مندرجات کا رخ کریں

"حضرت ابراہیم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 51: سطر 51:


یہ بھی کہا گیا ہے کہ سارہ کی وفات کے بعد حضرت ابراہیم نے مزید دو عورتوں سے نکاح کیا، جن میں سے ایک سے چار اور دوسری سے سات بیٹے پیدا ہوئے، اس طرح ان کے بیٹوں کی مجموعی تعداد تیرہ تک پہنچ گئی<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۴۱</ref>۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ سارہ کی وفات کے بعد حضرت ابراہیم نے مزید دو عورتوں سے نکاح کیا، جن میں سے ایک سے چار اور دوسری سے سات بیٹے پیدا ہوئے، اس طرح ان کے بیٹوں کی مجموعی تعداد تیرہ تک پہنچ گئی<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۴۱</ref>۔
== حضرت ابراہیم اور دعوتِ توحید ==
== حضرت ابراہیم اور توحید کی دعوت ==
قرآنِ مجید کی روایت کے مطابق ابراہیم نے اس زمانے میں رائج اجرامِ آسمانی کی پرستش کو باطل قرار دے کر لوگوں کو ایک خدا کی عبادت کی طرف دعوت دی۔
قرآن مجید کی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم نے اپنے زمانے میں رائج آسمانی اجرام کی پرستش کو باطل قرار دیتے ہوئے لوگوں کو خدائے یکتا کی عبادت کی طرف دعوت دی۔<ref>انعام/سوره ۶، آیه ۷۶–۷۹</ref>
(انعام، آیات 76 تا 79)


یہ قرآنی روایت، اگرچہ عہدِ عتیق میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا، لیکن یہود کے درمیان معروف رہی ہے اور یوسفوس نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے، نیز بعد کے یہودی مصادر میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ابراہیم کا اپنی قوم کے ساتھ مناقشہ ہوا۔ درحقیقت ابراہیم کی جانب سے اجرامِ آسمانی کی طرف نسبتِ اعتقاد اور پھر ان سے روگردانی اس لیے تھی کہ قوم کو اس عقیدے کی بے اعتباری دکھائی جائے اور انہیں خدا کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا جائے۔ 
یہ قرآنی روایت، اگرچہ عہدِ عتیق میں اس کا ذکر نہیں ملتا، لیکن یہود کے درمیان معروف تھی۔ یوسفوس نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور بعد کے یہودی مآخذ میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے ساتھ مناقشہ کیا۔ حقیقت میں، آسمانی اجرام کی طرف ابراہیم کی ظاہری رجوع اور پھر ان سے انکار کا مقصد یہ تھا کہ اپنی قوم کو اس باطل عقیدے کی بے اعتباری دکھائیں اور انہیں توحید کی طرف متوجہ کریں۔<ref>طوسی، محمد، التبیان فی تفسیر القرآن، ج۴، ص۱۸۶، بیروت، دار احیاء التراث العربی</ref>
(طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، ج۴، ص۱۸۶)


جیسا کہ مسعودی کے بیان کے مطابق سارہ، جو ابراہیم کی زوجہ تھیں، اور لوط جو ان کے بھتیجے تھے، سب سے پہلے لوگ تھے جو ان پر ایمان لائے۔
مسعودی کے بیان کے مطابق، سارہ (زوجہ ابراہیم) اور لوط (ابراہیم کے بھتیجے، ہاران کے بیٹے) وہ اولین افراد تھے جو ان پر ایمان لائے۔<ref>مسعودی، مروج الذهب، ج۱، ص۵۷، به کوشش یوسف اسعد داغر، بیروت، ۱۳۸۵ق</ref> اور فان سترس کے مطابق گویا ابراہیم خود بھی پہلا شخص تھے جنہوں نے اس طریقے سے توحید کی طرف رجوع کیا۔
(مسعودی، مروج الذهب، ج۱، ص۵۷) 
اور فان سترس کے مطابق غالباً ابراہیم خود بھی ان اولین افراد میں سے تھے جنہوں نے اس طریقے سے توحید کی طرف رجوع کیا۔


--------------------------------------------------
== نبوت اور امامتِ حضرت ابراہیم ==
قرآن کی متعدد آیات میں حضرت ابراہیم کی نبوت اور ان کی دعوتِ توحید کا ذکر آیا ہے۔<ref>سوره مریم، آیه ۴۱–۴۸؛ سوره انبیاء، آیه ۵۱–۵۷؛ سوره شعراء، آیه ۶۹–۸۲؛ سوره صافات، آیه ۸۳–۱۰۰؛ سوره زخرف، آیه ۲۶–۲۷؛ سوره ممتحنه، آیه ۴؛ سوره عنکبوت، آیه ۱۶–۲۵</ref>


== نبوت، امامت حضرت ابراہیم == 
اسی طرح سوره احقاف، آیه ۳۵ میں اولوالعزم انبیاء کا ذکر ہے اور روایات کے مطابق حضرت ابراہیم ان میں سے ہیں اور حضرت نوح کے بعد دوسرے اولوالعزم نبی ہیں۔<ref>طباطبائی، المیزان، ج۱۸، ص۲۱۸</ref>
قرآن کی متعدد آیات میں حضرت ابراہیم کی نبوت اور ان کی دعوتِ توحید کا ذکر آیا ہے: 
سورۂ مریم، آیات 41 تا 48 
سورۂ انبیاء، آیات 51 تا 57 
سورۂ شعراء، آیات 69 تا 82 
سورۂ صافات، آیات 83 تا 100 
سورۂ زخرف، آیات 26 و 27 
سورۂ ممتحنہ، آیت 4 
سورۂ عنکبوت، آیات 16 تا 25 


اسی طرح سورۂ احقاف کی آیت 35 میں اولوالعزم انبیاء کا ذکر آیا ہے اور روایات کے مطابق ابراہیم ان میں شامل ہیں اور حضرت نوح کے بعد دوسرے اولوالعزم پیغمبر ہیں۔ 
سوره بقرہ، آیه ۱۲۴ کے مطابق خداوند نے حضرت ابراہیم کو کئی آزمائشوں کے بعد مقامِ امامت پر فائز کیا۔ علامہ طباطبائی کے مطابق یہاں امامت سے مراد باطنی و روحانی ہدایت ہے؛ ایک ایسا منصب جو شدید مجاہدات کے بعد حاصل ہوتا ہے۔<ref>طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۱، ص۲۷۲</ref>
(طباطبائی، المیزان، ج۱۸، ص۲۱۸)


سورۂ بقرہ کی آیت 124 کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو چند آزمائشوں کے بعد مقامِ امامت عطا کیا۔ علامہ طباطبائی کے مطابق اس آیت میں امامت سے مراد باطنی ہدایت ہے؛ ایک ایسا مقام جس تک پہنچنا بلند روحانی اور وجودی کمال کا تقاضا کرتا ہے جو طویل مجاہدات کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
قرآن کے مطابق خدا نے حضرت ابراہیم کو خلیل (دوست) کے طور پر برگزیدہ کیا۔<ref>سوره نساء، آیه ۱۲۵</ref> اس لیے انہیں خلیل اللہ کہا جاتا ہے۔
(المیزان، ج۱، ص۲۷۲)


قرآن کی آیات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو خلیل (دوست) کے طور پر منتخب کیا۔ اسی وجہ سے انہیں خلیل اللہ کہا جاتا ہے۔ 
علل الشرایع میں مذکور روایات کے مطابق کثرتِ سجده، لوگوں کی درخواستوں کو رد نہ کرنا، غیر اللہ سے کچھ طلب نہ کرنا، مہمان نوازی اور شب بیداری ان کے انتخابِ الٰہی کے اسباب تھے۔<ref>صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۳۴–۳۵</ref>
(سورۂ نساء، آیت 125)
== داستان حضرت ابراہیم از نظر قرآن ==
نام حضرت ابراہیم علیہ‌السّلام اور ان سے متعلق داستانیں قرآن کی درج ذیل آیات میں بیان ہوئی ہیں:


