مندرجات کا رخ کریں

"انجیل" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
اِنجیل (یونانی لفظ εὐαγγέλιον – اِئوانگِلیون / euangelion کا عربی شدہ روپ، بمعنی خوش خبری یا مژدہ) مسیحی مذہب کی مقدس کتاب ہے۔ عہدِ جدید کی پہلی چار کتابیں، جو بالترتیب مَتّی، مَرقُس، لوقا اور یوحنا کی طرف منسوب ہیں، انجیل کہلاتی ہیں۔ مسیحیوں کے نزدیک انجیل کوئی ایسی آسمانی کتاب نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام پر نازل ہوئی ہو، بلکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ عیسیٰ خود مجسم وحی اور خدا کا عین پیغام تھے۔
اِنجیل (یونانی لفظ εὐαγγέλιον – اِئوانگِلیون / euangelion کا عربی شدہ روپ، بمعنی خوش خبری یا مژدہ) [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحی مذہب]] کی مقدس کتاب ہے۔ عہدِ جدید کی پہلی چار کتابیں، جو بالترتیب مَتّی، مَرقُس، لوقا اور یوحنا کی طرف منسوب ہیں، انجیل کہلاتی ہیں۔ مسیحیوں کے نزدیک انجیل کوئی ایسی آسمانی کتاب نہیں جو [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام]] پر نازل ہوئی ہو، بلکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ عیسیٰ خود مجسم وحی اور خدا کا عین پیغام تھے۔


قرآنِ کریم اور اسلامی احادیث میں، انجیل اس کتاب کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ‌السلام) پر وحی کے ذریعے نازل فرمائی۔ لیکن ادیان کی تاریخ سے متعلق کتابوں میں، اور خصوصاً مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق، وہ کتابیں جو مسیحیت کے ابتدائی صدیوں میں حضرت مسیح کے اقوال اور اعمال کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی گئیں، انجیل کہلاتی ہیں۔
[[قرآن کریم|قرآنِ کریم]] اور اسلامی احادیث میں، انجیل اس کتاب کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ (علیہ‌السلام)]] پر وحی کے ذریعے نازل فرمائی۔ لیکن ادیان کی تاریخ سے متعلق کتابوں میں، اور خصوصاً مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق، وہ کتابیں جو مسیحیت کے ابتدائی صدیوں میں حضرت مسیح کے اقوال اور اعمال کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی گئیں، انجیل کہلاتی ہیں۔


انجیلوں کے مصنفین نے حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی کے حالات و واقعات لکھتے وقت ان بیانات اور روایات سے استفادہ کیا جو ان کے شاگردوں اور عینی شاہدین کے ذریعے ان تک پہنچے تھے۔
انجیلوں کے مصنفین نے [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ مسیح]] کی زندگی کے حالات و واقعات لکھتے وقت ان بیانات اور روایات سے استفادہ کیا جو ان کے شاگردوں اور عینی شاہدین کے ذریعے ان تک پہنچے تھے۔
 
در ادامه **پورے فارسی متن کا دقیق، مکمل، مسلسل اور باحوالہ اردو ترجمہ** پیش کیا جاتا ہے۔ 
تمام حوالہ جات کو اصل متن کی طرح **جوں کا توں** `<ref> ... </ref>` کی شکل میں برقرار رکھا گیا ہے۔


== کتابِ آسمانی ==
== کتابِ آسمانی ==
اسلام کے نقطۂ نظر کے مطابق انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام پر نازل فرمائی تاکہ وہ اسے لوگوں تک پہنچائیں۔ یہ کتاب ہدایت، نصیحت اور احکامِ الٰہی پر مشتمل تھی۔ لیکن مسیحی اس تصور کو سرے سے قبول نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ نے کوئی کتاب لائی تھی۔ اس معنی میں وحی لانا، جس طرح حضرت موسیٰ نے تورات اور حضرت محمد ﷺ نے قرآن پہنچایا، مسیحی الہیات میں کوئی جایگاہ نہیں رکھتا۔   
[[اسلام]] کے نقطۂ نظر کے مطابق انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] پر نازل فرمائی تاکہ وہ اسے لوگوں تک پہنچائیں۔ یہ کتاب ہدایت، نصیحت اور احکامِ الٰہی پر مشتمل تھی۔ لیکن مسیحی اس تصور کو سرے سے قبول نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ نے کوئی کتاب لائی تھی۔ اس معنی میں وحی لانا، جس طرح [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ]] نے [[توریت(تورات)|تورات]] اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد]] ﷺ نے [[قرآن]] پہنچایا، مسیحی الہیات میں کوئی جایگاہ نہیں رکھتا۔   
اناجیلِ اربعہ حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے شاگردوں نے لکھے، اور مختلف انجیلوں میں سے انہی کو منتخب اور رائج کیا گیا۔
اناجیلِ اربعہ [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] کے شاگردوں نے لکھے، اور مختلف انجیلوں میں سے انہی کو منتخب اور رائج کیا گیا۔


مسیحیوں کے نزدیک انجیل کی حقیقت یہ ہے کہ وہ نجات کی بشارت ہے جو خدا کے عیسیٰ میں مجسّم ہونے، صلیب اور وفات کے بعد ان کے زندہ ہونے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان انجیل کے تصور میں دو بالکل مختلف قراءتیں موجود ہیں۔
[[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیوں]] کے نزدیک انجیل کی حقیقت یہ ہے کہ وہ نجات کی بشارت ہے جو خدا کے عیسیٰ میں مجسّم ہونے، صلیب اور وفات کے بعد ان کے زندہ ہونے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ [[مسلمان|مسلمانوں]] اور مسیحیوں کے درمیان انجیل کے تصور میں دو بالکل مختلف قراءتیں موجود ہیں۔


جدید انگریزی میں لفظ Gospel کا استعمال انجیل کے معنی میں ہوتا ہے،
جدید انگریزی میں لفظ Gospel کا استعمال انجیل کے معنی میں ہوتا ہے،<ref>منیر بعلبکی، المورد قاموس انکلیزی ـ عربی، بیروت، دارالعلم للملایین، 1995، ص 395.</ref>   
<ref>منیر بعلبکی، المورد قاموس انکلیزی ـ عربی، بیروت، دارالعلم للملایین، 1995، ص 395.</ref>   
جس کی اصل قدیم انگلوسیکسن زبان کا لفظ God‑Spell ہے۔<ref>Encyclopedia Of Religion and Ethics, James Hastings (ed), New York, Charles Scribners Sons, 13 Vols, Vol. 6, p. 333.</ref>   
جس کی اصل قدیم انگلوسیکسن زبان کا لفظ God‑Spell ہے۔
یہ لفظ دو اجزاء God اور Spell پر مشتمل ہے، اور مجموعی طور پر اس کے معنی کلامِ الٰہی،<ref>Ibid, Vol. 6, p. 333.</ref>   
<ref>Encyclopedia Of Religion and Ethics, James Hastings (ed), New York, Charles Scribners Sons, 13 Vols, Vol. 6, p. 333.</ref>   
یا خداوند کا املا<ref>محمدرضا زیبائی‌نژاد، مسیحیت‌شناسی مقایسه‌ای، تهران، سروش، 1382، ص 139.</ref>   
یہ لفظ دو اجزاء God اور Spell پر مشتمل ہے، اور مجموعی طور پر اس کے معنی کلامِ الٰہی،
یا خوش خبری <ref>The Catholic Encyclopedia, Charles G. Herrermann (ed), New York, The Encyclopedia Press, Inc, 1913, Vol. 6, p. 656.</ref>   
<ref>Ibid, Vol. 6, p. 333.</ref>   
یا خداوند کا املا
<ref>محمدرضا زیبائی‌نژاد، مسیحیت‌شناسی مقایسه‌ای، تهران، سروش، 1382، ص 139.</ref>   
یا خوش خبری  
<ref>The Catholic Encyclopedia, Charles G. Herrermann (ed), New York, The Encyclopedia Press, Inc, 1913, Vol. 6, p. 656.</ref>   
کے ہیں۔   
کے ہیں۔   


یہ لفظ یونانی Evangelion (اوانگلیون) کا ترجمہ ہے جو لاطینی میں Evangelium (اوانجِلیوم)بنا۔ یہ لفظ فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور دیگر نئی یورپی زبانوں میں بھی داخل ہوا۔
یہ لفظ یونانی Evangelion (اوانگلیون) کا ترجمہ ہے جو لاطینی میں Evangelium (اوانجِلیوم)بنا۔ یہ لفظ فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور دیگر نئی یورپی زبانوں میں بھی داخل ہوا۔ <ref>Ibid; Britannica, 2002, Deluxe Edition CD‑Rom, Vol. 5, p. 379.</ref>   
<ref>Ibid; Britannica, 2002, Deluxe Edition CD‑Rom, Vol. 5, p. 379.</ref>   


چونکہ ابتدائی مسیحی متون یونانی زبان میں لکھے گئے تھے، لہٰذا ’’انجیل‘‘ کا ماخذ بھی بالآخر اسی یونانی لفظ **اوانگلیون** کی طرف جاتا ہے؛ البتہ یہ لفظ **عربی میں کس راستے سے داخل ہوا** — مستقیم یا بالواسطہ — اس میں اختلاف ہے۔
چونکہ ابتدائی مسیحی متون یونانی زبان میں لکھے گئے تھے، لہٰذا ’’انجیل‘‘ کا ماخذ بھی بالآخر اسی یونانی لفظ اوانگلیون کی طرف جاتا ہے؛ البتہ یہ لفظ عربی میں کس راستے سے داخل ہوا — مستقیم یا بالواسطہ — اس میں اختلاف ہے۔


نولدکے (Nöldeke) اس بات پر دلیل قائم کرتا ہے کہ یہ لفظ حبشی زبان کے لہجے Wangel کے ذریعے عربی میں آیا۔
نولدکے (Nöldeke) اس بات پر دلیل قائم کرتا ہے کہ یہ لفظ حبشی زبان کے لہجے Wangel کے ذریعے عربی میں آیا۔<ref>Encyclopedia Of Islam, prepared by a Number of Leading Orientalists, Leiden, 1986, Vol. 3, p. 1205.</ref>   
<ref>Encyclopedia Of Islam, prepared by a Number of Leading Orientalists, Leiden, 1986, Vol. 3, p. 1205.</ref>   


کچھ محققین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ لفظ براہِ راست یونانی سے یا سریانی، عبری یا سبائی زبانوں کے ذریعے عربی میں پہنچا۔
کچھ محققین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ لفظ براہِ راست یونانی سے یا سریانی، عبری یا سبائی زبانوں کے ذریعے عربی میں پہنچا۔<ref>آرتور جعفری، واژه‌های دخیل در قرآن، ترجمۂ فریدون بدره‌ای، توس، 1372، ص 131 ـ 132.</ref>   
<ref>آرتور جعفری، واژه‌های دخیل در قرآن، ترجمۂ فریدون بدره‌ای، توس، 1372، ص 131 ـ 132.</ref>   


بعض مسلمان مفسّرین نے، اسے عربی ثابت کرنے کے لیے، اسے وزنِ افعیل پر ایک عربی لفظ قرار دیتے ہوئے ن ج ل سے مشتق بتایا ہے، اور اس کے لیے مختلف معانی بھی بیان کیے ہیں:
بعض [[مسلمان]] مفسّرین نے، اسے عربی ثابت کرنے کے لیے، اسے وزنِ افعیل پر ایک عربی لفظ قرار دیتے ہوئے ن ج ل سے مشتق بتایا ہے، اور اس کے لیے مختلف معانی بھی بیان کیے ہیں:<ref>محمدبن حسن طوسی، التبیان … ج 3، ص 542 / فضل‌بن حسن طبرسی، مجمع‌البیان … ج 2، ص 6 / محمدبن احمد قرطبی، الجامع … ج 4، ص 6.</ref>   
<ref>محمدبن حسن طوسی، التبیان … ج 3، ص 542 / فضل‌بن حسن طبرسی، مجمع‌البیان … ج 2، ص 6 / محمدبن احمد قرطبی، الجامع … ج 4، ص 6.</ref>   
لیکن عربی لغت نگاروں نے اس رائے کو قبول نہیں کیا۔ <ref>سید محمدمرتضی حسینی زبیدی، تاج العروس … ج 8، ص 128 / ابن منظور، لسان العرب … ج 14، ص 58 / حسن مصطفوی، التحقیق … ج 12، ص 39، مادہ نجل.</ref>   
لیکن عربی لغت نگاروں نے اس رائے کو قبول نہیں کیا۔
<ref>سید محمدمرتضی حسینی زبیدی، تاج العروس … ج 8، ص 128 / ابن منظور، لسان العرب … ج 14، ص 58 / حسن مصطفوی، التحقیق … ج 12، ص 39، مادہ نجل.</ref>   


وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ لفظ دخیل ہے، اور اس کا اصل عبری، یونانی یا سریانی ہے۔
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ لفظ دخیل ہے، اور اس کا اصل عبری، یونانی یا سریانی ہے۔ <ref>ابن اثیر، النهایه … ج 5، ص 23 / فخرالدین طریحی، مجمع البحرین … ج 4، ص 274 / ابن منظور، پیشین، ج 4، ص 58.</ref>   
<ref>ابن اثیر، النهایه … ج 5، ص 23 / فخرالدین طریحی، مجمع البحرین … ج 4، ص 274 / ابن منظور، پیشین، ج 4، ص 58.</ref>   


زیادہ تر مسلم مفسّرین بھی انجیل کو غیر عربی (دخیل) لفظ مانتے ہیں،
زیادہ تر مسلم مفسّرین بھی انجیل کو غیر عربی (دخیل) لفظ مانتے ہیں،<ref>محمدبن عمر فخر رازی، التفسیر الکبیر … ج 7، ص 171 / محمد رشید رضا، تفسیر المنار … ج 3، ص 158 / محمود آلوسی، روح المعانی … ج 3، ص 124.</ref>   
<ref>محمدبن عمر فخر رازی، التفسیر الکبیر … ج 7، ص 171 / محمد رشید رضا، تفسیر المنار … ج 3، ص 158 / محمود آلوسی، روح المعانی … ج 3، ص 124.</ref>   
اور زمخشری و بیضاوی جیسے علماء اس لفظ کو عربی قرار دینے کی کوشش کو درست نہیں سمجھتے۔<ref>زمخشری، الکشاف … ج 1، ص 335 / بیضاوی، تفسیر بیضاوی … ج 1، ص 237 / قمی مشهدی، کنزالدقائق، ص 237.</ref>
اور زمخشری و بیضاوی جیسے علماء اس لفظ کو عربی قرار دینے کی کوشش کو درست نہیں سمجھتے۔
<ref>زمخشری، الکشاف … ج 1، ص 335 / بیضاوی، تفسیر بیضاوی … ج 1، ص 237 / قمی مشهدی، کنزالدقائق، ص 237.</ref>


== مسیحی دینی ادب میں ’’انجیل‘‘ ==
== مسیحی دینی ادب میں ’’انجیل‘‘ ==
مسیحیوں کا تصورِ انجیل، اسلامی تصور سے یکسر مختلف ہے۔ انجیل بطور وحیِ مکتوب جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام پر نازل ہوئی ہو، بالکل اسی طرح جیسے تورات یا قرآن، مسیحی الہیات میں کوئی مقام نہیں رکھتی۔
[[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیوں]] کا تصورِ انجیل، اسلامی تصور سے یکسر مختلف ہے۔ انجیل بطور وحیِ مکتوب جو [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] پر نازل ہوئی ہو، بالکل اسی طرح جیسے [[توریت(تورات)|تورات]] یا [[قرآن]]، مسیحی الہیات میں کوئی مقام نہیں رکھتی۔


مسیحی یہ مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ خود ’’تجسّمِ وحی‘‘ تھے—یعنی وہ خدا کا مجسّم کلام تھے، نہ کہ وحی کے حامل۔ اس لیے وہ یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ حضرت عیسیٰ نے کوئی کتاب لکھی یا اپنے شاگردوں کو املا کروائی۔
مسیحی یہ مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ خود ’’تجسّمِ وحی‘‘ تھے—یعنی وہ خدا کا مجسّم کلام تھے، نہ کہ وحی کے حامل۔ اس لیے وہ یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ حضرت عیسیٰ نے کوئی کتاب لکھی یا اپنے شاگردوں کو املا کروائی۔ <ref>توماس میشل، کلام مسیحی … ص 49 ـ 50 / و. م. میلر، تاریخ کلیسا … ص 66.</ref>
<ref>توماس میشل، کلام مسیحی … ص 49 ـ 50 / و. م. میلر، تاریخ کلیسا … ص 66.</ref>


