"جبرئیل" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:جبرئیل کو جبرئیل کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف 9 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 89: | سطر 89: | ||
ابن تیمیہ، جو [[وہابیت|وہابی]] علما میں شمار ہوتے ہیں، کہتے ہیں: | ابن تیمیہ، جو [[وہابیت|وہابی]] علما میں شمار ہوتے ہیں، کہتے ہیں: | ||
<blockquote> | <blockquote> | ||
[[یہود]] نے جبرئیل میں نقص اور عیب داخل کرنے کی کوشش کی اور اسے فرشتوں میں اپنا دشمن سمجھا، جس طرح [[شیعہ]] کہتے ہیں کہ جبرئیل نے غلطی سے وحی محمد پر نازل کر دی۔ | [[یهودیت|یہود]] نے جبرئیل میں نقص اور عیب داخل کرنے کی کوشش کی اور اسے فرشتوں میں اپنا دشمن سمجھا، جس طرح [[شیعہ]] کہتے ہیں کہ جبرئیل نے غلطی سے وحی محمد پر نازل کر دی۔ | ||
</blockquote> | </blockquote> | ||
<ref>ابن تیمیہ، ''منہاج السنۃ النبویۃ''، ج ۱، ص ۶–۸۔</ref> | <ref>ابن تیمیہ، ''منہاج السنۃ النبویۃ''، ج ۱، ص ۶–۸۔</ref> | ||
| سطر 97: | سطر 97: | ||
== وحی کا نزول == | == وحی کا نزول == | ||
اسلامی ماخذ میں موجود روایات کے مطابق، جبرئیل نے قرآن کی پہلی آیات<ref>العلق: ۱–۵۔</ref> | اسلامی ماخذ میں موجود روایات کے مطابق، جبرئیل نے قرآن کی پہلی آیات<ref>العلق: ۱–۵۔</ref> غار حرا میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیں۔ اس کے بعد نبی اکرم [[حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا|حضرت خدیجہ]] (علیہما السلام) کے پاس واپس آئے اور انہیں اس اہم واقعے سے آگاہ کیا۔<ref>دیکھیے: عاملی، ج ۱، ص ۲۳۳۔</ref> | ||
=== اہلِ سنت کا نقطۂ نظر === | === اہلِ سنت کا نقطۂ نظر === | ||
اہلِ سنت کے ماخذ میں متعدد روایات کے مطابق، رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی حاصل کرنے کے بعد اس بارے میں متردد ہوئے کہ آیا انہوں نے وحی کے فرشتے کو دیکھا ہے یا [[شیطان]] سے ملاقات کی ہے۔ اپنی اہلیہ کے مشورے پر وہ | اہلِ سنت کے ماخذ میں متعدد روایات کے مطابق، رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی حاصل کرنے کے بعد اس بارے میں متردد ہوئے کہ آیا انہوں نے وحی کے فرشتے کو دیکھا ہے یا [[شیطان]] سے ملاقات کی ہے۔ اپنی اہلیہ کے مشورے پر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئے، جو ایک نصرانی شخص تھا اور سابقہ آسمانی کتابوں سے واقف تھا۔ ورقہ نے انہیں یقین دلایا کہ وہ فرشتہ وہی ناموسِ اکبر ہے جو اس سے پہلے [[حضرت موسیٰ|موسیٰ]] (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا۔<ref>دیکھیے: ابن ہشام، ج ۱، ص ۱۵۵–۱۵۷؛ ابن سعد، ج ۱، ص ۱۹۴–۱۹۵؛ طبری، ''تاریخ''، ج ۲، ص ۲۹۸–۳۰۳؛ نیز دیکھیے: طبری، ''جامع''، ذیلِ سورۂ علق؛ اسی روایت کے لیے معمولی اختلاف کے ساتھ دیکھیے: ابن حنبل، ج ۱، ص ۳۱۲، ج ۶، ص ۲۲۳؛ بخاری، ج ۱، ص ۳، ج ۴، ص ۱۲۴، ج ۶، ص ۸۸۔</ref> | ||
عام سیرت نگاروں، محدثین اور مفسرین نے اس داستان کو قبول کیا ہے۔<ref>مثال کے طور پر دیکھیے: قرطبی، ج ۱، ص ۱۱۵۱–۱۱۵۱۶؛ ابن کثیر، ج ۳، ص ۵–۶، ۱۳؛ ابن حجر عسقلانی، ج ۸، ص ۵۴۹–۵۵۴۔</ref> حتیٰ کہ یہ احادیث شیعہ حدیثی اور تفسیری ماخذ میں بھی داخل ہو گئی ہیں۔<ref>مثال کے طور پر دیکھیے: ابوالفتوح رازی؛ فضل بن حسن طبرسی، سورۂ علق کی ابتدائی آیات کی تفسیر؛ ابن شہر آشوب، ج ۱، ص ۴۲۔</ref> | عام سیرت نگاروں، محدثین اور مفسرین نے اس داستان کو قبول کیا ہے۔<ref>مثال کے طور پر دیکھیے: قرطبی، ج ۱، ص ۱۱۵۱–۱۱۵۱۶؛ ابن کثیر، ج ۳، ص ۵–۶، ۱۳؛ ابن حجر عسقلانی، ج ۸، ص ۵۴۹–۵۵۴۔</ref> حتیٰ کہ یہ احادیث شیعہ حدیثی اور تفسیری ماخذ میں بھی داخل ہو گئی ہیں۔<ref>مثال کے طور پر دیکھیے: ابوالفتوح رازی؛ فضل بن حسن طبرسی، سورۂ علق کی ابتدائی آیات کی تفسیر؛ ابن شہر آشوب، ج ۱، ص ۴۲۔</ref> | ||
| سطر 116: | سطر 116: | ||
تھامس مشل کہتے ہیں: | تھامس مشل کہتے ہیں: | ||
مسلمانوں کے نزدیک قرآنِ مجید کا انحصار خدا کی وحی کے سوا کسی اور چیز پر نہیں ہے۔۔۔ [لیکن] مسیحیوں کے عقیدے کے مطابق، کامل ترین [[وحی]] کسی کتاب میں نہیں بلکہ انسان میں منعکس ہوئی ہے۔ مسیحی یقین رکھتے ہیں کہ [[حضرت عیسی|مسیح]] اپنی زندگی اور ذات میں خدا کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ مسیحی صرف یہ کہنے پر اکتفا نہیں کرتے کہ خدا انسانوں کے لیے اپنا پیغام وحی کرتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا انسانی تاریخ میں اپنی ذات کو وحی کرتا ہے۔ | |||
