مندرجات کا رخ کریں

"زکات" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
سطر 17: سطر 17:
شرعی اصطلاح میں زکوٰۃ سے مراد مخصوص اموال میں سے ایک معین مقدار کا واجب ادا کرنا ہے جب وہ ایک خاص حدِ نصاب تک پہنچ جائیں۔ اس فریضے کو زکوٰۃ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس سے مال میں برکت کی امید ہوتی ہے، یا یہ انسانی نفس کے تزکیے اور پاکیزگی کا سبب بنتی ہے<ref> تبیین اللغات لتبیان الایات، محمد قریب، ج ۱، باب زکوٰۃ </ref>۔
شرعی اصطلاح میں زکوٰۃ سے مراد مخصوص اموال میں سے ایک معین مقدار کا واجب ادا کرنا ہے جب وہ ایک خاص حدِ نصاب تک پہنچ جائیں۔ اس فریضے کو زکوٰۃ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس سے مال میں برکت کی امید ہوتی ہے، یا یہ انسانی نفس کے تزکیے اور پاکیزگی کا سبب بنتی ہے<ref> تبیین اللغات لتبیان الایات، محمد قریب، ج ۱، باب زکوٰۃ </ref>۔


زکوٰۃ کا ایک عام معنی بھی ہے جو دوسروں کی تمام [[واجب]] اور [[مستحب]] مالی مدد پر بولا جاتا ہے۔ چونکہ قرآن مجید میں زکوٰۃ کے لیے لفظ [[صدقہ]] بھی استعمال ہوا ہے، اس لیے زکوٰۃِ واجب کے لیے اصطلاحاً "صدقہ واجبہ" کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ مستحب صدقات سے ممتاز ہو سکے۔
زکوٰۃ کا ایک عام معنی بھی ہے جو دوسروں کی تمام واجب اور مستحب مالی مدد پر بولا جاتا ہے۔ چونکہ قرآن مجید میں زکوٰۃ کے لیے لفظ صدقہ بھی استعمال ہوا ہے، اس لیے زکوٰۃِ واجب کے لیے اصطلاحاً "صدقہ واجبہ" کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ مستحب صدقات سے ممتاز ہو سکے۔


== زکوٰۃ قرآن میں ==
== زکوٰۃ قرآن میں ==

نسخہ بمطابق 13:19، 31 اگست 2026ء

زکوٰۃ دین اسلام کے مالی واجبات میں سے ہے جس کی رو سے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ۹ مخصوص اشیاء میں سے ایک معین مقدار غرباء کی زندگی اور دیگر عمومی و سماجی امور میں خرچ کرنے کے لیے ادا کریں۔ یہ ۹ اشیاء درج ذیل ہیں: نقدین (سونا اور چاندی)، انعام ثلاثہ (گائے، بھیڑ/بکری اور اونٹ) اور غلات اربعہ (گندم، جو، کشمش اور کھجور)۔ ان میں سے ہر ایک جنس کی ادا کی جانے والی مقدار مختلف ہے جو کہ فقہ[1] میں بیان کی گئی ہے۔

زکوٰۃ اہم ترین واجبات میں سے ہے اور اس پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ زکوٰۃ کا شمار فروع دین میں ہوتا ہے اور دینی منابع میں یہ نماز اور جہاد کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور دین کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ اس دینی فریضے کا تذکرہ قرآن کی ۵۹ آیات اور تقریباً ۲۰۰۰ روایات میں آیا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر زکوٰۃ کے لیے لفظِ صدقہ استعمال کیا گیا ہے اور فقہ میں زکوٰۃ کو "صدقہ واجبہ" کہا جاتا ہے۔

زکوٰۃ کی دو قسمیں ہیں: زکوٰۃِ بدن جو کہ وہی فطرہ ہے اور عید الفطر کے دن ادا کیا جاتا ہے، اور زکوٰۃِ مال جو مخصوص شرائط کے تحت چاروں غلوں، مویشیوں اور سکوں پر واجب ہوتی ہے۔

