"سید حسن مدرس" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 65: | سطر 65: | ||
== تصانیف == | == تصانیف == | ||
# اخوند خراسانی کی کفایۃ الاصول پر تعلیقہ۔ | |||
# رسائل الفقیہہ جو حال ہی میں استاد ابوالفضل شکوری کی کوشش سے شائع ہوئی ہے۔ | |||
# ترتب پر ایک رسالہ (علم اصول فقہ میں)۔ | |||
# شرط متأخر پر ایک رسالہ (اصول میں)۔ | |||
# عقود و ایقاعات پر ایک رسالہ۔ | |||
# موقوفہ میں قبض کی لزوم اور عدم لزوم پر ایک رسالہ۔ | |||
# کتاب حجیۃ الظن (اصول میں)۔ | |||
# شیخ مرتضی انصاری کے رسائل کی شرح۔ | |||
# مرحوم آیت اللہ شیخ محمد رضا نجفی مسجد شاہی کی کتاب النکاح پر حاشیہ۔ | |||
# میرزای شیرازی کے اصول کی تقریرات کا دورہ۔ | |||
# امام اور مأموم کی شرط پر ایک رسالہ۔ | |||
# استصحاب کے باب میں ایک کتاب (علم اصول میں)۔ | |||
# کتاب احوال الظن فی اصول الدین۔ | |||
# نہج البلاغہ پر روان شرح۔ | |||
# اصول تشکیلات عدلیہ (دیگران کے تعاون سے)۔ | |||
# خود نوشت سوانح حیات جو انہوں نے روزنامہ اطلاعات کے لیے بھیجا ہے۔ | |||
== مدرس کی شخصیتی خصوصیات == | == مدرس کی شخصیتی خصوصیات == | ||
نسخہ بمطابق 11:47، 14 جولائی 2026ء
| سید حسن مدرس | |
|---|---|
| پورا نام | سید حسن مدرس |
| دوسرے نام | آیت اللہ مدرس |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | ۱۲۴۹ ش |
| پیدائش کی جگہ | اصفهان ایران |
| وفات | ۱۳۱۶ ش |
| وفات کی جگہ | ایران |
| اساتذہ | میرزای شیرازی، آخوند خراسانی، سید کاظم یزدی |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات | تعلیقہ بر کفایۃ الاصول آخوند خراسانی، رسائل الفقہیہ، رسالہ ای در ترتب (در علم اصول فقہ) |
| مناصب | اہم مجتہد اور سیاسی مبارز، تیسری سے چھٹی قومی اسمبلی تک مجلس کی نمائندگی |
سید حسن مدرس (پیدائش ۱۲۴۹ھ ش - وفات ۱۳۱۶ھ ش) رضا شاہ کے دور کے اہم مجتہدین اور سیاسی مبارزین میں سے تھے اور اس وقت کی حکومت میں متعدد عہدوں پر فائز رہے؛ ان عہدوں میں سے ایک ۱۲۸۸ھ ش میں نجف کے علماء کی جانب سے مجلس کے منظور شدہ قوانین کی نگرانی کے لیے پانچ ممتاز علماء میں سے ایک کے طور پر انتخاب اور تیسری سے چھٹی قومی اسمبلی تک مجلس کی نمائندگی ہے۔ انہیں اپنی زندگی میں کئی بار سوء قصد کا نشانہ بنایا گیا اور جیل بھی جانا پڑا؛ ۱۳۰۷ میں مدرس کو قلعہ خواف اور وہاں سے کاشمر جلاوطن کر دیا گیا اور بالآخر ۱۳۱۶ میں شہادت پائی۔
سوانح حیات
سید حسن مدرس، سادات طباطبائی سے ہیں، دورِ مشروطیت اور پہلوی اول کے دور میں ایران کی اہم ترین علمی، مذہبی اور سیاسی شخصیات میں سے ہیں جو ۱۲۸۷ھ میں اصفہان کے اردستان کے تابع گاؤں سرابہ کچو میں ایک غریب لیکن دیندار، روحانی اور کسان خاندان میں پیدا ہوئے[1].
ان کے والد اسماعیل اور جد میر عبد الباقی قبیلہ میر عابدین سے تھے جو زوارہ سے اس علاقے میں آئے اور آباد ہوئے تھے[2]. کچھ عرصے بعد والد نے اہل علاقہ کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کی وجہ سے یہ علاقہ چھوڑ دیا، اور زیادہ تر زوارہ میں رہائش پذیر رہے؛ لیکن سید حسن چھ سال کی عمر تک اپنی والدہ خدیجہ کے ہمراہ سرابہ میں رہے یہاں تک کہ والد نے انہیں چھ سال کی عمر میں (۱۲۶۴ھ ش)[3] اس علاقے کے نامناسب ماحول کی وجہ سے، جبکہ والدہ ان کے ہمراہ ہونے پر راضی نہ ہوئیں، اپنے ہمراہ قمشہ (شہرضا) لے گئے[4].
مدرس نے دو بار شادی کی۔ پہلی شادی جو اصفہان میں ان کی تعلیم کے چھٹے سال میں ہوئی، [5] اس سے دو بیٹے (اسماعیل اور عبد الباقی) اور دو بیٹیاں[6] اور دوسری بیوی سے ایک بیٹا ہوا جو انہوں نے تہران میں ان سے شادی کی (جب مدرس ہجرت میں تھے، ۱۳۳۴ھ ش میں پہلے بیٹا اور پھر ماں کا انتقال ہو گیا)[7].
خاندانِ مدرس
قبیلہ میر عابدین ان قبائل میں سے ایک ہے جس کا سربراہ مدرس کو شمار کیا جاتا ہے یہ سادات کے گروہ نے یلاقی گاؤں «سرابہ» میں سکونت اختیار کی تھی۔ سید اسماعیل طباطبائی (شہید مدرس کے والد) جو اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور مذکورہ گاؤں میں دینی تبلیغات اور لوگوں کے شرعی امور انجام دینے میں مصروف تھے، تاکہ قبیلہ میر عابدین کا زوارہ کے رشتہ داروں سے رابطہ منقطع نہ ہو، انہوں نے شادی کے ذریعے رشتہ داری کے تعلق کو تجدید اور مضبوط کرنے اور سنتِ حسنہ صلہ رحمی کو احیا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی لیے انہوں نے سید کاظم سالار کی بیٹی خدیجہ نامی جو زوارہ کے سادات طباطبائی سے تھیں، کو اپنی شادی کے عقد میں لایا۔
اس رابطے کا نتیجہ با برکت اولاد کی صورت میں نکلا جو ۱۲۷۸ھ میں زوارہ کے ریگستان میں ایک پاک چشمے کی طرح پھوٹا۔ والد نے ان کا نام حسن رکھا۔ ان کے والد زیادہ تر «سرابہ» میں لوگوں کے شرعی و فقہی امور میں مصروف رہتے تھے لیکن ماں اور بچہ زوارہ میں اپنے رشتہ داروں کے پاس رہتے تھے یہاں تک کہ ایک واقعہ[8]. پیش آیا جس کی وجہ سے والد اپنے چھ سالہ بچے کو ۱۲۹۳ میں قمشہ اپنے جد میر عبد الباقی کے پاس لے گئے اور اس شہر کے محلہ فضل آباد کو اپنی رہائش گاہ کے طور پر منتخب کیا۔
یہ اس وقت تھا جب میر عبد الباقی پہلے ہی زوارہ سے قمشہ ہجرت کر چکے تھے اور اس شہر میں علمی و تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے [9]. سید عبد الباقی نے سید حسن کی تعلیم میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا اور انہیں علم و تقویٰ کے راستے پر ہدایت کی اور موت کے وقت وصیت نامے میں سید حسن کو دینی علوم کی تحصیل جاری رکھنے کی ترغیب اور سفارش کی جب سید عبد الباقی نے دار فانی کو وداع کہا تو مدرس چودہ سال کے تھے[10].
