مندرجات کا رخ کریں

"ابو عمر بغدادی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 26: سطر 26:


وہ 1987 ع میں [[افغانستان]] ہجرت کر گیا اور 1991 ع میں [[القاعدہ]] کی قیادت میں کارروائیوں میں شرکت کے لیے عراق واپس آیا<ref>[https://www.irna.ir/news/8142477/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D9%87-%D8%AF%D8%B1-%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82-%DA%A9%D8%B4%D8%AA%D9%87-%D8%B4%D8%AF خبرگزاری جمهوری اسلامی]</ref>
وہ 1987 ع میں [[افغانستان]] ہجرت کر گیا اور 1991 ع میں [[القاعدہ]] کی قیادت میں کارروائیوں میں شرکت کے لیے عراق واپس آیا<ref>[https://www.irna.ir/news/8142477/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D9%87-%D8%AF%D8%B1-%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82-%DA%A9%D8%B4%D8%AA%D9%87-%D8%B4%D8%AF خبرگزاری جمهوری اسلامی]</ref>


== فوجی سرگرمیاں ==
== فوجی سرگرمیاں ==
البغدادی 11 سال کی عمر میں [[وہابیت|وہابی]] نظریات سے واقف ہوا اور 1985 ع میں باقاعدہ طور پر عراق کی وہابی اور انتہا پسند جماعتوں کا رکن بن گیا، بعد ازاں وہ عراق میں ان جماعتوں کی نمایاں شخصیات میں سے ایک کے طور پر جانا جانے لگا۔ وہ 1987 ع میں "[[اسامہ بن لادن|اسامہ بن لادن]]"، [[القاعدہ|تنظیم القاعدہ]] کے رہنما کے خیالات سے متاثر ہو کر [[افغانستان]] گیا اور وہاں طالبان فورسز کے پاس تین سال تک فوجی تربیت اور [[جنگ]] کے حربے سیکھے، اس کے بعد وہ عراق واپس آیا لیکن وہاں پہنچتے ہی بعثی فورسز نے اسے گرفتار کر لیا اور بعد میں اعلان کیا گیا کہ وہ [[بعثی نظام|بعثی نظام]] کو گرانے کی کوشش کے جرم میں مارا گیا ہے۔ جبکہ سب نے اس کا نام بھلا دیا تھا، البغدادی فلوجہ شہر میں القاعدہ تنظیم اور [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکی]] فوجیوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں سامنے آیا اور فلوجہ کی جنگوں کا کمانڈر کے طور پر جانا جانے لگا اور اس کا نام دوبارہ زبان زد عام ہو گیا۔
البغدادی 11 سال کی عمر میں [[وہابیت|وہابی]] نظریات سے واقف ہوا اور 1985 ع میں باقاعدہ طور پر عراق کی وہابی اور انتہا پسند جماعتوں کا رکن بن گیا، بعد ازاں وہ عراق میں ان جماعتوں کی نمایاں شخصیات میں سے ایک کے طور پر جانا جانے لگا۔  


وہ 1987 ع میں "[[اسامہ بن لادن|اسامہ بن لادن]]"، [[القاعدہ|تنظیم القاعدہ]] کے رہنما کے خیالات سے متاثر ہو کر [[افغانستان]] گیا اور وہاں طالبان فورسز کے پاس تین سال تک فوجی تربیت اور [[جنگ]] کے حربے سیکھے، اس کے بعد وہ عراق واپس آیا لیکن وہاں پہنچتے ہی بعثی فورسز نے اسے گرفتار کر لیا


اور بعد میں اعلان کیا گیا کہ وہ [[بعثی نظام|بعثی نظام]] کو گرانے کی کوشش کے جرم میں مارا گیا ہے۔ جبکہ سب نے اس کا نام بھلا دیا تھا، البغدادی فلوجہ شہر میں القاعدہ تنظیم اور [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکی]] فوجیوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں سامنے آیا اور فلوجہ کی جنگوں کا کمانڈر کے طور پر جانا جانے لگا اور اس کا نام دوبارہ زبان زد عام ہو گیا۔