ان کے نزدیک ’’انجیل‘‘ سے مراد وہ بشارت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السّام اور ان کی نجات دہندہ حیثیت کے بارے میں ہے۔
ان کے نزدیک ’’انجیل‘‘ سے مراد وہ بشارت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام اور ان کی نجات دہندہ حیثیت کے بارے میں ہے۔ <ref>New Catholic Encyclopedia, 2nd ed., Vol. 6, p. 366.</ref>   
<ref>New Catholic Encyclopedia, 2nd ed., Vol. 6, p. 366.</ref>   
یہ مفہوم سب سے زیادہ پولس کے خطوط میں نظر آتا ہے۔ <ref>رومیان، 1:1، 9، 16.</ref>
یہ مفہوم سب سے زیادہ پولس کے خطوط میں نظر آتا ہے۔
<ref>رومیان، 1:1، 9، 16.</ref>


بعض مسیحی علماء ’’انجیل‘‘ کے مفہوم میں فداء (Atonement) کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں:
بعض مسیحی علماء ’’انجیل‘‘ کے مفہوم میں فداء (Atonement) کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں:<ref>Encyclopedia Of Fundamentalism, Brenda E. Brasher (ed), 2002, p. 193.</ref>   
<ref>Encyclopedia Of Fundamentalism, Brenda E. Brasher (ed), 2002, p. 193.</ref>   
یعنی [[حضرت عیسی علیہ السلام|مسیح علیہ‌السّلام]] نے اپنی مصیبت، موت اور قیامت کے ذریعے انسان کے گناہوں کا کفّارہ ادا کیا۔
یعنی مسیح علیہ‌السّلام نے اپنی مصیبت، موت اور قیامت کے ذریعے انسان کے گناہوں کا کفّارہ ادا کیا۔


موجودہ ’’چار اناجیل‘‘ دراصل عہد جدید کی پہلی چار کتابیں ہیں، اور یہ نام دوسری صدی کے آخر میں ان تحریروں پر رکھا گیا جن میں حضرت عیسیٰ کی زندگی، معجزات، تعلیمات، اقوال اور صعود کا بیان ہے۔
موجودہ ’’چار اناجیل‘‘ دراصل عہد جدید کی پہلی چار کتابیں ہیں، اور یہ نام دوسری صدی کے آخر میں ان تحریروں پر رکھا گیا جن میں حضرت عیسیٰ کی زندگی، معجزات، تعلیمات، اقوال اور صعود کا بیان ہے۔<ref>New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.</ref>   
<ref>New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.</ref>   
کیونکہ یہ تحریریں ’’انسان کے لیے سب سے بہتر بشارت‘‘ رکھتی ہیں۔ <ref>مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ص 111.</ref>
کیونکہ یہ تحریریں ’’انسان کے لیے سب سے بہتر بشارت‘‘ رکھتی ہیں۔
<ref>مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ص 111.</ref>


ان چار کتابوں کو ’’انجیل‘‘ کہلانے کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی زندگی اور تعلیمات کو سب سے زیادہ تفصیل سے بیان کیا۔ تاہم عہد جدید کے دیگر حصے بھی ایسے ہیں جو حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل ہیں اور انہیں بھی کبھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ پولس اپنے خطوط کو کئی بار ’’انجیل‘‘ کہتا ہے، اور بعض اوقات پورے عہد جدید کو بھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔
ان چار کتابوں کو ’’انجیل‘‘ کہلانے کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی زندگی اور تعلیمات کو سب سے زیادہ تفصیل سے بیان کیا۔ تاہم عہد جدید کے دیگر حصے بھی ایسے ہیں جو حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل ہیں اور انہیں بھی کبھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ پولس اپنے خطوط کو کئی بار ’’انجیل‘‘ کہتا ہے، اور بعض اوقات پورے عہد جدید کو بھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔<ref>… ر. ک. انجیل عیسی مسیح ترجمه تفسیری عهد جدید … انجیل شریف …</ref>
<ref>… ر. ک. انجیل عیسی مسیح ترجمه تفسیری عهد جدید … انجیل شریف …</ref>


قابلِ توجہ یہ ہے کہ خود اناجیل اور دیگر کتابوں میں لفظ ’’انجیل‘‘ (مفرد صیغہ) استعمال ہوا ہے، اور اس سے مراد چار موجودہ اناجیل نہیں ہوتیں۔
قابلِ توجہ یہ ہے کہ خود اناجیل اور دیگر کتابوں میں لفظ ’’انجیل‘‘ (مفرد صیغہ) استعمال ہوا ہے، اور اس سے مراد چار موجودہ اناجیل نہیں ہوتیں۔ <ref>و. م. میلر، پیشین، ص 66.</ref>   
<ref>و. م. میلر، پیشین، ص 66.</ref>   
قدیم کلیسا بھی انجیل کی وحدت کا قائل تھا۔ <ref>The New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.</ref>
قدیم کلیسا بھی انجیل کی وحدت کا قائل تھا۔
<ref>The New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.</ref>


مسیحی اناجیل کے مصنفین اور عہد جدید کے دیگر لکھاریوں کو نبی نہیں مانتے، لیکن یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ متون الہام اور خدائی رہنمائی سے لکھے ہیں۔
مسیحی اناجیل کے مصنفین اور عہد جدید کے دیگر لکھاریوں کو نبی نہیں مانتے، لیکن یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ متون الہام اور خدائی رہنمائی سے لکھے ہیں۔ <ref>توماس میشل، پیشین، ص 50 ـ 51.</ref>   
<ref>توماس میشل، پیشین، ص 50 ـ 51.</ref>   
وہ خود بھی اس بات کا ذکر کرتے ہیں۔ <ref>ہمان، ص 43 و 50 / میلر، پیشین، ص 70.</ref>
وہ خود بھی اس بات کا ذکر کرتے ہیں۔
<ref>ہمان، ص 43 و 50 / میلر، پیشین، ص 70.</ref>


لیکن یہ کہ آخر بے شمار اناجیل، خطوط، مکاشفات اور دیگر تحریروں میں سے صرف ۲۷ کتابیں ہی ’’وحی الٰہی‘‘ کی حامل کیوں مان لی گئیں—اس کی کوئی مدلّل اور واضح وجہ مسیحی الہیات میں موجود نہیں۔ بعض نے اسے ’’روح القدس کی رہنمائی‘‘ قرار دیا ہے۔
لیکن یہ کہ آخر بے شمار اناجیل، خطوط، مکاشفات اور دیگر تحریروں میں سے صرف ۲۷ کتابیں ہی ’’وحی الٰہی‘‘ کی حامل کیوں مان لی گئیں—اس کی کوئی مدلّل اور واضح وجہ مسیحی الہیات میں موجود نہیں۔ بعض نے اسے ’’روح القدس کی رہنمائی‘‘ قرار دیا ہے۔ <ref>ویلیام گلبن … دوم تیموتاؤس، 3:16.</ref>
<ref>ویلیام گلبن … دوم تیموتاؤس، 3:16.</ref>


مسیحی جو لوگ قرآن کے عیسٰی اور انجیل کے تصور سے واقف ہیں، انجیل کو ’’آسمانی کتاب‘‘ کہنا قبول نہیں کرتے۔ قرآن میں لفظ ’’انجیل‘‘ کا جمع (اناجیل) نہ آنا بھی وہ ایک اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔   
مسیحی جو لوگ [[قرآن]] کے عیسٰی اور انجیل کے تصور سے واقف ہیں، انجیل کو ’’آسمانی کتاب‘‘ کہنا قبول نہیں کرتے۔ قرآن میں لفظ ’’انجیل‘‘ کا جمع (اناجیل) نہ آنا بھی وہ ایک اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔   
وہ قرآن کی بعض روایات — جیسے تازہ کھجور کا معجزہ،
وہ قرآن کی بعض روایات — جیسے تازہ کھجور کا معجزہ، <ref>مریم 24 ـ 26</ref>   
<ref>مریم 24 ـ 26</ref>   
گہوارے میں گفتگو، <ref>مریم 29 ـ 33</ref>   
گہوارے میں گفتگو،
گلین پرندوں کا جاندار بن جانا، <ref>آل عمران 49؛ مائدہ 110</ref>   
<ref>مریم 29 ـ 33</ref>   
کو ’’غیر رسمی یا غیر معتبر اناجیل‘‘ سے لیا ہوا سمجھتے ہیں۔ <ref>Encyclopedia of Islam, Vol. 3, pp. 1205–1206.</ref>
گلین پرندوں کا جاندار بن جانا،
<ref>آل عمران 49؛ مائدہ 110</ref>   
کو ’’غیر رسمی یا غیر معتبر اناجیل‘‘ سے لیا ہوا سمجھتے ہیں۔
<ref>Encyclopedia of Islam, Vol. 3, pp. 1205–1206.</ref>


لیکن یہ اعتراض اس حقیقت کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے کہ قرآن وحیِ الٰہی ہے، جب کہ اناجیل بشری تحریریں ہیں جن کی متعدد نسخے اور تاریخی اختلافات موجود ہیں۔
لیکن یہ اعتراض اس حقیقت کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے کہ قرآن وحیِ الٰہی ہے، جب کہ اناجیل بشری تحریریں ہیں جن کی متعدد نسخے اور تاریخی اختلافات موجود ہیں۔


= انجیل کی تاریخ =
= انجیل کی تاریخ =
مسیحیت کی تاریخ کے ابتدائی دو تین عشروں اور اس بات کے بارے میں کہ اس زمانے میں ’’انجیل‘‘ نامی کوئی کتاب موجود تھی اور وہ [[حضرت عیسی|حضرت مسیح علیہ‌السلام]] سے منسوب تھی، مسیحی اور اسلامی متون سے ہٹ کر مستقل تاریخی منابع میں خاصی ابہام کی کیفیت پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض محققین نے خود حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے وجود کے بارے میں بھی تردید ظاہر کی ہے۔<ref>ویل دورانت، تاریخ تمدّن، ترجمہ احمد آرام، ع. پاشایی و امیرحسین آریان‌پور، چ ششم، تهران، علمی و فرهنگی، 1378، ج 3، ص 651 / سید جلال‌الدین آشتیانی، تحقیقی در دین مسیح، تهران، نگارش، 1368، ص 170 ـ 174؛ Carl Lofmark, What is the Bible, 1990, P. 66.</ref>


مسیحیت کی تاریخ کے ابتدائی دو تین عشروں اور اس بات کے بارے میں کہ اس زمانے میں ’’انجیل‘‘ نامی کوئی کتاب موجود تھی اور وہ حضرت مسیح علیہ‌السلام سے منسوب تھی، مسیحی اور اسلامی متون سے ہٹ کر مستقل تاریخی منابع میں خاصی ابہام کی کیفیت پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض محققین نے خود حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے وجود کے بارے میں بھی تردید ظاہر کی ہے۔<ref>ویل دورانت، تاریخ تمدّن، ترجمہ احمد آرام، ع. پاشایی و امیرحسین آریان‌پور، چ ششم، تهران، علمی و فرهنگی، 1378، ج 3، ص 651 / سید جلال‌الدین آشتیانی، تحقیقی در دین مسیح، تهران، نگارش، 1368، ص 170 ـ 174؛ Carl Lofmark, What is the Bible, 1990, P. 66.</ref>
تاہم تاریخی روایات کی کمی اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ انجیل تاریخی طور پر موجود ہی نہ تھی۔ ممکن ہے کہ [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام]] کے ظہور اور ان پر نازل ہونے والی وحی سے متعلق بعض تفصیلات کسی نامعلوم وجہ سے تاریخ میں درج نہ ہو سکیں یا بعد میں ضائع ہو گئی ہوں۔ البتہ اناجیلِ اربعہ میں بعض مقامات پر خود حضرت مسیح علیہ‌السلام کی انجیل کا ذکر بھی ملتا ہے۔<ref>فاضل خان‌همدانی، پیشین / انجیل متی، 26:13 / انجیل مرقس، 14:9 ـ 10.</ref>
 
تاہم تاریخی روایات کی کمی اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ انجیل تاریخی طور پر موجود ہی نہ تھی۔ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے ظہور اور ان پر نازل ہونے والی وحی سے متعلق بعض تفصیلات کسی نامعلوم وجہ سے تاریخ میں درج نہ ہو سکیں یا بعد میں ضائع ہو گئی ہوں۔ البتہ اناجیلِ اربعہ میں بعض مقامات پر خود حضرت مسیح علیہ‌السلام کی انجیل کا ذکر بھی ملتا ہے۔<ref>فاضل خان‌همدانی، پیشین / انجیل متی، 26:13 / انجیل مرقس، 14:9 ـ 10.</ref>


عیسوی تاریخ کے ابتدائی تیس سے چالیس برسوں تک مسیحیت کی تعلیمات زیادہ تر زبانی طور پر اور کبھی خطوط کے ذریعے پھیلائی جاتی تھیں۔ حواری اپنے وعظ و نصیحت میں حضرت مسیح علیہ‌السلام کی تعلیمات بیان کرتے اور آپ کی زندگی کے واقعات کے ذریعے انہیں واضح کرتے تھے۔ لیکن رسائل اور زبانی روایات کی محدودیت نے بالآخر انجیلوں کی تحریر کا راستہ ہموار کیا۔<ref>و. م. میلر، پیشین، ص 66 ـ 69.</ref>
عیسوی تاریخ کے ابتدائی تیس سے چالیس برسوں تک مسیحیت کی تعلیمات زیادہ تر زبانی طور پر اور کبھی خطوط کے ذریعے پھیلائی جاتی تھیں۔ حواری اپنے وعظ و نصیحت میں حضرت مسیح علیہ‌السلام کی تعلیمات بیان کرتے اور آپ کی زندگی کے واقعات کے ذریعے انہیں واضح کرتے تھے۔ لیکن رسائل اور زبانی روایات کی محدودیت نے بالآخر انجیلوں کی تحریر کا راستہ ہموار کیا۔<ref>و. م. میلر، پیشین، ص 66 ـ 69.</ref>
سطر 111: سطر 78:
’’رسولوں کے خطوط‘‘، ’’اعمالِ رسولان‘‘، ’’اناجیلِ اربعہ‘‘ اور ’’مکاشفات‘‘۔
’’رسولوں کے خطوط‘‘، ’’اعمالِ رسولان‘‘، ’’اناجیلِ اربعہ‘‘ اور ’’مکاشفات‘‘۔


رسولوں کے خطوط دراصل ان تعلیمات اور ہدایات پر مشتمل ہیں جو پولس، یوحنا، یعقوب، برنابا، یہودا اور پطرس جیسے رسولوں نے مختلف افراد، جماعتوں اور علاقوں کو حضرت مسیح علیہ‌السلام کا پیغام پہنچانے کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے بعض خطوط عہد جدید کے مجموعے میں شامل کیے گئے جبکہ بعض کو ابتدائی صدیوں میں کلیسا نے مسترد کر دیا۔ عہد جدید کے تمام حصوں میں سب سے قدیم تحریریں پولس کے خطوط سمجھی جاتی ہیں۔<ref>جوان، اُ. گریدی، مسیحیت و بدعت‌ها، ترجمه عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، قم، طه، 1377، ص 46 ـ 47 / توماس میشل، پیشین، ص 54.</ref>
رسولوں کے خطوط دراصل ان تعلیمات اور ہدایات پر مشتمل ہیں جو پولس، یوحنا، یعقوب، برنابا، یہودا اور پطرس جیسے رسولوں نے مختلف افراد، جماعتوں اور علاقوں کو [[حضرت عیسی|حضرت مسیح علیہ‌السلام]] کا پیغام پہنچانے کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے بعض خطوط عہد جدید کے مجموعے میں شامل کیے گئے جبکہ بعض کو ابتدائی صدیوں میں کلیسا نے مسترد کر دیا۔ عہد جدید کے تمام حصوں میں سب سے قدیم تحریریں پولس کے خطوط سمجھی جاتی ہیں۔<ref>جوان، اُ. گریدی، مسیحیت و بدعت‌ها، ترجمه عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، قم، طه، 1377، ص 46 ـ 47 / توماس میشل، پیشین، ص 54.</ref>


