مندرجات کا رخ کریں

"ابراہیم سلمو" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 19: سطر 19:




'''ابراہیم سلمو'''  سن  1919 ء صوبہ دمیطہ مین واقع بیت لحم کے ایک نجی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم [[الازہر یونیورسٹی|الازہر]] سے مکمل کی۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز تعلیم و تربیت کے شعبے سے کیا اور ایک مذہبی ادارے کے ذمہ دار رہے۔
'''ابراہیم سلمو'''  سن  1919 ء صوبہ دمیطہ مین واقع بیت لحم کے ایک نجی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم [[الازہر یونیورسٹی|الازہر]] سے مکمل کی۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز تعلیم و تربیت کے شعبے سے کیا اور ایک مذہبی ادارے کے ذمہ دار بهی رها ہے۔


== سوانح حیات ==
== سوانح حیات ==

نسخہ بمطابق 19:10، 12 مئی 2026ء

ابراہیم سلمو
پورا نامابراہیم سلمو
دوسرے نامابراہیم محمد بشیر سلمو
ذاتی معلومات
پیدائش1919 ء
یوم پیدائش25 نومبر
پیدائش کی جگہفلسطین
وفات2006 ء
وفات کی جگہفلسطین
مذہباسلام، اہل سنت
مناصباخوان المسلمین کے همکار تهے ۔


ابراہیم سلمو سن 1919 ء صوبہ دمیطہ مین واقع بیت لحم کے ایک نجی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم الازہر سے مکمل کی۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز تعلیم و تربیت کے شعبے سے کیا اور ایک مذہبی ادارے کے ذمہ دار بهی رها ہے۔

سوانح حیات

وہ 1919 ع میں صوبہ دمیطہ مین واقع بیت لحم کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک کسان، مذہبی شخص اور اسلامی خلافت کی تاریخ کے حافظ تھے؛ وہ تقریباً 90 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی والدہ بھی ایک مذہبی گھرانے سے تھیں۔ حاجی ابراہیم نے شادی کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں پانچ اولادیں عطا کیں۔

اخوان المسلمین کے ساتھ تعاون

1934 ع میں حسن البناء سے تعارف کے بعد وہ اخوان المسلمین میں شامل ہو گئے اور اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ اخوان المسلمین کا پہلا کام یتیموں اور ان کی بیوہ ماؤں کی عزت افزائی تھا۔ 1941 ع میں حسن البنا سے ایک ملاقات کے دوران ان سے ان کی مزید شناسائی ہوئی اور وہ ان کی مدد سے کام کرنے لگے۔ وہ ان افراد میں سے تھے جنہوں نے لشکر دمیطہ کی بنیاد رکھی۔

سرزمین فلسطین میں

1948 ع میں انہوں نے فلسطین کی جنگ میں حصہ لیا اور چھ ماہ یروشلم میں قیام کیا۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق وہ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرتے رہے۔ نیز 1951 ع میں انہوں نے نہر سوئز کی جنگ میں بھی حصہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران اخوان نے ایک تربیتی کیمپ قائم کیا، جس وقت نہر سوئز کے محکمے کے ذمہ دار محمود عبدہ تھے۔ انہوں نے 1952 ع کے جولائی کے انقلاب میں وسائل کی فراہمی میں بھی حصہ لیا۔

گرفتاری

سرزمین جہاد سے واپسی پر وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ فلسطین میں گرفتار ہو گئے اور طرہ جیل میں قید رہے، جہاں سے وہ 1951 ع میں رہائی تک رہے۔ 1954 ع میں واقعہ المنشیہ سے دو ماہ قبل انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ وہ 1956 ع تک حراست میں رہے، پھر دوبارہ گرفتار ہوئے اور 1970 کی دہائی کے اوائل میں جمال عبد الناصر کی وفات تک حراست میں رہے۔ انہوں نے اخوان المسلمین کی دعوتی سرگرمیوں میں کام جاری رکھا۔

وفات

ان کا انتقال پیر کے روز 3/6/2006 ع بمطابق 5 صفر 1427 ہجری کو ہوا۔

حوالہ جات

ماخذ

  • رجوع کریں: ویکی اخوان میں ابراہیم سلمو کا مدخل؛ ikhwanwiki.com۔