== اسلامی ریاست جماعت کی صدارت ==
== اسلامی ریاست جماعت کی صدارت ==
ابوعمر البغدادی حالیہ برسوں میں عراق میں القاعدہ تنظیم کی معروف شخصیات میں سے ایک بن گیا ہے اور اسے انتہا پسند اور [[دہشت گردی|دہشت گرد]] جماعت موسوم بہ "[[داعش|اسلامی ریاست عراق]]" کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔
ابوعمر البغدادی حالیہ برسوں میں عراق میں القاعدہ تنظیم کی معروف شخصیات میں سے ایک بن گیا ہے اور اسے انتہا پسند اور [[دہشت گردی|دہشت گرد]] جماعت موسوم بہ "[[داعش|اسلامی ریاست عراق]]" کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔


== ایران سے تعلقات ==
== ایران سے تعلقات ==
وہ ہمیشہ [[جمہوریہ اسلامی ایران|ایران]] کو [[عراق]] کا دشمن سمجھتا تھا اور اپنی ایک آڈیو ٹیپ میں اس نے [[جمہوریہ اسلامی ایران|جمہوریہ اسلامی ایران]] کے رہنماؤں کو دو مہینے کی مہلت دی تھی کہ وہ عراق کے [[شیعہ مذہب|شیعوں]] سے اپنے تعلقات ختم کر دیں ورنہ انہیں "سخت جنگ" کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وہ ہمیشہ [[جمہوریہ اسلامی ایران|ایران]] کو [[عراق]] کا دشمن سمجھتا تھا اور اپنی ایک آڈیو ٹیپ میں اس نے [[جمہوریہ اسلامی ایران|جمہوریہ اسلامی ایران]] کے رہنماؤں کو دو مہینے کی مہلت دی تھی کہ وہ عراق کے [[شیعہ مذہب|شیعوں]] سے اپنے تعلقات ختم کر دیں ورنہ انہیں "سخت جنگ" کا سامنا کرنا پڑے گا۔


== گرفتاری ==
== گرفتاری ==
1388 ہجری شمسی میں بریگیڈیئر جنرل "قاسم عطا"، [[بغداد]] کے فوجی آپریشنز کے کمانڈر نے "ابوعمر البغدادی"، [[عراق]] میں [[القاعدہ|القاعدہ]] کے نمبر ون شخص کی گرفتاری کی خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ریاست عراق جماعت کے صدر کو "الرصافہ" علاقے میں پولیس اور انٹیلی جنس فورسز کی جانب سے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے<ref>[https://www.farsnews.ir/news/8802030641/%D8%A7%D8%A8%D9%88-%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%D9%8A-%D9%83%D9%8A%D8%B3%D8%AA خبرگزاری فارس]</ref>.
1388 ہجری شمسی میں بریگیڈیئر جنرل "قاسم عطا"، [[بغداد]] کے فوجی آپریشنز کے کمانڈر نے "ابوعمر البغدادی"، [[عراق]] میں [[القاعدہ|القاعدہ]] کے نمبر ون شخص کی گرفتاری کی خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ریاست عراق جماعت کے صدر کو "الرصافہ" علاقے میں پولیس اور انٹیلی جنس فورسز کی جانب سے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے<ref>[https://www.farsnews.ir/news/8802030641/%D8%A7%D8%A8%D9%88-%D8%B9%D9%85%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%D9%8A-%D9%83%D9%8A%D8%B3%D8%AA خبرگزاری فارس]</ref>.


== قتل کی تصدیق ==
== قتل کی تصدیق ==
عراقی ریاست عراق کی قیادت کے لیے منتخب ہونے کے وقت سے البغدادی کی حقیقی شناخت عراقی اور امریکی حکام کے لیے ایک معمہ رہی ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک (اور اس سے پہلے بھی) البغدادی کئی بار مارا گیا یا گرفتار ہوا لیکن ہر بار یہ واضح ہوا کہ مقتول کوئی اور شخص تھا یہاں تک کہ 2010 ع میں اس کے قتل کی تصدیق عراقی القاعدہ نے کر دی<ref>[https://fa.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%DB%8C ابوعمر بغدادی]</ref>.
عراقی ریاست عراق کی قیادت کے لیے منتخب ہونے کے وقت سے البغدادی کی حقیقی شناخت عراقی اور امریکی حکام کے لیے ایک معمہ رہی ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک (اور اس سے پہلے بھی) البغدادی کئی بار مارا گیا یا گرفتار ہوا لیکن ہر بار یہ واضح ہوا کہ مقتول کوئی اور شخص تھا یہاں تک کہ 2010 ع میں اس کے قتل کی تصدیق عراقی القاعدہ نے کر دی<ref>[https://fa.wikipedia.org/wiki/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D8%B9%D9%85%D8%B1_%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%DB%8C ابوعمر بغدادی]</ref>.