’’اعمالِ رسولان‘‘ دراصل حواریوں اور رسولوں کی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ہے جسے لوقا جیسے افراد نے قلم بند کیا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ‌السلام کی زندگی، معجزات، تعلیمات، سیرت اور اقوال کے بارے میں جو تحریریں لکھی گئیں، وہ بھی عہد جدید کا اہم حصہ بن گئیں۔ یہ تحریریں یا تو مصنفین کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھیں یا انہوں نے عینی شاہدین سے سن کر انہیں قلم بند کیا تھا۔ ان تحریروں کو پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز تک ’’رسولوں کی یادداشتیں‘‘ کہا جاتا تھا، لیکن دوسری صدی کے اواخر میں انہیں ’’اناجیل‘‘ کا نام دیا گیا۔<ref>سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 41 ـ 42 / قس. موریس بوکای، پیشین، ص 77.</ref>
’’اعمالِ رسولان‘‘ دراصل حواریوں اور رسولوں کی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ہے جسے لوقا جیسے افراد نے قلم بند کیا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ‌السلام کی زندگی، معجزات، تعلیمات، سیرت اور اقوال کے بارے میں جو تحریریں لکھی گئیں، وہ بھی عہد جدید کا اہم حصہ بن گئیں۔ یہ تحریریں یا تو مصنفین کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھیں یا انہوں نے عینی شاہدین سے سن کر انہیں قلم بند کیا تھا۔ ان تحریروں کو پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز تک ’’رسولوں کی یادداشتیں‘‘ کہا جاتا تھا، لیکن دوسری صدی کے اواخر میں انہیں ’’اناجیل‘‘ کا نام دیا گیا۔<ref>سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 41 ـ 42 / قس. موریس بوکای، پیشین، ص 77.</ref>


مسیحی محققین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی تقریباً پچاس انجیلیں موجود تھیں، تاہم ان میں سے تقریباً بیس کے بارے میں ہی کچھ معلومات دستیاب ہیں۔ ان میں انجیل عبرانیان، انجیل پطرس، انجیل مصریان، انجیل فیلیپ، انجیل توما، انجیل یعقوب، انجیل نیکوداموس، انجیل بارہ حواری، انجیل یہودا اور انجیل مرقیون قابلِ ذکر ہیں۔<ref>The International Standard Bible Encyclopedia, Geoffrey W. Bromiley (ed), WM. B. Eerdmans Publishing Company, USA, 1988, Vol. 2, p. 529; Encyclopedia Of Fundamentalism, p. 193; New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.</ref>
[[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحی]] محققین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی تقریباً پچاس انجیلیں موجود تھیں، تاہم ان میں سے تقریباً بیس کے بارے میں ہی کچھ معلومات دستیاب ہیں۔ ان میں انجیل عبرانیان، انجیل پطرس، انجیل مصریان، انجیل فیلیپ، انجیل توما، انجیل یعقوب، انجیل نیکوداموس، انجیل بارہ حواری، انجیل یہودا اور انجیل مرقیون قابلِ ذکر ہیں۔<ref>The International Standard Bible Encyclopedia, Geoffrey W. Bromiley (ed), WM. B. Eerdmans Publishing Company, USA, 1988, Vol. 2, p. 529; Encyclopedia Of Fundamentalism, p. 193; New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.</ref>


اس کے علاوہ بعض دیگر اناجیل بھی موجود تھیں، جیسے ’’عربی انجیلِ طفولیت‘‘ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے بچپن کے معجزات کا بیان ہے۔<ref>International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, p. 183.</ref>
اس کے علاوہ بعض دیگر اناجیل بھی موجود تھیں، جیسے ’’عربی انجیلِ طفولیت‘‘ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے بچپن کے معجزات کا بیان ہے۔<ref>International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, p. 183.</ref>
سطر 137: سطر 104:
انجیل برنابا، جو یوسف کے ساتھی برنابا سے منسوب ہے اور پولس و مرقس کا دوست بتایا جاتا ہے، اسی نوع کی ایک انجیل ہے۔ چوتھی صدی عیسوی کے بعد کلیسا نے اس کے مطالعے کو ممنوع قرار دے دیا۔ بعض محققین نے اسے اسلام اور مسیحیت کے درمیان گم شدہ رابطہ قرار دیا ہے۔
انجیل برنابا، جو یوسف کے ساتھی برنابا سے منسوب ہے اور پولس و مرقس کا دوست بتایا جاتا ہے، اسی نوع کی ایک انجیل ہے۔ چوتھی صدی عیسوی کے بعد کلیسا نے اس کے مطالعے کو ممنوع قرار دے دیا۔ بعض محققین نے اسے اسلام اور مسیحیت کے درمیان گم شدہ رابطہ قرار دیا ہے۔


اگرچہ اس انجیل کی بعض تعلیمات اسلامی اور سرکاری مسیحی عقائد دونوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں، تاہم اس میں کئی بنیادی نکات ایسے ہیں جو قرآن کے ساتھ قابلِ ذکر موافقت رکھتے ہیں۔ مثلاً حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی صریح بشارت، حضرت مسیح علیہ‌السلام کی الوہیت اور ابنیت کی نفی، حضرت اسماعیل علیہ‌السلام کو ذبیح قرار دینا نہ کہ حضرت اسحاق علیہ‌السلام کو، اور حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے مصلوب نہ ہونے بلکہ یہودا اسخریوطی کے ان کی جگہ قتل کیے جانے کا بیان۔
اگرچہ اس انجیل کی بعض تعلیمات [[اسلام|اسلامی]] اور سرکاری مسیحی عقائد دونوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں، تاہم اس میں کئی بنیادی نکات ایسے ہیں جو [[قرآن]] کے ساتھ قابلِ ذکر موافقت رکھتے ہیں۔ مثلاً [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کی بعثت کی صریح بشارت، حضرت مسیح علیہ‌السلام کی الوہیت اور ابنیت کی نفی، حضرت اسماعیل علیہ‌السلام کو ذبیح قرار دینا نہ کہ حضرت اسحاق علیہ‌السلام کو، اور حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے مصلوب نہ ہونے بلکہ یہودا اسخریوطی کے ان کی جگہ قتل کیے جانے کا بیان۔


== چار اناجیل (اناجیلِ اربعہ) ==
== چار اناجیل (اناجیلِ اربعہ) ==


عہد جدید کے معروف ترین حصّوں میں سب سے پہلے چار اناجیل کا تذکرہ آتا ہے۔ مسیحی الہیات میں اس بات پر ایمان رکھا جاتا ہے کہ انجیلیں اور عہد جدید کے دیگر اجزاء حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام پر ’’وحی‘‘ کی صورت میں نازل نہیں ہوئے، بلکہ یہ حضرت مسیحؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد عام انسانوں نے تحریر کیے۔<ref>و. م. میلر، پیشین، ص 67 / توماس میشل، پیشین، ص 28 / محمّدعلی بروّ العاملی، الکتاب المقدّس فی المیزان، بیروت، الدارالاسلامیة، 1413، ص 238.</ref>
عہد جدید کے معروف ترین حصّوں میں سب سے پہلے چار اناجیل کا تذکرہ آتا ہے۔ مسیحی الہیات میں اس بات پر ایمان رکھا جاتا ہے کہ انجیلیں اور عہد جدید کے دیگر اجزاء [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] پر ’’وحی‘‘ کی صورت میں نازل نہیں ہوئے، بلکہ یہ حضرت مسیحؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد عام انسانوں نے تحریر کیے۔<ref>و. م. میلر، پیشین، ص 67 / توماس میشل، پیشین، ص 28 / محمّدعلی بروّ العاملی، الکتاب المقدّس فی المیزان، بیروت، الدارالاسلامیة، 1413، ص 238.</ref>


اناجیل کے مصنفین کے نام پر انہیں **انجیل متّی، انجیل مرقس، انجیل لوقا اور انجیل یوحنا** کہا جاتا ہے۔ ان کے زمانۂ تالیف، مصنفین کی حقیقی شناخت اور ان کی سند کے تسلسل پر وسیع تحقیقی کام ہونے کے باوجود ان مسائل میں کوئی قطعی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ اگرچہ بہت سے سنجیدہ اعتراضات اور علمی چیلنج موجود ہیں، لیکن بعض قرائن اور شواہد کی بنا پر کچھ مضبوط احتمالات بھی پیش کیے گئے ہیں۔<ref>ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 57 ـ 70 / موریس بوکای، پیشین، ص 99 ـ 101.</ref>
اناجیل کے مصنفین کے نام پر انہیں انجیل متّی، انجیل مرقس، انجیل لوقا اور انجیل یوحنا کہا جاتا ہے۔ ان کے زمانۂ تالیف، مصنفین کی حقیقی شناخت اور ان کی سند کے تسلسل پر وسیع تحقیقی کام ہونے کے باوجود ان مسائل میں کوئی قطعی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ اگرچہ بہت سے سنجیدہ اعتراضات اور علمی چیلنج موجود ہیں، لیکن بعض قرائن اور شواہد کی بنا پر کچھ مضبوط احتمالات بھی پیش کیے گئے ہیں۔<ref>ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 57 ـ 70 / موریس بوکای، پیشین، ص 99 ـ 101.</ref>


=== انجیلِ مرقس ===
=== انجیلِ مرقس ===


روایات کے مطابق مرقس حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے صحابی نہیں تھے، بلکہ پطرس حواری کے دوست، ہم سفر اور شاگرد تھے۔ کبھی کبھی وہ پولس کے ساتھ بھی سفر کرتے تھے اور اپنی روایات پطرس سے حاصل کرتے تھے۔<ref>مریل سی بن، معرفی عهد جدید، ترجمه طاطه‌وس میکائیلیان، تهران، حیات ابدی، 1362، ص 171 ـ 173؛ The Encyclopedia of Religion, V, P. 208.</ref>
روایات کے مطابق مرقس [[حضرت عیسی|حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام]] کے صحابی نہیں تھے، بلکہ پطرس حواری کے دوست، ہم سفر اور شاگرد تھے۔ کبھی کبھی وہ پولس کے ساتھ بھی سفر کرتے تھے اور اپنی روایات پطرس سے حاصل کرتے تھے۔<ref>مریل سی بن، معرفی عهد جدید، ترجمه طاطه‌وس میکائیلیان، تهران، حیات ابدی، 1362، ص 171 ـ 173؛ The Encyclopedia of Religion, V, P. 208.</ref>


ان کی انجیل اناجیل میں سب سے مختصر سمجھی جاتی ہے، اسے رومی زبان میں لکھا ہوا قرار دیا گیا ہے،<ref>موریس بوکای، پیشین، ص 86 ـ 90.</ref> اور اکثر محققین کے مطابق اس کی تصنیف 65 سے 70 عیسوی کے درمیان **روم** میں ہوئی۔<ref>جماعة من اللاهوتیین، … ص 90 ـ 91 / القس فهیم عزیز، … ص 21 / موریس بوکای، … ص 88.</ref>
ان کی انجیل اناجیل میں سب سے مختصر سمجھی جاتی ہے، اسے رومی زبان میں لکھا ہوا قرار دیا گیا ہے،<ref>موریس بوکای، پیشین، ص 86 ـ 90.</ref> اور اکثر محققین کے مطابق اس کی تصنیف 65 سے 70 عیسوی کے درمیان روم میں ہوئی۔<ref>جماعة من اللاهوتیین، … ص 90 ـ 91 / القس فهیم عزیز، … ص 21 / موریس بوکای، … ص 88.</ref>


=== انجیلِ متّی ===
=== انجیلِ متّی ===
سطر 155: سطر 122:
یہ اناجیل میں سب سے مفصل ہے اور اسے متّی حواری سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جدید نقّادیوں سے پہلے اسے سب سے قدیم انجیل سمجھا جاتا تھا اور اس کی تصنیف 38 سے 60 عیسوی کے درمیان قرار دی جاتی تھی۔<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 247؛ Cross, F.L. … P. 859.</ref>
یہ اناجیل میں سب سے مفصل ہے اور اسے متّی حواری سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جدید نقّادیوں سے پہلے اسے سب سے قدیم انجیل سمجھا جاتا تھا اور اس کی تصنیف 38 سے 60 عیسوی کے درمیان قرار دی جاتی تھی۔<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 247؛ Cross, F.L. … P. 859.</ref>


تاہم محققین نے اندرونی شواہد اور انجیل مرقس کے پورے مواد کے اس میں شامل ہونے کی بنا پر یہ رائے اختیار کی کہ اس کی تالیف بھی 65 سے 70 عیسوی کے درمیان اور **مرقس کے بعد** ہوئی۔<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 221 / جماعه من اللاهوتیین، پیشین، ج 5، ص 91.</ref>
تاہم محققین نے اندرونی شواہد اور انجیل مرقس کے پورے مواد کے اس میں شامل ہونے کی بنا پر یہ رائے اختیار کی کہ اس کی تالیف بھی 65 سے 70 عیسوی کے درمیان اور مرقس کے بعد ہوئی۔<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 221 / جماعه من اللاهوتیین، پیشین، ج 5، ص 91.</ref>


اس کا اصل نسخہ عبرانی زبان میں تھا، لیکن اب موجود نہیں۔ بعد میں اسے یونانی سمیت دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔<ref>مستر هاکس، پیشین، ص 782 / محمّدعلی بّرو العاملی، پیشین، ص 244 ـ 245 / The Oxford Dictionary … p.359.</ref>
اس کا اصل نسخہ عبرانی زبان میں تھا، لیکن اب موجود نہیں۔ بعد میں اسے یونانی سمیت دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔<ref>مستر هاکس، پیشین، ص 782 / محمّدعلی بّرو العاملی، پیشین، ص 244 ـ 245 / The Oxford Dictionary … p.359.</ref>
سطر 161: سطر 128:
محققین نے اس کی نسبت متّی حواری کی طرف مشکوک قرار دی ہے،<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 242 ـ 247؛ The Encyclopedia of Religion, V. 9. P. 285.</ref> اور یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اسے کوئی دوسرا شخص لکھنے والا تھا جس کا نام متّی جیسا تھا۔<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 245؛ Achtemeier … P. 613.</ref>
محققین نے اس کی نسبت متّی حواری کی طرف مشکوک قرار دی ہے،<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 242 ـ 247؛ The Encyclopedia of Religion, V. 9. P. 285.</ref> اور یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اسے کوئی دوسرا شخص لکھنے والا تھا جس کا نام متّی جیسا تھا۔<ref>القس فهیم عزیز، پیشین، ص 245؛ Achtemeier … P. 613.</ref>


اکثر محققین اس کے لکھے جانے کی جگہ کو **انطاکیہ** قرار دیتے ہیں۔<ref>مریل سی بن، پیشین، ص 159.</ref>
اکثر محققین اس کے لکھے جانے کی جگہ کو انطاکیہ قرار دیتے ہیں۔<ref>مریل سی بن، پیشین، ص 159.</ref>


=== انجیلِ لوقا ===
=== انجیلِ لوقا ===


لوقا حواری نہیں تھے، انہوں نے حضرت مسیح علیہ‌السّلام کو نہیں دیکھا، اور نصرانیت انہوں نے پولس سے سیکھی۔ انجیل لوقا کی زیادہ تر روایات مرقس اور متّی سے ماخوذ سمجھی جاتی ہیں۔<ref>ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / موریس بوکای، پیشین، ص 90 ـ 92.</ref>
لوقا حواری نہیں تھے، انہوں نے [[حضرت عیسی|حضرت مسیح علیہ‌السّلام]] کو نہیں دیکھا، اور نصرانیت انہوں نے پولس سے سیکھی۔ انجیل لوقا کی زیادہ تر روایات مرقس اور متّی سے ماخوذ سمجھی جاتی ہیں۔<ref>ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / موریس بوکای، پیشین، ص 90 ـ 92.</ref>


یہ تینوں اناجیل (مرقس، متّی، لوقا) مشترکات کی وجہ سے **’’ہمنوا اناجیل‘‘** کہلاتی ہیں۔<ref>ویل دورانت… / مستر هاکس… / سلیمانی اردستانی…</ref>
یہ تینوں اناجیل (مرقس، متّی، لوقا) مشترکات کی وجہ سے ’’ہمنوا اناجیل‘‘ کہلاتی ہیں۔<ref>ویل دورانت… / مستر هاکس… / سلیمانی اردستانی…</ref>


