مندرجات کا رخ کریں

"محمد عبدہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«'''محمد عبده'''، مصر کے ایک فقیہ، ماہرِ قانون اور دینی مصلح تھے۔ ان کے حامیوں کے مطابق وہ دینی نواندیشی کے پیش رو اور استعمار کی سازشوں کے مقابلے میں امتِ اسلامی کے اتحاد کے علم برداروں میں شمار ہوتے ہیں <ref>Ahmed H. Al-Rahim (January 2006). "Islam and Liberty", Journal o...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 20: سطر 20:


مصر کے عوام کو مغربی ممالک کا سفر کرنے اور جدید مغربی تہذیب سے واقفیت حاصل کرنے کی دعوت دینا، پھر مصر واپس آنا اور بالآخر سماجی و سیاسی سرگرمیوں سے تعلیمی اور عدالتی امور کی طرف منتقل ہونا، ان کی زندگی کے اہم مراحل میں شمار ہوتے ہیں۔
مصر کے عوام کو مغربی ممالک کا سفر کرنے اور جدید مغربی تہذیب سے واقفیت حاصل کرنے کی دعوت دینا، پھر مصر واپس آنا اور بالآخر سماجی و سیاسی سرگرمیوں سے تعلیمی اور عدالتی امور کی طرف منتقل ہونا، ان کی زندگی کے اہم مراحل میں شمار ہوتے ہیں۔
== نظریات ==
اسلامی مفکرین کے نزدیک اصلاح ایک قرآنی تصور ہے جو فساد کے مقابلے میں اپنا مفہوم واضح کرتا ہے اور ہر اس چیز کے بارے میں استعمال ہوتا ہے جو فساد کا شکار ہو چکی ہو۔ عبده کے نزدیک ثقافتی اور تربیتی بنیاد کے بغیر کسی بھی قسم کی سیاسی تبدیلی ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔
شیخ محمد عبده کے اہم ترین اصلاحی اور تقریبی افکار کو درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:
'''الف)''' عبده سید جمال الدین اسدآبادی کے مکتب فکر کے شاگرد تھے، لیکن ان کے طریقۂ کار اور طرزِ عمل میں سید جمال سے یکسانیت نہیں تھی۔ سید جمال کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے مصری اخبارات میں اصلاح پسندانہ راستہ اختیار کیا اور انقلابی رجحانات رکھنے والوں کو تمام پہلوؤں اور حالات کو مدنظر رکھنے کی دعوت دی۔ عبده کی تمام تر توجہ اور کوشش فکری اور تربیتی اصلاح پر مرکوز تھی اور وہ برطانوی حکومت کے ساتھ سیاسی ٹکراؤ سے گریز کرتے تھے۔
'''ب)''' عبده شدید سیاسی جدوجہد سے گریز کرتے تھے اور زیادہ توجہ اصلاحی تحریک پر مرکوز رکھتے تھے۔
'''ج)''' عبده اصلاحِ تربیت اور اصلاحِ ثقافت کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے تھے۔
'''د)''' عبده جدوجہد کے طریقۂ کار میں افراد کی تربیت اور ایک مضبوط افرادی قوت تیار کرنے کے قائل تھے۔
'''ہ)''' ان کے ساتھ رہنے اور ان کی مجالس میں شرکت کرنے والوں میں زیادہ تر حوزہ علمیہ سے وابستہ علما اور جامعات کے اساتذہ و دانشور شامل تھے۔ ان کی درس کی مجلس انہی افراد سے آباد رہتی تھی۔ حتیٰ کہ مساجد میں ان کی تقاریر سننے والوں میں بھی زیادہ تر یہی طبقہ شامل ہوتا تھا۔
'''و)''' وہ اصلاحِ اجتماعی کو اصلاحِ فرد کے ذریعے ممکن سمجھتے تھے، اگرچہ وہ اجتماعی زندگی اور اس کے احکام سے بھی غافل نہیں تھے۔ ذیل میں شیخ عبده کے اصلاحی افکار کا سماجی، دینی اور سیاسی نقطۂ نظر سے جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
=== 1. عبده کے سماجی اصلاحات کی طرف رجحانات ===
محمد عبده خدیو عباس کے دور حکومت میں اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان کے قریب ہوئے۔ انہوں نے خدیو کو قائل کرکے تین شعبوں میں اصلاحات کا آغاز کیا۔ پہلا قدم جامع الازہر کی اصلاح تھا، جہاں رفاہی سہولیات میں تبدیلی اور تعلیمی نصاب میں اصلاح کے ذریعے علمی ترقی کی جانب ایک نئے دور کا آغاز کیا گیا۔
اس کے بعد اوقاف کے شعبے میں اصلاحات کی گئیں اور آخری مرحلہ شرعی عدالتوں میں اصلاحات کا تھا۔
شیخ محمد عبده کے مفتی مصر بننے کے بعد ان کے فتووں نے [[اسلام]] اور اسلامی دنیا کے مسائل کے بارے میں بہت سے لوگوں کے نظریات اور افکار کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یہاں تک کہ بہت سے لوگوں نے اپنے قدیم اور غلط عقائد سے دستبرداری اختیار کی۔
=== 2. دینی اصلاحات پر توجہ ===
شیخ محمد عبده تحجر اور مغرب زدگی دونوں کے مقابلے کا حل دینی فکر کی تجدید اور تقلید کے خلاف جدوجہد کے ذریعے شریعتِ اسلامی کے بنیادی اور اصل سرچشموں کی طرف واپسی میں سمجھتے تھے۔
