مندرجات کا رخ کریں

"ابتریہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 6: سطر 6:
| عام نام = ابتریه  
| عام نام = ابتریه  
| تشکیل کا سال = دوسری صدی هجری
| تشکیل کا سال = دوسری صدی هجری
| تشکیل کی تاریخ =  
| تشکیل کی تاریخ = دوسری صدی هجری
| بانی = حسن‌‌ بن‌ صالح‌‌ بن حیّ و کثیر‌النواء
| بانی = حسن‌‌ بن‌ صالح‌‌ بن حیّ و کثیر‌النواء
| نظریہ =  بَتریّہ، فرقہ زیدیہ کی ایک شاخ ہے جو اپنے معتدل عقائد کی وجہ سے دیگر شیعہ گروہوں کے درمیان ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
| نظریہ =  بَتریّہ، فرقہ زیدیہ کی ایک شاخ ہے جو اپنے معتدل عقائد کی وجہ سے دیگر شیعہ گروہوں کے درمیان ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

نسخہ بمطابق 09:22، 5 مئی 2026ء

ابتریه یا بتریه
نامابتریه
عام نامابتریه
تشکیل کی تاریخدوسری صدی هجری
بانیحسن‌‌ بن‌ صالح‌‌ بن حیّ و کثیر‌النواء
نظریہبَتریّہ، فرقہ زیدیہ کی ایک شاخ ہے جو اپنے معتدل عقائد کی وجہ سے دیگر شیعہ گروہوں کے درمیان ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

ابتریہ، یا بَتَریہ (باء کے فتح یا ضم کے ساتھ)، فرقہ «زیدیہ» کی ایک شاخ ہے اور حسن بن صالح بن حی اور کثیر النواء کے ساتھی ہیں، جو ایک مشہور شاعر تھے اور انہیں ابتر کا لقب دیا گیا تھا۔ اس گروہ کو صالحیہ بھی کہا جاتا تھا۔

تاریخ

معلوم ہونا چاہیے کہ «بتریہ» اصحاب حدیث میں سے ہیں اور حسن بن صالح بن حی ہمدانی ثوری کوفی (100- 186 ہجری قمری) اور کثیر النواء، (یعنی گٹھلی فروش) کے پیروکار ہیں، جو امام محمد باقر (علیہ السلام) اور امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے ہم عصر تھے اور سالم بن ابی حفصہ (وفات 137 ہجری قمری)، اور حکم بن عتیبه کوفی «وفات 115 ہجری قمری» اور ابو المقدام ثابت حداد جو امام سجاد (علیہ السلام) اور امام باقر (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے تھے اور سلمہ بن کہیل (وفات 122 ہجری قمری) کے ساتھی تھے۔

محمد بن اسحاق الندیم نے اپنی کتاب الفہرست میں لکھا ہے کہ حسن بن صالح بن حیّ (جو 100 عیسوی میں پیدا ہوئے اور 168 عیسوی میں وفات پائی) شیعہ زیدیہ کے بڑے علماء میں سے تھے اور ان کے فقہا اور متکلمین میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی تصانیف میں کتاب التوحید، امامت اولاد علی از فاطمہ، اور الجامع فی الفقہ شامل ہیں۔ حسن کے دو بھائی تھے جن کے نام علی بن صالح اور صالح بن صالح تھے۔ یہ دونوں بھی اپنے بھائی حسن بن صالح کے مذہب پر تھے اور زیدیہ کے متکلمین اور محدثین میں شمار کیے جاتے تھے۔