روایتی مسیحی نقطۂ نظر میں اسے لوقا (پولس کے ساتھی) کی تصنیف مانا جاتا ہے۔ اس کی تحریر کا زمانہ 70 سے 90 عیسوی کے درمیان، اور زیادہ امکان کے ساتھ **80 تا 85 عیسوی** بتایا جاتا ہے۔<ref>The Encyclopedia of Religion … p.51; Harper’s Bible Dictionary p.583.</ref>
روایتی مسیحی نقطۂ نظر میں اسے لوقا (پولس کے ساتھی) کی تصنیف مانا جاتا ہے۔ اس کی تحریر کا زمانہ 70 سے 90 عیسوی کے درمیان، اور زیادہ امکان کے ساتھ 80 تا 85 عیسوی بتایا جاتا ہے۔<ref>The Encyclopedia of Religion … p.51; Harper’s Bible Dictionary p.583.</ref>


اس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے بچپن سے متعلق بعض حکایات ایسی ہیں جو دیگر اناجیل میں موجود نہیں۔<ref>موریس بوکای، ص 92.</ref>
اس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے بچپن سے متعلق بعض حکایات ایسی ہیں جو دیگر اناجیل میں موجود نہیں۔<ref>موریس بوکای، ص 92.</ref>
سطر 175: سطر 142:


=== انجیلِ یوحنا ===
=== انجیلِ یوحنا ===
یہ چاروں میں سب سے آخری انجیل ہے۔<ref>Harper’s Bible Dictionary, P. 583.</ref> اس کی تاریخِ تالیف کے بارے میں اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ بعض نے اسے 65 عیسوی تک قدیم بتایا ہے، لیکن زیادہ مضبوط اور روایتی مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق اس کی تصنیف 90 سے 115 عیسوی کے درمیان ہوئی۔<ref>القس فهیم عزیز، … ص 560 ـ 561 / مریل سی بن … ص 209 / The new International Dictionary … P. 499, 534.</ref>
یہ چاروں میں سب سے آخری انجیل ہے۔<ref>Harper’s Bible Dictionary, P. 583.</ref> اس کی تاریخِ تالیف کے بارے میں اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ بعض نے اسے 65 عیسوی تک قدیم بتایا ہے، لیکن زیادہ مضبوط اور روایتی مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق اس کی تصنیف 90 سے 115 عیسوی کے درمیان ہوئی۔<ref>القس فهیم عزیز، … ص 560 ـ 561 / مریل سی بن … ص 209 / The new International Dictionary … P. 499, 534.</ref>


سطر 182: سطر 148:
انجیل یوحنا تینوں اناجیل سے بالکل مختلف ہے اور اس میں حضرت مسیحؑ کی زندگی کے بیانات کے ساتھ یونانی فلسفیانہ افکار بھی شامل نظر آتے ہیں۔<ref>ویل دورانت… / موریس بوکای…</ref>
انجیل یوحنا تینوں اناجیل سے بالکل مختلف ہے اور اس میں حضرت مسیحؑ کی زندگی کے بیانات کے ساتھ یونانی فلسفیانہ افکار بھی شامل نظر آتے ہیں۔<ref>ویل دورانت… / موریس بوکای…</ref>
== جزیرۂ عرب میں انجیل ==
== جزیرۂ عرب میں انجیل ==
یہ کہا جاتا ہے کہ سن 400 عیسوی تک [[خاورمیانه]] کے علاقوں، خاص طور پر [[سوریه]] میں رائج سرکاری انجیل ایک واحد انجیل تھی جو چاروں اناجیل کے ادغام سے تیار کی گئی تھی۔
یہ کہا جاتا ہے کہ سن 400 عیسوی تک [[مشرق وسطی]] کے علاقوں، خاص طور پر [[شام]] میں رائج سرکاری انجیل ایک واحد انجیل تھی جو چاروں اناجیل کے ادغام سے تیار کی گئی تھی۔
 
<ref>Britanica, V. 7, P. 69.</ref>
<ref>Britanica, V. 7, P. 69.</ref>


اس انجیل کو دیاتسرون (Diatessaron) کہا جاتا تھا۔ اسی بنا پر یہ احتمال موجود ہے کہ قرآن کے نزول کے زمانے میں بھی یہ انجیل کم و بیش جزیرۂ عرب کے [[نصارا]] میں رائج رہی ہو۔
اس انجیل کو دیاتسرون (Diatessaron) کہا جاتا تھا۔ اسی بنا پر یہ احتمال موجود ہے کہ [[قرآن]] کے نزول کے زمانے میں بھی یہ انجیل کم و بیش جزیرۂ عرب کے [[مسیحیت (نصرانیت)|نصارا]] میں رائج رہی ہو۔
 
<ref>Neal Robinson, Jesus in the Quran, The Historical Jesus, P. 8.</ref>
<ref>Neal Robinson, Jesus in the Quran, The Historical Jesus, P. 8.</ref>


اس وقت اس انجیل کا اصل مکمل نسخہ جو زبانِ سُریانی میں تھا، موجود نہیں ہے اور صرف اس کے بعض حصّوں کے ترجمے مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں۔
اس وقت اس انجیل کا اصل مکمل نسخہ جو زبانِ سُریانی میں تھا، موجود نہیں ہے اور صرف اس کے بعض حصّوں کے ترجمے مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں۔
<ref>New Catholic Encyclopedia, V. 4, P. 731.</ref>
<ref>New Catholic Encyclopedia, V. 4, P. 731.</ref>


ایک اور انجیل جو ممکن ہے اُس زمانے میں رائج رہی ہو، وہ بچپن کی انجیل ہے جو [[زبان عربی]] میں تھی (Arabic Infancy Gospel)۔ اس میں [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام کے بچپن کی کچھ روایات بیان کی گئی ہیں، جو اس موضوع میں قرآن کریم میں مذکور داستانوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔
ایک اور انجیل جو ممکن ہے اُس زمانے میں رائج رہی ہو، وہ بچپن کی انجیل ہے جو زبان عربی میں تھی (Arabic Infancy Gospel)۔ اس میں [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام کے بچپن کی کچھ روایات بیان کی گئی ہیں، جو اس موضوع میں قرآن کریم میں مذکور داستانوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔
 


== انجیل قرآن میں ==
== انجیل [[قرآن]] میں ==


لفظ «انجیل» قرآن کی 6 [[سورہ]] کی 12 آیات میں کل 12 بار، اور ہمیشہ **مفرد** صورت میں، صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔   
لفظ «انجیل» [[قرآن]] کی 6 [[سورہ]] کی 12 آیات میں کل 12 بار، اور ہمیشہ مفرد صورت میں، صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔   
<ref>آل عمران: 3، 48، 65؛ مائده: 46، 47، 66، 68، 110؛ اعراف: 157؛ توبه: 111؛ فتح: 29؛ حدید: 27</ref>
<ref>آل عمران: 3، 48، 65؛ مائده: 46، 47، 66، 68، 110؛ اعراف: 157؛ توبه: 111؛ فتح: 29؛ حدید: 27</ref>


اسی طرح متعدد مقامات پر «ما بَینَ یَدَیه» <ref>آل‌عمران: 3؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30</ref> اور «الَّذی بَینَ یَدَیه» <ref>انعام: 92؛ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ سبأ: 31</ref> جیسے تعبیرات کے ذریعے، قرآن سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابوں میں سے ایک کے طور پر اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازاین، «الکِتاب» کے مرکبات جیسے «اَهل الکِتاب» <ref>آل عمران: 64 ـ 65؛ نساء: 171</ref> اور «الَّذینَ اُوتوا الکِتب» <ref>بقره: 146؛ نساء: 47، 13؛ مائده: 5</ref> میں، انجیل ان مصادیقِ قطعی میں سے ہے جن پر یہ عناوین اطلاق پاتے ہیں۔
اسی طرح متعدد مقامات پر «ما بَینَ یَدَیه» <ref>آل‌عمران: 3؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30</ref> اور «الَّذی بَینَ یَدَیه» <ref>انعام: 92؛ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ سبأ: 31</ref> جیسے تعبیرات کے ذریعے، قرآن سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابوں میں سے ایک کے طور پر اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازاین، «الکِتاب» کے مرکبات جیسے «اَهل الکِتاب» <ref>آل عمران: 64 ـ 65؛ نساء: 171</ref> اور «الَّذینَ اُوتوا الکِتب» <ref>بقره: 146؛ نساء: 47، 13؛ مائده: 5</ref> میں، انجیل ان مصادیقِ قطعی میں سے ہے جن پر یہ عناوین اطلاق پاتے ہیں۔


قرآن مختلف مناسبتوں سے انجیل کا ذکر کرتا ہے: اس کے وحیانی ہونے کی تصریح، [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام پر [[آیات]] کے مجموعہ کی حیثیت سے نازل ہونا <ref>آل عمران: 3؛ مائده: 46، 110؛ حدید: 27</ref>، [[تورات]] کی حقانیت پر اس کی گواہی <ref>مائده: 46</ref>، قرآن کا اس کی تصدیق کرنا <ref>مائده: 48؛ یونس: 37</ref>، اور [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت اور دعوتِ عام کی بشارت <ref>اعراف: 157؛ فتح: 29</ref> نیز اس کی بعض تعلیمات کے تحریف، کتمان اور حذف ہونے کا بیان <ref>مائده: 14 ـ 15</ref>۔
قرآن مختلف مناسبتوں سے انجیل کا ذکر کرتا ہے: اس کے وحیانی ہونے کی تصریح، [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام پر آیات کے مجموعہ کی حیثیت سے نازل ہونا <ref>آل عمران: 3؛ مائده: 46، 110؛ حدید: 27</ref>، [[تورات]] کی حقانیت پر اس کی گواہی <ref>مائده: 46</ref>، قرآن کا اس کی تصدیق کرنا <ref>مائده: 48؛ یونس: 37</ref>، اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت اور دعوتِ عام کی بشارت <ref>اعراف: 157؛ فتح: 29</ref> نیز اس کی بعض تعلیمات کے تحریف، کتمان اور حذف ہونے کا بیان <ref>مائده: 14 ـ 15</ref>۔


== انجیل؛ حضرت مسیح علیه‌السّلام کی آسمانی کتاب ==
=== انجیل؛ حضرت مسیح علیه‌السّلام کی آسمانی کتاب ===


قرآن، [[عیسی]] [[مسیح]] علیه‌السّلام کی بعثت کو رسل کی سلسلہ وار آمد اور کتابوں کے نزول کی تداوم کے طور پر بیان کرتا ہے اور ان کی [[کتاب آسمانی]] کا نام صراحت کے ساتھ «انجیل» قرار دیتا ہے اور اس کے وحیانی ہونے پر زور دیتا ہے:
[[قرآن]]، حضرت عیسی علیه‌السّلام کی بعثت کو رسل کی سلسلہ وار آمد اور کتابوں کے نزول کی تداوم کے طور پر بیان کرتا ہے اور ان کی کتاب آسمانی کا نام صراحت کے ساتھ «انجیل» قرار دیتا ہے اور اس کے وحیانی ہونے پر زور دیتا ہے: <ref>محمّدبن جریر طبری... ج 6، ص 358 / ...</ref>
<ref>محمّدبن جریر طبری... ج 6، ص 358 / ...</ref>


«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ... ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ...»   
«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ... ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ...»   
<ref>حدید: 25 و 27</ref>
<ref>حدید: 25 و 27</ref> و نیز: <ref>مائده: 46، 110</ref>
و نیز: <ref>مائده: 46، 110</ref>


آیۂ 30 مریم میں «کتاب» کا لفظ بھی «انجیل» کی طرف اشارہ ہے:   
آیۂ 30 مریم میں «کتاب» کا لفظ بھی «انجیل» کی طرف اشارہ ہے:   
<ref>«قال انّی عبداللّه آتانی الکتاب...» مریم: 30</ref>
<ref>«قال انّی عبداللّه آتانی الکتاب...» مریم: 30</ref>


دوسری طرف، اگرچہ انجیلوں کی تعداد بہت زیادہ تھی — خصوصاً نزول کے زمانے میں موجود چار رسمی اناجیل — لیکن قرآن نے انجیل کے متعلق **تمام آیات میں واحد** صیغہ استعمال کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک [[حضرت مسیح]] علیه‌السّلام پر **ایک ہی انجیل** نازل ہوئی تھی۔
دوسری طرف، اگرچہ انجیلوں کی تعداد بہت زیادہ تھی — خصوصاً نزول کے زمانے میں موجود چار رسمی اناجیل — لیکن [[قرآن]] نے انجیل کے متعلق تمام آیات میں واحد صیغہ استعمال کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت مسیح]] علیه‌السّلام پر ایک ہی انجیل نازل ہوئی تھی۔


لہٰذا قرآن، اس انجیل کے وحیانی اور یکتائی ہونے کو بیان کرکے موجودہ اناجیل اور [[عهد جدید]] کی دیگر تحریروں کے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ **عین وہ انجیل نہیں** ہیں جو [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی،<ref>... </ref> بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کے کچھ اجزاء یا اس کی روایات کی صورتیں اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اور غالب احتمال کے مطابق وہ اصلی انجیل، بعض وجوہات کی بنا پر ضائع ہوگئی۔<ref>...</ref>
لہٰذا قرآن، اس انجیل کے وحیانی اور یکتائی ہونے کو بیان کرکے موجودہ اناجیل اور عهد جدید کی دیگر تحریروں کے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ عین وہ انجیل نہیں ہیں جو [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی،<ref>... </ref> بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کے کچھ اجزاء یا اس کی روایات کی صورتیں اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اور غالب احتمال کے مطابق وہ اصلی انجیل، بعض وجوہات کی بنا پر ضائع ہوگئی۔<ref>...</ref>


ان وجوہات میں نئے [[مسیحیان]] کے لیے انتہائی دشوار حالات، اور [[یہود]] اور رومی حکومتوں کی سختیوں اور تعاقب کا ماحول شامل ہے۔<ref>...</ref>
ان وجوہات میں نئے [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیان]] کے لیے انتہائی دشوار حالات، اور [[یهودیت|یہود]] اور رومی حکومتوں کی سختیوں اور تعاقب کا ماحول شامل ہے۔<ref>...</ref>


اسی طرح، قرآن کا انجیل کو [[تورات]] اور [[قرآن]] کے ساتھ ایک ‘‘کتاب’’ کے طور پر ذکر کرنا، اس کے آسمانی ہونے اور خارجی موجودیت کا ثبوت ہے: 8 مرتبہ [[تورات]] کے جوڑے کے طور پر <ref>...</ref> اور دو مرتبہ تورات و قرآن کے ساتھ اکٹھے:   
اسی طرح، قرآن کا انجیل کو [[توریت(تورات)|تورات]] اور [[قرآن]] کے ساتھ ایک ‘‘کتاب’’ کے طور پر ذکر کرنا، اس کے آسمانی ہونے اور خارجی موجودیت کا ثبوت ہے: 8 مرتبہ [[توریت(تورات)|تورات]] کے جوڑے کے طور پر <ref>...</ref> اور دو مرتبہ تورات و قرآن کے ساتھ اکٹھے:   
«نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ... وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ...»
«نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ... وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ...» <ref>آل عمران: 3 ـ 4؛ مائده: 46 ـ 48</ref>
<ref>آل عمران: 3 ـ 4؛ مائده: 46 ـ 48</ref>


قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ [[قرآن]] نے صرف ‘‘آیات’’ کے ایک وحی شدہ مجموعہ کو ‘‘انجیل’’ کے نام سے بیان کیا ہے، نہ کہ کسی کتابِ مکتوب کو۔ اور [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام کی حیات میں اس کی کتابت یا آپ کی املاء کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔   
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ [[قرآن]] نے صرف ‘‘آیات’’ کے ایک وحی شدہ مجموعہ کو ‘‘انجیل’’ کے نام سے بیان کیا ہے، نہ کہ کسی کتابِ مکتوب کو۔ اور [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام کی حیات میں اس کی کتابت یا آپ کی املاء کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔   
لہٰذا ‘‘انجیل’’ کو — اسلامی اصطلاح میں — وہی آیاتِ نازل شدہ مانا جا سکتا ہے، جن میں سے کچھ کو اناجیلِ اربعہ نے (درست یا نادرست) طور پر نقل کیا ہے۔
لہٰذا ‘‘انجیل’’ کو — اسلامی اصطلاح میں — وہی آیاتِ نازل شدہ مانا جا سکتا ہے، جن میں سے کچھ کو اناجیلِ اربعہ نے (درست یا نادرست) طور پر نقل کیا ہے۔