وہ سید جمال کی طرح اس نظریے کے مخالف تھے کہ امام احمد بن حنبل کے زمانے سے اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے الازہر کے علما کے ساتھ بھی اختلافات تھے۔ تاہم ان کا اعتقاد تھا کہ صرف وہی لوگ اجتہاد کر سکتے ہیں جو علم میں رسوخ رکھتے ہوں۔
نئی دنیا کے مسائل کے ساتھ اسلامی شریعت کے تعلق اور ان دونوں کے درمیان تطبیق کے سلسلے میں عبده کے نزدیک دو اصولوں کو بروئے کار لانا چاہیے:
# مصلحت یا استصلاح کا اصول
# تلفیق کا اصول، جس سے عبده کی مراد مختلف فقہی مذاہب کو باہم ملانا اور سماجی مسائل کے حل میں ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔
وہ نہ صرف اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے اسلامی مذاہب، خواہ [[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت]] کے مذاہب ہوں یا مذہب [[شیعہ]]، کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کرتے تھے بلکہ یہودیت اور مسیحیت جیسے دیگر ادیان کے پیروکاروں کے ساتھ بھی متسامحانہ رویہ رکھتے تھے۔
شیخ محمد عبده [[وہابیت]] کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ بعض اسلامی مسائل میں اس حد تک غلو کرتے ہیں کہ دوسرے مسلمان ان کے عقائد کو قبول نہیں کر سکتے۔
عبده کا کہنا تھا: وهابی‌ها از اصولی دست برداشتند که دین بر پایه آنها استوار است. اینها نه دوستدار دینند و نه دوستدار تمدن
ترجمہ: وہابیوں نے ان اصولوں کو ترک کر دیا ہے جن پر دین کی بنیاد قائم ہے۔ یہ نہ دین کے خیرخواہ ہیں اور نہ تہذیب کے۔
وہ ایک اور مقام پر وہابیت کے بارے میں کہتے ہیں: چرا باید با زور سلاح، مسلمانان را به فرمانبرداری وادار کرد؟ اگر لااقل فقط در مقام حرف بود و به این تهدیدها عمل نمی‌کردند، مشکلی نبود، آنها به حرف‌های ناحق خود عمل می‌کنند.
ترجمہ: مسلمانوں کو ہتھیار کے زور پر اطاعت پر مجبور کیوں کیا جائے؟ اگر کم از کم یہ صرف زبانی باتوں تک محدود رہتے اور ان دھمکیوں پر عمل نہ کرتے تو کوئی مسئلہ نہ ہوتا، لیکن وہ اپنی ناحق باتوں پر عمل کرتے ہیں۔
== سیاسی افکار ==
عبده کی دو خواہشات تھیں۔ پہلی خواہش مسلم قوم کی وحدت اور اتحاد تھی، اور دوسری مصر کی قوم کی وحدت تھی، جو امت اسلامی کا ایک حصہ تھی۔ اگرچہ یہ دونوں خواہشات ایک دوسرے سے زیادہ قریب نہیں تھیں، تاہم انہوں نے کبھی سیاست اور دین کی جدائی کی بات کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی وہ اس نظریے کے قائل تھے۔
وہ ایسی حکومت کو پسند کرتے تھے جس میں عوام کے مشورے کی بنیاد پر امور انجام دیے جائیں۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اسلامی حاکم کو شریعت اسلامی کی پیروی اور اہل حل و عقد سے مشاورت کے ذریعے عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنی چاہیے۔
== عبده اور عالم اسلام کی وحدت کا نظریہ ==
شیخ محمد عبده بھی سید جمال الدین کی طرح عالم اسلام کی وحدت کے قائل تھے اور فرقہ وارانہ تعصبات سے دور رہتے تھے۔ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں، خصوصاً سید جمال کے شیعہ اور ایرانی دوستوں کے ساتھ ان کا ہم آہنگ اور روادارانہ طرزِ عمل ان کے وسیع المشرب ہونے اور مذہبی ہم آہنگی و اتحاد پر ان کے یقین کی بہترین علامت ہے۔
اسی طرح ان کی شرح نہج البلاغہ بھی اسلامی مذاہب کے درمیان اتحاد اور تقریب کی جانب ایک مؤثر قدم تھی۔ اس کتاب کے مختلف مقامات پر شیخ عبده کی حضرت علی علیہ السلام سے گہری قلبی محبت اور عقیدت نمایاں ہوتی ہے۔
اسلامی مذاہب کے فقہی مسائل میں تلفیق کے بارے میں عبده کے نظریات زیادہ تر ان کی کتاب الاسلام والنصرانیہ میں بیان ہوئے ہیں۔ عبده نے تلفیق اور فقہِ مقارن کے اصول کو پیش کرتے ہوئے اسلامی مذاہب بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ کر آزاد اجتہاد کے ذریعے اپنے تقریبی رجحانات کا اظہار کیا۔
بعد میں قائم ہونے والی جمعیت دارالتقریب کے حوالے سے بھی شیخ عبده نے مؤثر اقدامات کیے۔ ان کے کئی شاگرد بعد کے برسوں میں مفتی، رئیس الازہر اور مصر کے ممتاز علما کے منصب پر فائز ہوئے۔
شیخ محمد عبده فرقہ وارانہ اختلافات اور ایسے غیر منطقی و نقصان دہ نزاعات کے شدید مخالف تھے۔
