"قربانقلی حیدرنژاد" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) « {{Infobox person | title = | image = قربانقلی حیدرنژاد.jpg | name = قربانقلی حیدرنژاد | other names = قربانقلی آخوند حیدرنژاد | brith year = 1342 ش | brth date = فروردین | birth place = ایران، مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان) | death year = 1399 ش | death date = 17 آذر | death place = | teachers = {{افقی ب...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 19: | سطر 19: | ||
}} | }} | ||
قربانقلی حیدرنژاد ایک خطیب اور شاعر تھے، جو فرقہ جاتی ہم آہنگی (تقریبِ مذاہب) کے میدان میں سرگرم تھے۔ وہ حوزۂ علمیہ احمدیہ کے مدیر، بانی اور استاد تھے اور ترکمن صحرا کے نمایاں علما میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی تصانیف میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری شامل ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔ | '''قربانقلی حیدرنژاد''' ایک خطیب اور شاعر تھے، جو فرقہ جاتی ہم آہنگی (تقریبِ مذاہب) کے میدان میں سرگرم تھے۔ وہ حوزۂ علمیہ احمدیہ کے مدیر، بانی اور استاد تھے اور ترکمن صحرا کے نمایاں علما میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی تصانیف میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری شامل ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔ | ||
== سوانحِ حیات == | |||
سوانحِ حیات | |||
قربانقلی آخوند حیدرنژاد اپریل 1963ء میں مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر گمیش تپہ میں حاصل کی۔ علومِ دینی کے حصول سے گہری محبت اور شوق کے باعث وہ گنبدِ کاووس شہر گئے، جہاں انہوں نے استاد نورمحمد آخوند نوریزادہ کی خدمت میں حاضری دی۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک انہوں نے ان کے علم و دانش کے چشمے سے فیض حاصل کیا اور بالآخر آخوند کے منصب پر فائز ہوئے۔ | قربانقلی آخوند حیدرنژاد اپریل 1963ء میں مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر گمیش تپہ میں حاصل کی۔ علومِ دینی کے حصول سے گہری محبت اور شوق کے باعث وہ گنبدِ کاووس شہر گئے، جہاں انہوں نے استاد نورمحمد آخوند نوریزادہ کی خدمت میں حاضری دی۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک انہوں نے ان کے علم و دانش کے چشمے سے فیض حاصل کیا اور بالآخر آخوند کے منصب پر فائز ہوئے۔ | ||
سرگرمیاں | == علمی سرگرمیاں == | ||
آخوند حیدرنژاد نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر واپسی اختیار کی اور شہر گمیش تپہ میں حوزۂ علمیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی، جہاں وہ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں اس حوزۂ علمیہ سے ترکمن صحرا کے علاقے میں رائج دینی مدارس کے روایتی طرز پر دو ادوار کے فارغالتحصیل طلبہ معاشرے کے حوالے کیے گئے۔ | آخوند حیدرنژاد نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر واپسی اختیار کی اور شہر گمیش تپہ میں حوزۂ علمیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی، جہاں وہ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں اس حوزۂ علمیہ سے ترکمن صحرا کے علاقے میں رائج دینی مدارس کے روایتی طرز پر دو ادوار کے فارغالتحصیل طلبہ معاشرے کے حوالے کیے گئے۔ | ||
تبلیغ | == تبلیغ == | ||
وہ ایک توانا خطیب اور مؤثر مقرر تھے۔ عوامی محافل اور مختلف مواقع پر وہ گوناگوں موضوعات پر خطاب کرتے تھے، جن میں سیاسی و سماجی افکار، دینی و اسلامی طرزِ زندگی اور روزمرہ سماجی مسائل شامل تھے۔ وہ ہمیشہ علاقے کے عوام کی آگاہی میں اضافہ اور سماجی سرمائے کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ | وہ ایک توانا خطیب اور مؤثر مقرر تھے۔ عوامی محافل اور مختلف مواقع پر وہ گوناگوں موضوعات پر خطاب کرتے تھے، جن میں سیاسی و سماجی افکار، دینی و اسلامی طرزِ زندگی اور روزمرہ سماجی مسائل شامل تھے۔ وہ ہمیشہ علاقے کے عوام کی آگاہی میں اضافہ اور سماجی سرمائے کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ | ||
