مندرجات کا رخ کریں

"انجیل" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
ٹیگ: ردِّ ترمیم
Translationbot (تبادلۂ خیال) کی جانب سے کی گئی 25450ویں ترمیم رد کر دی گئی ہے۔
ٹیگ: رد ترمیم
 
سطر 1: سطر 1:
[[پرونده:انجیل.jpg|بی‌قاب|چپ]]
[[فائل:انجیل.jpg|تصغیر|بائیں|]]
'''اِنْجیل''' (یونانی لفظ εὐαγγέλιون «ایوانجیلیون» euangelion کا عربی شکل ہے، جس کا معنی خوش خبری یا بشارت ہے) مسیحیوں کی مقدس کتاب ہے۔ عہد نامہ جدید کی پہلی چار کتابیں جو بالترتیب '''مَتّی'''، '''مَرقُس'''، '''لوقا''' اور '''یوحنّا''' کی طرف منسوب ہیں، انجیل کہلاتی ہیں۔ مسیحی انجیل کو [[حضرت عیسی|حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)]] کی آسمانی کتاب نہیں مانتے بلکہ ان کا اعتقاد ہے کہ [[حضرت عیسی|عیسیٰ]] خود [[وحی]] کا تجسم اور عین الہی پیغام تھے۔
'''اِنجیل'''، (یونانی لفظ εὐαγγέλιον – اِئوانگِلیون / euangelion کا عربی شدہ روپ، بمعنی خوش خبری یا مژدہ) [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحی مذہب]] کی مقدس کتاب ہے۔ عہدِ جدید کی پہلی چار کتابیں، جو بالترتیب مَتّی، مَرقُس، لوقا اور یوحنا کی طرف منسوب ہیں، انجیل کہلاتی ہیں۔ مسیحیوں کے نزدیک انجیل کوئی ایسی آسمانی کتاب نہیں جو [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام]] پر نازل ہوئی ہو، بلکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ عیسیٰ خود مجسم وحی اور خدا کا عین پیغام تھے۔
[[قرآن|قرآن کریم]] اور اسلامی احادیث میں انجیل اس کتاب کا نام ہے جو [[حضرت عیسی|حضرت مسیح]] کو [[خدا|خداوند]] کی طرف سے [[وحی]] ہوئی، لیکن ادیان کی تاریخ کی کتابوں میں اور خاص طور پر مسیحیوں کے نزدیکی ان کتابوں کو انجیل کہا جاتا ہے جو [[مسیحیت]] کی ابتدائی صدیوں میں حضرت [[حضرت عیسی|مسیح]] کے اقوال و افعال کو ثبت کرنے کے لیے لکھی گئیں۔ انجیل کے مصنفین نے حضرت عیسیٰ مسیح کی سیرت حیات کی تدوین میں ان مواد سے استفادہ کیا ہے جو ان کے شاگردوں اور واقعات کے عینی گواہوں کے ذریعے ان تک پہنچا تھا۔


[[قرآن کریم|قرآنِ کریم]] اور اسلامی احادیث میں، انجیل اس کتاب کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ (علیہ‌السلام)]] پر وحی کے ذریعے نازل فرمائی۔ لیکن ادیان کی تاریخ سے متعلق کتابوں میں، اور خصوصاً مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق، وہ کتابیں جو مسیحیت کے ابتدائی صدیوں میں حضرت مسیح کے اقوال اور اعمال کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی گئیں، انجیل کہلاتی ہیں۔


انجیلوں کے مصنفین نے [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ مسیح]] کی زندگی کے حالات و واقعات لکھتے وقت ان بیانات اور روایات سے استفادہ کیا جو ان کے شاگردوں اور عینی شاہدین کے ذریعے ان تک پہنچے تھے۔


== آسمانی کتاب ==
== کتابِ آسمانی ==
اسلامی نقطہ نظر کے مطابق انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو خداوند نے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام پر نازل فرمائی تاکہ وہ اسے [[لوگوں]] تک [[پیغام رسانی]] کریں اور یہ [[ہدایت]]، [[ذکر]] اور [[الہی احکام]] پر مشتمل تھی؛ لیکن [[مسیحی]] انجیل کے اس تصور کی بنیادی طور پر تردید کرتے ہیں۔ وہ کبھی نہیں کہتے کہ [[عیسیٰ]] نے انجیل نام کی کوئی کتاب لائی ہے۔ [[عیسیٰ]] کی طرف سے [[وحی]] کا لایا جانا اس طرح جیسے [[حضرت موسیٰ]] نے [[تورات]] اور [[حضرت محمد]] علیہما السلام نے [[قرآن]] لائی، [[مسیحی الہیات]] میں کوئی مقام نہیں رکھتا۔ [[اناجیل]] اربعہ شاگردان [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے ہاتھوں لکھی گئی ہیں اور مختلف [[اناجیل]] میں سے انتخاب اور ترویج کی گئی ہیں۔
[[اسلام]] کے نقطۂ نظر کے مطابق انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] پر نازل فرمائی تاکہ وہ اسے لوگوں تک پہنچائیں۔ یہ کتاب ہدایت، نصیحت اور احکامِ الٰہی پر مشتمل تھی۔ لیکن مسیحی اس تصور کو سرے سے قبول نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ نے کوئی کتاب لائی تھی۔ اس معنی میں وحی لانا، جس طرح [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ]] نے [[توریت(تورات)|تورات]] اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد]] نے [[قرآن]] پہنچایا، مسیحی الہیات میں کوئی جایگاہ نہیں رکھتا۔
مسیحی انجیل کی حقیقت کو [[نجات]] کی [[بشارت]] جانتے ہیں جو [[عیسیٰ]] میں [[خدا]] کے تجسم، [[صلیب]]، اور [[موت]] کے بعد اس حضرت کے زندہ ہو جانے کا نتیجہ ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ [[مسلمانوں]] اور [[مسیحیوں]] کے نزد انجیل کے تصور کی دو بالکل مختلف تعبیریں پائی جاتی ہیں۔
اناجیلِ اربعہ [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] کے شاگردوں نے لکھے، اور مختلف انجیلوں میں سے انہی کو منتخب اور رائج کیا گیا۔
معاشرتی انگریزی زبان میں، لفظ «Gospel» «انجیل» کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہے<ref>منیر بعلبکی، ''المورد قاموس انکلیزی ـ عربی''، بیروت، دارالعلم للملایین، 1995، ص 395۔</ref> جس کی اصل قدیم انگریزی میں «God-Spell» ہے。<ref>Encyclopedia Of Religion and Ethics, James Hastings (ed), New York, charles Scribners sons, 13 Volumes. V.6, P. 333.
</ref> یہ لفظ بھی دو اینگلو سیکسن الفاظ «God» اور «Spell» کا مرکب ہے اور مجموعی طور پر اس کا معنی «الہی کلام»،<ref>Ibid, V. 6, P. 333۔</ref> یا «[[خداوند]] کا املا»<ref>محمّدرضا زیبایی‌نژاد، ''مسیحیت‌شناسی مقایسه‌ای''، تہران، سروش، 1382، ص 139۔</ref> یا «خوش خبری»<ref>The Catholic Encyclopedia, charles G. Herrermann (ed), New York, The Encyclopedia press, Inc, 1913, 16 Volumes. V. 6, P. 656۔</ref> ہے۔ یہ لفظ دراصل یونانی لفظ «Evangelion» (ایوانجیلیون) کا ترجمہ ہے جو لاطین میں «Evangelium» (ایوانجیلیوم) تلفظ کیا جاتا ہے۔
یہ آخری لفظ فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور دیگر جدید زبانوں میں داخل ہوا ہے。<ref>Ibid; Britanica, 2002, Deluxe Edition CD-Rom. V. 5, P. 379۔</ref> چونکہ ابتدائی [[مسیحی]] متون یونانی زبان میں تھے، لہذا کہا جا سکتا ہے کہ لفظ «انجیل» بھی بالآخر یونانی لفظ «ایوانجیلیون» سے ماخوذ ہے؛ لیکن عربی زبان میں اس کے براہ راست یا بالواسطہ راستے پر اختلاف ہے۔


نولڈکے (Noldke) نے اس کے حبشی بولی یعنی «Wangel» کے ذریعے مستعار ہونے پر استدلال کیا ہے<ref>Encyclopedia Of Islam, prepared by a Number of Leading orientalists, Leiden, 1986, 10 Volumes. V. 3, P. 1205۔</ref> اور بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ براہ راست یونانی یا [[سریانی]]، [[عبری]] یا سبائی زبانوں میں سے کسی کے ذریعے عربی میں داخل ہوا ہو。<ref>آرتور جعفری، ''واژه‌های دخیل در قرآن''، ترجمہ فریدون بدرہ‌ای، توس، 1372، ص 131 ـ 132۔</ref> اس سلسلے میں، کچھ [[مسلمان]] [[مفسرین]] نے مذکورہ لفظ کو عربی ثابت کرنے کی کوشش میں اسے وزن افعیل پر اور جذر «ن ج ل» سے مانا ہے اور اس کے لیے مختلف معانی بیان کیے ہیں。<ref> محمّدبن حسن طوسی، ''التبیان''، بہ کوشش احمد حبیب عاملی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ج 3، ص 542 / فضل‌بن حسن طبرسی، ''مجمع‌البیان''، بیروت، دارالمعرفه، آفسٹ؛ تہران، ناصر خسرو، 1406، ج 2، ص 6 / محمّدبن احمد قرطبی، ''الجامع لاحکام القرآن''، چ پنجم، بیروت، دارالکتب‌العلمیه،1417، ج 4، ص 6۔</ref> یہ رائے عربی لغت نگاروں کو منظور نہیں ہوئی。<ref>سید محمّدمرتضی حسینی زبیدی حنفی، ''تاج العروس''، بہ کوشش علی شیری، بیروت، دارالفکر، 1414، ج 8، ص 128 / ابن منظور، ''لسان‌العرب''، بہ کوشش علی شیری، بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1408، ج 14، ص 58 / حسن مصطفوی، ''التحقیق فی کلمات‌القرآن الکریم''، تہران، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، 1374، ج 12، ص 39، «نجل»۔</ref>وہ [[عبری]]، یونانی یا [[سُریانی]] زبان سے اس کے دخیل اور مستعار ہونے پر زور دیتے ہیں。<ref>ابن اثیر، ''النهایه فی غریب الحدیث والاثر''، بہ کوشش محمود محمّد طناحی و طاهر احمد زاوی، قم، اسماعیلیان، 1367، ج 5، ص 23 / فخرالدین طریحی، ''مجمع‌البحرین''، بہ کوشش محمود عادل و احمد حسینی، چ دوم، تہران، نشر فرهنگ اسلامی، 1408، ج 4، ص 274 / ابن منظور، پیشین، ج 4، ص 58۔</ref>اکثر [[مسلمان]] [[مفسرین]] نے بھی «انجیل» کو دخیل الفاظ میں شمار کیا ہے<ref>محمّدبن عمر فخر رازی، ''التفسیر الکبیر''، چ چہارم، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1413، ج 7، ص 171 / محمّد رشیدرضا، ''تفسیر المنار''، چ چہارم، قاہرہ، دارالمنار، 1373، ج 3، ص 158 / سید محمود آلوسی، ''روح‌المعانی فی تفسیر القرآن‌العظیم''، بہ کوشش محمّدحسین عرب، بیروت، دارالفکر، 1417، ج 3، ص 124۔</ref> اور [[زمخشری]] اور [[بیضاوی]] جیسی شخصیات نے اسے عربی کہلانے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا ہے。<ref>محمودبن عمر زمخشری، ''الکشّاف''، چ دوم، قم، بلاغت، 1415، ج 1، ص 335 / ناصرالدین عبداللّه‌بن عمر بیضاوی، ''تفسیر بیضاوی''، بیروت، مؤسسة¶الاعلمی للمطبوعات، 1410، ج 1، ص 237 / محمّدبن محمّدرضا قمی مشهدی، ''کنزالدقائق و بحرالغرائب''، بہ کوشش حسین درگاهی، تہران، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، 1411، ص 237۔</ref>
[[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیوں]] کے نزدیک انجیل کی حقیقت یہ ہے کہ وہ نجات کی بشارت ہے جو خدا کے عیسیٰ میں مجسّم ہونے، صلیب اور وفات کے بعد ان کے زندہ ہونے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ [[مسلمان|مسلمانوں]] اور مسیحیوں کے درمیان انجیل کے تصور میں دو بالکل مختلف قراءتیں موجود ہیں۔


جدید انگریزی میں لفظ Gospel کا استعمال انجیل کے معنی میں ہوتا ہے،<ref>منیر بعلبکی، المورد قاموس انکلیزی ـ عربی، بیروت، دارالعلم للملایین، 1995، ص 395.</ref> 
جس کی اصل قدیم انگلوسیکسن زبان کا لفظ God‑Spell ہے۔<ref>Encyclopedia Of Religion and Ethics, James Hastings (ed), New York, Charles Scribners Sons, 13 Vols, Vol. 6, p. 333.</ref> 
یہ لفظ دو اجزاء God اور Spell پر مشتمل ہے، اور مجموعی طور پر اس کے معنی کلامِ الٰہی،<ref>Ibid, Vol. 6, p. 333.</ref> 
یا خداوند کا املا<ref>محمدرضا زیبائی‌نژاد، مسیحیت‌شناسی مقایسه‌ای، تهران، سروش، 1382، ص 139.</ref> 
یا خوش خبری <ref>The Catholic Encyclopedia, Charles G. Herrermann (ed), New York, The Encyclopedia Press, Inc, 1913, Vol. 6, p. 656.</ref> 
کے ہیں۔ 


یہ لفظ یونانی Evangelion (اوانگلیون) کا ترجمہ ہے جو لاطینی میں Evangelium (اوانجِلیوم)بنا۔ یہ لفظ فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور دیگر نئی یورپی زبانوں میں بھی داخل ہوا۔ <ref>Ibid; Britannica, 2002, Deluxe Edition CD‑Rom, Vol. 5, p. 379.</ref> 


== مسیحی مذہبی ادب میں انجیل ==
چونکہ ابتدائی مسیحی متون یونانی زبان میں لکھے گئے تھے، لہٰذا ’’انجیل‘‘ کا ماخذ بھی بالآخر اسی یونانی لفظ اوانگلیون کی طرف جاتا ہے؛ البتہ یہ لفظ عربی میں کس راستے سے داخل ہوا — مستقیم یا بالواسطہ — اس میں اختلاف ہے۔
انجیل کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں [[مسیحیوں]] کا اعتقاد اسلامی ادب میں اس کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ مسیحی الہیات میں انجیل کو [[عیسیٰ]] علیہ السلام پر نازل شدہ وحی کی تحریری شکل اور ایک آسمانی کتاب کے طور پر، جیسے [[تورات]] اور قرآن، کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ [[مسیحی]] خود [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کو «[[وحی]] کا تجسم» اور عین الہی پیغام مانتے ہیں نہ کہ اس کے حامل کو، اور انجیل کو بطور تحریری وحی، جسے [[عیسیٰ]] [[مسیح]] نے لکھا ہو یا اپنے شاگردوں پر املا کرایا ہو، پر یقین نہیں رکھتے。<ref>توماس میشل، ''کلام مسیحی''، ترجمہ حسین توفیقی، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان، 1381، ص 49 ـ 50 / و۔ م۔ میلر، ''تاریخ کلیسای قدیم در امپراطوری روم و ایران''، ترجمہ علی نخستینی، 1931، ص 66۔</ref> وہ «انجیل» کو [[عیسیٰ]] علیہ السلام کے بارے میں «بشارت» اور انسانیت کے لیے ان کے لائے ہوئے نجات کا پیام مانتے ہیں。<ref>New Catholic Encyclopedia, Second ed, Thomas Gale, second Edition, 2003, 14 Volume. V. 6, P. 366۔</ref> اس معنی کا سب سے زیادہ استعمال پولس کی تقریروں میں آیا ہے。<ref>رومیان، 1:1، 9، 16۔</ref>
بعض نے «انجیل» کے معنی کی توضیح میں «فدیہ» کے تصور پر زور دیا ہے<ref> Encyclopedia Of Fundamentalism, Brenda E. Brasher (ed), New York, Routledge, 2002, P. 193۔</ref> جس کی بنیاد پر انجیل کا مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے مصائب، موت اور اپنی زندگی دوبارہ پانے کے ذریعے انسان کے گناہوں کا کفارہ بنا؛ لیکن جو چیز اب «اناجیل اربعہ» کے نام سے معروف ہے، وہ [[عہد نامہ جدید]] کی پہلی چار کتابیں ہیں اور محض ایک نام ہے جو دوسری صدی عیسوی کے آخر سے ان تحریروں پر لگایا گیا ہے جو حضرت [[عیسیٰ]] علیہ السلام کی زندگی، معجزات، تعلیمات، سیرت، اقوال اور صعود کی گزارش دیتی ہیں؛<ref> New Catholic Encylopedia, V. 6, P. 367۔</ref> کیونکہ یہ تحریریں بہترین بشارتیں رکھتی ہیں جو انسان کو دی جا سکتی ہیں。<ref>مستر ہاکس، ''قاموس کتاب مقدّس''، تہران، اساطیر، 1377، ص 111۔</ref>
شاید انجیل کا نام ان چار کتابوں کے لیے خاص اس لیے ہے کہ وہ [[عہد نامہ جدید]] کے دیگر حصوں کی نسبت [[عیسیٰ]] علیہ السلام کی زندگی، اقوال و افعال پر زیادہ روشنی ڈالتی ہیں۔ تاہم، دیگر حصوں کو بھی جو [[مسیح]] علیہ السلام کی تعلیمات پر مشتمل ہیں، «انجیل» کہا جا سکتا ہے؛ جیسا کہ پولس نے بار بار اپنی باتوں کو «انجیل» کہا اور کبھی کبھی پورے [[عہد نامہ جدید]] کو بھی انجیل کہا جاتا ہے。<ref>ر۔ ک۔ انجیل عیسی مسیح ترجمہ تفسیری [[عہد نامہ جدید شمارہ ردیف در کتابخانہ مرکز فرهنگ و معارف قرآن Bs 315، 25 ف؛ انجیل شریف یا عہد نامہ جدید، چ سوم، تہران، انجمن کتاب مقدّس، 1981۔ 247. Encyclopedia of Islam, V. 4, p. 1205۔</ref> ر۔ ک۔ انجیل عیسی مسیح ترجمہ تفسیری عہد نامہ جدید شمارہ ردیف در کتابخانہ مرکز فرهنگ و معارف قرآن Bs 315، 25 ف؛ انجیل شریف یا عہد نامہ جدید، چ سوم، تہران، انجمن کتاب مقدّس، 1981۔ اس معنی کی تائید کرتا ہے۔ لہذا، «انجیل» سے مراد وہ پیغام ہے جو کم و بیش ان تمام تحریروں میں جاری ہے اور اس کی اصطلاحی معنی اور ان تحریری متون کے درمیان خلط ملط نہیں ہونا چاہیے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ خود اناجیل اور [[عہد نامہ جدید]] کی دیگر کتابوں میں بھی بار بار انجیل کا ذکر آیا ہے، وہ بھی صرف مفرد لفظ میں، بغیر اس کے کہ اس سے اناجیل اربعہ یا ان جیسی دیگر کتابیں مراد ہوں。<ref>و۔ م۔ میلر، پیشین، ص 66؛</ref> اس کے علاوہ، قدیم کلیسیا بھی انجیل کی وحدت پر زور دیتا تھا。<ref>و۔ م۔ میلر، پیشین، ص 66؛
The New Catholic Encyclopedia, V. 6, P. 367۔</ref>
دیگر قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ [[مسیحی]] مذکورہ اناجیل اور دیگر [[عہد نامہ جدید]] کی کتابوں کے مصنفین کو نبی نہیں مانتے؛ لیکن ان کا یقین ہے کہ ان سب نے [[الہام]] اور الہی ہدایت کے تحت مذکورہ متون کی تحریر کی ہے<ref>توماس میشل، پیشین، ص 50 ـ 51۔</ref> اور یہ وہ بات ہے جس کی تصریح خود [[عہد نامہ جدید]] کے مصنفین نے بھی کی ہے؛<ref>ہمان، ص 43 و 50 / و۔ م۔ میلر، پیشین، ص 70۔</ref> لیکن یہ کہ انبوه اناجیل، خطوط، مکاشفات اور حواریوں کے اعمال سے متعلق کتابوں میں سے صرف [[عہد نامہ جدید]] میں موجود 27 رسالے ہی الہی الہام سے کیوں تھے، اس کی کوئی قانع کنندہ دلیل وہ پیش نہیں کرتے۔ بعض نے مذکورہ انتخاب کو روح القدس کی رہنمائی سمجھا ہے。<ref>ویلیام گلبن و ہنری مرتن، ''کتاب مقدّس''، ترجمہ فاضل خان‌ہمدانی، تہران، اساطیر، 1380 / دوم تیموتائوس، 3:16۔</ref>
«انجیل» کے [[مسیحی]] تصور کی بنیاد پر، قرآن کے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام اور انجیل کے بارے میں نقطہ نظر سے آگاه [[مسیحی]]، انجیل کی بطور آسمانی کتاب جو [[حضرت عیسی]] علیہ السلام پر نازل ہوئی اور ان کے ذریعے اپنے ہم عصر لوگوں تک اس کی تعلیمات کی پہنچ کی معرفی کو قبول نہیں کرتے اور اگر قرآن کی مراد وہی اناجیل اربعہ ہوں، تو وہ اس پر جمع کے لفظ «اناجیل» کے استعمال نہ ہونے کو اعتراض کرتے ہیں۔ وہ قرآن کی [[مسیحیت]] اور انجیل کے بارے میں رپورٹوں کو سطحی اور شاید مدینہ کے [[مسیحیوں]] سے ماخوذ سمجھتے ہیں جو صرف مسیحیت کے بعض غیر رسمی ذرائع سے واقف تھے۔ اس بنیاد پر، ان کا اعتقاد ہے کہ قرآن کی رپورٹیں جیسے [[مریم]] کے لیے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کی پیدائش کے بعد «تازہ کھجور» کا معجزانہ طور پر آنا،<ref>«فناداها من تحتها الاّ تحزنی قد جعل ربّک تحتک سریّا و هزّی الیک بجذع النخلة تساقط علیک رطبا جنیا فکلی و اشربی و قرّی عیناً فاما ترینّ من البشر احدا فقولی انّی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم اِنسیا.» مریم: 24 ـ 26</ref> گہوارے میں [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کا بولنا<ref>«فاشارت الیه قالوا کیف نکلّم من کان فی المهد صبیا قال انّی عبداللّه آتانی الکتاب و جعلنی نبیّا...» مریم: 29 ـ 33</ref> اور خداوند کی قدرت سے ان کے ہاتھوں مٹی کے پرندوں کا زندہ ہونا،<ref>«انّی اخلق لکم من الطین کهیئة الطیر فانفخ فیه فیکون طیرا باذن اللّه...» آل‌عمران: 49؛ مائده: 110۔</ref> مسیحیت کی معتبر اور رسمی مذہبی کتابوں میں موجود نہیں ہیں اور کبھی غیر معتبر اناجیل میں پائی جاتی ہیں。<ref> Encyclopedia of Islam, Vol. 3, P. 1205-1206۔</ref> یہ چیلنج ایک طرف قرآن کی وحیانی ہونے اور دوسری طرف اناجیل کی بشری تحریر، ان کے متعدد نسخوں اور ان کی تاریخ و مواد میں موجود شکوک و شبہات کی وجہ سے قابل جواب ہے۔