== تورات کی حقّانیت پر انجیل کی گواہی ==
=== تورات کی حقّانیت پر انجیل کی گواہی ===


[[قرآن کریم]]، [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام اور انجیل کو [[تورات]] کا تصدیق‌کننده قرار دیتا ہے:
[[قرآن کریم]]، [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام اور انجیل کو [[توریت(تورات)|تورات]] کا تصدیق‌کننده قرار دیتا ہے:


«وَ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِعَیسَی‌بْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ....»   
«وَ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِعَیسَی‌بْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ....»   
سطر 242: سطر 201:
مراد یقیناً وہ **اصلی تورات** ہے جو [[حضرت موسی]] علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی، نہ کہ وہ موجودہ تورات جس میں تحریفات شامل ہوچکی تھیں۔<ref>...</ref>
مراد یقیناً وہ **اصلی تورات** ہے جو [[حضرت موسی]] علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی، نہ کہ وہ موجودہ تورات جس میں تحریفات شامل ہوچکی تھیں۔<ref>...</ref>


بعض مفسرین کے مطابق، انجیل نے [[تورات]] کے بیشتر احکام کی **تائید** اور **تکمیل** کی، اور صرف محدود احکام میں نسخ آیا ہے۔<ref>...</ref> اناجیلِ رسمی (مثلاً [[انجیل متّا]]) میں بھی یہی بات حضرت مسیح علیه‌السّلام کے اقوال میں موجود ہے۔<ref>...</ref>
بعض مفسرین کے مطابق، انجیل نے [[توریت(تورات)|تورات]] کے بیشتر احکام کی تائید اور تکمیل کی، اور صرف محدود احکام میں نسخ آیا ہے۔<ref>...</ref> اناجیلِ رسمی (مثلاً انجیل متّا) میں بھی یہی بات حضرت مسیح علیه‌السّلام کے اقوال میں موجود ہے۔<ref>...</ref>


بعض [[آیات]] سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض غذائیں، جو [[تورات]] میں بنی‌اسرائیل پر حرام کردی گئی تھیں، انجیل کے ذریعے حلال قرار پائیں:   
بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض غذائیں، جو [[توریت(تورات)|تورات]] میں بنی‌اسرائیل پر حرام کردی گئی تھیں، انجیل کے ذریعے حلال قرار پائیں:   
«وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَ الَّذِی حُرِّمَ عَلَیْکُمْ.»   
«وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَ الَّذِی حُرِّمَ عَلَیْکُمْ.»   
<ref>آل‌عمران: 50</ref>
<ref>آل‌عمران: 50</ref>


== قرآن کی طرف سے انجیل کی تصدیق ==
=== قرآن کی طرف سے انجیل کی تصدیق ===


خداوند نے متعدد [[آیات]] میں [[قرآن کریم]] کو سابقہ آسمانی کتابوں، خصوصاً تورات و انجیل، کا ‘‘مصدّق’’ قرار دیا ہے:
خداوند نے متعدد آیات میں [[قرآن کریم]] کو سابقہ آسمانی کتابوں، خصوصاً تورات و انجیل، کا ‘‘مصدّق’’ قرار دیا ہے:


«وَ أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتَابِ وَ مُهَیْمِنا عَلَیْهِ...»
«وَ أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتَابِ وَ مُهَیْمِنا عَلَیْهِ...» <ref>مائده: 48</ref>
<ref>مائده: 48</ref>


مفسرین نے ‘‘تصدیق’’ کے معنی میں مختلف آراء پیش کی ہیں:   
مفسرین نے ‘‘تصدیق’’ کے معنی میں مختلف آراء پیش کی ہیں:   
اس سے مراد ان کتابوں کے **الٰہی نزول** کی تصدیق   
اس سے مراد ان کتابوں کے الٰہی نزول کی تصدیق   
یا ان کی بعض **تعلیمات** کی تائید   
یا ان کی بعض تعلیمات کی تائید   
یا یہ کہ انہی کتابوں نے [[قرآن]] کی آمد کی پیشگوئی کی تھی   
یا یہ کہ انہی کتابوں نے [[قرآن]] کی آمد کی پیشگوئی کی تھی   
<ref>...</ref>
<ref>...</ref>


دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ‘‘تصدیق’’ کے آیات دو گروہوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ‘‘تصدیق’’ کے آیات دو گروہوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
 
#الف) «الَّذی بَینَ یَدَیه» والی آیات   
### الف) «الَّذی بَینَ یَدَیه» والی آیات   
یہ آیات واضح طور پر قرآن کے ذریعے اصل نازل شدہ کتابوں کی تصدیق بیان کرتی ہیں، نہ کہ موجودہ محرف نسخوں کی۔   
یہ آیات واضح طور پر قرآن کے ذریعے **اصل نازل شدہ کتابوں** کی تصدیق بیان کرتی ہیں، نہ کہ موجودہ محرف نسخوں کی۔   
<ref>یونس: 37؛ یوسف: 111؛ بقره: 97؛ آل‌عمران: 3؛ مائده: 48...</ref>
<ref>یونس: 37؛ یوسف: 111؛ بقره: 97؛ آل‌عمران: 3؛ مائده: 48...</ref>


### ب) «لِما مَعَکُم» والی آیات   
#ب) «لِما مَعَکُم» والی آیات   
یہ آیات اہلِ کتاب کے پاس موجود تحریروں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، لیکن **تمام مواد کی نہیں** بلکہ صرف غیرمحرف حصوں کی تائید کرتی ہیں۔<ref>...</ref>
یہ آیات اہلِ کتاب کے پاس موجود تحریروں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، لیکن تمام مواد کی نہیں بلکہ صرف غیرمحرف حصوں کی تائید کرتی ہیں۔<ref>...</ref>


موجودہ اناجیل میں کئی ایسی عقائد اور نسبتیں موجود ہیں جو [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام اور توحید کے مخالف ہیں — مثلاً صلیب پر قتل، الوہیتِ عیسی، ‘‘پسر خدا’’ ہونا، «تثلیث» وغیرہ — اور قرآن ان سب کو باطل قرار دیتا ہے۔
موجودہ اناجیل میں کئی ایسی عقائد اور نسبتیں موجود ہیں جو [[حضرت عیسی]] علیه‌السّلام اور توحید کے مخالف ہیں — مثلاً صلیب پر قتل، الوہیتِ عیسی، ‘‘پسر خدا’’ ہونا، «تثلیث» وغیرہ — اور قرآن ان سب کو باطل قرار دیتا ہے۔ <ref>نساء: 157، 171؛ مائده: 17، 72 ـ 73، 116 ـ 117؛ توبه: 30</ref>
<ref>نساء: 157، 171؛ مائده: 17، 72 ـ 73، 116 ـ 117؛ توبه: 30</ref>


اجمالی طور پر نزول کے زمانے کے اناجیل کی موجودگی کا مفہوم بعض دیگر [[آیات]] سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سورۂ مائدہ کی آیت 66 قابلِ ذکر ہے جس میں اہلِ کتاب کو [[تورات]] اور انجیل کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ آسمان اور زمین کی برکتوں سے بہرہ مند ہونا ہوگا:   
اجمالی طور پر نزول کے زمانے کے اناجیل کی موجودگی کا مفہوم بعض دیگر آیات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سورۂ مائدہ کی آیت 66 قابلِ ذکر ہے جس میں اہلِ کتاب کو [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ آسمان اور زمین کی برکتوں سے بہرہ مند ہونا ہوگا:   
«وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَ مِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم....»
«وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَ مِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم....»


مفسرین کے نزدیک [[تورات]] اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان دونوں کی تعلیمات پر ایمان اور عمل ہے، جو مبدأ اور معاد سے متعلق عقائد،<ref>سید محمّدحسین طباطبایی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> الٰہی احکام اور حدود<ref>محمّدبن عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 46 / تفسیر بیضاوی، ج 1، ص 444 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> نیز [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی الله علیه و آله کی بشارت کے اعتراف پر مشتمل ہیں،<ref>ابوجعفر نحّاس، معانی‌القرآن، به کوشش الصابونی، عربستان، جامعة امّ‌القری، 1409، ج 2، ص 337 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 46/ اسماعیل‌بن‌کثیردمشقی، پیشین، ج 1، ص 169.</ref> اور یہ سب کچھ کسی قسم کی تحریف یا کتمان کے بغیر ہونا چاہیے۔<ref>محمّدبن حسن طوسی، پیشین، ج 3، ص 585 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 341 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref>
مفسرین کے نزدیک [[توریت(تورات)|تورات]] اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان دونوں کی تعلیمات پر ایمان اور عمل ہے، جو مبدأ اور معاد سے متعلق عقائد،<ref>سید محمّدحسین طباطبایی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> الٰہی احکام اور حدود<ref>محمّدبن عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 46 / تفسیر بیضاوی، ج 1، ص 444 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref> نیز [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی الله علیه و آله کی بشارت کے اعتراف پر مشتمل ہیں،<ref>ابوجعفر نحّاس، معانی‌القرآن، به کوشش الصابونی، عربستان، جامعة امّ‌القری، 1409، ج 2، ص 337 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 46/ اسماعیل‌بن‌کثیردمشقی، پیشین، ج 1، ص 169.</ref> اور یہ سب کچھ کسی قسم کی تحریف یا کتمان کے بغیر ہونا چاہیے۔<ref>محمّدبن حسن طوسی، پیشین، ج 3، ص 585 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 341 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.</ref>


لہٰذا کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں موجود اناجیل میں الٰہی نازل شدہ انجیل کی کچھ تعلیمات ضرور موجود تھیں۔ بصورتِ دیگر، جب حقیقی انجیل ہی موجود نہ ہوتی تو اس کے قیام کی دعوت دینا عقلی طور پر درست نہ ہوتا۔ اسی طرح کی ضمنی اور اجمالی تائید سورۂ مائدہ کی آیت 68 سے بھی ملتی ہے:   
لہٰذا کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نزولِ [[قرآن]] کے زمانے میں موجود اناجیل میں الٰہی نازل شدہ انجیل کی کچھ تعلیمات ضرور موجود تھیں۔ بصورتِ دیگر، جب حقیقی انجیل ہی موجود نہ ہوتی تو اس کے قیام کی دعوت دینا عقلی طور پر درست نہ ہوتا۔ اسی طرح کی ضمنی اور اجمالی تائید سورۂ مائدہ کی آیت 68 سے بھی ملتی ہے:   
«قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِن رَّبِّکُمْ....»
«قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِن رَّبِّکُمْ....»


اس [[آیہ]] کے [[شأن نزول]] کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعض [[یہودیوں]] نے [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله سے پوچھا کہ کیا وہ [[تورات]] کی تصدیق کرتے ہیں؟ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا: ہم بھی [[تورات]] کو مانتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے۔ اس پر [[خداوند]] نے اس آیت کے ذریعے اعلان کیا کہ تورات اور انجیل پر ایمان اور عمل کے بغیر ان کا دین و مذہب بے بنیاد اور بے وقعت ہے۔ اور ان دونوں پر حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله اور [[قرآن]] پر بھی ایمان لایا جائے۔
اس آیہ کے شأن نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعض [[یهودیت|یہودیوں]] نے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله سے پوچھا کہ کیا وہ [[توریت(تورات)|تورات]] کی تصدیق کرتے ہیں؟ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا: ہم بھی [[توریت(تورات)|تورات]] کو مانتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے۔ اس پر خدا نے اس آیت کے ذریعے اعلان کیا کہ تورات اور انجیل پر ایمان اور عمل کے بغیر ان کا دین و مذہب بے بنیاد اور بے وقعت ہے۔ اور ان دونوں پر حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله اور [[قرآن]] پر بھی ایمان لایا جائے۔


[[قرآن کریم]] ایک اور مقام پر انجیل کے پیروکاروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے:   
[[قرآن کریم]] ایک اور مقام پر انجیل کے پیروکاروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے:   
سطر 288: سطر 244:
یہ آیت بھی نزول کے زمانے کے اناجیل کی ضمنی اور اجمالی تائید کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
یہ آیت بھی نزول کے زمانے کے اناجیل کی ضمنی اور اجمالی تائید کی طرف اشارہ کرتی ہے۔


== انجیل کی تعلیمات ==
=== انجیل کی تعلیمات ===


[[قرآن کریم]] کبھی بعض عمومی اوصاف کے ذریعے اور کبھی بعض واضح احکام و تعلیمات کا ذکر کرکے انجیل کے مندرجات کی نسبتاً مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ ان میں سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
[[قرآن کریم]] کبھی بعض عمومی اوصاف کے ذریعے اور کبھی بعض واضح احکام و تعلیمات کا ذکر کرکے انجیل کے مندرجات کی نسبتاً مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ ان میں سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:


**1. ہدایت، نور اور نصیحت**
==== ہدایت، نور اور نصیحت ====


«... وَ آتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَمُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ.» <ref>مائده: 46؛ آل‌عمران: 3 ـ 4</ref>
«... وَ آتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَمُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ.» <ref>مائده: 46؛ آل‌عمران: 3 ـ 4</ref>


[[مفسرین]] کے مطابق «[[ہدایت]]» سے مراد ایسی تعلیمات ہیں جن میں [[خداوند]] کی [[توحید]]، اس کو بیوی، اولاد، شریک اور ہمسر سے پاک قرار دینا،<ref>محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّد عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 9 / محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.</ref> معاد سے متعلق معارف،<ref>محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref> [[انبیا]] کی تصدیق و تنزیہ، [[بعثت]] [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بشارت،<ref> محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref> اور الٰہی احکام و ان کے دلائل شامل ہیں۔<ref>محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 314.</ref>
[[مفسرین]] کے مطابق «ہدایت» سے مراد ایسی تعلیمات ہیں جن میں خدا کی توحید، اس کو بیوی، اولاد، شریک اور ہمسر سے پاک قرار دینا،<ref>محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّد عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 9 / محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.</ref> معاد سے متعلق معارف،<ref>محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref> [[انبیاء|انبیا]] کی تصدیق و تنزیہ، [[بعثت]] [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بشارت،<ref> محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref> اور الٰہی احکام و ان کے دلائل شامل ہیں۔<ref>محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 314.</ref>


اسی طرح «نور» کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ انجیل میں شرعی احکام کی وضاحت،<ref>محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref> دلائل، مثالیں، فضائل اور حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اقدار بیان کی گئی ہیں<ref>محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.</ref> اور یہ جہالت اور نادانی کی تاریکیوں کو دور کرتی ہے۔<ref>محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358.</ref>
اسی طرح «نور» کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ انجیل میں شرعی احکام کی وضاحت،<ref>محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref> دلائل، مثالیں، فضائل اور حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اقدار بیان کی گئی ہیں<ref>محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.</ref> اور یہ جہالت اور نادانی کی تاریکیوں کو دور کرتی ہے۔<ref>محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358.</ref>
سطر 302: سطر 258:
جبکہ «موعظہ» سے مراد گناہوں سے بچنے کے احکام، عبادات کی تاکید اور بلیغ نصیحتیں ہیں۔<ref>فضل‌بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 311 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref>
جبکہ «موعظہ» سے مراد گناہوں سے بچنے کے احکام، عبادات کی تاکید اور بلیغ نصیحتیں ہیں۔<ref>فضل‌بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 311 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.</ref>


== رسولِ اکرم صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت کی بشارت ==
==== رسولِ اکرم صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت کی بشارت ====


[[قرآن]] کی بعض [[آیات]] کی صریح نص اور بعض دیگر کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت، نام اور صفات تورات اور انجیل میں مذکور تھیں۔ قرآن میں اس موضوع کو خاص اہمیت دی گئی ہے:
[[قرآن]] کی بعض [[آیات]] کی صریح نص اور بعض دیگر کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ [[محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا)]] صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت، نام اور صفات تورات اور انجیل میں مذکور تھیں۔ قرآن میں اس موضوع کو خاص اہمیت دی گئی ہے:
سطر 328: سطر 284:
[[زمرہ:آسمانی کتابیں]]
[[زمرہ:آسمانی کتابیں]]


[[ar:زبور]]
[[fa:انجیل]]
[[en:Zabur]]
[[fa:زبور]]