تصانیف | == تصانیف == | ||
انہوں نے علمی و مذہبی جرائد اور رسائل میں متعدد مقالات پیش کرنے کے علاوہ چند تصانیف بھی یادگار چھوڑیں۔ ان میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری قابلِ ذکر ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔ یہ کتب استادِ محترم محمد آخوند نوریزادہ اور مولوی اسحاق مدنی، سابق مشیرِ صدرِ مملکت برائے امورِ اہلِ سنت، کی تقریظات کے ساتھ اساتذہ اور دینی علوم کے طلبہ و محققین کے لیے شائع کی گئیں۔ | انہوں نے علمی و مذہبی جرائد اور رسائل میں متعدد مقالات پیش کرنے کے علاوہ چند تصانیف بھی یادگار چھوڑیں۔ ان میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری قابلِ ذکر ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔ یہ کتب استادِ محترم محمد آخوند نوریزادہ اور مولوی اسحاق مدنی، سابق مشیرِ صدرِ مملکت برائے امورِ اہلِ سنت، کی تقریظات کے ساتھ اساتذہ اور دینی علوم کے طلبہ و محققین کے لیے شائع کی گئیں۔ | ||
شاعری | == شاعری == | ||
آخوند حیدرنژاد ایک شاعر اور ادیب تھے۔ ان کے جاننے والے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اکثر اوقات مطالعہ اور تحقیق میں مشغول رہتے تھے۔ وہ فارسی، ترکمنی اور عربی ادب میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری اور تصنیف کا آغاز مسجد سے متعلق ایک خواب کے ساتھ ہوا۔ شعر کہنے اور یاد رکھنے میں ان کی قوتِ حافظہ غیر معمولی تھی؛ وہ چوبیس اشعار پر مشتمل ایک نظم کو صرف ایک بار پڑھ کر حفظ کر لیتے تھے۔ شعر کہنے کے لیے وہ چند لمحے خاموش رہتے، پھر اچانک بامعنی اور طویل نظم ایک ادبی قالب میں کہہ دیتے، گویا شعر ان پر الہام کی صورت میں نازل ہوتا تھا۔ | آخوند حیدرنژاد ایک شاعر اور ادیب تھے۔ ان کے جاننے والے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اکثر اوقات مطالعہ اور تحقیق میں مشغول رہتے تھے۔ وہ فارسی، ترکمنی اور عربی ادب میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری اور تصنیف کا آغاز مسجد سے متعلق ایک خواب کے ساتھ ہوا۔ شعر کہنے اور یاد رکھنے میں ان کی قوتِ حافظہ غیر معمولی تھی؛ وہ چوبیس اشعار پر مشتمل ایک نظم کو صرف ایک بار پڑھ کر حفظ کر لیتے تھے۔ شعر کہنے کے لیے وہ چند لمحے خاموش رہتے، پھر اچانک بامعنی اور طویل نظم ایک ادبی قالب میں کہہ دیتے، گویا شعر ان پر الہام کی صورت میں نازل ہوتا تھا۔ | ||
تقریبی سوچ | == تقریبی سوچ == | ||
وہ تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم شخصیات میں سے تھے۔ عوامی محافل میں خطابات کے ذریعے اور نیز تقریبِ مذاہب سے متعلق علمی و تحقیقی مقالات کی پیش کش کے ساتھ، تقریبِ مذاہب کے کانفرنسوں، عالمی مرکز برای تقریبِ مذاہبِ اسلامی کی کانفرنسِ وحدتِ اسلامی، اور مختلف مذہبی و سیاسی اجتماعات میں فعال شرکت کرتے رہے۔ انہوں نے برسوں تک معاشرے میں وحدت اور باہمی ہم دلی کے اصول کے تحقق اور استحکام کے لیے مسلسل کوشش کی۔<ref>[https://www.turkmensesi.net/%D8%A7%D8%AE%D8%A8%D8%A7%D8%B1/9800-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF-%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D9%8A-%D8%A2%D8%AE%D9%88%D9%86%D8%AF- زندگینامه استاد فقید قربانقلی آخوند حیدرنژاد، وبسایت پایگاه خبری ترکمن سسی]. </ref> | وہ تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم شخصیات میں سے تھے۔ عوامی محافل میں خطابات کے ذریعے اور نیز تقریبِ مذاہب سے متعلق علمی و تحقیقی مقالات کی پیش کش کے ساتھ، تقریبِ مذاہب کے کانفرنسوں، عالمی مرکز برای تقریبِ مذاہبِ اسلامی کی کانفرنسِ وحدتِ اسلامی، اور مختلف مذہبی و سیاسی اجتماعات میں فعال شرکت کرتے رہے۔ انہوں نے برسوں تک معاشرے میں وحدت اور باہمی ہم دلی کے اصول کے تحقق اور استحکام کے لیے مسلسل کوشش کی۔<ref>[https://www.turkmensesi.net/%D8%A7%D8%AE%D8%A8%D8%A7%D8%B1/9800-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF-%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D9%8A-%D8%A2%D8%AE%D9%88%D9%86%D8%AF- زندگینامه استاد فقید قربانقلی آخوند حیدرنژاد، وبسایت پایگاه خبری ترکمن سسی]. </ref> | ||