== تاریخ انجیل ==
نولدکے (Nöldeke) اس بات پر دلیل قائم کرتا ہے کہ یہ لفظ حبشی زبان کے لہجے Wangel کے ذریعے عربی میں آیا۔<ref>Encyclopedia Of Islam, prepared by a Number of Leading Orientalists, Leiden, 1986, Vol. 3, p. 1205.</ref>
مسیحیت کی ابتدائی دو تین دہائیوں کی تاریخ اور انجیل نامی کتاب کا وجود جو [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی طرف منسوب ہے، مسیحی اور اسلامی متون سے آزاد تاریخی مصادر کی رو سے ابہام کے گھیرے میں ہے، یہاں تک کہ بعض نے خود [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے وجود میں بھی شک کیا ہے。<ref>ول ڈورنٹ، ''تاریخ تمدّن''، ترجمہ احمد آرام، ع. پاشائی اور امیرحسین آریان پور، چھٹی اشاعت، تہران، علمی و فرهنگی، 1378، ج 3، ص 651 / سید جلال الدین آشتیانی، ''تحقیقی در دین مسیح''، تہران، نگارش، 1368، ص 170 ـ 174؛
Carl Lofmark, ''What is the Bible'', 1990, P. 66.</ref> حالانکہ تاریخی گزارشوں کا فقدان انجیل کے خارجی اور تاریخی وجود کے فقدان کی دلیل نہیں بن سکتا اور ہو سکتا ہے کہ [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے ظہور اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی تفصیلات نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاریخ میں درج نہ ہوئی ہوں یا ضائع ہو گئی ہوں۔ البتہ بعض اناجیل اربعہ میں [[مسیح]] علیہ السلام کی انجیل کا ذکر آیا ہے。<ref>فاضل خان ہمدانی، پیشینہ / ''انجیل متی''، 26:13 / ''انجیل مرقس''، 14:9 ـ 10.</ref>


عیسوی سن کے ابتدائی تیس سے چالیس سالوں میں، [[مسیحیت]] کی تعلیم تقریباً صرف زبانی طور پر اور کبھی کبھار خط و کتابت کے ذریعے دی جاتی تھی۔ حواریون نے [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی تعلیمات کو اپنی وعظوں میں بیان کیا اور آن حضرت کی زندگی کے واقعات سے اس کی تصویر کشی کی؛ لیکن خطوط اور زبانی روایات کی تعلیمات کی کمی اور ناکافی ہونا انجیل نگاری کا باعث بنا。<ref>و۔ ایم۔ میلر، پیشینہ، ص 66 ـ 69.</ref> لہذا، [[عهد جدید]] کی تدوین کی تاریخ اور جو آج کل «مسیحیوں کی مقدس کتاب» کے نام سے جانی جاتی ہے، زیادہ تر عیسوی پہلی صدی کے پہلے نصف کے بعد اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کے صعود کے تقریباً بیس سے تیس سال بعد کی ہے<ref>عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، ''مسیحیت''، قم، زلال کوثر، 1381، ص 67 / موریس بوکائے، ''القرآن و التوراة والانجیل و العلم''، ترجمہ قسم الترجمہ بالدار، القاہرہ، مکتبہ مدبولی، 1996، ص 107.</ref> جو ان کے رسولوں اور ان کے شاگردوں کے ذریعے عمل میں آئی۔ یہ تحریریں چار اقسام «رسولوں کے خطوط»، «رسولوں کے اعمال»، «اناجیل اربعہ» اور «مکاشفات» میں طبقہ بندی کی گئی ہیں۔
کچھ محققین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ لفظ براہِ راست یونانی سے یا سریانی، عبری یا سبائی زبانوں کے ذریعے عربی میں پہنچا۔<ref>آرتور جعفری، واژه‌های دخیل در قرآن، ترجمۂ فریدون بدره‌ای، توس، 1372، ص 131 ـ 132.</ref>


«رسولوں کے خطوط»، [[پولس|پولُس]]، [[یوحنا|یوحنّا]]، [[یعقوب]]، [[برنابا|بَرنابا]]، [[یهودا]] اور [[پطرس]] جیسے رسولوں کے مضامین اور تعلیمات ہیں جو افراد، گروہوں اور مختلف علاقوں کو [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کا پیغام پہنچانے اور اس کی ترویج کے لیے لکھے گئے تھے۔ ان میں سے بعض کو [[عهد جدید]] کے مجموعے میں قبول کیا گیا اور بعض کو [[مسیحیت]] کی تاریخ کی ابتدائی صدیوں میں [[کلیسا]] کی جانب سے رد کر دیا گیا۔ پولس کے خطوط کی تدوین کی تاریخ [[عهد جدید]] کے تمام حصوں سے قدیم ہے。<ref>جون، او۔ گریدی، ''مسیحیت و بدعت‌ها''، ترجمہ عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، قم، طہ، 1377، ص 46 ـ 47 / تھامس مشیل، پیشینہ، ص 54.</ref>
بعض [[مسلمان]] مفسّرین نے، اسے عربی ثابت کرنے کے لیے، اسے وزنِ افعیل پر ایک عربی لفظ قرار دیتے ہوئے ن ج ل سے مشتق بتایا ہے، اور اس کے لیے مختلف معانی بھی بیان کیے ہیں:<ref>محمدبن حسن طوسی، التبیان … ج 3، ص 542 / فضل‌بن حسن طبرسی، مجمع‌البیان … ج 2، ص 6 / محمدبن احمد قرطبی، الجامع … ج 4، ص 6.</ref> 
لیکن عربی لغت نگاروں نے اس رائے کو قبول نہیں کیا۔ <ref>سید محمدمرتضی حسینی زبیدی، تاج العروس … ج 8، ص 128 / ابن منظور، لسان العرب … ج 14، ص 58 / حسن مصطفوی، التحقیق … ج 12، ص 39، مادہ نجل.</ref>


«رسولوں کے اعمال»، [[حواریان]] اور [[رسولان]] کی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ہے جو [[لُوقا]] جیسے افراد کے ذریعے درج کی گئی ہیں۔ [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی زندگی کی تاریخ، معجزات، تعلیمات، سیرت اور اقوال، [[عهد جدید]] کا دوسرا حصہ ہے جو کئی رسولوں اور ان کے شاگردوں کی جانب سے لکھا گیا ہے اور مصنفین کے ذاتی مشاہدات یا عینی گواہوں سے سنی گئی باتوں پر مبنی ہے۔ یہ تحریریں دوسری صدی کے پہلے نصف تک «رسولوں کی یادداشتیں» کے عنوان سے اور دوسری صدی کے اواخر سے «اناجیل» کے نام سے مشہور ہوئیں。<ref>سید جلال الدین آشتیانی، پیشینہ، ص 41 ـ 42 / قس۔ موریس بوکائے، پیشینہ، ص 77.</ref>
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ لفظ دخیل ہے، اور اس کا اصل عبری، یونانی یا سریانی ہے۔ <ref>ابن اثیر، النهایه … ج 5، ص 23 / فخرالدین طریحی، مجمع البحرین … ج 4، ص 274 / ابن منظور، پیشین، ج 4، ص 58.</ref>


مسیحیوں نے مذکورہ قسم کی تقریباً 50 انجیلوں کے ناموں کا اعتراف کرتے ہوئے، صرف ان میں سے 20 کے بارے میں معلومات کو دستیاب جانتے ہیں، جن میں انجیل عبرانیان، انجیل پطرس، انجیل مصریان، انجیل فیلیپ، انجیل توما، انجیل یعقوب، انجیل نیکودیمس، انجیل 12 حواری، انجیل یہودا اور انجیل مرکیون شامل ہیں。<ref>''The International Standard Bible Encyclopedia'', Geoffrey W. Bromiley, (ed), WM. B. Eerdmans publishing company, U.S.A. , 1988, 4 Volumes, Vol. 2, P. ¶529; ''Encylopedia Of Fundamentalism'', P. 193; ''New Catholic Encylopedia'', Vol, 6, P. 367.
زیادہ تر مسلم مفسّرین بھی انجیل کو غیر عربی (دخیل) لفظ مانتے ہیں،<ref>محمدبن عمر فخر رازی، التفسیر الکبیر … ج 7، ص 171 / محمد رشید رضا، تفسیر المنار … ج 3، ص 158 / محمود آلوسی، روح المعانی … ج 3، ص 124.</ref>
</ref> دیگر انجیلوں میں سے عربی زبان میں انجیل طفولیت بھی موجود ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے طفولیت کے دور کے معجزات کی رپورٹ کرتی ہے。<ref> ''International Standard Bible Encyclopedia'', V, I, P. 183.</ref>
اور زمخشری و بیضاوی جیسے علماء اس لفظ کو عربی قرار دینے کی کوشش کو درست نہیں سمجھتے۔<ref>زمخشری، الکشاف … ج 1، ص 335 / بیضاوی، تفسیر بیضاوی … ج 1، ص 237 / قمی مشهدی، کنزالدقائق، ص 237.</ref>


دوسری صدی عیسوی کے اواخر میں [[کلیسا]] کے سربراہان نے مذکورہ چار اقسام میں شامل متنوع اور کثیر تحریروں میں سے بعض کو [[کلیسا]] کی تعلیمات کے مطابق ہونے کی وجہ سے قانونی اور معتبر کتابوں<ref>Canon.</ref> کے طور پر منتخب کیا اور «عہد نامہ جدید» کے نام سے «عہد نامہ قدیم» کے ساتھ اور مسیحیوں کی مقدس کتاب کے دوسرے حصے کے طور پر شامل کیا。<ref>تھامس مشیل، پیشینہ، ص 42.</ref> 382 عیسوی میں، بشپوں کی ایک مجلس نے 27 کتابوں اور خطوط پر مشتمل فہرست کو حتمی شکل دی جو بعد میں ٹرینٹ (Trent) کی کونسل کے ذریعے 1545 ـ 7 کے درمیانی سالوں میں دوبارہ منظور کی گئی。<ref>Carl Lofmark, op.cit, P. 27; ''The International Standard Bible Encyclopedia'', V. 1, P. 601-606.</ref> عہد نامہ جدید کا مجموعہ [[متّا]]، [[مَرْقُس]]، لوقا اور یوحنا کی طرف منسوب چار انجیلوں سے شروع ہوتا ہے۔ ان کے بعد، کتاب «اعمال [[رسولان]]» اور اس کے بعد [[پولس]] کی طرف منسوب تیرہ یا چودہ خطوط، [[یعقوب]] کی طرف منسوب ایک خط، پطرس کی طرف منسوب دو رسالے، یوحنا کی طرف منسوب تین رسالے اور یہودا کی طرف منسوب ایک خط موجود ہیں۔ کتاب «[[مکاشفه]] [[یوحنّا]]» اس مجموعے کا آخری حصہ ہے۔
== مسیحی دینی ادب میں ’’انجیل‘‘ ==
[[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیوں]] کا تصورِ انجیل، اسلامی تصور سے یکسر مختلف ہے۔ انجیل بطور وحیِ مکتوب جو [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] پر نازل ہوئی ہو، بالکل اسی طرح جیسے [[توریت(تورات)|تورات]] یا [[قرآن]]، مسیحی الہیات میں کوئی مقام نہیں رکھتی۔


عہد نامہ جدید کو مواد کے لحاظ سے تین عمومی حصوں تاریخی، عقیدتی اور پیش گوئی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
مسیحی یہ مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ خود ’’تجسّمِ وحی‘‘ تھے—یعنی وہ خدا کا مجسّم کلام تھے، نہ کہ وحی کے حامل۔ اس لیے وہ یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ حضرت عیسیٰ نے کوئی کتاب لکھی یا اپنے شاگردوں کو املا کروائی۔ <ref>توماس میشل، کلام مسیحی … ص 49 ـ 50 / و. م. میلر، تاریخ کلیسا … ص 66.</ref>


اناجیل اربعہ «اعمال [[رسولان]]» کے ساتھ مل کر عہد نامہ جدید کا تاریخی حصہ بناتی ہیں اور بنیادی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام اور حواریون کی زندگی اور سرگرمیوں کی تاریخ کو تقریباً 63 عیسوی تک گزارش کرتی ہیں。<ref> ''The Catholic Encyclopedia''. V. 6. P. 656. ''The New International Dictionary of Bible''. P. 105.</ref>
ان کے نزدیک ’’انجیل‘‘ سے مراد وہ بشارت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام اور ان کی نجات دہندہ حیثیت کے بارے میں ہے۔ <ref>New Catholic Encyclopedia, 2nd ed., Vol. 6, p. 366.</ref> 
یہ مفہوم سب سے زیادہ پولس کے خطوط میں نظر آتا ہے۔ <ref>رومیان، 1:1، 9، 16.</ref>


[[عهد جدید]] کا عقیدتی حصہ اس میں موجود 21 خطوط پر مشتمل ہے جو زیادہ تر [[عقاید]] کی وضاحت، اس کی دفاع اور دیگر عقائد کی رد پر مبنی ہیں۔ آخر الزمان کے واقعات اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی دوبارہ آمد کے بارے میں پیش گوئی کا حصہ، جو [[رؤیا]] اور [[مکاشفه]] کی شکل میں بیان ہوا ہے، کتاب «[[مکاشفه]] [[یوحنّا]]» میں موجود ہے۔
بعض مسیحی علماء ’’انجیل‘‘ کے مفہوم میں فداء (Atonement) کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں:<ref>Encyclopedia Of Fundamentalism, Brenda E. Brasher (ed), 2002, p. 193.</ref> 
یعنی [[حضرت عیسی علیہ السلام|مسیح علیہ‌السّلام]] نے اپنی مصیبت، موت اور قیامت کے ذریعے انسان کے گناہوں کا کفّارہ ادا کیا۔


تعلیماتِ اعتقادی اور عملی کے لحاظ سے [[عهد جدید]] کا مجموعہ دوہرا اور غیر ہم آہنگ ہے؛ اس کا کچھ حصہ [[عهد قدیم]] کا تسلسل ہے اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کے [[انسان]] اور [[خدا]] کے رسول ہونے اور [[حضرت موسی]] علیہ السلام کی شریعت کی پابندی کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور دوسرا حصہ آن حضرت کی الوہیت کے پہلو اور موسوی [[شریعت]] کے انکار پر زور دیتا ہے۔ یہ دو غیر ہم آہنگ روایات [[پطرس]] اور [[پولس]] کی فکری اور عقیدتی کشمکش کی عکاسی ہیں。<ref>عبدالرحیم سلیمانی، «عہد نامہ جدید» تاریخ نگارش و نویسندگان، فصلنامہ ہفت آسمان، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان و مذاہب، ش 3 ـ 4، (1378)، ¶ص 73،74، 79 و 81.</ref>
موجودہ ’’چار اناجیل‘‘ دراصل عہد جدید کی پہلی چار کتابیں ہیں، اور یہ نام دوسری صدی کے آخر میں ان تحریروں پر رکھا گیا جن میں حضرت عیسیٰ کی زندگی، معجزات، تعلیمات، اقوال اور صعود کا بیان ہے۔<ref>New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.</ref> 
کیونکہ یہ تحریریں ’’انسان کے لیے سب سے بہتر بشارت‘‘ رکھتی ہیں۔ <ref>مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ص 111.</ref>


دیگر تحریریں، جنہیں [[کلیسا]] کی منظوری نہیں ملی، «اپوکریفا» یعنی مشکوک اور غیر معتبر تحریریں کے طور پر جانی جاتی ہیں جن میں سے بہت سی ضائع ہو گئی ہیں اور کچھ اب بھی باقی ہیں。<ref>موریس بوکائے، پیشینہ، ص 103 ـ 105 / محمدجواد شکور، ''خلاصه ادیان''، دوسری اشاعت، تہران، شرق، 1362، ص 168.</ref> انجیل برنابا، یوسف [[برنابا]] کے ساتھی، [[پولس]] اور [[مرقس]] کے دوست کی طرف منسوب، اسی قسم میں سے ہے جسے چوتھی صدی عیسوی کے بعد کلیسیا کی جانب سے پڑھنا ممنوع قرار دیا گیا۔ بعض نے اسے [[اسلام]] اور [[مسیحیت]] کے درمیان گمشدہ کڑی قرار دیا ہے۔ انجیل برنابا اگرچہ اس کی بعض تعلیمات [[اسلام]] اور سرکاری [[مسیحیت]] کی تعلیمات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں، بنیادی اصول درست ہیں اور اہم اور قابل ذکر موارد میں قرآن کے ساتھ ہم آہنگی رکھتی ہے۔ [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کا نام، خصوصیات اور بعثت کی بشارت کا صریح ذکر، [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی الوہیت اور فرزند ہونے کا انکار، [[حضرت اسماعیل]] علیہ السلام کا [[ذبیح]] ہونا نہ کہ [[اسحاق]] علیہ السلام ـ [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کا مصلوب ہونے کا انکار اور ان کی جگہ یہودا اسخریوطی کا مارا جانا اسی قسم میں سے ہے۔
ان چار کتابوں کو ’’انجیل‘‘ کہلانے کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی زندگی اور تعلیمات کو سب سے زیادہ تفصیل سے بیان کیا۔ تاہم عہد جدید کے دیگر حصے بھی ایسے ہیں جو حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل ہیں اور انہیں بھی کبھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ پولس اپنے خطوط کو کئی بار ’’انجیل‘‘ کہتا ہے، اور بعض اوقات پورے عہد جدید کو بھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔<ref>… ر. ک. انجیل عیسی مسیح ترجمه تفسیری عهد جدید … انجیل شریف …</ref>


قابلِ توجہ یہ ہے کہ خود اناجیل اور دیگر کتابوں میں لفظ ’’انجیل‘‘ (مفرد صیغہ) استعمال ہوا ہے، اور اس سے مراد چار موجودہ اناجیل نہیں ہوتیں۔ <ref>و. م. میلر، پیشین، ص 66.</ref> 
قدیم کلیسا بھی انجیل کی وحدت کا قائل تھا۔ <ref>The New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.</ref>


مسیحی اناجیل کے مصنفین اور عہد جدید کے دیگر لکھاریوں کو نبی نہیں مانتے، لیکن یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ متون الہام اور خدائی رہنمائی سے لکھے ہیں۔ <ref>توماس میشل، پیشین، ص 50 ـ 51.</ref> 
وہ خود بھی اس بات کا ذکر کرتے ہیں۔ <ref>ہمان، ص 43 و 50 / میلر، پیشین، ص 70.</ref>


== انجیل‌های چهارگانه ==
لیکن یہ کہ آخر بے شمار اناجیل، خطوط، مکاشفات اور دیگر تحریروں میں سے صرف ۲۷ کتابیں ہی ’’وحی الٰہی‘‘ کی حامل کیوں مان لی گئیں—اس کی کوئی مدلّل اور واضح وجہ مسیحی الہیات میں موجود نہیں۔ بعض نے اسے ’’روح القدس کی رہنمائی‘‘ قرار دیا ہے۔ <ref>ویلیام گلبن … دوم تیموتاؤس، 3:16.</ref>
اناجیل اربعہ بطور [[عهد جدید]] کا مشہور ترین حصہ، اس کی ابتدا میں موجود ہیں۔ [[الهیّات مسیحی]] میں، مذکورہ انجیلوں اور [[عهد جدید]] کے دیگر حصوں کے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام پر وحیانی نزول کا اعتقاد رکھے بغیر، مذکورہ مجموعے کی تدوین عام انسانوں کے ہاتھوں اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کے صعود کے بعد کی جاتی ہے。<ref>و۔ ایم۔ میلر، پیشینہ، ص 67 / تھامس مشیل، پیشینہ، ص 28 / محمدعلی برو العاملی، ''الکتاب المقدّس فی المیزان''، بیروت، الدارالاسلامیة، 1413، ص 238.</ref> اناجیل اربعہ اپنے مصنفین کے ناموں کی وجہ سے [[انجیل مَتّا]]، [[انجیل مَرقُس]]، [[انجیل لُوقا]] اور [[انجیل یوحنّا]] کے نام سے مشہور ہوئے ہیں۔ تدوین کی تاریخ، مصنفین کی شناخت اور ان کے دستاویزات کی درستگی اور تسلسل کے بارے میں وسیع تحقیقات کے باوجود، اس بارے میں کوئی قطعی اتفاق رائے نہیں ہے۔ البتہ سنگین چیلنجز اور شکوک و شبہات کے ساتھ ساتھ بعض قرائن و شواہد کی بنیاد پر مضبوط قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں。<ref>ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 655 / سید جلال الدین آشتیانی، پیشینہ، ص 57 ـ 70 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 99 ـ 101.</ref>


'''1[[. انجیل مَرقُس]]:'''
مسیحی جو لوگ [[قرآن]] کے عیسٰی اور انجیل کے تصور سے واقف ہیں، انجیل کو ’’آسمانی کتاب‘‘ کہنا قبول نہیں کرتے۔ قرآن میں لفظ ’’انجیل‘‘ کا جمع (اناجیل) نہ آنا بھی وہ ایک اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ 
وہ قرآن کی بعض روایات — جیسے تازہ کھجور کا معجزہ، <ref>مریم 24 ـ 26</ref> 
گہوارے میں گفتگو، <ref>مریم 29 ـ 33</ref> 
گلین پرندوں کا جاندار بن جانا، <ref>آل عمران 49؛ مائدہ 110</ref> 
کو ’’غیر رسمی یا غیر معتبر اناجیل‘‘ سے لیا ہوا سمجھتے ہیں۔ <ref>Encyclopedia of Islam, Vol. 3, pp. 1205–1206.</ref>


مرقس کو [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے نہیں بلکہ حواری [[پطرس]] کا دوست، ہم نشین اور شاگرد کہا جاتا ہے جو کبھی کبھار [[پولس]] کے ہم سفر بھی ہوتے تھے اور اپنی روایات پطرس سے لی ہیں。<ref>مریل سی بن، ''معرفی عهد جدید''، ترجمہ طاطوس میکائیلیان، تہران، حیات ابدی، 1362، ص 171 ـ 173؛
لیکن یہ اعتراض اس حقیقت کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے کہ قرآن وحیِ الٰہی ہے، جب کہ اناجیل بشری تحریریں ہیں جن کی متعدد نسخے اور تاریخی اختلافات موجود ہیں۔
''The Encyclopedia of Religion'', V, P. 208.</ref> ان کی انجیل کو مختصر ترین، اس کی تحریر رومی زبان میں<ref>موریس بوکائے، پیشینہ، ص 86 ـ 90.</ref> اور زیادہ تر محققین کی رائے کے مطابق، 65 ـ 70 عیسوی کے درمیان اور شہر روم میں سمجھا جاتا ہے。<ref>جماعة من اللاهوتیین، ''تفسیر الکتاب المقدّس''، بیروت، منشورات النفیر، 1988 م، ج 5، ص 90 ـ 91 / القس فہیم عزیز، ''المدخل الی العهدالجدید''، قاہرہ، ¶دارالثقافہ المسیحیہ، 1980 م، ص 21 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 88.</ref>


'''2. [[انجیل مَتّا]]:'''
= انجیل کی تاریخ =
مسیحیت کی تاریخ کے ابتدائی دو تین عشروں اور اس بات کے بارے میں کہ اس زمانے میں ’’انجیل‘‘ نامی کوئی کتاب موجود تھی اور وہ [[حضرت عیسی|حضرت مسیح علیہ‌السلام]] سے منسوب تھی، مسیحی اور اسلامی متون سے ہٹ کر مستقل تاریخی منابع میں خاصی ابہام کی کیفیت پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض محققین نے خود حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے وجود کے بارے میں بھی تردید ظاہر کی ہے۔<ref>ویل دورانت، تاریخ تمدّن، ترجمہ احمد آرام، ع. پاشایی و امیرحسین آریان‌پور، چ ششم، تهران، علمی و فرهنگی، 1378، ج 3، ص 651 / سید جلال‌الدین آشتیانی، تحقیقی در دین مسیح، تهران، نگارش، 1368، ص 170 ـ 174؛ Carl Lofmark, What is the Bible, 1990, P. 66.</ref>


