"جنگ احد" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «تصغیر|بائیں| '''جنگِ اُحد'''، یا غزوۂ اُحد ، رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلّیالله علیہ وآلہ وسلم کے مشہور غزوات میں سے ایک ہے۔ یہ جنگ کوہِ اُحد کے دامن میں، مدینہ سے تقریباً 4 کلومیٹر شمال ک...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 46: | سطر 46: | ||
رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جنگی لباس پہن لے اور جنگ کیے بغیر اسے اتار دے۔ اب دیکھو کہ جو کچھ میں کہتا ہوں اسے انجام دو، اور اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔ اگر تم صبر کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے <ref>تاریخ پیامبر اسلام ،محمد ابراهیم آیتى، ص ۳۱۰</ref>۔ | رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جنگی لباس پہن لے اور جنگ کیے بغیر اسے اتار دے۔ اب دیکھو کہ جو کچھ میں کہتا ہوں اسے انجام دو، اور اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔ اگر تم صبر کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے <ref>تاریخ پیامبر اسلام ،محمد ابراهیم آیتى، ص ۳۱۰</ref>۔ | ||
== پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میدان جنگ کی طرف حرکت == | |||
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہزار مسلمان مجاہدین کے لشکر کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے <ref>ابن هشام، السیرة النبویة، ج۲، ص۶۳</ref>۔ اور مدینہ اور احد کے درمیان واقع مقام شیخان میں رات بسر کی اور صبح کے وقت وہاں سے روانہ ہوئے۔ | |||
ابھی مسلمان لشکر احد کے قریب پہنچا ہی تھا کہ عبداللہ بن ابی نے اس وجہ سے کہ مسلمانوں نے مدینہ ہی میں قیام کرنے کے اس کے مشورے کو قبول نہیں کیا تھا، اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیا <ref>عروه، ص۱۶۹، زهری، المغازی النبویة، ص۷۷</ref>۔ | |||
اس طرح مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار سے کم ہو کر سات سو رہ گئی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کو منظم کیا، پہاڑ احد کو اپنے پیچھے رکھا اور عبداللہ بن جبیر کی قیادت میں تیر اندازوں کے ایک دستے کو پہاڑ عینین پر تعینات فرمایا جو پہاڑ احد کے بائیں جانب واقع تھا۔ | |||
مشرکین نے بھی اپنی صفیں درست کرلیں۔ ان کے دائیں جانب خالد بن ولید اور بائیں جانب عکرمہ بن ابوجہل سپہ سالار تھے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ شروع ہونے سے پہلے خطبہ ارشاد فرمایا اور تیر اندازوں کو تاکید کی کہ وہ مسلمانوں کی پشت کی حفاظت کریں اور کسی بھی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔ | |||
== مسلمانوں کی فتح اور شکست == | |||
اس جنگ کا ابتدائی نتیجہ مشرکین کی شکست کی صورت میں سامنے آیا۔ جنگ کے آغاز میں مشرکین کے ایک جنگجو طلحہ بن ابی طلحہ نے مبارز طلب کیا تو امام علی علیہ السلام اس کے مقابلے کے لیے آگے بڑھے اور بالآخر اسے خاک میں ملا دیا۔ | |||
اس پہلی فتح پر مسلمان خوش ہوئے اور تکبیر کہتے ہوئے یکبارگی مشرکین کی صفوں پر حملہ کردیا۔ مسلمانوں نے بہت جلد غلبہ حاصل کرلیا اور مشرکین فرار ہونے لگے۔ لیکن تیر اندازوں کے ایک گروہ نے، جنہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن جبیر کی قیادت میں پہاڑ احد کے بائیں جانب پہاڑ عینین پر مقرر فرمایا تھا، فتح ہوجانے کا گمان کرتے ہوئے اپنی جگہ چھوڑ دی۔ | |||
مشرکین نے اسی راستے سے گزر کر مسلمانوں کی پشت پر حملہ کردیا اور انہیں شکست سے دوچار کردیا۔ | |||