علل الشرائع میں نقل شدہ روایات کے مطابق کثرتِ سجدہ، لوگوں کی درخواست کو رد نہ کرنا، غیرِ خدا سے کچھ طلب نہ کرنا، لوگوں کو کھانا کھلانا اور رات کی عبادت کرنا ان وجوہات میں سے ہیں جن کی بنا پر اللہ نے انہیں اپنا خلیل بنایا۔ 
سوره بقره، آیه 124-131 • سوره بقره، آیه 258-260 • سوره آل عمران، آیه 95-97 • سوره نساء، آیه 125 • سوره انعام، آیه 74-90 • سوره انعام، آیه 161 • سوره هود، آیه 69-76 • سوره ابراهیم، آیه 35-41 • سوره نحل، آیه 120-122 • سوره مریم، آیه 41-50 • سوره انبیاء، آیه 51-73 • سوره حج، آیه 26-30 • سوره شعراء، آیه 69-89 • سوره عنکبوت، آیه 26 • سوره عنکبوت، آیه 31 و 32 • سوره احزاب، آیه 7 • سوره صافات، آیه 83-111 • سوره ص، آیه 45-46 • سوره شوری، آیه 13 • سوره زخرف، آیه 28 • سوره ذاریات، آیه 24-37 • سوره نجم، آیه 37 • سوره حدید، آیه 26 • سوره ممتحنه، آیه 4 • سوره اعلی، آیه 18-19
(صدوق، علل الشرائع، ج۱، ص۳۴ و ۳۵)


--------------------------------------------------
قرآن کریم کی روایات سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ‌السّلام بچپن سے لے کر زمانۂ تمیز (وہ وقت جب بچہ صحیح و غلط کو سمجھنے لگے) تک اپنی قوم سے دور ایک گوشۂ تنہائی میں پرورش پاتے رہے۔ جب وہ حدِ تمیز کو پہنچے تو اپنے مخفی مقام سے نکل کر قوم کی طرف آئے اور اپنے والد سے ملے۔ وہاں دیکھا کہ ان کے والد اور پوری قوم بت پرستی میں مبتلا ہے۔ چونکہ وہ پاکیزہ فطرت کے مالک تھے اور خدا نے انہیں ملکوت دکھا کر ان کی تائید کی تھی اور ان کی تمام باتیں اور اعمال حق کے مطابق ہو چکے تھے، اس لیے قوم کی اس روش کو ناپسند کیا اور خاموش رہنا ممکن نہ تھا۔


== داستان حضرت ابراہیم از نظر قرآن == 
لہٰذا اپنے والد سے احتجاج کیا<ref>در تمام مواردی که نام پدر حضرت ابراهیم علیه‌السّلام برده شده است، مراد عموی ایشان است</ref> اور اسے بت پرستی سے روکا اور خدای سبحان کی توحید کی دعوت دی، شاید خدا اسے ہدایت دے اور شیطان کی ولایت سے دور کرے۔ جب والد نے دیکھا کہ ابراہیم ہرگز اپنے عقیدے سے رجوع نہیں کرتے تو اسے خود سے دور کیا اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔
حضرت ابراہیم کا نام اور ان سے متعلق واقعات قرآن کی درج ذیل آیات میں بیان ہوئے ہیں: 
سورۂ بقرہ: 124 تا 131، 258 تا 260 
سورۂ آل عمران: 95 تا 97 
سورۂ نساء: 125 
سورۂ انعام: 74 تا 90 اور آیت 161 
سورۂ ہود: 69 تا 76 
سورۂ ابراہیم: 35 تا 41 
سورۂ نحل: 120 تا 122 
سورۂ مریم: 41 تا 50 
سورۂ انبیاء: 51 تا 73 
سورۂ حج: 26 تا 30 
سورۂ شعراء: 69 تا 89 
سورۂ عنکبوت: 26، 31، 32 
سورۂ احزاب: 7 
سورۂ صافات: 83 تا 111 
سورۂ ص: 45 و 46 
سورۂ شوریٰ: 13 
سورۂ زخرف: 28 
سورۂ ذاریات: 24 تا 37 
سورۂ نجم: 37 
سورۂ حدید: 26 
سورۂ ممتحنہ: 4 
سورۂ اعلیٰ: 18 و 19 


قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم بچپن سے لے کر شعور کی عمر تک اپنے معاشرے سے دور ایک پناہ گاہ میں زندگی گزارتے رہے۔ جب وہ سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچے تو اپنی قوم کے درمیان آئے اور دیکھا کہ ان کے والد اور پوری قوم بتوں کی عبادت کرتی ہے۔ چونکہ ان کی فطرت پاکیزہ تھی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ملکوت کی معرفت عطا کی تھی، اس لیے انہوں نے اس عمل کو ناپسند کیا اور خاموش نہ رہے۔
ابراہیم علیہ‌السّلام نے اس سختی کے مقابلے میں نرمی اور شفقت کا رویہ اختیار کیا۔ چونکہ وہ خوش اخلاق اور نرم گو تھے، پہلے اپنے والد کو سلام کیا، پھر ان کے لیے استغفار کا وعدہ کیا اور آخر میں کہا کہ اگر وہ خدا کی راہ قبول نہ کریں گے تو وہ (ابراہیم) ان سے اور ان کی قوم سے کنارہ کشی کر لیں گے، لیکن ہرگز خدا کی عبادت ترک نہیں کریں گے<ref>سوره مریم، آیه 41-48</ref>۔


انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد سے گفتگو کی اور انہیں بت پرستی سے منع کیا اور خدا کی توحید کی دعوت دی۔ لیکن جب والد نے دیکھا کہ ابراہیم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو انہوں نے انہیں گھر سے نکال دینے اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔ 
اسی طرح انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ بھی مناظرہ کیا اور بتوں کے بارے میں گفتگو کی<ref>سوره انبیاء، آیه 51-56 و سوره شعراء آیه 69-77 و سوره صافات آیه 83-87</ref>۔ اور ان لوگوں کے ساتھ بھی احتجاج کیا جو ستاروں، سورج اور چاند کی پرستش کرتے تھے، یہاں تک کہ سب پر حق واضح کر دیا اور ان کی گمراہی کا چرچا ہر جگہ پھیل گیا<ref>سوره انعام، آیه 74-82</ref>۔
(سورۂ مریم، آیات 41 تا 48)


ابراہیم نے نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ جواب دیا، سلام کیا اور ان کے لیے استغفار کا وعدہ کیا، لیکن واضح کر دیا کہ اگر وہ خدا کے راستے کو قبول نہ کریں گے تو وہ ان سے جدا ہو جائیں گے۔
ایک روز جب لوگ اپنے مذہبی مراسم کے لیے شہر سے باہر گئے، تو ابراہیم علیہ‌السّلام بیماری کا بہانہ بنا کر نہ گئے اور شہر میں تنہا رہے۔ جب شہر خالی ہوگیا تو بت خانہ میں داخل ہوئے، تمام بتوں کو توڑ دیا اور صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ جب لوگ واپس آئے اور واقعہ کا علم ہوا تو تلاش کے بعد کہا: یہ کام اسی نوجوان نے کیا ہے جس کا نام ابراہیم ہے۔


اسی طرح انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ بھی بتوں کے بارے میں مناظرہ کیا۔ 
چنانچہ ابراہیم کو بلایا گیا اور پوچھا گیا: کیا یہ کام تو نے کیا ہے؟ ابراہیم علیہ‌السّلام نے کہا: شاید یہ کام بڑے بت نے کیا ہو—اگر مانتے نہیں تو خود اس سے پوچھ لو، اگر وہ بول سکتا ہے! اس مقصد کے لیے انہوں نے کلہاڑا بھی بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا تھا تاکہ نشانی موجود رہے۔
(سورۂ انبیاء، آیات 51 تا 56؛ سورۂ شعراء، آیات 69 تا 77)