یہ سب سے مفصل انجیل ہے اور حواری متی کی طرف منسوب ہے۔ جدید دور میں تنقید کے آغاز سے قبل، اسے قدیم ترین انجیل سمجھا جاتا تھا اور اس کی تدوین کی تاریخ 50 ـ 60 اور کبھی 38 عیسوی کے درمیان تصور کی جاتی تھی؛<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 247؛
تاہم تاریخی روایات کی کمی اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ انجیل تاریخی طور پر موجود ہی نہ تھی۔ ممکن ہے کہ [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام]] کے ظہور اور ان پر نازل ہونے والی وحی سے متعلق بعض تفصیلات کسی نامعلوم وجہ سے تاریخ میں درج نہ ہو سکیں یا بعد میں ضائع ہو گئی ہوں۔ البتہ اناجیلِ اربعہ میں بعض مقامات پر خود حضرت مسیح علیہ‌السلام کی انجیل کا ذکر بھی ملتا ہے۔<ref>فاضل خان‌همدانی، پیشین / انجیل متی، 26:13 / انجیل مرقس، 14:9 ـ 10.</ref>
Cross, F.L. , ''The Oxford Dictionary of the Christian Church'', London, Oxford University Press, 1957, P. 859.</ref> لیکن محققین نے اس کی بعض رپورٹوں اور انجیل مرقس کے تمام مضامین کے اس میں دہرائے جانے کی بنیاد پر، اس کی تالیف کی تاریخ کو بھی 65 سے 70 عیسوی کے درمیان اور [[انجیل مرقس]] کے بعد قرار دیا ہے。<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 221 / جماعہ من اللاهوتیین، پیشینہ، ج 5، ص 91.</ref> اس کا اصل نسخہ عبری زبان میں تھا جو دستیاب نہیں ہے۔ بعد میں اس کا ترجمہ دیگر زبانوں میں کیا گیا جن میں یونانی بھی شامل ہے。<ref>مسٹر ہاکس، پیشینہ، ص 782 / محمدعلی برو العاملی، پیشینہ، ص 244 ـ 245.
''The Oxford Dictionary of The Christian Church'', p.359.</ref> محققین نے اس کی حواری متی کی طرف نسبت کو چیلنج اور شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے،<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 242 ـ 247؛
''The Encyclopedia of Religion'', V. 9. P. 285.</ref> اس کے کسی اور ہم نام شخص کے ہاتھوں لکھے جانے کے امکان پر بات کی ہے<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 245؛
Achtemeier, Paul J. , ''Harper,s Bible Dictionary'', Harper San Francisco, 1985, P. 613.</ref> اور زیادہ تر اس کی تحریر کی جگہ «انطاکیہ» بتائی ہے。<ref>مریل سی بن، پیشینہ، ص 159.</ref>


'''3[[. انجیل لوقا]]:'''
عیسوی تاریخ کے ابتدائی تیس سے چالیس برسوں تک مسیحیت کی تعلیمات زیادہ تر زبانی طور پر اور کبھی خطوط کے ذریعے پھیلائی جاتی تھیں۔ حواری اپنے وعظ و نصیحت میں حضرت مسیح علیہ‌السلام کی تعلیمات بیان کرتے اور آپ کی زندگی کے واقعات کے ذریعے انہیں واضح کرتے تھے۔ لیکن رسائل اور زبانی روایات کی محدودیت نے بالآخر انجیلوں کی تحریر کا راستہ ہموار کیا۔<ref>و. م. میلر، پیشین، ص 66 ـ 69.</ref>


[[لوقا]] حواری نہیں تھا، مسیح علیہ السلام کو نہیں دیکھا اور نصرانیت پولس سے سیکھی۔ اس کی انجیل کے زیادہ تر مضامین کو انجیل مرقس اور انجیل متی سے ماخوذ سمجھا جاتا ہے。<ref>ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 655 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 90 ـ 92.</ref> مذکورہ تین انجیلیں باہمی مشترکات کی کثرت کی وجہ سے «اناجیل ہمنوا» کے نام سے مشہور ہیں。<ref>ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 655 / مسٹر ہاکس، پیشینہ، ص 112 / عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، پیشینہ، ص 67.</ref> روایتی نقطہ نظر کی بنیاد پر، مذکورہ انجیل لوقا، پولس کے ساتھی اور رفیق کی طرف منسوب ہیں اور ان کی روایت اس سے منقول ہے۔ ان کی تدوین کو 70 ـ 90 کے درمیان اور زیادہ امکان کے ساتھ 80 ـ 85 عیسوی سمجھا جاتا ہے。<ref>''The Encyclopedia of Religion'', V. 9. P. 51; ''Harper,s Bible Dictionary''. p. 583.</ref> اس کی بعض کہانیاں جیسے [[حضرت عیسی]] علیہ السلام کے طفولیت کے دور کے واقعات دیگر انجیلوں میں نہیں آئے ہیں。<ref>موریس بوکائے، پیشینہ، ص 92.</ref>
اسی بنا پر عہد جدید کی تصنیف اور اس مجموعے کی تشکیل، جسے آج ’’مسیحیوں کی مقدس کتاب‘‘ کہا جاتا ہے، عموماً پہلی صدی عیسوی کے ابتدائی نصف کے بعد، یعنی حضرت مسیح علیہ‌السلام کے عروج (صعود) کے تقریباً بیس سے تیس سال بعد شروع ہوئی۔<ref>عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، مسیحیت، قم، زلال کوثر، 1381، ص 67 / موریس بوکای، القرآن و التوراة والانجیل و العلم، ترجمه قسم الترجمه بالدار، القاهره، مکتبه مدبولی، 1996، ص 107.</ref>


'''4[[. انجیل یوحَنّا]]:'''
یہ تحریریں حضرت مسیح کے رسولوں اور ان کے شاگردوں کے ذریعے مرتب ہوئیں اور انہیں چار بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا:
’’رسولوں کے خطوط‘‘، ’’اعمالِ رسولان‘‘، ’’اناجیلِ اربعہ‘‘ اور ’’مکاشفات‘‘۔


یہ آخری انجیل ہے<ref>''Harper,s Bible Dictionary'', P. 583.</ref> اور اس کی تدوین کی تاریخ میں اختلاف باقی تین انجیلوں سے زیادہ ہے۔ کبھی اس کی تالیف کی تاریخ 65 عیسوی بتائی جاتی ہے، لیکن مضبوط ترین رائے کے مطابق، جسے [[مسیحی]] روایت بھی قبول کرنے کا مائل ہے، یہ 90 ـ 115 عیسوی کے درمیان لکھی گئی ہے。<ref>القس فہیم عزیز، پیشینہ، ص 560 ـ 561 / مریل سی بن، پیشینہ، ص 209؛
رسولوں کے خطوط دراصل ان تعلیمات اور ہدایات پر مشتمل ہیں جو پولس، یوحنا، یعقوب، برنابا، یہودا اور پطرس جیسے رسولوں نے مختلف افراد، جماعتوں اور علاقوں کو [[حضرت عیسی|حضرت مسیح علیہ‌السلام]] کا پیغام پہنچانے کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے بعض خطوط عہد جدید کے مجموعے میں شامل کیے گئے جبکہ بعض کو ابتدائی صدیوں میں کلیسا نے مسترد کر دیا۔ عہد جدید کے تمام حصوں میں سب سے قدیم تحریریں پولس کے خطوط سمجھی جاتی ہیں۔<ref>جوان، اُ. گریدی، مسیحیت و بدعت‌ها، ترجمه عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، قم، طه، 1377، ص 46 ـ 47 / توماس میشل، پیشین، ص 54.</ref>
''The new International Dictionary of the Bible'', P. 499, 534.</ref> یوحنا کو [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کا انتہائی پسندیدہ حواری کہا جاتا ہے۔ مذکورہ انجیل کی اس کی طرف نسبت کی صحت میں بھی شکوک پائے جاتے ہیں۔ انجیل یوحنا باقی تین انجیلوں سے بالکل مختلف ہے اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی زندگی اور یونانی فلسفیانہ تصورات کا امتزاج ہے。<ref>ول ڈورنٹ، پیشینہ، ج 3، ص 696 / موریس بوکائے، پیشینہ، ص 93 ـ 97.</ref>


== شبه جزیرہ عرب میں انجیل ==
’’اعمالِ رسولان‘‘ دراصل حواریوں اور رسولوں کی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ہے جسے لوقا جیسے افراد نے قلم بند کیا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ‌السلام کی زندگی، معجزات، تعلیمات، سیرت اور اقوال کے بارے میں جو تحریریں لکھی گئیں، وہ بھی عہد جدید کا اہم حصہ بن گئیں۔ یہ تحریریں یا تو مصنفین کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھیں یا انہوں نے عینی شاہدین سے سن کر انہیں قلم بند کیا تھا۔ ان تحریروں کو پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز تک ’’رسولوں کی یادداشتیں‘‘ کہا جاتا تھا، لیکن دوسری صدی کے اواخر میں انہیں ’’اناجیل‘‘ کا نام دیا گیا۔<ref>سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 41 ـ 42 / قس. موریس بوکای، پیشین، ص 77.</ref>
کہا جاتا ہے کہ سن 400 عیسوی تک مناطق [[مشرق وسطیٰ]]، خاص طور پر [[سوریہ]] کی سرکاری انجیل ایک واحد انجیل تھی جو چار انجیلوں کے ملاپ سے وجود میں آئی تھی。<ref>''Britannica'', V. 7, P. 69.</ref> اس انجیل کا نام دیاتیسرون (Diatessaron) تھا۔ لہذا، ممکن ہے کہ قرآن کے نزول کے وقت بھی یہ انجیل کم و بیش جزیرہ نما عرب کے نصاریٰ میں رائج رہی ہو。<ref>Neal Robinson, ''Jesus in the Quran'', The Historical Jesus, P. 8.</ref> فی الحال اس انجیل کی مکمل اصل، جو سریانی زبان میں تھی، نایاب ہے اور صرف اس کے بعض حصوں کے ترجمے مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں。<ref>''New Catholic Encyclopedia'', V. 4, P. 731.</ref>


ایک اور انجیل جو شاید اس وقت رائج تھی، وہ [[عربی زبان]] میں کودکی کی انجیل (''Arabic Infancy Gospel'') ہے جو [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کے دورانِ طفولیت کے واقعات کو قرآن کریم کی متعلقہ داستانوں سے مشابہت کے ساتھ نقل کرتی ہے۔
[[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحی]] محققین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی تقریباً پچاس انجیلیں موجود تھیں، تاہم ان میں سے تقریباً بیس کے بارے میں ہی کچھ معلومات دستیاب ہیں۔ ان میں انجیل عبرانیان، انجیل پطرس، انجیل مصریان، انجیل فیلیپ، انجیل توما، انجیل یعقوب، انجیل نیکوداموس، انجیل بارہ حواری، انجیل یہودا اور انجیل مرقیون قابلِ ذکر ہیں۔<ref>The International Standard Bible Encyclopedia, Geoffrey W. Bromiley (ed), WM. B. Eerdmans Publishing Company, USA, 1988, Vol. 2, p. 529; Encyclopedia Of Fundamentalism, p. 193; New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.</ref>


== قرآن میں انجیل ==
اس کے علاوہ بعض دیگر اناجیل بھی موجود تھیں، جیسے ’’عربی انجیلِ طفولیت‘‘ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے بچپن کے معجزات کا بیان ہے۔<ref>International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, p. 183.</ref>
لفظ «انجیل» 12 بار 12 آیات میں 6 [[سورت]]وں قرآن اور ہر جگہ اس کی مفرد شکل صراحت کے ساتھ ذکر ہوئی ہے۔ <ref>آل عمران: 3، 48، 65؛ مائدہ: 46،47، 66، 68، 110؛ اعراف: 157؛ توبہ: 111؛ فتح: 29؛ حدید: 27</ref> متعدد مواقع پر «ما بَینَ یَدَیه» <ref>آل‌عمران: 3؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30</ref> اور «الَّذی بَینَ یَدَیه»<ref>انعام: 92؛ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ سبأ: 31</ref> جیسی عبارات کے ساتھ، قرآن سے پیشتر کی آسمانی کتابوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ باتوں کے علاوہ، کبھی «انجیل»، «اہل الکِتاب» <ref>آل عمران: 64 ـ 65؛ نساء: 171</ref> اور «الَّذینَ اُوتوا الکِتب» <ref>بقرہ: 146؛ نساء: 47، 13؛ مائدہ: 5</ref> جیسی ترکیبوں میں «الکِتاب» کی مصداق اور مذکورہ چیزوں میں سے ہے۔


قرآن مختلف مناسبتوں سے انجیل کا ذکر کرتا ہے۔ اس کی وحیانی ہونے اور [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام پر نازل ہونے والی [[آیات]] کے مجموعے کے طور پر تصریح <ref>آل عمران: 3؛ مائدہ: 46، 110؛ حدید: 27</ref>، [[تورات]] کی حقانیت پر اس کی گواہی <ref>مائدہ: 46</ref>، قرآن کی جانب سے اس کی تصدیق <ref>مائدہ: 48؛ یونس: 37</ref>، [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت اور ان کی دعوت کے عام ہونے کے بارے میں انجیل کی بشارت <ref>اعراف: 157؛ فتح: 29</ref> اور اس کی تعلیمات کے کچھ حصوں کا تحریف، کتمان اور حذف ہونا <ref>مائدہ: 14 ـ 15</ref> ان میں سے ہے۔
دوسری صدی عیسوی کے آخر میں کلیسا کے رہنماؤں نے اس وسیع اور متنوع ذخیرۂ تحریرات میں سے بعض کو کلیسائی تعلیمات کے مطابق قرار دے کر ’’قانونی‘‘ اور معتبر کتابوں کے طور پر منتخب کیا اور انہیں ’’عہد قدیم‘‘ کے ساتھ ’’عہد جدید‘‘ کے نام سے مسیحیوں کی مقدس کتاب کا دوسرا حصہ بنا دیا۔<ref>توماس میشل، پیشین، ص 42.</ref>


'''1. انجیل؛ مسیح علیہ السلام کی آسمانی کتاب'''
سن 382ء میں اسقفوں کی ایک مجلس نے 27 کتابوں اور رسائل پر مشتمل ایک فہرست کو حتمی شکل دی، جس کی بعد میں کونسل آف ٹرینٹ (1545–1547ء) نے بھی توثیق کی۔<ref>Carl Lofmark, op.cit., p. 27; The International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, pp. 601‑606.</ref>
قرآن [[عیسیٰ]] [[مسیح]] علیہ السلام کی بعثت کو رسولوں کی بھیجے جانے اور کتابوں کے نازل ہونے کا سلسلہ قرار دیتا ہے اور ان کی [[آسمانی کتاب]] کا نام صراحت کے ساتھ «انجیل» رکھا ہے اور اس کی وحیانی ہونے پر زور دیا ہے: <ref>محمد بن جریر طبری، ''جامع البیان''، بہ کوشش صدقی جمیل العطار، بیروت، دارالفکر، 1415، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 313 / سید محمد حسین طباطبائی، ''المیزان''، چ سوم، بیروت، اعلمی، افست، قم، اسلامی، 1393 ق، ج 3، ص 198.</ref>«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ... ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ...» <ref>حدید: 25 و 27</ref> نیز <ref>مائدہ: 46، 110</ref> آیت 30 مریم میں لفظ «کتاب» بھی «انجیل» کی طرف اشارہ ہے。<ref>«قالانی عبداللّه آتانی الکتاب و جعلنی نبیا。」 مریم: 30</ref>


دوسری جانب اور انجیلوں کی کثرت، بشمول نزول کے زمانے اور اس سے قبل رسمی چار انجیلوں کے باوجود، قرآن اس سے متعلق تمام [[آیات]] میں مفرد صیغہ کے استعمال سے، [[حضرت مسیح]] علیہ السلام پر نازل ہونے والی انجیل کے ایک ہونے پر اصرار کرتا ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے: قرآن [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کی انجیل کے وحیانی ماخذ اور ایک ہونے کی تصریح کے ساتھ، اس کی بشری ہونے<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159 / حسن مصطفوی، ایضاً، ج 12، ص 40 / محمد صادقی، ''الفرقان''، چ دوم، تہران، فرهنگ اسلامی، 1365، ج 3، ص 12.</ref> اور اس کی تعدد<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 308 ـ 309 / محمد صادقی، ایضاً، ج 3، ص 12.</ref> کو رد کرتا ہے۔ نتیجتاً، موجودہ انجیلیں اور [[عہد نامہ جدید]] کے دیگر حصے، جو انسانی افراد کی تحریر کردہ ہیں، عیناً مسیح علیہ السلام پر نازل ہونے والی وہی انجیل نہیں ہو سکتیں،<ref>سید محمود آلوسی، ایضاً، ج 15، ج 28، ص 28 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 189.</ref> بلکہ اس کی مختلف روایتوں کو شامل ہیں اور زیادہ تر امکان ہے کہ مذکورہ انجیل کا ممکنہ نسخہ کسی وجہ سے معدوم ہو گیا ہے。<ref>حسن مصطفوی، ایضاً، ج 12، ص 40 ـ 41.</ref>
عہد جدید کا آغاز چار اناجیل سے ہوتا ہے جو متی، مرقس، لوقا اور یوحنا سے منسوب ہیں۔ اس کے بعد ’’اعمال رسولان‘‘ کی کتاب آتی ہے، پھر پولس کے تیرہ یا چودہ خطوط، اس کے بعد یعقوب کا ایک خط، پطرس کے دو خطوط، یوحنا کے تین خطوط اور یہودا کا ایک خط شامل ہیں۔ اس مجموعے کا آخری حصہ ’’مکاشفۂ یوحنا‘‘ ہے۔


نومسیحی [[مسیحی]] معاشرے پر حاکم انتہائی دشوار حالات اور [[یہود]] اور رومیوں کی جانب سے ان کے ساتھ سخت اور سرکوبانہ سلوک، ان وجوہات میں سے ہو سکتا ہے。<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159.</ref> نیز [[تورات]] اور [[قرآن]] کے ساتھ اور «کتاب» کے طور پر انجیل کا ذکر، آسمانی تعلیمات کے مجموعے کے طور پر اس کی خارجی موجودیت اور حقیقت کو ثابت کرتا ہے۔ وضاحت یہ کہ 8 بار [[تورات]] کے جوڑے کے طور پر <ref>آل عمران: 49؛ مائدہ: 66،68 و 110؛ توبہ: 111</ref> اور دو بار [[تورات]] اور [[قرآن]] کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے: «نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ... وَ أَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ مِن قَبْلُ هُدی لِلنَّاسِ وَ أَنزَلَ الْفُرْقَانَ...» <ref>آل عمران: 3 ـ 4 نیز مائدہ: 46 ـ 48</ref>
مضمون کے اعتبار سے عہد جدید کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: تاریخی، عقیدتی اور پیش گوئی پر مبنی حصہ۔


البته اہم اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ [[قرآن]] صرف «انجیل» کے نام سے وحیانی [[آیات]] کے مجموعے کے نزول کی تصدیق کرتا ہے، نہ کہ اس کے معروف معنوں میں کتاب ہونے کی، اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی حیات میں ان کے ہاتھ سے یا ان کے املا سے اس کی تحریر ہونے کے بارے میں نفیاً یا اثباتاً کوئی رپورٹ نہیں ہے۔ لہذا اور [[مسیحی]] اور اسلامی انجیل کے دو تصورات کا مشترک دائرہ فراہم کرنے کے لیے، [[قرآن]] میں مذکورہ انجیل کو [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام پر نازل ہونے والی [[آیات]] کی طرف اشارہ کہا جا سکتا ہے جسے اناجیل اربعہ نے بھی، روایت کی صحت و سقم سے قطع نظر، اس کے کچھ حصوں کی گزارش کی ہے ـ البتہ اس وضاحت کے ساتھ کہ [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کے بارے میں [[مسیحیت]] کے مختلف نقطہ نظر کی بنیاد پر، اس حضرت کی تمام باتیں، اعمال اور زندگی کے واقعات بھی [[مسیحی]] انجیل کے مفہوم کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔
چار اناجیل اور ’’اعمال رسولان‘‘ عہد جدید کے تاریخی حصے کو تشکیل دیتے ہیں اور بنیادی طور پر حضرت مسیح علیہ‌السلام اور حواریوں کی زندگی اور سرگرمیوں کی تاریخ تقریباً 63ء تک بیان کرتے ہیں۔<ref>The Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 656; The New International Dictionary of the Bible, p. 105.</ref>


شیعہ مفسرین کی ایک تعداد<ref>محمد بن حسن طوسی، ''جوامع الجامع''، بیروت، دارالاضواء، 1405، ج 1، ص 263 / مولی محسن فیض کاشانی، ''تفسیر الصافی''، بہ کوشش حسین اعلمی، چ دوم، بیروت، موسسہ اعلمی، 1402، ج 1، ص 315 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 7.</ref> اور سنی،<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 7، ص 169 / محمد بن احمد قرطبی، ایضاً، ج 4، ص 5 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 159.</ref> [[تورات]] اور انجیل کے بارے میں «تنزیل» کی جگہ «انزال» لفظ کے استعمال کو ان دونوں کے دفعی نزول کی دلیل مانتے ہیں؛ البتہ بعض معاصر صاحبانِ رائے اس نقطہ نظر کو نہیں مانتے。<ref>محمود رامیار، ''تاریخ قرآن''، چ دوم، تہران، امیرکبیر، 1362، ص 190 / محمد علی مہدوی راد، ''آفاق تفسیر''، تہران، ہستی نما، 1383، ص 334 ـ 340.</ref> بعض دیگر آیات 45 اور 48 آل عمران کی استناد پر اس یقین رکھتے ہیں کہ «انجیل» کا نام، [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی بعثت کی وعدہ کی طرح انبیاء اور پیشتر کی [[آسمانی کتابیں]] میں آیا تھا: «إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِکَةُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّهَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ یُعَلِّمُهُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ。」 یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ [[حضرت مریم]] علیہا السلام «انجیل» کے نام سے واقف تھیں۔ ورنہ ان کی پیدائش اور انجیل کے نزول سے قبل اس کی الہی تعلیم کی خبر [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کو دینا معقول نہ تھا。<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 373.</ref>
عہد جدید کا عقیدتی حصہ اس میں شامل 21 خطوط پر مشتمل ہے جن میں عیسائی عقائد کی وضاحت، ان کا دفاع اور دیگر نظریات کی تردید کی گئی ہے۔ پیش گوئی سے متعلق حصہ آخری زمانے کے واقعات اور حضرت مسیح علیہ‌السلام کی دوبارہ آمد سے متعلق ہے، جو ’’مکاشفۂ یوحنا‘‘ میں خواب اور الہامی مناظر کی صورت میں بیان ہوا ہے۔


'''2. تورات کی حقانیت پر انجیل کی گواہی'''
عہد جدید کے مجموعے میں عقائد اور عملی تعلیمات کے لحاظ سے ایک طرح کی دوگانگی اور عدمِ ہم آہنگی بھی نظر آتی ہے۔ اس کا ایک حصہ عہد قدیم کا تسلسل معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح علیہ‌السلام کو انسان اور خدا کے رسول کے طور پر پیش کرتے ہوئے شریعتِ موسوی کی پابندی پر زور دیتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ ان کی الوہیت پر تاکید کرتا ہے اور شریعت موسوی کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتا۔ یہ اختلاف دراصل پطرس اور پولس کے درمیان موجود فکری اور عقیدتی کشمکش کی جھلک ہے۔<ref>عبدالرحیم سلیمانی، «عهد جدید» تاریخ نگارش و نویسندگان، فصلنامه هفت آسمان، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان و مذاهب، ش 3 ـ 4 (1378)، ص 73، 74، 79 و 81.</ref>
[[قرآن کریم]] [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام اور انجیل کو [[تورات]] کی تصدیق کرنے والا قرار دیتا ہے: «وَ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِعَیسَی‌بْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ....» <ref>مائدہ: 46</ref> «تصدیق» کی تکرار اور اس کا الگ الگ [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام اور انجیل کی طرف نسبت کرنا، ظاہر کرتا ہے کہ [[تورات]] کی حقانیت اور اس کے الہی نزول کی گواہی، [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کے کلام کے علاوہ، انجیل کی [[آیات]] میں بھی آئی ہے۔ البتہ واضح ہے کہ مراد، موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی اصلی [[تورات]] ہے جسے خداوند نے پیدا شدہ تحریفات سے پاک، [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کو سکھایا۔ <ref>آل‌عمران: 48؛ مائدہ: 110</ref> لہذا، مذکورہ تصدیق ہرگز [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کے دور کی موجودہ [[تورات]] کی مکمل تائید اور اس کے [[تحریف]] سے پاک ہونے کے معنی میں نہیں ہے。<ref>سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 201.</ref>