تحصیلاتِ عالیہ
مدرس نے سال ۱۲۹۸ ہجری میں دینی علوم کی مزید تحصیل کے لیے اصفهان کا رخ کیا اور ۱۳ سال تک اس شہر کے حوزہ علمیہ میں تیس سے زائد اساتذہ کی صحبت میں رہے[11]. ابتدا میں علم صرف و نحو میں کتاب جامع المقدمات کی مطالعه شروع کی اور ادبیات عرب، منطق و بیان کی تعلیم میرزا عبدالعلی ہرندی جیسے اساتذہ سے حاصل کی۔ آخوند ملا محمد کاشی کی خدمت میں کتاب شرح لمعہ (فقہ) اور اس کے بعد علم اصول میں قوانین و فصول کا مطالعہ کیا۔ حکمت، عرفان اور فلسفہ کی تعلیم دینے والے اساتذہ میں سے ایک نامور حکیم میرزا جہانگیر خان قشقایی ہیں[12].
مدرس نے اس دوران آیات عظام سید محمد باقر درچه ای اور شیخ مرتضی ریزی اور دیگر اساتذہ کی موجودگی میں فقہ و اصول میں درجہ اجتہاد تک پہنچے اور اصول میں ایسی مہارت حاصل کی کہ مرحوم ریزی کی تقریرات جو دس ہزار سطروں پر مشتمل تھیں، انہیں تحریر کر سکے۔ شہید مدرس نے حوزہ علمیہ اصفهان میں اپنی تعلیمی سوانح کا خلاصہ مقدمہ شرح رسائل میں جو عربی زبان میں لکھی گئی ہے، بیان کیا ہے۔ اصفهان میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد شعبان ۱۳۱۱ ہجری میں نجف اشرف تشریف لے گئے اور بارگاہ مقدسہ کی زیارت اور آیت اللہ میرزای شیرازی کی خدمت میں حاضری کے بعد مدرسہ منسوب بہ صدر میں قیام پذیر ہوئے اور نامور عارف حاج آقا شیخ حسنعلی اصفهانی کے ہم حجرہ ہوئے۔ مدرس نے اس شہر میں آیات عظام سید محمد فشارکی اور شریعت اصفهانی کے دروس سے فیض حاصل کیا اور سید ابوالحسن اصفهانی، سیدمحمدصادق طباطبائی، شیخ عبدالکریم حائری، سید ہبة الدین شہرستانی اور سیدمصطفی کاشانی سے رابطہ رکھا اور آیت اللہ حاج سید ابوالحسن اور آیت اللہ حاج سید علی کاظمی کے ساتھ مباحثِ خارجہ کیے۔
مدرس نے نجف میں قیام کے دوران ہر ہفتے جمعرات اور جمعہ کو کام کیا اور اس کی آمدنی سے باقی پانچ دن گزارا کیا۔ نجف میں سات سالہ قیام اور وہاں کے علمائے کرام کی جانب سے مقام اجتہاد کی تائید کے بعد سال ۱۳۱۸ ہجری (چالیس سال کی عمر میں) ناصریہ کے راستے اہواز اور علاقہ چہار محال و بختیاری سے ہوتے ہوئے اصفهان واپس لوٹے۔
دورِ تدریس
مدرس نجف سے واپسی اور قمیشہ میں قیام، خاص طور پر گاؤں اسفہ میں اور اہل خانہ و اقربا سے ملاقات کے بعد، اقامت کی غرض سے قمیشہ چھوڑ کر اصفہان کا رخ کیا اور وہیں مقیم ہو گئے۔ وہ صبح کے وقت مدرسہ جدہ کوچک (مدرسہ شہید مدرس) میں فقہ و اصول کا درس دیتے اور شام کو مدرسہ جدہ بزرگ میں منطق و شرح منظومہ پڑھاتے تھے، اور پنجشنبہ کے دن طلباء کو حکمتِ نہج البلاغہ کے زلال چشموں سے آشنا کرتے تھے۔ درس کے وقت ان کا تسلط اس حد تک تھا کہ اسی زمانے سے وہ «مدرس» کے نام سے مشہور ہو گئے۔ انہوں نے تدریس کے ساتھ ساتھ منطق و استدلال کے ہتھیار سے ظلم و ستم اور لوگوں پر زیادتی کرنے والے عوامل سے جنگ کی اور زورآوروں کے اعمال و رفتار کی مخالفت کی۔
جب سرکاری افواج کی مردمی قوتوں کے ساتھ جھڑپوں میں مکمل شکست کے بعد اصفہان شہر کی انتظامیہ انجمن ولایتی کے سپرد کی گئی۔ صمصام السلطنہ جو بختیاری عشایر کی مسلح افواج کے کمانڈر کی حیثیت سے مشروطیت کے واقعے میں اہم کردار رکھتے تھے، اصفہان کی حکومت کے سربراہ بنے اور ابتدائی طور پر افواج کے اخراجات اور استبدادِ قاجاریه کے خلاف جنگ میں انہیں جو نقصان پہنچا تھا اس کا تاوان عوامِ اصفہان سے کوڑوں کی ضربوں کے ذریعے وصول کرنے کا مطالبہ کیا۔ مدرس جو انجمن ولایتی اصفہان کے اجلاس میں موجود تھے اور اس کی نیابتِ ریاست کے عہدے دار تھے، یہ خبر سن کر شدید ناراض ہوئے اور کہا کہ حاکم کو ایسا حق حاصل نہیں ہے اور اگر کوڑا مارنا حدِ شرعی ہے تو یہ مجتہد کے صلاحیت میں ہے، اور وہ (قاجار حاکم) کل استبداد کے نام پر اور یہ آج مشروطہ کے نام پر عوام کو پیٹتے ہیں۔
صمصام السلطنہ نے یہ حالت دیکھ کر مدرسِ مبارز کی گرفتاری اور جلاوطنی کا حکم صادر کیا، لیکن جب عوامِ اصفہان کو اس فقیہ کی جلاوطنی کا واقعہ معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے کاروبار بند کیے اور مدرس کے پیچھے چل پڑے۔ اس صورتِ حال نے صمصام کے کارگزاران کو شدید فکر میں مبتلا کر دیا اور عوام کے غصے نے اصفہان کے حاکم کو تسلیم ہونے پر مجبور کر دیا اور اس نے مجبوری و ناچاری میں ٹیکس وصولی اور دیگر رویوں میں تجدیدِ نظر کی، اور مدرس بھی عوام کے پرجوش نعرے «زندہ باد مدرس» کے درمیان اصفہان واپس لوٹے۔
مدرس نے ایامِ تدریس میں طلباء اور مدارسِ علمیہ اور ان کے اوقاف کی نگہداشت کی اور متولیان پر دباؤ ڈالا کہ اوقاف کی آمدنی طلباء تک پہنچائیں۔ غلط کاموں اور غیر منطقی امور کے مقابلے میں ان کی عدمِ تسلیم پسندی ایک گروہ سودخور اور موقع پرستوں کو ناگوار گزری اور انہوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ لیکن مدرس کی بہادری اور حیرت انگیز رفتار کی وجہ سے یہ قتل ناکام رہا اور مذکورہ افراد اپنے مکارانہ منصوبے میں ناکام رہے[13]۔
آیت اللہ شہید سید حسن مدرس نے جوانی کی عمر میں ہی مقامِ رفیعِ اجتہاد حاصل کر لیا تھا اور علمی و فقہی لحاظ سے مجتہدِ جامع الشرائط، صاحبِ فتویٰ اور شایستہِ تقلید تھے، اگرچہ وہ اپنا رسالہ عملیہ چھپوانے پر راضی نہ ہوئے، لیکن فقہ و اصول اور دیگر علومِ دینیہ میں مفصل و گہرے آثار چھوڑے اور سید شهاب الدین مرعشی نجفی|آیت اللہ مرعشی نجفی (رحمۃ اللہ علیہ) نے ان کی تالیفاتِ فقہیہ کی تعریف کی اور اضافہ کیا کہ: ان سے حدیث نقل کرنے کی اجازت حاصل تھی[14]۔
آیتالله حاج سیدرضا بهاءالدینی نے ایک انٹرویو میں اظہار کیا کہ مرحوم مدرس ایک علمی، دینی اور سیاسی شخصیت تھے اور ایسی شخصیت علمی و دینی شخصیت سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ یہ ولایت کا مظہر ہے کہ اگر مسلمانوں کی ولایت و سیاست نہ ہو تو اسلامی فروع مکمل طور پر تحقق نہیں پاتے[15]۔