نقطۂ نظر | === == نقطۂ نظر == | ||
تقریبِ مذاہب، اتحاد اور انسجام کی اوّلیت | تقریبِ مذاہب، اتحاد اور انسجام کی اوّلیت === | ||
آخوند قربانقلی حیدرنژاد، حوزۂ علمیہ اہلِ سنت احمدیہ گمیش تپہ (گمیشان) کے مدیر اور مدرس، نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تقریبِ مذاہب کا مطلب اتحاد اور انسجام کو اوّلیت دینا ہے، کہا کہ اسلامی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے باہم جمع ہوں اور مسئلۂ تقریب کو اپنے لیے ایک بنیادی مسئلہ سمجھیں اور اسے اپنی عمومی اور انفرادی پالیسیوں کی بنیاد قرار دیں۔ | آخوند قربانقلی حیدرنژاد، حوزۂ علمیہ اہلِ سنت احمدیہ گمیش تپہ (گمیشان) کے مدیر اور مدرس، نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تقریبِ مذاہب کا مطلب اتحاد اور انسجام کو اوّلیت دینا ہے، کہا کہ اسلامی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے باہم جمع ہوں اور مسئلۂ تقریب کو اپنے لیے ایک بنیادی مسئلہ سمجھیں اور اسے اپنی عمومی اور انفرادی پالیسیوں کی بنیاد قرار دیں۔ | ||
انہوں نے مزید کہا کہ انتہاپسندانہ اقدامات کی مذمت اور بعض افراطی گروہوں کے غیر انسانی اعمال کی روک تھام اسلامی ممالک میں عملی طور پر نافذ ہونی چاہیے۔ | انہوں نے مزید کہا کہ انتہاپسندانہ اقدامات کی مذمت اور بعض افراطی گروہوں کے غیر انسانی اعمال کی روک تھام اسلامی ممالک میں عملی طور پر نافذ ہونی چاہیے۔ | ||
| سطر 56: | سطر 51: | ||
آخوند حیدرنژاد کے بقول، ہر مسلمان صحیح اسلامی عقیدہ اور اپنے مخصوص مذہب کے ساتھ امتِ واحدۂ اسلامی کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔<ref>[https://rasanews.ir/0023QY تقریب مذاهب یعنی اینکه اتحاد و انسجام در اولویت باشد، وبسایت خبرگزاری رسا]. </ref> | آخوند حیدرنژاد کے بقول، ہر مسلمان صحیح اسلامی عقیدہ اور اپنے مخصوص مذہب کے ساتھ امتِ واحدۂ اسلامی کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔<ref>[https://rasanews.ir/0023QY تقریب مذاهب یعنی اینکه اتحاد و انسجام در اولویت باشد، وبسایت خبرگزاری رسا]. </ref> | ||
وفات | == وفات == | ||
بالآخر قربانعلی آخوند حیدرنژاد ایک عمر دینی خدمات اور تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم رہنے کے بعد پیر کے روز 17 آذر 1399 شمسی کو 57 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ | بالآخر قربانعلی آخوند حیدرنژاد ایک عمر دینی خدمات اور تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم رہنے کے بعد پیر کے روز 17 آذر 1399 شمسی کو 57 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ | ||
تعزیتی | == تعزیتی پیغامات == | ||
=== ایران کے شمال میں قائم مرکزِ بزرگِ اسلامی کے سرپرست کا تعزیتی پیغام === | |||
ایران کے شمال میں قائم مرکزِ بزرگِ اسلامی کے سرپرست کا تعزیتی پیغام | |||
مرکزِ بزرگِ اسلامی شمالِ کشور کے سرپرست، حجت الاسلام دیلم نے ان کے وفات کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام کها: | مرکزِ بزرگِ اسلامی شمالِ کشور کے سرپرست، حجت الاسلام دیلم نے ان کے وفات کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام کها: | ||
نسخہ بمطابق 09:10، 28 جنوری 2026ء
| قربانقلی حیدرنژاد | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | قربانقلی حیدرنژاد |
| دوسرے نام | قربانقلی آخوند حیدرنژاد |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1342 ش، 1964 ء، 1382 ق |
| پیدائش کی جگہ | ایران، مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان) |
| وفات | 1399 ش، 2021 ء، 1441 ق |
| یوم وفات | 17 آذر |
| اساتذہ |
|
| مذہب | اسلام، اہل سنت |
| اثرات |
|
| مناصب |
|
قربانقلی حیدرنژاد ایک خطیب اور شاعر تھے، جو فرقہ جاتی ہم آہنگی (تقریبِ مذاہب) کے میدان میں سرگرم تھے۔ وہ حوزۂ علمیہ احمدیہ کے مدیر، بانی اور استاد تھے اور ترکمن صحرا کے نمایاں علما میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی تصانیف میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری شامل ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔
سوانحِ حیات
قربانقلی آخوند حیدرنژاد اپریل 1963ء میں مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر گمیش تپہ میں حاصل کی۔ علومِ دینی کے حصول سے گہری محبت اور شوق کے باعث وہ گنبدِ کاووس شہر گئے، جہاں انہوں نے استاد نورمحمد آخوند نوریزادہ کی خدمت میں حاضری دی۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک انہوں نے ان کے علم و دانش کے چشمے سے فیض حاصل کیا اور بالآخر آخوند کے منصب پر فائز ہوئے۔
علمی سرگرمیاں
آخوند حیدرنژاد نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر واپسی اختیار کی اور شہر گمیش تپہ میں حوزۂ علمیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی، جہاں وہ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں اس حوزۂ علمیہ سے ترکمن صحرا کے علاقے میں رائج دینی مدارس کے روایتی طرز پر دو ادوار کے فارغالتحصیل طلبہ معاشرے کے حوالے کیے گئے۔
تبلیغ
وہ ایک توانا خطیب اور مؤثر مقرر تھے۔ عوامی محافل اور مختلف مواقع پر وہ گوناگوں موضوعات پر خطاب کرتے تھے، جن میں سیاسی و سماجی افکار، دینی و اسلامی طرزِ زندگی اور روزمرہ سماجی مسائل شامل تھے۔ وہ ہمیشہ علاقے کے عوام کی آگاہی میں اضافہ اور سماجی سرمائے کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔
تصانیف
انہوں نے علمی و مذہبی جرائد اور رسائل میں متعدد مقالات پیش کرنے کے علاوہ چند تصانیف بھی یادگار چھوڑیں۔ ان میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری قابلِ ذکر ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔ یہ کتب استادِ محترم محمد آخوند نوریزادہ اور مولوی اسحاق مدنی، سابق مشیرِ صدرِ مملکت برائے امورِ اہلِ سنت، کی تقریظات کے ساتھ اساتذہ اور دینی علوم کے طلبہ و محققین کے لیے شائع کی گئیں۔
شاعری
آخوند حیدرنژاد ایک شاعر اور ادیب تھے۔ ان کے جاننے والے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اکثر اوقات مطالعہ اور تحقیق میں مشغول رہتے تھے۔ وہ فارسی، ترکمنی اور عربی ادب میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری اور تصنیف کا آغاز مسجد سے متعلق ایک خواب کے ساتھ ہوا۔ شعر کہنے اور یاد رکھنے میں ان کی قوتِ حافظہ غیر معمولی تھی؛ وہ چوبیس اشعار پر مشتمل ایک نظم کو صرف ایک بار پڑھ کر حفظ کر لیتے تھے۔ شعر کہنے کے لیے وہ چند لمحے خاموش رہتے، پھر اچانک بامعنی اور طویل نظم ایک ادبی قالب میں کہہ دیتے، گویا شعر ان پر الہام کی صورت میں نازل ہوتا تھا۔
تقریبی سوچ
وہ تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم شخصیات میں سے تھے۔ عوامی محافل میں خطابات کے ذریعے اور نیز تقریبِ مذاہب سے متعلق علمی و تحقیقی مقالات کی پیش کش کے ساتھ، تقریبِ مذاہب کے کانفرنسوں، عالمی مرکز برای تقریبِ مذاہبِ اسلامی کی کانفرنسِ وحدتِ اسلامی، اور مختلف مذہبی و سیاسی اجتماعات میں فعال شرکت کرتے رہے۔ انہوں نے برسوں تک معاشرے میں وحدت اور باہمی ہم دلی کے اصول کے تحقق اور استحکام کے لیے مسلسل کوشش کی۔[1]
= == نقطۂ نظر
تقریبِ مذاہب، اتحاد اور انسجام کی اوّلیت === آخوند قربانقلی حیدرنژاد، حوزۂ علمیہ اہلِ سنت احمدیہ گمیش تپہ (گمیشان) کے مدیر اور مدرس، نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تقریبِ مذاہب کا مطلب اتحاد اور انسجام کو اوّلیت دینا ہے، کہا کہ اسلامی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے باہم جمع ہوں اور مسئلۂ تقریب کو اپنے لیے ایک بنیادی مسئلہ سمجھیں اور اسے اپنی عمومی اور انفرادی پالیسیوں کی بنیاد قرار دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہاپسندانہ اقدامات کی مذمت اور بعض افراطی گروہوں کے غیر انسانی اعمال کی روک تھام اسلامی ممالک میں عملی طور پر نافذ ہونی چاہیے۔