نسخہ بمطابق 14:54، 26 اپريل 2026ء

اِنجیل (یونانی لفظ εὐαγγέλιον – اِئوانگِلیون / euangelion کا عربی شدہ روپ، بمعنی خوش خبری یا مژدہ) مسیحی مذہب کی مقدس کتاب ہے۔ عہدِ جدید کی پہلی چار کتابیں، جو بالترتیب مَتّی، مَرقُس، لوقا اور یوحنا کی طرف منسوب ہیں، انجیل کہلاتی ہیں۔ مسیحیوں کے نزدیک انجیل کوئی ایسی آسمانی کتاب نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام پر نازل ہوئی ہو، بلکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ عیسیٰ خود مجسم وحی اور خدا کا عین پیغام تھے۔

قرآنِ کریم اور اسلامی احادیث میں، انجیل اس کتاب کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ‌السلام) پر وحی کے ذریعے نازل فرمائی۔ لیکن ادیان کی تاریخ سے متعلق کتابوں میں، اور خصوصاً مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق، وہ کتابیں جو مسیحیت کے ابتدائی صدیوں میں حضرت مسیح کے اقوال اور اعمال کو محفوظ کرنے کے لیے لکھی گئیں، انجیل کہلاتی ہیں۔

انجیلوں کے مصنفین نے حضرت عیسیٰ مسیح کی زندگی کے حالات و واقعات لکھتے وقت ان بیانات اور روایات سے استفادہ کیا جو ان کے شاگردوں اور عینی شاہدین کے ذریعے ان تک پہنچے تھے۔

کتابِ آسمانی

اسلام کے نقطۂ نظر کے مطابق انجیل ایک آسمانی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام پر نازل فرمائی تاکہ وہ اسے لوگوں تک پہنچائیں۔ یہ کتاب ہدایت، نصیحت اور احکامِ الٰہی پر مشتمل تھی۔ لیکن مسیحی اس تصور کو سرے سے قبول نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ نے کوئی کتاب لائی تھی۔ اس معنی میں وحی لانا، جس طرح حضرت موسیٰ نے تورات اور حضرت محمد ﷺ نے قرآن پہنچایا، مسیحی الہیات میں کوئی جایگاہ نہیں رکھتا۔ اناجیلِ اربعہ حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے شاگردوں نے لکھے، اور مختلف انجیلوں میں سے انہی کو منتخب اور رائج کیا گیا۔

مسیحیوں کے نزدیک انجیل کی حقیقت یہ ہے کہ وہ نجات کی بشارت ہے جو خدا کے عیسیٰ میں مجسّم ہونے، صلیب اور وفات کے بعد ان کے زندہ ہونے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان انجیل کے تصور میں دو بالکل مختلف قراءتیں موجود ہیں۔

جدید انگریزی میں لفظ Gospel کا استعمال انجیل کے معنی میں ہوتا ہے،[1] جس کی اصل قدیم انگلوسیکسن زبان کا لفظ God‑Spell ہے۔[2] یہ لفظ دو اجزاء God اور Spell پر مشتمل ہے، اور مجموعی طور پر اس کے معنی کلامِ الٰہی،[3] یا خداوند کا املا[4] یا خوش خبری [5] کے ہیں۔

یہ لفظ یونانی Evangelion (اوانگلیون) کا ترجمہ ہے جو لاطینی میں Evangelium (اوانجِلیوم)بنا۔ یہ لفظ فرانسیسی، جرمن، اطالوی اور دیگر نئی یورپی زبانوں میں بھی داخل ہوا۔ [6]

چونکہ ابتدائی مسیحی متون یونانی زبان میں لکھے گئے تھے، لہٰذا ’’انجیل‘‘ کا ماخذ بھی بالآخر اسی یونانی لفظ اوانگلیون کی طرف جاتا ہے؛ البتہ یہ لفظ عربی میں کس راستے سے داخل ہوا — مستقیم یا بالواسطہ — اس میں اختلاف ہے۔

نولدکے (Nöldeke) اس بات پر دلیل قائم کرتا ہے کہ یہ لفظ حبشی زبان کے لہجے Wangel کے ذریعے عربی میں آیا۔[7]

کچھ محققین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ لفظ براہِ راست یونانی سے یا سریانی، عبری یا سبائی زبانوں کے ذریعے عربی میں پہنچا۔[8]

بعض مسلمان مفسّرین نے، اسے عربی ثابت کرنے کے لیے، اسے وزنِ افعیل پر ایک عربی لفظ قرار دیتے ہوئے ن ج ل سے مشتق بتایا ہے، اور اس کے لیے مختلف معانی بھی بیان کیے ہیں:[9] لیکن عربی لغت نگاروں نے اس رائے کو قبول نہیں کیا۔ [10]

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ لفظ دخیل ہے، اور اس کا اصل عبری، یونانی یا سریانی ہے۔ [11]

زیادہ تر مسلم مفسّرین بھی انجیل کو غیر عربی (دخیل) لفظ مانتے ہیں،[12] اور زمخشری و بیضاوی جیسے علماء اس لفظ کو عربی قرار دینے کی کوشش کو درست نہیں سمجھتے۔[13]

مسیحی دینی ادب میں ’’انجیل‘‘

مسیحیوں کا تصورِ انجیل، اسلامی تصور سے یکسر مختلف ہے۔ انجیل بطور وحیِ مکتوب جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام پر نازل ہوئی ہو، بالکل اسی طرح جیسے تورات یا قرآن، مسیحی الہیات میں کوئی مقام نہیں رکھتی۔

مسیحی یہ مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ خود ’’تجسّمِ وحی‘‘ تھے—یعنی وہ خدا کا مجسّم کلام تھے، نہ کہ وحی کے حامل۔ اس لیے وہ یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ حضرت عیسیٰ نے کوئی کتاب لکھی یا اپنے شاگردوں کو املا کروائی۔ [14]

ان کے نزدیک ’’انجیل‘‘ سے مراد وہ بشارت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام اور ان کی نجات دہندہ حیثیت کے بارے میں ہے۔ [15] یہ مفہوم سب سے زیادہ پولس کے خطوط میں نظر آتا ہے۔ [16]

بعض مسیحی علماء ’’انجیل‘‘ کے مفہوم میں فداء (Atonement) کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں:[17] یعنی مسیح علیہ‌السّلام نے اپنی مصیبت، موت اور قیامت کے ذریعے انسان کے گناہوں کا کفّارہ ادا کیا۔

موجودہ ’’چار اناجیل‘‘ دراصل عہد جدید کی پہلی چار کتابیں ہیں، اور یہ نام دوسری صدی کے آخر میں ان تحریروں پر رکھا گیا جن میں حضرت عیسیٰ کی زندگی، معجزات، تعلیمات، اقوال اور صعود کا بیان ہے۔[18] کیونکہ یہ تحریریں ’’انسان کے لیے سب سے بہتر بشارت‘‘ رکھتی ہیں۔ [19]

ان چار کتابوں کو ’’انجیل‘‘ کہلانے کی وجہ شاید یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی زندگی اور تعلیمات کو سب سے زیادہ تفصیل سے بیان کیا۔ تاہم عہد جدید کے دیگر حصے بھی ایسے ہیں جو حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل ہیں اور انہیں بھی کبھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔ پولس اپنے خطوط کو کئی بار ’’انجیل‘‘ کہتا ہے، اور بعض اوقات پورے عہد جدید کو بھی ’’انجیل‘‘ کہا جاتا ہے۔[20]

قابلِ توجہ یہ ہے کہ خود اناجیل اور دیگر کتابوں میں لفظ ’’انجیل‘‘ (مفرد صیغہ) استعمال ہوا ہے، اور اس سے مراد چار موجودہ اناجیل نہیں ہوتیں۔ [21] قدیم کلیسا بھی انجیل کی وحدت کا قائل تھا۔ [22]

مسیحی اناجیل کے مصنفین اور عہد جدید کے دیگر لکھاریوں کو نبی نہیں مانتے، لیکن یہ عقیدہ ضرور رکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ متون الہام اور خدائی رہنمائی سے لکھے ہیں۔ [23] وہ خود بھی اس بات کا ذکر کرتے ہیں۔ [24]

لیکن یہ کہ آخر بے شمار اناجیل، خطوط، مکاشفات اور دیگر تحریروں میں سے صرف ۲۷ کتابیں ہی ’’وحی الٰہی‘‘ کی حامل کیوں مان لی گئیں—اس کی کوئی مدلّل اور واضح وجہ مسیحی الہیات میں موجود نہیں۔ بعض نے اسے ’’روح القدس کی رہنمائی‘‘ قرار دیا ہے۔ [25]

مسیحی جو لوگ قرآن کے عیسٰی اور انجیل کے تصور سے واقف ہیں، انجیل کو ’’آسمانی کتاب‘‘ کہنا قبول نہیں کرتے۔ قرآن میں لفظ ’’انجیل‘‘ کا جمع (اناجیل) نہ آنا بھی وہ ایک اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ قرآن کی بعض روایات — جیسے تازہ کھجور کا معجزہ، [26] گہوارے میں گفتگو، [27] گلین پرندوں کا جاندار بن جانا، [28] کو ’’غیر رسمی یا غیر معتبر اناجیل‘‘ سے لیا ہوا سمجھتے ہیں۔ [29]

لیکن یہ اعتراض اس حقیقت کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے کہ قرآن وحیِ الٰہی ہے، جب کہ اناجیل بشری تحریریں ہیں جن کی متعدد نسخے اور تاریخی اختلافات موجود ہیں۔

انجیل کی تاریخ

مسیحیت کی تاریخ کے ابتدائی دو تین عشروں اور اس بات کے بارے میں کہ اس زمانے میں ’’انجیل‘‘ نامی کوئی کتاب موجود تھی اور وہ حضرت مسیح علیہ‌السلام سے منسوب تھی، مسیحی اور اسلامی متون سے ہٹ کر مستقل تاریخی منابع میں خاصی ابہام کی کیفیت پائی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض محققین نے خود حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے وجود کے بارے میں بھی تردید ظاہر کی ہے۔[30]

تاہم تاریخی روایات کی کمی اس بات کی دلیل نہیں بن سکتی کہ انجیل تاریخی طور پر موجود ہی نہ تھی۔ ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے ظہور اور ان پر نازل ہونے والی وحی سے متعلق بعض تفصیلات کسی نامعلوم وجہ سے تاریخ میں درج نہ ہو سکیں یا بعد میں ضائع ہو گئی ہوں۔ البتہ اناجیلِ اربعہ میں بعض مقامات پر خود حضرت مسیح علیہ‌السلام کی انجیل کا ذکر بھی ملتا ہے۔[31]

عیسوی تاریخ کے ابتدائی تیس سے چالیس برسوں تک مسیحیت کی تعلیمات زیادہ تر زبانی طور پر اور کبھی خطوط کے ذریعے پھیلائی جاتی تھیں۔ حواری اپنے وعظ و نصیحت میں حضرت مسیح علیہ‌السلام کی تعلیمات بیان کرتے اور آپ کی زندگی کے واقعات کے ذریعے انہیں واضح کرتے تھے۔ لیکن رسائل اور زبانی روایات کی محدودیت نے بالآخر انجیلوں کی تحریر کا راستہ ہموار کیا۔[32]

اسی بنا پر عہد جدید کی تصنیف اور اس مجموعے کی تشکیل، جسے آج ’’مسیحیوں کی مقدس کتاب‘‘ کہا جاتا ہے، عموماً پہلی صدی عیسوی کے ابتدائی نصف کے بعد، یعنی حضرت مسیح علیہ‌السلام کے عروج (صعود) کے تقریباً بیس سے تیس سال بعد شروع ہوئی۔[33]

یہ تحریریں حضرت مسیح کے رسولوں اور ان کے شاگردوں کے ذریعے مرتب ہوئیں اور انہیں چار بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا: ’’رسولوں کے خطوط‘‘، ’’اعمالِ رسولان‘‘، ’’اناجیلِ اربعہ‘‘ اور ’’مکاشفات‘‘۔

رسولوں کے خطوط دراصل ان تعلیمات اور ہدایات پر مشتمل ہیں جو پولس، یوحنا، یعقوب، برنابا، یہودا اور پطرس جیسے رسولوں نے مختلف افراد، جماعتوں اور علاقوں کو حضرت مسیح علیہ‌السلام کا پیغام پہنچانے کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے بعض خطوط عہد جدید کے مجموعے میں شامل کیے گئے جبکہ بعض کو ابتدائی صدیوں میں کلیسا نے مسترد کر دیا۔ عہد جدید کے تمام حصوں میں سب سے قدیم تحریریں پولس کے خطوط سمجھی جاتی ہیں۔[34]

’’اعمالِ رسولان‘‘ دراصل حواریوں اور رسولوں کی تبلیغی سرگرمیوں کی رپورٹ ہے جسے لوقا جیسے افراد نے قلم بند کیا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ‌السلام کی زندگی، معجزات، تعلیمات، سیرت اور اقوال کے بارے میں جو تحریریں لکھی گئیں، وہ بھی عہد جدید کا اہم حصہ بن گئیں۔ یہ تحریریں یا تو مصنفین کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھیں یا انہوں نے عینی شاہدین سے سن کر انہیں قلم بند کیا تھا۔ ان تحریروں کو پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے آغاز تک ’’رسولوں کی یادداشتیں‘‘ کہا جاتا تھا، لیکن دوسری صدی کے اواخر میں انہیں ’’اناجیل‘‘ کا نام دیا گیا۔[35]

مسیحی محققین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی تقریباً پچاس انجیلیں موجود تھیں، تاہم ان میں سے تقریباً بیس کے بارے میں ہی کچھ معلومات دستیاب ہیں۔ ان میں انجیل عبرانیان، انجیل پطرس، انجیل مصریان، انجیل فیلیپ، انجیل توما، انجیل یعقوب، انجیل نیکوداموس، انجیل بارہ حواری، انجیل یہودا اور انجیل مرقیون قابلِ ذکر ہیں۔[36]

اس کے علاوہ بعض دیگر اناجیل بھی موجود تھیں، جیسے ’’عربی انجیلِ طفولیت‘‘ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے بچپن کے معجزات کا بیان ہے۔[37]

دوسری صدی عیسوی کے آخر میں کلیسا کے رہنماؤں نے اس وسیع اور متنوع ذخیرۂ تحریرات میں سے بعض کو کلیسائی تعلیمات کے مطابق قرار دے کر ’’قانونی‘‘ اور معتبر کتابوں کے طور پر منتخب کیا اور انہیں ’’عہد قدیم‘‘ کے ساتھ ’’عہد جدید‘‘ کے نام سے مسیحیوں کی مقدس کتاب کا دوسرا حصہ بنا دیا۔[38]

سن 382ء میں اسقفوں کی ایک مجلس نے 27 کتابوں اور رسائل پر مشتمل ایک فہرست کو حتمی شکل دی، جس کی بعد میں کونسل آف ٹرینٹ (1545–1547ء) نے بھی توثیق کی۔[39]

عہد جدید کا آغاز چار اناجیل سے ہوتا ہے جو متی، مرقس، لوقا اور یوحنا سے منسوب ہیں۔ اس کے بعد ’’اعمال رسولان‘‘ کی کتاب آتی ہے، پھر پولس کے تیرہ یا چودہ خطوط، اس کے بعد یعقوب کا ایک خط، پطرس کے دو خطوط، یوحنا کے تین خطوط اور یہودا کا ایک خط شامل ہیں۔ اس مجموعے کا آخری حصہ ’’مکاشفۂ یوحنا‘‘ ہے۔

مضمون کے اعتبار سے عہد جدید کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: تاریخی، عقیدتی اور پیش گوئی پر مبنی حصہ۔

چار اناجیل اور ’’اعمال رسولان‘‘ عہد جدید کے تاریخی حصے کو تشکیل دیتے ہیں اور بنیادی طور پر حضرت مسیح علیہ‌السلام اور حواریوں کی زندگی اور سرگرمیوں کی تاریخ تقریباً 63ء تک بیان کرتے ہیں۔[40]

عہد جدید کا عقیدتی حصہ اس میں شامل 21 خطوط پر مشتمل ہے جن میں عیسائی عقائد کی وضاحت، ان کا دفاع اور دیگر نظریات کی تردید کی گئی ہے۔ پیش گوئی سے متعلق حصہ آخری زمانے کے واقعات اور حضرت مسیح علیہ‌السلام کی دوبارہ آمد سے متعلق ہے، جو ’’مکاشفۂ یوحنا‘‘ میں خواب اور الہامی مناظر کی صورت میں بیان ہوا ہے۔