مفسرین کی ایک تعداد<ref>سید محمود آلوسی، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 273 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 3، ص 312 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 3، ص 201.</ref> مذکورہ آیت اور اس جیسی دیگر آیات کی استناد پر اس یقین رکھتے ہیں کہ [[حضرت مسیح]] علیہ السلام پر نازل ہونے والی انجیل نے [[تورات]] کے احکام کی توثیق اور تکمیل کی اور [[عیسیٰ]] علیہ السلام کا دین، کچھ احکام کے سوا، موسیٰ علیہ السلام کی [[شریعت]] کا ناسخ نہیں تھا۔ [[انجیل متیٰ]] میں اور [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کی زبان سے بھی اس بات کی تصریح ہوئی ہے。<ref>فاضل خان ہمدانی، ایضاً، متی 5: 17 ـ 18.</ref> خدا کی جانب سے [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کو [[تورات]] کی تعلیم پر [[قرآن]] کی تصریح اور اس پر ان کے لیے نعمت کے طور پر زور<ref>«اذ قال اللّه یا عیسی‌بن مریم اذکر نعمتی علیک... و اذ علّمتک الکتاب و الحکمة و التوراة والانجیل...」 مائدہ: 110؛ آل‌عمران: 48.</ref> <ref>آل‌عمران: 48؛ مائدہ: 110</ref> اس نقطہ نظر کی تائید کر سکتا ہے۔
وہ دیگر تحریریں جنہیں کلیسا نے قبول نہیں کیا ’’اپوکریفا‘‘ کہلاتی ہیں، یعنی مشتبہ یا غیر معتبر کتابیں۔ ان میں سے بہت سی تحریریں ضائع ہو چکی ہیں اور بعض اب بھی موجود ہیں۔<ref>موریس بوکای، پیشین، ص 103 ـ 105 / محمدجواد شکور، خلاصه ادیان، چ دوم، تهران، شرق، 1362، ص 168.</ref>


مزید وضاحت یہ کہ بعض [[آیات]] ظاہر کرتی ہیں کہ گوشت اور حیوانات کے کچھ دیگر اجزاء کا حکم، جو [[تورات]] کی بنیاد پر یہودی قوم پر حرام کیا گیا تھا،<ref>«و علی الذین هادوا حرّمنا کلّ ذی ذفر ومن البقر و الغنم حرّمنا علیهم شحومهما الاّ ما حملت ظهورهما او الحوایا او ما اختلط بعظم ذالک جزیناهم ببغیهم و انّا لصادقون。」 انعام: 146</ref> انجیل کے ذریعے منسوخ ہو گیا ہے: «وَ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَ‌الَّذِیحُرِّمَ‌عَلَیْکُمْ。」 <ref>آل‌عمران: 50</ref> [[قرآن]] حلال ہونے کے باوجود مذکورہ تحریمات کی وجہ یہودی قوم کی ستمگری، حق ستیزی اور سرکشی اور ان کی سزا کے طور پر بیان کرتا ہے۔ <ref>نساء: 160؛ انعام: 146</ref>
انجیل برنابا، جو یوسف کے ساتھی برنابا سے منسوب ہے اور پولس و مرقس کا دوست بتایا جاتا ہے، اسی نوع کی ایک انجیل ہے۔ چوتھی صدی عیسوی کے بعد کلیسا نے اس کے مطالعے کو ممنوع قرار دے دیا۔ بعض محققین نے اسے اسلام اور مسیحیت کے درمیان گم شدہ رابطہ قرار دیا ہے۔


'''3. قرآن کی جانب سے انجیل کی تصدیق'''
اگرچہ اس انجیل کی بعض تعلیمات [[اسلام|اسلامی]] اور سرکاری مسیحی عقائد دونوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں، تاہم اس میں کئی بنیادی نکات ایسے ہیں جو [[قرآن]] کے ساتھ قابلِ ذکر موافقت رکھتے ہیں۔ مثلاً [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کی بعثت کی صریح بشارت، حضرت مسیح علیہ‌السلام کی الوہیت اور ابنیت کی نفی، حضرت اسماعیل علیہ‌السلام کو ذبیح قرار دینا نہ کہ حضرت اسحاق علیہ‌السلام کو، اور حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے مصلوب نہ ہونے بلکہ یہودا اسخریوطی کے ان کی جگہ قتل کیے جانے کا بیان۔
خداوند نے [[قرآن کریم]] کی متعدد [[آیات]] میں، اسے انجیل سمیت پیشتر کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا قرار دیا ہے: «وَ أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتَابِ وَ مُهَیْمِنا عَلَیْهِ...» <ref>مائدہ: 48</ref> لیکن مذکورہ تصدیق اور تائید کا کیا مطلب ہے، اس بارے میں مفسرین اختلاف رکھتے ہیں؛<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 1، ج 1، ص 615؛ ج 3، ج 3، ص 226؛ ج 4، ج 6، ص 361 / محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 8، ص 429 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 2، ص 696 ـ 697؛ ج 3، ص 313؛ ج 8، ص 637.</ref> پہلا نقطہ نظر، اسے خداوند کی جانب سے ان کے نزول پر [[قرآن]] کی گواہی کے معنی میں مانتا ہے؛ اس وضاحت کے ساتھ کہ اس کا لازمی نتیجہ ان کتابوں کے تمام مندرجات کی تصدیق نہیں ہے جو آج [[تورات]] اور انجیل کے نام سے پکاری جاتی ہیں۔ دوسرا نقطہ نظر مذکورہ تصدیق کو گذشتہ آسمانی کتابوں کے تمام یا کچھ مندرجات کی تائید کے معنی میں مانتا ہے؛ اور تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ پیشتر کی آسمانی کتابیں خداوند کی جانب سے [[قرآن]] کے نزول کی خبر دیتی ہیں اور [[قرآن]] کا نزول ـ نہ کہ اس کی زبانی گواہی ـ اس غیبی خبر کی درستی اور گذشتہ آسمانی کتابوں کا خدا کی جانب سے ہونا ثابت کرتا ہے。<ref>محمد تقی مصباح، ''قرآن شناسی''، بہ کوشش محمود رجبی، قم، انتشارات اسلامی، 1376، ج 1، ص 182 ـ 183.</ref>


متعلقہ [[آیات]] میں دقت اور عبارات کے فرق پر غور، مذکورہ چیلنج کو ختم کر سکتا ہے اور اتفاق رائے کی زمینہ فراہم کر سکتا ہے؛ اس وضاحت کے ساتھ کہ تصدیق کرنے والی [[آیات]] کو ایک نظر سے دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلی قسم وہ آیات ہیں جن میں «الَّذی بَینَ یَدَیه» اور «ما بَینَ یَدَیه» جیسی عبارات آئی ہیں، یہ صراحت کے ساتھ [[قرآن]] سے پیشتر کی کتابوں کی تصدیق کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور [[تورات]] اور نازل ہونے والی انجیل جیسی کتابوں کی تائید کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتیں: «وَ مَا کَانَ هَـذَا الْقُرْآنُ أَن یُفْتَرَی مِن دُونِ اللّهِ وَلَکِن تَصْدِیقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیلَ الْکِتَابِ...» <ref>یونس: 37 نیز یوسف: 111؛ بقرہ: 97؛ آل‌عمران: 3؛ مائدہ: 48؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30</ref> ان [[آیات]] میں «تصدیق»، یقیناً حقیقی [[تورات]] اور انجیل کے الہی نزول پر [[قرآن]] کی گواہی اور ان دونوں کی تمام تعلیمات کی تائید کے معنی میں ہو سکتی ہے。<ref> محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 3، ص 542 / فضل‌بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 313 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 5، ص 349.</ref> واضح ہے کہ اس معنی میں «تصدیق»، [[تورات]] اور انجیل کی [[بعثت]] [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور [[قرآن]] کے نزول کی بشارتوں کو بھی شامل ہے۔
== چار اناجیل (اناجیلِ اربعہ) ==
عہد جدید کے معروف ترین حصّوں میں سب سے پہلے چار اناجیل کا تذکرہ آتا ہے۔ مسیحی الہیات میں اس بات پر ایمان رکھا جاتا ہے کہ انجیلیں اور عہد جدید کے دیگر اجزاء [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] پر ’’وحی‘‘ کی صورت میں نازل نہیں ہوئے، بلکہ یہ حضرت مسیحؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد عام انسانوں نے تحریر کیے۔<ref>و. م. میلر، پیشین، ص 67 / توماس میشل، پیشین، ص 28 / محمّدعلی بروّ العاملی، الکتاب المقدّس فی المیزان، بیروت، الدارالاسلامیة، 1413، ص 238.</ref>


قابل توجہ نکتہ یہ کہ [[قرآن]] گذشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کے بارے میں ایک تکمیلی وضاحت کے طور پر، ان کے مقابلے میں اپنی «مہیمن» ہونے پر تصریح کرتا ہے تاکہ بغیر کسی دخل و تصرف کے تصدیق کے وہم کے پیدا ہونے سے بچا جا سکے۔ [[قرآن]] کی «مہیمن» ہونے کو اگرچہ مختلف، لیکن قریب معانی میں بیان کیا گیا ہے。<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 4، ج 6، ص 360 ـ 363 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 313 / اسماعیل‌بن کثیر دمشقی، ''تفسیرالقرآن العظیم''، بہ کوشش یوسف مرعشی، چ سوم، بیروت، دارالمعرفہ، 1409، ج 2، ص 68.</ref> ان معانی کا حاصل یہ ہے کہ [[قرآن]] گذشتہ کتابوں کے مقابلے میں مسلط، فرادست اور فراگیر ہے اور اس کی بنیاد پر، اس میں مختلف قسم کے دخل و تصرف کر سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر، ان کی اصلی تعلیمات کو محفوظ اور توثیق، حذف اور تحریف شدہ موارد کی یاد دہانی اور اصلاح، اور خاص زمانے، مکان اور مخاطبین کی شرائط کے تابع تعلیمات کو منسوخ کیا ہے。<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج ص 410 ـ 411 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 5، ص 349.</ref>
اناجیل کے مصنفین کے نام پر انہیں انجیل متّی، انجیل مرقس، انجیل لوقا اور انجیل یوحنا کہا جاتا ہے۔ ان کے زمانۂ تالیف، مصنفین کی حقیقی شناخت اور ان کی سند کے تسلسل پر وسیع تحقیقی کام ہونے کے باوجود ان مسائل میں کوئی قطعی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ اگرچہ بہت سے سنجیدہ اعتراضات اور علمی چیلنج موجود ہیں، لیکن بعض قرائن اور شواہد کی بنا پر کچھ مضبوط احتمالات بھی پیش کیے گئے ہیں۔<ref>ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 57 ـ 70 / موریس بوکای، پیشین، ص 99 ـ 101.</ref>


دوسری قسم کی [[آیات]] میں، «لِما مَعَکُم» اور «لِما مَعَهُم» جیسی عبارات استعمال ہوئی ہیں اور اہل کتاب ([[یہود]] اور [[نصارٰی]]) کی طرف اشارہ ہے: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ أُوتُواْ الْکِتَابَ آمِنُواْ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقا لِمَا مَعَکُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوها...» <ref>نساء: 47 نیز بقرہ: 41،91</ref> اگرچہ ان عبارات کے ظاہر کو نزول کے دور کی موجودہ [[تورات]] اور انجیلوں کی طرف اشارہ کہا جا سکتا ہے جو [[اہل کتاب]] کے پاس تھیں؛ لیکن یقیناً تمام مندرجات کی تصدیق کے معنی میں نہیں، بلکہ ـ جیسا کہ بعض [[آیات]] بھی اشارہ کرتی ہیں ـ<ref>«و من الذین قالوا انّا نصاری اخذنا میثاقهم فنسوا حظّا ممّا ذکروا فاغرینا بینهم العداوة والبغضاء الی یوم القیامة。」 مائدہ: 14</ref> ان کی [[تحریف]] نہ شدہ تعلیمات کے کچھ حصوں کی تائید ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ انجیلیں متضاد اور شرک آمیز تعلیمات رکھتی ہیں اور [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کی طرف ایسی باتیں، اعمال اور واقعات منسوب کرتی ہیں جو [[عقل]] اور توحیدی تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں۔ [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کا مصلوب اور قتل ہونا، اس حضرت کی خداوندی اور خدا کا بیٹا ہونے کا اعتقاد اور «تثلیث» کا عقیدہ ان میں سے ہے۔ <ref>نساء: 157، 171؛ مائدہ: 17، 72 ـ 73، 116 ـ 117؛ توبہ: 30</ref>
=== انجیلِ مرقس ===


نزول کے دور کی انجیلوں کی ضمنی اور اجمالی تائید بعض دیگر [[آیات]] سے بھی نکلتی ہے۔ آیت 66 مائدہ اس قبیل سے ہے جو اہل کتاب کو [[تورات]] اور انجیل کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب میں، [[آسمان]] اور زمین کی برکتوں سے بہرہ ور ہونا اس کا نتیجہ قرار دیتی ہے: «وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَ مِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم....» مفسرین نے [[تورات]] اور انجیل کے قیام سے مراد مبدأ، معاد،<ref>سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> احکام اور الہی حدود<ref>محمد بن عمر فخررازی، ایضاً، ج 12، ص 46 / تفسیر بیضاوی، ج 1، ص 444 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> اور نیز [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ سے متعلق بشارت کے وجود کا اعتراف،<ref>ابوجعفر نحّاس، ''معانی القرآن''، بہ کوشش الصابونی، عربستان، جامعة امّ‌القری، 1409، ج 2، ص 337 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 46/ اسماعیل‌بن‌کثیردمشقی، ایضاً، ج 1، ص 169.</ref> بغیر کسی تحریف اور کتمان کے<ref>محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 3، ص 585 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 341 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> اعتقاد اور عمل کو قرار دیا ہے۔ لہذا، کم از کم نزول کے دور کی موجودہ انجیلیں، نازل ہونے والی انجیل کی کچھ تعلیمات کو شامل تھیں۔ ورنہ اور حقیقی انجیل کے فقدان کو دیکھتے ہوئے، اس کے قیام کی دعوت، کوئی عقلی جواز نہیں رکھے گی۔ مذکورہ ضمنی اور اجمالی تائید کو آیت 68 مائدہ سے بھی اخذ کیا جا سکتا ہے: «قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِن رَّبِکُمْ....»
روایات کے مطابق مرقس [[حضرت عیسی|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] کے صحابی نہیں تھے، بلکہ پطرس حواری کے دوست، ہم سفر اور شاگرد تھے۔ کبھی کبھی وہ پولس کے ساتھ بھی سفر کرتے تھے اور اپنی روایات پطرس سے حاصل کرتے تھے۔<ref>مریل سی بن، معرفی عهد جدید، ترجمه طاطه‌وس میکائیلیان، تهران، حیات ابدی، 1362، ص 171 ـ 173؛ The Encyclopedia of Religion, V, P. 208.</ref>


اس [[آیت]] کی [[شان نزول]] میں کہا گیا ہے: [[یہودی]]وں کے ایک گروہ نے، [[تورات]] کی ان کی جانب سے تصدیق کے بارے میں [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کے جواب کے بعد، کہا: ہم بھی [[تورات]] کو قبول کرتے ہیں؛ لیکن اس کے سوا کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے اور [[خداوند]] نے اس آیت کی بنیاد پر، [[تورات]] اور انجیل پر اعتقاد اور عمل کے بغیر ان کے دین اور آیین کو بے قدر اور بے بنیاد قرار دیا۔ اس پر اعتقاد اور عمل بھی [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور [[قرآن]] پر [[ایمان]] کا تقاضا کرتا ہے۔ [[قرآن کریم]] نے کسی اور جگہ، انجیل کے پیروکاروں کو اس میں «ما اَنزَلَ اللّه» کی بنیاد پر داوری اور حکم کرنے کی دعوت دی ہے: «وَلْیَحْکُمْ أَهْلُ الإِنجِیلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِیهِ....» <ref>مائدہ: 47</ref> یہ آیت بھی نزول کے دور کی انجیلوں کی ضمنی اور اجمالی تائید کو پہنچاتی ہے۔
ان کی انجیل اناجیل میں سب سے مختصر سمجھی جاتی ہے، اسے رومی زبان میں لکھا ہوا قرار دیا گیا ہے،<ref>موریس بوکای، پیشین، ص 86 ـ 90.</ref> اور اکثر محققین کے مطابق اس کی تصنیف 65 سے 70 عیسوی کے درمیان روم میں ہوئی۔<ref>جماعة من اللاهوتیین، … ص 90 ـ 91 / القس فهیم عزیز، … ص 21 / موریس بوکای، … ص 88.</ref>


'''4. انجیل کی تعلیمات'''
=== انجیلِ متّی ===
[[قرآن کریم]] کبھی کچھ کلی اوصاف کے ساتھ اور کبھی کچھ خاص احکام اور تعلیمات کے ذکر کے ساتھ، انجیل کے مندرجات کی نسبتاً مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ مذکورہ موارد اس قبیل سے ہیں:


'''''1. ہدایت، نور اور موعظہ:'''''
یہ اناجیل میں سب سے مفصل ہے اور اسے متّی حواری سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جدید نقّادیوں سے پہلے اسے سب سے قدیم انجیل سمجھا جاتا تھا اور اس کی تصنیف 38 سے 60 عیسوی کے درمیان قرار دی جاتی تھی۔<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 247؛ Cross, F.L. … P. 859.</ref>
«... وَ آتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَمُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ。」 <ref>مائدہ: 46؛ آل‌عمران: 3 ـ 4</ref> [[مفسرین]] نے «[[ہدایت]]» کے معنی میں، [[خداوند]] کی [[توحید]] اور اس کو بیوی، بیٹا، شریک اور ہمسر رکھنے سے تنزیہ سے متعلق تعلیمات کے وجود،<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 226 / محمد عمر فخررازی، ایضاً، ج 12، ص 9 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 6، ص 401.</ref> معاد سے متعلق معارف،<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.</ref> [[انبیاء]] کی تصدیق اور تنزیہ، [[بعثت]] [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی بشارت،<ref> محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 3، ج 3، ص 226 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.</ref> الہی احکام اور اس کی دلیلیں<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 4، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 314.</ref> [[تفسیر]] کی ہیں۔ «ہدایت ہونے» کی صفت سے [[قرآن]] اور [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی توصیف پر توجہ،<ref>«ذلک الکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین。」 بقرہ: 2</ref> اس سلسلے میں بہت کارگر ہو سکتی ہے؛ جیسا کہ انجیل کے [[نور]] پر مشتمل ہونے کی [[تفسیر]] میں، اسے شرعی احکام کی بیان،<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.</ref> دلیلیں، مثالیں، فضائل اور حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اقدار<ref>محمد رشید رضا، ایضاً، ج 6، ص 401.</ref> اور جہل اور نادانی کی تاریکیوں کو روشن کرنے<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 4، ج 6، ص 358.</ref> کی طرف انجیل کی طرف سے اشارہ قرار دیا ہے اور اس میں «موعظہ» کے وجود سے مراد، گناہ سے بچنے اور عبادات کرنے کے الہی احکام اور شیوا اور رسا نصیحتیں بتائی ہیں。<ref>فضل‌بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 3، ص 311 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 12، ص 9.</ref>


'''''2. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت کی بشارت:'''''
تاہم محققین نے اندرونی شواہد اور انجیل مرقس کے پورے مواد کے اس میں شامل ہونے کی بنا پر یہ رائے اختیار کی کہ اس کی تالیف بھی 65 سے 70 عیسوی کے درمیان اور مرقس کے بعد ہوئی۔<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 221 / جماعه من اللاهوتیین، پیشین، ج ص 91.</ref>
بعض [[قرآن]] [[آیات]] کے صریح نص اور نیز بعض دیگر کے ظاہر کے مطابق، [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی [[بعثت]] کی خبر اور ان کا نام اور خصوصیات خدا کی جانب سے نازل ہونے والی [[تورات]] اور انجیل میں آئی ہیں۔ یہ موضوع [[قرآن]] میں مذکورہ [[تورات]] اور انجیل کی تعلیمات میں ـ خاص اہمیت رکھتا ہے: «الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبا عِندَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِیلِ....» <ref>اعراف: 157</ref> آیت کے ظاہر سے نکلتا ہے کہ تینہ اوصاف «رسول»، «نبی» اور «اُمّی» (ان پڑھ اور لکھا نہ ہونا) سب [[تورات]] اور انجیل میں [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کے لیے ذکر ہوئے ہیں<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 6، ج 9، ص 112 ـ 113 / اسماعیل‌بن کثیر دمشقی، ایضاً، ج 2، ص 262؛ ج 3، ص 427 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 8، ص 280.</ref> اور اگر آیت اس بیان کی خواہاں نہ ہوتی، تینوں اوصاف کا ایک ساتھ ذکر، جو صرف اسی آیت میں ہے، خاص طور پر تیسری خصوصیت کا لانا، کوئی نمایاں نکتہ نہ تھا。<ref>سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 8، ص 280.</ref> کسی اور آیت میں اور [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی زبان سے، [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کے نام کی، جو ان کے بعد آئیں گے، تصریح ہوئی ہے: «وَ إِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ مُبَشِّرا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَد....»(صف: 6) اگرچہ یہ آیت [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی زبان سے [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی بعثت کی بشارت اور ان کے نام پر دلالت کرتی ہے، نہ کہ انجیل میں اس کے آنے پر،<ref>ایضاً، ج 19، ص 253.</ref> لیکن چونکہ اس حضرت نے اس سلسلے میں [[آیات]] انجیل اور الہی [[وحی]] کے سوا کچھ زبان پر نہیں لایا، یہ انجیل سے ماخوذ ہو سکتا ہے۔ یہ آیت مفسرین<ref>محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 4، ص 559 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 4، ص 749 / محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 29، ص 313 ـ 314.</ref> اور 107 مسلمان محققین کی توجہ، جو موجودہ انجیلوں میں «احمد» کے نام کی تلاش میں نکلے، کو لفظ «فارقلیط» (Paraclete) یا «بارکلیت» کی طرف مبذول کراتی ہے۔ مذکورہ لفظ یونانی ہے اور «تسلی» اور «آرامش دہندہ» کے معنی میں ہے اور [[مسیحی]] اس کی مصداق «روح القدس» کہتے ہیں۔


لیکن مذکورہ [[مفسرین]] اور محققین اس یقین رکھتے ہیں کہ یہ لفظ اصل میں، خاص نام تھا اور «پریکلیتوس» کی صورت میں اور «احمد» اور «ستودہ» کے معنی میں تھا جو بعد میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں، بعض [[مسیحیت]] کے محققین انجیل میں نام «احمد» کے ذکر پر [[آیت]] کی دلالت کو رد کرتے ہوئے، اس کی «[[فارقلیط]]» پر تطبیق کی کوششوں کو ناکام اور غیر ضروری شمار کرتے ہیں۔ وہ بعض قابل دفاع دلیلوں کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذکورہ لفظ [[اسلام]] سے صدیوں پہلے بھی اسی صورت اور «تسلی دہندہ» کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور اس کی مصداق «[[روح القدس]]» جانی جاتی تھی۔ وہ [[عہد نامہ جدید]] کے دیگر حصوں کو کلی اوصاف کی صورت میں ـ اور نہ کہ نام سے ـ [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کے آنے کی انجیل کی بشارت کی مصداق مانتے ہیں。<ref>عبدالرحیم سلیمانی، «قرآن کریم و بشارت‌های پیامبران»، فصلنامہ ہفت آسمان، ش 16 زمستان 1381، ص 51 ـ 61.</ref>
اس کا اصل نسخہ عبرانی زبان میں تھا، لیکن اب موجود نہیں۔ بعد میں اسے یونانی سمیت دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔<ref>مستر هاکس، پیشین، ص 782 / محمّدعلی بّرو العاملی، پیشین، ص 244 ـ 245 / The Oxford Dictionary … p.359.</ref>