مسلمانوں کے نزدیک قرآنِ مجید کا انحصار خدا کی وحی کے سوا کسی اور چیز پر نہیں ہے۔۔۔ [لیکن] مسیحیوں کے عقیدے کے مطابق، کامل ترین [[وحی]] کسی کتاب میں نہیں بلکہ انسان میں منعکس ہوئی ہے۔ مسیحی یقین رکھتے ہیں کہ [[مسیح]] اپنی زندگی اور ذات میں خدا کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ مسیحی صرف یہ کہنے پر اکتفا نہیں کرتے کہ خدا انسانوں کے لیے اپنا پیغام وحی کرتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا انسانی تاریخ میں اپنی ذات کو وحی کرتا ہے۔ | |||
<ref>مشل، تھامس، ''کلامِ مسیحی''، ترجمہ: توفیقی، حسین، ص ۲۸، قم: انتشارات دانشگاہ ادیان و مذاہب، تیسرا ایڈیشن، ۲۰۰۸ء۔</ref> | <ref>مشل، تھامس، ''کلامِ مسیحی''، ترجمہ: توفیقی، حسین، ص ۲۸، قم: انتشارات دانشگاہ ادیان و مذاہب، تیسرا ایڈیشن، ۲۰۰۸ء۔</ref> | ||
| سطر 125: | سطر 123: | ||
اس کے باوجود، اگرچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں جبرئیل کے واسطہ ہونے کو تسلیم نہیں کیا گیا، لیکن عہدِ قدیم اور عہدِ جدید، جو مسیحیوں کے نزدیک قابلِ قبول کتابیں ہیں، میں کئی مقامات پر جبرئیل کو دیگر انبیاء اور مقربانِ الٰہی کے لیے پیغام رساں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان میں شامل ہیں: | اس کے باوجود، اگرچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں جبرئیل کے واسطہ ہونے کو تسلیم نہیں کیا گیا، لیکن عہدِ قدیم اور عہدِ جدید، جو مسیحیوں کے نزدیک قابلِ قبول کتابیں ہیں، میں کئی مقامات پر جبرئیل کو دیگر انبیاء اور مقربانِ الٰہی کے لیے پیغام رساں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان میں شامل ہیں: | ||
* | * حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا اور انہیں اولاد کی بشارت دینا۔<ref>لوقا، ۱: ۱۱–۲۰۔</ref> | ||
* | * حضرت دانیال (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیر بیان کرنے کے لیے جبرئیل کا مامور ہونا اور اسی مقصد سے ان کے سامنے ظاہر ہونا۔<ref>دانیال، ۸: ۱۶–۲۶۔</ref> | ||
* دانیال (علیہ السلام) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا تاکہ انہیں علم اور فہم عطا کرے۔<ref>دانیال، ۹: ۲۰–۲۷۔</ref> | * دانیال (علیہ السلام) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا تاکہ انہیں علم اور فہم عطا کرے۔<ref>دانیال، ۹: ۲۰–۲۷۔</ref> | ||
* [[حضرت مریم]] (سلام اللہ علیہا) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا اور انہیں روح القدس کے ذریعے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے حاملہ ہونے کی بشارت دینا۔<ref>لوقا، ۱: ۲۶–۳۷۔</ref> | * [[حضرت مریم]] (سلام اللہ علیہا) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا اور انہیں روح القدس کے ذریعے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے حاملہ ہونے کی بشارت دینا۔<ref>لوقا، ۱: ۲۶–۳۷۔</ref> | ||
آخر میں یہ کہنا چاہیے کہ اگرچہ مسیحیوں کی | آخر میں یہ کہنا چاہیے کہ اگرچہ مسیحیوں کی مقدس کتاب نے قرآن کی طرح جبرئیل کی صفات کے بارے میں کچھ نہیں کہا، تاہم اس کتاب میں فرشتوں کے بارے میں بیان کردہ صفات، اعمال اور فرائض سے مسیحیت کے عمومی نقطۂ نظر کو، کسی حد تک، تمام فرشتوں، بشمول جبرئیل (علیہ السلام)، کے بارے میں سمجھا جا سکتا ہے۔ | ||
صفات، مثلاً: | صفات، مثلاً: | ||
* خدا کے آسمانی خادم۔<ref>ایوب، ۴: ۱۸؛ اول سلاطین، ۲۲: ۱۹؛ دوم تواریخ، ۱۸: ۱۸؛ عبرانیوں، ۱: ۱۴۔</ref> | * خدا کے آسمانی خادم۔<ref>ایوب، ۴: ۱۸؛ اول سلاطین، ۲۲: ۱۹؛ دوم تواریخ، ۱۸: ۱۸؛ عبرانیوں، ۱: ۱۴۔</ref> | ||
* پروں کا حامل ہونا۔<ref>دوم تواریخ، ۳: ۱۱؛ دوم تواریخ، ۵: ۷۔</ref> | * پروں کا حامل ہونا۔<ref>دوم تواریخ، ۳: ۱۱؛ دوم تواریخ، ۵: ۷۔</ref> | ||
* عصمت سے عاری ہونا اور مواخذے کے لیے | * عصمت سے عاری ہونا اور مواخذے کے لیے دوزخ میں داخل کیا جانا۔<ref>ایوب، ۴: ۱۸ اور ۱۵: ۱۵؛ دوم پطرس، ۲: ۴۔</ref> | ||
* ان کی تعداد کا بے شمار ہونا۔<ref>ایوب، ۲۵: ۳۔</ref> | * ان کی تعداد کا بے شمار ہونا۔<ref>ایوب، ۲۵: ۳۔</ref> | ||
* شادی نہ کرنا۔<ref>متی، ۲۲: ۳۰؛ مرقس، ۱۲: ۲۵۔</ref> | * شادی نہ کرنا۔<ref>متی، ۲۲: ۳۰؛ مرقس، ۱۲: ۲۵۔</ref> | ||