مدرس نے تہران آمد کے بعد پہلے موقع پر اپنا درس ایوانِ زیرِ گھڑی میں مدرسہ سپہ سالار (موجودہ شہید مطہری) میں شروع کیا اور زور دیا کہ میرا اصل کام تدریس ہے اور سیاست میرا دوسرا کام ہے[16]۔
انہوں نے ۲۷ تیر ۱۳۰۴ ہجری شمسی کو جب اس مدرسے کی تولیت سنبھالی تو تاکہ علومِ دینیہ کے طلباء اپنے اوقات سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور زیادہ سنجیدگی سے درس و مباحثے میں مصروف رہیں، پہلی بار طلباء کے امتحان کا منصوبہ نافذ کیا اور مدرسے کی بہتر انتظامیہ کے لیے ایک نظام نامہ مرتب کیا اور طلباء کے تحصیلی امور کی نگرانی کی، اور گاؤں اور مدرسے کی موقوفہ دکانوں کی احیا و آبادانی کے لیے بہت محنت کی۔ پنجشنبہ کی شام کو اکثر شدید گرمی میں ورامین کے اطراف کے گاؤں جاتے اور خود اس علاقے کے گاؤں کی قناتوں کا معائنہ کرتے اور کبھی کنؤں کے اندر جاتے اور ان کی مرمت میں تعاون کرتے اور چرخ سے کنویں کی مٹی نکالنے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کرتے تھے[17]۔ اس مدرسے میں آیت اللہ ابوالحسن شعرانی، آیتالله سیدمرتضی پسندیده (حضرت امام خمینی کے بڑے بھائی)، شیخ محمد علی لواسانی وغیرہ جیسی شخصیات کی تربیت ہوئی[18]۔
تحقیقی سرگرمیاں
مدرس نے اصفهان میں اور جوانی کے سنین میں فقہ اور اصول پر ایک تحقیقی کتاب لکھی جو ان کے فقہی مقام کو ثابت کرتی ہے۔ اس شہید سے فقہ استدلالی پر ایک رسالہ باقی بچا ہے کہ اگر اہل فن اور اہل نظر اس کا جائزہ لیں تو تصدیق کریں گے کہ اگر یہ کتاب مکمل ہو جاتی تو کتاب مکاسب شیخ انصاری کے ہم پلہ ہوتی[19]۔
مدرس پہلے شخص تھے جنہوں نے حوزہ علمیہ میں نهج البلاغه کی تدریس کو باقاعدہ بنایا اور وہ پہلے مجتہد تھے جنہوں نے اس کتاب کو طلبہ کے نصابی کتب میں شامل کیا۔ حاجی میرزا آقا علی شیرازی جیسی شخصیت - استاد شہید مطہری - اور آیت اللہ بروجردی نے شہید مدرس کے پاس نہج البلاغہ سیکھا۔ اس فقیہ فرزندانہ کے اہم اور قابل توجہ کاموں میں قرآن کے لیے ایک جامع تفسیر کی تدوین تھی، جس کے لیے انہوں نے خطی اور چاپی تفاسیر کے جمع کرنے کے علاوہ اس مقصد کے حصول کے لیے کئی دانشوروں کو تعاون کی دعوت دی، اور اگر یہ تفصیلی جامع منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا تو یہ ایک بہت ہی بہترین طریقہ اور نیا اور گہرا انداز ہوتا۔ مدرس نے کافی عرصے تک فلسفہ پڑھایا اور عرفان میں مہارت رکھتے تھے، اور خواف کی جیل میں قلعے کے کچھ اہلکاروں کے لیے جن میں وہ قید تھے، مثنوی کی تفسیر بیان کرتے تھے[20]۔
تصانیف
- اخوند خراسانی کی کفایۃ الاصول پر تعلیقہ۔
- رسائل الفقیہہ جو حال ہی میں استاد ابوالفضل شکوری کی کوشش سے شائع ہوئی ہے۔
- ترتب پر ایک رسالہ (علم اصول فقہ میں)۔
- شرط متأخر پر ایک رسالہ (اصول میں)۔
- عقود و ایقاعات پر ایک رسالہ۔
- موقوفہ میں قبض کی لزوم اور عدم لزوم پر ایک رسالہ۔
- کتاب حجیۃ الظن (اصول میں)۔
- شیخ مرتضی انصاری کے رسائل کی شرح۔
- مرحوم آیت اللہ شیخ محمد رضا نجفی مسجد شاہی کی کتاب النکاح پر حاشیہ۔
- میرزای شیرازی کے اصول کی تقریرات کا دورہ۔
- امام اور مأموم کی شرط پر ایک رسالہ۔
- استصحاب کے باب میں ایک کتاب (علم اصول میں)۔
- کتاب احوال الظن فی اصول الدین۔
- نہج البلاغہ پر روان شرح۔
- اصول تشکیلات عدلیہ (دیگران کے تعاون سے)۔
- خود نوشت سوانح حیات جو انہوں نے روزنامہ اطلاعات کے لیے بھیجا ہے۔
مدرس کی شخصیتی خصوصیات
شخصیت کے لحاظ سے اگرچہ بعض لوگوں نے مدرس کی قاطعیت کو غرور، قدرت طلبی، خاص اصولوں سے عدم وابستگی، ضدی، حادثہ جو اور خود غرض قرار دیا ہے؛ < ref>طاهری، سیدصدرالدین، یک بررسی تحلیلی از زندگی سیاسی مدرس، صفحات متعدد، تهران، رسا ۱۳۷۳</ref> لیکن ان کی زندگی کا جائزہ بے پناہ ذہانت، دیانتداری اور تقویٰ، سادہ زیستی، شوخ طبعی اور حاضرجوابی، پاکدامنی، گفتار کی سلاست اور روانی، شعر گوئی کی صلاحیت، دانش، کام اور کوشش، وارستگی اور آزادگی، ظاہر سازی اور عوام فریبی سے پرہیز، ظلم ستیزی، سخاوت، دقت اور نظم، اخلاص اور ایمان، خلل نہ آنے والی ارادہ، بہادری اور شجاعت، از خود گذشتگی، سیاست مداری، مردم داری، عوام کے حقوق کا دفاع، عام المنفعہ امور کی انجام دہی، وغیرہ۔۔۔ مدرس کی شخصیت میں موجود ہے[21]۔
مدرس کے پاس منصفانہ اور استحصال کرنے والوں سے غیر وابستہ اقتصادی فکر، خدمت گزاری، آبادکاری اور تعمیر و ترقی کا تصور تھا۔ سیاسی میدان میں بھی انہوں نے سیاست کو عین دیانت جانا، سب دنیا سے دوستی لیکن غیر ملکی ممالک کے حملوں کا مقابلہ، اسلامی ریاستوں کو ترجیح دینا، استعمار کے خلاف ہوشیاری، فوجی اور سیکیورٹی طاقت کو مضبوط کرنا، عظمت پر توجہ، اسلام اور انسانوں کی آزادی کے تحفظ کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ انہوں نے اپنی عزت نفس کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر توجہ دی اور ہمیشہ اتحاد کی کمی اور مغربی ممالک کے استعمار سے فکر مند رہے اور سیاست کو دیانت سے الگ ہونا مسلمانوں کی پسماندگی کی ایک وجہ جانا۔ افراد کے ساتھ تعاون کا ان کا معیار بھی قومی مفادات (ملک کے حال اور مستقبل) اور مذہبی امور کا تحفظ تھا[22]۔
مدرس کا کلام