[[تورات]] اور انجیل کی بعثت، نام اور [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی خصوصیات کے بارے میں رپورٹیں اتنی دقیق اور واضح تھیں کہ یہود و نصاریٰ یا کم از کم ان کے علماء کے لیے اس حضرت کی شناخت اور ان کی دعوت اور رسالت کی حقانیت میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا تھا؛<ref>سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 7، ص 41.</ref> لیکن ان میں سے ایک گروہ نے مختلف انگیزوں کی بنا پر اسے چھپایا: «الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ وَإِنَّ فَرِیقا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ。」 <ref>بقرہ: 146</ref> اس آیت اور اس جیسی دیگر سے نکلتا ہے کہ مذکورہ رپورٹیں نزول کے دور کی موجودہ [[تورات]] اور انجیل میں بھی تھیں۔ ورنہ، یہود و نصاریٰ اسے بہترین دلیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے، [[قرآن]]، [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کی دعوت کی شدید تکذیب کرتے،<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 17، ص 94 / سید ابوالقاسم خوئی، ''البیان''، چ ہشتم، انوارالہدی، 1401، ص 122 / سید محمد حسین طباطبائی، ایضاً، ج 19، ص 253.</ref> جبکہ ان میں سے کچھ، خاص طور پر یہود و نصاریٰ کے بعض علماء، مذکورہ بشارتوں اور [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ کی پیشتر شناخت کی بنیاد پر ان پر ایمان لائے:111«الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ یُؤْمِنُونَ وَ إِذَا یُتْلَی عَلَیْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا کُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِینَ。」 <ref>قصص: 52 ـ 53</ref> [[حضرت عیسیٰ]] علیہ السلام کے بعد «فارقلیط» کے آنے کی بشارت، جو انجیل یوحنا میں ان کی زبان سے نقل ہوئی ہے<ref>یوحنا، 14:15 ـ 17 و 25 ـ 26؛ 15:26 ـ 27؛ 16: 5 ـ 15.</ref> ان میں سے ہے جو شیعہ مفسرین کی ایک تعداد <ref>فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 4، ص 749 / محمد تقی مصباح، ایضاً، ج 1، ص 188ـ189 / محمد صادقی، ایضاً، ج 26ـ27، ص 306.</ref>اور سنی <ref> محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 29، ص 313 / محمد رشید رضا، ایضاً، ج 9، ص 291 / سید محمود آلوسی، ایضاً، ج 15، ج 28، ص 128.</ref>کی توجہ اور استناد کا مرکز بنا ہے۔ البتہ [[عہد نامہ جدید]] کی بہت سی رپورٹوں کے غیر حقیقی ہونے کو دیکھتے ہوئے، جو کچھ [[قرآن]] نے اس بارے میں لایا ہے، وہ مکمل طور پر اس میں موجود نہیں ہے اور جو کچھ ملتا ہے وہ [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ پر منطبق ہونے والی کچھ کلی عبارات ہیں، جبکہ [[قرآن]] کے بیانات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ [[تورات]] اور انجیل میں واضح اور صراحت کے ساتھ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ کے آنے کی خبر دی گئی ہے。<ref>محمد تقی مصباح، ایضاً، ص 188.</ref>
محققین نے اس کی نسبت متّی حواری کی طرف مشکوک قرار دی ہے،<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 242 ـ 247؛ The Encyclopedia of Religion, V. 9. P. 285.</ref> اور یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اسے کوئی دوسرا شخص لکھنے والا تھا جس کا نام متّی جیسا تھا۔<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 245؛ Achtemeier … P. 613.</ref>


آیت 29 [[سورت فتح]] میں بھی [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے سچے پیروکاروں کے کچھ اوصاف کے [[تورات]] اور انجیل میں ذکر کی بات کی گئی ہے۔ اس آیت کی بنیاد پر، مذکورہ کتابوں میں آیا ہے کہ [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیاء)]] صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے پیروکار دشمنوں کے مقابلے میں سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں۔ نیز وہ ایسی کھیتی کی مانند ہیں جو دن بہ دن رشد، نشوونما اور استحکام پاتی ہے، کسانوں کو حیران کرتی ہے؛ اس معنی میں کہ مسلمان بھی ابتدا میں کم ہیں؛ لیکن ایام گزرنے کے ساتھ، ان کی تعداد اور طاقت میں ایسا اضافہ ہوتا ہے کہ [[کافران]] کو غصہ دلاتا اور خوفزدہ کرتا ہے:<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 145 / محمد بن احمد قرطبی، ایضاً، ج 16، ص 292.</ref>«مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُکَّعا سُجَّدا یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانا سِیمَاهُمْ فِی وُجُوهِهِم مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْإِنجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِهِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ....» <ref>فتح: 29</ref> یہ کہ تمام مذکورہ اوصاف دونوں کتابوں [[تورات]] اور انجیل میں آئے ہیں یا کچھ [[تورات]] میں اور کچھ دیگر انجیل میں، [[مفسرین]] کے درمیان اختلاف ہے۔
اکثر محققین اس کے لکھے جانے کی جگہ کو انطاکیہ قرار دیتے ہیں۔<ref>مریل سی بن، پیشین، ص 159.</ref>


[[مفسرین]] [[شیعہ]] کی ایک تعداد<ref>محمد بن حسن طوسی، ایضاً، ج 9، ص 337 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 9، ص 192.</ref> اور سنی <ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 145 ـ 146/ اسماعیل‌بن کثیر دمشقی، ایضاً، ج 4، ص 219 / ابوجعفر نحاس، ایضاً، ج 6، ص 515.</ref> نے پہلے مفسرین جیسے قتادہ، ضحاک اور ابن جبیر کی پیروی کرتے ہوئے،<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 145 / عبدالرزاق صنعانی، ''تفسیر صنعانی''، بہ کوشش محمود محمد عبدہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1419، ج 3، ص 228 / جمال‌الدین جوزی، ''زاد المسیر فی علم التفسیر''، چ چہارم، بیروت، المکتب الاسلامی، 1407، ج 7، ص 449.</ref> لفظ «ذلِکَ» سے پہلے آئے اوصاف کو [[تورات]] میں ذکر شدہ، اور کھیتی اور کاشت سے تشبیہ کو انجیل میں آیا ہوا مانتے ہیں۔ طبری اس نقطہ نظر کے اثبات میں کہتے ہیں: اگر «کَزَرع» پچھلے اوصاف کا عطف ہوتا اور [[تورات]] سے بھی متعلق ہوتا، تو اسے «واوِ» عطف کے ساتھ آنا چاہیے تھا。<ref>محمد بن جریر طبری، ایضاً، ج 13، ج 25، ص 146.</ref> اس کے مقابلے میں، شوکانی نے جملہ «کَزَرع» کو مستقل مانا اور مجاہد کی پیروی کرتے ہوئے، معتقد ہیں: تمام مذکورہ خصوصیات آیت کے آغاز سے انجام تک، هم [[تورات]] میں اور هم انجیل میں آئی ہیں。<ref>محمد بن علی شوکانی، ''فتح القدیر''، بیروت، دارالمعرفہ، ج 5، ص 56.</ref> ابوسلیمان دمشقی بھی اس یقین رکھتے ہیں کہ کھیتی اور کاشت سے تشبیہ [[تورات]] اور انجیل میں ذکر ہوئی ہے。<ref>جمال‌الدین جوزی، ایضاً، ج 7، ص 448/ ج 3، ص 503.</ref>
=== انجیلِ لوقا ===


'''''3. جہاد:'''''
لوقا حواری نہیں تھے، انہوں نے [[حضرت عیسی|حضرت مسیح علیہ‌السّلام]] کو نہیں دیکھا، اور نصرانیت انہوں نے پولس سے سیکھی۔ انجیل لوقا کی زیادہ تر روایات مرقس اور متّی سے ماخوذ سمجھی جاتی ہیں۔<ref>ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / موریس بوکای، پیشین، ص 90 ـ 92.</ref>
دیگر تعلیمات میں سے ایک جو [[قرآن]] اس کے [[تورات]] اور انجیل میں ذکر ہونے کی بات کرتا ہے، [[خدا]] کی راہ میں جنگ اور جہاد اور اس کی جانب سے ان مومنوں کو جو اس راستے میں [[خدا]] کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں یا خود قتل ہوتے ہیں، [[جنت]] کا حتمی وعدہ ہے: «إِنَّ اللّهَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدا عَلَیْهِ حَقّا فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ....» <ref>توبہ: 111</ref> اس [[آیت]] کے نزول کو «بیعت عقبہ» والوں کی شان میں قرار دیا گیا ہے<ref>جمال‌الدین جوزی، ایضاً، ج 7، ص 448/ ج 3، ص 503.</ref> اور [[مفسرین]] کا یقین ہے کہ یہ تمام آسمانی ادیان میں جہاد کے حکم کے وجود کو ظاہر کرتا ہے。<ref>محمد بن عمر فخر رازی، ایضاً، ج 16، ص 201 / فضل بن حسن طبرسی، ایضاً، ج 5، ص 113 ـ 114 / سعیدبن ہبہ اللہ راوندی، ''فقه القرآن''، بہ کوشش سیداحمد حسینی، چ دوم، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1405، ج 1، ص 349.</ref> مذکورہ تعلیمات کے علاوہ، جن کا [[قرآن]] صراحت کے ساتھ انجیل میں ذکر ہونے کی بات کرتا ہے، [[قرآن]] میں [[حضرت مسیح]] علیہ السلام کی اپنے پیروکاروں کو دی گئی مذکورہ تعلیمات بھی ان پر نازل ہونے والی انجیل کی تعلیمات میں سے ہو سکتی ہیں۔ [[تقویٰ]]، یکتا پرستی، ان کی پیروی اور نیز [[تورات]] کی تصدیق اور شرک کی نفی ان میں سے ہے۔ <ref>آل عمران: 50 ـ 51؛ مائدہ: 72؛ توبہ: 31</ref>
 
یہ تینوں اناجیل (مرقس، متّی، لوقا) مشترکات کی وجہ سے ’’ہمنوا اناجیل‘‘ کہلاتی ہیں۔<ref>ویل دورانت… / مستر هاکس… / سلیمانی اردستانی…</ref>
 
روایتی مسیحی نقطۂ نظر میں اسے لوقا (پولس کے ساتھی) کی تصنیف مانا جاتا ہے۔ اس کی تحریر کا زمانہ 70 سے 90 عیسوی کے درمیان، اور زیادہ امکان کے ساتھ 80 تا 85 عیسوی بتایا جاتا ہے۔<ref>The Encyclopedia of Religion … p.51; Harper’s Bible Dictionary p.583.</ref>
 
اس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے بچپن سے متعلق بعض حکایات ایسی ہیں جو دیگر اناجیل میں موجود نہیں۔<ref>موریس بوکای، ص 92.</ref>
 
=== انجیلِ یوحنا ===
یہ چاروں میں سب سے آخری انجیل ہے۔<ref>Harper’s Bible Dictionary, P. 583.</ref> اس کی تاریخِ تالیف کے بارے میں اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ بعض نے اسے 65 عیسوی تک قدیم بتایا ہے، لیکن زیادہ مضبوط اور روایتی مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق اس کی تصنیف 90 سے 115 عیسوی کے درمیان ہوئی۔<ref>القس فهیم عزیز، … ص 560 ـ 561 / مریل سی بن … ص 209 / The new International Dictionary … P. 499, 534.</ref>
 
یوحنا کو حضرت مسیحؑ کا محبوب ترین شاگرد کہا جاتا ہے، لیکن اس انجیل کی نسبت ان کی طرف بھی قابلِ توجہ اختلافات موجود ہیں۔
 
انجیل یوحنا تینوں اناجیل سے بالکل مختلف ہے اور اس میں حضرت مسیحؑ کی زندگی کے بیانات کے ساتھ یونانی فلسفیانہ افکار بھی شامل نظر آتے ہیں۔<ref>ویل دورانت… / موریس بوکای…</ref>
 
== جزیرۂ عرب میں انجیل ==
یہ کہا جاتا ہے کہ سن 400 عیسوی تک [[مشرق وسطی]] کے علاقوں، خاص طور پر [[شام]] میں رائج سرکاری انجیل ایک واحد انجیل تھی جو چاروں اناجیل کے ادغام سے تیار کی گئی تھی۔
<ref>Britanica, V. 7, P. 69.</ref>
 
اس انجیل کو دیاتسرون (Diatessaron) کہا جاتا تھا۔ اسی بنا پر یہ احتمال موجود ہے کہ [[قرآن]] کے نزول کے زمانے میں بھی یہ انجیل کم و بیش جزیرۂ عرب کے [[مسیحیت (نصرانیت)|نصارا]] میں رائج رہی ہو۔
<ref>Neal Robinson, Jesus in the Quran, The Historical Jesus, P. 8.</ref>
 
اس وقت اس انجیل کا اصل مکمل نسخہ جو زبانِ سُریانی میں تھا، موجود نہیں ہے اور صرف اس کے بعض حصّوں کے ترجمے مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں۔
<ref>New Catholic Encyclopedia, V. 4, P. 731.</ref>
 
ایک اور انجیل جو ممکن ہے اُس زمانے میں رائج رہی ہو، وہ بچپن کی انجیل ہے جو زبان عربی میں تھی (Arabic Infancy Gospel)۔ اس میں [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام کے بچپن کی کچھ روایات بیان کی گئی ہیں، جو اس موضوع میں قرآن کریم میں مذکور داستانوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔
 
== انجیل [[قرآن]] میں ==
 
لفظ «انجیل» [[قرآن]] کی 6 سورہ کی 12 آیات میں کل 12 بار، اور ہمیشہ مفرد صورت میں، صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ 
<ref>آل عمران: 3، 48، 65؛ مائده: 46، 47، 66، 68، 110؛ اعراف: 157؛ توبه: 111؛ فتح: 29؛ حدید: 27</ref>
 
اسی طرح متعدد مقامات پر «ما بَینَ یَدَیه» <ref>آل‌عمران: 3؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30</ref> اور «الَّذی بَینَ یَدَیه» <ref>انعام: 92؛ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ سبأ: 31</ref> جیسے تعبیرات کے ذریعے، قرآن سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابوں میں سے ایک کے طور پر اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازاین، «الکِتاب» کے مرکبات جیسے «اَهل الکِتاب» <ref>آل عمران: 64 ـ 65؛ نساء: 171</ref> اور «الَّذینَ اُوتوا الکِتب» <ref>بقره: 146؛ نساء: 47، 13؛ مائده: 5</ref> میں، انجیل ان مصادیقِ قطعی میں سے ہے جن پر یہ عناوین اطلاق پاتے ہیں۔
 
قرآن مختلف مناسبتوں سے انجیل کا ذکر کرتا ہے: اس کے وحیانی ہونے کی تصریح، [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام پر آیات کے مجموعہ کی حیثیت سے نازل ہونا <ref>آل عمران: 3؛ مائده: 46، 110؛ حدید: 27</ref>، [[تورات]] کی حقانیت پر اس کی گواہی <ref>مائده: 46</ref>، قرآن کا اس کی تصدیق کرنا <ref>مائده: 48؛ یونس: 37</ref>، اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت اور دعوتِ عام کی بشارت <ref>اعراف: 157؛ فتح: 29</ref> نیز اس کی بعض تعلیمات کے تحریف، کتمان اور حذف ہونے کا بیان <ref>مائده: 14 ـ 15</ref>۔
 
=== انجیل؛ حضرت مسیح علیه‌السّلام کی آسمانی کتاب ===
 
[[قرآن]]، حضرت عیسی علیه‌السّلام کی بعثت کو رسل کی سلسلہ وار آمد اور کتابوں کے نزول کی تداوم کے طور پر بیان کرتا ہے اور ان کی کتاب آسمانی کا نام صراحت کے ساتھ «انجیل» قرار دیتا ہے اور اس کے وحیانی ہونے پر زور دیتا ہے: <ref>محمّدبن جریر طبری... ج 6، ص 358 / ...</ref>
 
«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ... ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ...» 
<ref>حدید: 25 و 27</ref> و نیز: <ref>مائده: 46، 110</ref>
 
آیۂ 30 مریم میں «کتاب» کا لفظ بھی «انجیل» کی طرف اشارہ ہے: 
<ref>«قال انّی عبداللّه آتانی الکتاب...» مریم: 30</ref>
 
دوسری طرف، اگرچہ انجیلوں کی تعداد بہت زیادہ تھی — خصوصاً نزول کے زمانے میں موجود چار رسمی اناجیل — لیکن [[قرآن]] نے انجیل کے متعلق تمام آیات میں واحد صیغہ استعمال کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت مسیح]] علیه‌السّلام پر ایک ہی انجیل نازل ہوئی تھی۔
 
لہٰذا قرآن، اس انجیل کے وحیانی اور یکتائی ہونے کو بیان کرکے موجودہ اناجیل اور عهد جدید کی دیگر تحریروں کے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ عین وہ انجیل نہیں ہیں جو [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی،<ref>... </ref> بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کے کچھ اجزاء یا اس کی روایات کی صورتیں اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اور غالب احتمال کے مطابق وہ اصلی انجیل، بعض وجوہات کی بنا پر ضائع ہوگئی۔<ref>...</ref>
 
ان وجوہات میں نئے [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیان]] کے لیے انتہائی دشوار حالات، اور [[یهودیت|یہود]] اور رومی حکومتوں کی سختیوں اور تعاقب کا ماحول شامل ہے۔<ref>...</ref>
 
اسی طرح، قرآن کا انجیل کو [[توریت(تورات)|تورات]] اور [[قرآن]] کے ساتھ ایک ‘‘کتاب’’ کے طور پر ذکر کرنا، اس کے آسمانی ہونے اور خارجی موجودیت کا ثبوت ہے: 8 مرتبہ [[توریت(تورات)|تورات]] کے جوڑے کے طور پر <ref>...</ref> اور دو مرتبہ تورات و قرآن کے ساتھ اکٹھے: 
«نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ... وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ...» <ref>آل عمران: 3 ـ 4؛ مائده: 46 ـ 48</ref>
 
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ [[قرآن]] نے صرف ‘‘آیات’’ کے ایک وحی شدہ مجموعہ کو ‘‘انجیل’’ کے نام سے بیان کیا ہے، نہ کہ کسی کتابِ مکتوب کو۔ اور [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام کی حیات میں اس کی کتابت یا آپ کی املاء کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ 
لہٰذا ‘‘انجیل’’ کو — اسلامی اصطلاح میں — وہی آیاتِ نازل شدہ مانا جا سکتا ہے، جن میں سے کچھ کو اناجیلِ اربعہ نے (درست یا نادرست) طور پر نقل کیا ہے۔
 
=== تورات کی حقّانیت پر انجیل کی گواہی ===
 
[[قرآن کریم]]، [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام اور انجیل کو [[توریت(تورات)|تورات]] کا تصدیق‌کننده قرار دیتا ہے:
 
«وَ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِعَیسَی‌بْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ....» 
<ref>مائده: 46</ref>
 
«تصدیق» کا دو بار تکرار اور الگ الگ [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام اور ‘‘انجیل’’ کی طرف نسبت اس بات کی دلیل ہے کہ [[توریت(تورات)|تورات]] کی حقّانیت اور الٰہی نزول کی گواہی، مسیح علیه‌السّلام کے اقوال سے بھی ثابت ہے، اور انجیل کی آیات سے بھی۔
 
مراد یقیناً وہ اصلی تورات ہے جو [[حضرت موسی]] علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی، نہ کہ وہ موجودہ تورات جس میں تحریفات شامل ہوچکی تھیں۔<ref>...</ref>
 
بعض مفسرین کے مطابق، انجیل نے [[توریت(تورات)|تورات]] کے بیشتر احکام کی تائید اور تکمیل کی، اور صرف محدود احکام میں نسخ آیا ہے۔<ref>...</ref> اناجیلِ رسمی (مثلاً انجیل متّا) میں بھی یہی بات حضرت مسیح علیه‌السّلام کے اقوال میں موجود ہے۔<ref>...</ref>
 
بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض غذائیں، جو [[توریت(تورات)|تورات]] میں بنی‌اسرائیل پر حرام کردی گئی تھیں، انجیل کے ذریعے حلال قرار پائیں: 
«وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَ الَّذِی حُرِّمَ عَلَیْکُمْ.» 
<ref>آل‌عمران: 50</ref>
 
=== قرآن کی طرف سے انجیل کی تصدیق ===
 
خداوند نے متعدد آیات میں [[قرآن کریم]] کو سابقہ آسمانی کتابوں، خصوصاً تورات و انجیل، کا ‘‘مصدّق’’ قرار دیا ہے:
 
«وَ أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتَابِ وَ مُهَیْمِنا عَلَیْهِ...» <ref>مائده: 48</ref>
 
مفسرین نے ‘‘تصدیق’’ کے معنی میں مختلف آراء پیش کی ہیں: 
اس سے مراد ان کتابوں کے الٰہی نزول کی تصدیق 
یا ان کی بعض تعلیمات کی تائید 
یا یہ کہ انہی کتابوں نے [[قرآن]] کی آمد کی پیشگوئی کی تھی 
<ref>...</ref>
 
دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ‘‘تصدیق’’ کے آیات دو گروہوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
 
الف) «الَّذی بَینَ یَدَیه» والی آیات 
یہ آیات واضح طور پر قرآن کے ذریعے اصل نازل شدہ کتابوں کی تصدیق بیان کرتی ہیں، نہ کہ موجودہ محرف نسخوں کی۔ 
<ref>یونس: 37؛ یوسف: 111؛ بقره: 97؛ آل‌عمران: 3؛ مائده: 48...</ref>
 
ب) «لِما مَعَکُم» والی آیات 
یہ آیات اہلِ کتاب کے پاس موجود تحریروں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، لیکن تمام مواد کی نہیں بلکہ صرف غیرمحرف حصوں کی تائید کرتی ہیں۔<ref>...</ref>
 
موجودہ اناجیل میں کئی ایسی عقائد اور نسبتیں موجود ہیں جو [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام اور توحید کے مخالف ہیں — مثلاً صلیب پر قتل، الوہیتِ عیسی، ‘‘پسر خدا’’ ہونا، «تثلیث» وغیرہ — اور قرآن ان سب کو باطل قرار دیتا ہے۔ <ref>نساء: 157، 171؛ مائده: 17، 72 ـ 73، 116 ـ 117؛ توبه: 30</ref>
 
اجمالی طور پر نزول کے زمانے کے اناجیل کی موجودگی کا مفہوم بعض دیگر آیات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سورۂ مائدہ کی آیت 66 قابلِ ذکر ہے جس میں اہلِ کتاب کو [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ آسمان اور زمین کی برکتوں سے بہرہ مند ہونا ہوگا: 
«وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَ مِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم....»
 
مفسرین کے نزدیک [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان دونوں کی تعلیمات پر ایمان اور عمل ہے، جو مبدأ اور معاد سے متعلق عقائد،<ref>سید محمّدحسین طباطبایی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> الٰہی احکام اور حدود<ref>محمّدبن عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 46 / تفسیر بیضاوی، ج 1، ص 444 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> نیز [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی الله علیه و آله کی بشارت کے اعتراف پر مشتمل ہیں،<ref>ابوجعفر نحّاس، معانی‌القرآن، به کوشش الصابونی، عربستان، جامعة امّ‌القری، 1409، ج 2، ص 337 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 46/ اسماعیل‌بن‌کثیردمشقی، پیشین، ج 1، ص 169.</ref> اور یہ سب کچھ کسی قسم کی تحریف یا کتمان کے بغیر ہونا چاہیے۔<ref>محمّدبن حسن طوسی، پیشین، ج 3، ص 585 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 341 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref>
 
لہٰذا کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نزولِ [[قرآن]] کے زمانے میں موجود اناجیل میں الٰہی نازل شدہ انجیل کی کچھ تعلیمات ضرور موجود تھیں۔ بصورتِ دیگر، جب حقیقی انجیل ہی موجود نہ ہوتی تو اس کے قیام کی دعوت دینا عقلی طور پر درست نہ ہوتا۔ اسی طرح کی ضمنی اور اجمالی تائید سورۂ مائدہ کی آیت 68 سے بھی ملتی ہے: 
«قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِن رَّبِّکُمْ....»
 