زکوٰۃ کا لغوی معنی

زکوٰۃ، مادہ «ز ک و» سے مشتق ہے جو نمو، بڑھوتری، پاکیزگی اور زیادتی پر دلالت کرتا ہے[2]۔ خلیل بن احمد زکوٰۃ کے لغوی معنی کے بارے میں لکھتے ہیں: مال کی زکوٰۃ کا مطلب اسے پاک کرنا ہے، اور جملہ «زکا الزرع یزکو زکاء» سے مراد کھیتی اور فصل کا پروان چڑھنا اور بڑھنا ہے[3]۔ راغب اصفہانی زکوٰۃ کی اصل اس نشو و نما کو قرار دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی برکت سے حاصل ہوتی ہے[4] اور علامہ سید محمد حسین طباطبائی زکوٰۃ کا لغوی معنی "تطہیر" (پاکیزگی) بیان کرتے ہیں[5]۔

زکوٰۃ کا مفہوم

«زکوٰۃ» لغت میں نمو اور بڑھوتری کے معنی میں ہے، «زَکا الزَّرْعُ» یعنی کھیتی بڑھی اور پاک ہوئی۔ جی ہاں، انگور کی بیل کی چھانتائی بظاہر شاخوں کو چھوٹا کرنا ہے، لیکن درحقیقت یہ اس کی نشو و نما کا سبب بنتی ہے۔

شریعتِ اسلام میں زکوٰۃ مال کے صدقہ واجبہ کا نام ہے۔ اور زکوٰۃ دینے والے زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعے خدائے سبحان کے ہاں پاکیزگی پاتے ہیں، اور خداوند متعال کا یہ ارشاد اسی معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ: «خُذْ مِنْ امْوالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَکیهِمْ بِها...»؛[6]۔ (اے رسول!) آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجیے تاکہ اس کے ذریعے آپ انہیں پاک اور پاکیزہ بنائیں[7]۔

زکوٰۃ کا اصطلاحی معنی

شرعی اصطلاح میں زکوٰۃ سے مراد مخصوص اموال میں سے ایک معین مقدار کا واجب ادا کرنا ہے جب وہ ایک خاص حدِ نصاب تک پہنچ جائیں۔ اس فریضے کو زکوٰۃ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس سے مال میں برکت کی امید ہوتی ہے، یا یہ انسانی نفس کے تزکیے اور پاکیزگی کا سبب بنتی ہے[8]۔

زکوٰۃ کا ایک عام معنی بھی ہے جو دوسروں کی تمام واجب اور مستحب مالی مدد پر بولا جاتا ہے۔ چونکہ قرآن مجید میں زکوٰۃ کے لیے لفظ صدقہ بھی استعمال ہوا ہے، اس لیے زکوٰۃِ واجب کے لیے اصطلاحاً "صدقہ واجبہ" کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ مستحب صدقات سے ممتاز ہو سکے۔

زکوٰۃ قرآن میں

زکوٰۃ ان عبادات میں سے ہے جس کی ادائیگی کے لیے قصدِ قربت شرط ہے اور یہ انسانی روح پر گہرے تربیتی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسی لیے قرآن کریم رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دینے کے بعد اس کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: آپ اس عمل کے ذریعے انہیں پاکیزہ بناتے ہیں اور ان کا تزکیہ و نشو و نما کرتے ہیں؛ «خُذ من اموالهم صدقة تطهّرهم و تزکیهم بها»[9]۔ "آپ انہیں اخلاقی برائیوں، دنیا پرستی اور دنیا کی محبت سے پاک کرتے ہیں اور ان میں نوع پروری، سخاوت اور مستمندوں کے حقوق کی پاسداری کے پودے کی آبیاری کرتے ہیں"۔ اگر مسلمان اس الٰہی فریضے کو قائم کریں تو اسلامی معاشروں سے غربت اور ناداری کا خاتمہ ہو جائے گا۔

قرآن مجید میں لفظِ زکوٰۃ اپنے تمام مشتقات کے ہمراہ ۵۹ مرتبہ، ۲۹ سورتوں اور ۵۶ آیات میں آیا ہے، جن میں سے ۲۷ مقامات پر یہ نماز کے ہمراہ ذکر ہوا ہے۔ بلکہ سچے نمازیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ: وہ وہ لوگ ہیں جن کے اموال میں سائل اور محروم کے لیے ایک معلوم حق ہے۔ دوسری جانب کلمہ زکوٰۃ اور برکت اور ان سے متعلقہ الفاظ قرآن میں ۳۲ مرتبہ وارد ہوئے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ برکت کے مساوی ہے۔

