"حج ابراہیمی میں برائت" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:حج ابراہیمی میں برائت کو حج ابراہیمی میں برائت کی جانب منتقل کیا |
(کوئی فرق نہیں)
| |
نسخہ بمطابق 15:14، 1 جون 2025ء

حج ابراہیمی میں برائت حج عبادی، سیاسی اور معاشرتی مناسک میں سے ایک ہے۔ حج ، انفرادی اور ذاتی احکام کے علاوہ ، وسیع پیمانے پر سیاسی اور معاشرتی جہت بھی رکھتا ہے۔ ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد امام خمینی کی حکمت عملی نے اسلام کے اس ستون نے ایک نئی زندگی اختیار کی اور اس پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اسی اثنا میں ، فقہی حکم یعنی مشرکین اور اسلام دشمن عناصر سے برائت نے خاص مقام حاصل کیا ہے اور شیعہ اور کچھ سنیوں نے امام خمینی کے فتوی کے بعد ، اس پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی ہے۔ علم فقہ میں ، مشرکین سے بیزاری کا مسئلہ ، مسلمانوں کا مشرکین کے ساتھ ایک خاص اور منفی تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے اس کا عینی شاہد حج میں "مشرکین سے برائت" ہے۔
برائت کا لغوی معنی
"برء"، "براء" اور "تبرّی" ہر اس چیز سے بیزاری، نفرت کرنا ہے[1]۔ کہ جس کے ساتھ بیٹھنا کراہت اور مذمت کا باعث ہو [2]۔
برائت اصطلاح میں
برائت اس لحاظ سے اس کے لغوی معنی سے مطابقت رکھتا ہے ، اور در حقیقت ،برائت کا مفہوم بیزاری جو کہ ایک دلی اور جذباتی امر ہے، سے وسیع معنی استعمال ہوتا ہے جس کا لازمہ مشرکین اور فتنہ گروں سے کنارہ گیری کرنا ہے۔ جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے : ان سے امن اور جانی ضمانت کو ختم کردینا اور ان سے کسی عہد و پیمان کا پایند نہ ہونا یہاں تک ان سے جنگ کرنا ہے۔ مذہبی اصطلاح میں ، برائت سے مراد خدا کے دشمنوں سے نفرت اور بیزاری کرنے کے معنی استعمال ہوتا ہے [3]۔
تاریخی پس منظر

ابراہیم خلیل علیہ السلام پہلے نبی تھے جنہوں نے شرک اور مشرکین سے واضح طور پر بیزاری کا اعلان کیا تھا، اور اسی لیے قرآن مجید کو مسلمانوں کو ان کی پیروی اور اطاعت کی دعوت دیتا ہے۔:﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ [4]۔ اور امت اسلامی نے انبیاء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مشرکین سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے۔
لیکن قرآن مجید میں دقیق مطالعہ کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین سے بیزاری توحید کے دو اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور تمام انبیاء الہی کو لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دینے کے ساتھ طاغوتی طاقتوں اور شرک اور بت پرستی سے اجتناب کی دعوت کا پابند تھے۔
برائت کا مسئلہ ان اسلامی رسومات میں سے ایک ہے کہ نویں سال ہجری قمری میں جب اس کا اعلان ہوا اس کے بعد سے ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی توجہ کا مرکز رہا ہے. مکہ کی فتح کے بعد جب مشرکین نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دشمنی اور جنگ نہ کرنے کا عہد کیا تھا، جب عہد پایبند نہ رہے تو سورہ برائت کی پہلی دس آیات مشرکین سے برائت اور بیزاری کے موضوع پر تھی۔
