"نیکولس مادورو" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 106: | سطر 106: | ||
“ہمارا محفوظ خطہ وینزویلا کے بہادر عوام کے خلاف وحشیانہ حملے اور ریاستی دہشت گردی کی زد میں ہے۔” | “ہمارا محفوظ خطہ وینزویلا کے بہادر عوام کے خلاف وحشیانہ حملے اور ریاستی دہشت گردی کی زد میں ہے۔” | ||
== ایران == | == ایران == | ||
[[فائل:نیکلاس مادورو 3.jpg|تصغیر|بائیں|]] | |||
جمہوری اسلامی ایران نے وینزویلا کے خلاف امریکا کی فوجی جارحیت اور اس ملک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی کی سخت مذمت کی۔ جمہوری اسلامی ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ تہران وینزویلا پر امریکا کے فوجی حملے اور اس کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ | جمہوری اسلامی ایران نے وینزویلا کے خلاف امریکا کی فوجی جارحیت اور اس ملک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی کی سخت مذمت کی۔ جمہوری اسلامی ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ تہران وینزویلا پر امریکا کے فوجی حملے اور اس کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ | ||
نسخہ بمطابق 16:02، 8 جنوری 2026ء
| نیکولس مادورو | |
|---|---|
| دوسرے نام | نیکولس مادورو موروس |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1961 ء، 1339 ش، 1380 ق |
| پیدائش کی جگہ | کراکس، وینزویلا |
| مذہب | ، یہودی النسل، رومن کیتھولک |
| مناصب |
|
نیکولس مادورو (ہسپانوی: Nicolás Maduro Moros) وینزویلا کے سیاست دان اور ملک کے چھیالیسویں منتخب و قانونی صدر ہیں۔ نیکولس مادورو وینزویلا کے سیاست دان اور اس ملک کے منتخب و قانونی صدر ہیں جنہیں 3 جنوری 2026ء کو ریاستہائے متحدہ امریکا نے ایک غیر قانونی فوجی کارروائی کے دوران کراکس سے اغوا کر کے نیویارک منتقل کیا۔ امریکا نے ان پر دہشت گردی اور منشیات اسمگلنگ کے بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ وہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے، فلسطین کو تسلیم کرنے، بشار الاسد کی حمایت اور چین، روس اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے باعث عالمی سیاست میں نمایاں رہے۔
ابتدائی زندگی
نیکولس مادورو 23 نومبر 1962ء کو کراکس میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
مادورو نے باقاعدہ یونیورسٹی تعلیم حاصل نہیں کی۔ 24 سال کی عمر میں وہ کیوبا گئے جہاں انہوں نے ایک سال تک **خولیو انتونیو میلا نیشنل کیڈر اسکول** میں کمیونسٹ نظریاتی تعلیم حاصل کی۔
مذہبی عقائد
وہ رومن کیتھولک ماحول میں پلے بڑھے۔ 2012ء میں ان کے بارے میں رپورٹ ہوا کہ وہ سائی بابا کے پیروکار رہے، جو ایک ہندو روحانی شخصیت تھے۔ 2013ء کے ایک انٹرویو میں مادورو نے کہا کہ ان کے دادا دادی یہودی تھے جو بعد میں کیتھولک مذہب اختیار کر گئے۔
سیاست میں آمد
مادورو کی سیاست سے وابستگی اسکول کے زمانے میں شروع ہوئی۔ بعد ازاں وہ کراکس میٹرو میں ڈرائیور بنے اور وہاں ایک غیر رسمی مزدور یونین قائم کی۔ انہوں نے 1983ء میں صدارتی امیدوار خوسے رنگل کے محافظ کے طور پر کام کیا۔
1990ء کی دہائی میں انہوں نے **پانچویں جمہوری تحریک** کے قیام میں اہم کردار ادا کیا جس نے ہیوگو شاویز کی حمایت کی۔ 1998ء سے 2006ء تک وہ مختلف قانون ساز اداروں کے رکن اور قومی اسمبلی کے صدر بھی رہے۔ 2006ء میں شاویز نے انہیں وزیر خارجہ مقرر کیا اور **اکتوبر 2012ء** میں نائب صدر بنایا۔
صدارتی انتخاب میں کامیابی

ہوگو شاویز نے نیکولس مادورو کو اپنا جانشین نامزد کرنے کے چند ماہ بعد اعلان کیا کہ ان کا کینسر دوبارہ لوٹ آیا ہے اور وہ ہنگامی جراحی اور مزید طبی علاج کے لیے کیوبا جا رہے ہیں۔ شاویز نے کہا کہ اگر ان کی حالت مزید خراب ہوتی ہے اور ان کی جگہ نئے صدارتی انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو وینزویلا کے عوام کو چاہیے کہ وہ مادورو کو ووٹ دیں تاکہ وہ ان کے جانشین بن سکیں۔