اس آیہ کے شأن نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعض [[یهودیت|یہودیوں]] نے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله سے پوچھا کہ کیا وہ [[توریت(تورات)|تورات]] کی تصدیق کرتے ہیں؟ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا: ہم بھی [[توریت(تورات)|تورات]] کو مانتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے۔ اس پر خدا نے اس آیت کے ذریعے اعلان کیا کہ تورات اور انجیل پر ایمان اور عمل کے بغیر ان کا دین و مذہب بے بنیاد اور بے وقعت ہے۔ اور ان دونوں پر حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله اور [[قرآن]] پر بھی ایمان لایا جائے۔
 
[[قرآن کریم]] ایک اور مقام پر انجیل کے پیروکاروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے: 
«وَلْیَحْکُمْ أَهْلُ الإِنجِیلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِیهِ....» <ref>مائده: 47</ref>
 
یہ آیت بھی نزول کے زمانے کے اناجیل کی ضمنی اور اجمالی تائید کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
 
=== انجیل کی تعلیمات ===
 
[[قرآن کریم]] کبھی بعض عمومی اوصاف کے ذریعے اور کبھی بعض واضح احکام و تعلیمات کا ذکر کرکے انجیل کے مندرجات کی نسبتاً مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ ان میں سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
 
==== ہدایت، نور اور نصیحت ====
 
« وَ آتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَمُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ.» <ref>مائده: 46؛ آل‌عمران: 3 ـ 4</ref>
 
مفسرین کے مطابق «ہدایت» سے مراد ایسی تعلیمات ہیں جن میں خدا کی توحید، اس کو بیوی، اولاد، شریک اور ہمسر سے پاک قرار دینا،<ref>محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّد عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 9 / محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.</ref> معاد سے متعلق معارف،<ref>محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref> [[انبیاء|انبیا]] کی تصدیق و تنزیہ، [[بعثت]] [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بشارت،<ref> محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref> اور الٰہی احکام و ان کے دلائل شامل ہیں۔<ref>محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 314.</ref>
 
اسی طرح «نور» کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ انجیل میں شرعی احکام کی وضاحت،<ref>محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref> دلائل، مثالیں، فضائل اور حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اقدار بیان کی گئی ہیں<ref>محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.</ref> اور یہ جہالت اور نادانی کی تاریکیوں کو دور کرتی ہے۔<ref>محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358.</ref>
 
جبکہ «موعظہ» سے مراد گناہوں سے بچنے کے احکام، عبادات کی تاکید اور بلیغ نصیحتیں ہیں۔<ref>فضل‌بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 311 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref>
 
==== رسولِ اکرم صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت کی بشارت ====
 
بنابر نصِ صریح بعضی آیات [[قرآن]] اور بعض دیگر کے ظاہر کے مطابق، [[بعثت]] [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی خبر، نیز ان کا نام اور اوصاف، اللہ کی طرف سے نازل شدہ [[تورات]] اور انجیل میں مذکور تھے۔ یہ موضوع [[قرآن]] میں بیان ہونے والی [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل کی تعلیمات میں خاص نمایاں حیثیت رکھتا ہے: 
«الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبًا عِندَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ....» 
<ref>اعراف: 157</ref> 
 
آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ تینوں اوصاف یعنی «رسول»، «نبی» اور «اُمّی» (یعنی نہ پڑھا لکھا ہونا اور نہ لکھنا جاننا) سب کے سب [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کے بارے میں [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں مذکور تھے۔ 
<ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 6، ج 9، ص 112 ـ 113 / اسماعیل بن کثیر دمشقی، سابق، ج 2، ص 262؛ ج 3، ص 427 / سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 8، ص 280.</ref> 
 
اگر آیت کا مقصد یہی بیان نہ ہوتا تو تینوں اوصاف کا ایک ساتھ ذکر کرنا — جو صرف اسی آیت میں آیا ہے — خصوصاً تیسرے وصف کو ذکر کرنا کوئی واضح نکتہ نہ رکھتا۔ 
<ref>سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 8، ص 280.</ref> 
 
ایک دوسری آیت میں [[حضرت عیسی|حضرت عیسیٰ]] علیہ‌السّلام کی زبان سے اس رسول کے نام کی صراحت کی گئی ہے جو ان کے بعد آئے گا، یعنی [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله: 
«وَ إِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَدُ....» 
(صف: 6)
 
یہ آیت اگرچہ [[حضرت عیسی|حضرت مسیح]] علیہ‌السّلام کی زبان سے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت اور نام «احمد» کی بشارت کو بیان کرتی ہے اور صراحتاً یہ نہیں کہتی کہ یہ انجیل میں درج تھا، 
<ref>همان، ج 19، ص 253.</ref> 
لیکن چونکہ وہ اس سلسلے میں وحی الٰہی اور انجیل کی تعلیمات کے علاوہ کچھ نہیں کہتے تھے، اس لیے یہ بشارت انجیل ہی سے ماخوذ ہو سکتی ہے۔
 
اس آیت نے بعض مفسرین <ref>محمد بن حسن طوسی، سابق، ج 4، ص 559 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 4، ص 749 / محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 29، ص 313 ـ 314.</ref> 
اور 107 مسلمان محققین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ وہ موجودہ اناجیل میں «احمد» کے نام کی تلاش کریں۔ اس سلسلے میں ان کی توجہ یونانی لفظ «فارقلیط» (Paraclete) یا «بارکلیت» کی طرف گئی۔ یہ لفظ یونانی ہے اور اس کے معنی «تسلی دینے والا» اور «دل جوئی کرنے والا» کے ہیں، جبکہ [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیان]] اس کا مصداق «روح‌القدس» کو قرار دیتے ہیں۔
 
لیکن مذکورہ مفسّران اور محققین کا خیال ہے کہ اصل میں یہ لفظ ایک خاص نام تھا اور «پریکلیتوس» کی صورت میں استعمال ہوتا تھا، جس کا معنی «احمد» یا «بہت زیادہ قابلِ ستائش» تھا، اور بعد میں اس میں تبدیلی کر دی گئی۔
 
اس کے مقابلے میں بعض [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیت]] کے محققین اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ یہ آیت انجیل میں «احمد» کے نام کے ذکر پر دلالت کرتی ہے۔ ان کے نزدیک «فارقلیط» پر اس کی تطبیق کی کوششیں غیر ضروری اور ناکام ہیں۔ وہ بعض قابلِ دفاع دلائل کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لفظ [[اسلام]] سے کئی صدیوں پہلے بھی اسی شکل میں «تسلی دینے والے» کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور اس کا مصداق بھی «روح‌القدس» سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک عہد جدید کے بعض دوسرے مقامات میں انجیل کی بشارت عمومی اوصاف کی صورت میں — نہ کہ کسی خاص نام کے ساتھ — [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ 
<ref>عبدالرحیم سلیمانی، «قرآن کریم و بشارت‌های پیامبران»، فصلنامه هفت آسمان، ش 16 زمستان 1381، ص 51 ـ 61.</ref>
 
[[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت، نام اور اوصاف کے بارے میں جو بیانات موجود تھے، وہ اس قدر واضح اور دقیق تھے کہ یہود و نصاریٰ — یا کم از کم ان کے علماء — کے لیے آپ کی شناخت اور آپ کی دعوت و رسالت کی حقانیت میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی؛ 
<ref>سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 7، ص 41.</ref> 
لیکن ان میں سے ایک گروہ مختلف محرکات کی بنا پر ان حقائق کو چھپاتا تھا: 
«الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ.» 
<ref>بقره: 146</ref>
 
اس آیت اور اسی طرح کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیانات زمانۂ نزول میں موجود [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں بھی موجود تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہود و نصاریٰ اسی بنیاد پر — بطور بہترین دلیل — شدت کے ساتھ [[قرآن]]، [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله اور آپ کی دعوت کی تکذیب کرتے۔ 
<ref>محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 17، ص 94 / سید ابوالقاسم خوئی، البیان، چاپ هشتم، انوارالهدی، 1401، ص 122 / سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 19، ص 253.</ref>
 
حالانکہ ان میں سے بعض افراد — خصوصاً یہود و نصاریٰ کے چند علماء — انہی بشارتوں اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی سابقہ شناخت کی بنا پر آپ پر ایمان لے آئے: 
«الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ یُؤْمِنُونَ وَ إِذَا یُتْلَی عَلَیْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا کُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِینَ.» 
<ref>قصص: 52 ـ 53</ref>
 
[[حضرت عیسی|حضرت عیسیٰ]] علیہ‌السّلام کے بعد آنے والے «فارقلیط» کی بشارت — جو انجیل یوحنا میں ان کی زبان سے نقل ہوئی ہے — بھی اسی قبیل سے ہے۔ 
<ref>یوحنا، 14:15 ـ 17 و 25 ـ 26؛ 15:26 ـ 27؛ 16: 5 ـ 15.</ref>
 
یہ بشارت متعدد شیعہ<ref>فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 4، ص 749 / محمدتقی مصباح، سابق، ج 1، ص 188ـ189 / محمد صادقی، سابق، ج 26ـ27، ص 306.</ref> 
اور سنّی مفسرین <ref>محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 29، ص 313 / محمد رشید رضا، سابق، ج 9، ص 291 / سید محمود آلوسی، سابق، مج 15، ج 28، ص 128.</ref> 
کی توجہ اور استدلال کا مرکز رہی ہے۔
 
البتہ چونکہ عہد جدید کی بہت سی روایات تاریخی اعتبار سے صحیح نہیں سمجھی جاتیں، اس لیے جو کچھ [[قرآن]] نے اس بارے میں بیان کیا ہے وہ مکمل طور پر اس میں موجود نہیں۔ جو کچھ ملتا ہے وہ بعض عمومی عبارات ہیں جنہیں [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله پر منطبق کیا جا سکتا ہے، جبکہ [[قرآن]] کی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں اس رسول کی آمد کی خبر واضح اور صریح انداز میں دی گئی تھی۔ 
<ref>محمدتقی مصباح، سابق، ص 188.</ref>
 
سورۂ فتح کی آیت 29 میں بھی [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله اور ان کے سچے پیروکاروں کی بعض صفات کے [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں مذکور ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کے مطابق ان کتابوں میں آیا ہے کہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله اور ان کے پیروکار دشمنوں کے مقابلے میں سخت اور آپس میں انتہائی مہربان ہیں۔ مزید یہ کہ انہیں ایک ایسی کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے جو بتدریج بڑھتی، مضبوط ہوتی اور کاشتکاروں کو حیران کر دیتی ہے؛ یعنی مسلمان ابتدا میں کم تعداد میں تھے، مگر وقت کے ساتھ ان کی تعداد اور قوت اس قدر بڑھ گئی کہ کافران کے لیے باعثِ غیظ اور خوف بن گئی۔ 
<ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 / محمد بن احمد قرطبی، سابق، ج 16، ص 292.</ref>
 
«مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِیمَاهُمْ فِی وُجُوهِهِم مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْإِنجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِهِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ....»<ref>فتح: 29</ref>
 
یہ بات مفسرین کے درمیان محل اختلاف ہے کہ مذکورہ تمام اوصاف دونوں کتابوں میں آئے ہیں یا ان میں سے کچھ [[توریت(تورات)|تورات]] اور کچھ انجیل میں مذکور ہیں۔
 
کچھ  شیعہ مفسّرین<ref>محمد بن حسن طوسی، سابق، ج 9، ص 337 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 9، ص 192.</ref> 
اور سنّی <ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 ـ 146 / اسماعیل بن کثیر دمشقی، سابق، ج 4، ص 219 / ابوجعفر نحاس، سابق، ج 6، ص 515.</ref> 
نے ابتدائی مفسرین جیسے قتادہ، ضحاک اور ابن جبیر کی پیروی کرتے ہوئے کہا ہے کہ «ذلک» سے پہلے والے اوصاف [[توریت(تورات)|تورات]] میں اور کھیتی کی مثال انجیل میں بیان ہوئی ہے۔ 
<ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 / عبدالرزاق صنعانی، تفسیر صنعانی، بہ کوشش محمود محمد عبده، بیروت، دارالکتب العلمیه، 1419، ج 3، ص 228 / جمال‌الدین جوزی، زاد المسیر فی علم التفسیر، چہارم، بیروت، المکتب الاسلامی، 1407، ج 7، ص 449.</ref>
 
طبری اس موقف کے ثبوت میں کہتے ہیں کہ اگر «کَزَرع» پہلے اوصاف پر عطف ہوتا اور [[توریت(تورات)|تورات]] سے بھی متعلق ہوتا تو اسے حرفِ عطف «واو» کے ساتھ آنا چاہیے تھا۔ 
<ref>محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 146.</ref>
 
اس کے برعکس شوکانی «کَزَرع» کو جملۂ مستأنفہ قرار دیتے ہوئے — مجاہد کی پیروی میں — یہ کہتے ہیں کہ آیت کے آغاز سے آخر تک بیان کردہ تمام صفات [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل دونوں میں مذکور ہیں۔ 
<ref>محمد بن علی شوکانی، فتح القدیر، بیروت، دارالمعرفه، ج 5، ص 56.</ref>
 
ابوسلیمان دمشقی کے مطابق بھی کھیتی کی یہ تشبیہ [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل دونوں میں آئی ہے۔ 
<ref>جمال‌الدین جوزی، سابق، ج 7، ص 448 / ج 3، ص 503.</ref>
 
==== جہاد ====
ایک اور تعلیم جس کے بارے میں [[قرآن]] بیان کرتا ہے کہ اس کا ذکر [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل میں بھی موجود ہے، وہ اللہ کی راہ میں جنگ و جہاد اور اس راہ میں جان و مال قربان کرنے والے مؤمنین کے لیے یقینی جنت کی بشارت ہے:
 
«إِنَّ اللّهَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ....»
<ref>توبہ: 111</ref>
 
اس آیت کے نزول کو «بیعتِ عقبہ» کے اصحاب کے بارے میں قرار دیا گیا ہے
<ref>جمال‌الدین جوزی، سابق، ج 7، ص 448 / ج 3، ص 503.</ref>
اور مفسّران کے نزدیک یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حکمِ جہاد تمام آسمانی ادیان میں موجود رہا ہے۔ 
<ref>محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 16، ص 201 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 5، ص 113 ـ 114 / سعید بن هبه‌الله راوندی، فقه القرآن، بہ کوشش سید احمد حسینی، چاپ دوم، قم، کتابخانه آیه‌الله مرعشی نجفی، 1405، ج 1، ص 349.</ref>
 
مذکورہ تعلیمات کے علاوہ، وہ ہدایات بھی جو [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت مسیح]] علیہ‌السّلام نے اپنے پیروکاروں کو [[قرآن]] میں دی ہیں، ممکن ہے کہ اسی انجیل کی تعلیمات کا حصہ ہوں جو ان پر نازل ہوئی تھی؛ مثلاً [[تقویٰ]] کی تلقین، توحید کی دعوت، ان کی پیروی کا حکم، [[توریت(تورات)|تورات]] کی تصدیق اور شرک کی نفی۔ 
<ref>آل عمران: 50 ـ 51؛ مائدہ: 72؛ توبہ: 31</ref>


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
سطر 141: سطر 349:


[[زمرہ:کتب]]
[[زمرہ:کتب]]
[[زمرہ:آسمانی کتب]]
[[زمرہ:آسمانی کتابیں]]
[[زمرہ:مسیحیت]]
 
[[fa:انجیل]]

حالیہ نسخہ بمطابق 01:04، 29 اپريل 2026ء

اِنجیل، (یونانی لفظ εὐαγγέλιον – اِئوانگِلیون / euangelion کا عربی شدہ روپ، بمعنی خوش خبری یا مژدہ) مسیحی مذہب کی مقدس کتاب ہے۔ عہدِ جدید کی پہلی چار کتابیں، جو بالترتیب مَتّی، مَرقُس، لوقا اور یوحنا کی طرف منسوب ہیں، انجیل کہلاتی ہیں۔ مسیحیوں کے نزدیک انجیل کوئی ایسی آسمانی کتاب نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام پر نازل ہوئی ہو، بلکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ عیسیٰ خود مجسم وحی اور خدا کا عین پیغام تھے۔

قرآنِ کریم اور اسلامی احادیث میں، انجیل اس کتاب کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ‌السلام) پر وحی کے ذریعے نازل فرمائی۔ لیکن ادیان کی تاریخ سے متعلق کتابوں میں، اور خصوصاً مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق، وہ کتابیں جو مسیحیت کے ابتدائی صدیوں میں حضرت مسیح کے اقوال اور اعمال کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی گئیں، انجیل کہلاتی ہیں۔

انجیلوں کے مصنفین نے حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی کے حالات و واقعات لکھتے وقت ان بیانات اور روایات سے استفادہ کیا جو ان کے شاگردوں اور عینی شاہدین کے ذریعے ان تک پہنچے تھے۔

کتابِ آسمانی

اسلام کے نقطۂ نظر کے مطابق انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام پر نازل فرمائی تاکہ وہ اسے لوگوں تک پہنچائیں۔ یہ کتاب ہدایت، نصیحت اور احکامِ الٰہی پر مشتمل تھی۔ لیکن مسیحی اس تصور کو سرے سے قبول نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ نے کوئی کتاب لائی تھی۔ اس معنی میں وحی لانا، جس طرح حضرت موسیٰ نے تورات اور حضرت محمد ﷺ نے قرآن پہنچایا، مسیحی الہیات میں کوئی جایگاہ نہیں رکھتا۔ اناجیلِ اربعہ حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے شاگردوں نے لکھے، اور مختلف انجیلوں میں سے انہی کو منتخب اور رائج کیا گیا۔

مسیحیوں کے نزدیک انجیل کی حقیقت یہ ہے کہ وہ نجات کی بشارت ہے جو خدا کے عیسیٰ میں مجسّم ہونے، صلیب اور وفات کے بعد ان کے زندہ ہونے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان انجیل کے تصور میں دو بالکل مختلف قراءتیں موجود ہیں۔

جدید انگریزی میں لفظ Gospel کا استعمال انجیل کے معنی میں ہوتا ہے،[1] جس کی اصل قدیم انگلوسیکسن زبان کا لفظ God‑Spell ہے۔[2] یہ لفظ دو اجزاء God اور Spell پر مشتمل ہے، اور مجموعی طور پر اس کے معنی کلامِ الٰہی،[3] یا خداوند کا املا[4] یا خوش خبری [5] کے ہیں۔

یہ لفظ یونانی Evangelion (اوانگلیون) کا ترجمہ ہے جو لاطینی میں Evangelium (اوانجِلیوم)بنا۔ یہ لفظ فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور دیگر نئی یورپی زبانوں میں بھی داخل ہوا۔ [6]

چونکہ ابتدائی مسیحی متون یونانی زبان میں لکھے گئے تھے، لہٰذا ’’انجیل‘‘ کا ماخذ بھی بالآخر اسی یونانی لفظ اوانگلیون کی طرف جاتا ہے؛ البتہ یہ لفظ عربی میں کس راستے سے داخل ہوا — مستقیم یا بالواسطہ — اس میں اختلاف ہے۔

نولدکے (Nöldeke) اس بات پر دلیل قائم کرتا ہے کہ یہ لفظ حبشی زبان کے لہجے Wangel کے ذریعے عربی میں آیا۔[7]

کچھ محققین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ لفظ براہِ راست یونانی سے یا سریانی، عبری یا سبائی زبانوں کے ذریعے عربی میں پہنچا۔[8]

بعض مسلمان مفسّرین نے، اسے عربی ثابت کرنے کے لیے، اسے وزنِ افعیل پر ایک عربی لفظ قرار دیتے ہوئے ن ج ل سے مشتق بتایا ہے، اور اس کے لیے مختلف معانی بھی بیان کیے ہیں:[9] لیکن عربی لغت نگاروں نے اس رائے کو قبول نہیں کیا۔ [10]

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ لفظ دخیل ہے، اور اس کا اصل عبری، یونانی یا سریانی ہے۔ [11]

زیادہ تر مسلم مفسّرین بھی انجیل کو غیر عربی (دخیل) لفظ مانتے ہیں،[12] اور زمخشری و بیضاوی جیسے علماء اس لفظ کو عربی قرار دینے کی کوشش کو درست نہیں سمجھتے۔[13]

مسیحی دینی ادب میں ’’انجیل‘‘

مسیحیوں کا تصورِ انجیل، اسلامی تصور سے یکسر مختلف ہے۔ انجیل بطور وحیِ مکتوب جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام پر نازل ہوئی ہو، بالکل اسی طرح جیسے تورات یا قرآن، مسیحی الہیات میں کوئی مقام نہیں رکھتی۔

مسیحی یہ مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ خود ’’تجسّمِ وحی‘‘ تھے—یعنی وہ خدا کا مجسّم کلام تھے، نہ کہ وحی کے حامل۔ اس لیے وہ یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ حضرت عیسیٰ نے کوئی کتاب لکھی یا اپنے شاگردوں کو املا کروائی۔ [14]

ان کے نزدیک ’’انجیل‘‘ سے مراد وہ بشارت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام اور ان کی نجات دہندہ حیثیت کے بارے میں ہے۔ [15] یہ مفہوم سب سے زیادہ پولس کے خطوط میں نظر آتا ہے۔ [16]

بعض مسیحی علماء ’’انجیل‘‘ کے مفہوم میں فداء (Atonement) کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں:[17] یعنی مسیح علیہ‌السّلام نے اپنی مصیبت، موت اور قیامت کے ذریعے انسان کے گناہوں کا کفّارہ ادا کیا۔

موجودہ ’’چار اناجیل‘‘ دراصل عہد جدید کی پہلی چار کتابیں ہیں، اور یہ نام دوسری صدی کے آخر میں ان تحریروں پر رکھا گیا جن میں حضرت عیسیٰ کی زندگی، معجزات، تعلیمات، اقوال اور صعود کا بیان ہے۔[18] کیونکہ یہ تحریریں ’’انسان کے لیے سب سے بہتر بشارت‘‘ رکھتی ہیں۔ [19]

ان چار کتابوں کو ’’انجیل‘‘ کہلانے کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی زندگی اور تعلیمات کو سب سے زیادہ تفصیل سے بیان کیا۔ تاہم عہد جدید کے دیگر حصے بھی ایسے ہیں جو حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل ہیں اور انہیں بھی کبھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ پولس اپنے خطوط کو کئی بار ’’انجیل‘‘ کہتا ہے، اور بعض اوقات پورے عہد جدید کو بھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔[20]

قابلِ توجہ یہ ہے کہ خود اناجیل اور دیگر کتابوں میں لفظ ’’انجیل‘‘ (مفرد صیغہ) استعمال ہوا ہے، اور اس سے مراد چار موجودہ اناجیل نہیں ہوتیں۔ [21] قدیم کلیسا بھی انجیل کی وحدت کا قائل تھا۔ [22]

مسیحی اناجیل کے مصنفین اور عہد جدید کے دیگر لکھاریوں کو نبی نہیں مانتے، لیکن یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ متون الہام اور خدائی رہنمائی سے لکھے ہیں۔ [23] وہ خود بھی اس بات کا ذکر کرتے ہیں۔ [24]

لیکن یہ کہ آخر بے شمار اناجیل، خطوط، مکاشفات اور دیگر تحریروں میں سے صرف ۲۷ کتابیں ہی ’’وحی الٰہی‘‘ کی حامل کیوں مان لی گئیں—اس کی کوئی مدلّل اور واضح وجہ مسیحی الہیات میں موجود نہیں۔ بعض نے اسے ’’روح القدس کی رہنمائی‘‘ قرار دیا ہے۔ [25]

مسیحی جو لوگ قرآن کے عیسٰی اور انجیل کے تصور سے واقف ہیں، انجیل کو ’’آسمانی کتاب‘‘ کہنا قبول نہیں کرتے۔ قرآن میں لفظ ’’انجیل‘‘ کا جمع (اناجیل) نہ آنا بھی وہ ایک اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ قرآن کی بعض روایات — جیسے تازہ کھجور کا معجزہ، [26] گہوارے میں گفتگو، [27] گلین پرندوں کا جاندار بن جانا، [28] کو ’’غیر رسمی یا غیر معتبر اناجیل‘‘ سے لیا ہوا سمجھتے ہیں۔ [29]