انہوں نے ان لوگوں سے بھی بحث کی جو ستاروں، سورج اور چاند کی عبادت کرتے تھے اور اس طرح ان کے عقیدے کی کمزوری کو ظاہر کیا۔ 
وہ جانتے تھے کہ قوم اپنے بتوں کو بےجان سمجھتی ہے، مگر وہ چاہتے تھے کہ لوگ خود اپنی زبان سے ان بتوں کی بےحسی کا اعتراف کریں۔ لہٰذا جب لوگوں نے جواب سنا، سوچ میں پڑ گئے اور آخرکار کہا: تم جانتے ہو یہ بت بول نہیں سکتے۔
(سورۂ انعام، آیات 74 تا 82)


ایک دن جب قوم اپنے مذہبی جشن کے لیے شہر سے باہر گئی ہوئی تھی تو ابراہیم بیماری کا بہانہ کر کے شہر میں ٹھہر گئے۔ جب شہر خالی ہو گیا تو وہ بت خانے میں داخل ہوئے اور تمام بتوں کو توڑ دیا اور صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ جب لوگ واپس آئے تو انہوں نے اس واقعے کے ذمہ دار کو تلاش کیا اور کہا کہ یہ کام ایک نوجوان نے کیا ہے جس کا نام ابراہیم ہے۔
ابراہیم علیہ‌السّلام نے فوراً فرمایا: پھر کیا تم خدا کو چھوڑ کر ایسے بےجان اور بےسود پتھر کی پرستش کرتے ہو؟ افسوس ہے تم پر اور تمہارے معبودوں پر! کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ تم وہ چیزیں پوجتے ہو جنہیں اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو اور خدا کو نہیں پوجتے جو تمہارا اور تمہارے اعمال و مصنوعات کا خالق ہے؟


جب انہیں لوگوں کے سامنے لایا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے؟ تو ابراہیم نے کہا: شاید یہ کام بڑے بت نے کیا ہو، اگر یقین نہیں تو اسی سے پوچھ لو۔ لوگ جانتے تھے کہ بت بول نہیں سکتے، اس لیے وہ خاموش ہو گئے۔ تب ابراہیم نے کہا: کیا تم ان چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان؟
لوگوں نے کہا: اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔ لہٰذا ایک بڑی آگ دہکائی گئی، سب نے حصہ لیا، اور ابراہیم علیہ‌السّلام کو آگ میں پھینک دیا۔ خدا نے آگ کو ان کے لیے سرد اور سلامت بنا دیا اور کفار کی سازش باطل ہوگئی<ref>سوره انبیاء، آیه 56-70 و سوره صافات آیه 88-98</ref>۔


قوم نے فیصلہ کیا کہ اسے جلا دیا جائے۔ انہوں نے ایک عظیم آگ جلائی اور ابراہیم کو اس میں ڈال دیا، مگر اللہ تعالیٰ نے آگ کو ان کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا۔  
اسی مدت میں ابراہیم علیہ‌السّلام کی نمرود سے ملاقات بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا: میرا پروردگار وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے مغالطہ کیا: میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں؛ یعنی جسے چاہوں چھوڑ دوں اور جسے چاہوں قتل کر دوں۔  
(سورۂ انبیاء، آیات 56 تا 70؛ سورۂ صافات، آیات 88 تا 98)
ابراہیم نے زیادہ روشن دلیل دی: خدا سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، اگر تو سچا ہے تو اسے مغرب سے طلوع کر دے۔ نمرود عاجز رہ گیا<ref>سوره بقره، آیه 258</ref>۔


اسی دوران ابراہیم کی ملاقات نمرود سے بھی ہوئی۔ نمرود نے ربوبیت کا دعویٰ کیا تھا۔ ابراہیم نے فرمایا: میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے کہا: میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔ اس پر ابراہیم نے فرمایا: اللہ سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے، اگر تم سچے ہو تو اسے مغرب سے طلوع کر کے دکھاؤ۔ اس پر نمرود حیران رہ گیا۔ 
آگ سے نجات کے بعد بھی وہ توحید کی دعوت دیتے رہے اور تھوڑے لوگ ایمان لائے<ref>آیه: «قد کانت لکم اسوة حسنة فی ابراهیم والذین معه إذ قالوا لقومهم إنا براء منکم...» (سوره ممتحنه، آیه 4)</ref>۔ قرآن کے مطابق ان میں لوط اور ابراہیم کی اہلیہ شامل تھے۔
(سورۂ بقرہ، آیت 258)


آگ سے نجات کے بعد بھی ابراہیم نے توحید کی دعوت جاری رکھی اور کچھ لوگ ان پر ایمان لائے، جن میں لوط اور ان کی زوجہ بھی شامل تھیں۔ بعد ازاں اللہ کے حکم سے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ سرزمینِ مقدس کی طرف ہجرت کر گئے۔ 
خدا کے حکم سے وہ اپنی بیوی، لوط اور چند مومنین کے ساتھ ارض مقدس کی طرف ہجرت کر گئے، تاکہ وہاں اللہ کی عبادت میں آزاد ہوں<ref>سوره ممتحنه، آیه 4 و سوره انبیاء، آیه 71</ref>۔
(سورۂ ممتحنہ، آیت 4؛ سورۂ انبیاء، آیت 71)


وہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں اسحاق اور اسماعیل کی بشارت دی۔ اس کے بعد پہلے اسماعیل اور پھر اسحاق پیدا ہوئے اور اللہ نے ان کی نسل میں برکت قرار دی۔
وہاں خدا نے انہیں بڑھاپے میں اسحاق اور اسماعیل کی بشارت دی، پھر اسماعیل اور بعد میں اسحاق پیدا ہوئے۔ خدا نے ان، ان کے دو بیٹوں اور ان کی نسل میں برکت رکھ دی۔


کچھ عرصے بعد ابراہیم اللہ کے حکم سے اسماعیل اور ان کی والدہ ہاجر کو مکہ لے گئے اور اس بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا۔ بعد میں ابراہیم اور اسماعیل نے مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ 
اسماعیل کی پیدائش کے بعد ابراہیم کو حکم ہوا کہ انہیں اور ان کی والدہ ہاجر کو وادیٔ مکہ میں چھوڑ دیں۔ اسماعیل اسی سرزمین میں پروان چڑھے، عرب قبائل ان کے گرد جمع ہوئے اور یوں بیت اللہ کی بنیاد پڑی۔
(سورۂ بقرہ، آیات 126 تا 129؛ سورۂ آل عمران، آیات 96 تا 97)


ابراہیم نے حج کے مناسک بھی مقرر کیے۔ 
ابراہیم وقتاً فوقتاً مکہ آتے تھے<ref>سوره بقره، آیه 126 و سوره ابراهیم، آیه 35-41</ref>۔ پھر انہیں کعبہ بنانے کا حکم ملا اور انہوں نے اسماعیل کے ساتھ مل کر اسے تعمیر کیا۔ یہ پہلا گھر ہے جو خدا کے لیے بنایا گیا، جس میں نشانیوں میں مقام ابراہیم بھی ہے، اور اس میں داخل ہونے والا امن پاتا ہے<ref>سوره بقره، آیه 127-129 و سوره آل عمران، آیه 96-97</ref>۔
(سورۂ حج، آیات 26 تا 30)


بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بیٹے اسماعیل کی قربانی کا حکم دیا۔ 
کعبہ کی تعمیر کے بعد ابراہیم نے حج کے احکامات جاری کیے<ref>سوره حج، آیه 26-30</ref>۔ پھر انہیں اسماعیل کی قربانی کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے خواب اپنے بیٹے سے بیان کیا۔ اسماعیل نے کہا: پدر جان! جو حکم ہے بجا لائیں، ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ جب دونوں تسلیم ہوگئے اور ابراہیم نے انہیں لٹایا تو وحی آئی: اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ ہم نے عظیم قربانی ان کے بدلے رکھی<ref>سوره صافات، آیه 101-107</ref>۔
(سورۂ صافات، آیات 101 تا 107)


قرآن میں ابراہیم کی داستان کا آخری حصہ وہ دعائیں ہیں جو انہوں نے مکہ میں کیں۔ 
آخر میں قرآن ابراہیم کے مکہ میں کہے گئے دعاوں کا ذکر کرتا ہے<ref>سوره ابراهیم، آیه 35-41</ref>۔ اور آخری دعا یہ ہے: پروردگارا! مجھے، میرے والدین کو اور اہل ایمان کو روزِ حساب بخش دے۔
(سورۂ ابراہیم، آیات 35 تا 41)


--------------------------------------------------
== منزلت حضرت ابراہیم در نزد خداوند ==
خدا نے قرآن میں ابراہیم علیہ‌السّلام کی بہترین تعریف کی ہے اور انہیں دنیا و آخرت میں عظیم نعمتیں عطا کی ہیں:


== منزلت حضرت ابراہیم در نزد خداوند == 
1. خدا نے انہیں پہلے ہی ہدایت اور رشد عطا کی تھی<ref>سوره انبیاء، آیه 51</ref>.
قرآن کریم میں ساٹھ سے زیادہ مقامات پر ابراہیم کا ذکر آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت کو مختلف انداز سے بیان کیا ہے۔ ان میں سے چند خصوصیات یہ ہیں:
2. خدا نے انہیں دنیا میں برگزیدہ اور آخرت میں صالحین میں قرار دیا؛ کیونکہ جب پروردگار نے ان سے کہا "تسلیم کرو"، تو انہوں نے کہا: "میں رب العالمین کے حکم کے سامنے تسلیم ہوں"<ref>سوره بقره، آیه 130-131</ref>.
3. وہ خالص دل سے خدا کی طرف متوجہ تھے اور کبھی شرک نہ کیا<ref>سوره انعام، آیه 79</ref>.
4. ان کا دل یادِ خدا سے مطمئن تھا؛ انہوں نے خدا کے دکھائے آسمانوں اور زمین کے ملکوت پر ایمان لایا<ref>سوره بقره، آیه 260 و سوره انعام، آیه 75</ref>.
5. خدا نے انہیں اپنا "خلیل" کہا<ref>سوره نساء، آیه 125</ref>.
6. خدا نے ان پر اور ان کے اہل بیت پر رحمت اور برکت نازل کی اور انہیں باوفا قرار دیا<ref>سوره نجم، آیه 37</ref>.
7. انہیں "حلیم"، "اَوّاہ" اور "مُنِیب" کہا<ref>سوره هود، آیه 73-75</ref>.
8. انہیں خداپرست، حنیف، شکر گزار اور برگزیدہ قرار دیا، دنیا میں اجر دیا اور آخرت میں صالحین میں رکھا<ref>سوره نحل، آیه 120-122</ref>.
9. ابراہیم صدیق نبی تھے<ref>سوره مریم، آیه 41</ref>؛ قرآن نے انہیں مومن، نیکوکار اور سلامتی والے بندوں میں شمار کیا ہے<ref>سوره صافات، آیه 83-111</ref>؛ اور کہا کہ وہ "صاحبِ ہاتھ اور صاحبِ بصیرت" تھے، خدا نے انہیں خالص کیا<ref>سوره ص، آیه 45-46</ref>.
10. خدا نے انہیں امام بنایا<ref>سوره بقره، آیه 124</ref>؛ اور انہیں اولوالعزم پیغمبروں میں قرار دیا<ref>سوره احزاب، آیه 7؛ سوره شوری، آیه 13؛ سوره اعلی، آیه 18-19</ref>.
11. خدا نے انہیں علم، حکمت، کتاب، ملک اور ہدایت عطا کی؛ ان کی نسل میں ہدایت کی کلمہ باقیہ قرار دی<ref>سوره نساء، آیه 41؛ سوره انعام، آیه 74-90؛ سوره زخرف، آیه 28</ref>؛ ان کی ذریت میں نبوت اور کتاب رکھی<ref>سوره حدید، آیه 26</ref>؛ اور انہیں آئندہ نسلوں میں نامِ نیک عطا کیا<ref>سوره شعراء، آیه 84؛ سوره مریم، آیه 50</ref>۔


1. اللہ نے ابتدا ہی سے انہیں رشد اور ہدایت عطا کی۔  
قرآن نے دین اسلام کو بھی ابراہیم علیہ‌السّلام کی ملت قرار دیا ہے: 
(سورۂ انبیاء، آیت 51)
«ملّة ابیکم ابراهیم هو سمّاکم المسلمین من قبل» (سوره حج، آیه 78) 
اور فرمایا:  
«قل إننی هدانی ربی إلی صراط مستقیم دیناً قیماً ملّة إبراهیم حنیفاً» (سوره انعام، آیه 161)


2. اللہ نے انہیں دنیا میں منتخب کیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں ہوں گے۔ 
خدا نے کعبہ، جسے ابراہیم نے بنایا، بیت‌الحرام اور قبلهٔ عالم قرار دیا اور مناسک حج کو تشریع فرمایا، تاکہ ابراہیم کی ہجرت، اہل و عیال کی اسکان، قربانیٔ اسماعیل، اور ان کی تمام مشقتیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں۔
(سورۂ بقرہ، آیات 130 تا 131)
 
3. انہوں نے اپنا رخ خالصتاً خدا کی طرف کیا اور کبھی شرک نہیں کیا۔ 
(سورۂ انعام، آیت 79)
 
4. انہوں نے آسمانوں اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ کیا اور یقین حاصل کیا۔ 
(سورۂ بقرہ، آیت 260)
 
5. اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا۔ 
(سورۂ نساء، آیت 125)
 
6. اللہ نے ان پر اور ان کے اہلِ بیت پر رحمت اور برکت نازل کی۔ 
(سورۂ نجم، آیت 37)
 
7. انہیں حلیم، اوّاہ اور منیب کہا گیا۔ 
(سورۂ ہود، آیات 73 تا 75)
 
8. وہ ایک خدا پرست امت اور حنیف تھے اور کبھی شرک نہیں کیا۔ 
(سورۂ نحل، آیات 120 تا 122)
 
9. وہ ایک صدیق نبی تھے۔ 
(سورۂ مریم، آیت 41)
 
10. اللہ نے انہیں امام بنایا۔ 
(سورۂ بقرہ، آیت 124)
 
11. اللہ نے نبوت اور کتاب کو ان کی نسل میں قرار دیا اور ان کے لیے آنے والی نسلوں میں نیک نامی باقی رکھی۔ 
(سورۂ حدید، آیت 26)
 
قرآن کریم فرماتا ہے کہ اسلام دراصل ابراہیم کا دین ہے: 
“ملۃ ابیکم ابراہیم هو سماکم المسلمین من قبل” 
(سورۂ حج، آیت 78)
 
اور یہ بھی فرمایا: 
“دیناً قیماً ملۃ ابراہیم حنیفاً” 
(سورۂ انعام، آیت 161)
 
اللہ تعالیٰ نے اس کعبہ کو جسے ابراہیم نے تعمیر کیا، بیت الحرام اور تمام عالم کا قبلہ قرار دیا اور حج کے مناسک اس لیے مقرر کیے تاکہ ان کی ہجرت، ان کی عبادت، اور اللہ کی راہ میں ان کی قربانیوں کی یاد باقی رہے۔