استاد شہید مرتضیٰ مطہری شیخ محمد عبده کے بارے میں کہتے ہیں: عبده با سید جمال در دو جهت اختلاف نظر دارد؛ یکی این که سید انقلابی فکر می‌کرد و عبده طرفدار اصلاح تدریجی بود.
دیگر این که سید مبارزه با استبداد و استعمار را در رأس برنامه‌های خود قرار داده بود و معتقد بود باید اول ریشه‌های این ام‌الفساد را کند و دور انداخت. ولی عبده، لااقل در اواخر عمر و بعد از جدا شدن از سید در پاریس و بازگشت به مصر، معتقد بود که آموزش و پرورش و تربیت دینی جامعه بر تعلیم و هر حرکت سیاسی تقدم دارد.
ترجمہ: عبده اور سید جمال کے درمیان دو بنیادی امور میں اختلافِ رائے تھا۔ ایک یہ کہ سید جمال انقلابی انداز میں سوچتے تھے، جبکہ عبده تدریجی اصلاح کے حامی تھے۔ دوسرا یہ کہ سید جمال نے استبداد اور استعمار کے خلاف جدوجہد کو اپنے پروگرام میں اولین حیثیت دی تھی
اور ان کا عقیدہ تھا کہ پہلے اس فساد کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ لیکن عبده، کم از کم اپنی زندگی کے آخری دور میں، جب وہ پیرس میں سید جمال سے جدا ہو کر مصر واپس آئے، اس بات کے قائل تھے کہ معاشرے کی تعلیم و تربیت اور دینی تربیت کو ہر سیاسی تعلیم اور سیاسی تحریک پر ترجیح حاصل ہے۔
عبده کے نزدیک تعلیم و تربیت کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ وہ تربیت کو ہر چیز کی بنیاد سمجھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ہر چیز کی بنیاد تربیت پر رکھی جاتی ہے اور جو کچھ بھی وجود میں آتا ہے، وہ علم کے ذریعے وجود میں آتا ہے۔
اسی وجہ سے جب عبده پیرس میں مقیم تھے تو انہوں نے سید جمال کو مشورہ دیا کہ سیاست کو ترک کر دیں اور دونوں کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ حکومتوں کی نگرانی میں نہ ہوں، اور وہاں شاگردوں کی تربیت کرکے انہیں اپنی اصلاحی تحریک کے لیے تیار کریں۔ تاہم سید جمال نے یہ تجویز قبول نہیں کی۔
بہرحال شیخ محمد عبده کے سید جمال سے اختلافات اور اصلاح پسندی کی طرف ان کی وفاداری کے باعث دینی احیا کی تحریک دو شاخوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک گروہ سید جمال کے طریقۂ کار پر قائم رہا اور عظیم انقلاب کا خواہاں تھا، جبکہ دوسرے گروہ نے عبده کے طریقے اور مسلک کی پیروی کی اور اندرونی اصلاح اور مرحلہ وار جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔
سید جمال کے بعد عالمِ اہل سنت، خصوصاً عرب معاشرے میں، جس دوسری شخصیت کا نام مصلح کی حیثیت سے لیا جاتا ہے، وہ شیخ محمد عبده ہیں، جو سید جمال الدین اسدآبادی کے شاگرد اور مرید تھے۔ عبده اپنی روح اور اپنی روحانی زندگی کو سید جمال کا مرہونِ منت سمجھتے تھے۔
شیخ محمد عبده مغرب کے ساتھ مقابلے کے سلسلے میں بھی اس عقیدے کے حامل تھے کہ حقیقی اور اصل اسلام کی طرف واپس آنا چاہیے اور اگر ایسا کیا جائے تو اسلامی معاشرے کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
وہ فرقہ وارانہ تعصب سے پاک تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ اسلامی مذاہب بلکہ اس سے آگے بڑھ کر تمام الٰہی ادیان کو باہم متحد ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کرنا چاہیے۔
اسی وجہ سے جب وہ بیروت میں مقیم تھے تو انہوں نے وہاں ایک مرکز قائم کیا جس کا نام جمعیة التقریب بین الادیان و المذاهب رکھا۔ اس مرکز میں بہت سے علما اور ادبا شرکت کرتے تھے اور مسیحی افراد بھی ان مجالس میں شریک ہوتے تھے۔
وہ اس مرکز میں الٰہی ادیان کے اتحاد کے بارے میں گفتگو کرتے تھے۔ مذاہب اور ادیان کے درمیان تقریب کے لیے محمد عبده کی ایک اور اہم سرگرمی مجلہ عروة الوثقیٰ میں مضامین کی اشاعت تھی۔ یہ مجلہ سید جمال الدین اسدآبادی اور شیخ محمد عبده کے تعاون سے شائع ہوتا تھا۔
اس مجلے میں مسیحیت اور اسلام اور ان دونوں کے پیروکاروں، اسلامی وحدت اور ایرانی عوام کو افغانوں کے ساتھ اتحاد کی دعوت جیسے موضوعات پر مضامین شائع ہوئے۔
اصلاح پسندی اور امتِ اسلامی کی وحدت کے حوالے سے اپنی فکر کی وجہ سے شیخ محمد عبده، اگرچہ مصری معاشرے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن ان کے سیاسی اور دینی افکار نے انہیں ایک ایسی شخصیت بنا دیا تھا جس کی فکر قومی حدود اور فرقہ وارانہ وابستگیوں سے بالاتر تھی۔