اعمال اور فرائض، مثلاً: | اعمال اور فرائض، مثلاً: | ||
* انسان کی نگرانی اور حفاظت کرنا۔<ref>زبور، ۹۱: ۱۱؛ خروج، ۲۳: ۲۰۔</ref> | * انسان کی نگرانی اور حفاظت کرنا۔<ref>زبور، ۹۱: ۱۱؛ خروج، ۲۳: ۲۰۔</ref> | ||
* عیسیٰ (علیہ السلام) کے خادم اور محافظ ہونا۔<ref>مرقس، ۱: ۱۳؛ لوقا، ۴: ۱۰۔</ref> | * عیسیٰ (علیہ السلام) کے خادم اور محافظ ہونا۔<ref>مرقس، ۱: ۱۳؛ لوقا، ۴: ۱۰۔</ref> | ||
| سطر 151: | سطر 147: | ||
کتاب ''[[اصول کافی (کتاب)|اصولِ کافی]]''<ref>نویں حدیث، باب ۱۳۵، کتاب الدعاء۔</ref> میں منقول ہے کہ جب تم پر غم طاری ہو تو سجدے کے آخر میں بار بار کہو: | کتاب ''[[اصول کافی (کتاب)|اصولِ کافی]]''<ref>نویں حدیث، باب ۱۳۵، کتاب الدعاء۔</ref> میں منقول ہے کہ جب تم پر غم طاری ہو تو سجدے کے آخر میں بار بار کہو: | ||
«یا جبرئیل یا محمد، یا جبرئیل یا محمد۔۔۔ اکفیانی ما أنا فیه، فإنکما کافیان، واحفظانی بإذن الله، فإنکما حافظان» | |||
یعنی: جس مصیبت میں میں مبتلا ہوں، اس کے شر سے مجھے نجات دو، کیونکہ تم دونوں کفایت کرنے والے ہو، اور خدا کے اذن سے میری حفاظت کرو، کیونکہ تم دونوں محافظ ہو۔<ref>''نثر طوبیٰ'' سے نقل کیا گیا ہے۔</ref> | یعنی: جس مصیبت میں میں مبتلا ہوں، اس کے شر سے مجھے نجات دو، کیونکہ تم دونوں کفایت کرنے والے ہو، اور خدا کے اذن سے میری حفاظت کرو، کیونکہ تم دونوں محافظ ہو۔<ref>''نثر طوبیٰ'' سے نقل کیا گیا ہے۔</ref> | ||
| سطر 157: | سطر 153: | ||
== جبرئیل کی وفات == | == جبرئیل کی وفات == | ||
دنیا کے اختتام پر جبرئیل کی وفات کا واقعہ [[جعفر بن محمد | دنیا کے اختتام پر جبرئیل کی وفات کا واقعہ [[جعفر بن محمد |امام جعفر صادق]] (علیہ السلام) نے اس طرح بیان فرمایا ہے: | ||
<blockquote> | <blockquote> | ||
جب خدا اہلِ زمین کو موت دے گا تو اتنی مدت ٹھہرے گا جتنی مدت مخلوقات کے وجود میں رہنے کی تھی، اور جتنی مدت میں اس نے انہیں موت دی تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر پہلے آسمان والوں کو موت دے گا۔ اس کے بعد اتنی ہی مدت ٹھہرے گا جتنی مخلوقات کو پیدا کرنے میں لگی تھی، اور اتنی ہی مدت جتنی اہلِ زمین اور پہلے آسمان والوں کو موت دینے میں لگی تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر دوسرے آسمان والوں کو موت دے گا۔ اسی طرح امام نے سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ساتویں آسمان والوں کی موت تک بیان فرمایا۔ | جب خدا اہلِ زمین کو موت دے گا تو اتنی مدت ٹھہرے گا جتنی مدت مخلوقات کے وجود میں رہنے کی تھی، اور جتنی مدت میں اس نے انہیں موت دی تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر پہلے آسمان والوں کو موت دے گا۔ اس کے بعد اتنی ہی مدت ٹھہرے گا جتنی مخلوقات کو پیدا کرنے میں لگی تھی، اور اتنی ہی مدت جتنی اہلِ زمین اور پہلے آسمان والوں کو موت دینے میں لگی تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر دوسرے آسمان والوں کو موت دے گا۔ اسی طرح امام نے سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ساتویں آسمان والوں کی موت تک بیان فرمایا۔ | ||
پھر فرمایا: اس کے بعد اتنی مدت ٹھہرے گا جتنی مدت تخلیقِ مخلوقات، اہلِ زمین اور ساتوں آسمانوں کے باشندوں کی موت کے لیے گزری تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر | پھر فرمایا: اس کے بعد اتنی مدت ٹھہرے گا جتنی مدت تخلیقِ مخلوقات، اہلِ زمین اور ساتوں آسمانوں کے باشندوں کی موت کے لیے گزری تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر میکائیل کو موت دے گا۔ اس کے بعد تخلیق کے زمانے، ان تمام مراحل کے برابر مدت اور اس سے کئی گنا زیادہ مدت تک ٹھہرے گا۔ پھر جبرئیل کو موت دے گا۔ اس کے بعد اتنی ہی پوری مدت اور اس سے کئی گنا زیادہ مدت گزرنے پر اسرافیل کو موت دے گا۔ پھر اتنی ہی پوری مدت اور اس سے کئی گنا زیادہ مدت گزرنے پر عزرائیل کو موت دے گا۔ | ||
<ref>''معجم احادیث الامام مہدی''، ج ۱، ص ۳۶۶۔</ref> | |||
</blockquote> | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 15:25، 4 ستمبر 2026ء
جبرئیل، عبرانی زبان میں "مردِ خدا" کے معنی میں ہے۔ وہ چار مقرب فرشتوں میں سے ایک اور ان میں سب سے برتر ہے، اور ادیان ابراہیمی میں خداوند اور انبیاء کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔
اس نام کا تلفظ جبرائیل اور جبریل بھی کیا جاتا ہے۔ جبرئیل کو فرشتہ وحی، امینِ وحی، عقلِ اول، ناموسِ اکبر، روحِ اعظم وغیرہ جیسے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام کی تاریخ میں جبرئیل کے کردار کا بہت ذکر ملتا ہے۔
لغوی مفہوم
جبرئیل نام کی اصل عبرانی ہے؛ جو دو حصوں سے مرکب ہے: جبر جس کے معنی قوت اور طاقت کے ہیں اور ئیل جس کا مطلب خدا ہے، یوں اس کا مجموعی مطلب قوۃ اللہ (خدا کی طاقت) بنتا ہے۔ جیسا کہ سورہ نجم میں فرمایا گیا: «عَلَّمَهُ شَدِیدُ الْقُوَیٰ» (اسے شدید القویٰ نے سکھایا ہے)۔ جبرئیل ہی ہمارے پیغمبر پر وحی لاتا تھا: «فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَیٰ قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللَّهِ» (پس اس نے اسے اللہ کے حکم سے تیرے قلب پر نازل کیا ہے)۔[1][2]
یہ بھی کہا گیا ہے کہ "جبرئیل" ایک عجمی (غیر عربی) نام ہے جو عربی زبان میں داخل ہوا ہے، جس میں جبر کا سریانی زبان میں مطلب بندہ اور ایل کا مطلب خدا ہے؛[3] جس کی رو سے جبرئیل کا مطلب "بندہ خدا" ہے۔
اس لفظ کے دو مشہور تلفظ ہیں: جبرئیل (ہمزہ کے ساتھ) اور جبریل (بغیر ہمزہ کے)۔ علی بن ابیطالب (علیہ السلام) کے کلام میں اسے «جبرائیل» بھی ذکر کیا گیا ہے؛[4] تاہم قرآن کریم میں اس فرشتہ کا نام صرف تین بار "جِبریل" کے طور پر آیا ہے۔[5] البتہ دیگر آیات میں اسے «روحالقدس»، «روح الامین» وغیرہ جیسے القاب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔
جبرئیل کے فرائض
قرآن کریم میں "جبرئیل" کے لیے متعدد فرائض بیان ہوئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
ابلاغِ وحی
"وحی"، جو بشر کے ساتھ خدا کے کلام اور رابطے کا واحد راستہ ہے، مندرجہ ذیل آیت کے مطابق تین طریقوں سے انجام پاتی ہے:
«وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُکَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْیًا أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ أَوْ یُرْسِلَ رَسُولًا فَیُوحِیَ بِإِذْنِهِ مَا یَشَاء...»؛[6] اور کسی انسان کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے سوائے وحی کے یا پردے کے پیچھے سے، یا وہ کوئی رسول بھیجتا ہے جو اس کے حکم سے جو وہ چاہتا ہے وحی کرتا ہے...
تیسری قسم میں وحی کا پیغام اللہ کے رسول کی طرف سے ہوتا ہے، اور وہ رسول جبرئیل امین ہیں جو اللہ کی طرف سے انبیاء کے لیے پیغامبر ہیں۔ یعنی خدا کا پیغام پہلے فرشتہ وحی کو دیا جاتا ہے اور وہ، جس کی خدائے سبحان اجازت دے، اسے اللہ کے نبی تک پہنچا دیتا ہے۔[7]
قرآن، یہود کے اس بہانے کا جواب دیتے ہوئے کہ وہ جبرئیل کو فرشتہ وحی ماننے سے انکار کرتے تھے، فرماتا ہے: «قُلْ مَن کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللّهِ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ...»؛[8] کہہ دیجیے کہ جو کوئی جبرئیل کا دشمن ہے (تو وہ درحقیقت خدا کا دشمن ہے) کیونکہ اس نے خدا کے حکم سے قرآن کو تیرے قلب پر نازل کیا ہے؛ اس حال میں کہ وہ گزشتہ آسمانی کتب کی تصدیق کرنے والا ہے...
انبیاء کی مدد اور حمایت
ایک اور کردار جو قرآن میں جبرئیل کے لیے بیان ہوا ہے، وہ انبیاء الہی کی حمایت اور مدد کرنا ہے:
«...وَآتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَأَیَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ»؛[9] ...اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح دلائل دیے اور ان کی روحالقدس کے ذریعے تائید کی۔
اس آیت میں جبرئیل کو "روحالقدس" سے تعبیر کیا گیا ہے؛ یعنی وہ روح جو خطا اور مادی پلیدیوں سے پاک اور منزہ ہے۔[10]
جبرئیل نے عیسیٰ بن مریم کی زندگی کے مختلف مراحل میں ان کی مدد کی؛ پہلے جب وہ ان کی والدہ پر ظاہر ہوئے اور مریم کو ان کی پیدائش کی بشارت دی، پھر ان کی زندگی بھر انہیں دشمنوں کے خطرات سے محفوظ رکھا یہاں تک کہ خداوند نے عیسائے مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اسی طرح سورہ تحریم میں جبرئیل کے ذریعے پیامبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کا ذکر ہے: «...وَإِن تَظَاهَرَا عَلَیْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِیلُ...»؛[11] ...اور اگر تم دونوں اس کے خلاف دست بہ دست ہو جاؤ تو (کچھ نہیں کر پاؤ گے) کیونکہ خدا اس کا مددگار ہے اور جبرئیل بھی...
