"امیل جمیل لحود" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 2: | سطر 2: | ||
{{Infobox person | {{Infobox person | ||
| title = امیل جمیل لحود | | title = امیل جمیل لحود | ||
| image = | | image = ایمیل.jpg | ||
| name = امیل جمیل لحود | | name = امیل جمیل لحود | ||
| other names = امیل لحود | | other names = امیل لحود | ||
نسخہ بمطابق 14:53، 30 مئی 2026ء
| امیل جمیل لحود | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | امیل جمیل لحود |
| دوسرے نام | امیل لحود |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1936 ء |
| یوم پیدائش | 12 جنوری |
| پیدائش کی جگہ | قصبہ بعبدات/ لبنان |
| مذہب | اسلام، اہل سنت |
| مناصب | چیف آف اسٹاف، سابق صدر لبنان۔ |
امیل جمیل لحود لبنان کی بحریہ کے پہلے بیڑے کے کمانڈر، چیف آف اسٹاف اور لبنان کے گیارہویں صدر تھے۔ وہ جنرل جمیل لحود کے فرزند ہیں جنہوں نے لبنان کی فوج کی تشکیل اور آزادی کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔
سوانح حیات
وہ 12 جنوری 1936 کو قصبہ بعبدات لبنان میں پیدا ہوئے۔
فوج میں شمولیت سے لے کر چیف آف اسٹاف تک
انہوں نے 1968ء میں لبنان کی بحریہ کے پہلے بیڑے کی کمان سنبھالی اور 1970ء سے 1983ء تک، جب وہ وزارت دفاع لبنان کے فوجی دفتر کے سربراہ تھے، فوج میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ نیز، چیف آف اسٹاف کے طور پر انہوں نے 19ء89 سے 1998ء تک اس ملک کی فوج کی ازسر نو تعمیر کی جو خانہ جنگی (1975-1990) کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھی۔
دورِ صدارت
وہ 24 نومبر 1998 عیسوی کو لبنان کے چودہویں صدر منتخب ہوئے، اگرچہ ان کا دورِ صدارت دسمبر 2004ء میں ختم ہونا چاہیے تھا، لیکن لبنان کی پارلیمنٹ نے ستمبر 2004 عیسوی میں ایک بل کی منظوری کے بعد ان کے دورِ صدارت میں تین سال کا اضافہ کر کے اسے 2007 عیسوی تک بڑھا دیا۔ امیل لحود کا دورِ صدارت 24 نومبر 2007 عیسوی کو ختم ہوا، لیکن نئے صدر کے انتخاب اور انتخابی نظام کے حوالے سے ملک میں پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے انہوں نے صدارتی محل چھوڑنے سے قبل ایک پیغام کے ذریعے لبنان میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے ملک کی سیکیورٹی کا کنٹرول فوج کے سپرد کر دیا۔
ایران کے ساتھ تعلقات
لحود نے لبنان کے سابق صدر اور ایک بااثر شخصیت کے طور پر لبنان کی گزشتہ تبدیلیوں میں بہت اچھا کردار ادا کیا اور تہران کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات تھے۔ ماضی میں بھی انہوں نے ایران کے ساتھ تعلقات کی توسیع کے لیے بہت کوششیں کیں۔
مزاحمت اسلامی کی حمایت، جو صیہونی رژیم کی افواج کے خلاف طویل مدتی جنگ اور خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ 33 روزہ جنگ کے دوران کی گئی، صیہونی رژیم کے خلاف جنگ کے محاذ میں لبنان کی کامیابیوں اور فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے والی ثابت ہوئی۔ اسی طرح، ایران کے اپنے دورے سے قبل انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا ایران کا دورہ لبنان کے حق میں ایران کی حمایت، خاص طور پر ان کی صدارت کے دوران، کی وفاداری کا اعلان ہے۔
المنار نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں لحود نے کہا: "ایران کی دعوت اس وقت کی تھی جب میں صدر کے عہدے پر تھا، لیکن مختلف واقعات اور حادثات نے میرے تہران کے دورے میں رکاوٹ ڈالی۔"
لحود نے اپنے خلاف کیے جانے والے تنقیدی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے مزید کہا: "کچھ مہینے پہلے میں نے اس تاریخ میں ایران جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ایران بغیر کسی لالچ کے لبنان کے ساتھ کھڑا تھا اور کبھی ہم سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا۔" لبنان کے سابق صدر نے حال ہی کے مہینوں میں اپنے خلاف تنقید اور ایران کے دورے کے بعد اس میں اضافے کے امکان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا: "میں اپنے عقائد پر یقین رکھتا ہوں اور ان کی تنقید کا انتظار کر رہا ہوں۔"
انہوں نے اپنے ناقدین کو اسرائیل کے حامی قرار دیتے ہوئے مزید کہا: "جونی عبدو، جو لبنان کی فوج کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ہیں، میرے ناقدین میں سے ایک ہیں جو 1982 اور 1983 میں بیروت پر قبضے سے قبل ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اسرائیل کے لبنان پر حملے کا راستہ ہموار کیا۔ میں اس وقت فوج کے اسٹاف کے افسران میں سے تھا اور مجھے یاد ہے کہ عبدو نے حملے سے تین مہینے پہلے اسٹاف کے افسران کے پاس جا کر ان سے کہا تھا کہ اسرائیل بیروت پر قبضہ کر لے گا۔ یہ پوچھا جانا چاہیے کہ اسے یہ معلومات کہاں سے ملیں؟" لحود نے مزید کہا: "بیروت پر قبضے کے بعد، اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع ایریل شارون جونی عبدو کے گھر میں مقیم تھے اور ایک عرب ملک سے پیسوں سے بھرے سوٹ کیس لا کر انہیں مخصوص افراد میں تقسیم کیا اور انہیں ماہانہ ایک خاص رقم ادا کی جاتی تھی، جس قسم کے اعمال کو میرے دور میں بند کر دیا گیا۔"
لبنان کے سابق صدر نے کہا: "سب سے اہم کام جو ہم نے کیا وہ یہ تھا کہ ہم 2000ء میں دشمن کو شکست دے کر لبنان کی سرزمین کو آزاد کروا سکے اور 2006ء کی گرمیوں کی جنگ میں دوبارہ دشمن کو شکست دی۔ جو باتیں کبھی کبھار سنی جاتی ہیں وہ اہم نہیں ہیں؛ اہم یہ ہے کہ ہم دشمن پر فتح یاب ہوئے۔" لحود نے امریکہ کے دباؤ اور پھر رفیق حریری کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "مستقبل قریب میں حقیقت واضح ہو جائے گی۔ وہ قتل کرتے ہیں، پھر مقتول کی تدفین میں شرکت کرتے ہیں اور پھر تمام لوگوں پر الزام لگاتے ہیں۔" بہرحال، ایران اور لبنان کے تعلقات پائیدار ہیں، حکومتیں اور ان کے رجحانات صرف ان تعلقات پر معمولی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ ایران نے جو نیا نقطہ نظر اپنایا ہے وہ لبنان کے ساتھ تعلقات کے لیے درست نقطہ نظر ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں پورے لبنان کے ساتھ تعاون اور لبنان کی وحدت میں مدد ملتی ہے، جبکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ایران کی سیاست کے دروازے تمام لبنانی گروہوں کے لیے کھلے ہیں۔