نسخہ بمطابق 11:53، 3 ستمبر 2026ء

محمد عبده، مصر کے ایک فقیہ، ماہرِ قانون اور دینی مصلح تھے۔ ان کے حامیوں کے مطابق وہ دینی نواندیشی کے پیش رو اور استعمار کی سازشوں کے مقابلے میں امتِ اسلامی کے اتحاد کے علم برداروں میں شمار ہوتے ہیں [1]۔

سوانحِ حیات

محمد عبده 1266ھ میں مصر کے ایک گاؤں "محلۃ نصر" میں پیدا ہوئے، جو شمالی مصر کے صوبہ بحیرہ کے شہر شبراخیت کے نواح میں واقع تھا۔ ان کے والد ترکمان اور والدہ عرب النسل تھیں۔ ان کا نام محمد تھا، جبکہ ان کے والد کو عبده کہا جاتا تھا۔ ابتدا میں ان کا پیشہ زراعت تھا۔ انہوں نے دس سال کی عمر کے بعد قرآنِ کریم سیکھا اور حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔

تعلیم

تیرہ سال کی عمر میں اپنے والد کے اصرار پر اسلامی معارف کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جامع احمدی میں داخل ہوئے۔ وہاں کے تعلیمی نظام کی دشواری، خشک طرزِ تدریس اور جمود کی وجہ سے وہ ان تعلیمات سے خوش نہیں تھے۔ چنانچہ انہوں نے جامع احمدی چھوڑ دیا، اپنے گاؤں واپس آ گئے اور زراعت میں مشغول ہوگئے۔