خصوصیات
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں جبرئیلِ امین کو بلند و بالا اوصاف اور مقامات کے ساتھ یاد کیا ہے، جن کی تفصیل ذیل میں پیش کی جا رہی ہے:
امانتداری
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے جو جبرئیلِ امین کے ذریعے قلبِ مبارکِ پیامبرِ اکرم (صلّیالله علیه وآله) پر نازل ہوا ہے۔ جبرئیل اللہ کے فرشتۂ امین ہیں جو الٰہی پیغام میں ذرہ برابر بھی تبدیلی یا تغیر پیدا نہیں کرتے۔ پروردگارِ عالم نے رسولانِ الٰہی تک رسالت اور وحی پہنچانے میں جبرئیل کے مقامِ صدق اور امانت داری کی گواہی دی ہے:[12]
«نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِینُ»؛[13] روحِ امین اسے لے کر نازل ہوا ہے۔
ان کی ساحت ہر قسم کی غفلت اور اشتباہ سے منزہ ہے۔ وہ نہ تو قصداً اور نہ ہی سہواً الٰہی پیغام میں کوئی تبدیلی یا تحریف کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر نسیان طاری ہوتا ہے؛ بلکہ قرآنی آیات کو اسی شکل و ہیئت میں، جو وہ بارگاہِ ربوبی سے حاصل کرتے ہیں، بلا کم و کاست رسولِ اللہ (ص) کے پاکیزہ قلب اور بلند روح پر القا کرتے ہیں۔[14] اسی وجہ سے یہ صفتِ فاضلہ جبرئیل کی دیگر کریمانہ صفات پر فوقیت رکھتی ہے۔
امام زین العابدین (علیہ السلام) کے نورانی کلام میں انہیں "جبرئیلِ امین" سے تعبیر کیا گیا ہے جو وحیِ الٰہی کے امانت دار ہیں، آسمان والے ان کی اطاعت کرتے ہیں، اور وہ خدا کے مقربین میں سے ہیں جو بلند اور خصوصی مقام و عزت کے حامل ہیں۔[15]
طہارت
قرآنِ کریم میں جبرئیل کا ایک اور وصف ان کی طہارت و پاکیزگی ہے جس کی طرف "روحُ القُدس" کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے:
«قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ...»؛[16] کہہ دیجیے کہ اسے روحُ القُدس نے حق کے ساتھ تیرے پروردگار کی طرف سے نازل کیا ہے...
"روحُ القُدس" سے مراد جبرئیلِ امین ہیں؛ وہ روح جو مادی آلائشوں سے پاک اور طہارت کے مقام پر فائز ہے۔ ایسی روح جو ہر قسم کے عیب، نقص، معصیت اور خطا سے منزہ ہے۔[17] اگرچہ تمام فرشتے منزہ ہیں، لیکن ان کے درجات مختلف ہیں اور جبرئیل سردارِ ملائکہ (سیدِ ملائکہ) ہیں اور خدا و انبیاء کے درمیان واسطہ ہیں۔[18]
رسالت، کرامت اور منزلت
بعض مفسرین نے سورہ تکویر کی آیات ۱۹ تا ۲۱ کی تفسیر جبرئیل کے بارے میں کی ہے۔ ان آیات میں، جو کئی قسموں کا جواب ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَرِیمٍ × ذِی قُوَّةٍ عِندَ ذِی الْعَرْشِ مَکِینٍ × مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِینٍ»؛[19] کہ یہ (قرآن) ایک بزرگ رسول (جبرئیل) کا کلام ہے جو صاحبِ قوت ہے اور (خداوندِ) صاحبِ عرش کے نزدیک بلند مرتبہ ہے! وہاں فرمانروا اور امین ہے!
یہاں رسول سے مراد جبرئیل ہیں، یعنی قرآن خدا کی طرف سے ان کی زبان پر نازل ہوا اور رسولِ اکرم (ص) نے یہ کلام جبرئیل سے سنا ہے۔ "قول" کو جبرئیل کی طرف نسبت دینے کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں کلام تو خدا کا ہے، لیکن اس کی نسبت جبرئیل کی طرف رسالت کے ناطے دی گئی ہے۔ اس مقام پر خدا نے جبرئیل کو چھ اوصاف سے متصف کیا ہے:[20]
- رسول: وہ جو قرآن کو پیغمبرِ اعظم (ص) تک پہنچاتا ہے۔
- کریم: کیونکہ وہ بارگاہِ الٰہی میں کرامت، احترام اور عزت کا حامل ہے۔
- صاحبِ قوت (ذی قوۃ): وہ جو اپنی علمی، عملی اور تبلیغِ رسالت پر مبنی ماموریت میں زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ "ذی قوۃ" کا حقیقی مفہوم بڑے کاموں کو انجام دینے کی ذاتی صلاحیت ہے، اور مجازی مفہوم فیصلہ سازی میں استقامت، دلیری اور اعتمادِ نفس ہے۔
- بلند مرتبہ (مکین): "مکین" یعنی وہ جو صاحبِ عرشِ الٰہی کے نزدیک بلند مقام رکھتا ہے۔ یہ تعبیر ان کی عظمتِ مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
- فرمانروا (مُطاعٍ ثَمَّ): "مطاع" وہ جس کی اطاعت کی جائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ بارگاہِ الٰہی میں ایسا حکم دینے والا ہے جس کے ماتحت فرشتے اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
- امین: جیسا کہ ذکر ہوا، وہ وحی اور پیغامِ خدا کو انبیاء تک پہنچانے میں امانت دار ہے اور کسی قسم کا دخل یا خیانت نہیں کرتا۔
تعلیم دہندہ، صاحبِ قوت و درایت