عہد جدید کے مجموعے میں عقائد اور عملی تعلیمات کے لحاظ سے ایک طرح کی دوگانگی اور عدمِ ہم آہنگی بھی نظر آتی ہے۔ اس کا ایک حصہ عہد قدیم کا تسلسل معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح علیہ‌السلام کو انسان اور خدا کے رسول کے طور پر پیش کرتے ہوئے شریعتِ موسوی کی پابندی پر زور دیتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ ان کی الوہیت پر تاکید کرتا ہے اور شریعت موسوی کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتا۔ یہ اختلاف دراصل پطرس اور پولس کے درمیان موجود فکری اور عقیدتی کشمکش کی جھلک ہے۔[41]

وہ دیگر تحریریں جنہیں کلیسا نے قبول نہیں کیا ’’اپوکریفا‘‘ کہلاتی ہیں، یعنی مشتبہ یا غیر معتبر کتابیں۔ ان میں سے بہت سی تحریریں ضائع ہو چکی ہیں اور بعض اب بھی موجود ہیں۔[42]

انجیل برنابا، جو یوسف کے ساتھی برنابا سے منسوب ہے اور پولس و مرقس کا دوست بتایا جاتا ہے، اسی نوع کی ایک انجیل ہے۔ چوتھی صدی عیسوی کے بعد کلیسا نے اس کے مطالعے کو ممنوع قرار دے دیا۔ بعض محققین نے اسے اسلام اور مسیحیت کے درمیان گم شدہ رابطہ قرار دیا ہے۔

اگرچہ اس انجیل کی بعض تعلیمات اسلامی اور سرکاری مسیحی عقائد دونوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں، تاہم اس میں کئی بنیادی نکات ایسے ہیں جو قرآن کے ساتھ قابلِ ذکر موافقت رکھتے ہیں۔ مثلاً حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی صریح بشارت، حضرت مسیح علیہ‌السلام کی الوہیت اور ابنیت کی نفی، حضرت اسماعیل علیہ‌السلام کو ذبیح قرار دینا نہ کہ حضرت اسحاق علیہ‌السلام کو، اور حضرت عیسیٰ علیہ‌السلام کے مصلوب نہ ہونے بلکہ یہودا اسخریوطی کے ان کی جگہ قتل کیے جانے کا بیان۔

چار اناجیل (اناجیلِ اربعہ)

عہد جدید کے معروف ترین حصّوں میں سب سے پہلے چار اناجیل کا تذکرہ آتا ہے۔ مسیحی الہیات میں اس بات پر ایمان رکھا جاتا ہے کہ انجیلیں اور عہد جدید کے دیگر اجزاء حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام پر ’’وحی‘‘ کی صورت میں نازل نہیں ہوئے، بلکہ یہ حضرت مسیحؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد عام انسانوں نے تحریر کیے۔[43]

اناجیل کے مصنفین کے نام پر انہیں انجیل متّی، انجیل مرقس، انجیل لوقا اور انجیل یوحنا کہا جاتا ہے۔ ان کے زمانۂ تالیف، مصنفین کی حقیقی شناخت اور ان کی سند کے تسلسل پر وسیع تحقیقی کام ہونے کے باوجود ان مسائل میں کوئی قطعی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ اگرچہ بہت سے سنجیدہ اعتراضات اور علمی چیلنج موجود ہیں، لیکن بعض قرائن اور شواہد کی بنا پر کچھ مضبوط احتمالات بھی پیش کیے گئے ہیں۔[44]

انجیلِ مرقس

روایات کے مطابق مرقس حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے صحابی نہیں تھے، بلکہ پطرس حواری کے دوست، ہم سفر اور شاگرد تھے۔ کبھی کبھی وہ پولس کے ساتھ بھی سفر کرتے تھے اور اپنی روایات پطرس سے حاصل کرتے تھے۔[45]

ان کی انجیل اناجیل میں سب سے مختصر سمجھی جاتی ہے، اسے رومی زبان میں لکھا ہوا قرار دیا گیا ہے،[46] اور اکثر محققین کے مطابق اس کی تصنیف 65 سے 70 عیسوی کے درمیان روم میں ہوئی۔[47]

انجیلِ متّی

یہ اناجیل میں سب سے مفصل ہے اور اسے متّی حواری سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جدید نقّادیوں سے پہلے اسے سب سے قدیم انجیل سمجھا جاتا تھا اور اس کی تصنیف 38 سے 60 عیسوی کے درمیان قرار دی جاتی تھی۔[48]

تاہم محققین نے اندرونی شواہد اور انجیل مرقس کے پورے مواد کے اس میں شامل ہونے کی بنا پر یہ رائے اختیار کی کہ اس کی تالیف بھی 65 سے 70 عیسوی کے درمیان اور مرقس کے بعد ہوئی۔[49]

اس کا اصل نسخہ عبرانی زبان میں تھا، لیکن اب موجود نہیں۔ بعد میں اسے یونانی سمیت دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔[50]

محققین نے اس کی نسبت متّی حواری کی طرف مشکوک قرار دی ہے،[51] اور یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اسے کوئی دوسرا شخص لکھنے والا تھا جس کا نام متّی جیسا تھا۔[52]

اکثر محققین اس کے لکھے جانے کی جگہ کو انطاکیہ قرار دیتے ہیں۔[53]

انجیلِ لوقا

لوقا حواری نہیں تھے، انہوں نے حضرت مسیح علیہ‌السّلام کو نہیں دیکھا، اور نصرانیت انہوں نے پولس سے سیکھی۔ انجیل لوقا کی زیادہ تر روایات مرقس اور متّی سے ماخوذ سمجھی جاتی ہیں۔[54]

یہ تینوں اناجیل (مرقس، متّی، لوقا) مشترکات کی وجہ سے ’’ہمنوا اناجیل‘‘ کہلاتی ہیں۔[55]

روایتی مسیحی نقطۂ نظر میں اسے لوقا (پولس کے ساتھی) کی تصنیف مانا جاتا ہے۔ اس کی تحریر کا زمانہ 70 سے 90 عیسوی کے درمیان، اور زیادہ امکان کے ساتھ 80 تا 85 عیسوی بتایا جاتا ہے۔[56]

اس میں حضرت عیسیٰ علیہ‌السّلام کے بچپن سے متعلق بعض حکایات ایسی ہیں جو دیگر اناجیل میں موجود نہیں۔[57]


انجیلِ یوحنا

یہ چاروں میں سب سے آخری انجیل ہے۔[58] اس کی تاریخِ تالیف کے بارے میں اختلافات بہت زیادہ ہیں۔ بعض نے اسے 65 عیسوی تک قدیم بتایا ہے، لیکن زیادہ مضبوط اور روایتی مسیحی نقطۂ نظر کے مطابق اس کی تصنیف 90 سے 115 عیسوی کے درمیان ہوئی۔[59]

یوحنا کو حضرت مسیحؑ کا محبوب ترین شاگرد کہا جاتا ہے، لیکن اس انجیل کی نسبت ان کی طرف بھی قابلِ توجہ اختلافات موجود ہیں۔

انجیل یوحنا تینوں اناجیل سے بالکل مختلف ہے اور اس میں حضرت مسیحؑ کی زندگی کے بیانات کے ساتھ یونانی فلسفیانہ افکار بھی شامل نظر آتے ہیں۔[60]

جزیرۂ عرب میں انجیل

یہ کہا جاتا ہے کہ سن 400 عیسوی تک مشرق وسطی کے علاقوں، خاص طور پر شام میں رائج سرکاری انجیل ایک واحد انجیل تھی جو چاروں اناجیل کے ادغام سے تیار کی گئی تھی۔ [61]

اس انجیل کو دیاتسرون (Diatessaron) کہا جاتا تھا۔ اسی بنا پر یہ احتمال موجود ہے کہ قرآن کے نزول کے زمانے میں بھی یہ انجیل کم و بیش جزیرۂ عرب کے نصارا میں رائج رہی ہو۔ [62]

اس وقت اس انجیل کا اصل مکمل نسخہ جو زبانِ سُریانی میں تھا، موجود نہیں ہے اور صرف اس کے بعض حصّوں کے ترجمے مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں۔ [63]

ایک اور انجیل جو ممکن ہے اُس زمانے میں رائج رہی ہو، وہ بچپن کی انجیل ہے جو زبان عربی میں تھی (Arabic Infancy Gospel)۔ اس میں حضرت عیسی علیه‌السّلام کے بچپن کی کچھ روایات بیان کی گئی ہیں، جو اس موضوع میں قرآن کریم میں مذکور داستانوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔

انجیل قرآن میں

لفظ «انجیل» قرآن کی 6 سورہ کی 12 آیات میں کل 12 بار، اور ہمیشہ مفرد صورت میں، صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ [64]

اسی طرح متعدد مقامات پر «ما بَینَ یَدَیه» [65] اور «الَّذی بَینَ یَدَیه» [66] جیسے تعبیرات کے ذریعے، قرآن سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابوں میں سے ایک کے طور پر اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازاین، «الکِتاب» کے مرکبات جیسے «اَهل الکِتاب» [67] اور «الَّذینَ اُوتوا الکِتب» [68] میں، انجیل ان مصادیقِ قطعی میں سے ہے جن پر یہ عناوین اطلاق پاتے ہیں۔

قرآن مختلف مناسبتوں سے انجیل کا ذکر کرتا ہے: اس کے وحیانی ہونے کی تصریح، حضرت عیسی علیه‌السّلام پر آیات کے مجموعہ کی حیثیت سے نازل ہونا [69]، تورات کی حقانیت پر اس کی گواہی [70]، قرآن کا اس کی تصدیق کرنا [71]، اور محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت اور دعوتِ عام کی بشارت [72] نیز اس کی بعض تعلیمات کے تحریف، کتمان اور حذف ہونے کا بیان [73]۔

انجیل؛ حضرت مسیح علیه‌السّلام کی آسمانی کتاب

قرآن، حضرت عیسی علیه‌السّلام کی بعثت کو رسل کی سلسلہ وار آمد اور کتابوں کے نزول کی تداوم کے طور پر بیان کرتا ہے اور ان کی کتاب آسمانی کا نام صراحت کے ساتھ «انجیل» قرار دیتا ہے اور اس کے وحیانی ہونے پر زور دیتا ہے: [74]

«لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَ أَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ... ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْنَاهُ الْإِنجِیلَ...» [75] و نیز: [76]

آیۂ 30 مریم میں «کتاب» کا لفظ بھی «انجیل» کی طرف اشارہ ہے: [77]

دوسری طرف، اگرچہ انجیلوں کی تعداد بہت زیادہ تھی — خصوصاً نزول کے زمانے میں موجود چار رسمی اناجیل — لیکن قرآن نے انجیل کے متعلق تمام آیات میں واحد صیغہ استعمال کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک حضرت مسیح علیه‌السّلام پر ایک ہی انجیل نازل ہوئی تھی۔

لہٰذا قرآن، اس انجیل کے وحیانی اور یکتائی ہونے کو بیان کرکے موجودہ اناجیل اور عهد جدید کی دیگر تحریروں کے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ عین وہ انجیل نہیں ہیں جو حضرت عیسی علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی،[78] بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کے کچھ اجزاء یا اس کی روایات کی صورتیں اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اور غالب احتمال کے مطابق وہ اصلی انجیل، بعض وجوہات کی بنا پر ضائع ہوگئی۔[79]

ان وجوہات میں نئے مسیحیان کے لیے انتہائی دشوار حالات، اور یہود اور رومی حکومتوں کی سختیوں اور تعاقب کا ماحول شامل ہے۔[80]

اسی طرح، قرآن کا انجیل کو تورات اور قرآن کے ساتھ ایک ‘‘کتاب’’ کے طور پر ذکر کرنا، اس کے آسمانی ہونے اور خارجی موجودیت کا ثبوت ہے: 8 مرتبہ تورات کے جوڑے کے طور پر [81] اور دو مرتبہ تورات و قرآن کے ساتھ اکٹھے: «نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ... وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ...» [82]

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ قرآن نے صرف ‘‘آیات’’ کے ایک وحی شدہ مجموعہ کو ‘‘انجیل’’ کے نام سے بیان کیا ہے، نہ کہ کسی کتابِ مکتوب کو۔ اور حضرت عیسی علیه‌السّلام کی حیات میں اس کی کتابت یا آپ کی املاء کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ لہٰذا ‘‘انجیل’’ کو — اسلامی اصطلاح میں — وہی آیاتِ نازل شدہ مانا جا سکتا ہے، جن میں سے کچھ کو اناجیلِ اربعہ نے (درست یا نادرست) طور پر نقل کیا ہے۔

تورات کی حقّانیت پر انجیل کی گواہی

قرآن کریم، حضرت عیسی علیه‌السّلام اور انجیل کو تورات کا تصدیق‌کننده قرار دیتا ہے:

«وَ قَفَّیْنَا عَلَی آثَارِهِم بِعَیسَی‌بْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَ مُصَدِّقا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ....» [83]

«تصدیق» کا دو بار تکرار اور الگ الگ حضرت عیسی علیه‌السّلام اور ‘‘انجیل’’ کی طرف نسبت اس بات کی دلیل ہے کہ تورات کی حقّانیت اور الٰہی نزول کی گواہی، مسیح علیه‌السّلام کے اقوال سے بھی ثابت ہے، اور انجیل کی آیات سے بھی۔

مراد یقیناً وہ **اصلی تورات** ہے جو حضرت موسی علیه‌السّلام پر نازل ہوئی تھی، نہ کہ وہ موجودہ تورات جس میں تحریفات شامل ہوچکی تھیں۔[84]

بعض مفسرین کے مطابق، انجیل نے تورات کے بیشتر احکام کی تائید اور تکمیل کی، اور صرف محدود احکام میں نسخ آیا ہے۔[85] اناجیلِ رسمی (مثلاً انجیل متّا) میں بھی یہی بات حضرت مسیح علیه‌السّلام کے اقوال میں موجود ہے۔[86]

بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض غذائیں، جو تورات میں بنی‌اسرائیل پر حرام کردی گئی تھیں، انجیل کے ذریعے حلال قرار پائیں: «وَلِأُحِلَّ لَکُم بَعْضَ الَّذِی حُرِّمَ عَلَیْکُمْ.» [87]

قرآن کی طرف سے انجیل کی تصدیق

خداوند نے متعدد آیات میں قرآن کریم کو سابقہ آسمانی کتابوں، خصوصاً تورات و انجیل، کا ‘‘مصدّق’’ قرار دیا ہے:

«وَ أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتَابِ وَ مُهَیْمِنا عَلَیْهِ...» [88]

مفسرین نے ‘‘تصدیق’’ کے معنی میں مختلف آراء پیش کی ہیں: اس سے مراد ان کتابوں کے الٰہی نزول کی تصدیق یا ان کی بعض تعلیمات کی تائید یا یہ کہ انہی کتابوں نے قرآن کی آمد کی پیشگوئی کی تھی [89]

دقت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ‘‘تصدیق’’ کے آیات دو گروہوں میں تقسیم ہوتی ہیں:

  1. الف) «الَّذی بَینَ یَدَیه» والی آیات

یہ آیات واضح طور پر قرآن کے ذریعے اصل نازل شدہ کتابوں کی تصدیق بیان کرتی ہیں، نہ کہ موجودہ محرف نسخوں کی۔ [90]

  1. ب) «لِما مَعَکُم» والی آیات

یہ آیات اہلِ کتاب کے پاس موجود تحریروں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، لیکن تمام مواد کی نہیں بلکہ صرف غیرمحرف حصوں کی تائید کرتی ہیں۔[91]

موجودہ اناجیل میں کئی ایسی عقائد اور نسبتیں موجود ہیں جو حضرت عیسی علیه‌السّلام اور توحید کے مخالف ہیں — مثلاً صلیب پر قتل، الوہیتِ عیسی، ‘‘پسر خدا’’ ہونا، «تثلیث» وغیرہ — اور قرآن ان سب کو باطل قرار دیتا ہے۔ [92]

اجمالی طور پر نزول کے زمانے کے اناجیل کی موجودگی کا مفہوم بعض دیگر آیات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سورۂ مائدہ کی آیت 66 قابلِ ذکر ہے جس میں اہلِ کتاب کو تورات اور انجیل کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کا نتیجہ آسمان اور زمین کی برکتوں سے بہرہ مند ہونا ہوگا: «وَ لَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِن رَّبِّهِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَ مِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم....»