تاہم کچھ عرصے بعد اپنے چچا زاد رشتہ دار شیخ درویش خضر کے مشورے پر، جن کے افکار سے وہ متاثر تھے، دوبارہ جامع احمدی میں واپس آئے اور اس کے بعد جامع الازہر چلے گئے۔

شیخ درویش کے علاوہ انہوں نے شیخ حسن الطویل اور سید جمال الدین اسدآبادی سے بھی استفادہ کیا۔ سید جمال الدین کے مشورے پر انہوں نے عقلی علوم کے مطالعے کی طرف توجہ کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے بہت سے شاگردوں کی تربیت کی، جن میں محمد رشید رضا، سعد زغلول، طہ حسین، عبدالقادر مغربی، مصطفی عبدالرزاق اور شیخ محمود شلتوت قابلِ ذکر ہیں۔

عبده تدریس کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے تھے اور اسی وجہ سے حزبِ وطنی مصر میں شامل ہوگئے۔ اسی دوران ریاض پاشا ، جو خدیو پاشا کے وزیر تھے، کی تجویز پر انہیں روزنامہ "وقائع مصریہ" کا مدیر مقرر کیا گیا۔ محمد عبده نے "العروة الوثقیٰ" نامی اخبار کی اشاعت میں بھی سید جمال الدین اسدآبادی کے ساتھ تعاون کیا۔

کچھ عرصے بعد جب مصر کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں تبدیلیاں رونما ہوئیں تو محمد عبده کو اپنی زندگی کے آخری دور میں مجلسِ شوریٰ کی نامزد رکنیت حاصل ہوئی۔ مجلسِ شوریٰ ایک مشاورتی ادارہ تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی پوری زندگی دینی فکر کی اصلاح، دینی اداروں کی اصلاح اور رفاہی و خیراتی سرگرمیوں کے لیے وقف کردی۔

1899ء میں مصر کے خدیو نے محمد عبده کو مفتیِ مصر کے منصب پر مقرر کیا، اور وہ اپنی وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کی ابتدائی فکری تربیت اور سید جمال الدین اسدآبادی سے شاگردی، سید جمال کی جلاوطنی کے بعد ان کی تحریک کو آگے بڑھانا،

مصر کے عوام کو مغربی ممالک کا سفر کرنے اور جدید مغربی تہذیب سے واقفیت حاصل کرنے کی دعوت دینا، پھر مصر واپس آنا اور بالآخر سماجی و سیاسی سرگرمیوں سے تعلیمی اور عدالتی امور کی طرف منتقل ہونا، ان کی زندگی کے اہم مراحل میں شمار ہوتے ہیں۔

نظریات

اسلامی مفکرین کے نزدیک اصلاح ایک قرآنی تصور ہے جو فساد کے مقابلے میں اپنا مفہوم واضح کرتا ہے اور ہر اس چیز کے بارے میں استعمال ہوتا ہے جو فساد کا شکار ہو چکی ہو۔ عبده کے نزدیک ثقافتی اور تربیتی بنیاد کے بغیر کسی بھی قسم کی سیاسی تبدیلی ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔

شیخ محمد عبده کے اہم ترین اصلاحی اور تقریبی افکار کو درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

الف) عبده سید جمال الدین اسدآبادی کے مکتب فکر کے شاگرد تھے، لیکن ان کے طریقۂ کار اور طرزِ عمل میں سید جمال سے یکسانیت نہیں تھی۔ سید جمال کی جلاوطنی کے بعد انہوں نے مصری اخبارات میں اصلاح پسندانہ راستہ اختیار کیا اور انقلابی رجحانات رکھنے والوں کو تمام پہلوؤں اور حالات کو مدنظر رکھنے کی دعوت دی۔ عبده کی تمام تر توجہ اور کوشش فکری اور تربیتی اصلاح پر مرکوز تھی اور وہ برطانوی حکومت کے ساتھ سیاسی ٹکراؤ سے گریز کرتے تھے۔

ب) عبده شدید سیاسی جدوجہد سے گریز کرتے تھے اور زیادہ توجہ اصلاحی تحریک پر مرکوز رکھتے تھے۔

ج) عبده اصلاحِ تربیت اور اصلاحِ ثقافت کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے تھے۔

د) عبده جدوجہد کے طریقۂ کار میں افراد کی تربیت اور ایک مضبوط افرادی قوت تیار کرنے کے قائل تھے۔

