"اسدالله علم" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 133: | سطر 133: | ||
== شاہ کے بارے میں علم کا نقطۂ نظر اور قریبی تعلقات== | == شاہ کے بارے میں علم کا نقطۂ نظر اور قریبی تعلقات== | ||
شاہ کے ساتھ اسداللہ علم کی قربت اس قدر نمایاں تھی کہ انقلابِ ایران کے ایک ممتاز تجزیہ نگار نے ان کی **قبل از وقت وفات** کو حکومتِ پہلوی دوم کے سقوط کے **پانچ بنیادی اسباب** میں سے ایک قرار دیا ہے۔ علم نے زندگی کے نشیب و فراز، تلخی و شیرینی ہر دور میں شاہ کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا اور ہمیشہ محمدرضا شاہ کے لیے ایک **حوصلہ اور ذہنی سہارا** بنے رہے۔ | شاہ کے ساتھ اسداللہ علم کی قربت اس قدر نمایاں تھی کہ انقلابِ ایران کے ایک ممتاز تجزیہ نگار نے ان کی **قبل از وقت وفات** کو حکومتِ پہلوی دوم کے سقوط کے **پانچ بنیادی اسباب** میں سے ایک قرار دیا ہے۔ علم نے زندگی کے نشیب و فراز، تلخی و شیرینی ہر دور میں شاہ کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا اور ہمیشہ محمدرضا شاہ کے لیے ایک **حوصلہ اور ذہنی سہارا** بنے رہے۔ | ||
شاہ علم کو اپنا سچا وفادار اور مخلص سمجھتا تھا اور اکثر مواقع پر ان کی آرا اور مشوروں پر عمل کرتا تھا۔ یہاں تک کہ متعدد مرتبہ شاہ، علم کی دعوت پر اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ **بیرجند** کا سفر کر کے وہاں گیا اور خاصا طویل عرصہ اس شہر میں قیام کر کے آرام بھی کیا۔ | شاہ علم کو اپنا سچا وفادار اور مخلص سمجھتا تھا اور اکثر مواقع پر ان کی آرا اور مشوروں پر عمل کرتا تھا۔ یہاں تک کہ متعدد مرتبہ شاہ، علم کی دعوت پر اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ **بیرجند** کا سفر کر کے وہاں گیا اور خاصا طویل عرصہ اس شہر میں قیام کر کے آرام بھی کیا۔<ref>[https://www.rooydad24.com/news/... اسدالله علم که بود؟ خانزاده جنوب خراسان، رویداد۲۴] ( زبان فارسی) درج شده تاریخ: 13/ نومبر/ 2024ء اخذشده تاریخ: 22/ جنوری/ 2026ء </ref> | ||
نسخہ بمطابق 14:03، 22 جنوری 2026ء
| اسدالله علم | |
|---|---|
| پورا نام | اسدالله علم |
| دوسرے نام | امیر اسدالله علم |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1297 ش، 1919 ء، 1336 ق |
| پیدائش کی جگہ | ایران خراسان صوبه، بیرجند |
| وفات | 1357 ش، 1979 ء، 1398 ق |
| یوم وفات | 25 فروردین |
| وفات کی جگہ | امریکا، نیویورک |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات |
|
| مناصب |
|
اسداللہ علم، ایک سیاست دان اور پہلوی دور کی نمایاں شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ جنوبی خراسان کے ایک خان خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی سیاسی سرگرمیوں کے دوران انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت، وزارتِ داخلہ، وزارتِ عظمیٰ اور وزارتِ دربار جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ علم کو شاہ کے قریبی ترین ساتھیوں اور مشیروں میں شمار کیا جاتا تھا اور انہوں نے خاص طور پر ۲۸ مرداد کی بغاوت کے بعد اور سفید انقلاب کے دور میں ریاستی داخلی پالیسیوں کے نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا۔
سوانحِ حیات
اسداللہ علم ۱۲۹۸ شمسی میں جنوبی خراسانِ بزرگ کے شہر بیرجند میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمدابراہیم خان علم، جو شوکتالملک کے لقب سے مشہور تھے، قائنات اور سیستان کے امراء میں سے تھے اور ۱۲۹۹ شمسی کی بغاوت (کودتا) کے دوران رضا شاہ کو اپنے مقاصد کے حصول میں مدد دی۔ اس کودتا کے بعد ان کے والد کو قائنات اور سیستان و بلوچستان کا حکمران مقرر کیا گیا اور انہوں نے متعدد ادوار میں وزارتِ ڈاک، ٹیلی گراف اور ٹیلی فون کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔
اسداللہ علم نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور اسی دوران انگریزی اور فرانسیسی زبانیں بھی سیکھیں۔ جب ابراہیم خان علم کو رضا شاہ کی جانب سے تہران طلب کیا گیا تو اسداللہ بھی پندرہ برس کی عمر میں تہران آئے اور مدرسۂ عالی زراعتِ کرج میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔ انہوں نے ۵ مرداد ۱۳۲۱ شمسی کو زرعی انجینئرنگ میں بیچلر (لیسانس) کی ڈگری حاصل کی۔
بعد ازاں، اپنے والد کی سفارش پر، اسداللہ علم نے ۱۳۱۸ شمسی میں، بیس برس کی عمر میں، ملک تاج سے شادی کی جو قوامالملک شیرازی کی دوسری بیٹی تھیں۔ اس سے قبل قوامالملک کے بیٹے کی شادی اشرف پہلوی سے ہو چکی تھی۔
ساواک کی رپورٹیں اور اسداللہ علم کے تعلقات
اسداللہ علم کی نجی زندگی کا ایک پہلو، جس نے ان کے گرد کافی بحث و مباحثہ پیدا کیا، ان کی خواتین—ایرانی اور غیر ملکی—کے ساتھ بے حد رغبت تھی۔ یہاں تک کہ ان کی روزمرہ ڈائریوں میں بھی اس رجحان کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ طرزِ زندگی زیادہ نازک مرحلے میں داخل ہو گئی اور ۱۳۳۰ شمسی کے عشرے میں عوامی اور نجی محفلوں میں بعض افراد انہیں ایک عیاش اور بے بند و بار شخص کے طور پر یاد کرنے لگے۔
ساواک کی ۱۳۳۶ دی (دسمبر ۱۹۵۷) کی ایک رپورٹ کے مطابق: وہ اپنا فارغ وقت عیش و عشرت میں گزارتا ہے، عورتوں میں بہت دلچسپی رکھتا ہے اور اکثر راتیں خواتین کے ساتھ تفریح و شراب نوشی کی محفلوں میں گزارتا ہے۔"
یہ طرزِ زندگی ان کی ازدواجی تعلقات پر بھی منفی اثر ڈالنے لگا۔ ملک تاج، ان کی اہلیہ، نے انہیں ان حرکات سے باز رکھنے کے لیے شاہی خاندان کے چند افراد سے درخواست کی کہ وہ علم کو نصیحت کریں اور انہیں وفاداری کی ترغیب دیں۔ تاہم روایت ہے کہ علم نے ان نصیحتوں کو کبھی اہمیت نہ دی۔
مزید برآں، کہا جاتا ہے کہ اس طرح کے تعلقات صرف اسداللہ علم تک محدود نہیں تھے، بلکہ خود محمدرضا شاہ بھی اس طرز زندگی میں ان کے شریکِ خاص تھے۔ اسی لیے شاہ اور علم کی قربت صرف سیاسی، اقتصادی یا ثقافتی معاملات تک محدود نہیں تھی، بلکہ ان کے ذاتی و خفیہ تعلقات اس دوستی کا ایک نمایاں پہلو سمجھے جاتے ہیں۔
سرگرمیاں اور سیاسی فعالیتیں
امیر اسداللہ علم نے اپنے والد کے نفوذ و اثر کی بدولت ۱۳۲۳ شمسی میں محمدرضا شاہ کے *پیشکارِ مخصوص* (Private Secretary) کے طور پر تقرری حاصل کی اور یہ منصب ۱۳۲۶ شمسی کے وسط تک ان کے پاس رہا۔ فارقالتحصیل ہونے کے بعد، اور اس زمانے میں جب تهران بیگانہ افواج کے قبضے کے باعث دگرگوں حالات کا شکار تھا، وہ بیرجند روانہ ہوگئے۔ امیر شوکتالملک —جو اپنے بیٹے سے پہلے بیرجند پہنچ چکے تھے— ۱۳۲۳ شمسی میں وہیں وفات پا گئے، اور یوں اسداللہ علم نے اپنے والد کے وسیع و عریض املاک و مستغلات کی سرپرستی اور انتظام سنبھالا۔
بیرجند میں علم کے کچھ خاص ساتھی اور کارپرداز موجود تھے جو ان کے مختلف امور نمٹاتے تھے۔ ان میں نمایاں نام یہ ہیں:
• **منصف**: جو ۱۷ برس تک مجلس شورای ملی میں بیرجند کے نمائندہ رہے اور سیاسی طور پر علم کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے. • **سپهری**: علم کی تمام جائیداد، باغات، زرعی زمینوں اور رعایا کے انتظام کے ذمہ دار تھے. • **هادوى**: آیتاللهالعظمی حاج شیخ هادی هادوی، جو مشروطہخواہ علماء میں سے تھے اور محمدابراهیم خان علم کی موقوفات کے متولی تھے. • **عسکری** اور **شیبانی**: جو علم کے قابل اعتماد مددگاروں اور کارگزاروں میں شمار ہوتے تھے.
بیرجند میں یہی افراد علم کی مقامی قدرتی و سیاسی نفوذ کا بنیادی ستون تھے۔
وزارتیں اور ۲۸ مرداد بغاوت میں کردار
۱۳۲۶ شمسی میں قوامالسلطنہ نے اسداللہ علم کو سیستان و بلوچستان کا فرماندارِ کل مقرر کیا۔ ۱۳۲۷ شمسی میں وہ کابینۂ دومِ ساعد مراغهای میں وزیرِ زراعت بنے۔ یہی منصب انہوں نے رجبعلی منصور کی کابینہ میں بھی برقرار رکھا، اور پھر کابینهٔ رزمآرا میں وزیرِ کار کے طور پر خدمات انجام دیں۔
رزمآرا کے قتل اور دکتر محمد مصدق کے نخستوزیر بننے کے بعد، شاہ نے علم کو *ادارهٔ املاک و مستغلات پهلوی* کا سرپرست مقرر کیا۔
۱۳۳۲ شمسی کے ۲۸ مرداد کی بغاوت ، جس کے نتیجے میں دولتِ مصدق ساقط ہوئی، کے دوران اسداللہ علم **انگلستان کے جاسوسی نیٹ ورک سے وابستہ عناصر**—بالخصوص برادرانِ رشیدیان اور شاپور ریپورٹر—کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔ کودتا کامیاب ہونے اور شاہ کے دوبارہ قدرت میں آنے کے بعد، علم شاہ کے نزدیک ترین مشیروں کے حلقے میں داخل ہوگئے۔
فروردین ۱۳۳۴ شمسی میں سپهبد فضلالله زاهدی کے استعفے کے بعد، حسین علا کی کابینہ میں اسداللہ علم وزیرِ داخلہ مقرر ہوئے۔ یہ منصب انہوں نے فروردین ۱۳۳۶ شمسی تک سنبھالا۔ اپنے دورِ وزارتِ داخله میں انہوں نے:
• پورے ملک کے استانداران اور فرمانداران کو برطرف کرکے شاہ کے وفادار افراد کو مقرر کیا. • **انتخاباتِ مجلس نوزدهم** کا انعقاد کیا. • مخالف اخبارات کی اشاعت کو سختی سے محدود کیا. • اور اسی دور میں **ساواک** کے قیام کا بل تیار کرکے مجلس میں پیش کیا گیا.
اس طرح علم نے نہ صرف سیاسی ساخت میں تبدیلیاں کیں بلکہ شاہی اقتدار کو مضبوط کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔
حزبِ مردم اور وزارتِ عظمیٰ
ڈاکٹر منوچہر اقبال کی کابینہ کے قیام کے بعد، فروردین ۱۳۳۶ شمسی میں، اسداللہ علم نے ۲۷ اردیبهشت اسی سال ایران میں برطانوی پالیسیوں کے نفاذ کے فریم ورک کے تحت **حزبِ مردم** کی بنیاد رکھی۔ تاہم اس جماعت کی قیادت ان کے پاس صرف اقبال کی وزارتِ عظمیٰ کے اختتام—یعنی شهریور ۱۳۳۹ شمسی—تک رہی، اور ۱۳۳۹ شمسی کے موسمِ گرما کے متنازعہ انتخابات کے اسکینڈل کے بعد وہ حزبِ مردم کی جنرل سیکرٹری کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور ہو گئے۔
علی امینی کی وزارتِ عظمیٰ سے برطرفی کے بعد، تیر ۱۳۴۱ شمسی میں امیر اسداللہ علم کو حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی اور وہ اسفند ۱۳۴۲ شمسی تک وزیرِ اعظم رہے۔ اس دور کا سب سے اہم واقعہ **بلدی و صوبائی انجمنوں (انجمنهای ایالتی و ولایتی)** کے بل کی منظوری تھی۔ اس بل کی اسلامی اقدار کے منافی نوعیت کے باعث علماء کرام، بالخصوص امام خمینی، نے شدید احتجاج کیا۔ عوامی مخالفت میں اضافے کے نتیجے میں علم کو اس بل پر اصرار سے دستبردار ہونا پڑا اور بالآخر آذر ۱۳۴۱ شمسی میں اس کی منسوخی کا اعلان کرنا پڑا۔
علم کے دورِ وزارتِ عظمیٰ کے دیگر اہم واقعات میں شامل ہیں:
• **۶ بہمن ۱۳۴۱** کا ریفرنڈم اور عوام کی جانب سے اس کا بائیکاٹ • **فروردین ۱۳۴۲** میں مدرسۂ فیضیہ قم میں طلبہ کا قتلِ عام • **۱۵ خرداد ۱۳۴۲** کو امام خمینی کی گرفتاری • اور اس کے بعد **۱۵ خرداد کی عوامی تحریک** کا خونریز کچل دیا جانا
امام خمینی کو تہران کی قصر جیل منتقل کیے جانے کے بعد، حکومت ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس موقع پر بعض حلقے امام خمینی کو سزائے موت دینے کے سخت حامی تھے، مگر اسداللہ علم ان بااثر افراد میں شامل تھے جن کا کہنا تھا:
> "آقای خمینی کو پھانسی نہیں دی جانی چاہیے، کیونکہ اس سے ان کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جائے گا، اور یہ پہلوی حکومت کے حق میں مناسب نہیں ہوگا۔"
علم کا خیال تھا کہ: > "خمینی کو ترکی میں جلا وطن کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہاں کی اکثریتی آبادی سنی مذہب سے تعلق رکھتی ہے اور ان کی باتوں کا وہاں زیادہ اثر نہیں ہوگا۔"
وہ مزید کہتے تھے کہ: > "چونکہ ترکی زبان کا فارسی اور عربی زبانوں سے خاصا فرق ہے، اس لیے وقت کے ساتھ ساتھ امام خمینی کا انقلابی پیغام مدھم اور بے اثر ہو جائے گا۔"
وزارتِ دربار اور سیاسی اثر و رسوخ
نخستوزیری سے استعفا دینے کے بعد، اسفند ۱۳۴۲ شمسی میں اسداللہ علم کو **دانشگاہِ پہلوی شیراز** کا سربراہ مقرر کیا گیا، اور وہ ۱۳۴۵ شمسی تک اس منصب پر فائز رہے۔ اس دوران ان کی کارکردگی نے طلبہ میں شدید نارضایتی اور غم و غصہ پیدا کیا۔ اسی سال **۱۹ آبان** کو وہ **وزیرِ دربار** مقرر ہوئے۔
علم نے بیک وقت کئی دیگر تشریفاتی اور بااثر مناصب بھی سنبھال لیے، جن میں شامل تھے: • محمدرضا شاہ کے *آجودانِ مخصوص* • *بنیادِ پہلوی* کے بورڈ میں شاہ کے خصوصی نمائندہ • *بنگاہِ ترجمہ و نشرِ کتاب* کے بورڈ کے رکن • *کمیتهٔ پیکار با بیسوادی* کے مینیجنگ ڈائریکٹر • *سازمانِ شاہنشاہی خدماتِ اجتماعی* کے بورڈ کے رکن • اور بتدریج **حزبِ مردم** کے جنرل سیکرٹری
تاہم، **وزارتِ دربار** ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے اہم اور بااثر عہدہ تھا۔ علم کی اس منصب پر تقرری کے بعد، ہویدا کی حکومت—جو پہلے ملکی فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتی تھی—زیادہ تر کلیدی فیصلوں اور اعلیٰ پالیسی سازی سے الگ کر دی گئی، اور اس کا کردار صرف انتظامی امور تک محدود ہو کر رہ گیا۔
علم اپنے دورِ وزارتِ دربار میں ملکی فیصلوں میں براہِ راست مداخلت کرتے تھے۔ اسی حیثیت میں انہوں نے شاہ کو **سرلشکر پاکروان** (ساواک کے سربراہ) کو برطرف کرنے اور **سپهبد نصیری** کو اس تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کرنے پر آمادہ کیا۔ اس تقرری کے بعد **ساواک** پہلے سے کہیں زیادہ براہِ راست شاہی دربار کے کنٹرول اور نگرانی میں آ گئی۔
بعد کے مراحل میں، وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ نفت بھی بتدریج شاہی دربار کے براہِ راست اثر و رسوخ اور کنٹرول میں آ گئیں۔ ان تمام روابط کے منتظم کے طور پر، اسداللہ علم نے اپنے پورے دورِ وزارتِ دربار میں ایران میں **برطانیہ کے ساتھ قریبی تعلقات** برقرار رکھے۔
اسی عرصے میں انہوں نے امریکی سیاست دانوں اور سفیروں کے ساتھ بھی قریبی اور دوستانہ روابط قائم کیے، اور ان کی معاونت سے **اسرائیل کا سفارت خانہ ایران میں قائم** ہوا۔
بیماری اور وفات
اسداللہ علم ۱۳۵۶ شمسی میں اپنی بیماری کے علاج کی غرض سے متعدد مرتبہ ملک سے باہر جانے پر مجبور ہوئے اور مسلسل یورپ کے مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج رہے۔ اگرچہ وہ وزیرِ دربار کے عہدے پر فائز تھے، تاہم اسی حالت میں ملک کے سیاسی و سماجی امور کی پیگیری بھی کرتے رہے۔ علم کی بیماری—جو بالآخر **خون کے سرطان (لیوکیمیا)** کی تشخیص پر منتج ہوئی—درحقیقت ۱۳۴۰ شمسی کے اواخر اور ۱۳۵۰ شمسی کے اوائل میں شروع ہو چکی تھی۔ پہلی بار انہوں نے تیر ۱۳۴۹ شمسی میں اپنی ایک نامعلوم بیماری کا ذکر کیا، جس کی ابتدائی علامت ان کے جسمانی وزن میں بتدریج کمی تھی۔
جوں جوں ان کی حالت بگڑتی گئی، بالآخر شاہ نے ان کی استعفے کی درخواست سے اتفاق کیا۔ آبان ۱۳۵۶ شمسی سے ان کی بیماری کی مہلک علامات واضح طور پر ظاہر ہونے لگیں۔
۱۹ آبان، جب وہ اپنے آبائی شہر بیرجند میں آرام کر رہے تھے، انہیں اندرونی خون ریزی کا سامنا ہوا اور مزید علاج کے لیے تہران منتقل کیا گیا۔ اگلے دن انہیں پیرس روانہ کیا گیا، اور ایک مختصر قیام کے بعد وہ ایران واپس آ گئے، مگر دی ۱۳۵۶ کے اواخر میں دوبارہ پیرس کے اسپتالوں میں داخل کر دیے گئے۔
کئی جراحی عملیات کے باوجود ان کی صحت مسلسل بگڑتی رہی، چنانچہ ۱۳۵۶ شمسی کے اواخر میں مزید نگہداشت اور علاج کی غرض سے انہیں امریکہ منتقل کیا گیا اور نیویارک کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا۔ اس وقت امریکی ڈاکٹروں کی یہ پیش گوئی کہ علم زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں گے، درست ثابت ہوئی۔
بالآخر اسداللہ علم **جمعہ ۲۵ فروردین ۱۳۵۷** کو صبح **۱۱ بجے**، **۵۸ برس** کی عمر میں مرگیا۔ اگلے دن ان کا جسدِ خاکی تہران منتقل کیا گیا اور پھر **اتوار ۲۷ فروردین ۱۳۵۷** کو خصوصی سرکاری تشریفات کے ساتھ **مشہد** میں، خاندانِ علم کے خاندانی مقبرے میں اور **حرمِ امام علی بن موسیٰ الرضاؑ** میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
شاہ کے بارے میں علم کا نقطۂ نظر اور قریبی تعلقات
شاہ کے ساتھ اسداللہ علم کی قربت اس قدر نمایاں تھی کہ انقلابِ ایران کے ایک ممتاز تجزیہ نگار نے ان کی **قبل از وقت وفات** کو حکومتِ پہلوی دوم کے سقوط کے **پانچ بنیادی اسباب** میں سے ایک قرار دیا ہے۔ علم نے زندگی کے نشیب و فراز، تلخی و شیرینی ہر دور میں شاہ کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا اور ہمیشہ محمدرضا شاہ کے لیے ایک **حوصلہ اور ذہنی سہارا** بنے رہے۔
شاہ علم کو اپنا سچا وفادار اور مخلص سمجھتا تھا اور اکثر مواقع پر ان کی آرا اور مشوروں پر عمل کرتا تھا۔ یہاں تک کہ متعدد مرتبہ شاہ، علم کی دعوت پر اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ **بیرجند** کا سفر کر کے وہاں گیا اور خاصا طویل عرصہ اس شہر میں قیام کر کے آرام بھی کیا۔[1]
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ اسدالله علم که بود؟ خانزاده جنوب خراسان، رویداد۲۴ ( زبان فارسی) درج شده تاریخ: 13/ نومبر/ 2024ء اخذشده تاریخ: 22/ جنوری/ 2026ء