حضرت علی علیہ السلام نے حج کے نویں سال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان آیات کا اعلان کیا۔ ان آیات میں عہد توڑنے والے مشرکین کے علاوہ تمام مشرکین شامل ہیں ، جن میں رشتہ داروں اور معاہد بھی شامل ہے۔
برائت قرآن میں
اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے:﴿وَأَذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ فَإِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ [5]۔ برائت کا لفظ اس آیت میں بیزاری سے تعبیر ہوا ہے اور شاید اس کی احساساتی اور جذباتی جہت کو دیکھ کر کیا ہو۔ اور یہ بیزاری کے اصل کے معنی اور مفہوم کو ظاہر کرنے کے لئے کافی نہ بو۔ برائت دشمن سے بچنے اور اس کو بے بس اور تنہا کر دینے کے معنی میں ہے۔
اور صلح اور امن کے دور میں ، دشمن کو اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف پرامن تعلقات کو غلط استعمال کرنے سے روکنے کے لئے ، یہ مناسب طریقے سے اور وقت کے نزاکت کو دیکھ اقدام کرنے کو کہا جاتا ہے۔ ساتھ لہذا ، مشرکین سے برائت ایک قرآنی اصطلاح ہے اور قرآن مجید سے اخذ کی گئی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا مشرکین اور بت پرستی سے بیزاری اور شرک کے موضوع قرآن کے کئی سوروں میں ذکر آیا ہے جیسے: "سوره انعام: ۱۹، ۷۸؛ سوره توبه: ۳، ۱۱۴؛ سوره هود: ۳۵، ۵۴؛ سوره یونس: ۴۱؛ سوره شعرا: ۲۱۶؛ سوره زحرف: ۲۶"۔
برائت از مشرکین امام خمینی کی نظر میں

حج کے سیاسی پھلو سے غفلت
حج کے تمام پھلوؤں میں سے سب سے زیادہ غفلت اور لا پرواھی کا شکار ان عظیم مناسک کا سیاسی پھلو ہے ۔ خیانت کاروں کی سب سے زیادہ فعالیت اس امر سے غافل کرنے میں رہی ہے اور رہے گی کہ اس کا یہ پھلو کسی گوشے میں مقید ہو جائے ۔ آج کے دور میں کہ جب دنیا میں جنگل کا قانون چل رہا ہے ،مسلمان گذشتہ زمانوں کی نسبت زیادہ ذمہ دار ھیں کہ وہ اس پھلو کے بارے میں اظھار کریں اور اس سے متعلق ابھامات دور کریں کیونکہ بین الاقوامی بازی گر مسلمانوں کو غفلت میں ڈال کر انھیں پسماندہ رکہ کر نیز مفاد پرست حکمراں ، نادان اور غفلت زدہ افراد ، درباری و کج فھم مُلا اور جاھل عابد سب دانستہ و غیر دانستہ مل کر اس تقدیر ساز اور مظلوموں کے نجات دھندہ پھلو کو ختم کرنے کے در پے ہیں ۔
فرض شناس ، بیدار اور دل سوز افراد اسلام کی غربت کے پیش نظر اور احکام اسلام سے اس سیاسی پھلو کے متروک ہو جانے کے خطرے کے پیش نظر ، خصو صاً حج کے دوران کہ جھاں یہ پھلوزیادہ نمایاں اور ظاھر ھے ، اٹہ کھڑے ھوں اور قلم ،بیان ، گفتار اور تحریر کے ذریعے جد و جھد کریں ۔ حج کے ایام میں اس کی زیادہ کوشش کریں کیونکہ ان مراسم کے اختتام پر دنیا کے مسلمان جب اپنے شھروں اور علاقوں کی طرف لوٹتے ھیں تو وہ اس عظیم پھلو کو مد نظر رکھتے ھوئے وھاں کے مسلمانوں اور دنیا کے مظلوموں کو بیدار کر سکتے ہیں۔