ہ) ان کے ساتھ رہنے اور ان کی مجالس میں شرکت کرنے والوں میں زیادہ تر حوزہ علمیہ سے وابستہ علما اور جامعات کے اساتذہ و دانشور شامل تھے۔ ان کی درس کی مجلس انہی افراد سے آباد رہتی تھی۔ حتیٰ کہ مساجد میں ان کی تقاریر سننے والوں میں بھی زیادہ تر یہی طبقہ شامل ہوتا تھا۔

و) وہ اصلاحِ اجتماعی کو اصلاحِ فرد کے ذریعے ممکن سمجھتے تھے، اگرچہ وہ اجتماعی زندگی اور اس کے احکام سے بھی غافل نہیں تھے۔ ذیل میں شیخ عبده کے اصلاحی افکار کا سماجی، دینی اور سیاسی نقطۂ نظر سے جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

1. عبده کے سماجی اصلاحات کی طرف رجحانات

محمد عبده خدیو عباس کے دور حکومت میں اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان کے قریب ہوئے۔ انہوں نے خدیو کو قائل کرکے تین شعبوں میں اصلاحات کا آغاز کیا۔ پہلا قدم جامع الازہر کی اصلاح تھا، جہاں رفاہی سہولیات میں تبدیلی اور تعلیمی نصاب میں اصلاح کے ذریعے علمی ترقی کی جانب ایک نئے دور کا آغاز کیا گیا۔

اس کے بعد اوقاف کے شعبے میں اصلاحات کی گئیں اور آخری مرحلہ شرعی عدالتوں میں اصلاحات کا تھا۔

شیخ محمد عبده کے مفتی مصر بننے کے بعد ان کے فتووں نے اسلام اور اسلامی دنیا کے مسائل کے بارے میں بہت سے لوگوں کے نظریات اور افکار کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یہاں تک کہ بہت سے لوگوں نے اپنے قدیم اور غلط عقائد سے دستبرداری اختیار کی۔

2. دینی اصلاحات پر توجہ

شیخ محمد عبده تحجر اور مغرب زدگی دونوں کے مقابلے کا حل دینی فکر کی تجدید اور تقلید کے خلاف جدوجہد کے ذریعے شریعتِ اسلامی کے بنیادی اور اصل سرچشموں کی طرف واپسی میں سمجھتے تھے۔

وہ سید جمال کی طرح اس نظریے کے مخالف تھے کہ امام احمد بن حنبل کے زمانے سے اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے الازہر کے علما کے ساتھ بھی اختلافات تھے۔ تاہم ان کا اعتقاد تھا کہ صرف وہی لوگ اجتہاد کر سکتے ہیں جو علم میں رسوخ رکھتے ہوں۔

نئی دنیا کے مسائل کے ساتھ اسلامی شریعت کے تعلق اور ان دونوں کے درمیان تطبیق کے سلسلے میں عبده کے نزدیک دو اصولوں کو بروئے کار لانا چاہیے:

  1. مصلحت یا استصلاح کا اصول
  2. تلفیق کا اصول، جس سے عبده کی مراد مختلف فقہی مذاہب کو باہم ملانا اور سماجی مسائل کے حل میں ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔

وہ نہ صرف اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے اسلامی مذاہب، خواہ اہل سنت کے مذاہب ہوں یا مذہب شیعہ، کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کرتے تھے بلکہ یہودیت اور مسیحیت جیسے دیگر ادیان کے پیروکاروں کے ساتھ بھی متسامحانہ رویہ رکھتے تھے۔

شیخ محمد عبده وہابیت کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ بعض اسلامی مسائل میں اس حد تک غلو کرتے ہیں کہ دوسرے مسلمان ان کے عقائد کو قبول نہیں کر سکتے۔

عبده کا کہنا تھا: وهابی‌ها از اصولی دست برداشتند که دین بر پایه آنها استوار است. اینها نه دوستدار دینند و نه دوستدار تمدن

ترجمہ: وہابیوں نے ان اصولوں کو ترک کر دیا ہے جن پر دین کی بنیاد قائم ہے۔ یہ نہ دین کے خیرخواہ ہیں اور نہ تہذیب کے۔

وہ ایک اور مقام پر وہابیت کے بارے میں کہتے ہیں: چرا باید با زور سلاح، مسلمانان را به فرمانبرداری وادار کرد؟ اگر لااقل فقط در مقام حرف بود و به این تهدیدها عمل نمی‌کردند، مشکلی نبود، آنها به حرف‌های ناحق خود عمل می‌کنند.