شیخ مفید نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ مسلمانوں کی پریشانی اس حد تک پہنچ گئی کہ سب لوگ فرار ہوگئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف علی بن ابی طالب علیہ السلام باقی رہ گئے۔ | |||
پھر چند افراد، جن میں سب سے پہلے عاصم بن ثابت، ابودجانہ اور سہل بن حنیف شامل تھے، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے۔ | |||
== امیرالمومنین علیہ السلام کا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع == | |||
جب مسلمان فرار ہونے لگے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہوئے اور اپنے اطراف میں دیکھا۔ آپ نے علی علیہ السلام کو اپنے پاس موجود پایا اور فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا کہ اپنے والد کے بیٹوں کے ساتھ نہیں گئے۔ | |||
علی علیہ السلام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، کیا ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائیں۔ آپ میرے لیے نمونہ ہیں <ref>بحار الانوار، ۲۰/ ۹۵، ۱۰۷؛ روضه کافى، ۱۱۰</ref>۔ | |||
اصحاب کے شہید ہوجانے اور دوسرے مسلمانوں کے فرار کے بعد مشرکین کے مختلف دستے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یورش لے کر آئے۔ | |||
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کہ علی، ان لوگوں کو مجھے سے دور کرو۔ علی علیہ السلام مشرکین کے مختلف گروہوں پر حملہ کرتے، انہیں منتشر کرتے اور بعض کو ہلاک کرتے تھے۔ | |||
مشرکین گھوڑوں پر سوار تھے جبکہ علی علیہ السلام پیدل تھے۔ آپ نے اتنی شدت سے جنگ کی کہ مشرکین منتشر ہوجاتے، پھر دوبارہ جمع ہوتے اور علی علیہ السلام مسلسل اپنی تلوار کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے رہتے۔ | |||
جبرئیل علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اے محمد، یہ مواسات ہے اور فرشتے اس جوانمرد کی مواسات پر حیران ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مواسات سے کون روک سکتا ہے، جبکہ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ میں بھی آپ دونوں سے ہوں۔ | |||
کہا جاتا ہے کہ اس رات آسمان کی جانب سے ایک ندا سنائی دی، حالانکہ کوئی شخص دکھائی نہیں دے رہا تھا، اور کئی مرتبہ یہ کلمات بلند ہوئے کہ :'''لا فتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار'''۔ لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ یہ کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جبرئیل ہیں۔ | |||
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ احد کے دن بہت سے زخم برداشت کیے۔ انس بن مالک نے بیان کیا کہ اس دن علی علیہ السلام کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا جبکہ ان کے بدن پر نیزوں، تلواروں اور تیروں کے ساٹھ سے زیادہ زخم تھے <ref>شرح نهجالبلاغه، ۱۴/ ۲۵۰- ۲۵۱؛ ۱۳/ ۲۹۳</ref>۔ | |||
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان زخموں پر اپنا دست مبارک پھیرتے تو وہ اس طرح مندمل ہوجاتے گویا وہاں کوئی زخم تھا ہی نہیں <ref>بحار الانوار، ۲۰/ ۲۳؛ مجمع البیان، ۲/ ۵۰۹</ref>۔ | |||
== جنگ میں خواتین کی شرکت == | |||
جنگ احد کے بعد [[حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا|فاطمہ سلام اللہ علیہا]] کو اطلاع دی گئی کہ ان کے والد جنگ میں زخمی ہوگئے ہیں اور ایک پتھر آپ کے چہرہ مبارک پر لگا ہے جس سے چہرہ خون آلود ہوگیا ہے۔ | |||
