مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے منتخب اثر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
[[فائل: تسلیحات کشتار جمعی از دیدگاه اسلام و حقوق بین الملل بشر دوستانه – بررسی تحقیقی حقوق بشر دوستانه.png |بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل: وحدت مذاهب اسلامی در منظومۀ فکری مقام معظم رهبری (کتاب).png|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
'''[[اسلام اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی روشنی میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار(کتاب)|اسلام اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی روشنی میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار]]''' یہ کتاب، جو کہ تحقیقی و دستاویزی طریقۂ کار پر مبنی ہے، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (Weapons of Mass Destruction) کے مختلف عناصر کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا جامع تعریف پیش کرتی ہے۔ [[جنگ|جنگوں]] میں سب سے زیادہ ظلم و تشدد ان ہتھیاروں سے جنم لیتا ہے جو انسانی عظمت اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں اور جنہیں عالمی سطح پر اقوام بھی نعرے کے طور پر مذمت کرتی ہیں۔
'''[[وحدتِ مذاہبِ اسلامی در منظومہ فکریِ مقامِ معظم رہبری(کتاب)|وحدتِ مذاہبِ اسلامی در منظومہ فکریِ مقامِ معظم رہبری]]''' یہ کتاب [[اسلامی فرقے|اسلامی فرقوں]]  اور مذاہب کے درمیان اتحادِ امتِ مسلمہ کے مسئلے پر گفتگو کرتی ہے۔ [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کے عوام، انقلابیوں اور رہنماؤں کا ایک بنیادی نعرہ امتِ مسلمہ کا اتحاد ہے۔ اسی سلسلے میں انقلاب کے [[سید علی خامنہ ای|رہبرِ شہید امام خامنہ ای]] نے اپنے ایک بیان میں فرمایا: "اگر کوئی اپنے مذہب کو علمی بنیاد پر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں اس کی مخالفت نہیں کرتا۔ چاہے وہ [[شیعہ]] ہو یا [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]]، یا کسی اور مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو، ہر مؤمن کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طریقے کو علمی دلائل سے ثابت کرے۔

نسخہ بمطابق 13:31، 28 اپريل 2026ء

وحدتِ مذاہبِ اسلامی در منظومہ فکریِ مقامِ معظم رہبری یہ کتاب اسلامی فرقوں اور مذاہب کے درمیان اتحادِ امتِ مسلمہ کے مسئلے پر گفتگو کرتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام، انقلابیوں اور رہنماؤں کا ایک بنیادی نعرہ امتِ مسلمہ کا اتحاد ہے۔ اسی سلسلے میں انقلاب کے رہبرِ شہید امام خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں فرمایا: "اگر کوئی اپنے مذہب کو علمی بنیاد پر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں اس کی مخالفت نہیں کرتا۔ چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی، یا کسی اور مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو، ہر مؤمن کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طریقے کو علمی دلائل سے ثابت کرے۔