ترجمہ: مسلمانوں کو ہتھیار کے زور پر اطاعت پر مجبور کیوں کیا جائے؟ اگر کم از کم یہ صرف زبانی باتوں تک محدود رہتے اور ان دھمکیوں پر عمل نہ کرتے تو کوئی مسئلہ نہ ہوتا، لیکن وہ اپنی ناحق باتوں پر عمل کرتے ہیں۔

سیاسی افکار

عبده کی دو خواہشات تھیں۔ پہلی خواہش مسلم قوم کی وحدت اور اتحاد تھی، اور دوسری مصر کی قوم کی وحدت تھی، جو امت اسلامی کا ایک حصہ تھی۔ اگرچہ یہ دونوں خواہشات ایک دوسرے سے زیادہ قریب نہیں تھیں، تاہم انہوں نے کبھی سیاست اور دین کی جدائی کی بات کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی وہ اس نظریے کے قائل تھے۔

وہ ایسی حکومت کو پسند کرتے تھے جس میں عوام کے مشورے کی بنیاد پر امور انجام دیے جائیں۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اسلامی حاکم کو شریعت اسلامی کی پیروی اور اہل حل و عقد سے مشاورت کے ذریعے عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنی چاہیے۔

عبده اور عالم اسلام کی وحدت کا نظریہ

شیخ محمد عبده بھی سید جمال الدین کی طرح عالم اسلام کی وحدت کے قائل تھے اور فرقہ وارانہ تعصبات سے دور رہتے تھے۔ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں، خصوصاً سید جمال کے شیعہ اور ایرانی دوستوں کے ساتھ ان کا ہم آہنگ اور روادارانہ طرزِ عمل ان کے وسیع المشرب ہونے اور مذہبی ہم آہنگی و اتحاد پر ان کے یقین کی بہترین علامت ہے۔

اسی طرح ان کی شرح نہج البلاغہ بھی اسلامی مذاہب کے درمیان اتحاد اور تقریب کی جانب ایک مؤثر قدم تھی۔ اس کتاب کے مختلف مقامات پر شیخ عبده کی حضرت علی علیہ السلام سے گہری قلبی محبت اور عقیدت نمایاں ہوتی ہے۔

اسلامی مذاہب کے فقہی مسائل میں تلفیق کے بارے میں عبده کے نظریات زیادہ تر ان کی کتاب الاسلام والنصرانیہ میں بیان ہوئے ہیں۔ عبده نے تلفیق اور فقہِ مقارن کے اصول کو پیش کرتے ہوئے اسلامی مذاہب بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ کر آزاد اجتہاد کے ذریعے اپنے تقریبی رجحانات کا اظہار کیا۔

بعد میں قائم ہونے والی جمعیت دارالتقریب کے حوالے سے بھی شیخ عبده نے مؤثر اقدامات کیے۔ ان کے کئی شاگرد بعد کے برسوں میں مفتی، رئیس الازہر اور مصر کے ممتاز علما کے منصب پر فائز ہوئے۔

شیخ محمد عبده فرقہ وارانہ اختلافات اور ایسے غیر منطقی و نقصان دہ نزاعات کے شدید مخالف تھے۔

استاد شہید مرتضیٰ مطہری شیخ محمد عبده کے بارے میں کہتے ہیں: عبده با سید جمال در دو جهت اختلاف نظر دارد؛ یکی این که سید انقلابی فکر می‌کرد و عبده طرفدار اصلاح تدریجی بود.

دیگر این که سید مبارزه با استبداد و استعمار را در رأس برنامه‌های خود قرار داده بود و معتقد بود باید اول ریشه‌های این ام‌الفساد را کند و دور انداخت. ولی عبده، لااقل در اواخر عمر و بعد از جدا شدن از سید در پاریس و بازگشت به مصر، معتقد بود که آموزش و پرورش و تربیت دینی جامعه بر تعلیم و هر حرکت سیاسی تقدم دارد.