دوسرا مقام جہاں مفسرین کے درمیان اختلافِ نظر ہے اور بعض نے اسے جبرئیلِ امین کے لیے تفسیر کیا ہے، وہ سورہ نجم کی ابتدائی آیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ "نجم" کی قسم کھانے کے بعد نبیِ مکرم کے اوصاف کے بیان میں فرماتا ہے:
«عَلَّمَهُ شَدِیدُ الْقُوی؛ ذُو مِرَّةٍ...»؛[21] اسے (پیغمبر کو) عظیم طاقت والے (جبرئیل) نے تعلیم دی ہے؛ وہی جس کے پاس فوق العادہ قوت ہے۔
"شدیدُ القویٰ" فرشتوں کے اوصاف میں سے ایک ہے اور اس آیت میں یہ جبرئیل کا وصف ہے، جس سے مراد ان کی عظیم جسمانی اور روحانی طاقت ہے، یعنی جبرئیل نے ہی خدا کی طرف سے وحیِ الٰہی (قرآن) کو رسولِ خدا کو سکھایا ہے۔[22]
"ذُو مِرَّةٍ" اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کمالِ عقل اور درایت کا مالک ہو۔[23] اگرچہ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم قوت و طاقت لیا ہے، لیکن چونکہ اس سے پہلے "شدید القویٰ" کے ذریعے اس خصوصیت کا ذکر آ چکا ہے، اس لیے "ذُو مِرَّة" سے مراد جبرئیل کی استواریِ فکر اور بصیرت ہے۔ پس، جبرئیل کے فضائل میں سے ایک ان کی عقلانی قوت اور بلند فہم و ادراک ہے۔
افسانۂ خان الامین
بعض اہلِ سنت نے شیعہ پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق وحی پہنچانے کے دوران جبرئیل نے خیانت کی، اور رسالت علی بن ابی طالب (علیہ السلام) تک پہنچانے کے بجائے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا دی۔ اسی وجہ سے وہ نماز کے سلام کے بعد تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں: خانَ الأمینُ؛ یعنی امانتِ وحی کے امین نے خیانت کی۔
ابن تیمیہ، جو وہابی علما میں شمار ہوتے ہیں، کہتے ہیں:
یہود نے جبرئیل میں نقص اور عیب داخل کرنے کی کوشش کی اور اسے فرشتوں میں اپنا دشمن سمجھا، جس طرح شیعہ کہتے ہیں کہ جبرئیل نے غلطی سے وحی محمد پر نازل کر دی۔
شیعہ علما نے اس نسبت کو بہتان قرار دیا ہے اور اس کا محرک، اہلِ سنت کے متعصب افراد کی جانب سے شیعہ مذہب کو یہودیت کے مشابہ قرار دینا بتایا ہے۔[25] جبرئیل کی خیانت کا عقیدہ شیعہ عقائد سے ہم آہنگ نہیں؛[26] کیونکہ شیعہ جبرئیل کو معصوم مانتے ہیں اور امام علی (علیہ السلام) کو نبی نہیں سمجھتے۔[27]
وحی کا نزول
اسلامی ماخذ میں موجود روایات کے مطابق، جبرئیل نے قرآن کی پہلی آیات[28] غار حرا میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیں۔ اس کے بعد نبی اکرم حضرت خدیجہ (علیہما السلام) کے پاس واپس آئے اور انہیں اس اہم واقعے سے آگاہ کیا۔[29]
اہلِ سنت کا نقطۂ نظر
اہلِ سنت کے ماخذ میں متعدد روایات کے مطابق، رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی حاصل کرنے کے بعد اس بارے میں متردد ہوئے کہ آیا انہوں نے وحی کے فرشتے کو دیکھا ہے یا شیطان سے ملاقات کی ہے۔ اپنی اہلیہ کے مشورے پر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئے، جو ایک نصرانی شخص تھا اور سابقہ آسمانی کتابوں سے واقف تھا۔ ورقہ نے انہیں یقین دلایا کہ وہ فرشتہ وہی ناموسِ اکبر ہے جو اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا۔[30]
عام سیرت نگاروں، محدثین اور مفسرین نے اس داستان کو قبول کیا ہے۔[31] حتیٰ کہ یہ احادیث شیعہ حدیثی اور تفسیری ماخذ میں بھی داخل ہو گئی ہیں۔[32]
شیعہ نقطۂ نظر
شیعہ علما نے ان روایات کی سند اور متن پر تفصیل سے تنقید کی ہے۔ ان کے نزدیک، ان روایات میں سے کسی کی بھی سند متصل طور پر واقعے کے عینی شاہد تک نہیں پہنچتی؛ اس داستان کے مختلف طریقوں سے نقل کیے جانے سے بھی اس کے من گھڑت ہونے کا اندازہ ہوتا ہے، اور رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وحی کی حقیقت اور جبرئیل یا شیطان سے ملاقات کے بارے میں تردد کرنا، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقامِ عصمت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔[33]
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ شیعہ روایات میں وحی کے آغاز کے بارے میں پیش کیا گیا بیان مذکورہ مشکلات سے پاک اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام و منزلت سے ہم آہنگ ہے۔[34]
مسیحیت کی نظر میں جبرئیل
موجودہ مسیحیت میں جبرئیل، عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے وحی لانے والا اور پیغام پہنچانے والا نہیں ہے، بلکہ عیسیٰ خود وحی ہیں؛ کیونکہ موجودہ مسیحیت کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) خود مجسم خدا ہیں۔[35]
تھامس مشل کہتے ہیں: مسلمانوں کے نزدیک قرآنِ مجید کا انحصار خدا کی وحی کے سوا کسی اور چیز پر نہیں ہے۔۔۔ [لیکن] مسیحیوں کے عقیدے کے مطابق، کامل ترین وحی کسی کتاب میں نہیں بلکہ انسان میں منعکس ہوئی ہے۔ مسیحی یقین رکھتے ہیں کہ مسیح اپنی زندگی اور ذات میں خدا کو ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ مسیحی صرف یہ کہنے پر اکتفا نہیں کرتے کہ خدا انسانوں کے لیے اپنا پیغام وحی کرتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا انسانی تاریخ میں اپنی ذات کو وحی کرتا ہے۔ [36]
مسیحیت کے اس عقیدے کی بنیاد پر، ایسا جبرئیل جو خدا کی وحی پہنچانے کا واسطہ اور حامل ہو، کوئی معنی نہیں رکھتا؛ عیسیٰ (علیہ السلام) خود مجسم خدا ہیں اور انہیں کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہے۔[37]
اس کے باوجود، اگرچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلے میں جبرئیل کے واسطہ ہونے کو تسلیم نہیں کیا گیا، لیکن عہدِ قدیم اور عہدِ جدید، جو مسیحیوں کے نزدیک قابلِ قبول کتابیں ہیں، میں کئی مقامات پر جبرئیل کو دیگر انبیاء اور مقربانِ الٰہی کے لیے پیغام رساں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان میں شامل ہیں:
- حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا اور انہیں اولاد کی بشارت دینا۔[38]
- حضرت دانیال (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیر بیان کرنے کے لیے جبرئیل کا مامور ہونا اور اسی مقصد سے ان کے سامنے ظاہر ہونا۔[39]
- دانیال (علیہ السلام) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا تاکہ انہیں علم اور فہم عطا کرے۔[40]
- حضرت مریم (سلام اللہ علیہا) کے سامنے جبرئیل کا ظاہر ہونا اور انہیں روح القدس کے ذریعے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے حاملہ ہونے کی بشارت دینا۔[41]
آخر میں یہ کہنا چاہیے کہ اگرچہ مسیحیوں کی مقدس کتاب نے قرآن کی طرح جبرئیل کی صفات کے بارے میں کچھ نہیں کہا، تاہم اس کتاب میں فرشتوں کے بارے میں بیان کردہ صفات، اعمال اور فرائض سے مسیحیت کے عمومی نقطۂ نظر کو، کسی حد تک، تمام فرشتوں، بشمول جبرئیل (علیہ السلام)، کے بارے میں سمجھا جا سکتا ہے۔
صفات، مثلاً:
- خدا کے آسمانی خادم۔[42]
- پروں کا حامل ہونا۔[43]
- عصمت سے عاری ہونا اور مواخذے کے لیے دوزخ میں داخل کیا جانا۔[44]
- ان کی تعداد کا بے شمار ہونا۔[45]
- شادی نہ کرنا۔[46]
اعمال اور فرائض، مثلاً:
- انسان کی نگرانی اور حفاظت کرنا۔[47]
- عیسیٰ (علیہ السلام) کے خادم اور محافظ ہونا۔[48]
- دیگر پیغمبروں کے لیے شریعت لانا۔[49]
- عذاب نازل کرنے کا واسطہ ہونا۔[50]
جبرئیل سے توسل
کتاب اصولِ کافی[51] میں منقول ہے کہ جب تم پر غم طاری ہو تو سجدے کے آخر میں بار بار کہو:
«یا جبرئیل یا محمد، یا جبرئیل یا محمد۔۔۔ اکفیانی ما أنا فیه، فإنکما کافیان، واحفظانی بإذن الله، فإنکما حافظان»
یعنی: جس مصیبت میں میں مبتلا ہوں، اس کے شر سے مجھے نجات دو، کیونکہ تم دونوں کفایت کرنے والے ہو، اور خدا کے اذن سے میری حفاظت کرو، کیونکہ تم دونوں محافظ ہو۔[52]
جبرئیل کی وفات
دنیا کے اختتام پر جبرئیل کی وفات کا واقعہ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
جب خدا اہلِ زمین کو موت دے گا تو اتنی مدت ٹھہرے گا جتنی مدت مخلوقات کے وجود میں رہنے کی تھی، اور جتنی مدت میں اس نے انہیں موت دی تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر پہلے آسمان والوں کو موت دے گا۔ اس کے بعد اتنی ہی مدت ٹھہرے گا جتنی مخلوقات کو پیدا کرنے میں لگی تھی، اور اتنی ہی مدت جتنی اہلِ زمین اور پہلے آسمان والوں کو موت دینے میں لگی تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر دوسرے آسمان والوں کو موت دے گا۔ اسی طرح امام نے سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ساتویں آسمان والوں کی موت تک بیان فرمایا۔
پھر فرمایا: اس کے بعد اتنی مدت ٹھہرے گا جتنی مدت تخلیقِ مخلوقات، اہلِ زمین اور ساتوں آسمانوں کے باشندوں کی موت کے لیے گزری تھی، نیز اس سے کئی گنا زیادہ مدت۔ پھر میکائیل کو موت دے گا۔ اس کے بعد تخلیق کے زمانے، ان تمام مراحل کے برابر مدت اور اس سے کئی گنا زیادہ مدت تک ٹھہرے گا۔ پھر جبرئیل کو موت دے گا۔ اس کے بعد اتنی ہی پوری مدت اور اس سے کئی گنا زیادہ مدت گزرنے پر اسرافیل کو موت دے گا۔ پھر اتنی ہی پوری مدت اور اس سے کئی گنا زیادہ مدت گزرنے پر عزرائیل کو موت دے گا۔ [53]