فاطمہ سلام اللہ علیہا چند خواتین کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ وہ پانی اور کھانے پینے کی اشیا اپنی پشت پر اٹھا کر میدان جنگ پہنچیں۔ خواتین زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں اور ان کے زخموں پر پٹیاں باندھتی تھیں۔ | |||
فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے والد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخم کو دھو رہی تھیں، لیکن خون مسلسل جاری تھا۔ آپ نے بوریا کا ایک ٹکڑا جلایا اور اس کی راکھ زخم پر رکھ دی تاکہ خون بہنا بند ہوجائے <ref>شهیدی، زندگانی فاطمه زهرا، ص ۷۸</ref>۔ واقدی نے خواتین کی تعداد چودہ بیان کی ہے۔ | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
{{حوالہ جات}} | {{حوالہ جات}} | ||
نسخہ بمطابق 23:16، 2 ستمبر 2026ء

جنگِ اُحد، یا غزوۂ اُحد ، رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلّیالله علیہ وآلہ وسلم کے مشہور غزوات میں سے ایک ہے۔ یہ جنگ کوہِ اُحد کے دامن میں، مدینہ سے تقریباً 4 کلومیٹر شمال کی جانب، ہفتہ کے دن 7 شوال، سنہ 3 ہجری کو مشرکینِ قریش اور اسلامی لشکر کے درمیان پیش آئی۔ قریش نے جنگ بدر میں اپنی شکست کا بدلہ لینے اور اپنے مقتولین کا انتقام لینے کے لیے ابوسفیان کی قیادت میں تین ہزار جنگجو، دو سو گھوڑے اور ایک ہزار اونٹ، نیز عورتوں کے ایک گروہ کے ہمراہ، جن میں ہند جگر خوار بھی شامل تھی، مسلمانوں سے جنگ کرنے کے ارادے سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ دس دن کے سفر کے بعد مدینہ کے شمال میں واقع کوہِ اُحد کے دامن میں، جو ایک خوش آب و ہوا مقام تھا، خیمے لگا کر ٹھہر گئے۔ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے ذریعے قریش کی نقل و حرکت کی اطلاع مل چکی تھی۔ آپؐ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے کے بعد جنگ کی تیاری فرمائی اور ایک ہزار مسلمانوں کے ہمراہ مدینہ سے باہر تشریف لے گئے۔ لیکن راستے میں مدینہ کے منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبی اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں کی صفوں سے الگ ہوگئے اور مدینہ واپس لوٹ گئے۔
مشرکین کی مدینہ کی طرف لشکر کشی
سنہ 3 ہجری میں، غزوۂ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کو ہونے والی سخت شکست کے ایک سال بعد، قریش نے ابوسفیان کی قیادت میں بدر میں مارے جانے والے اپنے مقتولین کا بدلہ لینے کے لیے رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف ایک اور جنگ کی تیاری شروع کی۔ ابوسفیان نے عمرو بن عاص، ابن زبعری اور ابوعزّہ جیسے افراد کو دوسرے قبائل کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آمادہ کیا [1]۔
اس جنگ کے لیے وہ تقریباً تین ہزار افراد پر مشتمل لشکر کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ واقدی کی روایت کے مطابق، رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبا میں، جو مدینہ کے قریب ایک مقام ہے، تشریف فرما تھے کہ آپؐ کو اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے ایک خفیہ خط کے ذریعے مشرکین کے جنگ کے لیے روانہ ہونے کی اطلاع ملی۔
البتہ دیگر روایات میں اس خط کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ پانچ شوال کو مشرکین عُریض پہنچے، جو اُحد کے قریب ایک علاقہ تھا۔ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کے ذریعے ان کی تعداد اور جنگی سازوسامان کے بارے میں معلومات حاصل کر لیں۔
اوس و خزرج کے بعض بزرگ، جیسے سعد بن معاذ، اسید بن حضیر اور سعد بن عبادہ، ایک گروہ کے ساتھ مشرکین کے حملے کے خوف سے جمعہ کی صبح تک مسجد میں پہرہ دیتے رہے [2]۔