مدرس نے مجلس ششم کے ایک اجلاس میں اسلامیت اور وطن پرستی کے تعلق کے بارے میں یوں فرمایا: «... تھوڑی سی سمجھ سے ہر کوئی جانتا ہے کہ ایک ویران گاؤں میں حکومت رکھنا ایک آباد ملک میں غلامی سے بہتر ہے۔ لہذا ہر ایرانی جو دیندار ہے اور ہر وہ شخص جو شرافت والا ہے، جہاں تک ہو سکے اسے دو اصولوں پر اپنی سرزمین کا دفاع کرنا چاہیے اور کسی بھی طاقت کے آگے تسلیم نہیں ہونا چاہیے۔ ان دو اصولوں میں سے ایک اسلامیت ہے اور دوسرا وطن پرستی، اور ہمارے ملک میں اسلامیت کا اصل زیادہ مضبوط ہے، کیونکہ ایک سچا مسلمان تسلیم نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ اس کی زندگی ختم ہو جائے۔ اس قسم کے مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے مسیحی ممالک اپنے دارالحکومتوں میں مسجدیں بناتے ہیں لیکن ایک سطحی اور بے فکر جدیدیت پسند کو وہ ایک تعارف سے ہی تسلیم کروا سکتے ہیں۔ اسلامیت کا اصل اور وطن پرستی کا اصل آپس میں متباین نہیں ہیں اور ان دونوں کے درمیان نسبت نسب اربعہ میں سے عموم و خصوص مطلق ہے یعنی ہر مسلمان وطن پرست ہے۔ کیونکہ حب الوطن من الایمان ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وطن پرست مسلمان نہ ہو، جیسا کہ غیر مسلم ممالک اس اصول پر اپنا تحفظ کرتے ہیں۔» < ref>ترکمان، محمد، مدرس در پنج دوره تقنینیه مجلس شورای ملی، ج۲، ص۲۷۶، تهران، دفتر نشر فرهنگ اسلامی، ۱۳۶۷، تهران، مؤسسه پژوهش و مطالعات فرهنگی، ۱۳۷۴</ref>۔
علمی زندگی
سید حسن نے ۶ سے ۱۴ سال کی عمر تک شہرضا میں عربی و فارسی مقدمات حاصل کیے اور ۱۶ سال کی عمر میں (فروردین ۱۳۹۸ھجری قمری) دادا کی وفات اور ان کی وصیت کے مطابق حوزہ علمیہ اصفہان تشریف لے گئے اور تیرہ سال تک تقریباً تیس اساتید؛ جیسے میرزا عبدالعلی ہرندی، جہانگیر قشقائی اور ملا محمد کاشانی سے تحصیل علم کی۔ سطح خارج کی تکمیل (۱۳۱۱ھجری قمری) کے بعد اور واقعہ تنباکو کے ہم زمان نجف تشریف لے گئے، سات سال تک آخوند ملا محمد کاظم خراسانی اور آیت اللہ سید کاظم یزدی جیسے اساتید کے پاس تعلیم حاصل کی اور درجہ اجتہاد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مدرس نے سید ابوالحسن اصفہانی اور سید علی کازرونی جیسی شخصیات کے ساتھ مباحثہ بھی کیا[23]۔ اجتہاد حاصل کرنے کے بعد وہ اصفہان واپس آئے اور مدرسہ جدہ (موجودہ مدرس) اصفہان میں فقہ و اصول کی تدریس شروع کی۔ مدرس نے مجلس میں اپنی موجودگی کے دوران بھی کبھی تدریس ترک نہیں کی۔ وہ تدریس کو اپنا اصلی کام اور سیاست کو اپنا ثانوی کام سمجھتے تھے[24]۔
مدرس کی علمی زندگی جو ان کی سیاسی سرگرمیوں کے سایے میں کافی حد تک مغفول رہی ہے، ان کے فقہ و اصول، عقائد و تفسیر، سیاسی و اجتماعی میدانوں میں مختلف آثار و تالیفات[25] کو دیکھتے ہوئے سمجھی جا سکتی ہے، جو ان سے باقی رہے ہیں، البتہ ان میں سے کچھ خطی صورت میں ہیں اور کچھ کا صرف نام باقی رہ گیا ہے۔ حاشیہ بر رسائل شیخ انصاری، حاشیہ بر کفایہ الاستاد فی الاصول، رسالہ فی سہو الامام و الماموم، رسالہ فی قضاء الفوائت، رسالہ فی الضمان الغاصب المغضوب الفائت، رسالہ فی بعض مسائل العدہ وغیرہ... اصول تشکیلات عدلیہ، کتاب زرد و خوافنامہ (سیاسی) ان میں سے ہیں[26]۔ نیز ان کا ارادہ قرآن پر تفسیر لکھنے کا تھا لیکن جلاوطنی نے انہیں یہ اجازت نہیں دی۔ مجلس میں ان کی مذاکرات ان کے نظرات تک رسائی کا ایک اور ذریعہ ہیں۔ مدرس کے پاس اسلامی علوم کے علاوہ مغربی تاریخ کی بھی معلومات تھیں اور وہ علم کے ساتھ تقویٰ کو انسان کے لیے مفید سمجھتے تھے[27]۔
سیاسی خدمات
مدرس نے اپنی زندگی میں ہمیشہ اجتماعی و سیاسی امور کی طرف توجہ دی۔ انہوں نے استبدادی حکومت محمد علی شاہ کے خلاف آزادی خواہوں کی مبارزے کے دوران اصفہان کے بعض علماء جیسے آقا نور اللہ اصفہانی اور سردار اسعد کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے، اقبال الدولہ کاشی، حاکم اصفہان کے خلاف قیام کیا، مشروطہ کے قیام کے بعد انجمن ولایتی اصفہان کے رکن بنے[28]۔ مشروطہ کے دوران استبداد صغیر کے بعد اور مجلس شورای ملی کے دوسرے دور کے انعقاد پر، مدرس (۱۲۸۸ھجری شمسی) کو نجف کے علماء کی طرف سے مجلس کے مصوبہ قوانین کی نگرانی کے لیے پانچ ممتاز علماء میں سے ایک کے طور پر منتخب کیا گیا[29]۔ وہ مجلس میں ہمیشہ تقریروں اور مختلف مباحث کے ذریعے حکومت کو مشکلات کے حل میں مدد دیتے رہے اور حکومت کے امناء کی غیر قانونی خواہشات کے مقابلے میں سختی سے مبارزہ کیا اور انہیں روکنے کی کوشش کی۔
مجلس کے دوسرے دور کے آخر میں جو داخلی کشیدگی، محمد علی شاہ کی سلطنت کی بازیابی کی کوشش اور روس کے ایران کو الٹی میٹم کے ساتھ تھا، فیصلوں کے قابل عمل نہ ہونے کی وجہ سے، مجلس کی عمر ۳ دی ۱۲۹۰ھجری شمسی کو ختم ہو گئی۔ ایران کو روس کے ۴۸ گھنٹے کے الٹی میٹم کے مقابلے میں مدرس کا مشہور جملہ «اب جب کہ مٹنا ہی ہے تو اپنے ہاتھوں کیوں مٹیں» ہے[30]۔ مجلس کی تعطیلی کے بعد، مدرس نے تدریس اور مدرسہ سپہ سالار (جو اصفہان سے تہران آمد کے وقت ان کے سپرد کیا گیا تھا) کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ تہران کے سیاسی محافل میں موجود رہے؛ اگرچہ مجلس کی کمیسیون عدلیہ کے اجلاس ہوتے رہے اور مصوبات بھی جاری رہے[31]۔
رکن مجلس
تین سال کے وقفے کے بعد، مجلس کے تیسرے دور کے انتخابات (آذر ۱۲۹۳ھجری شمسی) کے انعقاد پر مدرس تہران کی عوام کی طرف سے مجلس کے رکن بنے؛ لیکن پہلی عالمی جنگ کے وقوع کی وجہ سے مجلس کا یہ دور ایک سال سے زیادہ نہ چل سکا۔ آبان ۱۲۹۴ھجری شمسی کے وسط میں قزاق قوتوں کے تہران کی طرف حرکت کرنے کے بعد مجلسیوں کے ایک گروہ نے جن میں مدرس بھی شامل تھے، بہت سے رجال، روحانیون اور مجلس کے نمائندوں کے ہمراہ قم کی طرف حرکت کی اور کمیٹی دفاع ملی تشکیل دی، پھر کاشان و اصفہان کی طرف بڑھے؛ لیکن روسیوں کی تعقیب کی وجہ سے کرمانشاہ کی طرف رخ کیا، کرمانشاہ میں رضاقلی خان نظام السلطنہ (بروجرد، لرستان و خوزستان کا حکمران) کی صدارت اور عدلیہ و اوقاف میں مدرس کی وزارت کے ساتھ مہاجرین کی عارضی حکومت تشکیل دی اور ملک کے دفاع کا ارادہ کیا لیکن روسیوں کے کرمانشاہ کی طرف پیش قدمی کے بعد، عارضی حکومت مغربی ایران، بصرہ، بغداد اور آخر کار استنبول چلی گئی اور پہلی عالمی جنگ کے ختم ہونے تک جو دو سال پر محیط تھا، وہیں رہے اور کئی بار سلطان عثمانی اور اس ملک کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقات و مذاکرہ کیا[32]۔ مدرس نے ایران سے ہجرت کے دوران کئی بار سوء قصد کا بھی سامنا کیا۔