مجموعی طور پر قرآن کریم میں زکوٰۃ سے متعلق آیات درج ذیل موضوعات پر مشتمل ہیں:

  1. آیات کا ایک گروہ اصل زکوٰۃ کو بیان کرتا ہے اور اسے نماز کے برابر قرار دیتا ہے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کو اقامتِ نماز کی طرح واجب اور شعائرِ دین و علاماتِ ایمان میں شمار کرتا ہے۔
  2. وہ آیات جو زکوٰۃ دینے کا امر فرماتی ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت قرار دیتی ہیں؛ نمونے کے طور پر: سورہ احزاب آیت ۳۳؛ سورہ مجادلہ آیت ۱۳۔
  3. بعض آیات اس عبادی اور اقتصادی فریضے کی اصل تشریع کو بیان کرتی ہیں اور اس بارے میں خاموش ہیں کہ کتنی مقدار لی جائے اور کس چیز سے نہ لی جائے۔
  4. بعض آیات مصارفِ زکوٰۃ کو تفصیلاً شمار کرتی ہیں اور امتِ مسلمہ کی قیادت پر لازم ہے کہ وہ وصول شدہ زکوٰۃ کو انہی مصارف میں خرچ کرے۔ (مصارفِ زکوٰۃ کے تعین میں اکثر مفسرین نے سورہ توبہ کی آیت ۶۰ سے استدلال کیا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے)۔
  5. بعض آیات زکوٰۃ نہ دینے والوں کو کفار کی صف میں شمار کرتی ہیں، جیسے سورہ فصلت کی آیت ۷۔

علامہ طباطبائی (رحمۃ اللہ علیہ) نے آیت «خُذ مِن اموالهم صدقة تطهرهم و تزکیهم بها...» [10] کو وجوبِ زکوٰۃ کی آیت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: "یہ آیتِ مبارکہ مالی زکوٰۃ کے حکم پر مشتمل ہے، جو خود شریعت اور دینِ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے؛ آیت کا ظاہری مفہوم بھی اس پر دلالت کرتا ہے اور وہ کثیر احادیث بھی جو ائمہ (علیہم السلام) اور دیگر طریقوں سے منقول ہوئی ہیں"[11]۔

زکوٰۃ روایات میں

زکوٰۃ اسلام کا پل ہے

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشادِ گرامی ہے: «الزَّکاةُ قَنْطَرَةُ الْاسْلامِ فَمَنْ ادَّاها جازَ الْقَنْطَرَةَ وَ مَنْ مَنَعَهَا احْتَبَسَ دُوْنَها وَ هِیَ تُطْفِیءُ غَضَبَ الرَّبِّ؛ زکوٰۃ اسلام کا پُل ہے، پس جس نے اسے ادا کیا وہ پل سے گزر گیا اور جس نے اسے روکا وہ اس کے نیچے قید ہو جائے گا، اور زکوٰۃ پروردگار کے غضب کو ٹھنڈا کرتی ہے»[12]۔

زکوٰۃ اور نماز کا تقارن

امام محمد باقر (علیہ السلام)[13] سے مروی ہے کہ خداوند تبارک و تعالی نے نماز اور زکوٰۃ کو ایک دوسرے کے ساتھ قرین قرار دیا ہے اور فرمایا: «وَأَقیمُوا الصَّلاةَ وَ آتَوُا الزَّکاةَ»؛ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، پس جو شخص نماز قائم کرتا ہے لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، گویا اس نے نماز بھی قائم نہیں کی[14]۔

زکوٰۃ دولت مندوں کی آزمائش کا ذریعہ

امام جعفر صادق (علیہ السلام) [15] زکوٰۃ کے بارے میں فرماتے ہیں: "بیشک اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو مالداروں کی آزمائش اور فقراء کی مدد کے لیے مقرر فرمایا ہے، اور اگر لوگ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے تو کوئی مسلمان فقیر اور محتاج نہ رہتا، اور وہ اس چیز کے ذریعے بے نیاز ہو جاتا جو اللہ نے واجب کی ہے؛ اور لوگ فقیر، محتاج، بھوکے اور بے لباس نہیں ہوتے مگر دولت مندوں کے گناہوں کی وجہ سے"[16]۔