جنگِ اُحد کے بارے میں رسولِ خدا کا خواب
واقدی لکھتے ہیں کہ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک مضبوط زرہ میں محفوظ ہوں، میری تلوار ذوالفقار قبضے کے مقام سے ٹوٹ گئی اور اس میں شگاف پڑ گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ایک بیل ذبح کیا گیا اور میں اپنے پیچھے ایک مینڈھا کھینچ رہا ہوں۔
لوگوں نے پوچھا: آپ اس خواب کی کیا تعبیر فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: مضبوط زرہ سے مراد مدینہ کا شہر ہے، لہٰذا تم اسی میں رہو۔ میری تلوار کا ٹوٹنا اس غم اور مصیبت کی علامت ہے جو مجھے پہنچے گی۔ جس بیل کو ذبح کیا گیا۔
اس سے مراد میرے بعض اصحاب کا شہید ہونا ہے، اور جس مینڈھے کو میں اپنے پیچھے کھینچ رہا تھا، اس سے مراد دشمن اور اس کا لشکر ہے، جسے ان شاء اللہ ہم قتل کریں گے۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: میری تلوار میں شگاف پڑنے سے مراد میرے خاندان کے ایک فرد کا شہید ہونا ہے [3]۔
رسولِ خدا کا اصحاب سے مشورہ
رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دیکھے ہوئے خواب کی وجہ سے مدینہ سے باہر نکلنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ آپؐ نے اس بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا اور فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو ہم مدینہ ہی میں رہتے ہیں اور دشمن کو جہاں اس نے پڑاؤ ڈالا ہے وہیں رہنے دیتے ہیں۔
اگر وہ وہیں ٹھہرتے ہیں تو انہیں دشواری کا سامنا ہوگا، اور اگر وہ مدینہ پر حملہ کرتے ہیں تو ہم شہر کے اندر ان سے جنگ کریں گے۔ عبداللہ بن اُبی بن سلول اور مہاجرین و انصار کے بزرگوں کی بھی یہی رائے تھی [4]۔
لیکن وہ لوگ جو جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے، اور بعض پرجوش نوجوان جنہوں نے جنگِ بدر کی فتح کا مزہ چکھا تھا، نیز حمزہ بن عبدالمطلب، مدینہ سے باہر نکل کر دشمن سے جنگ کرنے کے خواہاں تھے۔ وہ اپنی رائے پر اصرار کرتے رہے۔
ان میں سے بعض نے کہا: یہ قریش کے گھوڑے اور اونٹ ہیں جو ہماری کھیتیوں اور فصلوں کو کھا رہے ہیں اور ہمارے کھیتوں میں فساد اور تباہی پھیلا رہے ہیں۔ وہ اپنی رائے کی صحت ثابت کرنے کے لیے یہ دلیل بھی دیتے تھے کہ اگر مسلمان شہر کے اندر مقیم رہے تو دشمن یہ سمجھے گا کہ مسلمان خوف زدہ ہو گئے ہیں، جس سے وہ اسلامی لشکر کے مقابلے میں مزید دلیر ہو جائے گا۔
وہ کہتے تھے: بدر کے موقع پر آپ کے پاس صرف تین سو جنگجو تھے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو دشمن پر فتح عطا فرمائی۔ اب تو آپ کے ماتحت بہت بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔ یہ ایسا موقع ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔
جب اکثر لوگ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کے خواہاں ہوئے تو رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اکثریت کی رائے قبول فرما لی [5]۔
اس کے بعد آپؐ گھر تشریف لے گئے تاکہ جنگی لباس زیب تن کریں۔ اسی دوران وہ لوگ جنہوں نے اپنی رائے منوانے پر اصرار کیا تھا، اس بات پر پشیمان ہوئے کہ انہوں نے اپنی رائے رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مسلط کیوں کی۔
کیونکہ آپؐ اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے کے مطابق سب لوگوں سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم آسمان سے آپؐ پر نازل ہوتا ہے [6]۔
چنانچہ وہ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمیں یہ حق نہیں تھا کہ ہم رسولِ خدا کو ایسے کام پر مجبور کریں جسے آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔ اب اگر آپ چاہیں تو مدینہ ہی میں قیام فرمائیں۔
رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جنگی لباس پہن لے اور جنگ کیے بغیر اسے اتار دے۔ اب دیکھو کہ جو کچھ میں کہتا ہوں اسے انجام دو، اور اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔ اگر تم صبر کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے [7]۔
پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میدان جنگ کی طرف حرکت
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہزار مسلمان مجاہدین کے لشکر کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے [8]۔ اور مدینہ اور احد کے درمیان واقع مقام شیخان میں رات بسر کی اور صبح کے وقت وہاں سے روانہ ہوئے۔
ابھی مسلمان لشکر احد کے قریب پہنچا ہی تھا کہ عبداللہ بن ابی نے اس وجہ سے کہ مسلمانوں نے مدینہ ہی میں قیام کرنے کے اس کے مشورے کو قبول نہیں کیا تھا، اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیا [9]۔
اس طرح مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار سے کم ہو کر سات سو رہ گئی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کو منظم کیا، پہاڑ احد کو اپنے پیچھے رکھا اور عبداللہ بن جبیر کی قیادت میں تیر اندازوں کے ایک دستے کو پہاڑ عینین پر تعینات فرمایا جو پہاڑ احد کے بائیں جانب واقع تھا۔
مشرکین نے بھی اپنی صفیں درست کرلیں۔ ان کے دائیں جانب خالد بن ولید اور بائیں جانب عکرمہ بن ابوجہل سپہ سالار تھے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ شروع ہونے سے پہلے خطبہ ارشاد فرمایا اور تیر اندازوں کو تاکید کی کہ وہ مسلمانوں کی پشت کی حفاظت کریں اور کسی بھی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔
مسلمانوں کی فتح اور شکست
اس جنگ کا ابتدائی نتیجہ مشرکین کی شکست کی صورت میں سامنے آیا۔ جنگ کے آغاز میں مشرکین کے ایک جنگجو طلحہ بن ابی طلحہ نے مبارز طلب کیا تو امام علی علیہ السلام اس کے مقابلے کے لیے آگے بڑھے اور بالآخر اسے خاک میں ملا دیا۔
اس پہلی فتح پر مسلمان خوش ہوئے اور تکبیر کہتے ہوئے یکبارگی مشرکین کی صفوں پر حملہ کردیا۔ مسلمانوں نے بہت جلد غلبہ حاصل کرلیا اور مشرکین فرار ہونے لگے۔ لیکن تیر اندازوں کے ایک گروہ نے، جنہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن جبیر کی قیادت میں پہاڑ احد کے بائیں جانب پہاڑ عینین پر مقرر فرمایا تھا، فتح ہوجانے کا گمان کرتے ہوئے اپنی جگہ چھوڑ دی۔
مشرکین نے اسی راستے سے گزر کر مسلمانوں کی پشت پر حملہ کردیا اور انہیں شکست سے دوچار کردیا۔ شیخ مفید نے ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ مسلمانوں کی پریشانی اس حد تک پہنچ گئی کہ سب لوگ فرار ہوگئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف علی بن ابی طالب علیہ السلام باقی رہ گئے۔
پھر چند افراد، جن میں سب سے پہلے عاصم بن ثابت، ابودجانہ اور سہل بن حنیف شامل تھے، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے۔
امیرالمومنین علیہ السلام کا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع
جب مسلمان فرار ہونے لگے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہوئے اور اپنے اطراف میں دیکھا۔ آپ نے علی علیہ السلام کو اپنے پاس موجود پایا اور فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا کہ اپنے والد کے بیٹوں کے ساتھ نہیں گئے۔