کشی نے سدیر سے روایت کی ہے کہ میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ سلمہ بن کہیل، ابوالمقدام ثابت حداد، سالم بن ابی حفصہ اور کثیر النواء میرے ساتھ تھے۔ اس وقت آپ کے پاس آپ کے بھائی زید بن علی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے امام سے کہا کہ ہم علی علیہ السلام، حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری رکھتے ہیں۔ امام نے فرمایا: ہاں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم ابوبکر اور عمر سے بھی محبت رکھتے ہیں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری رکھتے ہیں۔ اس پر زید بن علی نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا: کیا تم فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بھی بیزاری اختیار کرتے ہو؟ تم نے ہمارے امر کو کاٹ دیا، اللہ تمہاری نسل اور انجام کو کاٹ دے۔ تم نے ہمارے سلسلے کو منقطع کر دیا۔ اسی دن سے وہ بَتریہ کے نام سے معروف ہو گئے۔

مامقانی نے اپنی کتاب مقباس الہدایة میں لکھا ہے کہ اس فرقے کو ایک اور انداز سے بتریّہ بھی کہا گیا ہے، یعنی منقوط تاء کو بائے موحدہ سے پہلے لایا گیا ہے۔ یہ رائے فاضل کاظمی کی ہے جو تکملة النقد میں مذکور ہے۔ انہوں نے مذکورہ روایت کو اس طرح نقل کیا ہے: اتبرءون من فاطمة تبرئتم امرنا تبرئکم اللّه۔ اس دن سے انہیں تبریہ یعنی بیزاری اختیار کرنے والے کہا جانے لگا۔ [1].

وجہِ تسمیہ

شیخ طوسی (محمد بن حسن طوسی) نے اس باب میں ایک حکایت بیان کی ہے: ایک دن کثیر النواء اور چند دیگر افراد امام باقر (علیہ السلام) کے پاس گئے، جبکہ مجلس میں امام کے بھائی زید بن علی بھی موجود تھے۔ انہوں نے امام کے سامنے یہ اعلان کیا کہ اوّل یہ کہ وہ علی، حسن اور حسین (علیہم السلام) کو اپنا ولی مانتے ہیں، اور دوم یہ کہ ابوبکر اور عمر کو بھی اپنا ولی مانتے ہیں۔ اس موقع پر زید نے ان کی طرف رخ کر کے کہا: کیا تم فاطمہ (سلام اللہ علیہا) سے براءت اختیار کرتے ہو؟ تم نے ہمارے امر کو خراب اور منقطع کر دیا (بترتم امرنا)، پس اللہ تمہارے امر کو خراب اور منقطع کرے (بترکم اللّه)۔ اسی وقت سے وہ “بتریہ” کہلانے لگے[2]۔

یہ حکایت بظاہر ابتریہ کے مخالفین کی گھڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ یہ لوگ بھی زیدیہ کے دیگر فرقوں کی طرح زید بن علی بن حسین کو اپنا پیشوا مانتے تھے اور امامت کو علی اور فاطمہ (علیہم السلام) کی اولاد کے ساتھ خاص سمجھتے تھے۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ ابتریہ (جس کا مخفف “بتریہ” ہے) کی نسبت “ابتر” کی طرف ہو، جو کثیر النواء کا لقب تھا، اور یہ لقب اسے مغیرہ بن سعد—فرقہ مغیریہ کے بانی—نے دیا تھا[3]۔

ابتریہ کو “صالحیہ” بھی کہا گیا ہے، کیونکہ اس گروہ کی ایک نمایاں شخصیت حسن بن صالح بن حیّ بھی ہیں، اور “صالحیّہ” کا لفظ انہی کے نام سے ماخوذ ہے[4]۔

بتریہ کے عقائد

نوبختی لکھتے ہیں: بتریہ کا اعتقاد تھا کہ پیغمبر کے بعد امامت کے لیے بہترین اور سب سے زیادہ مستحق شخص علی (علیہ السلام) تھے۔ یہ لوگ امام علی (علیہ السلام) کے پختہ اور استوار حامی تھے اور کہتے تھے کہ ان کے مخالفین دوزخ میں ہیں۔ تاہم، ابوبکر اور عمر سے بیعت کو درست جانتے تھے اور عثمان کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے تھے اور یہ دلیل دیتے تھے کہ اگرچہ علی (علیہ السلام) ان سے زیادہ مستحق اور لائق تھے، لیکن چونکہ ان دونوں کو خلافت پر تسلیم کیا، [تو ان سے بیعت کرنا جائز تھا]۔ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ کسی کو کسی کام میں حق حاصل ہو اور وہ اسے دوسروں کے سپرد کر دے۔