مدرسہ سپہ سالار کی نگرانی
جنگ کے اختتام اور تہران واپسی کے بعد، مدرس نے مجلس کی تعطیل کے ایام میں تدریس اور مدرسہ سپہ سالار کی نگرانی جاری رکھی۔ ۱۲۹۶ ہجری شمسی میں چوتھے دور کی قومی مشاورتی مجلس کے انتخابات کے انعقاد پر، وہ دوبارہ تہران کی عوام کی جانب سے نمائندگی کے لیے منتخب ہوئے[33]۔
۱۲۹۷ ہجری شمسی کے آغاز میں مدرس کے اقدامات میں سے، جبکہ ایرانی حکومت کو خارجی افواج کے انخلا، جنگ کے نقصانات کا تعین اور وصولی، شمالی پڑوسی (جہاں زار کی حکومت گر چکی تھی) کے ساتھ نئے تعلقات اور معاہدے، نیز ریاستی کونسلوں کی تشکیل جیسے مسائل کا سامنا تھا، مدرس نے سختی سے مطالبہ کیا کہ دولت کے سربراہ کے طور پر صمصام السلطنہ سے زیادہ قابل شخص کا انتخاب ہو۔ ابتدا میں احمد شاہ کی مخالفت اور cuối میں مدرس کی وسیع پیمانے پر مخالفت، احتجاج اور معاشرے کے مختلف طبقات میں اس کی حمایت کے نتیجے میں وثوق الدولہ کو سربراہ کار بنایا گیا۔ مدرس جو وثوق الدولہ کی حکومت کے پہلے سال میں ان کے حامی تھے، ۱۹۱۹ء کے معاہدے کے اعلان کے بعد ان کے مخالفین کے سربراہ بن گئے اور معاہدے کی عدم تعمیل کے لیے اپنی تمام کوششیں صرف کیں؛ نتیجتاً وثوق الدولہ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور بعد کے جانشین بھی کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے[34]۔ کچھ عرصے بعد ۳ اسفند ۱۲۹۹ ہجری شمسی کی بغاوت کے بعد، مدرس اور کچھ دیگر افراد کو بغاوت کرنے والوں نے گرفتار کر لیا، اور سید ضیاء الدین کی حکومت سے لے کر ۹ خرداد کو قوام السلطنہ کی صدارت تک جب ان کی رہائی کا حکم صادر ہوا، وہ جیل میں رہے[35]۔
حزب اصلاح طلبان کی تشکیل
چھ سال کی تعطیل کے بعد چوتھی مجلس کی دوبارہ افتتاح (تیر ماہ ۱۳۰۰ ہجری شمسی) کے بعد، مدرس جو مجلس کی اکثریت کی قیادت کر رہے تھے اور نائب صدر بھی منتخب ہوئے تھے، نے ہم خیال افراد کے ہمراہ حزب اصلاح طلبان تشکیل دی۔ ان کا پہلا اقدام ۳ اسفند کی بغاوت میں ملوث افراد کے اعتبارناموں کو رد کرنا تھا۔ وزیر جنگ کے عہدے پر رضا خان کے غیر قانونی مطالبات کے خلاف مدرس کی پہلی مخالفت بھی اسی مجلس میں شروع ہوئی[36]۔ وزیر جنگ کی زیادتیوں اور اس کی خارجہ پالیسی کو روکنے میں عدم صلاحیت کی بنا پر مستوفی کی حکومت کا استیضاح، مدرس کی تقریریں جو ان کی سیاسی فلسفہ "موازنہ عدمی و وجودی" کی عکاسی کرتی ہیں (یعنی غاصب طاقتوں کا انکار اور عملی طور پر "عدم بہتر ہے وجود سے" جو بعد میں مصدق کی منفی توازن کی پالیسی کی شکل میں ظاہر ہوا) اس دور کی کامیابی ہے[37]۔
مجلس میں ورود
۱۳۰۲ ہجری شمسی میں، پانچویں دور میں بھی مدرس تہران کی عوام کی نمائندگی کے طور پر مجلس شورای ملی میں پہنچے، اس بار انہوں نے اقلیت کی قیادت سنبھالی۔ اکثریت کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک رژیم کو مشروطہ سے جمہوریہ میں تبدیل کرنا تھا، جس کی مدرس نے اس تبدیلی کی نوعیت سے آگاہ ہو کر مخالفت کی۔ جمہوریہ کے خلاف مدرس کی مخالفت کی وجہ، حالانکہ وہ اسے بہترین حکمرانی کی اقسام میں سے مانتے تھے، اس معاملے میں انگلستان کی غیر مرئی مداخلت تھی جو کچھ عرصے بعد ترکی کی طرح رضا خان کی مادام العمر صدارت کے ساتھ انفرادی استبداد میں تبدیل ہو جائے گی۔ لہذا وہ جمہوریہ کے اصل اصول کے مخالف نہیں تھے بلکہ ہر شکل میں آمریت اور رضا خان کے مخالف تھے جس کے پیچھے انگلستان تھا، چاہے وہ جمہوریہ ہو یا سلطنت[38]۔ مجلس میں مدرس کے دیگر اہم اقدامات میں سردار سپہ کے خلاف جدوجہد اور ان کے غیر قانونی اقدامات، اور یہاں تک کہ رضا خان کے استیضاح کی تین کوششیں شامل تھیں، جس کے نتیجے میں مدرس کو زخمی کیا گیا اور ان کی مجلس میں عدم موجودگی میں، رضا خان کی حکومت نے مجلس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، اور مدرس کا استیضاح کا منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ پانچویں مجلس کا ایک اور منصوبہ ۹ آبان ۱۳۰۴ ہجری شمسی کو قاجاریہ کا خاتمہ، عارضی حکومت رضا خان کے سپرد، اور آئین کے بعض اصولوں کی اصلاح کے لیے آئین ساز مجلس کی تشکیل تھا، جو کچھ مخالفتوں کے باوجود جس کی قیادت مدرس کر رہے تھے، منظور ہو گیا، اور سردار سپہ بادشاہ بن گئے[39]۔
چھٹے دور کے انتخابات
رضا شاہ کی تاج پوشی کے بعد، مدرس نے دوبارہ چھٹے دور کے انتخابات (تیر ماہ ۱۳۰۵ ہجری شمسی) میں شہربانی کی مداخلت کے باوجود مجلس میں راستہ بنایا؛ لیکن وہ ہمیشہ خفیہ ایجنٹوں کی نگرانی اور دباؤ میں رہے، اور اخبارات کو بھی مجلس کی اقلیت کے خیالات شائع کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ۷ آبان ۱۳۰۵ ہجری شمسی کو، جب مدرس تدریس کے لیے مسجد سپہ سالار جا رہے تھے، کچھ افراد نے ان پر حملہ کیا، جس سے وہ ہسپتال پہنچے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سازش نظامیہ کے ایجنٹوں نے رضا شاہ کے حکم پر کی تھی اور مشہور جملہ "دشمنوں کی آنکھوں میں خاک، ابھی مدرس زندہ ہے" ان ہی دنوں میں رضا شاہ کے تعزیتی تار کے جواب میں ہے۔ مدرس کچھ مہینوں بعد صحت یاب ہوئے اور مجلس میں حاضر ہوئے، جبکہ مدرس کے اصلاحی تجاویز کے زیادہ تر صفحات اسی دور کی مجلس سے تعلق رکھتے ہیں[40]۔
ساتویں دور کے انتخابات