نسخہ بمطابق 14:25، 20 اپريل 2026ء

حضرت ابراہیم (علیہ السّلام) جو ابراہیم خلیل کے نام سے مشہور ہیں، اللہ تعالیٰ کے عظیم انبیاء میں سے ایک اور پیامبران اولوالعزم میں شمار ہوتے ہیں۔ دین توحید کی نسبت اسی عظیم پیغمبر کی طرف کی جاتی ہے۔ آپ حضرت اسماعیل (علیہ السّلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السّلام) کے معزز والد ہیں، اور انہی دونوں کے ذریعے بہت سے انبیاء کا نسب آپ تک پہنچتا ہے، جن میں حضرت موسیٰ (علیہ السّلام), حضرت عیسیٰ (علیہ السّلام) اور حضرت محمد (صلّی اللہ علیہ وآلہ) شامل ہیں۔

نام حضرت ابراہیم

ابراہیم نام کی مختلف صورتیں دینی اور غیر دینی منابع میں حروف اور ہجّوں کے اضافہ، ادغام یا تبدیلی کے ساتھ ملتی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ نام ہلالِ خصیب کے علاقے میں معروف اور رائج تھا۔ شکل ابرام پہلی بار اس مقام پر مذکور ہوئی ہے جہاں عہد عتیق میں اس کا ذکر آیا ہے[1]۔ یعقوب اور یوسف جیسے ناموں کی طرح یہ نام بھی بیسویں اور انیسویں صدی قبل مسیح میں آموریوں اور اس خطے کی دیگر اقوام کے درمیان پایا جاتا تھا[2]۔

جوالیقی نے بھی اس نام کی مختلف شکلیں جیسے ابراہام، ابراہْم اور ابراہِم ذکر کی ہیں اور اسے ایک قدیم اور غیر عربی نام قرار دیا ہے[3]۔ بظاہر سب سے قدیم ماخذ جس میں یہ نام **ابراہیم** کی صورت میں درج ہوا ہے، قرآن ہے۔

معنیٰ ابراہیم

نام ابرام کے معنی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا پہلا حصہ (اَب) سامی زبان میں باپ کے معنی دیتا ہے۔ دوسرے حصے کو بعض نے محبت کرنے والا اور بعض نے بلند مرتبہ یا عالی مقام کے معنی میں لیا ہے۔ اس بنیاد پر ابرام کے معنی “بلند مرتبہ باپ” یا “عالی مقام باپ” ہونا بعید نہیں[4]۔

اسی طرح ابراہام (جس کی ایک بولی کی شکل: اورہام ہے) کے معنی “بہت سی قوموں کا باپ” بیان کیے گئے ہیں، لیکن غالباً یہ عوامی اشتقاق ہے، اگرچہ اسے عربی لفظ رُہام (کثیر اور بے شمار) کے ساتھ ہم ریشہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو دیگر معانی اور صورتیں بیان کی گئی ہیں وہ زیادہ درست معلوم نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر نووی نے ماوردی کے حوالے سے اس کے سریانی معنی “مہربان باپ” نقل کیے ہیں اور وہب بن منبہ نے ابرہہ کو ابراہیم کی حبشی شکل قرار دیتے ہوئے اس کے معنی “سفید چہرہ” بتائے ہیں، لیکن یہ معنی صحیح معلوم نہیں ہوتے[5]۔

خاندان اور اصل نسب حضرت ابراہیم

عہد عتیق کی روایت کے مطابق ابراہیم ان آرامی قبائل سے تعلق رکھتے تھے جو جزیرۃ العرب سے ہجرت کر کے فرات کے کناروں تک پہنچے تھے[6]۔ بعض محققین نے ابراہیم کے اجداد کو آموریوں میں شمار کیا ہے جو جزیرۂ عرب سے عراق کی طرف آئے تھے[7]۔

آرامی لوگ حرّان میں، جو بلیخ اور خابور دریاؤں کے سرچشموں کے قریب واقع تھا، آباد تھے۔ غالباً تیسری ہزارہ قبل مسیح کے دوسرے نصف کے وسط میں شہر **اور** کی اقتصادی ترقی کی وجہ سے ان کے بعض گروہ وہاں ہجرت کر گئے تھے۔ لیکن جب آموری قبائل کے حملوں اور عیلامیوں کی یورش کے باعث شہر اور تباہ ہو گیا تو یہ آرامی مہاجر دوبارہ اپنے اصل وطن واپس لوٹ گئے۔ ابراہیم کے والد ان خاندانوں میں سے ایک کے سربراہ تھے جو اسی ہجرت کے دوران اور سے حرّان کی طرف روانہ ہوئے تھے[8]۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم کا خاندان دوسری ہزارہ قبل مسیح کے اوائل میں اس خطے میں منتقل ہوا تھا[9]۔ قدیم مؤرخین اور مصنفین نے بھی حرّان کو ابراہیم کے والد کا وطن قرار دیا ہے[10]۔

تاریخ ولادت اور جائے پیدائش حضرت ابراہیم

ابراہیم کی پیدائش کے وقت کے بارے میں، جو روایت کے مطابق ستر سال کی عمر میں ایک واقعے سے متعلق بیان ہوئی ہے، کوئی ایسا مستند تاریخی ثبوت دستیاب نہیں جو درست یا قریب ترین تاریخ فراہم کرے[11]۔ تاہم موجودہ دور کے اکثر محققین بیسویں صدی قبل مسیح کو ان کی ولادت کا زمانہ قرار دیتے ہیں اور بعض نے ۱۹۹۶ قبل مسیح کی زیادہ دقیق تاریخ ذکر کی ہے[12]۔

ابراہیم کی جائے پیدائش کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگرچہ عہد عتیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اورِ کلدانیان میں پیدا ہوئے تھے[13]، لیکن بعض نے ان کی پیدائش الورکاء (اوروک) میں بتائی ہے۔ بہت سے اسلامی مصادر نے کوثیٰ کو ان کا مولد قرار دیا ہے جس کے کھنڈرات آج تل ابراہیم کے نام سے معروف ہیں[14]۔ اسی طرح ابن بطوطہ (ص ۱۰۱) نے عراق میں حلہ اور بغداد کے درمیان بُرص نامی مقام کا ذکر کیا ہے جسے بعض لوگ ابراہیم کی جائے پیدائش کہتے ہیں۔ بعض روایات میں حرّان کو بھی ان کی ولادت کی جگہ بتایا گیا ہے[15]۔ تاہم اکثر معاصر محققین اس بات پر متفق ہیں کہ اور ہی حضرت ابراہیم کی پیدائش اور ابتدائی نشوونما کی جگہ تھی۔

نام پدر حضرت ابراہیم

حضرت ابراہیم کے والد کے نام کے بارے میں عہد عتیق اور قرآن کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے مفسرین کے درمیان بھی مختلف آراء ہیں۔ عہد عتیق میں ان کا نام ترح درج ہے جبکہ قرآن میں آزر آیا ہے[16]۔

مفسرین اور لغت کے ماہرین نے لفظ **آزر** کو غیر عربی اور معرّب قرار دیا ہے[17]۔ جدید مستشرقین کے نزدیک ممکن ہے کہ یہ لفظ عبرانی نام **العاذر (الیعزر)** کی تحریف ہو، جو عہد عتیق کے مطابق ابراہیم کے خادم کا نام تھا۔ تاہم تفسیری منابع میں مختلف اقوال موجود ہیں: بعض کے مطابق آزر ہی ابراہیم کے والد کا نام تھا اور بعض اس احتمال کو رد کرتے ہیں۔

بہت سے مفسرین اور مورخین نے ابراہیم کے والد کا نام تارح ذکر کیا ہے[18] اور قرآن میں مذکور نام آزر کے بارے میں مختلف توجیہات پیش کی ہیں۔ بعض نے آزر کے معنی مددگار یا شریک بیان کیے ہیں، جس کے مطابق آیت وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا...|سوره = انعام|آیه = ۷۴ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ابراہیم کے والد بت پرستی میں اپنی قوم کے شریک تھے۔

