"مسجد الحرام" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 83: | سطر 83: | ||
تیسرے خلیفہ نے مسجد کی توسیع کے ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ مسجد کے لیے رواق تعمیر کیے جائیں۔ | تیسرے خلیفہ نے مسجد کی توسیع کے ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ مسجد کے لیے رواق تعمیر کیے جائیں۔ | ||
اس سے پہلے کعبہ کے اطراف کا پورا حصہ بغیر چھت کے تھا، اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اس کے بعض حصوں کو چھت دار بنایا گیا۔ | اس سے پہلے کعبہ کے اطراف کا پورا حصہ بغیر چھت کے تھا، اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اس کے بعض حصوں کو چھت دار بنایا گیا۔ | ||
## عباسی دور میں مسجد الحرام کی تعمیر و توسیع | |||
### منصور عباسی کے عہد میں توسیع | |||
**منصور**، دوسرے عباسی خلیفہ (خلافت: 136–158 ہجری)، جب حج کے لیے مکہ آئے تو انہوں نے محسوس کیا کہ مسجد الحرام میں حج کے لیے آنے والے مسلمانوں کی گنجائش کم ہے۔ چنانچہ انہوں نے ارادہ کیا کہ اطراف کے مکانات خرید کر مسجد میں شامل کیے جائیں اور اس کی توسیع کی جائے۔ | |||
ابتدا میں اطراف کے مکانات کے مالکان نے اس فیصلے کی مخالفت کی، لیکن بعد میں وہ اپنے مکانات فروخت کرنے پر راضی ہوگئے۔ | |||
اس توسیع کے نتیجے میں مسجد کا رقبہ تقریباً **دو گنا** ہوگیا اور قریب **پانچ ہزار مربع میٹر** کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ مسجد کے **شمالی اور مغربی** حصے کی جانب کیا گیا۔ اس بار بھی مسجد کے گرد **رواق** تعمیر کیے گئے اور مغربی گوشے میں ایک **مینار** بھی بنایا گیا۔ دیواروں اور ستونوں کی تزئین و آرائش میں بھی اضافہ کیا گیا۔ | |||
یہ تعمیراتی کام جو **137 ہجری** میں شروع ہوا تھا، **140 ہجری** میں مکمل ہوا۔ | |||
--- | |||
### مہدی عباسی کے دور میں مزید توسیع | |||
**مہدی عباسی**، منصور کے بیٹے (خلافت: 158–169 ہجری)، نے **161 ہجری** میں مسجد کی مزید توسیع کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید مکانات خرید کر مسجد میں شامل کیے۔ کچھ لوگوں نے اپنے مکانات دینے سے انکار کیا۔ | |||
جب مہدی عباسی نے اس مسئلے پر **امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام** سے مشورہ کیا تو امامؑ نے تحریری جواب دیا: | |||
> اگر کعبہ لوگوں کے آنے کے بعد تعمیر ہوئی ہے، یعنی پہلے لوگ یہاں آباد تھے، تو وہ اپنے گھروں کے حوالے سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔ | |||
> لیکن اگر پہلے کعبہ موجود تھا اور لوگ بعد میں یہاں آئے، تو مسجد کو اطراف کی زمینوں پر ترجیح حاصل ہے۔ | |||
مہدی عباسی نے اسی دلیل کی بنیاد پر مکانات حاصل کر لیے۔ بعد ازاں مکانات کے مالکان امام کاظم علیہ السلام کے پاس آئے اور درخواست کی کہ مہدی سے ان کے گھروں کی قیمت دلوا دی جائے، چنانچہ امامؑ نے ایسا ہی کیا۔ | |||
مہدی عباسی کی اس توسیع میں **8380 مربع میٹر** کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے مسجد کے اطراف کئی نئے دروازے کھلوائے، جو صدیوں تک اسی حالت میں باقی رہے۔ | |||
**164 ہجری** میں مہدی عباسی نے ماہرین سے کہا کہ ایسا نقشہ تیار کیا جائے کہ مسجد کو جنوبی سمت سے بھی وسیع کیا جائے، تاکہ تقریباً مسجد کی شکل **مربع** ہو جائے اور **کعبہ اس کے وسط میں** واقع ہو۔ اس منصوبے کے تحت مزید **6560 مربع میٹر** کا اضافہ کیا گیا، اطراف میں رواق تعمیر کیے گئے اور مضبوط ستون قائم کیے گئے۔ | |||
یہ ستون آج تک قائم ہیں اور ان پر مہدی عباسی کے دور کی یادگار **کتبے** موجود ہیں۔ | |||
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مہدی عباسی کے زمانے میں مسجد کو **مسعیٰ** (صفا و مروہ کے درمیان راستہ) کی جانب اتنا وسیع کر دیا گیا کہ مسجد اور مسعیٰ کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہ رہا؛ تاہم بعد کے زمانوں میں اس علاقے میں دوبارہ مکانات تعمیر ہو گئے۔ | |||
--- | |||
### بعد کے عباسی خلفاء کے دور میں توسیع | |||
مہدی عباسی کے بعد **معتضد** اور **مقتدر عباسی** کے زمانے میں مسجد کے شمالی اور مغربی حصوں میں کچھ چھوٹے اضافے کیے گئے۔ | |||
ان میں سے ایک اہم مقام **دارالندوہ** تھا، جو زمانۂ جاہلیت میں **قصی بن کلاب** نے قریش کے اہم امور پر مشاورت کے لیے مسجد الحرام کے قریب تعمیر کیا تھا۔ اس مجلس میں صرف وہ قریشی داخل ہو سکتے تھے جن کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو۔ یہ عمارت تیسری صدی ہجری کے اواخر تک قائم رہی اور جب خلفاء حج کے لیے آتے تو وہ اسی مقام پر قیام کرتے تھے۔ | |||
بعد میں دارالندوہ کی عمارت خستہ حال ہوگئی۔ بارش کے دوران اس کی مٹی اور کیچڑ مسجد الحرام میں بہہ آتا تھا۔ اس پر مکہ کے امیر نے **معتضد عباسی** (خلافت: 279–289 ہجری) سے شکایت کی اور اجازت طلب کی کہ اسے مسجد میں شامل کر لیا جائے یا حجاج کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے۔ | |||
معتضد نے اس تجویز کو قبول کیا اور **281 ہجری** میں اسے مسجد میں شامل کر لیا گیا۔ | |||
**مقتدر عباسی** (خلافت: 295–320 ہجری) نے بھی **باب ابراہیم** کی سمت کچھ حصہ مسجد میں شامل کیا۔ | |||
بعد میں **مستنصر باللہ عباسی** (623–640 ہجری) کے دور میں بھی مسجد کی بعض عمارتوں کی مرمت اور تجدید کے لیے وسیع اقدامات کیے گئے۔ ان تعمیرات کی یادگار کے طور پر مختلف مقامات پر ان کے دور کے **کتبے** موجود ہیں۔ | |||
مثلاً: | |||
- مطاف کی تجدید کے لیے ایک کتبہ آج بھی **حرم میوزیم** میں محفوظ ہے۔ | |||
- اسی طرح **مسجد البیعہ** (جمرہ عقبہ کے قریب) کی تعمیر سے متعلق ایک کتبہ اب بھی اس کی دیوار پر موجود ہے۔ | |||