== مزید دیکھیے ==
== مزید دیکھیے ==
سطر 58: سطر 50:
* [[اسامہ بن لادن|اسامہ بن لادن]]
* [[اسامہ بن لادن|اسامہ بن لادن]]
* [[عراق]]
* [[عراق]]


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==

نسخہ بمطابق 15:51، 13 مئی 2026ء

سانچہ:جعبہ معلومات شخصیت ابوعمر البغدادی، اصل نام عبداللہ رشید صالح البغدادی، جماعت دہشت گرد موسوم بہ "اسلامی ریاست عراق" کا رہنما تھا۔


پیدائش و پرورش

ابوعمر البغدادی 1947 ع میں شہر بغداد میں عراق کی ہاشمیہ قبیلے میں پیدا ہوا۔ وہ آٹھ سال کی عمر میں اپنے والد سے محروم ہو گیا اور اس کی پرورش کی ذمہ داری اس کی ماں نے سنبھالی۔

وہ 1987 ع میں افغانستان ہجرت کر گیا اور 1991 ع میں القاعدہ کی قیادت میں کارروائیوں میں شرکت کے لیے عراق واپس آیا[1]

فوجی سرگرمیاں

البغدادی 11 سال کی عمر میں وہابی نظریات سے واقف ہوا اور 1985 ع میں باقاعدہ طور پر عراق کی وہابی اور انتہا پسند جماعتوں کا رکن بن گیا، بعد ازاں وہ عراق میں ان جماعتوں کی نمایاں شخصیات میں سے ایک کے طور پر جانا جانے لگا۔

وہ 1987 ع میں "اسامہ بن لادنتنظیم القاعدہ کے رہنما کے خیالات سے متاثر ہو کر افغانستان گیا اور وہاں طالبان فورسز کے پاس تین سال تک فوجی تربیت اور جنگ کے حربے سیکھے، اس کے بعد وہ عراق واپس آیا لیکن وہاں پہنچتے ہی بعثی فورسز نے اسے گرفتار کر لیا

اور بعد میں اعلان کیا گیا کہ وہ بعثی نظام کو گرانے کی کوشش کے جرم میں مارا گیا ہے۔ جبکہ سب نے اس کا نام بھلا دیا تھا، البغدادی فلوجہ شہر میں القاعدہ تنظیم اور امریکی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں سامنے آیا اور فلوجہ کی جنگوں کا کمانڈر کے طور پر جانا جانے لگا اور اس کا نام دوبارہ زبان زد عام ہو گیا۔

اسلامی ریاست جماعت کی صدارت

ابوعمر البغدادی حالیہ برسوں میں عراق میں القاعدہ تنظیم کی معروف شخصیات میں سے ایک بن گیا ہے اور اسے انتہا پسند اور دہشت گرد جماعت موسوم بہ "اسلامی ریاست عراق" کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔

ایران سے تعلقات

وہ ہمیشہ ایران کو عراق کا دشمن سمجھتا تھا اور اپنی ایک آڈیو ٹیپ میں اس نے جمہوریہ اسلامی ایران کے رہنماؤں کو دو مہینے کی مہلت دی تھی کہ وہ عراق کے شیعوں سے اپنے تعلقات ختم کر دیں ورنہ انہیں "سخت جنگ" کا سامنا کرنا پڑے گا۔

گرفتاری

1388 ہجری شمسی میں بریگیڈیئر جنرل "قاسم عطا"، بغداد کے فوجی آپریشنز کے کمانڈر نے "ابوعمر البغدادی"، عراق میں القاعدہ کے نمبر ون شخص کی گرفتاری کی خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ریاست عراق جماعت کے صدر کو "الرصافہ" علاقے میں پولیس اور انٹیلی جنس فورسز کی جانب سے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے[2].

قتل کی تصدیق

عراقی ریاست عراق کی قیادت کے لیے منتخب ہونے کے وقت سے البغدادی کی حقیقی شناخت عراقی اور امریکی حکام کے لیے ایک معمہ رہی ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک (اور اس سے پہلے بھی) البغدادی کئی بار مارا گیا یا گرفتار ہوا لیکن ہر بار یہ واضح ہوا کہ مقتول کوئی اور شخص تھا یہاں تک کہ 2010 ع میں اس کے قتل کی تصدیق عراقی القاعدہ نے کر دی[3].

مزید دیکھیے

حوالہ جات

سانچہ:پانویس