مفسرین کے نزدیک تورات اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان دونوں کی تعلیمات پر ایمان اور عمل ہے، جو مبدأ اور معاد سے متعلق عقائد،[93] الٰہی احکام اور حدود[94] نیز محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی الله علیه و آله کی بشارت کے اعتراف پر مشتمل ہیں،[95] اور یہ سب کچھ کسی قسم کی تحریف یا کتمان کے بغیر ہونا چاہیے۔[96]

لہٰذا کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں موجود اناجیل میں الٰہی نازل شدہ انجیل کی کچھ تعلیمات ضرور موجود تھیں۔ بصورتِ دیگر، جب حقیقی انجیل ہی موجود نہ ہوتی تو اس کے قیام کی دعوت دینا عقلی طور پر درست نہ ہوتا۔ اسی طرح کی ضمنی اور اجمالی تائید سورۂ مائدہ کی آیت 68 سے بھی ملتی ہے: «قُلْ یَا أَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِیلَ وَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِن رَّبِّکُمْ....»

اس آیہ کے شأن نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعض یہودیوں نے محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله سے پوچھا کہ کیا وہ تورات کی تصدیق کرتے ہیں؟ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے کہا: ہم بھی تورات کو مانتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے۔ اس پر خدا نے اس آیت کے ذریعے اعلان کیا کہ تورات اور انجیل پر ایمان اور عمل کے بغیر ان کا دین و مذہب بے بنیاد اور بے وقعت ہے۔ اور ان دونوں پر حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله اور قرآن پر بھی ایمان لایا جائے۔

قرآن کریم ایک اور مقام پر انجیل کے پیروکاروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے: «وَلْیَحْکُمْ أَهْلُ الإِنجِیلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِیهِ....» [97]

یہ آیت بھی نزول کے زمانے کے اناجیل کی ضمنی اور اجمالی تائید کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

انجیل کی تعلیمات

قرآن کریم کبھی بعض عمومی اوصاف کے ذریعے اور کبھی بعض واضح احکام و تعلیمات کا ذکر کرکے انجیل کے مندرجات کی نسبتاً مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ ان میں سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

ہدایت، نور اور نصیحت

«... وَ آتَیْنَاهُ الإِنجِیلَ فِیهِ هُدی وَ نُورٌ وَمُصَدِّقا لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدی وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِینَ.» [98]

مفسرین کے مطابق «ہدایت» سے مراد ایسی تعلیمات ہیں جن میں خدا کی توحید، اس کو بیوی، اولاد، شریک اور ہمسر سے پاک قرار دینا،[99] معاد سے متعلق معارف،[100] انبیا کی تصدیق و تنزیہ، بعثت محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بشارت،[101] اور الٰہی احکام و ان کے دلائل شامل ہیں۔[102]

اسی طرح «نور» کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ انجیل میں شرعی احکام کی وضاحت،[103] دلائل، مثالیں، فضائل اور حق کی طرف رہنمائی کرنے والی اقدار بیان کی گئی ہیں[104] اور یہ جہالت اور نادانی کی تاریکیوں کو دور کرتی ہے۔[105]

جبکہ «موعظہ» سے مراد گناہوں سے بچنے کے احکام، عبادات کی تاکید اور بلیغ نصیحتیں ہیں۔[106]

رسولِ اکرم صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت کی بشارت

قرآن کی بعض آیات کی صریح نص اور بعض دیگر کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد بن عبد‌الله (خاتم الانبیا) صلی‌الله‌علیه‌وآله کی بعثت، نام اور صفات تورات اور انجیل میں مذکور تھیں۔ قرآن میں اس موضوع کو خاص اہمیت دی گئی ہے:

«الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ الَّذِی یَجِدُونَهُ مَکْتُوبا عِندَهُمْ فِی التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِیلِ....» [107]

آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ «رسول»، «نبی» اور «اُمّی» کی تینوں صفات تورات اور انجیل میں آنحضرت کے لیے بیان ہوئی ہیں۔[108]

ایک اور آیت میں حضرت عیسی علیہ‌السلام کی زبان سے اس رسول کا نام بھی بیان کیا گیا ہے جو ان کے بعد آنے والا ہے:

«وَ مُبَشِّرا بِرَسُولٍ یَأْتِی مِن بَعْدِی اسْمُهُ أَحْمَدُ....» (صف: 6)

کچھ مسلمان مفسرین اور محققین نے موجودہ اناجیل میں اس بشارت کو لفظ **«فارقلیط» (Paraclete)** سے مربوط کیا ہے۔ تاہم بعض مسیحی محققین اس تطبیق کو درست نہیں مانتے اور اسے «روح القدس» پر محمول کرتے ہیں۔[109]

قرآن کے مطابق تورات اور انجیل میں آنحضرت کے بارے میں اتنی واضح نشانیاں موجود تھیں کہ اہلِ کتاب خصوصاً ان کے علماء کے لیے آپ کو پہچاننا مشکل نہ تھا:

«الَّذِینَ آتَیْنَاهُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمْ....» [110]

تاہم بعض لوگ مختلف محرکات کی بنا پر اس حقیقت کو چھپاتے تھے۔

حوالہ جات

  1. منیر بعلبکی، المورد قاموس انکلیزی ـ عربی، بیروت، دارالعلم للملایین، 1995، ص 395.
  2. Encyclopedia Of Religion and Ethics, James Hastings (ed), New York, Charles Scribners Sons, 13 Vols, Vol. 6, p. 333.
  3. Ibid, Vol. 6, p. 333.
  4. محمدرضا زیبائی‌نژاد، مسیحیت‌شناسی مقایسه‌ای، تهران، سروش، 1382، ص 139.
  5. The Catholic Encyclopedia, Charles G. Herrermann (ed), New York, The Encyclopedia Press, Inc, 1913, Vol. 6, p. 656.
  6. Ibid; Britannica, 2002, Deluxe Edition CD‑Rom, Vol. 5, p. 379.
  7. Encyclopedia Of Islam, prepared by a Number of Leading Orientalists, Leiden, 1986, Vol. 3, p. 1205.
  8. آرتور جعفری، واژه‌های دخیل در قرآن، ترجمۂ فریدون بدره‌ای، توس، 1372، ص 131 ـ 132.
  9. محمدبن حسن طوسی، التبیان … ج 3، ص 542 / فضل‌بن حسن طبرسی، مجمع‌البیان … ج 2، ص 6 / محمدبن احمد قرطبی، الجامع … ج 4، ص 6.
  10. سید محمدمرتضی حسینی زبیدی، تاج العروس … ج 8، ص 128 / ابن منظور، لسان العرب … ج 14، ص 58 / حسن مصطفوی، التحقیق … ج 12، ص 39، مادہ نجل.
  11. ابن اثیر، النهایه … ج 5، ص 23 / فخرالدین طریحی، مجمع البحرین … ج 4، ص 274 / ابن منظور، پیشین، ج 4، ص 58.
  12. محمدبن عمر فخر رازی، التفسیر الکبیر … ج 7، ص 171 / محمد رشید رضا، تفسیر المنار … ج 3، ص 158 / محمود آلوسی، روح المعانی … ج 3، ص 124.
  13. زمخشری، الکشاف … ج 1، ص 335 / بیضاوی، تفسیر بیضاوی … ج 1، ص 237 / قمی مشهدی، کنزالدقائق، ص 237.
  14. توماس میشل، کلام مسیحی … ص 49 ـ 50 / و. م. میلر، تاریخ کلیسا … ص 66.
  15. New Catholic Encyclopedia, 2nd ed., Vol. 6, p. 366.
  16. رومیان، 1:1، 9، 16.
  17. Encyclopedia Of Fundamentalism, Brenda E. Brasher (ed), 2002, p. 193.
  18. New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.
  19. مستر ہاکس، قاموس کتاب مقدس، ص 111.
  20. … ر. ک. انجیل عیسی مسیح ترجمه تفسیری عهد جدید … انجیل شریف …
  21. و. م. میلر، پیشین، ص 66.
  22. The New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.
  23. توماس میشل، پیشین، ص 50 ـ 51.
  24. ہمان، ص 43 و 50 / میلر، پیشین، ص 70.
  25. ویلیام گلبن … دوم تیموتاؤس، 3:16.
  26. مریم 24 ـ 26
  27. مریم 29 ـ 33
  28. آل عمران 49؛ مائدہ 110
  29. Encyclopedia of Islam, Vol. 3, pp. 1205–1206.
  30. ویل دورانت، تاریخ تمدّن، ترجمہ احمد آرام، ع. پاشایی و امیرحسین آریان‌پور، چ ششم، تهران، علمی و فرهنگی، 1378، ج 3، ص 651 / سید جلال‌الدین آشتیانی، تحقیقی در دین مسیح، تهران، نگارش، 1368، ص 170 ـ 174؛ Carl Lofmark, What is the Bible, 1990, P. 66.
  31. فاضل خان‌همدانی، پیشین / انجیل متی، 26:13 / انجیل مرقس، 14:9 ـ 10.
  32. و. م. میلر، پیشین، ص 66 ـ 69.
  33. عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، مسیحیت، قم، زلال کوثر، 1381، ص 67 / موریس بوکای، القرآن و التوراة والانجیل و العلم، ترجمه قسم الترجمه بالدار، القاهره، مکتبه مدبولی، 1996، ص 107.
  34. جوان، اُ. گریدی، مسیحیت و بدعت‌ها، ترجمه عبدالرحیم سلیمانی اردستانی، قم، طه، 1377، ص 46 ـ 47 / توماس میشل، پیشین، ص 54.
  35. سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 41 ـ 42 / قس. موریس بوکای، پیشین، ص 77.
  36. The International Standard Bible Encyclopedia, Geoffrey W. Bromiley (ed), WM. B. Eerdmans Publishing Company, USA, 1988, Vol. 2, p. 529; Encyclopedia Of Fundamentalism, p. 193; New Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 367.
  37. International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, p. 183.
  38. توماس میشل، پیشین، ص 42.
  39. Carl Lofmark, op.cit., p. 27; The International Standard Bible Encyclopedia, Vol. 1, pp. 601‑606.
  40. The Catholic Encyclopedia, Vol. 6, p. 656; The New International Dictionary of the Bible, p. 105.
  41. عبدالرحیم سلیمانی، «عهد جدید» تاریخ نگارش و نویسندگان، فصلنامه هفت آسمان، قم، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان و مذاهب، ش 3 ـ 4 (1378)، ص 73، 74، 79 و 81.
  42. موریس بوکای، پیشین، ص 103 ـ 105 / محمدجواد شکور، خلاصه ادیان، چ دوم، تهران، شرق، 1362، ص 168.
  43. و. م. میلر، پیشین، ص 67 / توماس میشل، پیشین، ص 28 / محمّدعلی بروّ العاملی، الکتاب المقدّس فی المیزان، بیروت، الدارالاسلامیة، 1413، ص 238.
  44. ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / سید جلال‌الدین آشتیانی، پیشین، ص 57 ـ 70 / موریس بوکای، پیشین، ص 99 ـ 101.
  45. مریل سی بن، معرفی عهد جدید، ترجمه طاطه‌وس میکائیلیان، تهران، حیات ابدی، 1362، ص 171 ـ 173؛ The Encyclopedia of Religion, V, P. 208.
  46. موریس بوکای، پیشین، ص 86 ـ 90.
  47. جماعة من اللاهوتیین، … ص 90 ـ 91 / القس فهیم عزیز، … ص 21 / موریس بوکای، … ص 88.
  48. القس فهیم عزیز، پیشین، ص 247؛ Cross, F.L. … P. 859.
  49. القس فهیم عزیز، پیشین، ص 221 / جماعه من اللاهوتیین، پیشین، ج 5، ص 91.
  50. مستر هاکس، پیشین، ص 782 / محمّدعلی بّرو العاملی، پیشین، ص 244 ـ 245 / The Oxford Dictionary … p.359.
  51. القس فهیم عزیز، پیشین، ص 242 ـ 247؛ The Encyclopedia of Religion, V. 9. P. 285.
  52. القس فهیم عزیز، پیشین، ص 245؛ Achtemeier … P. 613.
  53. مریل سی بن، پیشین، ص 159.
  54. ویل دورانت، پیشین، ج 3، ص 655 / موریس بوکای، پیشین، ص 90 ـ 92.
  55. ویل دورانت… / مستر هاکس… / سلیمانی اردستانی…
  56. The Encyclopedia of Religion … p.51; Harper’s Bible Dictionary p.583.
  57. موریس بوکای، ص 92.
  58. Harper’s Bible Dictionary, P. 583.
  59. القس فهیم عزیز، … ص 560 ـ 561 / مریل سی بن … ص 209 / The new International Dictionary … P. 499, 534.
  60. ویل دورانت… / موریس بوکای…
  61. Britanica, V. 7, P. 69.
  62. Neal Robinson, Jesus in the Quran, The Historical Jesus, P. 8.
  63. New Catholic Encyclopedia, V. 4, P. 731.
  64. آل عمران: 3، 48، 65؛ مائده: 46، 47، 66، 68، 110؛ اعراف: 157؛ توبه: 111؛ فتح: 29؛ حدید: 27
  65. آل‌عمران: 3؛ فاطر: 31؛ احقاف: 30
  66. انعام: 92؛ یونس: 37؛ یوسف: 111؛ سبأ: 31
  67. آل عمران: 64 ـ 65؛ نساء: 171
  68. بقره: 146؛ نساء: 47، 13؛ مائده: 5
  69. آل عمران: 3؛ مائده: 46، 110؛ حدید: 27
  70. مائده: 46
  71. مائده: 48؛ یونس: 37
  72. اعراف: 157؛ فتح: 29
  73. مائده: 14 ـ 15
  74. محمّدبن جریر طبری... ج 6، ص 358 / ...
  75. حدید: 25 و 27
  76. مائده: 46، 110
  77. «قال انّی عبداللّه آتانی الکتاب...» مریم: 30
  78. ...
  79. ...
  80. ...
  81. ...
  82. آل عمران: 3 ـ 4؛ مائده: 46 ـ 48
  83. مائده: 46
  84. ...
  85. ...
  86. ...
  87. آل‌عمران: 50
  88. مائده: 48
  89. ...
  90. یونس: 37؛ یوسف: 111؛ بقره: 97؛ آل‌عمران: 3؛ مائده: 48...
  91. ...
  92. نساء: 157، 171؛ مائده: 17، 72 ـ 73، 116 ـ 117؛ توبه: 30
  93. سید محمّدحسین طباطبایی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.
  94. محمّدبن عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 46 / تفسیر بیضاوی، ج 1، ص 444 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.
  95. ابوجعفر نحّاس، معانی‌القرآن، به کوشش الصابونی، عربستان، جامعة امّ‌القری، 1409، ج 2، ص 337 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 46/ اسماعیل‌بن‌کثیردمشقی، پیشین، ج 1، ص 169.
  96. محمّدبن حسن طوسی، پیشین، ج 3، ص 585 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 341 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 6، ص 37 ـ 38.
  97. مائده: 47
  98. مائده: 46؛ آل‌عمران: 3 ـ 4
  99. محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّد عمر فخررازی، پیشین، ج 12، ص 9 / محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.
  100. محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
  101. محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 3، ج 3، ص 226 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
  102. محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358 / فضل بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 314.
  103. محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
  104. محمّد رشیدرضا، پیشین، ج 6، ص 401.
  105. محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 4، ج 6، ص 358.
  106. فضل‌بن حسن طبرسی، پیشین، ج 3، ص 311 / محمّدبن عمر فخر رازی، پیشین، ج 12، ص 9.
  107. اعراف: 157
  108. محمّدبن جریر طبری، پیشین، مج 6، ج 9، ص 112 ـ 113 / اسماعیل‌بن کثیر دمشقی، پیشین، ج 2، ص 262؛ ج 3، ص 427 / سید محمّدحسین طباطبائی، پیشین، ج 8، ص 280.
  109. عبدالرحیم سلیمانی، «قرآن کریم و بشارت‌های پیامبران»، فصلنامه هفت آسمان، ش 16 زمستان 1381، ص 51 ـ 61.
  110. بقره: 146