کچھ نے آزر کو اس بت کا نام قرار دیا ہے جس کی پرستش ابراہیم کے والد کرتے تھے، اور آیت میں اصناماً کو اس کا بدل قرار دیا ہے[19]۔

بعض علماء نے کہا ہے کہ تارح ابراہیم کے حقیقی والد تھے اور آزر ان کے چچا کا نام تھا، کیونکہ عربی میں لفظ اب چچا کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں بھی اسماعیل کو یعقوب کا باپ کہا گیا ہے۔ غالباً یہ نظریہ اس حدیث کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے جس میں رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: نَقَلَنِیَ اللّٰہُ مِنْ أَصْلَابِ الطَّاہِرِینَ إِلَی أَرْحَامِ الطَّاہِرَاتِ اسی بنا پر محمد بن حسن طوسی نے یہ احتمال بھی بیان کیا ہے کہ آزر دراصل حضرت ابراہیم کے نانا تھے۔

بچپن حضرت ابراہیم

روایات کے مطابق حضرت ابراہیم کی والدہ نے نمرود کے خوف سے، جو ہر نومولود بچے کو قتل کروا دیتا تھا، انہیں اپنے گھر کے قریب ایک غار میں چھپا دیا۔ روایت ہے کہ یہ بچہ ایک دن میں اتنا بڑھتا جتنا عام بچہ ایک مہینے میں بڑھتا ہے۔ پندرہ ماہ گزرنے کے بعد ان کی والدہ رات کے وقت انہیں غار سے باہر لے آئیں[20]۔

ازدواج اور اولاد حضرت ابراہیم

حضرت ابراہیم کی پہلی زوجہ سارہ تھیں اور تورات کے مطابق انہوں نے اورِ کلدانیان میں ان سے نکاح کیا تھا[21]۔ تورات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ابراہیم کی سوتیلی بہن تھیں[22]، لیکن شیعہ روایات کے مطابق سارہ ابراہیم کی خالہ زاد بہن اور حضرت لوط (علیہ السّلام) کی بہن تھیں[23]۔

ایک روایت کے مطابق حضرت ابراہیم نے کوثا میں سارہ سے نکاح کیا۔ سارہ بہت مالدار تھیں اور نکاح کے بعد ان کا مال حضرت ابراہیم کے اختیار میں آ گیا۔ حضرت ابراہیم نے اس مال کو مزید بڑھایا یہاں تک کہ اس علاقے میں کوئی شخص ان سے زیادہ مال و مویشی کا مالک نہ تھا[24]۔

سارہ سے حضرت ابراہیم کو اولاد نہیں ہوئی، اس لیے سارہ نے اپنی کنیز ہاجر کو حضرت ابراہیم کے حوالے کر دیا۔ ہاجر سے حضرت ابراہیم کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اسماعیل رکھا گیا[25]۔ چند سال بعد سارہ کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اسحاق رکھا گیا۔ اسحاق کی ولادت اسماعیل کے پانچ یا تیرہ سال بعد بیان کی گئی ہے[26]۔

بعض روایات کے مطابق اسحاق کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم کی عمر سو سال سے زیادہ اور سارہ کی عمر نوے سال تھی[27]۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اسحاق اسماعیل کے تیس سال بعد پیدا ہوئے اور اس وقت حضرت ابراہیم کی عمر ایک سو بیس سال تھی[28]۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ سارہ کی وفات کے بعد حضرت ابراہیم نے مزید دو عورتوں سے نکاح کیا، جن میں سے ایک سے چار اور دوسری سے سات بیٹے پیدا ہوئے، اس طرح ان کے بیٹوں کی مجموعی تعداد تیرہ تک پہنچ گئی[29]۔

حضرت ابراہیم اور توحید کی دعوت

قرآن مجید کی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم نے اپنے زمانے میں رائج آسمانی اجرام کی پرستش کو باطل قرار دیتے ہوئے لوگوں کو خدائے یکتا کی عبادت کی طرف دعوت دی۔[30]

یہ قرآنی روایت، اگرچہ عہدِ عتیق میں اس کا ذکر نہیں ملتا، لیکن یہود کے درمیان معروف تھی۔ یوسفوس نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور بعد کے یہودی مآخذ میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے ساتھ مناقشہ کیا۔ حقیقت میں، آسمانی اجرام کی طرف ابراہیم کی ظاہری رجوع اور پھر ان سے انکار کا مقصد یہ تھا کہ اپنی قوم کو اس باطل عقیدے کی بے اعتباری دکھائیں اور انہیں توحید کی طرف متوجہ کریں۔[31]

مسعودی کے بیان کے مطابق، سارہ (زوجہ ابراہیم) اور لوط (ابراہیم کے بھتیجے، ہاران کے بیٹے) وہ اولین افراد تھے جو ان پر ایمان لائے۔[32] اور فان سترس کے مطابق گویا ابراہیم خود بھی پہلا شخص تھے جنہوں نے اس طریقے سے توحید کی طرف رجوع کیا۔

نبوت اور امامتِ حضرت ابراہیم

قرآن کی متعدد آیات میں حضرت ابراہیم کی نبوت اور ان کی دعوتِ توحید کا ذکر آیا ہے۔[33]

اسی طرح سوره احقاف، آیه ۳۵ میں اولوالعزم انبیاء کا ذکر ہے اور روایات کے مطابق حضرت ابراہیم ان میں سے ہیں اور حضرت نوح کے بعد دوسرے اولوالعزم نبی ہیں۔[34]

سوره بقرہ، آیه ۱۲۴ کے مطابق خداوند نے حضرت ابراہیم کو کئی آزمائشوں کے بعد مقامِ امامت پر فائز کیا۔ علامہ طباطبائی کے مطابق یہاں امامت سے مراد باطنی و روحانی ہدایت ہے؛ ایک ایسا منصب جو شدید مجاہدات کے بعد حاصل ہوتا ہے۔[35]

قرآن کے مطابق خدا نے حضرت ابراہیم کو خلیل (دوست) کے طور پر برگزیدہ کیا۔[36] اس لیے انہیں خلیل اللہ کہا جاتا ہے۔

علل الشرایع میں مذکور روایات کے مطابق کثرتِ سجده، لوگوں کی درخواستوں کو رد نہ کرنا، غیر اللہ سے کچھ طلب نہ کرنا، مہمان نوازی اور شب بیداری ان کے انتخابِ الٰہی کے اسباب تھے۔[37]

داستان حضرت ابراہیم از نظر قرآن

نام حضرت ابراہیم علیہ‌السّلام اور ان سے متعلق داستانیں قرآن کی درج ذیل آیات میں بیان ہوئی ہیں:

سوره بقره، آیه 124-131 • سوره بقره، آیه 258-260 • سوره آل عمران، آیه 95-97 • سوره نساء، آیه 125 • سوره انعام، آیه 74-90 • سوره انعام، آیه 161 • سوره هود، آیه 69-76 • سوره ابراهیم، آیه 35-41 • سوره نحل، آیه 120-122 • سوره مریم، آیه 41-50 • سوره انبیاء، آیه 51-73 • سوره حج، آیه 26-30 • سوره شعراء، آیه 69-89 • سوره عنکبوت، آیه 26 • سوره عنکبوت، آیه 31 و 32 • سوره احزاب، آیه 7 • سوره صافات، آیه 83-111 • سوره ص، آیه 45-46 • سوره شوری، آیه 13 • سوره زخرف، آیه 28 • سوره ذاریات، آیه 24-37 • سوره نجم، آیه 37 • سوره حدید، آیه 26 • سوره ممتحنه، آیه 4 • سوره اعلی، آیه 18-19