زکوٰۃ نہ دینا ہلاکت کا سبب

امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے اس امت پر زکوٰۃ سے زیادہ سخت کوئی چیز واجب نہیں کی، اور امتوں کی اکثر ہلاکتیں اسی کو ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہیں"[17]۔

زکوٰۃ نہ دینا شرک کے برابر

رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھا کر فرمایا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں مشرک کے سوا کوئی خیانت نہیں کرتا[18]۔

زکوٰۃ نہ دینا کفر کے مترادف

اور آپ (ص) نے یہ بھی فرمایا: یا علی! میری امت کے دس گروہ کافر ہو جائیں گے، جن میں سے ایک گروہ وہ ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا: "اے لوگو! اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو۔ پس جو شخص زکوٰۃ ادا نہ کرے، اس کی نہ کوئی نماز ہے، نہ حج اور نہ ہی جہاد"[19]۔

دیگر روایات میں آیا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنا سخاوت کی علامت اور اسے روکنا بخل کا مظہر ہے۔ اسی طرح اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ دینے والے کے مال میں ہرگز کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، اور نہ ہی اسے روکنے والے کے مال میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ثروت مند افراد زکوٰۃ ادا کر کے اپنے اموال کا بیمہ (تحفظ) کرتے ہیں، اور ایک روایت کے مطابق اگر خشکی یا تری میں کوئی مال ضائع ہوتا ہے تو اس کی وجہ زکوٰۃ کی عدم ادائیگی میں تلاش کرنی چاہیے[20]۔

زکوٰۃ کا فلسفہ اور وجوب کی وجوہات

زکوٰۃ ضروریاتِ دین میں سے ہے اور اس کی اہمیت کے لیے یہی کافی ہے کہ قرآن مجید میں بارہا نماز کے ساتھ اس کے وجوب کی تصریح کی گئی ہے[21]۔ معصومین (علیہم السلام) کی روایات میں بھی اس کی کڑی تاکید کی گئی ہے اور جو لوگ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے انہیں بے دین شمار کیا گیا ہے[22]۔

زکوٰۃ کی ادائیگی کا فلسفہ اسلامی معاشرے سے غربت کا خاتمہ ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اگر مسلمان اس حیات بخش حکم پر بخوبی عمل کریں تو اسلامی معاشرے میں کوئی فقیر باقی نہیں رہے گا۔

عبد اللہ بن سنان امام صادق (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "اللہ عز و جل نے زکوٰۃ کو نماز کی طرح فرض اور مقرر فرمایا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص زکوٰۃ اٹھا کر لائے اور اعلانیہ و آشکارا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں؛ اور یہ اس لیے ہے کہ خدائے عز و جل نے فقراء کی ضروریات کو اغنیاء کے اموال میں مقدر و مقرر فرمایا ہے، اور اگر وہ جانتا کہ یہ معین و مفروض مقدار ان کے لیے ناکافی ہے تو یقیناً ان کے لیے اس میں اضافہ فرما دیتا۔ چنانچہ فقراء کو جو بھی تنگی اور معاشی سختی پیش آتی ہے وہ اغنیاء کی جانب سے ان کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہے، نہ کہ زکوٰۃ کی مقدار کے ناکافی ہونے کی وجہ سے"۔

اور مبارک عقرقوفی نے امام موسی بن جعفر (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: "بیشک زکوٰۃ کو فقراء کے رزق اور اغنیاء کے اموال میں اضافے کے لیے مقرر کیا گیا ہے"[23]۔

خمس اور زکوٰۃ کا موازنہ

زکوٰۃ، خمس اور دیگر واجب و مستحب انفاقات کی ادائیگی مسلمانوں کے معاشی فرائض میں سے ہے۔ ان مالی فرائض کی بجا آوری اخلاقی تربیت کے علاوہ معاشرے کے افراد میں دولت کی منصفانہ تقسیم، توازن اور سماجی انصاف کے قیام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم خمس اور زکوٰۃ میں ان کے متعلقہ اموال، وجوب کی شرائط اور مصارف کے اعتبار سے باہمی فرق پایا جاتا ہے۔