مدرس ساتویں دور کے مجلسی انتخابات میں حکومت کی جانب سے آراء میں مداخلت کی وجہ سے مجلس تک نہ پہنچ سکے اور مدرس کے بقول ان کا ایک ووٹ بھی ان کے اپنے حق میں شمار نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ مدرس اپنی علمی سرگرمیوں میں مصروف تھے، لیکن مدرس کی روحانی بہادری اور لہجے کی صراحت جنہوں نے رضا شاہ کے خلاف ان کی مزاحمت کو عروج پر پہنچا دیا تھا اور انگلستان بھی مدرس جیسی شخصیات کا مخالف تھا، ان کی وجہ سے ان کے خلاف منفی محاذ بندی ہو گئی۔ یہاں تک کہ مدرس کی شخصیت کو داغدار کرنے کے لیے، ان کی جانب سے جعلی خط اور دستخط کے ذریعے مدرس کو شیخ خزعل (سن ۱۳۰۳ ہجری شمسی میں سردار سپہ کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے اور انگلستان کے حمایتیوں میں سے) کے حمایتیوں میں شامل بتایا گیا،[41]۔ ان مسائل نے بالآخر باعث بنا کہ مدرس کو ۱۶ مہر ۱۳۰۷ ہجری شمسی کو سرکاری اہلکاروں نے گرفتار کر لیا اور ایران اور افغانستان کی سرحد پر واقع شہر خواف میں انتہائی نامساعد حالات میں جلاوطن کر دیا گیا。
سیاست کے میدان میں دیانت
آئین ایران کے متمم کے اصل دوم میں یہ پیش بینی کی گئی تھی کہ مجلس شورای ملی کے منظور شدہ قوانین علماء اور درجہ اول کے مجتہدین کی ایک ہیئت کی نگرانی میں ہونے چاہئیں۔ اس اصل کے تحت ہر بار کم از کم پانچ مجتہدین کو مجلس میں موجود ہونا ضروری تھا اور مجلس کے قوانین کی نگرانی کرنی تھی اور ان کے مندرجات کی شرعی منظوریم ان کی تائید اور دستخط سے ہونی تھی۔ مجلس کے دوسرے دور میں فقہاء اور مراجع تقلید کی جانب سے شہید مدرس کو درجہ اول کے مجتہد کے طور پر منتخب کیا گیا تاکہ وہ چار دیگر مجتہدین کے ہمراہ مجلس میں جائیں اور وہاں منظور شدہ قوانین کی نگرانی کریں۔ شہید مدرس مجلس دوم کے ۱۹۴ اجلاس گزرنے کے بعد تاریخ ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۲۸ ہجری قمری کو مجلس میں پہنچے لیکن دو سو ویں اجلاس سے تقریر کرنی شروع کی。
جب مدرس نے مجلس کے دائرے میں قدم رکھا تو بعض کا خیال تھا کہ وہ ایک معمولی مذہبی پیشوا ہیں اور یقین نہیں آتا تھا کہ یہ دبلی پتلے سید لکڑی کی لاٹھی اور کھردرے کپڑوں کے ساتھ جلد ہی تمام امور کو سنبھال لیں گے، بحث و استدلال میں کوئی ان کا حریف نہیں ہو سکتا۔ ایران کی نازک صورتحال، حکمرانوں کی نااہلی اور غیر ملکیوں کے مکمل نفوذ نے ایران پر ایسی شرائط مسلط کیں کہ شہید مدرس کی استقامت اور پایداری سے ان میں سے بعض مسلط شدہ شرائط کو ناکام بنا دیا گیا۔ ان میں سے ایک واقعہ ذی الحجہ ۱۳۲۹ میں دولت روس کا انگلستان کی ہمدردی کے ساتھ بھیجا گیا شرمندہ کن الٹی میٹم تھا جس کے تحت انہوں نے مسٹر شوسٹر (جو ایران کے مالی امور کی دیکھ بھال میں مصروف تھے) کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا[42]۔ شہید محمد خیابانی اور شہید مدرس نے اس الٹی میٹم کی مخالفت کی۔ اس مخالفت اور عوام کے مذہبی پیشواؤں کی پیروی میں کیے گئے مظاہروں کے اثرات کی وجہ سے، مجلس دولت روس کو جواب دینے کے لیے کوئی فیصلہ نہ کر سکی[43]。
جنگِ عظیم اول کی ویران کن جنگ کے دوران جب ابھی مجلس تیسرے کی عمر ایک سال بھی نہیں ہوئی تھی، اس وقت کے وزیر اعظم اور مستوفی الممالک نے باقاعدہ طور پر ایران کو اس جنگ میں غیر جانبدار حکومت قرار دیا۔ لیکن روس اور انگلستان نے ایران کی غیر جانبداری کو نظر انداز کرتے ہوئے، ایران کے حکومتی مرکز پر غیر ملکیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا، اسی سبب نمائندوں کے ایک گروہ نے اس حرکت کی مخالفت اور متجاوز قوتوں کے خلاف ہجرت کا آغاز کیا جو درحقیقت ایک عمومی اور جامع قیام تھا جو آہستہ آہستہ تمام طبقات کے افراد اس میں شامل ہوتے گئے اور ان میں مدرس، حاج سید نور الدین عراقی اور حاج آقا نور اللہ اصفہانی جیسی معروف شخصیات شامل تھیں۔ شہر قم میں مہاجرین نے کمیٹی برائے قومی دفاع تشکیل دی جو روسوں کے مقابلے میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی، ملک کے مغربی حصے کی طرف گئے اور ان علاقوں میں عارضی حکومت قائم کی جس کی وزارت انصاف و اوقاف کی ذمہ داری شہید مدرس کے پاس تھی۔ اس پروگرام میں ایک گروہ نے انگلستان اور روس کے اکساوے پر مدرس اور دولت کے سربراہ یعنی نظام السلطنہ مافی کے قتل کا ارادہ کیا لیکن ان کی سازش کا پردہ فاش ہو گیا اور ناکام بنا دی گئی۔ شہید مدرس نامور ارکان کے ایک گروہ کے ہمراہ عثمانی علاقے کی طرف روانہ ہوئے اور انتہائی سادگی سے استنبول پہنچتے ہی اس شہر کے مدرسہ ایرانیان میں علوم دینی کی تدریس کرنے لگے لیکن کچھ عرصے بعد سلطان محمد پنجم، پادشاہ عثمانی نے انہیں دعوت دی کہ وہ ملاقات اور مذاکرے کے لیے اس کے محل میں تشریف لائیں。
مدرس نے اس ملاقات میں استقامت، بہادری اور حیرت انگیز اعتماد کے ساتھ بات کی اور دولت عثمانی سے درخواست کی کہ وہ آذربائیجان کے کچھ حصے کو اپنے ملک میں ملحق ہونے سے روکنے کے لیے اقدام کرے۔ انہوں نے اس ملک کی دیگر شخصیات سے ملاقات میں وحدت مسلمین، مسلمانوں کے اقتدار کے عوامل اور اسلام کی پیشرفت کے بارے میں بات کی[44]۔
رضا خانی استبداد کے خلاف مبارزت
چوتھے دورِ مجلس کے دوران پیش آنے والے المناک واقعات میں سے ایک وزارتِ جنگ کے عہدے پر رضا خان کی سرکشی تھی۔ اس کی کوشش تھی کہ پولیس کے امور، بجٹ اور فوجی طاقت کو اپنے قبضے میں لے لے۔ شہید مدرس نے رضا خان کی عنکبوتی تنظیمات سے خوف کھائے بغیر، غیر معمولی روحانی طاقت کے ساتھ اس منفرد چہرے کے خلاف مبارزت کا آغاز کیا اور مجلس کے چوتھے دور کے 148 ویں اجلاس میں جو 12 مہر 1301 کے مطابق تھا، رضا خان کے خلاف تقریر کی اور اظہار کیا۔ موجودہ صورت حال میں ملک کی سلامتی اس شخص کے ہاتھ میں ہے جس سے ہم میں سے اکثر خوش نہیں ہیں، اور مجھے بغیر خوف اور پردے کے کہنا چاہیے کہ ہماری یہ طاقت ہے کہ اسے معزول کر کے برطرف کر سکتے ہیں![45].