قرآن کریم کی روایات سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ‌السّلام بچپن سے لے کر زمانۂ تمیز (وہ وقت جب بچہ صحیح و غلط کو سمجھنے لگے) تک اپنی قوم سے دور ایک گوشۂ تنہائی میں پرورش پاتے رہے۔ جب وہ حدِ تمیز کو پہنچے تو اپنے مخفی مقام سے نکل کر قوم کی طرف آئے اور اپنے والد سے ملے۔ وہاں دیکھا کہ ان کے والد اور پوری قوم بت پرستی میں مبتلا ہے۔ چونکہ وہ پاکیزہ فطرت کے مالک تھے اور خدا نے انہیں ملکوت دکھا کر ان کی تائید کی تھی اور ان کی تمام باتیں اور اعمال حق کے مطابق ہو چکے تھے، اس لیے قوم کی اس روش کو ناپسند کیا اور خاموش رہنا ممکن نہ تھا۔

لہٰذا اپنے والد سے احتجاج کیا[38] اور اسے بت پرستی سے روکا اور خدای سبحان کی توحید کی دعوت دی، شاید خدا اسے ہدایت دے اور شیطان کی ولایت سے دور کرے۔ جب والد نے دیکھا کہ ابراہیم ہرگز اپنے عقیدے سے رجوع نہیں کرتے تو اسے خود سے دور کیا اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔

ابراہیم علیہ‌السّلام نے اس سختی کے مقابلے میں نرمی اور شفقت کا رویہ اختیار کیا۔ چونکہ وہ خوش اخلاق اور نرم گو تھے، پہلے اپنے والد کو سلام کیا، پھر ان کے لیے استغفار کا وعدہ کیا اور آخر میں کہا کہ اگر وہ خدا کی راہ قبول نہ کریں گے تو وہ (ابراہیم) ان سے اور ان کی قوم سے کنارہ کشی کر لیں گے، لیکن ہرگز خدا کی عبادت ترک نہیں کریں گے[39]۔

اسی طرح انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ بھی مناظرہ کیا اور بتوں کے بارے میں گفتگو کی[40]۔ اور ان لوگوں کے ساتھ بھی احتجاج کیا جو ستاروں، سورج اور چاند کی پرستش کرتے تھے، یہاں تک کہ سب پر حق واضح کر دیا اور ان کی گمراہی کا چرچا ہر جگہ پھیل گیا[41]۔

ایک روز جب لوگ اپنے مذہبی مراسم کے لیے شہر سے باہر گئے، تو ابراہیم علیہ‌السّلام بیماری کا بہانہ بنا کر نہ گئے اور شہر میں تنہا رہے۔ جب شہر خالی ہوگیا تو بت خانہ میں داخل ہوئے، تمام بتوں کو توڑ دیا اور صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ جب لوگ واپس آئے اور واقعہ کا علم ہوا تو تلاش کے بعد کہا: یہ کام اسی نوجوان نے کیا ہے جس کا نام ابراہیم ہے۔

چنانچہ ابراہیم کو بلایا گیا اور پوچھا گیا: کیا یہ کام تو نے کیا ہے؟ ابراہیم علیہ‌السّلام نے کہا: شاید یہ کام بڑے بت نے کیا ہو—اگر مانتے نہیں تو خود اس سے پوچھ لو، اگر وہ بول سکتا ہے! اس مقصد کے لیے انہوں نے کلہاڑا بھی بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا تھا تاکہ نشانی موجود رہے۔

وہ جانتے تھے کہ قوم اپنے بتوں کو بےجان سمجھتی ہے، مگر وہ چاہتے تھے کہ لوگ خود اپنی زبان سے ان بتوں کی بےحسی کا اعتراف کریں۔ لہٰذا جب لوگوں نے جواب سنا، سوچ میں پڑ گئے اور آخرکار کہا: تم جانتے ہو یہ بت بول نہیں سکتے۔

ابراہیم علیہ‌السّلام نے فوراً فرمایا: پھر کیا تم خدا کو چھوڑ کر ایسے بےجان اور بےسود پتھر کی پرستش کرتے ہو؟ افسوس ہے تم پر اور تمہارے معبودوں پر! کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ تم وہ چیزیں پوجتے ہو جنہیں اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو اور خدا کو نہیں پوجتے جو تمہارا اور تمہارے اعمال و مصنوعات کا خالق ہے؟

لوگوں نے کہا: اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔ لہٰذا ایک بڑی آگ دہکائی گئی، سب نے حصہ لیا، اور ابراہیم علیہ‌السّلام کو آگ میں پھینک دیا۔ خدا نے آگ کو ان کے لیے سرد اور سلامت بنا دیا اور کفار کی سازش باطل ہوگئی[42]۔

اسی مدت میں ابراہیم علیہ‌السّلام کی نمرود سے ملاقات بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا: میرا پروردگار وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے مغالطہ کیا: میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں؛ یعنی جسے چاہوں چھوڑ دوں اور جسے چاہوں قتل کر دوں۔ ابراہیم نے زیادہ روشن دلیل دی: خدا سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، اگر تو سچا ہے تو اسے مغرب سے طلوع کر دے۔ نمرود عاجز رہ گیا[43]۔

آگ سے نجات کے بعد بھی وہ توحید کی دعوت دیتے رہے اور تھوڑے لوگ ایمان لائے[44]۔ قرآن کے مطابق ان میں لوط اور ابراہیم کی اہلیہ شامل تھے۔

خدا کے حکم سے وہ اپنی بیوی، لوط اور چند مومنین کے ساتھ ارض مقدس کی طرف ہجرت کر گئے، تاکہ وہاں اللہ کی عبادت میں آزاد ہوں[45]۔

وہاں خدا نے انہیں بڑھاپے میں اسحاق اور اسماعیل کی بشارت دی، پھر اسماعیل اور بعد میں اسحاق پیدا ہوئے۔ خدا نے ان، ان کے دو بیٹوں اور ان کی نسل میں برکت رکھ دی۔

اسماعیل کی پیدائش کے بعد ابراہیم کو حکم ہوا کہ انہیں اور ان کی والدہ ہاجر کو وادیٔ مکہ میں چھوڑ دیں۔ اسماعیل اسی سرزمین میں پروان چڑھے، عرب قبائل ان کے گرد جمع ہوئے اور یوں بیت اللہ کی بنیاد پڑی۔

ابراہیم وقتاً فوقتاً مکہ آتے تھے[46]۔ پھر انہیں کعبہ بنانے کا حکم ملا اور انہوں نے اسماعیل کے ساتھ مل کر اسے تعمیر کیا۔ یہ پہلا گھر ہے جو خدا کے لیے بنایا گیا، جس میں نشانیوں میں مقام ابراہیم بھی ہے، اور اس میں داخل ہونے والا امن پاتا ہے[47]۔

کعبہ کی تعمیر کے بعد ابراہیم نے حج کے احکامات جاری کیے[48]۔ پھر انہیں اسماعیل کی قربانی کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے خواب اپنے بیٹے سے بیان کیا۔ اسماعیل نے کہا: پدر جان! جو حکم ہے بجا لائیں، ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ جب دونوں تسلیم ہوگئے اور ابراہیم نے انہیں لٹایا تو وحی آئی: اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ ہم نے عظیم قربانی ان کے بدلے رکھی[49]۔

آخر میں قرآن ابراہیم کے مکہ میں کہے گئے دعاوں کا ذکر کرتا ہے[50]۔ اور آخری دعا یہ ہے: پروردگارا! مجھے، میرے والدین کو اور اہل ایمان کو روزِ حساب بخش دے۔

منزلت حضرت ابراہیم در نزد خداوند

خدا نے قرآن میں ابراہیم علیہ‌السّلام کی بہترین تعریف کی ہے اور انہیں دنیا و آخرت میں عظیم نعمتیں عطا کی ہیں:

1. خدا نے انہیں پہلے ہی ہدایت اور رشد عطا کی تھی[51]. 2. خدا نے انہیں دنیا میں برگزیدہ اور آخرت میں صالحین میں قرار دیا؛ کیونکہ جب پروردگار نے ان سے کہا "تسلیم کرو"، تو انہوں نے کہا: "میں رب العالمین کے حکم کے سامنے تسلیم ہوں"[52]. 3. وہ خالص دل سے خدا کی طرف متوجہ تھے اور کبھی شرک نہ کیا[53]. 4. ان کا دل یادِ خدا سے مطمئن تھا؛ انہوں نے خدا کے دکھائے آسمانوں اور زمین کے ملکوت پر ایمان لایا[54]. 5. خدا نے انہیں اپنا "خلیل" کہا[55]. 6. خدا نے ان پر اور ان کے اہل بیت پر رحمت اور برکت نازل کی اور انہیں باوفا قرار دیا[56]. 7. انہیں "حلیم"، "اَوّاہ" اور "مُنِیب" کہا[57]. 8. انہیں خداپرست، حنیف، شکر گزار اور برگزیدہ قرار دیا، دنیا میں اجر دیا اور آخرت میں صالحین میں رکھا[58]. 9. ابراہیم صدیق نبی تھے[59]؛ قرآن نے انہیں مومن، نیکوکار اور سلامتی والے بندوں میں شمار کیا ہے[60]؛ اور کہا کہ وہ "صاحبِ ہاتھ اور صاحبِ بصیرت" تھے، خدا نے انہیں خالص کیا[61]. 10. خدا نے انہیں امام بنایا[62]؛ اور انہیں اولوالعزم پیغمبروں میں قرار دیا[63]. 11. خدا نے انہیں علم، حکمت، کتاب، ملک اور ہدایت عطا کی؛ ان کی نسل میں ہدایت کی کلمہ باقیہ قرار دی[64]؛ ان کی ذریت میں نبوت اور کتاب رکھی[65]؛ اور انہیں آئندہ نسلوں میں نامِ نیک عطا کیا[66]۔

قرآن نے دین اسلام کو بھی ابراہیم علیہ‌السّلام کی ملت قرار دیا ہے: «ملّة ابیکم ابراهیم هو سمّاکم المسلمین من قبل» (سوره حج، آیه 78) اور فرمایا: «قل إننی هدانی ربی إلی صراط مستقیم دیناً قیماً ملّة إبراهیم حنیفاً» (سوره انعام، آیه 161)

خدا نے کعبہ، جسے ابراہیم نے بنایا، بیت‌الحرام اور قبلهٔ عالم قرار دیا اور مناسک حج کو تشریع فرمایا، تاکہ ابراہیم کی ہجرت، اہل و عیال کی اسکان، قربانیٔ اسماعیل، اور ان کی تمام مشقتیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں۔

  1. پیدائش، ۱۱: ۲۶
  2. البرایت، ۳؛ سوسہ، ۲۳۳
  3. المعرب، ۱۳
  4. جودائیکا، وہی
  5. نووی، ص ۱۳۶
  6. سوسہ، ۲۵۲
  7. کلر، وہی
  8. اپشتاین، ۱۱؛ سوسہ، ۴۴۶
  9. سوسہ، ۲۵۲
  10. طبری، تاریخ، ۱/۳۴۶؛ نووی، ۱(۱)/۱۰۱
  11. پیدائش، ۱۱: ۲۶
  12. ہاکس، ۴؛ نیز دیکھئے: سوسہ، ۲۵۰، ۲۵۱
  13. پیدائش، ۱۱: ۲۸–۳۰
  14. طبری، تاریخ، ۱/۲۵۲؛ یاقوت، ذیل کوثی
  15. ثعلبی، ۷۲
  16. سورہ انعام، آیت ۷۴
  17. جوالیقی، موهوب، المعرب، ج۱، ص۱۵، بتحقیق احمد محمد شاکر، تہران، ۱۹۶۶م
  18. ابن ہشام، عبدالملک، السیرة النبویة، ج۱، ص۳، تحقیق مصطفی السقا و دیگران، بیروت
  19. میبدی، ابوالفضل رشیدالدین، کشف الاسرار و عدة الابرار، ج۳، ص۴۰۲، تحقیق علی اصغر حکمت، تہران، ۱۳۶۱ش
  20. محمد بن جریر طبری، تاریخ الامم والملوک، ج۱، ص۱۶۴، بیروت، مؤسسہ اعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۳ق
  21. پیدائش، ۱۱: ۲۹
  22. پیدائش، ۲۰: ۱۲
  23. طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۲۲۹؛ عیاشی، تفسیر عیاشی، ج۲، ص۲۵۴
  24. طباطبائی، المیزان، ج۷، ص۲۲۹
  25. ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۰۱
  26. مسعودی، اثبات الوصیة، ص۴۱–۴۲
  27. مسعودی، اثبات الوصیة، ص۴۶
  28. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۴۱
  29. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۱، ص۴۱
  30. انعام/سوره ۶، آیه ۷۶–۷۹
  31. طوسی، محمد، التبیان فی تفسیر القرآن، ج۴، ص۱۸۶، بیروت، دار احیاء التراث العربی
  32. مسعودی، مروج الذهب، ج۱، ص۵۷، به کوشش یوسف اسعد داغر، بیروت، ۱۳۸۵ق
  33. سوره مریم، آیه ۴۱–۴۸؛ سوره انبیاء، آیه ۵۱–۵۷؛ سوره شعراء، آیه ۶۹–۸۲؛ سوره صافات، آیه ۸۳–۱۰۰؛ سوره زخرف، آیه ۲۶–۲۷؛ سوره ممتحنه، آیه ۴؛ سوره عنکبوت، آیه ۱۶–۲۵
  34. طباطبائی، المیزان، ج۱۸، ص۲۱۸
  35. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۱، ص۲۷۲
  36. سوره نساء، آیه ۱۲۵
  37. صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۳۴–۳۵
  38. در تمام مواردی که نام پدر حضرت ابراهیم علیه‌السّلام برده شده است، مراد عموی ایشان است
  39. سوره مریم، آیه 41-48
  40. سوره انبیاء، آیه 51-56 و سوره شعراء آیه 69-77 و سوره صافات آیه 83-87
  41. سوره انعام، آیه 74-82
  42. سوره انبیاء، آیه 56-70 و سوره صافات آیه 88-98
  43. سوره بقره، آیه 258
  44. آیه: «قد کانت لکم اسوة حسنة فی ابراهیم والذین معه إذ قالوا لقومهم إنا براء منکم...» (سوره ممتحنه، آیه 4)
  45. سوره ممتحنه، آیه 4 و سوره انبیاء، آیه 71
  46. سوره بقره، آیه 126 و سوره ابراهیم، آیه 35-41
  47. سوره بقره، آیه 127-129 و سوره آل عمران، آیه 96-97
  48. سوره حج، آیه 26-30
  49. سوره صافات، آیه 101-107
  50. سوره ابراهیم، آیه 35-41
  51. سوره انبیاء، آیه 51
  52. سوره بقره، آیه 130-131
  53. سوره انعام، آیه 79
  54. سوره بقره، آیه 260 و سوره انعام، آیه 75
  55. سوره نساء، آیه 125
  56. سوره نجم، آیه 37
  57. سوره هود، آیه 73-75
  58. سوره نحل، آیه 120-122
  59. سوره مریم، آیه 41
  60. سوره صافات، آیه 83-111
  61. سوره ص، آیه 45-46
  62. سوره بقره، آیه 124
  63. سوره احزاب، آیه 7؛ سوره شوری، آیه 13؛ سوره اعلی، آیه 18-19
  64. سوره نساء، آیه 41؛ سوره انعام، آیه 74-90؛ سوره زخرف، آیه 28
  65. سوره حدید، آیه 26
  66. سوره شعراء، آیه 84؛ سوره مریم، آیه 50