علی علیہ السلام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، کیا ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائیں۔ آپ میرے لیے نمونہ ہیں [10]۔ اصحاب کے شہید ہوجانے اور دوسرے مسلمانوں کے فرار کے بعد مشرکین کے مختلف دستے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یورش لے کر آئے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کہ علی، ان لوگوں کو مجھے سے دور کرو۔ علی علیہ السلام مشرکین کے مختلف گروہوں پر حملہ کرتے، انہیں منتشر کرتے اور بعض کو ہلاک کرتے تھے۔
مشرکین گھوڑوں پر سوار تھے جبکہ علی علیہ السلام پیدل تھے۔ آپ نے اتنی شدت سے جنگ کی کہ مشرکین منتشر ہوجاتے، پھر دوبارہ جمع ہوتے اور علی علیہ السلام مسلسل اپنی تلوار کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے رہتے۔
جبرئیل علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اے محمد، یہ مواسات ہے اور فرشتے اس جوانمرد کی مواسات پر حیران ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مواسات سے کون روک سکتا ہے، جبکہ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ میں بھی آپ دونوں سے ہوں۔
کہا جاتا ہے کہ اس رات آسمان کی جانب سے ایک ندا سنائی دی، حالانکہ کوئی شخص دکھائی نہیں دے رہا تھا، اور کئی مرتبہ یہ کلمات بلند ہوئے کہ :لا فتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار۔ لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ یہ کون ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جبرئیل ہیں۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ احد کے دن بہت سے زخم برداشت کیے۔ انس بن مالک نے بیان کیا کہ اس دن علی علیہ السلام کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا جبکہ ان کے بدن پر نیزوں، تلواروں اور تیروں کے ساٹھ سے زیادہ زخم تھے [11]۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان زخموں پر اپنا دست مبارک پھیرتے تو وہ اس طرح مندمل ہوجاتے گویا وہاں کوئی زخم تھا ہی نہیں [12]۔
جنگ میں خواتین کی شرکت
جنگ احد کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اطلاع دی گئی کہ ان کے والد جنگ میں زخمی ہوگئے ہیں اور ایک پتھر آپ کے چہرہ مبارک پر لگا ہے جس سے چہرہ خون آلود ہوگیا ہے۔
فاطمہ سلام اللہ علیہا چند خواتین کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ وہ پانی اور کھانے پینے کی اشیا اپنی پشت پر اٹھا کر میدان جنگ پہنچیں۔ خواتین زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں اور ان کے زخموں پر پٹیاں باندھتی تھیں۔
فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے والد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زخم کو دھو رہی تھیں، لیکن خون مسلسل جاری تھا۔ آپ نے بوریا کا ایک ٹکڑا جلایا اور اس کی راکھ زخم پر رکھ دی تاکہ خون بہنا بند ہوجائے [13]۔ واقدی نے خواتین کی تعداد چودہ بیان کی ہے۔
حوالہ جات
- ↑ ابن اسحاق، السیر و المغازی، ص۳۲۳-۳۲۲
- ↑ ترجمه مغازی، ص ۱۵۲
- ↑ ترجمه مغازی، ص ۱۵۲
- ↑ تاریخ پیامبر اسلام ،محمد ابراهیم آیتى، ص۳۰۹
- ↑ السیرةالنبویه، ابنکثیر، ج ۲، ص ۳۲۹؛ الصحیح من سیره، ج ۶، ص ۱۰۶
- ↑ سیره ابن هشام، ۳/ ۶۷- ۶۸
- ↑ تاریخ پیامبر اسلام ،محمد ابراهیم آیتى، ص ۳۱۰
- ↑ ابن هشام، السیرة النبویة، ج۲، ص۶۳
- ↑ عروه، ص۱۶۹، زهری، المغازی النبویة، ص۷۷
- ↑ بحار الانوار، ۲۰/ ۹۵، ۱۰۷؛ روضه کافى، ۱۱۰
- ↑ شرح نهجالبلاغه، ۱۴/ ۲۵۰- ۲۵۱؛ ۱۳/ ۲۹۳
- ↑ بحار الانوار، ۲۰/ ۲۳؛ مجمع البیان، ۲/ ۵۰۹
- ↑ شهیدی، زندگانی فاطمه زهرا، ص ۷۸