رضا خان نے عوام کو دھوکہ دینے اور استعماری منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جمہوریت کی جھوٹی خواہش کو اپنے آلودہ ذہن میں پرورش دی اور غیر ملکی ایجنٹوں کے ہاتھوں اس کی آبیاری کی۔ یہ حرکت ظاہراً عوامی اور باطن میں ایران کی آزادی اور ثقافتی شناخت کے خلاف، انگلستان کے فیصلے کے مطابق رضا خان کی ذات میں طاقت کے ارتکاز کے لیے ترتیب دی گئی تھی۔ مدرس نے سب سے پہلے اس فساد کے خطرے کو محسوس کیا اور علاج کی کوشش کی۔ تدین جو رضا خان کا سخت حامی تھا، کوشش کی کہ جمہوریت کے خلاف مدرس کی تقریر کے دوران اپنے حامی نمائندوں کو اجلاس سے باہر لے جائے، جس میں وہ کامیاب نہ ہوا، لیکن اجلاس کے باہر اور وقفے کے دوران، حسین بہرامی نامی شخص معروف بہ احیاء السلطنہ نے زبانی جھگڑے کے بعد تدین کے ایما پر مدرس کے گال پر زوردار تھپڑ مارا! اس اقدام سے تہران میں عوام کے ہنگامے اور احتجاج میں اضافہ ہوا۔
رضا خان کے حامیوں نے بے بسی میں رضا خان کو خفیہ راستے سے مجلس سے باہر لے گئے اور شہید مدرس مکمل سکون کے ساتھ عوام کے پاس آئے اور ان کی بیداری اور شعور کا شکریہ ادا کیا۔ عوام کے گرجدار نعرے جاری رہے اور رضا خان نے جو اس حرکت کو اپنے لیے ایک شرمناک شکست سمجھا، 18 فروردین 1302 ہجری شمسی کو ناراضگی کی حالت میں بومہن (جو تہران سے 40 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے) چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد رضا خان کے اجرتی لوگوں نے مجلس کو دھمکی دی کہ سردار سپہ کو واپس لایا جائے اور افواہ پھیلائی کہ ورنہ فوجی تاخت ہو جائے گی۔ لیکن شہید مدرس نے نمائندوں کو تسلی دی اور کہا: مت ڈریں کہ وہ فوجی تاخت نہیں کر سکتا! لیکن اکثر نمائندوں نے مدرس کی بات قبول نہ کی، اور ایک گروپ کو منتخب کیا تاکہ سردار سپہ کو واپس لایا جائے اور اس کام کی تکمیل کے لیے مصدق السلطنہ کی سربراہی میں بارہ رکنی کمیٹی مقرر کی گئی[46]. رضا خان کو واپس لانے کے بعد، نمائندوں کے ایک گروپ کی سازش کے تحت، شہید مدرس کو اس بہانے کہ رضا خان دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتا ہے، قوام السلطنہ کے گھر پر روکے رکھا اور اس کی غیر موجودگی میں مجلس نے 92 ووٹوں سے سردار سپہ کے حق میں رائے دی۔
پانچویں مجلس میں، جبکہ مبارز مسلمان گرفتاری اور جلاوطنی میں تھے اور مدرس اور ان کے ساتھیوں پر ہر طرف سے شدید دباؤ ڈالا جا رہا تھا، مدرس نے واحد حل استیضاح کے مسئلے کو اٹھانا سمجھا اور 7 مرداد 1303 کو ہوشیاری سے بھری تمہید کے ساتھ، تشدد اور بحث و تکرار سے پاک، رضا شاہ کے جرائم کو بے نقاب کیا اور استیضاح کا متن جو ان اور ان کے چند ساتھیوں کے دستخط سے آراستہ تھا، پڑھ کر سنایا۔ لیکن رضا خان کے حامیوں اور اراذل و اوباش کے ایک گروہ کے ہنگامے اور شور شرابے کی وجہ سے استیضاح زیرِ بحث نہ آ سکا اور مناسب وقت کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔ چھٹی مجلس کے دور میں مدرس مجلس کی صدارتِ سنی کے عہدے پر فائز تھے۔ اس مرحلے پر مدرس اور ان کے حامیوں پر مزید دباؤ تھا اور وہ پاکیزہ صفت سید مجلس میں کم جاتے تھے اور زیادہ تدریس میں مصروف رہتے تھے۔ جب مخالفین اور دشمنوں نے دیکھا کہ مدرس کی حق طلبی کی آواز خاموش نہیں ہوگی، تو انہوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا، لیکن یہ کوشش ناکام رہی اور چلائی گئی گولیوں سے مدرس کا بازو اور کندھا زخمی ہو گیا۔ مدرس 64 دن بعد صحت یاب ہوئے اور 11 دی 1305 کو مجلس میں حاضر ہوئے۔
1307 میں ساتویں دورِ مجلس شوریٰ قومی کے آغاز پر رضا خان نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی طرح مدرس اور ان کے ساتھیوں کو مجلس میں داخل ہونے سے روکا جائے اور اسی لیے مکمل طور پر حکمی انتخابات کروائے۔ یہاں تک کہ صندوقوں سے مدرس کے نام کا ایک بھی ووٹ نکلا۔ اسی وجہ سے مدرس نے مجلس میں اپنے درس میں کہا: (اگر) 20 ہزار لوگ جنہوں نے پچھلے دور میں مجھے ووٹ دیا تھا، سب مر گئے ہوں یا ووٹ نہ دیا ہو، تو وہ ایک ووٹ جو میں نے خود اپنے آپ کو دیا تھا، اس کا کیا بنا!