گلستان کے اس ممتاز عالمِ اہلِ سنت نے اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے کہ اسلامی مشترکات پر انحصار ہی مختلف اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی کا بنیادی عامل ہے، کہا کہ مسلمانوں کو اسلامی انسجام اختیار کرتے ہوئے ان اختلافات کو، جو باعثِ شرمندگی ہیں، مذاہبِ اسلامی کے اندرونی اختلافات سمجھنا چاہیے اور صرف وحدت کے عوامل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ سنت کے چاروں فقہی و کلامی مکاتب کے درمیان اختلافات موجود ہیں، لیکن باہمی برداشت کے ذریعے ان اختلافات کو مذهب کے اندر اجتہادی اختلافات شمار کیا جاتا ہے۔ حیدرنژاد کے مطابق، تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اس میں اتحاد اور انسجام کو دیگر امور پر فوقیت دی جاتی ہے۔
حوزۂ علمیہ اہلِ سنت احمدیہ گمیشان کے مدیر اور مدرس نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافی امور نہایت کم ہیں، اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کو قبول کرنا چاہیے، کیونکہ تمام اسلامی مذاہب بہت سے بنیادی اور اصولی امور میں مشترک ہیں اور اختلافات نہایت جزوی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج تقریب کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں، اور اسلامی اقوام کو اس مقدس امر کے ذریعے، جو خداوند متعال اور نبیِ مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مؤکد ہدایت ہے، مشترکہ محوروں کے گرد جمع ہونا چاہیے۔ آخوند حیدرنژاد کے بقول، ہر مسلمان صحیح اسلامی عقیدہ اور اپنے مخصوص مذہب کے ساتھ امتِ واحدۂ اسلامی کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔[2]
وفات
بالآخر قربانعلی آخوند حیدرنژاد ایک عمر دینی خدمات اور تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم رہنے کے بعد پیر کے روز 17 آذر 1399 شمسی کو 57 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔
تعزیتی پیغامات
ایران کے شمال میں قائم مرکزِ بزرگِ اسلامی کے سرپرست کا تعزیتی پیغام
مرکزِ بزرگِ اسلامی شمالِ کشور کے سرپرست، حجت الاسلام دیلم نے ان کے وفات کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام کها:
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ: 156)
نہایت رنج و الم کے ساتھ ممتاز عالمِ دینِ ، محقق، مصنف، شاعر اور ترکمن ادیب، مدرسۂ علومِ دینی احمدیہ گمیشان کے مدیر و مدرس، آخوند قربانقلی حیدرنژاد کے انتقال پر ترکمن صحرا کے تمام عوام، ضلع گمیشان، صوبۂ گلستان اور بالخصوص مرحوم کے اہلِ خانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔ میں خداوندِ متعال سے اس مرحومِ مغفور کے لیے وسیع رحمت و مغفرتِ الٰہی اور تمام پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم کی دعا کرتا ہوں۔
مرحوم آخوند قربانقلی حیدرنژاد نے اپنی حیات کے دوران امتِ اسلامی کے درمیان وحدت و تقریب کے قیام اور قرآنِ کریم اور سنتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سائے میں مسلمانوں کے پُرامن طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ مرحوم استاد آخوند قربانقلی حیدرنژاد ایک محقق، مصنف، شاعر، ترکمن ادیب اور توانا خطیب تھے، جنہوں نے اپنی بابرکت عمر کے دوران تصانیف، کتب، خطابات اور نصائح کے ذریعے علاقے کے عوام میں اسلامی طرزِ زندگی کے فروغ اور توسعے کے لیے گراں قدر کوششیں کیں۔
ایک بار پھر اس المناک سانحے پر تعزیت پیش کرتے ہوئے، میں خداوندِ سبحان سے اس عظیم عالم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان، بالخصوص صوبۂ گلستان کے معزز اہلِ سنت عوام کے لیے صبرِ جزیل کی دعا کرتا ہوں۔[3]