یہ پہلا موقع تھا کہ شاویز نے اپنی تحریک کے لیے کسی ممکنہ جانشین کا باضابطہ طور پر تعارف کرایا، اور یہ بھی پہلا موقع تھا کہ انہوں نے علانیہ طور پر اپنی موت کے امکان کو تسلیم کیا۔
شاویز کی وفات کے بعد، اپریل 2013ء میں وینزویلا کے صدارتی انتخابات منعقد ہوئے، جن میں مادورو نے 51 فیصد ووٹ حاصل کر کے مخالف امیدوار ہینریکے کاپریلس کو 1.5 فیصد کے فرق سے شکست دی۔ کاپریلس نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا اور انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود، مادورو وینزویلا کے چھیالیسویں صدر منتخب ہوئے۔
جائے پیدائش پر تنازع
وینزویلا کے آئین کے مطابق صدر کا پیدائشی طور پر اسی ملک کا شہری ہونا لازمی ہے، اور نیکولس مادورو کے مخالفین کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک کولمبیائی ماں کے بیٹے ہیں اور انہوں نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ کولمبیا میں گزارا۔ تاہم، مادورو نے 2013ء میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ وہ کراکس کے علاقے "ال والے لیبرتادور" میں پیدا ہوئے تھے۔
بعد ازاں ان کے ایک حامی، جو قومی انتخابی کونسل کے سربراہ تھے، نے اس دن پیدا ہونے والے تمام بچوں کے رجسٹریشن ریکارڈ کی نقول دکھاتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مادورو دراصل کراکس کے علاقے "لا کاندلاریا" میں پیدا ہوئے تھے۔ اس کے بعد 2016ء میں ایک بار پھر مادورو نے اپنی جائے پیدائش کے بیان میں تبدیلی کی اور کہا کہ وہ "لوس چاگواراموس"میں پیدا ہوئے تھے۔
خارجہ تعلقات
اپنی صدارت کے دوران انہوں نے روس اور چین کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دی اور عوامی جمہوریہ چین کے حق میں تائیوان کے ساتھ غیر رسمی تعلقات کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے روس کی حمایت میں ابخازیا اور جنوبی اوستیہ کو آزاد اور خودمختار ریاستوں کے طور پر تسلیم کیا۔ غزہ کی جنگ کے دوران انہوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے اور ریاستِ فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔
انہوں نے بشار الاسد کی حمایت کی اور ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھا، جو ہوگو چاویز اور محمود احمدی نژاد کے دورِ صدارت میں مزید مضبوط ہو گئے تھے۔
قتل اور تختہ الٹنے کی کوششیں

مادورو ہمیشہ سے خطرات اور دھمکیوں کی زد میں رہے ہیں۔ 3 مئی 2020ء کو وینزویلا کی سکیورٹی فورسز نے مسلح وینزویلی مخالفین کی جانب سے مادورو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک کارروائی کا انکشاف کیا۔ یہ کارروائی ایک امریکی نجی سکیورٹی کمپنی سلورکورپ یو ایس اے کی جانب سے منظم کی گئی تھی، جبکہ اس میں شامل افراد کو کولمبیا میں تربیت دی گئی تھی۔ وینزویلا کی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن کے پیچھے ریاستہائے متحدہ امریکا اور اس کا محکمہ انسدادِ منشیات (DEA) تھا اور اسے کولمبیا کی حمایت بھی حاصل تھی۔
اس ناکام کارروائی میں آٹھ حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ تیرہ دیگر افراد، جن میں دو امریکی شہری بھی شامل تھے، گرفتار کر لیے گئے۔ اسی طرح 4 اگست 2018ء کو نامعلوم حملہ آوروں نے دو دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرونز کے ذریعے اس مقام کو نشانہ بنایا جہاں وہ وینزویلا کے فوجی افسران سے خطاب کر رہے تھے، تاہم یہ حملہ بھی ناکام رہا۔
ستمبر 2024ء میں وینزویلا کی پولیس نے تین امریکی، دو ہسپانوی اور ایک چیک شہری کو گرفتار کیا جو مادورو کے قتل کی غرض سے اسنائپر رائفلز اور دیگر گولہ بارود لے جا رہے تھے۔ 26 مارچ 2020ء کو امریکا کی وزارتِ انصاف نے مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ اور سیاسی مقاصد کے لیے منشیات فروشوں کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام عائد کیا۔