ترجمہ: عبده اور سید جمال کے درمیان دو بنیادی امور میں اختلافِ رائے تھا۔ ایک یہ کہ سید جمال انقلابی انداز میں سوچتے تھے، جبکہ عبده تدریجی اصلاح کے حامی تھے۔ دوسرا یہ کہ سید جمال نے استبداد اور استعمار کے خلاف جدوجہد کو اپنے پروگرام میں اولین حیثیت دی تھی

اور ان کا عقیدہ تھا کہ پہلے اس فساد کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ لیکن عبده، کم از کم اپنی زندگی کے آخری دور میں، جب وہ پیرس میں سید جمال سے جدا ہو کر مصر واپس آئے، اس بات کے قائل تھے کہ معاشرے کی تعلیم و تربیت اور دینی تربیت کو ہر سیاسی تعلیم اور سیاسی تحریک پر ترجیح حاصل ہے۔

عبده کے نزدیک تعلیم و تربیت کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ وہ تربیت کو ہر چیز کی بنیاد سمجھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ہر چیز کی بنیاد تربیت پر رکھی جاتی ہے اور جو کچھ بھی وجود میں آتا ہے، وہ علم کے ذریعے وجود میں آتا ہے۔

اسی وجہ سے جب عبده پیرس میں مقیم تھے تو انہوں نے سید جمال کو مشورہ دیا کہ سیاست کو ترک کر دیں اور دونوں کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں وہ حکومتوں کی نگرانی میں نہ ہوں، اور وہاں شاگردوں کی تربیت کرکے انہیں اپنی اصلاحی تحریک کے لیے تیار کریں۔ تاہم سید جمال نے یہ تجویز قبول نہیں کی۔

بہرحال شیخ محمد عبده کے سید جمال سے اختلافات اور اصلاح پسندی کی طرف ان کی وفاداری کے باعث دینی احیا کی تحریک دو شاخوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک گروہ سید جمال کے طریقۂ کار پر قائم رہا اور عظیم انقلاب کا خواہاں تھا، جبکہ دوسرے گروہ نے عبده کے طریقے اور مسلک کی پیروی کی اور اندرونی اصلاح اور مرحلہ وار جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔

سید جمال کے بعد عالمِ اہل سنت، خصوصاً عرب معاشرے میں، جس دوسری شخصیت کا نام مصلح کی حیثیت سے لیا جاتا ہے، وہ شیخ محمد عبده ہیں، جو سید جمال الدین اسدآبادی کے شاگرد اور مرید تھے۔ عبده اپنی روح اور اپنی روحانی زندگی کو سید جمال کا مرہونِ منت سمجھتے تھے۔

شیخ محمد عبده مغرب کے ساتھ مقابلے کے سلسلے میں بھی اس عقیدے کے حامل تھے کہ حقیقی اور اصل اسلام کی طرف واپس آنا چاہیے اور اگر ایسا کیا جائے تو اسلامی معاشرے کے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

وہ فرقہ وارانہ تعصب سے پاک تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ اسلامی مذاہب بلکہ اس سے آگے بڑھ کر تمام الٰہی ادیان کو باہم متحد ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کرنا چاہیے۔

اسی وجہ سے جب وہ بیروت میں مقیم تھے تو انہوں نے وہاں ایک مرکز قائم کیا جس کا نام جمعیة التقریب بین الادیان و المذاهب رکھا۔ اس مرکز میں بہت سے علما اور ادبا شرکت کرتے تھے اور مسیحی افراد بھی ان مجالس میں شریک ہوتے تھے۔

وہ اس مرکز میں الٰہی ادیان کے اتحاد کے بارے میں گفتگو کرتے تھے۔ مذاہب اور ادیان کے درمیان تقریب کے لیے محمد عبده کی ایک اور اہم سرگرمی مجلہ عروة الوثقیٰ میں مضامین کی اشاعت تھی۔ یہ مجلہ سید جمال الدین اسدآبادی اور شیخ محمد عبده کے تعاون سے شائع ہوتا تھا۔

اس مجلے میں مسیحیت اور اسلام اور ان دونوں کے پیروکاروں، اسلامی وحدت اور ایرانی عوام کو افغانوں کے ساتھ اتحاد کی دعوت جیسے موضوعات پر مضامین شائع ہوئے۔

اصلاح پسندی اور امتِ اسلامی کی وحدت کے حوالے سے اپنی فکر کی وجہ سے شیخ محمد عبده، اگرچہ مصری معاشرے سے تعلق رکھتے تھے، لیکن ان کے سیاسی اور دینی افکار نے انہیں ایک ایسی شخصیت بنا دیا تھا جس کی فکر قومی حدود اور فرقہ وارانہ وابستگیوں سے بالاتر تھی۔

  1. Ahmed H. Al-Rahim (January 2006). "Islam and Liberty", Journal of Democracy 17 (1), p. 166-169