کی
تصانیف و آثار
سید محمدباقر حکیم کی تصانیف قرآن، اہلِ بیتؑ کی سیرت، اسلامی سیاست، معاشرت اور تاریخ پر محیط ہیں۔ ان کے اہم آثار میں شامل ہیں:
علومِ قرآن
- *علوم القرآن* (دو جلدیں)
- *القصص القرآنی*
- *تفسیر سورۃ الحمد*
- *الظاہرۃ الطاغوتیۃ فی القرآن*
سیرتِ اہلِ بیتؑ
- *دور اہل البیتؑ فی بناء الجماعة الصالحہ
- *ثورة الامام الحسینؑ
- *اہل البیتؑ اور دفاعِ اسلام
اسلامی سیاست و معاشرہ
- *الحکم الاسلامی بین النظریة و التطبیق*
- *المرجعیة الاجتماعیة*
- *الوحدة الاسلامیة من منظور الثقلین*
- *حقوق الانسان من وجهة نظر اسلامیة*
تاریخ و سوانح
- *النجف الاشرف*
- *السیرة العلمیة للشهید الصدر*
ان کے متعدد خطبات، مقالات اور دروس تاحال غیر مطبوعہ ہیں۔
شاگردان
ان کے نمایاں شاگردوں میں شامل ہیں:
- سید عباس موسوی (سابق سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان)
- سید مرتضیٰ کشمیری
- سید عبدالصاحب حکیم
- سید صدرالدین قبانچی
شہادت
صدام حسین کے سقوط کے بعد سید محمدباقر حکیم 2003ء میں عراق واپس آئے اور نجف اشرف میں نمازِ جمعہ کی امامت شروع کی۔
- 7 ستمبر 2003ء** کو، حرمِ امام علیؑ کے باہر دو کار بم دھماکوں میں وہ ایک سو سے زائد نمازیوں سمیت **شہید** ہو گئے۔
یہ واقعہ عراق کی جدید تاریخ کے خونریز ترین دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتا ہے۔