امن کے دعویدار ستمگروں کے روز افزوں ظلم سے نجا ت حاصل کرنے کے لئے انھیں حرکت اور انقلاب کےلئے تیار کر سکتے ہیں۔ یہ بات اظھر من الشمس ھے کہ اگر اس عظیم عالمی اجتماع میں کہ جھاں اسلامی اقوام کے مظلوم اورھر مذھب ، قوم ، زبان ، فرقے ، رنگ اور جغرافیہ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات ایک جیسے لباس میں ھر قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک ھو کر اکٹھے ھوتے ھیں،اسلام اور مسلمانوں اور دنیا کے تمام مظلوموں کے بنیادی مسائل حل نہ ھوں اور ظالم و جابر حکومتوں سے نجات پانے کی کوئی سبیل نہ کی جائے تو پھر چھوٹے علاقائی اور لوکل اجتماعات سے کچہ نہ بن پڑے گا اور کوئی ھمہ گیر راہ حل ھاتہ نہ آئے گا[6]۔
مشرکین سے اعلان برائت ایک سیاسی اور عبادی نعرہ ہے
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بیان میں وہابی علماء کو آل سعود کی تمام غلطیوں کا سرچشمہ گرداناہے اور وہابی مفتیوں کی جانب سے مشرکین سے اعلان برائت کے خلاف حرمت پر مبنی فتوے کو قرآنی آیات اور سنت رسول کے منافی قرار دیتے ہوئے فرمایاہے: مشرکین سے اعلان برائت ایک سیاسی اور عبادی نعرہ ہے جس کا حکم خود پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے دیا تھا لہذا دشمن کے آلہ کار وہابی مفتیوں سے (کہ جنہوں امریکہ، اسرائیل اور رشیا کے خلاف نعرہ بازی کو حرام قراردیا ہے) سوال یہ ہے کہ اللہ اور اسکے رسول کے حکم کی تعمیل اعمال حج کے منافی ہے؟
دشمن اسلام امریکہ کے ایماء پر عمل کرنے والے وہابی مولیوں کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے حکم کی مخالفت پر اتر آئیں؟۔۔۔ ہم سعودی حکومت سے اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ وہ ان مفتیوں کی باتوں پر کان دھرے بغیر اپنے کئے ہوئے وعدے پر قائم رہتے ہوئے حج کے موقع پر مشرکین سے اظہار برائت کے لئے مسلمانوں کو بالکل آزاد رکھے اور کسی قسم کی رخنہ اندازی سے گریز کرے اور اس الہی حرکت میں تمام حاجیوں خاصکر ایرانى، فلسطینى، لبنانى اور افغانى زائرین جو کفار کے ہاتھوں مظالم کا شکار ہوئے ہیں، کے ساتھ کسی قسم کے تعاون سے دریغ نہ کرے، تاکہ حاجیوں کے ذریعے ایک ہی آواز میں دنیا کے سامنے امت مسلمہ کے مشترک دشمن کی پہچان ہوسکے[7]۔
یہ لوگ مناسک حج اور کفار و مشرکین سے برائت کا اعلان کرنے کیلئے دنیاکے مختلف گوشوں سے یہاں آئے ہیں، یہ اللہ کے مہمان ہیں انکا احترام ضروری ہے اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو اس عظیم اجتماع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے، مسلمانوں کو غاصب صہیونی ریاست اور اسکے حامیوں کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنےکا سامان فراہم کریں اور مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین کو عالمی استکبار کے خلاف آواز اٹھانے کا مرکز ٹھہرایا جائے، یہی حج کے اسرار اور رموز میں سے ایک ہے ورنہ بشر کی عبادت اور لبیک سے خدا کی ذات بے نیاز ہے [8]۔
حج میں مشرکین سے برائت حاصل کرنا عبادت ہے
سب مسلمانوں کو اپنا بھائی جانیں، ان کے ساتھ ایسا سلوک کریں کہ جو ایک ذمہ دار مسلمان کے شایان شان ہے
