"سعید جلیلی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 36: | سطر 36: | ||
جنگ کے اختتام کے بعد، 1989 م میں وزارتِ امورِ خارجہ میں داخل ہوئے۔ 26 سال کی عمر میں محکمۂ انسپکشن کے سربراہ مقرر ہوئے اور 1996 م تک اس منصب پر رہے۔ صدر [[اکبر ہاشمی رفسنجانی]] کے دورِ دوم کے آخری سال میں انہوں نے وزارتِ خارجہ کے امریکہ ڈیسک میں معاونت کی۔ بعد ازاں دفترِ رهبری میں مدیرِ امورِ جاریہ بنے۔ صدر محمود احمدینژاد کے دور میں دوبارہ وزارتِ خارجہ لوٹے اور یورپ و امریکہ کے معاون مقرر ہوئے۔ | جنگ کے اختتام کے بعد، 1989 م میں وزارتِ امورِ خارجہ میں داخل ہوئے۔ 26 سال کی عمر میں محکمۂ انسپکشن کے سربراہ مقرر ہوئے اور 1996 م تک اس منصب پر رہے۔ صدر [[اکبر ہاشمی رفسنجانی]] کے دورِ دوم کے آخری سال میں انہوں نے وزارتِ خارجہ کے امریکہ ڈیسک میں معاونت کی۔ بعد ازاں دفترِ رهبری میں مدیرِ امورِ جاریہ بنے۔ صدر محمود احمدینژاد کے دور میں دوبارہ وزارتِ خارجہ لوٹے اور یورپ و امریکہ کے معاون مقرر ہوئے۔ | ||
== | == قومی سلامتی کونسل == | ||
اکتوبر 2007 م میں علی لاریجانی کے استعفے کے | اکتوبر 2007 م میں علی لاریجانی کی اعلیٰ امنیتی مشیر کے عہد سے استعفے کے بعد، محمود احمدی نژاد نے سعید جلیلی کو اس منصب پر جانشین مقرر کیا۔ تقریباً ایک سال بعد، رهبر معظم نے احکامی ذریعے انہیں قومی سلامتی کونسل میں نمائندہ قرار دیا۔ سعید جلیلی کی اعلیٰ امنیتی مشیر کے طور پر اہم کارروائیاں جوہری مذاکرات کے ساتھ تھیں جو ایران اور یورپی ممالک کے درمیان ہوئے۔ اس کے نتیجے میں، حسن روحانی کی پہلی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد، علی شمخانی کو اس منصب پر مقرر کیا گیا اور ایرانی جوہری فائل بھی سفارتی دباوے اور وزارت خارجہ کے سپرد کر دی گئی۔" | ||
== نمائندۂ رهبری برائے شورائے عالی امنیت ملی == | == نمائندۂ رهبری برائے شورائے عالی امنیت ملی == | ||
نسخہ بمطابق 15:09، 15 اپريل 2026ء
| سعید جلیلی | |
|---|---|
| پورا نام | سعید جلیلی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | ایران مشهد |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | وزارتِ خارجہ کے معائنہ و نگرانی کے محکمے کے سربراہ، وزارتِ خارجہ میں امریکا سے متعلق اولین ڈائریکٹوریٹ کے نائب سربراہ، دفترِ رہبری میں جاری امور کی جائزہ شاخ کے سربراہ، اسلامی جمہوریۂ ایران کی وزارتِ خارجہ میں یورپ و امریکا کے امور کے نائب وزیر، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، اعلیٰ قومی سلامتی کونسل میں رہبرِ انقلاب کے نمائندہ، مصلحتِ نظام کی تشخیص کے مجمع کے رکن، خارجی تعلقات کی اسٹریٹجک کونسل کے رکن |
سعید جلیلی، دفاع مقدس کے جانباز، سیاست دان اور سفارت کار ہیں جو جمهوری اسلامی ایران میں متعدد اعلیٰ حکومتی مناصب پر فائز رہے۔ اکتوبر 2007 م سے ستمبر 2013 م تک وہ [قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری رہے اور اسی دوران ایران اور یورپی ممالک کے مابین ہونے والے مذاکراتِ ہستهای میں شریک ہوئے۔ وزارتِ خارجہ کا محکمۂ انسپکشن، اوّل امریکہ ڈیسک کی معاونت، دفترِ رهبری میں امورِ جاریہ کی مدیریت، وزارتِ خارجہ کے یورپ و امریکہ ڈویژن کی معاوِنت، نمائندۂ رهبری برائے شورائے عالی امنیت ملی، مجمع تشخیص مصلحت نظام کی رکنیت اور خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کی رکنیت اُن کے اہم اجرائی ریکارڈ میں شامل ہے۔
زندگینامہ
سعید جلیلی 6 ستمبر 1965 م کو مشہد میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