## عباسی دور کے بعد مسجد الحرام میں اضافے | |||
مہدی عباسی کے بعد، **معتضد** اور **مقتدر عباسی** کے زمانے میں مسجد کے **شمالی** اور **مغربی** حصوں میں کچھ چھوٹے چھوٹے اضافے کیے گئے۔ ان میں ایک اہم مقام **دارالندوہ** تھا، جو **قصی بن کلاب** کے زمانۂ جاہلیت میں قریش کے اہم امور پر مشاورت کے لیے مسجد الحرام کے قریب تعمیر کیا گیا تھا۔ | |||
یہ طے تھا کہ صرف وہی قریشی اس مجلسِ مشاورت میں داخل ہو سکتے تھے جن کی عمر **چالیس سال** سے زیادہ ہو۔ یہ مقام **تیسری صدی ہجری کے اواخر** تک قائم رہا، اور جب خلفا حج کے لیے آتے تھے تو وہیں قیام کرتے تھے۔ | |||
بعد میں دارالندوہ کی عمارت کی طرف توجہ نہ دی گئی اور وہ بوسیدہ ہونے لگی۔ جب بارش ہوتی تو اس کی **مٹی اور کیچڑ** مسجد الحرام میں آ جاتا۔ اس پر **امیرِ مکہ** نے **معتضد عباسی** (خلافت: 279–289 ہجری) سے شکایت کی اور خلیفہ سے درخواست کی کہ اسے مسجد میں شامل کرنے یا حجاج کی قیام گاہ بنانے کی اجازت دی جائے۔ | |||
معتضد نے اس تجویز کو قبول کیا اور اس کا حکم صادر کیا۔ یہ اضافہ **281 ہجری** میں کیا گیا۔ | |||
**مقتدر** (خلافت: 295–320 ہجری) نے بھی **باب ابراہیم** کی سمت مسجد میں ایک حصہ شامل کیا۔ | |||
**مستنصر باللہ عباسی** (623–640 ہجری) کے دور میں بعض عمارتوں کی ازسرِنو تعمیر اور تجدید کے لیے بہت کوششیں کی گئیں۔ ان تجدیدی تعمیرات کی یادگار کے طور پر مختلف مقامات پر اس خلیفہ کے **کتبے** موجود ہیں۔ | |||
ان میں سے ایک **مطاف** کی تجدیدِ تعمیر کا کتبہ ہے جو **حرم میوزیم** میں محفوظ ہے۔ اسی طرح **جمرۂ عقبہ** کے قریب **مسجد البیعہ** کی تعمیر کا کتبہ بھی موجود ہے، جو وہاں کی دیوار پر اب تک قائم ہے۔ | |||
--- | |||
اس کے بعد مسجد الحرام میں صرف وہی **اصلاحی باز تعمیرات** ہوتی رہیں جو وقفے وقفے سے خلفا اور امرا کی طرف سے کی جاتی تھیں۔ تاہم واضح ہے کہ **پورے مملوکی اور عثمانی دور** میں مسجد کے اطراف کے **رواق** وقتاً فوقتاً مرمت کیے جاتے رہے اور بعض مواقع پر انہیں بنیادی طور پر دوبارہ تعمیر بھی کیا گیا۔ | |||
ان بازتعمیرات کی بہت سی روایات **مکہ کی تاریخ** کی کتابوں اور **مملوکی و عثمانی خلفا** کی تاریخ پر لکھی گئی کتابوں میں ملتی ہیں۔ | |||
ان اضافوں کا الگ ذکر نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان میں کوئی بڑی توسیع نہیں ہوتی تھی، بلکہ صرف **تجدید و مرمت** کا کام کیا جاتا تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان سے متعلق روایات اتنی زیادہ ہیں کہ اس مختصر تحریر میں ان سب کا احاطہ ممکن نہیں۔ | |||
ان بازتعمیرات کے متعدد کتبے، خاص طور پر **قایتبای** کے زمانے سے، جو **نویں صدی ہجری** کے بڑے مملوکی سلاطین میں سے تھا، آج بھی باقی ہیں۔ | |||
اس وقت مسجد کے اطراف کے رواقوں کی عمارت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی معماری دراصل **مملوکی دور** اور خصوصاً **عثمانی زمانے** کی میراث ہے۔ | |||
## سعودی دور میں مسجد الحرام کی توسیع | |||
**ابتدائی سعودی دور (بادشاہ عبدالعزیز):** | |||
1368 ہجری (1328 شمسی) میں، شاہ عبدالعزیز نے مسجد الحرام کو ہر سمت سے توسیع دینے کا حکم دیا۔ اس توسیع کا آغاز 1375 ہجری (1335 شمسی) میں ہوا اور مسجد کا رقبہ بڑھا کر **160,861 مربع میٹر** کر دیا گیا۔ یہ وسعت 300,000 سے زائد نمازیوں کی گنجائش کے پیش نظر رکھی گئی۔ اس توسیع کے دوران مسجد کے دروازوں کی تعداد بھی بڑھا کر 64 کر دی گئی۔ | |||
**ملک خالد کا دور:** | |||
ان کے بھائی، خالد بن عبدالعزیز (1402 ق / 1361 ش) کے انتقال کے بعد، **ملک فہد** (1402 ق / 1361 ش) بادشاہ بنے۔ انہوں نے حرمین شریفین کی خدمات کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کیا۔ 1409 ہجری میں، انہوں نے مسجد الحرام کو **تاریخی طور پر سب سے بڑی توسیع** دینے کا فیصلہ کیا اور اس کی اور اس کے اطراف کی مرمت و اصلاح کا کام شروع کیا۔ | |||
**سعودی توسیع (ملک فہد):** | |||
سعودی دور کی یہ دوسری بڑی توسیع زیادہ تر مسجد کے **مغربی حصے** میں کی گئی۔ اس حصے میں 76,000 مربع میٹر کا ایک نیا علاقہ شامل کیا گیا، جو مسجد کے مغربی پہلو میں مربع شکل کا تھا۔ | |||
* **منارے:** اس حصے میں دو بڑے مینار تعمیر کیے گئے، جن میں سے ہر ایک کی بلندی **89 میٹر** تھی۔ | |||
* **گنبد (قبے):** اس نئے حصے کے درمیان میں تین بڑے گنبد بنائے گئے، جن میں سے ہر ایک چار ستونوں پر قائم ہے۔ | |||
* **کل مأذنے:** مسجد الحرام میں موجود کل مأذنوں (میناروں) کی تعداد اب **نو** ہے۔ | |||
* **دیگر سہولیات:** مزید بنیادی اقدامات میں ایک **بیسمنٹ ( تہہ خانہ)** کی تعمیر، **ایک منزل اوپر** (یعنی ایک اضافی منزل) اور **پہلی منزل کی چھت** کو نماز کے لیے تیار کرنا شامل تھا۔ | |||
* **برقی لفٹیں:** زائرین کو پہلی منزل اور چھت تک پہنچانے کے لیے، عام سیڑھیوں کے علاوہ، مسجد کے مختلف حصوں میں **کئی برقی لفٹیں** بھی نصب کی گئیں۔ | |||
**بیرونی احاطے (میدان):** | |||
اضافہ شدہ رواقوں کے علاوہ، مسجد کے باہر مشرق، مغرب اور جنوب میں بڑے کھلے میدان بھی نماز کے لیے تیار کیے گئے۔ ان میدانوں کا تخمینی رقبہ: | |||
* مشرق (مسعیٰ کے باہر): **46,000 مربع میٹر** | |||
* دیگر سمتیں: **42,000 مربع میٹر** | |||
* **کل مجموعی رقبہ:** **88,000 مربع میٹر** | |||
**ہوا کا نظام (Air Conditioning):** | |||
مسجد الحرام میں ہوا کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوششیں کی گئیں۔ اس کا ایک حصہ **ٹھنڈی ہوا** مسجد کے ستونوں کے ذریعے داخل کرنا ہے، جو مسجد سے 450 میٹر دور **اجیاد** کے علاقے میں ایک مرکز سے فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم، مسجد کو ٹھنڈا کرنے کا بڑا کام **چھت کے پنکھوں** کے ذریعے کیا جاتا ہے، جن کی تعداد **1292** بتائی گئی ہے۔ | |||
## مسجد الحرام کی فضیلتیں | |||
مسجد الحرام قدیم زمانے سے اہلِ حجاز کے لیے محترم رہی ہے۔ تاریخی طور پر یہ بات قطعی طور پر معلوم نہیں کہ اسے یہ مقام کب سے حاصل ہوا، تاہم مقامی اور مذہبی روایات کے مطابق یہ جگہ زمین کی پیدائش ہی سے محترم رہی ہے۔ اسلامی روایات میں مسجد الحرام کو روئے زمین پر **سب سے زیادہ فضیلت والا مقام** قرار دیا گیا ہے۔ | |||
ایک حدیث، جو رسول اکرم ﷺ کی طرف منسوب ہے، کے مطابق مسجد الحرام **روئے زمین کی قدیم ترین مسجد** ہے اور اسے مسجد اقصیٰ سے بھی پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ | |||
حدیثِ **شدّ رحال** میں، جس میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: | |||
> “سفر نہ کیا جائے مگر تین مساجد کی زیارت کے لیے ...” | |||
ان تین مساجد میں ایک **مسجد الحرام** بھی ہے۔ | |||
مقامی روایات کے مطابق مسجد الحرام میں **ستر انبیاء** کی قبریں ہیں، جن میں **ہود، صالح اور اسماعیل** علیہم السلام بھی شامل ہیں۔ | |||
اسلامی تعلیمات میں مسجد الحرام اور مکہ کے لیے مخصوص فقہی اور روحانی احکام مقرر کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، **مسجد الحرام** بلکہ **حرمِ مکہ** میں جنگ کرنا ایک بڑا گناہ ہے، سوائے دفاع کے مقصد کے۔ اسی طرح یہاں ادا کی جانے والی عبادات، خصوصاً **نماز**، دوسری جگہوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ روحانی اور مادی برکتوں کی حامل سمجھی جاتی ہیں۔ | |||
--- | |||
## مسجد الحرام کی خصوصیات | |||
### مسلمانوں کا قبلہ | |||
یہ مسجد، جو **کعبہ کو گھیرے ہوئے** ہے اور مسلمانوں کا **قبلہ** ہے، مسلمانوں کے درمیان ایک خاص اور ممتاز مقام رکھتی ہے۔ انبیائے الٰہی کی بعثت کے دور میں بھی اس مسجد کو خاص تقدس اور عظمت حاصل رہی ہے، اور اس کی حفاظت و نگہداشت کا اہتمام کیا جاتا رہا۔ | |||
### رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے آغاز کی جگہ | |||
چونکہ رسول اکرم ﷺ کی رسالت کا آغاز بھی اسی مقام سے ہوا، اور تمام مسلمان اسی کی سمت نماز ادا کرتے ہیں، اس لیے یہ جگہ مسلمانوں کی نظر میں ہمیشہ عظمت و اہمیت کی حامل رہی ہے۔ | |||
### امام مہدیؑ کے ظہور کا آغاز | |||
خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ بعض روایات میں اسے **حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کی ابتدا کی جگہ** قرار دیا گیا ہے۔ | |||
امام صادقؑ سے اس بارے میں روایت ہے: | |||
> **"إنّ القائم إذا خرج دخل المسجد الحرام فیستقبل الکعبة و یجعل ظهره إلی المقام ..."** | |||
> یعنی: “جب قائم ظہور کرے گا تو مسجد الحرام میں داخل ہوگا، کعبہ کی طرف رخ کرے گا، اور اپنی پشت مقامِ ابراہیم کی طرف رکھے گا ...” | |||
## مسجد الحرام کی اہم ترین داخلی عمارتیں | |||
### کعبہ | |||
کعبہ ایک مشہور مکعب نما گھر ہے جو مکہ میں مسجد الحرام کے درمیان واقع ہے۔ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ اور سب سے اہم عبادت گاہ ہے۔ حج کی شرائط، جیسے مالی استطاعت وغیرہ، پوری ہونے کی صورت میں اس کی زیارت اور حج کی ادائیگی ہر مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ | |||
### حجرِ اسود | |||
**حجرِ اسود** ایک مقدس پتھر ہے، جس کی قدیم تاریخ اور اسلامی ثقافت و مناسکِ حج میں ایک خاص اہمیت ہے۔ یہ کعبہ کے مشرقی رکن میں نصب ہے، جسے **رکنِ اسود** یا **رکنِ حجری** بھی کہا جاتا ہے، اور یہ زمین سے تقریباً ڈیڑھ میٹر کی بلندی پر لگا ہوا ہے۔ | |||
### مقامِ ابراہیم | |||
اس سے مراد وہ پتھر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے کعبہ کی تعمیرِ نو کے دوران اپنے قدموں کے نیچے رکھا تھا تاکہ آپ کا ہاتھ دیوار کے اوپر والے حصے تک پہنچ سکے۔ ایک روایت کے مطابق یہ پتھر اسلام سے پہلے کعبہ کے اندر تھا، لیکن جب آیت **"وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْراهِیمَ مُصَلًّی"** *(بقرہ: 125)* نازل ہوئی، تو رسول اکرم ﷺ کے حکم سے اسے کعبہ سے باہر نکال کر اس کے اردگرد رکھ دیا گیا۔ | |||
### حجرِ اسماعیل | |||
**حجرِ اسماعیل** اس جگہ کو کہتے ہیں جو کعبہ اور ایک نیم دائرہ دیوار کے درمیان واقع ہے، اور یہ کعبہ کے شمالی رکن (**رکنِ عراقی**) سے مغربی رکن (**رکنِ شامی**) تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا دوسرا نام **حطیم** ہے اور بعض اسے **حظیرہ** بھی کہتے ہیں۔ | |||
جب حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہ اور ان کے شیرخوار بیٹے اسماعیلؑ وادیٔ مکہ پہنچے تو جبرئیلؑ کی رہنمائی سے وہ اسی موجودہ جگہ پر مقیم ہوئے۔ پھر حضرت ہاجرہ اور اسماعیلؑ اپنے گوسفندوں کے ساتھ اسی جگہ ایک درخت کی لکڑی سے بنائے گئے سایہ دار حصے میں رہنے لگے۔ حضرت ہاجرہ اور اسماعیلؑ دونوں کی وفات کے بعد تدفین بھی اسی جگہ ہوئی۔ حجرِ اسماعیل اسلام سے پہلے بھی محترم اور مقدس سمجھا جاتا تھا۔ رسول اکرم ﷺ بھی بعثت کے بعد حجرِ اسماعیل میں بیٹھتے، عبادت اور قرآن کی تلاوت کرتے اور لوگوں کے سوالات کے جواب دیتے تھے۔ مشہور امامی فقہاء کے مطابق، معتبر احادیث کی بنا پر حجرِ اسماعیل کعبہ کا حصہ نہیں ہے۔ | |||
### حطیم | |||
**حطیم** اس حصے کو کہتے ہیں جو **رکنِ حجرِ اسود** اور کعبہ کے دروازے کے درمیان واقع ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ یہ مسجد الحرام کی بہترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ اسے حطیم اس لیے کہا جاتا ہے کہ لوگ وہاں جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے پر دباؤ پڑتا ہے۔ | |||
### زمزم | |||
**زمزم** مسجد الحرام کے مشرقی حصے میں واقع ایک کنواں ہے، جسے **بئرِ زمزم، چاهِ اسماعیل، حفیرۂ عبدالمطلب، شفاءِ سقم، عافیہ، ميمونہ، طُعم، برکہ اور برّہ** جیسے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ کنواں مقامِ ابراہیم کے قریب اور کعبہ سے تقریباً اٹھارہ میٹر کے فاصلے پر زیرِ زمین واقع ہے۔ | |||
### مستجار | |||
قدیم زمانے میں کعبہ کے دو دروازے تھے: ایک مشرقی دیوار میں **رکنِ حجرِ اسود** کے قریب، جو آج بھی موجود ہے؛ دوسرا مغربی دیوار میں **رکنِ یمانی** کے قریب، جو مشرقی دروازے کے مقابل تھا۔ قریش کی تعمیرِ نو کے وقت یہ دوسرا دروازہ بند کر دیا گیا، اور آج بھی اس کا نشان کعبہ کی دیوار پر موجود ہے۔ مغربی دروازے کی جگہ کو **مستجار** کہا جاتا ہے۔ طواف کے ساتویں چکر میں اس حصے میں کعبہ کو چھونا اور دعا کرنا مستحب ہے۔ | |||
### ملتزم | |||
**ملتزم** مستجار سے لے کر **رکنِ یمانی** کے مقابل **حطیم** تک کی جگہ کو کہا جاتا ہے۔ اسے ملتزم اس لیے کہتے ہیں کہ زائرین اور حج کرنے والے وہاں کھڑے ہو کر دیوار سے لپٹ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔ | |||
بعض روایات کے مطابق، رسول اکرم ﷺ اپنے چہرے اور ہاتھ اس دیوار کے حصے پر رکھتے تھے۔ آپؐ سے منقول ہے کہ اس مقام پر بندوں کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس جگہ گناہوں کا اعتراف اور مغفرت طلب کرنا مستحب اعمال میں شمار ہوتا ہے۔ | |||
## مسجد الحرام کے دروازے | |||
مسجد الحرام تاریخ کے مختلف ادوار اور اس میں ہونے والی توسیعات کے نتیجے میں بہت سے دروازوں کی حامل رہی ہے، جن میں سے بعض دروازوں کے نام ہر دور میں الگ رہے ہیں۔ اس وقت مسجد کے چھوٹے اور بڑے بہت سے دروازے موجود ہیں۔ چھوٹے دروازے زیادہ تر **مسعیٰ** کی طرف واقع ہیں، جن کے نام یہ ہیں: | |||
- **باب بنی شیبہ** | |||
- **باب السلام** | |||
- **باب علی** | |||
- **باب النبی** | |||
- **باب العباس** | |||
اور ان دروازوں کے دونوں طرف: | |||
- **باب مروہ**، مروہ کے مقابل | |||
- **باب صفا**، صفا کے مقابل | |||
جدید توسیع میں ان میں سے بہت سے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور ان کے ناموں کی تختیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ **باب بنی شیبہ** کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے، کیونکہ **ہُبَل** کے کعبہ کی چھت سے گرائے جانے کے بعد اسے اسی دروازے کے قریب دفن کیا گیا تھا۔ اس لیے موحدین کا یہاں سے گزرنا گویا شرک اور بت پرستی کو مزید روندنے کے معنی رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اس دروازے سے مسجد میں داخل ہونا مستحب سمجھا جاتا ہے۔ | |||
--- | |||
## کعبہ، مسجد الحرام، مکہ اور حرم کے مخصوص فقہی احکام | |||
- مسجد الحرام اور مکہ میں داخل ہونے کے لیے **احرام باندھنا واجب ہے**۔ | |||
- جو شخص مسجد الحرام میں پناہ لے لے، اس پر **قصاص جاری کرنا جائز نہیں**۔ | |||
- مسافر کے لیے مسجد الحرام میں **قصر اور اتمام** دونوں کا حکم جائز ہے۔ | |||
- **حرم** سے گم شدہ چیز اٹھانا حرام ہے۔ | |||
- **جنب** اور **حائضہ** کے لیے مسجد الحرام سے گزرنا جائز نہیں۔ | |||
- کعبہ سے اونچی عمارت بنانے کا حکم۔ | |||
- کعبہ اور مسجد الحرام کو ناپاک کرنے کا حکم۔ | |||
- مسجد الحرام سے **کنکریاں اور مٹی باہر نکالنا حرام** ہے۔ | |||
- حرم میں **شکار کرنا جائز نہیں**۔ | |||
- مکہ میں **رہائش اختیار کرنا مکروہ** ہے۔ | |||
- کعبہ کے اندر روزانہ کی نماز پڑھنا **مکروہ** ہے۔ | |||
- مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی **خصوصی فضیلت** ہے۔ | |||
- حاجیوں کے لیے مکہ کے گھروں میں **تنگی اور سختی کرنا جائز نہیں**۔ | |||
- غیر مسلم کا مسجد الحرام اور مکہ میں داخل ہونا **جائز نہیں**۔ | |||
--- | |||
## متعلقہ موضوعات | |||
- مکہ | |||
- کعبہ | |||
- قبلہ | |||
- حجر اسماعیل | |||
نسخہ بمطابق 02:02، 20 مئی 2026ء

مسجد الحرام (عربی: لمسجد الحرام ) عالمِ اسلام کی سب سے مشہور اور مقدس ترین مسجد ہے، جو شہر مکہ میں واقع ہے۔ اسی مسجد میں کعبہ موجود ہے جو مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ اس مسجد میں متعدد مقدس اشیا، عمارات اور مقامات موجود ہیں، جیسے: حجرِ اسود، ملتزم، مستجار، حطیم اور حجرِ اسماعیل ۔ اسلامی فقہ اور شریعت میں مسجد الحرام کے لیے عام مسجد کے احکام کے علاوہ کچھ خصوصی احکام بھی ہیں۔ شریعتِ اسلام میں ہر مسلمان پر، اگر وہ استطاعت رکھتا ہو، یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ مکہ کا سفر کرے (حج) اور ان مناسک کو ادا کرے جن میں سے بعض اسی مسجد میں انجام دیے جاتے ہیں۔
مسجد الحرام کا نام
ابن جوزی نے مسجد الحرام کے اس نام کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس کے اطراف میں شکار کرنا اور درخت کاٹنا حرام قرار دیا گیا ہے [1]۔
اللہ کے گھر کو "مسجد الحرام" کیوں کہا جاتا ہے؟
امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کعبہ کو بیت اللہ الحرام کیوں کہا جاتا ہے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: "(لأنّه حُرِّمَ علی المشرکین أن یدخلوه)" یعنی: اس لیے کہ مشرکین پر اس میں داخل ہونا حرام قرار دیا گیا ہے۔
حقیقت میں امامؑ کا یہ کلام قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے:
"یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا" [2]۔
ترجمہ: اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد الحرام کے قریب نہ آنے پائیں[3]۔
خلافتِ ولید کے دور میں مسجد الحرام کی توسیع
ولید بن عبدالملک اموی(خلافت: 86–96 ہجری) ایسے زمانے میں حکومت کر رہے تھے جب بیت المال کا خزانہ فتوحات سے حاصل ہونے والی غنیمتوں اور اطراف و اکناف سے بطور خراج، جزیہ اور عشر آنے والے اموال سے بھر چکا تھا۔
وہ ایک خوشحال طرزِ زندگی رکھنے والے اور عظیم و الشان عمارتوں کی تعمیر کے شوقین خلیفہ تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے دمشق میں جامع اموی کی تعمیر، مدینہ میں مسجد نبوی کی توسیع اور مدینہ کے کئی دیگر مقامات کی تعمیر کے علاوہ مسجد الحرام کی بھی توسیع کی۔
انہوں نے مسجد کے رقبے میں 1725 مربع میٹر کا اضافہ کیا اور اس کی ازسرِنو تعمیر و مرمت کروائی۔ ولید نے مسجد کے اطراف رواق تعمیر کروائے جنہیں بڑے اور مضبوط ستونوں پر قائم کیا گیا۔ ان ستونوں کو نہایت خوبصورتی سے آراستہ کیا گیا اور بعض حصوں میں سونا بھی استعمال کیا گیا۔
اسی طرح انہوں نے خانۂ کعبہ کا ناودان بھی سونے کا بنوایا، جو آج تک اسی نام سے مشہور ہے۔
جغرافیائی موقعیت اور مسجد کی حدود
مسجد الحرام، سعودی عرب کے شہر مکہ میں ابوقبیس، اجیاد، ہندی اور عمر پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔
مسجد الحرام کی موجودہ حدود
- مشرق کی جانب: کوه ابوقبیس
- مغرب کی جانب: کوه عمر اور شبیکہسڑک
- شمال کی جانب: شامیہ سڑک اور کوه ہندی
- جنوب کی جانب: اجیاد سڑک اور مسفلہ
حرم سے مسجد الحرام تک مختلف مقامات کا فاصلہ
حرم کی حدود سے مسجد الحرام تک فاصلہ مختلف مقامات سے مختلف ہے:
- تنعیم سے مسجد الحرام تک:6150 میٹر
- جعرانہ سے مسجد تک: 18000 میٹر
- طائف کے راستے ہدٰی کے مقام سے مسجد الحرام تک: 15500 میٹر
- لیث کے راستے سے مسجد تک: 17000 میٹر
- جدہ کے راستے سے مسجد الحرام تک: 11000 میٹر
مسجد الحرام کی تاریخ
مسجد الحرام کے گرد حصار کھینچنا
مکہ میں اسلام کی فتح کے بعد خانۂ خدا اور اس کے اطراف کو بتوں کی آلودگی سے پاک کر دیا گیا، اور مکہ کی فضا میں بلالؓ کی اذان ، جو توحید کا شعار تھی، گونجنے لگی۔
اس وقت تک مسجد الحرام کے اردگرد کوئی حصار یا عمارت موجود نہیں تھی۔ صرف کعبہ کے اطراف، طواف کی حد سے باہر، عربوں کے گھر بنے ہوئے تھے۔
جب اسلام پھیلا اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، تو یہ محسوس کیا گیا کہ مطاف (طواف کی جگہ) کو وسیع ہونا چاہیے۔ چنانچہ دوسرے خلیفہ نے حکم دیا کہ اطراف کے گھروں کو خرید کر منہدم کیا جائے اور مسجد کی حدود میں شامل کیا جائے۔
اسی طرح انہوں نے حکم دیا کہ مسجد کے اردگرد انسان کے قد سے کچھ کم اونچی دیوار بنائی جائے، اس میں دروازے رکھے جائیں، اور دیواروں کے اوپر مشعلیں نصب کی جائیں تاکہ مسجد رات میں روشن رہے۔ کعبہ کے غلاف کو بھی تبدیل کیا گیا۔
چونکہ کعبہ اور مسجد سیلاب کے خطرے میں رہتے تھے، اس لیے کوشش کی گئی کہ اطراف میں بند بنائے جائیں تاکہ پانی کے ریلے کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
ایک قدیم رواج کے مطابق، کعبہ کے اطراف رہنے والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی عمارتیں کعبہ سے اونچی نہ بنائیں تاکہ کعبہ اور مسجد کی عظمت ان عمارتوں کے زیرِ سایہ نہ آ جائے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام سے پہلے مکہ کے باشندے، کعبہ کے احترام میں، اپنے گھروں کو مربع شکل میں نہیں بناتے تھے۔
حضرت عثمان کے زمانے میں مسجد کی توسیع
دوسرے خلیفہ کے اقدامات کے بعد، سن 17 ہجری میں، پھر تیسرے خلیفہ نے سن 26 ہجری میں مسجد کی حدود میں مزید اضافہ کیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ مزید گھروں کو خرید کر مسجد میں شامل کیا جائے۔
اس سلسلے میں بعض گھر والوں کے ساتھ اختلاف بھی پیش آیا، جس کے نتیجے میں کچھ لوگ راضی ہو گئے جبکہ کچھ ناراض ہی رہے۔
تیسرے خلیفہ نے مسجد کی توسیع کے ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ مسجد کے لیے رواق تعمیر کیے جائیں۔ اس سے پہلے کعبہ کے اطراف کا پورا حصہ بغیر چھت کے تھا، اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اس کے بعض حصوں کو چھت دار بنایا گیا۔
- عباسی دور میں مسجد الحرام کی تعمیر و توسیع
- منصور عباسی کے عہد میں توسیع
- منصور**، دوسرے عباسی خلیفہ (خلافت: 136–158 ہجری)، جب حج کے لیے مکہ آئے تو انہوں نے محسوس کیا کہ مسجد الحرام میں حج کے لیے آنے والے مسلمانوں کی گنجائش کم ہے۔ چنانچہ انہوں نے ارادہ کیا کہ اطراف کے مکانات خرید کر مسجد میں شامل کیے جائیں اور اس کی توسیع کی جائے۔
ابتدا میں اطراف کے مکانات کے مالکان نے اس فیصلے کی مخالفت کی، لیکن بعد میں وہ اپنے مکانات فروخت کرنے پر راضی ہوگئے۔
اس توسیع کے نتیجے میں مسجد کا رقبہ تقریباً **دو گنا** ہوگیا اور قریب **پانچ ہزار مربع میٹر** کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ مسجد کے **شمالی اور مغربی** حصے کی جانب کیا گیا۔ اس بار بھی مسجد کے گرد **رواق** تعمیر کیے گئے اور مغربی گوشے میں ایک **مینار** بھی بنایا گیا۔ دیواروں اور ستونوں کی تزئین و آرائش میں بھی اضافہ کیا گیا۔ یہ تعمیراتی کام جو **137 ہجری** میں شروع ہوا تھا، **140 ہجری** میں مکمل ہوا۔
---
- مہدی عباسی کے دور میں مزید توسیع
- مہدی عباسی**، منصور کے بیٹے (خلافت: 158–169 ہجری)، نے **161 ہجری** میں مسجد کی مزید توسیع کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید مکانات خرید کر مسجد میں شامل کیے۔ کچھ لوگوں نے اپنے مکانات دینے سے انکار کیا۔
جب مہدی عباسی نے اس مسئلے پر **امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام** سے مشورہ کیا تو امامؑ نے تحریری جواب دیا:
> اگر کعبہ لوگوں کے آنے کے بعد تعمیر ہوئی ہے، یعنی پہلے لوگ یہاں آباد تھے، تو وہ اپنے گھروں کے حوالے سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔ > لیکن اگر پہلے کعبہ موجود تھا اور لوگ بعد میں یہاں آئے، تو مسجد کو اطراف کی زمینوں پر ترجیح حاصل ہے۔
مہدی عباسی نے اسی دلیل کی بنیاد پر مکانات حاصل کر لیے۔ بعد ازاں مکانات کے مالکان امام کاظم علیہ السلام کے پاس آئے اور درخواست کی کہ مہدی سے ان کے گھروں کی قیمت دلوا دی جائے، چنانچہ امامؑ نے ایسا ہی کیا۔
مہدی عباسی کی اس توسیع میں **8380 مربع میٹر** کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے مسجد کے اطراف کئی نئے دروازے کھلوائے، جو صدیوں تک اسی حالت میں باقی رہے۔
- 164 ہجری** میں مہدی عباسی نے ماہرین سے کہا کہ ایسا نقشہ تیار کیا جائے کہ مسجد کو جنوبی سمت سے بھی وسیع کیا جائے، تاکہ تقریباً مسجد کی شکل **مربع** ہو جائے اور **کعبہ اس کے وسط میں** واقع ہو۔ اس منصوبے کے تحت مزید **6560 مربع میٹر** کا اضافہ کیا گیا، اطراف میں رواق تعمیر کیے گئے اور مضبوط ستون قائم کیے گئے۔
یہ ستون آج تک قائم ہیں اور ان پر مہدی عباسی کے دور کی یادگار **کتبے** موجود ہیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مہدی عباسی کے زمانے میں مسجد کو **مسعیٰ** (صفا و مروہ کے درمیان راستہ) کی جانب اتنا وسیع کر دیا گیا کہ مسجد اور مسعیٰ کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہ رہا؛ تاہم بعد کے زمانوں میں اس علاقے میں دوبارہ مکانات تعمیر ہو گئے۔
---
- بعد کے عباسی خلفاء کے دور میں توسیع
مہدی عباسی کے بعد **معتضد** اور **مقتدر عباسی** کے زمانے میں مسجد کے شمالی اور مغربی حصوں میں کچھ چھوٹے اضافے کیے گئے۔
ان میں سے ایک اہم مقام **دارالندوہ** تھا، جو زمانۂ جاہلیت میں **قصی بن کلاب** نے قریش کے اہم امور پر مشاورت کے لیے مسجد الحرام کے قریب تعمیر کیا تھا۔ اس مجلس میں صرف وہ قریشی داخل ہو سکتے تھے جن کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو۔ یہ عمارت تیسری صدی ہجری کے اواخر تک قائم رہی اور جب خلفاء حج کے لیے آتے تو وہ اسی مقام پر قیام کرتے تھے۔
بعد میں دارالندوہ کی عمارت خستہ حال ہوگئی۔ بارش کے دوران اس کی مٹی اور کیچڑ مسجد الحرام میں بہہ آتا تھا۔ اس پر مکہ کے امیر نے **معتضد عباسی** (خلافت: 279–289 ہجری) سے شکایت کی اور اجازت طلب کی کہ اسے مسجد میں شامل کر لیا جائے یا حجاج کے قیام کے لیے استعمال کیا جائے۔ معتضد نے اس تجویز کو قبول کیا اور **281 ہجری** میں اسے مسجد میں شامل کر لیا گیا۔
- مقتدر عباسی** (خلافت: 295–320 ہجری) نے بھی **باب ابراہیم** کی سمت کچھ حصہ مسجد میں شامل کیا۔
بعد میں **مستنصر باللہ عباسی** (623–640 ہجری) کے دور میں بھی مسجد کی بعض عمارتوں کی مرمت اور تجدید کے لیے وسیع اقدامات کیے گئے۔ ان تعمیرات کی یادگار کے طور پر مختلف مقامات پر ان کے دور کے **کتبے** موجود ہیں۔
مثلاً: - مطاف کی تجدید کے لیے ایک کتبہ آج بھی **حرم میوزیم** میں محفوظ ہے۔ - اسی طرح **مسجد البیعہ** (جمرہ عقبہ کے قریب) کی تعمیر سے متعلق ایک کتبہ اب بھی اس کی دیوار پر موجود ہے۔
- عباسی دور کے بعد مسجد الحرام میں اضافے
مہدی عباسی کے بعد، **معتضد** اور **مقتدر عباسی** کے زمانے میں مسجد کے **شمالی** اور **مغربی** حصوں میں کچھ چھوٹے چھوٹے اضافے کیے گئے۔ ان میں ایک اہم مقام **دارالندوہ** تھا، جو **قصی بن کلاب** کے زمانۂ جاہلیت میں قریش کے اہم امور پر مشاورت کے لیے مسجد الحرام کے قریب تعمیر کیا گیا تھا۔
یہ طے تھا کہ صرف وہی قریشی اس مجلسِ مشاورت میں داخل ہو سکتے تھے جن کی عمر **چالیس سال** سے زیادہ ہو۔ یہ مقام **تیسری صدی ہجری کے اواخر** تک قائم رہا، اور جب خلفا حج کے لیے آتے تھے تو وہیں قیام کرتے تھے۔
بعد میں دارالندوہ کی عمارت کی طرف توجہ نہ دی گئی اور وہ بوسیدہ ہونے لگی۔ جب بارش ہوتی تو اس کی **مٹی اور کیچڑ** مسجد الحرام میں آ جاتا۔ اس پر **امیرِ مکہ** نے **معتضد عباسی** (خلافت: 279–289 ہجری) سے شکایت کی اور خلیفہ سے درخواست کی کہ اسے مسجد میں شامل کرنے یا حجاج کی قیام گاہ بنانے کی اجازت دی جائے۔ معتضد نے اس تجویز کو قبول کیا اور اس کا حکم صادر کیا۔ یہ اضافہ **281 ہجری** میں کیا گیا۔
- مقتدر** (خلافت: 295–320 ہجری) نے بھی **باب ابراہیم** کی سمت مسجد میں ایک حصہ شامل کیا۔
- مستنصر باللہ عباسی** (623–640 ہجری) کے دور میں بعض عمارتوں کی ازسرِنو تعمیر اور تجدید کے لیے بہت کوششیں کی گئیں۔ ان تجدیدی تعمیرات کی یادگار کے طور پر مختلف مقامات پر اس خلیفہ کے **کتبے** موجود ہیں۔
ان میں سے ایک **مطاف** کی تجدیدِ تعمیر کا کتبہ ہے جو **حرم میوزیم** میں محفوظ ہے۔ اسی طرح **جمرۂ عقبہ** کے قریب **مسجد البیعہ** کی تعمیر کا کتبہ بھی موجود ہے، جو وہاں کی دیوار پر اب تک قائم ہے۔
---
اس کے بعد مسجد الحرام میں صرف وہی **اصلاحی باز تعمیرات** ہوتی رہیں جو وقفے وقفے سے خلفا اور امرا کی طرف سے کی جاتی تھیں۔ تاہم واضح ہے کہ **پورے مملوکی اور عثمانی دور** میں مسجد کے اطراف کے **رواق** وقتاً فوقتاً مرمت کیے جاتے رہے اور بعض مواقع پر انہیں بنیادی طور پر دوبارہ تعمیر بھی کیا گیا۔
ان بازتعمیرات کی بہت سی روایات **مکہ کی تاریخ** کی کتابوں اور **مملوکی و عثمانی خلفا** کی تاریخ پر لکھی گئی کتابوں میں ملتی ہیں۔ ان اضافوں کا الگ ذکر نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان میں کوئی بڑی توسیع نہیں ہوتی تھی، بلکہ صرف **تجدید و مرمت** کا کام کیا جاتا تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان سے متعلق روایات اتنی زیادہ ہیں کہ اس مختصر تحریر میں ان سب کا احاطہ ممکن نہیں۔
ان بازتعمیرات کے متعدد کتبے، خاص طور پر **قایتبای** کے زمانے سے، جو **نویں صدی ہجری** کے بڑے مملوکی سلاطین میں سے تھا، آج بھی باقی ہیں۔ اس وقت مسجد کے اطراف کے رواقوں کی عمارت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی معماری دراصل **مملوکی دور** اور خصوصاً **عثمانی زمانے** کی میراث ہے۔
- سعودی دور میں مسجد الحرام کی توسیع
- ابتدائی سعودی دور (بادشاہ عبدالعزیز):**
1368 ہجری (1328 شمسی) میں، شاہ عبدالعزیز نے مسجد الحرام کو ہر سمت سے توسیع دینے کا حکم دیا۔ اس توسیع کا آغاز 1375 ہجری (1335 شمسی) میں ہوا اور مسجد کا رقبہ بڑھا کر **160,861 مربع میٹر** کر دیا گیا۔ یہ وسعت 300,000 سے زائد نمازیوں کی گنجائش کے پیش نظر رکھی گئی۔ اس توسیع کے دوران مسجد کے دروازوں کی تعداد بھی بڑھا کر 64 کر دی گئی۔
- ملک خالد کا دور:**
ان کے بھائی، خالد بن عبدالعزیز (1402 ق / 1361 ش) کے انتقال کے بعد، **ملک فہد** (1402 ق / 1361 ش) بادشاہ بنے۔ انہوں نے حرمین شریفین کی خدمات کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کیا۔ 1409 ہجری میں، انہوں نے مسجد الحرام کو **تاریخی طور پر سب سے بڑی توسیع** دینے کا فیصلہ کیا اور اس کی اور اس کے اطراف کی مرمت و اصلاح کا کام شروع کیا۔
- سعودی توسیع (ملک فہد):**
سعودی دور کی یہ دوسری بڑی توسیع زیادہ تر مسجد کے **مغربی حصے** میں کی گئی۔ اس حصے میں 76,000 مربع میٹر کا ایک نیا علاقہ شامل کیا گیا، جو مسجد کے مغربی پہلو میں مربع شکل کا تھا۔
- **منارے:** اس حصے میں دو بڑے مینار تعمیر کیے گئے، جن میں سے ہر ایک کی بلندی **89 میٹر** تھی۔
- **گنبد (قبے):** اس نئے حصے کے درمیان میں تین بڑے گنبد بنائے گئے، جن میں سے ہر ایک چار ستونوں پر قائم ہے۔
- **کل مأذنے:** مسجد الحرام میں موجود کل مأذنوں (میناروں) کی تعداد اب **نو** ہے۔
- **دیگر سہولیات:** مزید بنیادی اقدامات میں ایک **بیسمنٹ ( تہہ خانہ)** کی تعمیر، **ایک منزل اوپر** (یعنی ایک اضافی منزل) اور **پہلی منزل کی چھت** کو نماز کے لیے تیار کرنا شامل تھا۔
- **برقی لفٹیں:** زائرین کو پہلی منزل اور چھت تک پہنچانے کے لیے، عام سیڑھیوں کے علاوہ، مسجد کے مختلف حصوں میں **کئی برقی لفٹیں** بھی نصب کی گئیں۔
- بیرونی احاطے (میدان):**
اضافہ شدہ رواقوں کے علاوہ، مسجد کے باہر مشرق، مغرب اور جنوب میں بڑے کھلے میدان بھی نماز کے لیے تیار کیے گئے۔ ان میدانوں کا تخمینی رقبہ:
- مشرق (مسعیٰ کے باہر): **46,000 مربع میٹر**
- دیگر سمتیں: **42,000 مربع میٹر**
- **کل مجموعی رقبہ:** **88,000 مربع میٹر**
- ہوا کا نظام (Air Conditioning):**
مسجد الحرام میں ہوا کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوششیں کی گئیں۔ اس کا ایک حصہ **ٹھنڈی ہوا** مسجد کے ستونوں کے ذریعے داخل کرنا ہے، جو مسجد سے 450 میٹر دور **اجیاد** کے علاقے میں ایک مرکز سے فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم، مسجد کو ٹھنڈا کرنے کا بڑا کام **چھت کے پنکھوں** کے ذریعے کیا جاتا ہے، جن کی تعداد **1292** بتائی گئی ہے۔
- مسجد الحرام کی فضیلتیں
مسجد الحرام قدیم زمانے سے اہلِ حجاز کے لیے محترم رہی ہے۔ تاریخی طور پر یہ بات قطعی طور پر معلوم نہیں کہ اسے یہ مقام کب سے حاصل ہوا، تاہم مقامی اور مذہبی روایات کے مطابق یہ جگہ زمین کی پیدائش ہی سے محترم رہی ہے۔ اسلامی روایات میں مسجد الحرام کو روئے زمین پر **سب سے زیادہ فضیلت والا مقام** قرار دیا گیا ہے۔
ایک حدیث، جو رسول اکرم ﷺ کی طرف منسوب ہے، کے مطابق مسجد الحرام **روئے زمین کی قدیم ترین مسجد** ہے اور اسے مسجد اقصیٰ سے بھی پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔
حدیثِ **شدّ رحال** میں، جس میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
> “سفر نہ کیا جائے مگر تین مساجد کی زیارت کے لیے ...”
ان تین مساجد میں ایک **مسجد الحرام** بھی ہے۔
مقامی روایات کے مطابق مسجد الحرام میں **ستر انبیاء** کی قبریں ہیں، جن میں **ہود، صالح اور اسماعیل** علیہم السلام بھی شامل ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں مسجد الحرام اور مکہ کے لیے مخصوص فقہی اور روحانی احکام مقرر کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، **مسجد الحرام** بلکہ **حرمِ مکہ** میں جنگ کرنا ایک بڑا گناہ ہے، سوائے دفاع کے مقصد کے۔ اسی طرح یہاں ادا کی جانے والی عبادات، خصوصاً **نماز**، دوسری جگہوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ روحانی اور مادی برکتوں کی حامل سمجھی جاتی ہیں۔
---
- مسجد الحرام کی خصوصیات
- مسلمانوں کا قبلہ
یہ مسجد، جو **کعبہ کو گھیرے ہوئے** ہے اور مسلمانوں کا **قبلہ** ہے، مسلمانوں کے درمیان ایک خاص اور ممتاز مقام رکھتی ہے۔ انبیائے الٰہی کی بعثت کے دور میں بھی اس مسجد کو خاص تقدس اور عظمت حاصل رہی ہے، اور اس کی حفاظت و نگہداشت کا اہتمام کیا جاتا رہا۔
- رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے آغاز کی جگہ
چونکہ رسول اکرم ﷺ کی رسالت کا آغاز بھی اسی مقام سے ہوا، اور تمام مسلمان اسی کی سمت نماز ادا کرتے ہیں، اس لیے یہ جگہ مسلمانوں کی نظر میں ہمیشہ عظمت و اہمیت کی حامل رہی ہے۔
- امام مہدیؑ کے ظہور کا آغاز
خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ بعض روایات میں اسے **حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کی ابتدا کی جگہ** قرار دیا گیا ہے۔
امام صادقؑ سے اس بارے میں روایت ہے:
> **"إنّ القائم إذا خرج دخل المسجد الحرام فیستقبل الکعبة و یجعل ظهره إلی المقام ..."** > یعنی: “جب قائم ظہور کرے گا تو مسجد الحرام میں داخل ہوگا، کعبہ کی طرف رخ کرے گا، اور اپنی پشت مقامِ ابراہیم کی طرف رکھے گا ...”