سورۂ توبہ میں امر ہوا ہے کہ جو مکہ کے عمومی اجتماع میں پڑھا گیا ہے، ہم پڑھتے ہیں {واذان من ﷲ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان ﷲ بريء من المشرکین ورسولہ} مراسم حج میں مشرکین سے برائت حاصل کرنا ایک سیاسی عبادی فریاد ہے جس کا رسول اﷲ (ره) نے حکم فرمایا ہے۔ اب اس ایجنٹ ملاّٰ سے جو مردہ باد امریکہ، اسرائیل اور روس کے نعروں کو اسلام کے خلاف جانتا ہے، کہنا چاہیے کہ کیا رسول ﷲ ؐ کی پیروی کرنا اور خداوند کے امر کی اطاعت کرنا مراسم حج کے خلاف ہے؟ کیا تم اور تم جیسے امریکی ملاّٰ، رسول ﷲ (ص) کے عمل اور خداوند کے امر کو جھٹلاتے ہو، آنحضرت ؐ کی پیروی نیز فرمان خداوندی کو غلط سمجھتے ہو، مراسم حج کو برائت کفار سے جدا سمجھتے ہو، خدا ورسول ؐ کے فرمان کو اپنے دنیوی مفادات کی خطر بھلا چکے ہو اور دشمنان اسلام اور مسلمانوں سے محارب وظالم لوگوں سے برائت اور نفرین کو کفر جانتے ہو؟
ہمیں امید ہے کہ سعودی حکومت ان خدا سے بے خبر ملاّؤں کے وسوسوں پر کان نہ دھرے گی اور مسلمانوں کو اپنے وعدے کے مطابق مراسم حج میں کفار ومشرکین سے برائت کرنے میں آزاد رکھے گی اور اس الٰہی عمل میں ان کے ساتھ خصوصاً ایرانی، فلسطینی، لبنانی اور افغانی حجاج کے ساتھ جو کفار کی جارحیت کا نشانہ بنے رہے ہیں ہم آہنگ ہوگی تاکہ ایک آواز کے ساتھ دنیا والوں کو تمام مظلوموں کے مشترک دشمن کو پہچنوایا جاسکے۔ میں تاکید کے ساتھ ایرانی حجاج نیز بیت اﷲ الحرام کے دیگر حجاج سے عرض کرتا ہوں کہ نظم وضبط کا مظاہرہ کریں اورمیرے نمائندے جناب حجت الاسلام موسوی خوئینی ہا کے احکامات کے مطابق عمل کریں ۔ سب مسلمانوں کو اپنا بھائی جانیں ، ان کے ساتھ ایسا سلوک کریں کہ جو ایک ذمہ دار مسلمان کے شایان شان ہے۔ امید ہے کہ سعودی حکومت بھی ایرانی حجاج کے ساتھ حسن سلوک کرے گی اور ہم آہنگ ہوگی کہ جو ان غدار ستمگروں سے شاکی ہیں کہ جو اسلامی ممالک میں بے جا تجاوز اور مداخلت کرتے ہیں ، نیز نظم وضبط اور وحدت کے ساتھ اسلامی مقامات پر جارح کفار کی مذمت کریں تاکہ انشاء اﷲ حج اس سال بھی خدا ورسول ؐ کی مرضی کے مطابق انجام پائے [9]۔
برائت از مشرکین حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی نظر میں
حج میں عظیم امت مسلمہ کے فرائض
حج "امت مسلمہ کے عقیدے کے اظہار اور موقف کے اعلان کی ایک جگہ" ہے اور امت مسلمہ اپنے صحیح اور قابل قبول اور قابل اتفاق رائے موقف کو بیان کر سکتی ہے، قابل قبول اور قابل اتفاق رائے... اقوام، مسالک۔ ممکن ہے حکومتیں کسی اور طرح سوچیں، کسی اور طرح کام کریں لیکن اقوام کا دل، الگ چیز ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اقوام مختلف معاملات میں اپنے موقف کا اظہار کر سکتی ہیں۔ اگرچہ برائت، ابتدائے انقلاب سے ہی حج میں موجود رہی ہے لیکن غزہ کے بڑے اور عجیب واقعات کے پیش نظر خاص طور پر اس سال کا حج، حج برائت ہے۔ اور مومن حجاج کو اس قرآنی منطق کو پوری اسلامی دنیا میں منتقل کرنا چاہیے۔ آج فلسطین کو اسلامی دنیا کی پشت پناہی کی ضرورت ہے۔
