مندرجات کا رخ کریں

"ذبیح اللہ نعیمیان" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ذبیح اللہ نعیمیان کو ذبیح اللہ نعیمیان کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 18: سطر 18:
}}
}}


'''ذبیح اللہ نعیمیان'''  حوزوی اور جامعاتی محقق ہیں جو [[تقریب مذاہب اسلامیہ]] کے میدان میں سرگرم ہیں، جنہوں نے حالیہ برسوں میں سیاسی فقہ، تقریبی نقطہ نظر کے ساتھ تمدنی مطالعات، اجتہاد کی طریقہ کار وغیرہ کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر کام کیا ہے۔  
'''ذبیح اللہ نعیمیان'''  حوزوی اور جامعاتی محقق ہیں جو [[تقریب |تقریب مذاہب اسلامیہ]] کے میدان میں سرگرم ہیں، جنہوں نے حالیہ برسوں میں سیاسی فقہ، تقریبی نقطہ نظر کے ساتھ تمدنی مطالعات، اجتہاد کی طریقہ کار وغیرہ کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر کام کیا ہے۔  


== تعارف ==
== تعارف ==
[[فائل:photo_2019-01-24_19-44-22.jpg|تصغیر|بائیں|]]
[[فائل:photo_2019-01-24_19-44-22.jpg|تصغیر|بائیں|]]
ادارہ تحقیقات تقریبی کے اس سابق رکن کی اہم ترین سرگرمیوں میں کلان سطح پر [[وحدت اسلامیہ]] کی سمت میں حرکت کے لیے نظریہ سازی شامل ہے۔
[[تحقیقاتی مرکز برائے تقریبی مطالعات|ادارہ تحقیقات تقریبی]] کے اس سابق رکن کی اہم ترین سرگرمیوں میں کلان سطح پر [[وحدت اسلامی|وحدت اسلامیہ]] کی سمت میں حرکت کے لیے نظریہ سازی شامل ہے۔


== تعلیم ==
== تعلیم ==
سطر 28: سطر 28:
# حوزہ میں داخلہ 1369؛
# حوزہ میں داخلہ 1369؛
# مدرسہ معصومیہ میں تعلیم، مدرسہ معصومیہ، قم میں عربی مکالمہ کا دورہ 5 سال: 1369ـ 1375؛
# مدرسہ معصومیہ میں تعلیم، مدرسہ معصومیہ، قم میں عربی مکالمہ کا دورہ 5 سال: 1369ـ 1375؛
# امام خمینی تعلیمی و تحقیقی ادارہ میں داخلہ 1375؛
# [[سید روح اللہ موسوی خمینی|امام خمینی]] تعلیمی و تحقیقی ادارہ میں داخلہ 1375؛
# امام خمینی تعلیمی و تحقیقی ادارہ سے الہیات اور اسلامی معارف میں ماسٹرز 1375ـ1380؛
# [[سید روح اللہ موسوی خمینی|امام خمینی]] تعلیمی و تحقیقی ادارہ سے الہیات اور اسلامی معارف میں ماسٹرز 1375ـ1380؛
# امام خمینی تعلیمی و تحقیقی ادارہ سے علوم سیاسیه میں ماسٹرز مکمل 1385
# امام خمینی تعلیمی و تحقیقی ادارہ سے علوم سیاسیه میں ماسٹرز مکمل 1385
# انسانی علوم اور ثقافتی مطالعات کے ادارہ سے علوم سیاسیه میں پی ایچ ڈی خزاں 1385ـ1392
# انسانی علوم اور ثقافتی مطالعات کے ادارہ سے علوم سیاسیه میں پی ایچ ڈی خزاں 1385ـ1392
سطر 39: سطر 39:
# «تمدنی عقلانیت»؛
# «تمدنی عقلانیت»؛
# «ولایت فقیہ کی خلافت کا نظریہ»؛  
# «ولایت فقیہ کی خلافت کا نظریہ»؛  
# «ایران کے اہل سنت علماء کی ولایت پذیری»؛  
# «[[ایران]] کے [[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت]] علماء کی ولایت پذیری»؛  
# «داعش کی خلافت کی فقہ؛ چیلنجنگ کوشش»؛
# «[[داعش]] کی خلافت کی فقہ؛ چیلنجنگ کوشش»؛
# «اسلامی خلافت اور عیسائی تھیوکریسی کا تقابلی جائزہ»؛
# «اسلامی خلافت اور عیسائی تھیوکریسی کا تقابلی جائزہ»؛
# «حکومتی فقہ کے مبانی اور اصول» (چار جلدوں میں)؛
# «حکومتی فقہ کے مبانی اور اصول» (چار جلدوں میں)؛

حالیہ نسخہ بمطابق 18:03، 20 جون 2026ء

ذبیح اللہ نعیمیان
پورا نامذبیح اللہ نعیمیان
ذاتی معلومات
پیدائش1973 ء
پیدائش کی جگہایران خمین
وفات2014 ء
مذہباسلام، شیعہ

ذبیح اللہ نعیمیان حوزوی اور جامعاتی محقق ہیں جو تقریب مذاہب اسلامیہ کے میدان میں سرگرم ہیں، جنہوں نے حالیہ برسوں میں سیاسی فقہ، تقریبی نقطہ نظر کے ساتھ تمدنی مطالعات، اجتہاد کی طریقہ کار وغیرہ کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر کام کیا ہے۔

تعارف

ادارہ تحقیقات تقریبی کے اس سابق رکن کی اہم ترین سرگرمیوں میں کلان سطح پر وحدت اسلامیہ کی سمت میں حرکت کے لیے نظریہ سازی شامل ہے۔

تعلیم

  1. ریاضی اور طبیعیات کا ڈپلوما 1369؛
  2. حوزہ میں داخلہ 1369؛
  3. مدرسہ معصومیہ میں تعلیم، مدرسہ معصومیہ، قم میں عربی مکالمہ کا دورہ 5 سال: 1369ـ 1375؛
  4. امام خمینی تعلیمی و تحقیقی ادارہ میں داخلہ 1375؛
  5. امام خمینی تعلیمی و تحقیقی ادارہ سے الہیات اور اسلامی معارف میں ماسٹرز 1375ـ1380؛
  6. امام خمینی تعلیمی و تحقیقی ادارہ سے علوم سیاسیه میں ماسٹرز مکمل 1385
  7. انسانی علوم اور ثقافتی مطالعات کے ادارہ سے علوم سیاسیه میں پی ایچ ڈی خزاں 1385ـ1392
  8. سطح 4 کے رسالے کی تدوین میں مصروف: موسم گرما 1387 سے، رسالے کا عنوان: اسلامی سیاسی نظام میں «فیصلہ سازی» کے لیے «مصلحت کے استعمال» کے مبانی

تصانیف

ان غور و فکر میں سے کچھ درج ذیل آثار میں وحدت پسندانہ نظریہ سازی کی طرف مائل ہیں:

  1. «تمدنی امامت»؛
  2. «تمدنی عقلانیت»؛
  3. «ولایت فقیہ کی خلافت کا نظریہ»؛
  4. «ایران کے اہل سنت علماء کی ولایت پذیری»؛
  5. «داعش کی خلافت کی فقہ؛ چیلنجنگ کوشش»؛
  6. «اسلامی خلافت اور عیسائی تھیوکریسی کا تقابلی جائزہ»؛
  7. «حکومتی فقہ کے مبانی اور اصول» (چار جلدوں میں)؛
  8. «عقلانیت کی بنیاد شناسی اور زمینہ شناسی؛ مذہبی اور سیاسی شخصیات کے افکار کے تجزیے کی طریقہ کار»۔