مندرجات کا رخ کریں

"مسجد الحرام" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 13: سطر 13:
[[جعفر بن محمد|امام صادق علیہ السلام]] سے سوال کیا گیا کہ  کعبہ کو  بیت اللہ الحرام  کیوں کہا جاتا ہے؟   
[[جعفر بن محمد|امام صادق علیہ السلام]] سے سوال کیا گیا کہ  کعبہ کو  بیت اللہ الحرام  کیوں کہا جاتا ہے؟   
آپؑ نے جواب میں فرمایا:
آپؑ نے جواب میں فرمایا:
**"(لأنّه حُرِّمَ علی المشرکین أن یدخلوه)"**  
"(لأنّه حُرِّمَ علی المشرکین أن یدخلوه)"   
یعنی:  اس لیے کہ مشرکین پر اس میں داخل ہونا حرام قرار دیا گیا ہے۔  
یعنی:  اس لیے کہ مشرکین پر اس میں داخل ہونا حرام قرار دیا گیا ہے۔  


سطر 23: سطر 23:
ترجمہ:   
ترجمہ:   
اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد الحرام کے قریب نہ آنے پائیں<ref>[https://www.beytoote.com/ آشنایی با مسجد‌الحرام - بیتوته ]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 مئی 2026ء</ref>۔
اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد الحرام کے قریب نہ آنے پائیں<ref>[https://www.beytoote.com/ آشنایی با مسجد‌الحرام - بیتوته ]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 مئی 2026ء</ref>۔
== خلافتِ ولید کے دور میں مسجد الحرام کی توسیع ==
ولید بن عبدالملک اموی(خلافت: 86–96 ہجری) ایسے زمانے میں حکومت کر رہے تھے جب بیت المال کا خزانہ فتوحات سے حاصل ہونے والی غنیمتوں اور اطراف و اکناف سے بطور خراج، جزیہ اور عشر آنے والے اموال سے بھر چکا تھا۔
وہ ایک خوشحال طرزِ زندگی رکھنے والے اور عظیم و الشان عمارتوں کی تعمیر کے شوقین خلیفہ تھے۔
اسی وجہ سے انہوں نے دمشق میں جامع اموی  کی تعمیر،  مدینہ میں مسجد نبوی کی توسیع  اور مدینہ کے کئی دیگر مقامات کی تعمیر کے علاوہ  مسجد الحرام  کی بھی توسیع کی۔
انہوں نے مسجد کے رقبے میں  1725 مربع میٹر  کا اضافہ کیا اور اس کی ازسرِنو تعمیر و مرمت کروائی۔
ولید نے مسجد کے اطراف  رواق  تعمیر کروائے جنہیں بڑے اور مضبوط ستونوں پر قائم کیا گیا۔ ان ستونوں کو نہایت خوبصورتی سے آراستہ کیا گیا اور بعض حصوں میں  سونا  بھی استعمال کیا گیا۔
اسی طرح انہوں نے خانۂ کعبہ کا ناودان  بھی سونے کا بنوایا، جو آج تک اسی نام سے مشہور ہے۔


== جغرافیائی موقعیت اور مسجد کی حدود ==
== جغرافیائی موقعیت اور مسجد کی حدود ==

نسخہ بمطابق 01:48، 20 مئی 2026ء

مسجد الحرام (عربی: لمسجد الحرام ) عالمِ اسلام کی سب سے مشہور اور مقدس ترین مسجد ہے، جو شہر مکہ میں واقع ہے۔ اسی مسجد میں کعبہ موجود ہے جو مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ اس مسجد میں متعدد مقدس اشیا، عمارات اور مقامات موجود ہیں، جیسے: حجرِ اسود، ملتزم، مستجار، حطیم اور حجرِ اسماعیل ۔ اسلامی فقہ اور شریعت میں مسجد الحرام کے لیے عام مسجد کے احکام کے علاوہ کچھ خصوصی احکام بھی ہیں۔ شریعتِ اسلام میں ہر مسلمان پر، اگر وہ استطاعت رکھتا ہو، یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ مکہ کا سفر کرے (حج) اور ان مناسک کو ادا کرے جن میں سے بعض اسی مسجد میں انجام دیے جاتے ہیں۔

مسجد الحرام کا نام

ابن جوزی نے مسجد الحرام کے اس نام کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس کے اطراف میں شکار کرنا اور درخت کاٹنا حرام قرار دیا گیا ہے [1]۔

اللہ کے گھر کو "مسجد الحرام" کیوں کہا جاتا ہے؟

امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کعبہ کو بیت اللہ الحرام کیوں کہا جاتا ہے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: "(لأنّه حُرِّمَ علی المشرکین أن یدخلوه)" یعنی: اس لیے کہ مشرکین پر اس میں داخل ہونا حرام قرار دیا گیا ہے۔

حقیقت میں امامؑ کا یہ کلام قرآن کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے:

"یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا" [2]۔

ترجمہ: اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد الحرام کے قریب نہ آنے پائیں[3]۔

خلافتِ ولید کے دور میں مسجد الحرام کی توسیع

ولید بن عبدالملک اموی(خلافت: 86–96 ہجری) ایسے زمانے میں حکومت کر رہے تھے جب بیت المال کا خزانہ فتوحات سے حاصل ہونے والی غنیمتوں اور اطراف و اکناف سے بطور خراج، جزیہ اور عشر آنے والے اموال سے بھر چکا تھا۔