حج؛ موحد انسان کی زندگي کا ایک مجموعی مرقع
حج، اسلام کے سب سے بڑے دینی واجبات میں سے ایک ہے جس کے انفرادی و سماجی پہلو بڑے نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ "انفرادی پہلو میں ہدف تزکیہ، پاکیزگي و نورانیت تک رسائي، بے قیمت مادی ذخائر سے دوری، معنویت کی طرف رغبت، خداوند متعال سے انسیت اور اللہ تعالی کا ذکر، اس سے توسل اور اس کے حضور گڑگڑانا ہے۔" اجتماعی پہلو سے دیکھا جائے تو حرم امن الہی میں مختلف مسلم اقوام کے اجتماع کا ہدف، قومیت اور شخصیت سے پرے ایک الہی امر کو جامۂ عمل پہنانا ہے تاکہ وہاں مسلمان "ایک ساتھ رہیں، ایک ساتھ رہنے کو محسوس کریں اور اس چیز کو، جو قومیت سے بالاتر ہے یعنی مسلمان ہونا اور اتحاد اسلامی، انھیں سمجھایا جائے۔"
در حقیقت خداوند عالم حج میں " موحد انسان کی زندگي کا ایک جامع مرقع پیش کرتا ہے اور ایک علامتی عمل کے ذریعے مسلمانوں کو باہدف اور بامقصد زندگي کا درس دیتا ہے۔" اس طرح سے کہ حج کے تمام مناسک "اس تصویر کے ایک حصے کا علامتی اشارہ ہیں جو اسلام نے اپنے مطلوبہ اجتماع کے سلسلے میں پیش کی ہے۔"
برائت کا موقع
حج میں "ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے پارۂ تن کو قربانگاہ میں لا کر توحید کا ایک مظہر، جو اپنے نفس پر غلبے اور اللہ کے حکم کے سامنے پوری طرح سے سر تسلیم خم کرنے سے عبارت ہے، دنیا کی پوری تاریخ کے تمام موحدوں کے سامنے ایک یادگار کے طور پر چھوڑا۔" پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی "وقت کے مستکبروں اور زر و زور کے خداؤں کے سامنے توحید کا پرچم لہرایا اور خدا پر ایمان کے ساتھ ہی طاغوت سے برائت و بیزاری کو نجات کی شرط قرار دیا۔"
ان تعلیمات کی بنیاد پر ایرانی قوم نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد حج کا ایک نیا معنی اخذ کیا اور اس کے رفیع حقائق امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے ذریعے ایرانی قوم کے لیے آشکار ہوئے، "برائت کے ہمراہ حج، مسلمانوں سے افہام و تفہیم والا حج ہے، وہ حج ہے جو "اشداء علی الکفار" اور "رحماء بینھم" والا حج ہے۔" اور فریضۂ حج میں ایک سب سے نمایاں سیاسی عمل، "برائت کا موقع ہے۔"
مشرکین سے برائت، حج کی روح
چونکہ کعبہ "اسلام کا مرکز ہے، اسلام کی روح اور حقیقت، توحید ہے اور خانۂ خدا توحید کا مظہر ہے، لہذا نعرہ، توحید کا نعرہ ہے اور برائت بھی، شرک سے برائت ہے۔" اپنے عمیق قرآنی مفہوم کے ساتھ توحید کا مطلب "اللہ کی طرف توجہ، اس کی طرف بڑھنا اور بتوں اور شیطانی طاقتوں کی نفی ہے۔" اور یہ بات کہ حج سے متعلق آیات میں "بارہا ذکر خدا کی بات کی گئي ہے، اس چیز کی نشانی ہے کہ اس گھر میں اور اس کی برکت سے اللہ کے علاوہ ہر عنصر مسلمانوں کے ذہن اور عمل سے باہر نکال دیا جانا چاہیے اور ان کی زندگي سے شرک کی مختلف قسموں کا خاتمہ ہو جانا چاہیے۔"
یہی وجہ ہے کہ "مشرکین سے برائت اور بتوں اور بت پرستوں سے بیزاری، مومنوں کے حج کی جان ہے۔ حج کا ہر مقام اپنا دل خدا کے حوالے کرنے، اس کی راہ میں کوشش اور جدوجہد، شیطان سے برائت، اسے دھتکارنے اور کنکری مارنے اور اس کے مقابلے محاذ تیار کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔"