- مسجد الحرام کی اہم ترین داخلی عمارتیں
- کعبہ
کعبہ ایک مشہور مکعب نما گھر ہے جو مکہ میں مسجد الحرام کے درمیان واقع ہے۔ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ اور سب سے اہم عبادت گاہ ہے۔ حج کی شرائط، جیسے مالی استطاعت وغیرہ، پوری ہونے کی صورت میں اس کی زیارت اور حج کی ادائیگی ہر مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔
- حجرِ اسود
- حجرِ اسود** ایک مقدس پتھر ہے، جس کی قدیم تاریخ اور اسلامی ثقافت و مناسکِ حج میں ایک خاص اہمیت ہے۔ یہ کعبہ کے مشرقی رکن میں نصب ہے، جسے **رکنِ اسود** یا **رکنِ حجری** بھی کہا جاتا ہے، اور یہ زمین سے تقریباً ڈیڑھ میٹر کی بلندی پر لگا ہوا ہے۔
- مقامِ ابراہیم
اس سے مراد وہ پتھر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے کعبہ کی تعمیرِ نو کے دوران اپنے قدموں کے نیچے رکھا تھا تاکہ آپ کا ہاتھ دیوار کے اوپر والے حصے تک پہنچ سکے۔ ایک روایت کے مطابق یہ پتھر اسلام سے پہلے کعبہ کے اندر تھا، لیکن جب آیت **"وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْراهِیمَ مُصَلًّی"** *(بقرہ: 125)* نازل ہوئی، تو رسول اکرم ﷺ کے حکم سے اسے کعبہ سے باہر نکال کر اس کے اردگرد رکھ دیا گیا۔
- حجرِ اسماعیل
- حجرِ اسماعیل** اس جگہ کو کہتے ہیں جو کعبہ اور ایک نیم دائرہ دیوار کے درمیان واقع ہے، اور یہ کعبہ کے شمالی رکن (**رکنِ عراقی**) سے مغربی رکن (**رکنِ شامی**) تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا دوسرا نام **حطیم** ہے اور بعض اسے **حظیرہ** بھی کہتے ہیں۔
جب حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہ اور ان کے شیرخوار بیٹے اسماعیلؑ وادیٔ مکہ پہنچے تو جبرئیلؑ کی رہنمائی سے وہ اسی موجودہ جگہ پر مقیم ہوئے۔ پھر حضرت ہاجرہ اور اسماعیلؑ اپنے گوسفندوں کے ساتھ اسی جگہ ایک درخت کی لکڑی سے بنائے گئے سایہ دار حصے میں رہنے لگے۔ حضرت ہاجرہ اور اسماعیلؑ دونوں کی وفات کے بعد تدفین بھی اسی جگہ ہوئی۔ حجرِ اسماعیل اسلام سے پہلے بھی محترم اور مقدس سمجھا جاتا تھا۔ رسول اکرم ﷺ بھی بعثت کے بعد حجرِ اسماعیل میں بیٹھتے، عبادت اور قرآن کی تلاوت کرتے اور لوگوں کے سوالات کے جواب دیتے تھے۔ مشہور امامی فقہاء کے مطابق، معتبر احادیث کی بنا پر حجرِ اسماعیل کعبہ کا حصہ نہیں ہے۔
- حطیم
- حطیم** اس حصے کو کہتے ہیں جو **رکنِ حجرِ اسود** اور کعبہ کے دروازے کے درمیان واقع ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ یہ مسجد الحرام کی بہترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ اسے حطیم اس لیے کہا جاتا ہے کہ لوگ وہاں جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے پر دباؤ پڑتا ہے۔
- زمزم
- زمزم** مسجد الحرام کے مشرقی حصے میں واقع ایک کنواں ہے، جسے **بئرِ زمزم، چاهِ اسماعیل، حفیرۂ عبدالمطلب، شفاءِ سقم، عافیہ، ميمونہ، طُعم، برکہ اور برّہ** جیسے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ کنواں مقامِ ابراہیم کے قریب اور کعبہ سے تقریباً اٹھارہ میٹر کے فاصلے پر زیرِ زمین واقع ہے۔
- مستجار
قدیم زمانے میں کعبہ کے دو دروازے تھے: ایک مشرقی دیوار میں **رکنِ حجرِ اسود** کے قریب، جو آج بھی موجود ہے؛ دوسرا مغربی دیوار میں **رکنِ یمانی** کے قریب، جو مشرقی دروازے کے مقابل تھا۔ قریش کی تعمیرِ نو کے وقت یہ دوسرا دروازہ بند کر دیا گیا، اور آج بھی اس کا نشان کعبہ کی دیوار پر موجود ہے۔ مغربی دروازے کی جگہ کو **مستجار** کہا جاتا ہے۔ طواف کے ساتویں چکر میں اس حصے میں کعبہ کو چھونا اور دعا کرنا مستحب ہے۔
- ملتزم
- ملتزم** مستجار سے لے کر **رکنِ یمانی** کے مقابل **حطیم** تک کی جگہ کو کہا جاتا ہے۔ اسے ملتزم اس لیے کہتے ہیں کہ زائرین اور حج کرنے والے وہاں کھڑے ہو کر دیوار سے لپٹ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔
بعض روایات کے مطابق، رسول اکرم ﷺ اپنے چہرے اور ہاتھ اس دیوار کے حصے پر رکھتے تھے۔ آپؐ سے منقول ہے کہ اس مقام پر بندوں کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس جگہ گناہوں کا اعتراف اور مغفرت طلب کرنا مستحب اعمال میں شمار ہوتا ہے۔
- مسجد الحرام کے دروازے
مسجد الحرام تاریخ کے مختلف ادوار اور اس میں ہونے والی توسیعات کے نتیجے میں بہت سے دروازوں کی حامل رہی ہے، جن میں سے بعض دروازوں کے نام ہر دور میں الگ رہے ہیں۔ اس وقت مسجد کے چھوٹے اور بڑے بہت سے دروازے موجود ہیں۔ چھوٹے دروازے زیادہ تر **مسعیٰ** کی طرف واقع ہیں، جن کے نام یہ ہیں:
- **باب بنی شیبہ** - **باب السلام** - **باب علی** - **باب النبی** - **باب العباس**
اور ان دروازوں کے دونوں طرف:
- **باب مروہ**، مروہ کے مقابل - **باب صفا**، صفا کے مقابل
جدید توسیع میں ان میں سے بہت سے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور ان کے ناموں کی تختیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ **باب بنی شیبہ** کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے، کیونکہ **ہُبَل** کے کعبہ کی چھت سے گرائے جانے کے بعد اسے اسی دروازے کے قریب دفن کیا گیا تھا۔ اس لیے موحدین کا یہاں سے گزرنا گویا شرک اور بت پرستی کو مزید روندنے کے معنی رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے اس دروازے سے مسجد میں داخل ہونا مستحب سمجھا جاتا ہے۔
---
- کعبہ، مسجد الحرام، مکہ اور حرم کے مخصوص فقہی احکام
- مسجد الحرام اور مکہ میں داخل ہونے کے لیے **احرام باندھنا واجب ہے**۔ - جو شخص مسجد الحرام میں پناہ لے لے، اس پر **قصاص جاری کرنا جائز نہیں**۔ - مسافر کے لیے مسجد الحرام میں **قصر اور اتمام** دونوں کا حکم جائز ہے۔ - **حرم** سے گم شدہ چیز اٹھانا حرام ہے۔ - **جنب** اور **حائضہ** کے لیے مسجد الحرام سے گزرنا جائز نہیں۔ - کعبہ سے اونچی عمارت بنانے کا حکم۔ - کعبہ اور مسجد الحرام کو ناپاک کرنے کا حکم۔ - مسجد الحرام سے **کنکریاں اور مٹی باہر نکالنا حرام** ہے۔ - حرم میں **شکار کرنا جائز نہیں**۔ - مکہ میں **رہائش اختیار کرنا مکروہ** ہے۔ - کعبہ کے اندر روزانہ کی نماز پڑھنا **مکروہ** ہے۔ - مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی **خصوصی فضیلت** ہے۔ - حاجیوں کے لیے مکہ کے گھروں میں **تنگی اور سختی کرنا جائز نہیں**۔ - غیر مسلم کا مسجد الحرام اور مکہ میں داخل ہونا **جائز نہیں**۔
---
- متعلقہ موضوعات
- مکہ - کعبہ - قبلہ - حجر اسماعیل
- ↑ معجم المصطلحات والألفاظ الفقهیة، محمود عبدالرحمان، ج3، ص279
- ↑ سورۂ توبہ: 28
- ↑ آشنایی با مسجدالحرام - بیتوته -اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 مئی 2026ء