لیکن یہ اعتراض اس حقیقت کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے کہ قرآن وحیِ الٰہی ہے، جب کہ اناجیل بشری تحریریں ہیں جن کی متعدد نسخے اور تاریخی اختلافات موجود ہیں۔

انجیل کی تاریخ

مسیحیت کی تاریخ کے ابتدائی دو تین عشروں اور اس بات کے بارے میں کہ اس زمانے میں ’’انجیل‘‘ نامی کوئی کتاب موجود تھی اور وہ حضرت مسیح علیہ‌السلام سے منسوب تھی، مسیحی اور اسلامی متون سے ہٹ کر مستقل تاریخی منابع میں خاصی ابہام کی کیفیت پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض محققین نے خود حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے وجود کے بارے میں بھی تردید ظاہر کی ہے۔[30]

تاہم تاریخی روایات کی کمی اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ انجیل تاریخی طور پر موجود ہی نہ تھی۔ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے ظہور اور ان پر نازل ہونے والی وحی سے متعلق بعض تفصیلات کسی نامعلوم وجہ سے تاریخ میں درج نہ ہو سکیں یا بعد میں ضائع ہو گئی ہوں۔ البتہ اناجیلِ اربعہ میں بعض مقامات پر خود حضرت مسیح علیہ‌السلام کی انجیل کا ذکر بھی ملتا ہے۔[31]

عیسوی تاریخ کے ابتدائی تیس سے چالیس برسوں تک مسیحیت کی تعلیمات زیادہ تر زبانی طور پر اور کبھی خطوط کے ذریعے پھیلائی جاتی تھیں۔ حواری اپنے وعظ و نصیحت میں حضرت مسیح علیہ‌السلام کی تعلیمات بیان کرتے اور آپ کی زندگی کے واقعات کے ذریعے انہیں واضح کرتے تھے۔ لیکن رسائل اور زبانی روایات کی محدودیت نے بالآخر انجیلوں کی تحریر کا راستہ ہموار کیا۔[32]

اسی بنا پر عہد جدید کی تصنیف اور اس مجموعے کی تشکیل، جسے آج ’’مسیحیوں کی مقدس کتاب‘‘ کہا جاتا ہے، عموماً پہلی صدی عیسوی کے ابتدائی نصف کے بعد، یعنی حضرت مسیح علیہ‌السلام کے عروج (صعود) کے تقریباً بیس سے تیس سال بعد شروع ہوئی۔[33]

یہ تحریریں حضرت مسیح کے رسولوں اور ان کے شاگردوں کے ذریعے مرتب ہوئیں اور انہیں چار بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا: ’’رسولوں کے خطوط‘‘، ’’اعمالِ رسولان‘‘، ’’اناجیلِ اربعہ‘‘ اور ’’مکاشفات‘‘۔

رسولوں کے خطوط دراصل ان تعلیمات اور ہدایات پر مشتمل ہیں جو پولس، یوحنا، یعقوب، برنابا، یہودا اور پطرس جیسے رسولوں نے مختلف افراد، جماعتوں اور علاقوں کو حضرت مسیح علیہ‌السلام کا پیغام پہنچانے کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے بعض خطوط عہد جدید کے مجموعے میں شامل کیے گئے جبکہ بعض کو ابتدائی صدیوں میں کلیسا نے مسترد کر دیا۔ عہد جدید کے تمام حصوں میں سب سے قدیم تحریریں پولس کے خطوط سمجھی جاتی ہیں۔[34]

’’اعمالِ رسولان‘‘ دراصل حواریوں اور رسولوں کی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ہے جسے لوقا جیسے افراد نے قلم بند کیا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ‌السلام کی زندگی، معجزات، تعلیمات، سیرت اور اقوال کے بارے میں جو تحریریں لکھی گئیں، وہ بھی عہد جدید کا اہم حصہ بن گئیں۔ یہ تحریریں یا تو مصنفین کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھیں یا انہوں نے عینی شاہدین سے سن کر انہیں قلم بند کیا تھا۔ ان تحریروں کو پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز تک ’’رسولوں کی یادداشتیں‘‘ کہا جاتا تھا، لیکن دوسری صدی کے اواخر میں انہیں ’’اناجیل‘‘ کا نام دیا گیا۔[35]

مسیحی محققین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی تقریباً پچاس انجیلیں موجود تھیں، تاہم ان میں سے تقریباً بیس کے بارے میں ہی کچھ معلومات دستیاب ہیں۔ ان میں انجیل عبرانیان، انجیل پطرس، انجیل مصریان، انجیل فیلیپ، انجیل توما، انجیل یعقوب، انجیل نیکوداموس، انجیل بارہ حواری، انجیل یہودا اور انجیل مرقیون قابلِ ذکر ہیں۔[36]

اس کے علاوہ بعض دیگر اناجیل بھی موجود تھیں، جیسے ’’عربی انجیلِ طفولیت‘‘ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے بچپن کے معجزات کا بیان ہے۔[37]

دوسری صدی عیسوی کے آخر میں کلیسا کے رہنماؤں نے اس وسیع اور متنوع ذخیرۂ تحریرات میں سے بعض کو کلیسائی تعلیمات کے مطابق قرار دے کر ’’قانونی‘‘ اور معتبر کتابوں کے طور پر منتخب کیا اور انہیں ’’عہد قدیم‘‘ کے ساتھ ’’عہد جدید‘‘ کے نام سے مسیحیوں کی مقدس کتاب کا دوسرا حصہ بنا دیا۔[38]

سن 382ء میں اسقفوں کی ایک مجلس نے 27 کتابوں اور رسائل پر مشتمل ایک فہرست کو حتمی شکل دی، جس کی بعد میں کونسل آف ٹرینٹ (1545–1547ء) نے بھی توثیق کی۔[39]

عہد جدید کا آغاز چار اناجیل سے ہوتا ہے جو متی، مرقس، لوقا اور یوحنا سے منسوب ہیں۔ اس کے بعد ’’اعمال رسولان‘‘ کی کتاب آتی ہے، پھر پولس کے تیرہ یا چودہ خطوط، اس کے بعد یعقوب کا ایک خط، پطرس کے دو خطوط، یوحنا کے تین خطوط اور یہودا کا ایک خط شامل ہیں۔ اس مجموعے کا آخری حصہ ’’مکاشفۂ یوحنا‘‘ ہے۔

مضمون کے اعتبار سے عہد جدید کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: تاریخی، عقیدتی اور پیش گوئی پر مبنی حصہ۔

چار اناجیل اور ’’اعمال رسولان‘‘ عہد جدید کے تاریخی حصے کو تشکیل دیتے ہیں اور بنیادی طور پر حضرت مسیح علیہ‌السلام اور حواریوں کی زندگی اور سرگرمیوں کی تاریخ تقریباً 63ء تک بیان کرتے ہیں۔[40]

عہد جدید کا عقیدتی حصہ اس میں شامل 21 خطوط پر مشتمل ہے جن میں عیسائی عقائد کی وضاحت، ان کا دفاع اور دیگر نظریات کی تردید کی گئی ہے۔ پیش گوئی سے متعلق حصہ آخری زمانے کے واقعات اور حضرت مسیح علیہ‌السلام کی دوبارہ آمد سے متعلق ہے، جو ’’مکاشفۂ یوحنا‘‘ میں خواب اور الہامی مناظر کی صورت میں بیان ہوا ہے۔

عہد جدید کے مجموعے میں عقائد اور عملی تعلیمات کے لحاظ سے ایک طرح کی دوگانگی اور عدمِ ہم آہنگی بھی نظر آتی ہے۔ اس کا ایک حصہ عہد قدیم کا تسلسل معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح علیہ‌السلام کو انسان اور خدا کے رسول کے طور پر پیش کرتے ہوئے شریعتِ موسوی کی پابندی پر زور دیتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ ان کی الوہیت پر تاکید کرتا ہے اور شریعت موسوی کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتا۔ یہ اختلاف دراصل پطرس اور پولس کے درمیان موجود فکری اور عقیدتی کشمکش کی جھلک ہے۔[41]

وہ دیگر تحریریں جنہیں کلیسا نے قبول نہیں کیا ’’اپوکریفا‘‘ کہلاتی ہیں، یعنی مشتبہ یا غیر معتبر کتابیں۔ ان میں سے بہت سی تحریریں ضائع ہو چکی ہیں اور بعض اب بھی موجود ہیں۔[42]

انجیل برنابا، جو یوسف کے ساتھی برنابا سے منسوب ہے اور پولس و مرقس کا دوست بتایا جاتا ہے، اسی نوع کی ایک انجیل ہے۔ چوتھی صدی عیسوی کے بعد کلیسا نے اس کے مطالعے کو ممنوع قرار دے دیا۔ بعض محققین نے اسے اسلام اور مسیحیت کے درمیان گم شدہ رابطہ قرار دیا ہے۔

اگرچہ اس انجیل کی بعض تعلیمات اسلامی اور سرکاری مسیحی عقائد دونوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں، تاہم اس میں کئی بنیادی نکات ایسے ہیں جو قرآن کے ساتھ قابلِ ذکر موافقت رکھتے ہیں۔ مثلاً حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی صریح بشارت، حضرت مسیح علیہ‌السلام کی الوہیت اور ابنیت کی نفی، حضرت اسماعیل علیہ‌السلام کو ذبیح قرار دینا نہ کہ حضرت اسحاق علیہ‌السلام کو، اور حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے مصلوب نہ ہونے بلکہ یہودا اسخریوطی کے ان کی جگہ قتل کیے جانے کا بیان۔

چار اناجیل (اناجیلِ اربعہ)

عہد جدید کے معروف ترین حصّوں میں سب سے پہلے چار اناجیل کا تذکرہ آتا ہے۔ مسیحی الہیات میں اس بات پر ایمان رکھا جاتا ہے کہ انجیلیں اور عہد جدید کے دیگر اجزاء حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام پر ’’وحی‘‘ کی صورت میں نازل نہیں ہوئے، بلکہ یہ حضرت مسیحؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد عام انسانوں نے تحریر کیے۔[43]

اناجیل کے مصنفین کے نام پر انہیں انجیل متّی، انجیل مرقس، انجیل لوقا اور انجیل یوحنا کہا جاتا ہے۔ ان کے زمانۂ تالیف، مصنفین کی حقیقی شناخت اور ان کی سند کے تسلسل پر وسیع تحقیقی کام ہونے کے باوجود ان مسائل میں کوئی قطعی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ اگرچہ بہت سے سنجیدہ اعتراضات اور علمی چیلنج موجود ہیں، لیکن بعض قرائن اور شواہد کی بنا پر کچھ مضبوط احتمالات بھی پیش کیے گئے ہیں۔[44]

انجیلِ مرقس

روایات کے مطابق مرقس حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے صحابی نہیں تھے، بلکہ پطرس حواری کے دوست، ہم سفر اور شاگرد تھے۔ کبھی کبھی وہ پولس کے ساتھ بھی سفر کرتے تھے اور اپنی روایات پطرس سے حاصل کرتے تھے۔[45]

ان کی انجیل اناجیل میں سب سے مختصر سمجھی جاتی ہے، اسے رومی زبان میں لکھا ہوا قرار دیا گیا ہے،[46] اور اکثر محققین کے مطابق اس کی تصنیف 65 سے 70 عیسوی کے درمیان روم میں ہوئی۔[47]

انجیلِ متّی

یہ اناجیل میں سب سے مفصل ہے اور اسے متّی حواری سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جدید نقّادیوں سے پہلے اسے سب سے قدیم انجیل سمجھا جاتا تھا اور اس کی تصنیف 38 سے 60 عیسوی کے درمیان قرار دی جاتی تھی۔[48]

تاہم محققین نے اندرونی شواہد اور انجیل مرقس کے پورے مواد کے اس میں شامل ہونے کی بنا پر یہ رائے اختیار کی کہ اس کی تالیف بھی 65 سے 70 عیسوی کے درمیان اور مرقس کے بعد ہوئی۔[49]

اس کا اصل نسخہ عبرانی زبان میں تھا، لیکن اب موجود نہیں۔ بعد میں اسے یونانی سمیت دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔[50]

محققین نے اس کی نسبت متّی حواری کی طرف مشکوک قرار دی ہے،[51] اور یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اسے کوئی دوسرا شخص لکھنے والا تھا جس کا نام متّی جیسا تھا۔[52]

اکثر محققین اس کے لکھے جانے کی جگہ کو انطاکیہ قرار دیتے ہیں۔[53]

انجیلِ لوقا

لوقا حواری نہیں تھے، انہوں نے حضرت مسیح علیہ‌السّلام کو نہیں دیکھا، اور نصرانیت انہوں نے پولس سے سیکھی۔ انجیل لوقا کی زیادہ تر روایات مرقس اور متّی سے ماخوذ سمجھی جاتی ہیں۔[54]

یہ تینوں اناجیل (مرقس، متّی، لوقا) مشترکات کی وجہ سے ’’ہمنوا اناجیل‘‘ کہلاتی ہیں۔[55]

روایتی مسیحی نقطۂ نظر میں اسے لوقا (پولس کے ساتھی) کی تصنیف مانا جاتا ہے۔ اس کی تحریر کا زمانہ 70 سے 90 عیسوی کے درمیان، اور زیادہ امکان کے ساتھ 80 تا 85 عیسوی بتایا جاتا ہے۔[56]

اس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے بچپن سے متعلق بعض حکایات ایسی ہیں جو دیگر اناجیل میں موجود نہیں۔[57]

انجیلِ یوحنا

یہ چاروں میں سب سے آخری انجیل ہے۔[58] اس کی تاریخِ تالیف کے بارے میں اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ بعض نے اسے 65 عیسوی تک قدیم بتایا ہے، لیکن زیادہ مضبوط اور روایتی مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق اس کی تصنیف 90 سے 115 عیسوی کے درمیان ہوئی۔[59]

یوحنا کو حضرت مسیحؑ کا محبوب ترین شاگرد کہا جاتا ہے، لیکن اس انجیل کی نسبت ان کی طرف بھی قابلِ توجہ اختلافات موجود ہیں۔

انجیل یوحنا تینوں اناجیل سے بالکل مختلف ہے اور اس میں حضرت مسیحؑ کی زندگی کے بیانات کے ساتھ یونانی فلسفیانہ افکار بھی شامل نظر آتے ہیں۔[60]

جزیرۂ عرب میں انجیل

یہ کہا جاتا ہے کہ سن 400 عیسوی تک مشرق وسطی کے علاقوں، خاص طور پر شام میں رائج سرکاری انجیل ایک واحد انجیل تھی جو چاروں اناجیل کے ادغام سے تیار کی گئی تھی۔ [61]

اس انجیل کو دیاتسرون (Diatessaron) کہا جاتا تھا۔ اسی بنا پر یہ احتمال موجود ہے کہ قرآن کے نزول کے زمانے میں بھی یہ انجیل کم و بیش جزیرۂ عرب کے نصارا میں رائج رہی ہو۔ [62]

اس وقت اس انجیل کا اصل مکمل نسخہ جو زبانِ سُریانی میں تھا، موجود نہیں ہے اور صرف اس کے بعض حصّوں کے ترجمے مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں۔ [63]

ایک اور انجیل جو ممکن ہے اُس زمانے میں رائج رہی ہو، وہ بچپن کی انجیل ہے جو زبان عربی میں تھی (Arabic Infancy Gospel)۔ اس میں حضرت عیسی علیه‌السّلام کے بچپن کی کچھ روایات بیان کی گئی ہیں، جو اس موضوع میں قرآن کریم میں مذکور داستانوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔

انجیل قرآن میں

لفظ «انجیل» قرآن کی 6 سورہ کی 12 آیات میں کل 12 بار، اور ہمیشہ مفرد صورت میں، صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ [64]

اسی طرح متعدد مقامات پر «ما بَینَ یَدَیه» [65] اور «الَّذی بَینَ یَدَیه» [66] جیسے تعبیرات کے ذریعے، قرآن سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابوں میں سے ایک کے طور پر اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازاین، «الکِتاب» کے مرکبات جیسے «اَهل الکِتاب» [67] اور «الَّذینَ اُوتوا الکِتب» [68] میں، انجیل ان مصادیقِ قطعی میں سے ہے جن پر یہ عناوین اطلاق پاتے ہیں۔

قرآن مختلف مناسبتوں سے انجیل کا ذکر کرتا ہے: اس کے وحیانی ہونے کی تصریح، حضرت عیسی علیه‌السّلام پر آیات کے مجموعہ کی حیثیت سے نازل ہونا [69]، تورات کی حقانیت پر اس کی گواہی [70]، قرآن کا اس کی تصدیق کرنا [71]، اور محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت اور دعوتِ عام کی بشارت [72] نیز اس کی بعض تعلیمات کے تحریف، کتمان اور حذف ہونے کا بیان [73]۔

انجیل؛ حضرت مسیح علیه‌السّلام کی آسمانی کتاب

قرآن، حضرت عیسی علیه‌السّلام کی بعثت کو رسل کی سلسلہ وار آمد اور کتابوں کے نزول کی تداوم کے طور پر بیان کرتا ہے اور ان کی کتاب آسمانی کا نام صراحت کے ساتھ «انجیل» قرار دیتا ہے اور اس کے وحیانی ہونے پر زور دیتا ہے: [74]

«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ... ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ...» [75] و نیز: [76]

آیۂ 30 مریم میں «کتاب» کا لفظ بھی «انجیل» کی طرف اشارہ ہے: [77]

دوسری طرف، اگرچہ انجیلوں کی تعداد بہت زیادہ تھی — خصوصاً نزول کے زمانے میں موجود چار رسمی اناجیل — لیکن قرآن نے انجیل کے متعلق تمام آیات میں واحد صیغہ استعمال کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک حضرت مسیح علیه‌السّلام پر ایک ہی انجیل نازل ہوئی تھی۔

لہٰذا قرآن، اس انجیل کے وحیانی اور یکتائی ہونے کو بیان کرکے موجودہ اناجیل اور عهد جدید کی دیگر تحریروں کے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ عین وہ انجیل نہیں ہیں جو حضرت عیسی علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی،[78] بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کے کچھ اجزاء یا اس کی روایات کی صورتیں اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اور غالب احتمال کے مطابق وہ اصلی انجیل، بعض وجوہات کی بنا پر ضائع ہوگئی۔[79]

ان وجوہات میں نئے مسیحیان کے لیے انتہائی دشوار حالات، اور یہود اور رومی حکومتوں کی سختیوں اور تعاقب کا ماحول شامل ہے۔[80]

اسی طرح، قرآن کا انجیل کو تورات اور قرآن کے ساتھ ایک ‘‘کتاب’’ کے طور پر ذکر کرنا، اس کے آسمانی ہونے اور خارجی موجودیت کا ثبوت ہے: 8 مرتبہ تورات کے جوڑے کے طور پر [81] اور دو مرتبہ تورات و قرآن کے ساتھ اکٹھے: «نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ... وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ...» [82]

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ قرآن نے صرف ‘‘آیات’’ کے ایک وحی شدہ مجموعہ کو ‘‘انجیل’’ کے نام سے بیان کیا ہے، نہ کہ کسی کتابِ مکتوب کو۔ اور حضرت عیسی علیه‌السّلام کی حیات میں اس کی کتابت یا آپ کی املاء کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ لہٰذا ‘‘انجیل’’ کو — اسلامی اصطلاح میں — وہی آیاتِ نازل شدہ مانا جا سکتا ہے، جن میں سے کچھ کو اناجیلِ اربعہ نے (درست یا نادرست) طور پر نقل کیا ہے۔

تورات کی حقّانیت پر انجیل کی گواہی

قرآن کریم، حضرت عیسی علیه‌السّلام اور انجیل کو تورات کا تصدیق‌کننده قرار دیتا ہے:

«وَ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِعَیسَی‌بْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ....» [83]

«تصدیق» کا دو بار تکرار اور الگ الگ حضرت عیسی علیه‌السّلام اور ‘‘انجیل’’ کی طرف نسبت اس بات کی دلیل ہے کہ تورات کی حقّانیت اور الٰہی نزول کی گواہی، مسیح علیه‌السّلام کے اقوال سے بھی ثابت ہے، اور انجیل کی آیات سے بھی۔

مراد یقیناً وہ اصلی تورات ہے جو حضرت موسی علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی، نہ کہ وہ موجودہ تورات جس میں تحریفات شامل ہوچکی تھیں۔[84]

بعض مفسرین کے مطابق، انجیل نے تورات کے بیشتر احکام کی تائید اور تکمیل کی، اور صرف محدود احکام میں نسخ آیا ہے۔[85] اناجیلِ رسمی (مثلاً انجیل متّا) میں بھی یہی بات حضرت مسیح علیه‌السّلام کے اقوال میں موجود ہے۔[86]

بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض غذائیں، جو تورات میں بنی‌اسرائیل پر حرام کردی گئی تھیں، انجیل کے ذریعے حلال قرار پائیں: «وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَ الَّذِی حُرِّمَ عَلَیْکُمْ.» [87]

قرآن کی طرف سے انجیل کی تصدیق

خداوند نے متعدد آیات میں قرآن کریم کو سابقہ آسمانی کتابوں، خصوصاً تورات و انجیل، کا ‘‘مصدّق’’ قرار دیا ہے:

«وَ أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتَابِ وَ مُهَیْمِنا عَلَیْهِ...» [88]

مفسرین نے ‘‘تصدیق’’ کے معنی میں مختلف آراء پیش کی ہیں: اس سے مراد ان کتابوں کے الٰہی نزول کی تصدیق یا ان کی بعض تعلیمات کی تائید یا یہ کہ انہی کتابوں نے قرآن کی آمد کی پیشگوئی کی تھی [89]

دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ‘‘تصدیق’’ کے آیات دو گروہوں میں تقسیم ہوتی ہیں:

الف) «الَّذی بَینَ یَدَیه» والی آیات یہ آیات واضح طور پر قرآن کے ذریعے اصل نازل شدہ کتابوں کی تصدیق بیان کرتی ہیں، نہ کہ موجودہ محرف نسخوں کی۔ [90]

ب) «لِما مَعَکُم» والی آیات یہ آیات اہلِ کتاب کے پاس موجود تحریروں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، لیکن تمام مواد کی نہیں بلکہ صرف غیرمحرف حصوں کی تائید کرتی ہیں۔[91]

موجودہ اناجیل میں کئی ایسی عقائد اور نسبتیں موجود ہیں جو حضرت عیسی علیه‌السّلام اور توحید کے مخالف ہیں — مثلاً صلیب پر قتل، الوہیتِ عیسی، ‘‘پسر خدا’’ ہونا، «تثلیث» وغیرہ — اور قرآن ان سب کو باطل قرار دیتا ہے۔ [92]

اجمالی طور پر نزول کے زمانے کے اناجیل کی موجودگی کا مفہوم بعض دیگر آیات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سورۂ مائدہ کی آیت 66 قابلِ ذکر ہے جس میں اہلِ کتاب کو تورات اور انجیل کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ آسمان اور زمین کی برکتوں سے بہرہ مند ہونا ہوگا: «وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَ مِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم....»

مفسرین کے نزدیک تورات اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان دونوں کی تعلیمات پر ایمان اور عمل ہے، جو مبدأ اور معاد سے متعلق عقائد،[93] الٰہی احکام اور حدود[94] نیز محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی الله علیه و آله کی بشارت کے اعتراف پر مشتمل ہیں،[95] اور یہ سب کچھ کسی قسم کی تحریف یا کتمان کے بغیر ہونا چاہیے۔[96]

لہٰذا کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں موجود اناجیل میں الٰہی نازل شدہ انجیل کی کچھ تعلیمات ضرور موجود تھیں۔ بصورتِ دیگر، جب حقیقی انجیل ہی موجود نہ ہوتی تو اس کے قیام کی دعوت دینا عقلی طور پر درست نہ ہوتا۔ اسی طرح کی ضمنی اور اجمالی تائید سورۂ مائدہ کی آیت 68 سے بھی ملتی ہے: «قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِن رَّبِّکُمْ....»