شرک سے جنگ
حج میں برائت کا مطلب "دشمن کی سازش کو برملا کرنا اور اس سے بیزاری کا اعلان ہے۔" ہر زمانے کے طاغوتوں کی تمام بربریت، مظالم، برائيوں اور بدعنوانیوں سے بیزاری اور وقت کے مستکبروں کی منہ زوری کے مقابلے میں استقامت ہے۔" اسی لیے برائت کا پروگرام، "ان سب سے برائت و بیزاری کے اعلان کا وسیلہ ہے اور یہ ان شیطانی عناصر کی نفی اور تمام اسلامی معاشروں پر اسلام اور توحید کی حکمرانی کے قیام میں اسلامی عزم کے عملی شکل اختیار کرنے کی راہ میں پہلا قدم ہے۔"بنابریں برائت میں جو جنگ ہے، وہ شرک کے ساتھ جنگ ہے، کفر کے ساتھ جنگ ہے، وہ جنگ جو حج میں نہ ہو تو وہ بھائيوں اور مومنین کی آپس میں جنگ ہے۔"
مشرکین سے برائت: تشریح کے موقع سے لے کر مسلمانوں کی عزت کی تقویت تک
دوسری جانب مشرکین سے برائت، امت مسلمہ کے لیے کچھ اقدامات اور اثرات کی حامل ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ "آج (مغربی ایشیا کے) اس خطے میں امریکا کی شر پسندانہ پالیسیاں ایک طرف اور صیہونی حکومت کے جرائم دوسری طرف، تمام مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔" اور "اس سلسلے میں تشریح، حقائق کو برملا کرنے اور سامراج و امریکا سے برائت کے اعلان کے لیے حج کے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔"
دوسری بات یہ کہ اگر حج صحیح اور مکمل ہو تو "پہلے امت مسلمہ کی تمام مشکلات کو بڑھنے سے روک دیتا ہے، پھر انھیں ختم کر دیتا ہے اور پھر اسلام کی عزت، مسلمانوں کی زندگي کی بہتری اور اغیار کے شر سے اسلامی ملکوں کی آزادی و خودمختاری کا منبع بن جاتا ہے۔" اور تیسری بات یہ کہ مشرکین سے برائت کا پروگرام حج میں ایک بڑی تبلیغ ہے "یہ موجودگي ہی اپنے آپ میں تبلیغ ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آپ نے حج کو اس کے تمام پہلوؤں کے ساتھ، ایک مکمل پیکیج کے طور پر قبول کیا ہے۔"
شرک ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا
البتہ شرک ہمیشہ ایک ہی طرح کا نہیں ہوتا۔ بت ہمیشہ لکڑی، پتھر اور دھات کی مختلف شکلوں میں ہی ظاہر نہیں ہوتے۔ خانۂ خدا اور حج کے تعلق سے ہر زمانے میں شرک کو اس زمانے کے مخصوص لباس میں اور خدا کے شریک بت کو اس دور کی مخصوص شکل میں پہچاننا اور اس کی نفی کرنا اور اسے مسترد کرنا چاہیے۔ (16/6/ 1991) لیکن "بے شک آج اور ہمیشہ وہی طاقتیں ہیں جنھوں نے انسانی زندگي کے نظام کی حکمرانی کو زبردستی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور آج سب سے زیادہ واضح سامراجی طاقت، امریکا کی شیطانی طاقت، مغربی کلچر کی طاقت اور وہ بے راہ روی اور بدعنوانی ہے جو یہ طاقتیں مسلم ممالک اور اقوام پر مسلط کر رہی ہیں۔
مظلوموں کے قتل اور جنگ کی آگ بھڑکانے سے برائت