شہادت
مدرس 9 سال جلاوطنی کے بعد، جبکہ ان کے قتل کا حکم صادر ہو چکا تھا، 22 آبان 1316ھ ش کو قید خانہ کاشمر منتقل کیے گئے اور 27 رمضان کی شام کو، 10 آذر 1316 کو 69 سال کی عمر میں[47] شہید ہوئے۔ ابتدا میں زہر پلایا گیا اور اس کے اثر نہ کرنے کی وجہ سے، سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں گھونٹ دے کر شہید ہوئے[48]۔ انہیں کاشمر میں خفیہ طور پر دفن کیا گیا، جبکہ ان کا مزار کاشمر کے رہائشیوں کی جانب سے چار سال تک خفیہ طور پر نشان زد کیا جاتا رہا[49]۔ مدرس کے قتل کی کیفیت کئی سال کی خاموشی کے بعد، شہریور 1320 اور رضا شاہ کے سقوط کے بعد آشکار ہوئی اور عدلیہ میں اس کی تحقیق کی گئی[50]۔ انقلاب اسلامی ایران کے بعد، امام خمینی (رحمہ اللہ علیہ) جو مدرس کو عظیم روح اور حق گو زبان کا مالک سمجھتے تھے،[51] انہوں نے 28 شہریور 1363ھ ش کو ان کے مزار کی تعمیر نو کا حکم صادر فرمایا[52]۔
حوالہ جات
- ↑ مکی، حسین، مدرس قہرمان آزادی، ج۱، ص۵۴، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۵۹
- ↑ مدرسی، علی، مردِ روزگاراں (مدرس شہید، نابغہ ملی ایران)، ص۳۹۷، تہران، ہزاران، ۱۳۷۴، دوسرا ایڈیشن
- ↑ گلبن، محمد، مدرس تاریخ اور تصویر میں، ص۲۵، بلا مقام، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی ادارہ چاپ و انتشارات، ۱۳۶۷
- ↑ باقی، عبد العلی، مدرس مجاہدِ شکست ناپذیر، ص۲۶، قم، گواہ، ۱۳۷۰
- ↑ مدرسی، علی، مردِ روزگاراں (مدرس شہید، نابغہ ملی ایران)، ص۴۵-۴۶، تہران، ہزاران، ۱۳۷۴، دوسرا ایڈیشن
- ↑ باقی، عبد العلی، مدرس مجاہدِ شکست ناپذیر، ص۲۶، قم، گواہ، ۱۳۷۰
- ↑ ہمان، ص۳۲
- ↑ طباطبائی، محیط، مقالہ طفولیت مدرس، مجلہ محیط، نمبر دوم، سال اول، مہر ۱۳۲۱
- ↑ بودباقی، عبدالعلی، مدرس مجاہدِ شکست ناپذیر، ص۲۶
- ↑ امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، ج۵، ص۲۱۱
- ↑ ایضاً
- ↑ باقی، عبدالعلی، مدرس مجاہدی شکست ناپذیر، ص ۱۶۰-۱۶۱
- ↑ مدرسی، علی، مدرس شهید نابغه ملی ایران، ص۴۵
- ↑ مدرس قهرمانی آزادی، حسین مکی، ج۲، ص۱۲۹، به نقل از یادنامه مدرس
- ↑ مجله حوزه، سال سوم، شماره مسلسل ۱۶، ص۴۲
- ↑ مدرس قهرمانی آزادی، حسین مکی، ج۲، ص۷۴، به نقل از یادنامه مدرس
- ↑ باقی، عبدالعلی، مدرس مجاهدی شکستناپذیر، ص۳۳
- ↑ شکوری، ابوالفضل، مقاله شخصیت علمی و فقهی مدرس، مندرج در کتاب مدرس، ج۲
- ↑ مدرس قهرمانی آزادی، حسین مکی، ج۲، ص۵۷-۵۸، به نقل از یادنامه مدرس
- ↑ مدرسی، علی، بنیاد تاریخ انقلاب اسلامی، ج۱، ص۲۶۸
- ↑ رمضانی، عباس، سیدحسن مدرس، ص۱۳۹-۱۴۱، تهران، ترفند، ۱۳۸۶، چاپ دوم
- ↑ مدرسی، علی، مرد روزگاران (مدرس شهید، نابغه ملی ایران)، ص۴۲۹، تهران، هَزاران، ۱۳۷۴، چاپ دوم
- ↑ دوانی، علی، اساتذہ آیت اللہ شہید سید حسن مدرس، ص۴۲-۸۲، مدرس، تاریخ و سیاست، تہران، مؤسسہ پژوهش و مطالعات فرهنگی، ۱۳۷۵ھجری شمسی
- ↑ یادنامہ شہید مدرس، اصفہان، بخش فرهنگی جہاد دانشگاهی دانشگاه اصفہان، ص۷۴، ۱۳۶۹ھجری شمسی
- ↑ استادی، رضا، حاشیہ رسائل شیخ انصاری، ص۲۶-۴۳، مدرس، تاریخ و سیاست (مجموعہ مقالات)، تہران، مؤسسہ پژوهش و مطالعات فرهنگی، ۱۳۷۵ھجری شمسی
- ↑ مدرس، سید حسن، گنجینہ خواف: مجموعہ درسها و یادداشتهای روزانہ شہید سید حسن مدرس در تبعید، بہ کوشش نصر اللہ صالحی، تہران، طہوری، ۱۳۸۵ھجری شمسی
- ↑ مدرسی، علی، مدرس، مجلس و تاریخ، نشریہ مجلس و پژوهش، فروردین ۱۳۷۳ھجری شمسی، شمارہ ہفتم
- ↑ عاقلی، باقر، شرح حال رجال سیاسی و نظامی معاصر ایران، ج۳، ص۱۳۷۲، تہران، نشر گفتار و علم، ۱۳۸۰ھجری شمسی
- ↑ مدرس و مجلس (نامے و اسناد)، ص۱۹، تہران، مؤسسہ پژوهش و مطالعات فرهنگی، ۱۳۷۳ھجری شمسی
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، ج۱، ص۴۲۲، تہران، مؤسسہ نشر آثار امام، ۱۳۷۹ھجری شمسی
- ↑ مدرس و مجلس (نامے و اسناد)، ص۴۱، تہران، مؤسسہ پژوهش و مطالعات فرهنگی، ۱۳۷۳ھجری شمسی
- ↑ بہار (ملک الشعرا)، محمد تقی، تاریخ مختصر احزاب سیاسی ایران: انقراض قاجاریہ، ج۱، ص۱۴-۲۳، تہران، امیر کبیر، ۱۳۸۶ھجری شمسی، چاپ ہفتم
- ↑ مکی، حسین، مدرس ہیروِ آزادی، ج۱، ص۱۱۵-۱۴۶، تہران، ادارہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۵۹
- ↑ مدرس اور مجلس (خطوط اور اسناد)، ص۵۰، تہران، ادارہ تحقیق و ثقافتی مطالعات، ۱۳۷۳
- ↑ بہار (ملک الشعرا)، محمد تقی، تاریخ مختصر ایران کی سیاسی جماعتیں: قاجاریہ کا خاتمہ، ج۲، ص۱۹-۲۰، تہران، امیر کبیر، ۱۳۸۶، ساتواں ایڈیشن
- ↑ عاقلی، باقر، معاصر ایران کے سیاسی اور فوجی شخصیات کا تعارف، ج۳، ص۱۳۷۸، تہران، نشر گفتار و علم، ۱۳۸۰، ج۳، ص۱۳۷۹
- ↑ بہار (ملک الشعرا)، محمد تقی، تاریخ مختصر ایران کی سیاسی جماعتیں: قاجاریہ کا خاتمہ، ج۲، ص۵۷، تہران، امیر کبیر، ۱۳۸۶، ساتواں ایڈیشن
- ↑ تقریریں، مکتوبات اور شہید مجاہد سید حسین مدرس کے بارے میں نوٹس، بغیر مقام، ابوذر، ۱۳۵۵
- ↑ مدرس اور مجلس (خطوط اور اسناد)، ص۴۱، تہران، ادارہ تحقیق و ثقافتی مطالعات، ۱۳۷۳
- ↑ مدرس، تاریخ اور سیاست، ص۹۱-۱۱۷، تہران، ادارہ تحقیق و ثقافتی مطالعات، ۱۳۷۵
- ↑ مکی، حسین، مدرس قہرمان آزادی، ج۲، ص۵۲۰-۵۳۹، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۵۹
- ↑ رئیس نیا، رحیم، ناہید، عبدالحسین، دو مبارز مشروطہ، ص۲۰۶-۲۰۷
- ↑ کسروی، احمد، تاریخ اٹھارہ سالہ آذربائیجان، ص۴۸۸
- ↑ باقی، عبدالعلی، مدرس مجاہدی شکست ناپذیر، ص۴۲
- ↑ ترکمان، محمد، پنج دورِ مجلس شوریٰ قومی میں مدرس، ج۱، ص۳۲۷ -۳۲۸
- ↑ آیت، حسین، مصدق السلطنہ کی حقیقی شخصیت، ص۴۰
- ↑ مکی، حسین، مدرس قہرمان آزادی، ج2، ص860-865، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، 1359
- ↑ مدرسی، علی، مرد روزگاراں (مدرس شہید، نابغہ ملی ایران)، ص322-333، تہران، ہزاران، 1374، اشاعت دوم
- ↑ مدرسی، علی، مرد روزگاراں (مدرس شہید، نابغہ ملی ایران)، تہران، ہزاران، 1374، اشاعت دوم، ص398
- ↑ مکی، حسین، مدرس قہرمان آزادی، ج2، ص787-833، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، 1359، مدرسی، علی، مرد روزگاراں (مدرس شہید، نابغہ ملی ایران)، ص333-382، تہران، ہزاران، 1374، اشاعت دوم، عاقلی، باقر، شرح حال رجال سیاسی و نظامی معاصر ایران، ج3، ص1387-1405، تہران، نشر گفتار و علم، 1380
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، ج19، ص73، تہران، مؤسسہ نشر آثار امام، 1379
- ↑ مدرس و مجلس (خطوط و اسناد)، ص157، تہران، مؤسسہ پژوهش و مطالعات فرهنگی، 1373