فقہ اسلامی میں خمس

انسان کے ام زکوٰۃ کو نماز کی طرح فرض اور مقرر فرمایا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص زکوٰۃ اٹھا کر لائے اور اعلانیہ و آشکارا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں؛ اور یہ اس لیے ہے کہ خدائے عز و جل نے فقراء کی ضروریات کو اغنیاء کے اموال میں مقدر و مقرر فرمایا ہے، اور اگر وہ جانتا کہ یہ معین و مفروض مقدار ان کے لیے ناکافی ہے تو یقیناً ان کے لیے اس میں اضافہ فرما دیتا۔ چنانچہ فقراء کو جو بھی تنگی اور معاشی سختی پیش آتی ہے وہ اغنیاء کی جانب سے ان کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہے، نہ کہ زکوٰۃ کی مقدار کے ناکافی ہونے کی وجہ سے"۔

اور مبارک عقرقوفی نے امام موسی بن جعفر (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: "بیشک زکوٰۃ کو فقراء کے رزق اور اغنیاء کے اموال میں اضافے کے لیے مقرر کیا گیا ہے"[24]۔

خمس اور زکوٰۃ کا موازنہ

زکوٰۃ، خمس اور دیگر واجب و مستحب انفاقات کی ادائیگی مسلمانوں کے معاشی فرائض میں سے ہے۔ ان مالی فرائض کی بجا آوری اخلاقی تربیت کے علاوہ معاشرے کے افراد میں دولت کی منصفانہ تقسیم، توازن اور سماجی انصاف کے قیام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم خمس اور زکوٰۃ میں ان کے متعلقہ اموال، وجوب کی شرائط اور مصارف کے اعتبار سے باہمی فرق پایا جاتا ہے۔

فقہ اسلامی میں خمس

انسان کے اموال کے پانچویں حصے (۲۰ فیصد) کو کہا جاتا ہے جو فقہ میں بیان کردہ مخصوص شرائط کے ساتھ اس کی آمدنی اور سالانہ اخراجات سے بچ جانے والے مال سے ادا کیا جاتا ہے؛ اور یہ وہ حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امام معصوم (علیہ السلام) کے مقرم‌، سید عبد الرزاق، ج 12، ص 8، قم، دفتر انتشارات اسلامی، طبع اول، 1405ھ؛ امام خمینی، تحریر الوسیلہ، ج 1، ص 311، قم، مؤسسہ مطبوعات دار العلم، طبع اول، بے تا؛ حسینی سیستانی، سید علی، منہاج الصالحین، ج 1، ص 351، قم، دفتر حضرت آیۃ اللہ سیستانی، طبع پنجم، 1417ھ</ref>۔

جن اشیاء پر زکوٰۃ واجب ہے

زکوٰۃ نو (۹) اشیاء پر واجب ہے:

  1. گندم
  2. جو
  3. کھجور
  4. کشمش
  5. سونا
  6. چاندی
  7. اونٹ
  8. گائے
  9. بھیڑ/بکری

اگر کوئی شخص ان نو اشیاء میں سے کسی کا مالک ہو تو آئندہ بیان ہونے والی شرائط کے مطابق، اس پر لازم ہے کہ معین شدہ مقدار ان مصارف میں خرچ کرے جن کا حکم دیا گیا ہے[25]۔

نوٹ: «سُلت» وہ دانہ ہے جو گندم کی طرح نرم ہوتا ہے اور اس کی خاصیت جو جیسی ہوتی ہے، اس پر خمس نہیں ہے؛ لیکن «عَلس» جو گندم کے مشابہ ہے اور صنعاء کے لوگوں کی خوراک ہے، بنا بر احتیاطِ واجب اس کی زکوٰۃ دینا ضروری ہے[26]۔

احکامِ زکوٰۃ میں شیعہ اور اہل سنت کا فرق

زکوٰۃ الٰہی واجبات اور فروعِ دین میں سے ہے جس پر قرآن کریم میں کثرت سے تاکید کی گئی ہے[27]۔ لہٰذا تمام اسلامی مذاہب اس کے وجوب پر متفق ہیں اور اس کے احکام و کلی مسائل میں بھی ان کے درمیان زیادہ اختلاف نہیں ہے؛ اس کے باوجود جزئیات میں پائے جانے والے بعض مماثلتوں اور اختلافات کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے۔