اسی طرح امریکا کی وزارتِ خارجہ نے ایسی معلومات فراہم کرنے پر 15 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا جو مادورو کی گرفتاری اور مقدمے تک لے جائیں۔ بعد ازاں اگست 2025ء میں ریاستہائے متحدہ امریکا نے ان کی تلاش اور گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات کے لیے انعامی رقم بڑھا کر 50 ملین ڈالر کر دی۔
امریکا کا حملہ اور اغوا (2026)
امریکا طویل عرصے سے کسی نہ کسی طریقے سے مادورو سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا اور کئی برسوں سے اس پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کرتا آ رہا تھا، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور تک وہ اسے اقتدار سے ہٹانے کے اپنے خواب کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا۔ بالآخر 3 جنوری 2026ء کو امریکی جنگی طیاروں اور حملہ آور ہیلی کاپٹروں نے ایک تیز رفتار آپریشن کے دوران وینزویلا کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے۔
اس کے بعد امریکی خصوصی دستے وینزویلا کی سرزمین میں داخل ہوئے اور مادورو کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں کسی بھی قسم کی مزاحمت سے قبل ہی انہیں گرفتار کر کے اس جنگی جہاز یو ایس ایس ایوو جیما منتقل کر دیا گیا جو اس کارروائی میں شامل تھا۔
بعد ازاں انہیں تیزی سے امریکا منتقل کیا گیا تاکہ نیویارک شہر کی ایک عدالت میں منشیات کی اسمگلنگ کے الزام کے تحت ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔ اس کارروائی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: "وینزویلا کے پاس بہت زیادہ تیل ہے۔"
جبکہ ان کے نائب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: "ہم نے حملہ اس لیے کیا تاکہ وینزویلا سے اپنا تیل واپس لے سکیں۔"
ردِ عمل
امریکا
امریکا کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے وینزویلا کے خلاف اپنے ملک کی غیر قانونی جارحیت کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مادورو وینزویلا کے صدر نہیں ہیں اور ان کی حکومت جائز نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مادورو کارتل دے لوس سولز کے سربراہ ہیں، جو منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس نے ایک ملک پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق مادورو منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت امریکا میں قانونی پیگرد میں ہیں۔
امریکی سینیٹر مائیک لی نے بھی بیان دیا کہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا ہے کہ اب جب مادورو امریکا کی تحویل میں ہیں تو مزید کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ریاست یوٹاہ کے اس سینیٹر نے روبیو کے حوالے سے کہا کہ مادورو پر امریکا میں ان الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جنہیں انہوں نے ’’فوجداری جرائم‘‘ قرار دیا۔
وینزویلا کی حکومت
وینزویلا کے وزیرِ خارجہ نے اپنے ملک پر ہونے والے میزائل حملوں کے بعد اعلان کیا کہ حالیہ حملوں کے پیچھے ریاستہائے متحدہ امریکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور کراکس کے وسطی حصے پر بھی حملہ کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان حملوں کا مقصد وینزویلا کو نشانہ بنانا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
وینزویلا کے وزیرِ دفاع نے بھی کہا کہ ان کا ملک امریکا کی جانب سے حملے اور جارحیت کا شکار ہوا ہے، اور یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے جس کا وینزویلا کو سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیرِ دفاع نے اس کے بعد، جب ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ نیکولس مادورو کو امریکی فوجیوں نے اغوا کر لیا ہے، کہا کہ عوام متحد ہیں اور اس جارحیت کو روکنے کے لیے مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا: “ہم مذاکرات نہیں کریں گے، ہم کوئی رعایت نہیں دیں گے اور بالآخر ہم ہی فتح یاب ہوں گے۔” ترجمہ (اردو):