وہ ایک خوشحال طرزِ زندگی رکھنے والے اور عظیم و الشان عمارتوں کی تعمیر کے شوقین خلیفہ تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے دمشق میں جامع اموی کی تعمیر، مدینہ میں مسجد نبوی کی توسیع اور مدینہ کے کئی دیگر مقامات کی تعمیر کے علاوہ مسجد الحرام کی بھی توسیع کی۔

انہوں نے مسجد کے رقبے میں 1725 مربع میٹر کا اضافہ کیا اور اس کی ازسرِنو تعمیر و مرمت کروائی۔ ولید نے مسجد کے اطراف رواق تعمیر کروائے جنہیں بڑے اور مضبوط ستونوں پر قائم کیا گیا۔ ان ستونوں کو نہایت خوبصورتی سے آراستہ کیا گیا اور بعض حصوں میں سونا بھی استعمال کیا گیا۔

اسی طرح انہوں نے خانۂ کعبہ کا ناودان بھی سونے کا بنوایا، جو آج تک اسی نام سے مشہور ہے۔

جغرافیائی موقعیت اور مسجد کی حدود

مسجد الحرام، سعودی عرب کے شہر مکہ میں ابوقبیس، اجیاد، ہندی اور عمر پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔

مسجد الحرام کی موجودہ حدود

  • مشرق کی جانب: کوه ابوقبیس
  • مغرب کی جانب: کوه عمر اور شبیکہسڑک
  • شمال کی جانب: شامیہ سڑک اور کوه ہندی
  • جنوب کی جانب: اجیاد سڑک اور مسفلہ

حرم سے مسجد الحرام تک مختلف مقامات کا فاصلہ

حرم کی حدود سے مسجد الحرام تک فاصلہ مختلف مقامات سے مختلف ہے:

  • تنعیم سے مسجد الحرام تک:6150 میٹر
  • جعرانہ سے مسجد تک: 18000 میٹر
  • طائف کے راستے ہدٰی کے مقام سے مسجد الحرام تک: 15500 میٹر
  • لیث کے راستے سے مسجد تک: 17000 میٹر
  • جدہ کے راستے سے مسجد الحرام تک: 11000 میٹر

مسجد الحرام کی تاریخ

مسجد الحرام کے گرد حصار کھینچنا

مکہ میں اسلام کی فتح کے بعد خانۂ خدا اور اس کے اطراف کو بتوں کی آلودگی سے پاک کر دیا گیا، اور مکہ کی فضا میں بلالؓ کی اذان ، جو توحید کا شعار تھی، گونجنے لگی۔

اس وقت تک مسجد الحرام کے اردگرد کوئی حصار یا عمارت موجود نہیں تھی۔ صرف کعبہ کے اطراف، طواف کی حد سے باہر، عربوں کے گھر بنے ہوئے تھے۔

جب اسلام پھیلا اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، تو یہ محسوس کیا گیا کہ مطاف (طواف کی جگہ) کو وسیع ہونا چاہیے۔ چنانچہ دوسرے خلیفہ نے حکم دیا کہ اطراف کے گھروں کو خرید کر منہدم کیا جائے اور مسجد کی حدود میں شامل کیا جائے۔

اسی طرح انہوں نے حکم دیا کہ مسجد کے اردگرد انسان کے قد سے کچھ کم اونچی دیوار بنائی جائے، اس میں دروازے رکھے جائیں، اور دیواروں کے اوپر مشعلیں نصب کی جائیں تاکہ مسجد رات میں روشن رہے۔ کعبہ کے غلاف کو بھی تبدیل کیا گیا۔

چونکہ کعبہ اور مسجد سیلاب کے خطرے میں رہتے تھے، اس لیے کوشش کی گئی کہ اطراف میں بند بنائے جائیں تاکہ پانی کے ریلے کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

ایک قدیم رواج کے مطابق، کعبہ کے اطراف رہنے والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی عمارتیں کعبہ سے اونچی نہ بنائیں تاکہ کعبہ اور مسجد کی عظمت ان عمارتوں کے زیرِ سایہ نہ آ جائے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام سے پہلے مکہ کے باشندے، کعبہ کے احترام میں، اپنے گھروں کو مربع شکل میں نہیں بناتے تھے۔

حضرت عثمان کے زمانے میں مسجد کی توسیع

دوسرے خلیفہ کے اقدامات کے بعد، سن 17 ہجری میں، پھر تیسرے خلیفہ نے سن 26 ہجری میں مسجد کی حدود میں مزید اضافہ کیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ مزید گھروں کو خرید کر مسجد میں شامل کیا جائے۔

اس سلسلے میں بعض گھر والوں کے ساتھ اختلاف بھی پیش آیا، جس کے نتیجے میں کچھ لوگ راضی ہو گئے جبکہ کچھ ناراض ہی رہے۔

تیسرے خلیفہ نے مسجد کی توسیع کے ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ مسجد کے لیے رواق تعمیر کیے جائیں۔ اس سے پہلے کعبہ کے اطراف کا پورا حصہ بغیر چھت کے تھا، اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اس کے بعض حصوں کو چھت دار بنایا گیا۔

  1. معجم المصطلحات والألفاظ الفقهیة‌، محمود عبدالرحمان‌، ج3، ص279
  2. سورۂ توبہ: 28
  3. آشنایی با مسجد‌الحرام - بیتوته -اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 مئی 2026ء