لہذا آج کل مشرکین سے برائت کا پروگرام "آج استکباری قوتوں اور ان میں سر فہرست امریکا کے کفر و شرک کے محاذ سے اعلان برائت کا مطلب، مظلوم کے قتل عام اور جنگ بھڑکانے سے بیزاری ہے، امریکی بلیک واٹر اور داعش جیسے دہشت گردی کے مراکز کی مذمت ہے ... بچوں کی قاتل صیہونی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں اور اس کے مددگاروں کے خلاف امت اسلامیہ کی فلک شگاف پکار ہے، مغربی ایشیا اور شمالی افریقا کے حساس علاقے میں امریکا اور اس کے حامیوں کے جنگ بھڑکانے کی مذمت ہے ... جغرافیائی محل وقوع یا نسل یا جلد کے رنگ کی بنیاد پر تفریق و نسل پرستی سے بیزاری ہے، اس کا مطلب اس شرافت مندانہ، نجیبانہ اور منصفانہ روش کے مقابلے میں جس کی اسلام دعوت عام دیتا ہے، جارح و فتنہ انگیز طاقتوں کی استکباری اور خبیثانہ روش سے بیزاری ہے۔"(6/7/ 2019) اور "آج مسلمان حج میں جو برائت کا نعرہ لگاتا ہے وہ سامراج اور اس کے زرخریدوں سے برائت کی آواز ہے جن کا اثر و نفوذ ، افسوس کا مقام ہے کہ اسلامی ملکوں میں زیادہ ہے اور انھوں نے اسلامی معاشروں پر شرک آلود نظام زندگی، مشرکانہ سیاست اور ثقافت مسلط کر کے، مسلمانوں کی زندگی میں 'عملی توحید' کی بنیادیں منہدم کر دی ہیں اور انھیں غیر خدا کی عبادت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کی توحید صرف زبانی ہے، توحید کا صرف نام ہے اور ان کی زندگی میں توحید کے معنی کا کوئی اثر باقی نہیں بچا ہے۔"
مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن
البتہ آج مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن صیہونی اور وہ لوگ ہیں جو ان کی مدد کرتے ہیں کیونکہ "حالیہ صدیوں کا سب سے بڑا ظلم، فلسطین میں ہوا ہے۔ اس دردناک واقعے میں، ایک قوم کی ہر چیز، اس کی سرزمین، اس کا گھر، کھیت اور اثاثہ، اس کی عزت اور اس کی پہچان چھین لی گئي ہے۔" اور "آج جو بھی صیہونیوں کی حمایت کرتا ہے، چاہے وہ امریکا اور برطانیہ وغیرہ جیسے سامراجی ممالک کے حکام ہوں یا اقوام متحدہ وغیرہ جیسے عالمی ادارے ہوں جو کسی نہ کسی طرح، یا اپنی خاموشی سے یا اپنے بیانوں اور غیر منصفانہ رائے زنی سے ان کی حمایت کرتے ہیں، اس معاملے میں شریک جرم ہیں۔ پورا عالم اسلام ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہو، مقابلہ کرے، برائت کا اعلان کرے ... یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے۔"[10]۔
حوالہ جات
- ↑ بَرَأت کے اردو معانی- اخذ شدہ بہ تاریخ: 31مئی 2025ء
- ↑ ابوالحسن احمد بن فارس، معجم مقاییس اللغه، ج 1، ص 236
- ↑ طوسی، محمدبنحسن، التبیان فی تفسیر القرآن، ج 2، ص 65 - 66
- ↑ سورہ ممتحنه، آیہ 4
- ↑ سورہ توبہ آیہ 3
- ↑ حج : امام خمینی(رہ) کی نظر میں- اخذ شدہ بہ تاریخ: 31 مئی 2025ء
- ↑ مشرکین سے اعلان برائت ایک سیاسی اور عبادی نعرہ ہے- شائع شدہ از: 21 جنوری 2021ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 31 مئی 2025ء
- ↑ صحیفه امام خمینی، ج18، ص86
- ↑ صحیفہ امام، ج ۱۸، ص ۹۱
- ↑ رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی نظر میں حج میں عظیم امت مسلمہ کے فرائض- شائع شدہ از: 5 جون 2024ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 31 مئی 2025ء