اس آیہ کے شأن نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعض یہودیوں نے محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله سے پوچھا کہ کیا وہ تورات کی تصدیق کرتے ہیں؟ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا: ہم بھی تورات کو مانتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے۔ اس پر خدا نے اس آیت کے ذریعے اعلان کیا کہ تورات اور انجیل پر ایمان اور عمل کے بغیر ان کا دین و مذہب بے بنیاد اور بے وقعت ہے۔ اور ان دونوں پر حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله اور قرآن پر بھی ایمان لایا جائے۔

قرآن کریم ایک اور مقام پر انجیل کے پیروکاروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے: «وَلْیَحْکُمْ أَهْلُ الإِنجِیلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِیهِ....» [97]

یہ آیت بھی نزول کے زمانے کے اناجیل کی ضمنی اور اجمالی تائید کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

انجیل کی تعلیمات

قرآن کریم کبھی بعض عمومی اوصاف کے ذریعے اور کبھی بعض واضح احکام و تعلیمات کا ذکر کرکے انجیل کے مندرجات کی نسبتاً مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ ان میں سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

ہدایت، نور اور نصیحت

« وَ آتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَمُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ.» [98]

مفسرین کے مطابق «ہدایت» سے مراد ایسی تعلیمات ہیں جن میں خدا کی توحید، اس کو بیوی، اولاد، شریک اور ہمسر سے پاک قرار دینا،[99] معاد سے متعلق معارف،[100] انبیا کی تصدیق و تنزیہ، بعثت محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بشارت،[101] اور الٰہی احکام و ان کے دلائل شامل ہیں۔[102]

اسی طرح «نور» کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ انجیل میں شرعی احکام کی وضاحت،[103] دلائل، مثالیں، فضائل اور حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اقدار بیان کی گئی ہیں[104] اور یہ جہالت اور نادانی کی تاریکیوں کو دور کرتی ہے۔[105]

جبکہ «موعظہ» سے مراد گناہوں سے بچنے کے احکام، عبادات کی تاکید اور بلیغ نصیحتیں ہیں۔[106]

رسولِ اکرم صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت کی بشارت

بنابر نصِ صریح بعضی آیات قرآن اور بعض دیگر کے ظاہر کے مطابق، بعثت محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی خبر، نیز ان کا نام اور اوصاف، اللہ کی طرف سے نازل شدہ تورات اور انجیل میں مذکور تھے۔ یہ موضوع قرآن میں بیان ہونے والی تورات اور انجیل کی تعلیمات میں خاص نمایاں حیثیت رکھتا ہے: «الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبًا عِندَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ....» [107]

آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ تینوں اوصاف یعنی «رسول»، «نبی» اور «اُمّی» (یعنی نہ پڑھا لکھا ہونا اور نہ لکھنا جاننا) سب کے سب محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کے بارے میں تورات اور انجیل میں مذکور تھے۔ [108]

اگر آیت کا مقصد یہی بیان نہ ہوتا تو تینوں اوصاف کا ایک ساتھ ذکر کرنا — جو صرف اسی آیت میں آیا ہے — خصوصاً تیسرے وصف کو ذکر کرنا کوئی واضح نکتہ نہ رکھتا۔ [109]

ایک دوسری آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کی زبان سے اس رسول کے نام کی صراحت کی گئی ہے جو ان کے بعد آئے گا، یعنی محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله: «وَ إِذْ قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ... وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَدُ....» (صف: 6)

یہ آیت اگرچہ حضرت مسیح علیہ‌السّلام کی زبان سے محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت اور نام «احمد» کی بشارت کو بیان کرتی ہے اور صراحتاً یہ نہیں کہتی کہ یہ انجیل میں درج تھا، [110] لیکن چونکہ وہ اس سلسلے میں وحی الٰہی اور انجیل کی تعلیمات کے علاوہ کچھ نہیں کہتے تھے، اس لیے یہ بشارت انجیل ہی سے ماخوذ ہو سکتی ہے۔

اس آیت نے بعض مفسرین [111] اور 107 مسلمان محققین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ وہ موجودہ اناجیل میں «احمد» کے نام کی تلاش کریں۔ اس سلسلے میں ان کی توجہ یونانی لفظ «فارقلیط» (Paraclete) یا «بارکلیت» کی طرف گئی۔ یہ لفظ یونانی ہے اور اس کے معنی «تسلی دینے والا» اور «دل جوئی کرنے والا» کے ہیں، جبکہ مسیحیان اس کا مصداق «روح‌القدس» کو قرار دیتے ہیں۔

لیکن مذکورہ مفسّران اور محققین کا خیال ہے کہ اصل میں یہ لفظ ایک خاص نام تھا اور «پریکلیتوس» کی صورت میں استعمال ہوتا تھا، جس کا معنی «احمد» یا «بہت زیادہ قابلِ ستائش» تھا، اور بعد میں اس میں تبدیلی کر دی گئی۔

اس کے مقابلے میں بعض مسیحیت کے محققین اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ یہ آیت انجیل میں «احمد» کے نام کے ذکر پر دلالت کرتی ہے۔ ان کے نزدیک «فارقلیط» پر اس کی تطبیق کی کوششیں غیر ضروری اور ناکام ہیں۔ وہ بعض قابلِ دفاع دلائل کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لفظ اسلام سے کئی صدیوں پہلے بھی اسی شکل میں «تسلی دینے والے» کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور اس کا مصداق بھی «روح‌القدس» سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک عہد جدید کے بعض دوسرے مقامات میں انجیل کی بشارت عمومی اوصاف کی صورت میں — نہ کہ کسی خاص نام کے ساتھ — محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی آمد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ [112]

تورات اور انجیل میں محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت، نام اور اوصاف کے بارے میں جو بیانات موجود تھے، وہ اس قدر واضح اور دقیق تھے کہ یہود و نصاریٰ — یا کم از کم ان کے علماء — کے لیے آپ کی شناخت اور آپ کی دعوت و رسالت کی حقانیت میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی؛ [113] لیکن ان میں سے ایک گروہ مختلف محرکات کی بنا پر ان حقائق کو چھپاتا تھا: «الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ.» [114]

اس آیت اور اسی طرح کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیانات زمانۂ نزول میں موجود تورات اور انجیل میں بھی موجود تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہود و نصاریٰ اسی بنیاد پر — بطور بہترین دلیل — شدت کے ساتھ قرآن، محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله اور آپ کی دعوت کی تکذیب کرتے۔ [115]

حالانکہ ان میں سے بعض افراد — خصوصاً یہود و نصاریٰ کے چند علماء — انہی بشارتوں اور محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی سابقہ شناخت کی بنا پر آپ پر ایمان لے آئے: «الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ یُؤْمِنُونَ وَ إِذَا یُتْلَی عَلَیْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا کُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِینَ.» [116]

حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے بعد آنے والے «فارقلیط» کی بشارت — جو انجیل یوحنا میں ان کی زبان سے نقل ہوئی ہے — بھی اسی قبیل سے ہے۔ [117]

یہ بشارت متعدد شیعہ[118] اور سنّی مفسرین [119] کی توجہ اور استدلال کا مرکز رہی ہے۔

البتہ چونکہ عہد جدید کی بہت سی روایات تاریخی اعتبار سے صحیح نہیں سمجھی جاتیں، اس لیے جو کچھ قرآن نے اس بارے میں بیان کیا ہے وہ مکمل طور پر اس میں موجود نہیں۔ جو کچھ ملتا ہے وہ بعض عمومی عبارات ہیں جنہیں محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله پر منطبق کیا جا سکتا ہے، جبکہ قرآن کی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تورات اور انجیل میں اس رسول کی آمد کی خبر واضح اور صریح انداز میں دی گئی تھی۔ [120]

سورۂ فتح کی آیت 29 میں بھی محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله اور ان کے سچے پیروکاروں کی بعض صفات کے تورات اور انجیل میں مذکور ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کے مطابق ان کتابوں میں آیا ہے کہ محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله اور ان کے پیروکار دشمنوں کے مقابلے میں سخت اور آپس میں انتہائی مہربان ہیں۔ مزید یہ کہ انہیں ایک ایسی کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے جو بتدریج بڑھتی، مضبوط ہوتی اور کاشتکاروں کو حیران کر دیتی ہے؛ یعنی مسلمان ابتدا میں کم تعداد میں تھے، مگر وقت کے ساتھ ان کی تعداد اور قوت اس قدر بڑھ گئی کہ کافران کے لیے باعثِ غیظ اور خوف بن گئی۔ [121]

«مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِینَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِیمَاهُمْ فِی وُجُوهِهِم مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْإِنجِیلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِهِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیظَ بِهِمُ الْکُفَّارَ....»[122]

یہ بات مفسرین کے درمیان محل اختلاف ہے کہ مذکورہ تمام اوصاف دونوں کتابوں میں آئے ہیں یا ان میں سے کچھ تورات اور کچھ انجیل میں مذکور ہیں۔

کچھ شیعہ مفسّرین[123] اور سنّی [124] نے ابتدائی مفسرین جیسے قتادہ، ضحاک اور ابن جبیر کی پیروی کرتے ہوئے کہا ہے کہ «ذلک» سے پہلے والے اوصاف تورات میں اور کھیتی کی مثال انجیل میں بیان ہوئی ہے۔ [125]

طبری اس موقف کے ثبوت میں کہتے ہیں کہ اگر «کَزَرع» پہلے اوصاف پر عطف ہوتا اور تورات سے بھی متعلق ہوتا تو اسے حرفِ عطف «واو» کے ساتھ آنا چاہیے تھا۔ [126]

اس کے برعکس شوکانی «کَزَرع» کو جملۂ مستأنفہ قرار دیتے ہوئے — مجاہد کی پیروی میں — یہ کہتے ہیں کہ آیت کے آغاز سے آخر تک بیان کردہ تمام صفات تورات اور انجیل دونوں میں مذکور ہیں۔ [127]

ابوسلیمان دمشقی کے مطابق بھی کھیتی کی یہ تشبیہ تورات اور انجیل دونوں میں آئی ہے۔ [128]

جہاد

ایک اور تعلیم جس کے بارے میں قرآن بیان کرتا ہے کہ اس کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی موجود ہے، وہ اللہ کی راہ میں جنگ و جہاد اور اس راہ میں جان و مال قربان کرنے والے مؤمنین کے لیے یقینی جنت کی بشارت ہے:

«إِنَّ اللّهَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ....» [129]

اس آیت کے نزول کو «بیعتِ عقبہ» کے اصحاب کے بارے میں قرار دیا گیا ہے [130] اور مفسّران کے نزدیک یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حکمِ جہاد تمام آسمانی ادیان میں موجود رہا ہے۔ [131]

مذکورہ تعلیمات کے علاوہ، وہ ہدایات بھی جو حضرت مسیح علیہ‌السّلام نے اپنے پیروکاروں کو قرآن میں دی ہیں، ممکن ہے کہ اسی انجیل کی تعلیمات کا حصہ ہوں جو ان پر نازل ہوئی تھی؛ مثلاً تقویٰ کی تلقین، توحید کی دعوت، ان کی پیروی کا حکم، تورات کی تصدیق اور شرک کی نفی۔ [132]

حوالہ جات

  1. منیر بعلبکی، المورد قاموس انکلیزی ـ عربی، بیروت، دارالعلم للملایین، 1995، ص 395.
  2. Encyclopedia Of Religion and Ethics, James Hastings (ed), New York, Charles Scribners Sons, 13 Vols, Vol. 6, p. 333.
  3. Ibid, Vol. 6, p. 333.
  4. محمدرضا زیبائی‌نژاد، مسیحیت‌شناسی مقایسه‌ای، تهران، سروش، 1382، ص 139.
  5. The Catholic Encyclopedia, Charles G. Herrermann (ed), New York, The Encyclopedia Press, Inc, 1913, Vol. 6, p. 656.
  6. Ibid; Britannica, 2002, Deluxe Edition CD‑Rom, Vol. 5, p. 379.
  7. Encyclopedia Of Islam, prepared by a Number of Leading Orientalists, Leiden, 1986, Vol. 3, p. 1205.
  8. آرتور جعفری، واژه‌های دخیل در قرآن، ترجمۂ فریدون بدره‌ای، توس، 1372، ص 131 ـ 132.
  9. محمدبن حسن طوسی، التبیان … ج 3، ص 542 / فضل‌بن حسن طبرسی، مجمع‌البیان … ج 2، ص 6 / محمدبن احمد قرطبی، الجامع … ج 4، ص 6.
  10. سید محمدمرتضی حسینی زبیدی، تاج العروس … ج 8، ص 128 / ابن منظور، لسان العرب … ج 14، ص 58 / حسن مصطفوی، التحقیق … ج 12، ص 39، مادہ نجل.
  11. ابن اثیر، النهایه … ج 5، ص 23 / فخرالدین طریحی، مجمع البحرین … ج 4، ص 274 / ابن منظور، پیشین، ج 4، ص 58.
  12. محمدبن عمر فخر رازی، التفسیر الکبیر … ج 7، ص 171 / محمد رشید رضا، تفسیر المنار … ج 3، ص 158 / محمود آلوسی، روح المعانی … ج 3، ص 124.
  13. زمخشری، الکشاف … ج 1، ص 335 / بیضاوی، تفسیر بیضاوی … ج 1، ص 237 / قمی مشهدی، کنزالدقائق، ص 237.
  14. توماس میشل، کلام مسیحی … ص 49 ـ 50 / و. م. میلر، تاریخ کلیسا … ص 66.
  15. New Catholic Encyclopedia, 2nd ed., Vol. 6, p. 366.
  16. رومیان، 1:1، 9، 16.
  17. Encyclopedia Of Fundamentalism, Brenda E. Brasher (ed), 2002, p. 193.
  18. New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.
  19. مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ص 111.
  20. … ر. ک. انجیل عیسی مسیح ترجمه تفسیری عهد جدید … انجیل شریف …
  21. و. م. میلر، پیشین، ص 66.
  22. The New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.
  23. توماس میشل، پیشین، ص 50 ـ 51.
  24. ہمان، ص 43 و 50 / میلر، پیشین، ص 70.
  25. ویلیام گلبن … دوم تیموتاؤس، 3:16.
  26. مریم 24 ـ 26
  27. مریم 29 ـ 33
  28. آل عمران 49؛ مائدہ 110
  29. Encyclopedia of Islam, Vol. 3, pp. 1205–1206.
  30. ویل دورانت، تاریخ تمدّن، ترجمہ احمد آرام، ع. پاشایی و امیرحسین آریان‌پور، چ ششم، تهران، علمی و فرهنگی، 1378، ج 3، ص 651 / سید جلال‌الدین آشتیانی، تحقیقی در دین مسیح، تهران، نگارش، 1368، ص 170 ـ 174؛ Carl Lofmark, What is the Bible, 1990, P. 66.
  31. فاضل خان‌همدانی، پیشین / انجیل متی، 26:13 / انجیل مرقس، 14:9 ـ 10.
  32. و. م. میلر، پیشین، ص 66 ـ 69.
  33. عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، مسیحیت، قم، زلال کوثر، 1381، ص 67 / موریس بوکای، القرآن و التوراة والانجیل و العلم، ترجمه قسم الترجمه بالدار، القاهره، مکتبه مدبولی، 1996، ص 107.
  34. جوان، اُ. گریدی، مسیحیت و بدعت‌ها، ترجمه عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، قم، طه، 1377، ص 46 ـ 47 / توماس میشل، پیشین، ص 54.
  35. سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 41 ـ 42 / قس. موریس بوکای، پیشین، ص 77.
  36. The International Standard Bible Encyclopedia, Geoffrey W. Bromiley (ed), WM. B. Eerdmans Publishing Company, USA, 1988, Vol. 2, p. 529; Encyclopedia Of Fundamentalism, p. 193; New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.
  37. International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, p. 183.
  38. توماس میشل، پیشین، ص 42.
  39. Carl Lofmark, op.cit., p. 27; The International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, pp. 601‑606.
  40. The Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 656; The New International Dictionary of the Bible, p. 105.
  41. عبدالرحیم سلیمانی، «عهد جدید» تاریخ نگارش و نویسندگان، فصلنامه هفت آسمان، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان و مذاهب، ش 3 ـ 4 (1378)، ص 73، 74، 79 و 81.
  42. موریس بوکای، پیشین، ص 103 ـ 105 / محمدجواد شکور، خلاصه ادیان، چ دوم، تهران، شرق، 1362، ص 168.
  43. و. م. میلر، پیشین، ص 67 / توماس میشل، پیشین، ص 28 / محمّدعلی بروّ العاملی، الکتاب المقدّس فی المیزان، بیروت، الدارالاسلامیة، 1413، ص 238.
  44. ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 57 ـ 70 / موریس بوکای، پیشین، ص 99 ـ 101.
  45. مریل سی بن، معرفی عهد جدید، ترجمه طاطه‌وس میکائیلیان، تهران، حیات ابدی، 1362، ص 171 ـ 173؛ The Encyclopedia of Religion, V, P. 208.
  46. موریس بوکای، پیشین، ص 86 ـ 90.
  47. جماعة من اللاهوتیین، … ص 90 ـ 91 / القس فهیم عزیز، … ص 21 / موریس بوکای، … ص 88.
  48. القس فهیم عزیز، پیشین، ص 247؛ Cross, F.L. … P. 859.
  49. القس فهیم عزیز، پیشین، ص 221 / جماعه من اللاهوتیین، پیشین، ج 5، ص 91.
  50. مستر هاکس، پیشین، ص 782 / محمّدعلی بّرو العاملی، پیشین، ص 244 ـ 245 / The Oxford Dictionary … p.359.
  51. القس فهیم عزیز، پیشین، ص 242 ـ 247؛ The Encyclopedia of Religion, V. 9. P. 285.
  52. القس فهیم عزیز، پیشین، ص 245؛ Achtemeier … P. 613.
  53. مریل سی بن، پیشین، ص 159.
  54. ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / موریس بوکای، پیشین، ص 90 ـ 92.
  55. ویل دورانت… / مستر هاکس… / سلیمانی اردستانی…
  56. The Encyclopedia of Religion … p.51; Harper’s Bible Dictionary p.583.
  57. موریس بوکای، ص 92.
  58. Harper’s Bible Dictionary, P. 583.
  59. القس فهیم عزیز، … ص 560 ـ 561 / مریل سی بن … ص 209 / The new International Dictionary … P. 499, 534.
  60. ویل دورانت… / موریس بوکای…
  61. Britanica, V. 7, P. 69.
  62. Neal Robinson, Jesus in the Quran, The Historical Jesus, P. 8.
  63. New Catholic Encyclopedia, V. 4, P. 731.
  64. آل عمران: 3، 48، 65؛ مائده: 46، 47، 66، 68، 110؛ اعراف: 157؛ توبه: 111؛ فتح: 29؛ حدید: 27
  65. آل‌عمران: 3؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30
  66. انعام: 92؛ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ سبأ: 31
  67. آل عمران: 64 ـ 65؛ نساء: 171
  68. بقره: 146؛ نساء: 47، 13؛ مائده: 5
  69. آل عمران: 3؛ مائده: 46، 110؛ حدید: 27
  70. مائده: 46
  71. مائده: 48؛ یونس: 37
  72. اعراف: 157؛ فتح: 29
  73. مائده: 14 ـ 15
  74. محمّدبن جریر طبری... ج 6، ص 358 / ...
  75. حدید: 25 و 27
  76. مائده: 46، 110
  77. «قال انّی عبداللّه آتانی الکتاب...» مریم: 30
  78. ...
  79. ...
  80. ...
  81. ...
  82. آل عمران: 3 ـ 4؛ مائده: 46 ـ 48
  83. مائده: 46
  84. ...
  85. ...
  86. ...
  87. آل‌عمران: 50
  88. مائده: 48
  89. ...
  90. یونس: 37؛ یوسف: 111؛ بقره: 97؛ آل‌عمران: 3؛ مائده: 48...
  91. ...
  92. نساء: 157، 171؛ مائده: 17، 72 ـ 73، 116 ـ 117؛ توبه: 30
  93. سید محمّدحسین طباطبایی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.
  94. محمّدبن عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 46 / تفسیر بیضاوی، ج 1، ص 444 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.
  95. ابوجعفر نحّاس، معانی‌القرآن، به کوشش الصابونی، عربستان، جامعة امّ‌القری، 1409، ج 2، ص 337 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 46/ اسماعیل‌بن‌کثیردمشقی، پیشین، ج 1، ص 169.
  96. محمّدبن حسن طوسی، پیشین، ج 3، ص 585 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 341 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.
  97. مائده: 47
  98. مائده: 46؛ آل‌عمران: 3 ـ 4
  99. محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّد عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 9 / محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.
  100. محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
  101. محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
  102. محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 314.
  103. محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
  104. محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.
  105. محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358.
  106. فضل‌بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 311 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
  107. اعراف: 157
  108. محمد بن جریر طبری، سابق، مج 6، ج 9، ص 112 ـ 113 / اسماعیل بن کثیر دمشقی، سابق، ج 2، ص 262؛ ج 3، ص 427 / سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 8، ص 280.
  109. سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 8، ص 280.
  110. همان، ج 19، ص 253.
  111. محمد بن حسن طوسی، سابق، ج 4، ص 559 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 4، ص 749 / محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 29، ص 313 ـ 314.
  112. عبدالرحیم سلیمانی، «قرآن کریم و بشارت‌های پیامبران»، فصلنامه هفت آسمان، ش 16 زمستان 1381، ص 51 ـ 61.
  113. سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 7، ص 41.
  114. بقره: 146
  115. محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 17، ص 94 / سید ابوالقاسم خوئی، البیان، چاپ هشتم، انوارالهدی، 1401، ص 122 / سید محمد حسین طباطبائی، سابق، ج 19، ص 253.
  116. قصص: 52 ـ 53
  117. یوحنا، 14:15 ـ 17 و 25 ـ 26؛ 15:26 ـ 27؛ 16: 5 ـ 15.
  118. فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 4، ص 749 / محمدتقی مصباح، سابق، ج 1، ص 188ـ189 / محمد صادقی، سابق، ج 26ـ27، ص 306.
  119. محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 29، ص 313 / محمد رشید رضا، سابق، ج 9، ص 291 / سید محمود آلوسی، سابق، مج 15، ج 28، ص 128.
  120. محمدتقی مصباح، سابق، ص 188.
  121. محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 / محمد بن احمد قرطبی، سابق، ج 16، ص 292.
  122. فتح: 29
  123. محمد بن حسن طوسی، سابق، ج 9، ص 337 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 9، ص 192.
  124. محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 ـ 146 / اسماعیل بن کثیر دمشقی، سابق، ج 4، ص 219 / ابوجعفر نحاس، سابق، ج 6، ص 515.
  125. محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 145 / عبدالرزاق صنعانی، تفسیر صنعانی، بہ کوشش محمود محمد عبده، بیروت، دارالکتب العلمیه، 1419، ج 3، ص 228 / جمال‌الدین جوزی، زاد المسیر فی علم التفسیر، چہارم، بیروت، المکتب الاسلامی، 1407، ج 7، ص 449.
  126. محمد بن جریر طبری، سابق، مج 13، ج 25، ص 146.
  127. محمد بن علی شوکانی، فتح القدیر، بیروت، دارالمعرفه، ج 5، ص 56.
  128. جمال‌الدین جوزی، سابق، ج 7، ص 448 / ج 3، ص 503.
  129. توبہ: 111
  130. جمال‌الدین جوزی، سابق، ج 7، ص 448 / ج 3، ص 503.
  131. محمد بن عمر فخر رازی، سابق، ج 16، ص 201 / فضل بن حسن طبرسی، سابق، ج 5، ص 113 ـ 114 / سعید بن هبه‌الله راوندی، فقه القرآن، بہ کوشش سید احمد حسینی، چاپ دوم، قم، کتابخانه آیه‌الله مرعشی نجفی، 1405، ج 1، ص 349.
  132. آل عمران: 50 ـ 51؛ مائدہ: 72؛ توبہ: 31

Debug data: