مندرجات کا رخ کریں

"ابواسحاق اسفراینی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
{{Infobox person
{{Infobox person
| title = ابواسحاق اسفراینی
| title = ابواسحاق اسفراینی
| image =  
| image = ابو اسحاق.jpg
| name = ابواسحاق رکن‌الدین ابراهیم بن محمد اسفراینی
| name = ابواسحاق رکن‌الدین ابراهیم بن محمد اسفراینی
| other names =  337 ق
| other names =  337 ق

نسخہ بمطابق 13:39، 3 جون 2026ء

ابواسحاق اسفراینی
پورا نامابواسحاق رکن‌الدین ابراهیم بن محمد اسفراینی
دوسرے نام337 ق
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہایران، صوبه خراسان، اسفراین
اساتذہابوجعفر محمد بن علی جوشقانی اسفراینی، ابوبکر اسماعیلی
مذہباسلام، اہل سنت،شافعی
مناصبشافعی معروف فقہا، اور اشعریمشہور متکلم۔

ابواسحاق رکن الدین ابراہیم بن محمد اسفراینی، (337–418ھ) شافعی فقہا میں سے معروف اور اشعری مکتبِ کلام کے مشہور متکلم ہیں[1]۔

پیدائش

ان کی پیدائش کا سال قطعی طور پر معلوم نہیں؛ تاہم بعض مصادر کی ان روایات کی بنا پر جن میں ان کی عمر اسی برس سے زیادہ بیان ہوئی ہے، یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ ابواسحاق کی پیدائش تقریباً 337 ہجری قمری میں اسفراین میں ہوئی[2]۔

حالاتِ زندگی

ابواسحاق نے اپنے وطن اسفراین میں ابوجعفر محمد بن علی جوشقانی اسفراینی (م 350ھ) سے حدیث سماع کی اور روایت کی[3][4]۔ انہوں نے جوانی میں عراق کا سفر کیا اور بغداد میں سکونت اختیار کی، جہاں اس زمانے کے متعدد محدثین، فقہا اور متکلمین سے استفادہ کیا۔ نیز انہوں نے ابوبکر اسماعیلی، ابوبکر محمد بن یزداد بن مسعود، ابومحمد عبدالخالق بن حسن سقطی، ابواحمد غطریض، محمد بن محمد بن ررمونہ، ابوبکر شافعی اور ابو محمد دعلج بن احمد سجزی اور ان کے طبقات سے بھی حدیث سماع کی۔ ایک مرحلے پر وہ تصنیف و تدریس میں مشغول ہوئے، یہاں تک کہ وہ علوم میں متبحر علما میں شمار ہونے لگے اور عربی زبان، فقہ، کلام، معرفتِ قرآن اور سنتِ نبوی میں امامت و پیشوائی کی جامع شرائط کے حامل بن گئے، اور مرتبۂ «اجتہاد» تک پہنچے[5]۔

عراق میں اپنی تحصیلی مدت مکمل کرنے کے بعد ابواسحاق علم و دانش کے ایک وافر ذخیرے کے ساتھ نیشاپور واپس آئے اور ایک بڑے اور بے نظیر مدرسے میں—جو ان کی موجودگی کی بنا پر قائم ہوا تھا—تدریس اور بیانِ حدیث میں مشغول ہوئے[6][7]۔

علم و فضل کی بنا پر عراق اور خراسان کے لوگوں میں ان کی بہت تعظیم کی جاتی تھی۔ علماے رجال نے ابواسحاق کی بہت توثیق کی اور انہیں ثقہ قرار دیا ہے[8]۔ وہ فقہا اور مجتہدین میں بھی متبحر تھے اور ان کی فقہی و اصولی آرا کو مختلف شافعی مصادر میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے[9][10][11]۔

حاکم نیشاپوری کے مطابق نیشاپور کے اکثر اکابر نے علم کلام اور علم اصول ابواسحاق اسفراینی ہی سے سیکھا۔ ان کی آرا، ابوبکر باقلانی اور ابن فورک کی آرا کے ساتھ مل کر مذہبِ اشعری کے استحکام کا سبب بنیں[12]۔ صاحب بن عباد سے منقول ہے کہ وہ اپنے اصحاب و شاگردوں سے کہا کرتے تھے: باقلانی ڈبو دینے والا سمندر ہے، اسفراینی جلانے والی آگ ہے، اور ابن فورک کاٹ دینے والی تلوار ہے[13]۔ ان کے اہم اصولی عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ سنت کے ذریعے قرآن کی نسخ (منسوخی) ممکن ہے۔

وفات

یہ شخصیت نیشاپور میں وفات پا گئی اور ابتدا میں اسی شہر کے مقبرۂ حیرہ میں دفن کی گئی، لیکن تین دن گزرنے کے بعد ان کے فرزند نے ان کے جسد کو اسفراین منتقل کیا اور وہیں سپردِ خاک کیا[14]۔

ابواسحاق کے اساتذہ

ابواسحاق نے معروف اساتذہ کے سامنے شاگردی کی۔ ان میں یہ حضرات شامل ہیں: ابوجعفر محمد بن علی جوسقانی، ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی، ابوبکر محمد بن یزداد اسفراینی، ابواحمد محمد بن احمد غطریفی، ابومحمد دعلج بن احمد سجزی اور ابوبکر محمد بن عبداللہ شافعی[15][16][17]۔

ابواسحاق کے شاگرد

ابواسحاق نے بہت سے شاگردوں کی تربیت کی۔ ابواسحاق شیرازی نقل کرتے ہیں کہ نیشاپور کے اکثر مشاہیر اور شیوخ نے علم کلام اور علم اصول انہی سے حاصل کیا[18]۔ ان کے بعض مشہور شاگردوں کے نام یہ ہیں: ابومنصور عبدالقادر بن طاہر بغدادی، قاضی ابوطیب طبری، حاکم نیشاپوری، ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، ابوالقاسم قشیری[19][20][21][22][23]۔

افعالِ عباد کے بارے میں ابواسحاق اسفراینی کا تقریبی کلامی نظریہ

ابواسحاق اسفراینی چونکہ ایک نامور اشعری متکلم ہیں، اسی وجہ سے وہ مکتبِ اشاعرہ کے مخصوص زاویۂ نگاہ سے افعال عباد کی تفسیر کرتے ہیں اور نظریۂ کسب پیش کر کے اپنے عقائد کی توضیح کرتے ہیں۔ تاہم بعض لوگوں کے اس تصور کے برخلاف کہ اشاعرہ کو لازماً جبر پسند/جبر گرا سمجھا جاتا ہے، وہ بھی اپنے دیگر ہم مسلک علما کی طرح نظریۂ کسب کی تشریح میں جبر اور تفویض کے درمیان ایک راہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور انسان کو جبر کی تنگنائے الزام سے نکالنا چاہتے ہیں۔

ابن قیم جوزی ان کے قول کو یوں نقل کرتے ہیں: «حقیقة الخلق من الخالق وقوعه بقدرته من حیث صحّ انفراده به و حقیقة الفعل وقوعه بقدرته و حقیقة الکسب من المکتسب وقوعه بقدرته مع انفراده به و یختص القدیم تعالی بالخلق و یشترک القدیم و المحدث فی الفعل و یختص المحدث بالکسب. قلت مراده أن إطلاق لفظ الخلق لا یجوز إلا علی اللّه وحده و إطلاق لفظ الکسب یختص بالمحدث و إطلاق لفظ الفعل یصح علی الرب سبحانه و العبد»[24]۔

یعنی خلق کی حقیقت خالق کی طرف سے ہے جو خداوند کی قدرت سے وجود میں آتی ہے اور خلق میں انفراد صرف اسی کے لیے ہے (صرف وہی خالق ہے)۔ فعل کی حقیقت بھی قدرت کے ساتھ واقع ہوتی ہے، اور کسب کی حقیقت «مکتسب» سے متعلق ہے اور فاعلِ کاسب یعنی انسان کے ساتھ مخصوص ہے۔ پس قدیم (خدا) خلق کرتا ہے اور محدث (عبد) کے ساتھ فعل کے تحقق میں شریک سمجھا جاتا ہے، لیکن کسب اور اس کا اطلاق محدث (بندے) کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم لفظِ فعل (فاعلیت) کا اطلاق خدا اور عبد دونوں پر درست ہے۔

اسفراینی نے اس بیان میں فعل کے وقوع کے تین مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے: 1) پہلے مرحلے میں—جو مرحلۂ خلق ہے—وہ اسے صرف خداوندِ متعال کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں؛ ان کے نزدیک خدا کے سوا کسی کی طرف خلق کی نسبت جائز نہیں۔ 2) دوسرے مرحلے میں—یعنی مرحلۂ فعل—وہ خدا اور انسان دونوں کو شریک مانتے ہیں؛ لہٰذا فعل کی نسبت بھی خدا کی طرف اور انسان کی طرف درست ہے اور دونوں حقیقی فاعل شمار ہوتے ہیں۔ 3) تیسرے مرحلے میں—یعنی فعل سے خروج اور کسب میں دخول—انسان «کاسب» ہے جو اپنی قوۂ محدثہ کے ذریعے فعل کو کسب کرتا ہے۔

وہ کسب کی ایک اور تعریف بھی بیان کرتے ہیں: «کل فعل یقع علی التعاون کان کسبا من المستعین»[25]۔ یعنی ہر وہ فعل جو کسی دوسرے کی مدد کے سہارے واقع ہو، وہ کسب ہے، اور وہ شخص جس کی مدد کی گئی ہو «کاسب» کہلاتا ہے۔

ابن قیم جوزیہ اس فقرے کی تشریح میں کہتے ہیں کہ خلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور فاعلِ کاسب (انسان) خالق نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ مستقل قدرت کا مالک نہیں؛ بلکہ فعل کے انجام کے لیے ایک دوسری قدرت یعنی خدا کی قدرت کا محتاج ہے۔ اسی طرح ان کے نزدیک کسب کی تفسیر میں ایک فعل کی تصویر سازی/تشکیل میں دو فاعلوں کے تعاون کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ لہٰذا اسفراینی کے نزدیک ہر فعل کی ذات دو قدرتوں کے دخل سے—یا دوسرے الفاظ میں دو فاعلوں کی موجودگی سے—متحقق ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ فعل کے ایجاد، تشکیل اور کسب میں افعال کی توالی فاعلوں کے حقیقی تعلق اور باہمی تعاون پر دلالت کرتی ہے، اگرچہ فاعلِ کاسب کا مختار اور صاحبِ ارادہ ہونا ضروری ہے؛ اس پہلو سے یہ تبیین امر بین الامرین کے قریب سمجھی جا سکتی ہے۔

ایک اور نکتہ یہ ہے کہ ابواسحاق اسفراینی ابتدا میں ابوبکر باقلانی کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ فعل (خلق کے بعد) دو حیثیتوں—ذات اور صفت—کا حامل ہوتا ہے؛ لیکن وہ باقلانی اور اشعری کے برخلاف یہ مانتے ہیں کہ خدا کی قدرت اور انسان کی قدرت دونوں بیک وقت فعل کی ذات اور صفات میں مؤثر ہوتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ خدا کی قدرت مستقل طور پر اور بندے کی قدرت غیر مستقل طور پر فعل کی ذات میں اثر انداز ہوتی ہے؛ لیکن جب خدا کی قدرت بندے کی قدرت کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے تو بندے کی قدرت بھی منشأ اثر بن جاتی ہے۔

تھوڑی دقت کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے کہ اسفراینی اس تفسیر کے ذریعے امامیہ کے نظریۂ امر بین الامرین کے بہت قریب آ جاتے ہیں؛ کیونکہ ان کی توضیح میں افعالِ عباد اور کسب کے تحقق میں دو قدرتیں اور دو فاعل (ایک مستقل اور دوسرا غیر مستقل) زیرِ بحث آتے ہیں اور دونوں تشکیلِ فعل میں دخیل ہیں۔ امر بین الامرین میں بھی صورت کچھ ایسی ہی ہے کہ دو فاعل بیک وقت اور اپنے اپنے حصے کے مطابق ایک فعل کی تشکیل میں مداخلت کرتے ہیں، جن میں ایک مستقل اور دوسرا غیر مستقل ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ امامیہ امر بین الامرین کی تشریح میں «طولی فاعلیت» کے قائل ہیں، جبکہ اشاعرہ—جن میں اسفراینی بھی شامل ہیں—اپنے سے پہلے کے متکلمین کی طرح اس کے قائل نہیں۔

اسی لیے اسفراینی کے نظریۂ کسب اور امامیہ کے نظریے کے ساتھ اس کی تفسیری مشابہت نے ایک ایسے متکلم—مثلاً خواجہ نصیر طوسی —کو بھی اس نکتے کی طرف اشارہ اور اس کے اعتراف پر آمادہ کیا۔ وہ لکھتے ہیں: «زعم الاُستاذ أبو إسحاق انّ ذات الفـعل [وصـفاته] تـقع بقدرتین»[26]۔ یعنی ابواسحاق اسفراینی کے نزدیک فعل کی ذات اور صفات دو قدرتوں (الٰہی اور انسانی) سے متحقق ہوتی ہیں۔ تاہم اس متکلم کے قول اور امامیہ کے آرا میں فرق کے پہلو سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھی دوسرے اشاعرہ کی طرح صرف خدا ہی کو افعال کا خالق مانتے ہیں اور انسان کے لیے خلق شدہ فعل کے کسب کے علاوہ کوئی اور حصہ تسلیم نہیں کرتے۔

حوالہ جات

  1. وفیات الاعیان، ج 1، ص 28.
  2. ر.ک: العبر (تاریخ ابن خلدون)، ج 2، ص 234.
  3. الانساب، تحقیق معلمی یمانی، ج 3، ص 140–409.
  4. ابن عساکر دمشقی، تبیین کذب المفتری، ص 243–244.
  5. کتاب السیاق، ص 151.
  6. ابن صلاح تقی الدین، مقدمه، بہ کوشش عائشہ بنت الشاطی، قاہرہ، 1974ء.
  7. ابن عساکر علی بن حسن، تبیین کذب المفتری، دمشق، 1347ھ.
  8. کتاب السیاق، ص 151–152.
  9. تهذیب الاسماء و اللغات، ج 1، ص 169–170.
  10. محمد بن احمد عبادی، طبقات الفقهاء الشافعیه، بہ کوشش گوستاویتستام، لیدن، 1964ء، ص 104.
  11. تاج الدین سبکی، طبقات الفقهاء الشافعیه، ج 4، ص 259–260.
  12. نووی، یحییٰ بن شرف، تهذیب الاسماء و اللغات، قاہرہ، اداره الطباعه المنیریه، ج 1، ص 169–170.
  13. طبقات الشافعیه الکبری، ج 4، ص 261–262.
  14. فارسی، عبدالغافر بن اسماعیل، ج۱، ص۱۵۲، تاریخ نیشابور، انتخاب صریفینی، بہ کوشش محمد کاظم محمودی، قم، ۱۴۰۳ق.
  15. فارسی، عبدالغافر بن اسماعیل، ج۱، ص۱۵۱، تاریخ نیشابور، انتخاب صریفینی، بہ کوشش محمد کاظم محمودی، قم، ۱۴۰۳ق.
  16. سمعانی، عبدالکریم ابن محمد، ص۲۲۵-۲۹۶، الانساب، حیدرآباد دکن، ۱۳۸۲ق/۱۹۶۲م.
  17. ذہبی، محمد بن احمد، ج۱۷، ص۳۵۳، سیر اعلام النبلاء، بہ کوشش شعیب ارنؤوط، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.
  18. ابواسحاق شیرازی، طبقات الفقهاء، ج۱، ص۱۲۷، بہ کوشش احسان عباس، بیروت، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۲م.
  19. عبادی، محمد بن احمد، ج۱، ص۱۰۴، طبقات الفقهاء الشافعیه، بہ کوشش گوستا ویتستام، لیدن، ۱۹۶۴م.
  20. ابواسحاق شیرازی، طبقات الفقهاء، ج۱، ص۱۲۶، بہ کوشش احسان عباس، بیروت، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۲م.
  21. سمعانی، عبدالکریم ابن محمد، ج۱، ص۲۹۶، الانساب، حیدرآباد دکن، ۱۳۸۲ق/۱۹۶۲م.
  22. حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، ج۱، ص۸۲، تاریخ نیشابور، تلخیص و ترجمہ خلیفہ نیشابوری، بہ کوشش بہمن کریمی، تہران، ۱۳۳۹ش.
  23. ذہبی، محمد بن احمد، ج۱۷، ص۳۵۳، سیر اعلام النبلاء، بہ کوشش شعیب ارنؤوط، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.
  24. ابن قیم جوزیہ، شفاء العلیل فی مسائل القضاء و القدر و الحکمة و التعلیل، ص 324.
  25. ابن قیم جوزیہ، شفاء العلیل فی مسائل القضاء و القدر و الحکمة و التعلیل، ص 324.
  26. خواجہ نصیر الدین طوسی، تلخیص المحصل، ص 325.