حوالہ جات
- ↑ سورہ بقرہ، آیت ۹۷۔
- ↑ نثر طوبیٰ، جلد ۱، صفحہ ۱۲۲۔
- ↑ فضل بن حسن طبرسی، مجمع البیان، جلد ۱، صفحہ ۳۲۴۔
- ↑ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۰۔
- ↑ سورہ بقرہ، آیات ۹۷ و ۹۸؛ سورہ تحریم، آیت ۴۔
- ↑ سورہ شوریٰ، آیت ۵۱۔
- ↑ علامہ طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۸، صفحات ۷۳ و ۷۴۔
- ↑ سورہ بقرہ، آیت ۹۷۔
- ↑ سورہ بقرہ، آیت ۸۷۔
- ↑ المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۲، صفحہ ۳۴۶۔
- ↑ سورہ تحریم، آیت ۴۔
- ↑ حسینی ہمدانی، انوار درخشان، جلد ۱۸، صفحہ ۱۶۔
- ↑ سورہ شعراء، آیت ۱۹۳۔
- ↑ انوار درخشان، جلد ۱۲، صفحہ ۸۴؛ المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۵، صفحہ ۳۱۶۔
- ↑ صحیفہ سجادیہ، دعائے سوم۔
- ↑ سورہ نحل، آیت ۱۰۲۔
- ↑ المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۱۲، صفحہ ۳۴۶۔
- ↑ سید عبدالحسین طیب، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، جلد ۲، صفحہ ۹۵۔
- ↑ سورہ تکویر، آیات ۱۹–۲۱۔
- ↑ المیزان فی تفسیر القرآن، جلد ۲۰، صفحہ ۲۱۸۔
- ↑ سورہ نجم، آیات ۵–۷۔
- ↑ التحریر والتنویر، جلد ۲۷، صفحہ ۱۰۲۔
- ↑ زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، جلد ۴، صفحہ ۴۱۹۔
- ↑ ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ، ج ۱، ص ۶–۸۔
- ↑ مثال کے طور پر دیکھیے: سبحانی، الفکر الخالد فی بیان العقائد، ۱۴۲۵ھ، ج ۲، ص ۲۶۔
- ↑ سروش، شبهه خان الامین، ص ۱۴۸۔
- ↑ مثال کے طور پر دیکھیے: سید مرتضیٰ، الشافی فی الإمامۃ، ج ۳، ص ۵۔
- ↑ العلق: ۱–۵۔
- ↑ دیکھیے: عاملی، ج ۱، ص ۲۳۳۔
- ↑ دیکھیے: ابن ہشام، ج ۱، ص ۱۵۵–۱۵۷؛ ابن سعد، ج ۱، ص ۱۹۴–۱۹۵؛ طبری، تاریخ، ج ۲، ص ۲۹۸–۳۰۳؛ نیز دیکھیے: طبری، جامع، ذیلِ سورۂ علق؛ اسی روایت کے لیے معمولی اختلاف کے ساتھ دیکھیے: ابن حنبل، ج ۱، ص ۳۱۲، ج ۶، ص ۲۲۳؛ بخاری، ج ۱، ص ۳، ج ۴، ص ۱۲۴، ج ۶، ص ۸۸۔
- ↑ مثال کے طور پر دیکھیے: قرطبی، ج ۱، ص ۱۱۵۱–۱۱۵۱۶؛ ابن کثیر، ج ۳، ص ۵–۶، ۱۳؛ ابن حجر عسقلانی، ج ۸، ص ۵۴۹–۵۵۴۔
- ↑ مثال کے طور پر دیکھیے: ابوالفتوح رازی؛ فضل بن حسن طبرسی، سورۂ علق کی ابتدائی آیات کی تفسیر؛ ابن شہر آشوب، ج ۱، ص ۴۲۔
- ↑ دیکھیے: عاملی، ج ۱، ص ۲۲۰–۲۲۳؛ سبحانی، ج ۱، ص ۱۸۸–۱۹۰؛ دوانی، ص ۱۵۷–۲۰۶؛ شرف الدین، ص ۴۲۱؛ معرفت، ج ۱، ص ۸۰–۸۲۔
- ↑ دیکھیے: ابن شہر آشوب، ج ۱، ص ۴۳؛ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲؛ بحرانی، ذیلِ سورۂ علق؛ مجلسی، ج ۱۷، ص ۳۰۹–۳۱۰۔
- ↑ مسیحیت میں حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہ تصور ابتدا ہی سے موجود نہیں تھا، بلکہ اس نے ایک تدریجی ارتقائی مرحلہ طے کیا، جو بالآخر، خصوصاً نیقیہ اور آتاناسیوس کے اعتقادی اعلامیوں کی بنیاد پر، ایک کلیسیائی کونسل میں حضرت عیسیٰ کی الوہیت کے عقیدے کے غالب آنے پر منتج ہوا۔ مسیحیت میں حضرت عیسیٰ کے تصور کے ارتقائی مراحل کے لیے دیکھیے: ادیب آلِ علی، سید محمد، مسیحیت، ص ۱۵–۱۸، قم: انتشارات مرکز مدیریت حوزۂ علمیہ قم، پہلا ایڈیشن، ۲۰۰۶ء۔
- ↑ مشل، تھامس، کلامِ مسیحی، ترجمہ: توفیقی، حسین، ص ۲۸، قم: انتشارات دانشگاہ ادیان و مذاہب، تیسرا ایڈیشن، ۲۰۰۸ء۔
- ↑ حتیٰ کہ مقدس کتاب میں بھی عیسیٰ کو ایسے خدا کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کے فرشتے بھی ہیں؛ دوم تھسلنیکیوں، ۱: ۷؛ مکاشفہ، ۲۲: ۱۶۔
- ↑ لوقا، ۱: ۱۱–۲۰۔
- ↑ دانیال، ۸: ۱۶–۲۶۔
- ↑ دانیال، ۹: ۲۰–۲۷۔
- ↑ لوقا، ۱: ۲۶–۳۷۔
- ↑ ایوب، ۴: ۱۸؛ اول سلاطین، ۲۲: ۱۹؛ دوم تواریخ، ۱۸: ۱۸؛ عبرانیوں، ۱: ۱۴۔
- ↑ دوم تواریخ، ۳: ۱۱؛ دوم تواریخ، ۵: ۷۔
- ↑ ایوب، ۴: ۱۸ اور ۱۵: ۱۵؛ دوم پطرس، ۲: ۴۔
- ↑ ایوب، ۲۵: ۳۔
- ↑ متی، ۲۲: ۳۰؛ مرقس، ۱۲: ۲۵۔
- ↑ زبور، ۹۱: ۱۱؛ خروج، ۲۳: ۲۰۔
- ↑ مرقس، ۱: ۱۳؛ لوقا، ۴: ۱۰۔
- ↑ اعمالِ رسولان، ۷: ۵۳؛ غلاطیوں، ۳: ۱۹۔
- ↑ دوم سموئیل، ۲۴: ۱۶؛ اول تواریخ، ۲۱: ۱۲؛ دوم تواریخ، ۳۲: ۲۱؛ مکاشفہ، ۱۲: ۷۔
- ↑ نویں حدیث، باب ۱۳۵، کتاب الدعاء۔
- ↑ نثر طوبیٰ سے نقل کیا گیا ہے۔
- ↑ معجم احادیث الامام مہدی، ج ۱، ص ۳۶۶۔