کولمبیا
کولمبیا وہ پہلا ملک تھا جس نے امریکا کی جانب سے ایک خودمختار اور اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کے خلاف کی گئی جارحیت کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا۔ کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے اعلان کیا کہ ان کا ملک فوری طور پر اجلاس طلب کرے گا تاکہ وینزویلا کے خلاف جارحیت کی بین الاقوامی قانونی حیثیت کا تعین کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وینزویلا پر میزائل حملے کیے گئے ہیں، کہا کہ **امریکی ریاستوں کی تنظیم (OAS) اور اقوامِ متحدہ کو فوری طور پر اجلاس منعقد کرنا چاہیے۔ پیٹرو نے یہ بھی زور دیا کہ کوکوٹا میں متحدہ کمانڈ پوسٹ (PMU) فعال کر دی گئی ہے اور سرحدی علاقے میں عملی منصوبہ نافذ کیا جا رہا ہے۔
کیوبا
کیوبا کے صدر میگل دیاز کانیل نے وینزویلا پر امریکا کی جارحیت کے بارے میں کہا: “ہم وینزویلا پر ہونے والے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس مجرمانہ امریکی جارحیت کے خلاف عالمی برادری سے فوری ردِعمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: “ہمارا محفوظ خطہ وینزویلا کے بہادر عوام کے خلاف وحشیانہ حملے اور ریاستی دہشت گردی کی زد میں ہے۔”
ایران

جمہوری اسلامی ایران نے وینزویلا کے خلاف امریکا کی فوجی جارحیت اور اس ملک کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی کی سخت مذمت کی۔ جمہوری اسلامی ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ تہران وینزویلا پر امریکا کے فوجی حملے اور اس کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی حملہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قانون کے اساسی قواعد، بالخصوص منشور کی شق 2 کی دفعہ 4 (طاقت کے استعمال کی ممانعت) کی صریح خلاف ورزی اور مکمل طور پر ایک جارحانہ اقدام ہے، جس کی فوری طور پر اقوامِ متحدہ اور تمام وہ ممالک جو قانون کی بالادستی، عالمی امن اور سلامتی کے خواہاں ہیں، کھل کر مذمت کریں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے ایک آزاد رکن ملک کے خلاف امریکا کی فوجی جارحیت علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کے اثرات پورے عالمی نظام پر مرتب ہوں گے اور اقوامِ متحدہ کے منشور پر مبنی بین الاقوامی نظام کو مزید کمزور اور تباہی کے دہانے پر لے جائیں گے۔
وزارتِ خارجہ نے وینزویلا کے قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حقِ خودارادیت کے دفاع کے فطری حق کی یاد دہانی کراتے ہوئے تمام ریاستوں اور بین الاقوامی اداروں، خصوصاً اقوامِ متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پر زور دیا کہ وہ امریکا کی غیر قانونی جارحیت کو فوری طور پر روکنے کے لیے اقدام کریں، اور اس فوجی جارحیت کے دوران انجام دیے گئے جرائم کے منصوبہ سازوں اور مرتکبین کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کریں۔
نیویارک میں عدالتی پیشی
5 جنوری 2026ء کو مادورو نے عدالت میں کہا: "میں وینزویلا کا صدر ہوں، میں خود کو جنگی قیدی سمجھتا ہوں۔" انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
1. <a href="https://example.com/trump-statement-venezuela-2026" target="_blank">ٹرمپ کے بیانات – وینزویلا آپریشن 2026</a> 2. <a href="https://example.com/international-reactions-venezuela" target="_blank">عالمی ردِعمل بر حملۂ امریکا بر وینزویلا</a> 3. <a href="https://example.com/maduro-ny-court-statement" target="_blank">نیکولس مادورو کا نیویارک عدالت میں بیان</a>