ان سب کا اس قول پر اتفاق تھا کہ علی (علیہ السلام) بہترین صحابی اور پیغمبر کے یار تھے، لیکن اس کے باوجود، ابوبکر اور عمر کے احکامات پر عمل کرتے تھے اور سفیان ثوری کی طرح خفین پر مسح کرنے، نشہ آور نبیذ پینے اور مار مچھلی کھانے کو جائز جانتے تھے، پھر علی (علیہ السلام) کی جنگ اور ان کے دشمنوں سے لڑنے کے بارے میں اختلاف کیا۔ زیدیہ کے کمزور گروہ جنہیں «(زیدیه)|عجلیہ» کہا جاتا ہے اور جو ہارون بن سعید عجلی (متوفی 145 ہجری قمری) کے ساتھی ہیں، یہ بھی بتریہ میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کی دوستی کی دعوت دی اور پھر ان کی امامت کو ابوبکر اور عمر کی ولایت کے ساتھ ملا دیا۔ اہل سنت کے نزدیک یہ شیعی فرقوں میں سے بہترین ہیں، کیونکہ اگرچہ وہ علی (علیہ السلام) کو برتر مانتے ہیں، لیکن ابوبکر اور عمر کی امامت کو بھی قبول کرتے ہیں۔ لیکن عثمان اور طلحہ اور زبیر کی مذمت کرتے ہیں اور علی (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ مل کر یا ان کے ہمراہ جنگ کے لیے نکلنے کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لحاظ سے واجب جانتے ہیں۔ یہ امامت میں کسی خاص شخص کو مدنظر نہیں رکھتے، بلکہ علی (علیہ السلام) کی اولاد میں سے جو بھی قیام کرے اور کسی بھی نسل سے ہو، اسے امام مانتے ہیں۔ عبدالقاہر بغدادی لکھتے ہیں: بتریہ ابوبکر اور عمر کی امامت کو درست جانتے تھے۔ تاہم، ان کا اعتقاد تھا کہ اگر لوگ حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت کا اقرار کرتے تو بہتر تھا، لیکن یہ عمل ان کے فسق و کفر کا باعث نہیں بنے گا۔ اس فرقے کا فرقہ سلیمیہ سے صرف یہ فرق ہے کہ یہ سلیمیہ کے برعکس عثمان کو کافر نہیں ٹھہراتے تھے اور اسی وجہ سے اہل سنت کے نزدیک محترم ہیں۔ ابوالحسن اشعری لکھتے ہیں: بتریہ دیگر شیعی فرقوں کے برعکس، اس دنیا میں مردوں کی رجعت کے منکر تھے اور علی (علیہ السلام) کو اس دن سے امام و خلیفہ مانتے ہیں جس دن عثمان کے بعد ان سے بیعت کی گئی۔

بتریہ کے نزدیک امام کی شرائط

تمام زیدیہ جن کی ایک شاخ بتریہ ہے، مفضول کی امامت کو اس شرط پر جائز جانتے ہیں کہ افضل رضامند ہو[5].

متعلقه مضامین

حوالہ جات

  1. ۔ محمد جواد مشکور، فرق اسلامی کا فرهنگ، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، ایڈیشن دوم، ص 9 مع ترمیم۔
  2. شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، بتحقیق حسن مصطفوی، مشہد، 1969، ج 1، ص 236.
  3. نشوان بن سعید الحمیری، الحور العین، بتحقیق کمال مصطفی، قاہرہ، 1948، ج 1، ص 155.
  4. حسن بن موسی نوبختی، فرق الشیعة، نجف، 1355ق، ج 1، ص 13.
  5. محمد بن عبدالکریم شہرستانی، الملل و النحل، قاہرہ، سن 1370 ق، ج 1، ص 320。