فریقین کی نظر میں وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط

فقہ شیعہ

  1. مالک کا بالغ، عاقل اور آزاد ہونا ضروری ہے اور وہ اس مال میں تصرف کی قدرت رکھتا ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ بصورت دیگر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
  2. متعلقہ مال کا حدِ نصاب تک پہنچنا ضروری ہے[28]۔

فقہ اہل سنت

  1. زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط میں بلوغت اور عقل شامل ہیں؛ چنانچہ نابالغ بچے اور مجنون پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے، تاہم ان کا ولی اور سرپرست ان کے مال سے زکوٰۃ ادا کرے گا (صرف مذہبِ حنفی اس بات کا مخالف ہے)[29]۔
  2. متعلقہ مال کا حدِ نصاب تک پہنچنا ضروری ہے[30]۔

وہ اموال جن پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے

اس بات پر تمام مذاہب کا اتفاق ہے کہ اونٹ، گائے اور بھیڑ/بکری پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اسی طرح اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ گھوڑے، خچر اور گدھے پر زکوٰۃ نہیں ہے، سوائے فقہِ حنفی کے جس نے گھوڑے پر بھی زکوٰۃ کو واجب قرار دیا ہے[31]۔

سونے اور چاندی کے بارے میں بھی مذاہب کا عمومی اتفاق ہے کہ ان پر زکوٰۃ لاگو ہوتی ہے۔ فقہ شیعہ کا موقف ہے کہ زکوٰۃ صرف مسکوک (سکے کے طور پر رائج) سونے اور چاندی پر واجب ہے، سونے کی اینٹ (شمش) یا زیورات پر نہیں؛ جبکہ اہل سنت کے چاروں مذاہب کا اتفاق ہے کہ غیر مسکوک سونے (اینٹ/ڈلی) پر زکوٰۃ واجب ہے، البتہ زیورات میں زکوٰۃ کے واجب ہونے یا نہ ہونے پر ان کے درمیان اختلاف ہے[32]۔

زرعی پیداوار اور پھلوں کی زکوٰۃ

احناف کا نظریہ:

زمین سے اگنے والی ہر چیز میں زکوٰۃ واجب ہے سوائے لکڑی، سوکھی گھاس اور سرکنڈے (بید) کے۔ مالکیہ اور شافعیہ کہتے ہیں: ہر اس چیز پر زکوٰۃ واجب ہے جسے سال بھر کی خوراک کے لیے ذخیرہ کیا جا سکتا ہو، جیسے گندم، جو، کھجور اور کشمش وغیرہ۔

حنابلہ کا نظریہ:

ہر اس فصل یا پھل پر زکوٰۃ واجب ہے جسے ماپا (کیل) اور تولا (وزن) جا سکتا ہو۔ جبکہ فقہ شیعہ کا موقف یہ ہے کہ: زکوٰۃ صرف گندم، جو، کھجور اور کشمش پر ہی واجب ہے[33]۔

مال تجارت کی زکوٰۃ

اہل سنت کے تمام مذاہب کے درمیان اس بات پر اتفاق ہے کہ مالِ تجارت (وہ مال جس سے تجارت اور نفع کمانا مقصود ہو) پر زکوٰۃ واجب ہے۔ لیکن فقہ امامیہ میں مال تجارت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے (بلکہ مستحب ہے)[34]۔

مستحقینِ زکوٰۃ

قرآن مجید کے اس ارشاد کے مطابق: «إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ»؛ "صدقات (زکوٰۃ) تو بس فقراء، مساکین اور ان کی وصولی پر مامور عاملین کے لیے ہیں، اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مقصود ہو، اور گردنیں چھڑانے (غلاموں کی آزادی) میں، اور قرض داروں کے لیے، اور راہِ خدا میں، اور مسافروں کے لیے؛ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ ہے اور اللہ خوب جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے"[35]۔ تمام اسلامی مذاہب کا اتفاق ہے کہ مستحقینِ زکوٰۃ یہی آٹھ اصناف ہیں جو اس آیت میں بیان ہوئی ہیں۔ البتہ ان آٹھ اصناف کی تعریف اور تفاصیل میں مذاہب کے مابین جزوی اختلافات پائے جاتے ہیں[36]۔