ابتدائی سے قبل از یونیورسٹی تمام تعلیم مشہد میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی امام صادق (علیہ السلام) سے معارفِ اسلامی و علومِ سیاسی میں بی اے، ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ زبانِ انگریزی اور عربی سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔
محاذِ جنگ میں شرکت
دفاعِ مقدس (1980–1988) کے دوران وہ محاذ پر موجود رہے اور ٹِیپ 21 امام رضا (علیہ السلام) خراسان کے دیدہبان تھے۔ دسمبر 1986 م میں وہ شدید زخمی ہوئے اور شلمچہ کے صحرائی اسپتال میں سہولیات کی کمی کے باعث اپنا دایاں پاؤں کھو بیٹھے۔
تدریس
انہوں نے یونیورسٹی امام صادق (علیہ السلام) میں ’’دیپلماسیِ پیامبر (صلی اللہ علیہ وآلہ)‘‘ کا درس دیا اور یونیورسٹی صنعتی شریف کے مینجمنٹ و اکنامکس فیکلٹی میں بھی تدریس کی۔[1]
وزارتِ امورِ خارجہ
جنگ کے اختتام کے بعد، 1989 م میں وزارتِ امورِ خارجہ میں داخل ہوئے۔ 26 سال کی عمر میں محکمۂ انسپکشن کے سربراہ مقرر ہوئے اور 1996 م تک اس منصب پر رہے۔ صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے دورِ دوم کے آخری سال میں انہوں نے وزارتِ خارجہ کے امریکہ ڈیسک میں معاونت کی۔ بعد ازاں دفترِ رهبری میں مدیرِ امورِ جاریہ بنے۔ صدر محمود احمدینژاد کے دور میں دوبارہ وزارتِ خارجہ لوٹے اور یورپ و امریکہ کے معاون مقرر ہوئے۔
قومی سلامتی کونسل
اکتوبر 2007 م میں علی لاریجانی کی اعلیٰ امنیتی مشیر کے عہد سے استعفے کے بعد، محمود احمدی نژاد نے سعید جلیلی کو اس منصب پر جانشین مقرر کیا۔ تقریباً ایک سال بعد، رهبر معظم نے احکامی ذریعے انہیں قومی سلامتی کونسل میں نمائندہ قرار دیا۔ سعید جلیلی کی اعلیٰ امنیتی مشیر کے طور پر اہم کارروائیاں جوہری مذاکرات کے ساتھ تھیں جو ایران اور یورپی ممالک کے درمیان ہوئے۔ اس کے نتیجے میں، حسن روحانی کی پہلی حکومت کے اقتدار پر آنے کے بعد، علی شمخانی کو اس منصب پر مقرر کیا گیا اور ایرانی جوہری فائل بھی سفارتی دباوے اور وزارت خارجہ کے سپرد کر دی گئی۔"
نمائندۂ رهبری برائے شورائے عالی امنیت ملی
امام خامنهای نے انہیں تین سال کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ حکم میں فرمایا:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جناب آقای دکتر سعید جلیلی... [2]
— سید علی حسینی خامنهای، 29 جون 2008 م
اجرائی تجربات
- وزارتِ خارجہ میں محکمۂ انسپکشن کے سربراہ (1991–1997 م)
- وزارتِ خارجہ میں اوّل امریکہ ڈیسک کے معاون (1997–2000 م)
- دفترِ رهبری میں مدیرِ امورِ جاریہ (2000–2005 م)
- وزارتِ امورِ خارجہ کے یورپ و امریکہ ڈویژن کے معاون (2005–2007 م)
- شورائے عالی امنیت ملی کے سیکرٹری (2007–2013 م)
- نمائندۂ رهبری برائے شورائے عالی امنیت ملی (2007 م تا حال)
- رکنِ مجمع تشخیص مصلحت نظام (2013 م تا حال)
- رکنِ خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل (2014 م تا حال)
انتخابی سرگرمیاں
سعید جلیلی نے انتخاباتِ ریاستِ جمهوری کے چودھویں دور سے قبل دو بار صدارتی انتخابات میں شرکت کی۔
- 2013 م میں انہوں نے چار ملین سے زائد ووٹ حاصل کیے اور محمدباقر قالیباف اور حسن روحانی کے بعد تیسرے نمبر پر رہے۔
- 2021 م کے انتخابات میں انہوں نے سید ابراہیم رئیسی کے حق میں دستبرداری اختیار کی۔
- 30 مئی 2024 م کو انہوں نے انتخاباتِ ریاستِ جمهوری کے چودھویں دور کے لیے نامزدگی درج کرائی اور 9 جون 2024 م کو شورای نگهبان نے ان کی اہلیت کی توثیق کی۔
وہ نعرہ "ایک جہان فرصت، ایک ایران جهش" کے ساتھ میدان میں اترے۔ دوسرے مرحلے میں مسعود پزشکیان کے مقابلے میں کم ووٹ ملنے پر ناکام رہے۔ [4]