حوالہ جات

  1. رجوع کریں: فقہ کا مضمون
  2. ابن فارس، معجم مقاییس اللغة، ج۳، ص۱۶ ـ ۱۷
  3. فراہیدی، کتاب العین، ج۵، ص۳۹۴
  4. راغب اصفہانی، المفردات، مادہ «زکو»
  5. طباطبائی، المیزان، ج ۱۵، ص۹؛ ترجمہ المیزان، ج ۱۵، ص۱۲
  6. سورہ توبہ، آیت ۱۰۳
  7. احکام روزہ، نعمت اللہ یوسفیان، ص ۶۳
  8. تبیین اللغات لتبیان الایات، محمد قریب، ج ۱، باب زکوٰۃ
  9. سورہ توبہ، آیت ۱۰۳
  10. سورہ توبہ، آیت ۱۰۳
  11. المیزان، ج ۹، ص ۳۷۷؛ ترجمہ المیزان، ج ۹، ص ۵۱۲
  12. بحارالانوار، ج ۷۴، ص ۴۰۵
  13. رجوع کریں: امام باقر (ع) کا مضمون
  14. وسائل الشیعہ، محمد بن حسن حر عاملی، ج ۹، ص ۲۲
  15. رجوع کریں: امام صادق (ع) کا مضمون
  16. وسائل الشیعہ، ج ۶، ص ۴
  17. وافی، ج ۱۰، ص ۳۳
  18. بحار، ج ۹۶، ص ۲۹
  19. مستدرک، ج ۱، ص ۵۰۷
  20. مزید معلومات کے لیے رجوع کریں: وسائل الشیعہ، ج ۹، باب «زکوٰۃ»
  21. سورہ بقرہ (۲)، آیات ۴۳، ۸۳، ۱۱۰ و ۱۷۷؛ سورہ نساء (۴)، آیت ۷۷؛ سورہ نور (۲۴)، آیت ۵۶؛ سورہ حج (۲۲)، آیت ۷۸ وغیرہ
  22. بحارالانوار، ج ۹۶، ص ۱۱
  23. قمی، صدوق، محمد بن علی بن بابویہ - مترجم: غفاری، علی اکبر و دیگر، من لا یحضرہ الفقیہ - ترجمہ، ۶ جلد، نشر صدوق، تہران - ایران، اول، ۱۴۰۹ھ ق، ج۲، ص ۳۰۱
  24. قمی، صدوق، محمد بن علی بن بابویہ - مترجم: غفاری، علی اکبر و دیگر، من لا یحضرہ الفقیہ - ترجمہ، ۶ جلد، نشر صدوق، تہران - ایران، اول، ۱۴۰۹ھ ق، ج۲، ص ۳۰۱
  25. توضیح المسائل، مسئلہ ۱۸۵۳
  26. توضیح المسائل، مسئلہ ۱۸۵۴
  27. سورہ بقرہ، ۴۳؛ رجوع کریں: «معنای لغوی و اصطلاحی زکات و دلیل اهمیت آن در قرآن»، سوال 29768
  28. خمینی، سید روح اللہ، توضیح المسائل، ص 383، قم، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، طبع اول‌، 1426ھ
  29. جزیری، عبد الرحمن، الفقه علی المذاہب الاربعہ، ج 1، ص 328، بیروت، المکتبہ العصریہ، 1426ھ
  30. جزیری، عبد الرحمن، الفقه علی المذاہب الاربعہ، ج 1، ص 330، بیروت، المکتبہ العصریہ، 1426ھ
  31. مغنیہ، محمد جواد، الفقه علی المذاہب الخمسہ، ص 169، تہران، مؤسسہ الصادق، 1377ش
  32. مغنیہ، محمد جواد، الفقه علی المذاہب الخمسہ، ص 173، تہران، مؤسسہ الصادق، 1377ش
  33. مغنیہ، محمد جواد، الفقه علی المذاہب الخمسہ، ص 174، تہران، مؤسسہ الصادق، 1377ش
  34. جزیری، عبد الرحمن، الفقه علی المذاہب الاربعہ، ج 1، ص 174؛ رجوع کریں: «موارد تعلّق زکات واجب و مستحب»، سوال 9422، بیروت، المکتبہ العصریہ، 1426ھ
  35. سورہ توبہ، آیت ۶۰
  36. الفقه علی المذاہب الخمسہ، ص 177