"خواجہ نصیر الدین طوسی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:خواجہ نصیر الدین طوسی کو خواجہ نصیر الدین طوسی کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف 6 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 39: | سطر 39: | ||
اور والد کی رہنمائی میں «کمالالدین محمد حاسب» کی خدمت میں جو ریاضیات کے مشہور دانشوروں میں سے تھے، تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے شہر طوس میں اپنے استاد «نصیرالدین عبدالله بن حمزه» کے ہاتھوں علماء دین کا لباس پہنا اور استاد کی طرف سے «نصیر الدین» کا لقب پایا۔ | اور والد کی رہنمائی میں «کمالالدین محمد حاسب» کی خدمت میں جو ریاضیات کے مشہور دانشوروں میں سے تھے، تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے شہر طوس میں اپنے استاد «نصیرالدین عبدالله بن حمزه» کے ہاتھوں علماء دین کا لباس پہنا اور استاد کی طرف سے «نصیر الدین» کا لقب پایا۔ | ||
اس کے بعد انہوں نے اپنے والد کے ماموں نصیرالدین عبدالله بن حمزه کی رہنمائی میں نیشاپور ہجرت کی اور «فریدالدین داماد نیشاپوری»، «اشارات بوعلی» جیسے بڑے اساتذہ کی خدمت سے اور «قطبالدین مصری» جو فخر رازی کے شاگرد تھے، سے قانون ابن سینا سیکھا۔ انہوں نے مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ اس خطے کے مشہور عارف | اس کے بعد انہوں نے اپنے والد کے ماموں نصیرالدین عبدالله بن حمزه کی رہنمائی میں نیشاپور ہجرت کی اور «فریدالدین داماد نیشاپوری»، «اشارات بوعلی» جیسے بڑے اساتذہ کی خدمت سے اور «قطبالدین مصری» جو فخر رازی کے شاگرد تھے، سے قانون ابن سینا سیکھا۔ انہوں نے مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ اس خطے کے مشہور عارف «عطار نیشابوری» (متوفی ۶۲۷ق) سے بھی فائدہ اٹھایا<ref>خوانساری، محمدباقر، روضات الجنات، ج۶، ص۵۸۲.</ref>. | ||
انہوں نے اپنی تعلیم نیشاپور میں آٹھ سال تک مکمل کی اور وہاں ایک امتیازی دانشمند کے طور پر مشہور ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے [[عراق]] جانے کا ارادہ کیا اور سن ۶۱۹ ہجری یعنی 22 سال کی عمر میں، اجازت نامہ روایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے<ref>مدرسی زنجانی، محمد، سرگزشت و عقاید فلسفی خواجہ نصیرالدین طوسی، ص۲۸، تہران، امیرکبیر، ۱۳۶۳.</ref>. | انہوں نے اپنی تعلیم نیشاپور میں آٹھ سال تک مکمل کی اور وہاں ایک امتیازی دانشمند کے طور پر مشہور ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے [[عراق]] جانے کا ارادہ کیا اور سن ۶۱۹ ہجری یعنی 22 سال کی عمر میں، اجازت نامہ روایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے<ref>مدرسی زنجانی، محمد، سرگزشت و عقاید فلسفی خواجہ نصیرالدین طوسی، ص۲۸، تہران، امیرکبیر، ۱۳۶۳.</ref>. | ||
| سطر 59: | سطر 59: | ||
# تجرید الاعتقاد: یہ کتاب تالیف کے وقت سے اب تک [[حوزہ علمیہ قم|حوزہہائے علمیہ]] [[شیعہ]] میں کلام کے شعبے میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں سے ہے<ref>علامہ حلی، کشف المراد، 1413ق، مقدمہ مصحح، ص5.</ref>. خواجہ نصیر نے اس کتاب میں کلام کو فلسفہ کے ساتھ ملایا اور کلامی مسائل کو فلسفیانہ طریقے سے حل کیا ہے<ref>نصیر الدین طوسی، تجرید الاعتقاد، 1407ق، مقدمہ محقق، ص71.</ref>. | # تجرید الاعتقاد: یہ کتاب تالیف کے وقت سے اب تک [[حوزہ علمیہ قم|حوزہہائے علمیہ]] [[شیعہ]] میں کلام کے شعبے میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں سے ہے<ref>علامہ حلی، کشف المراد، 1413ق، مقدمہ مصحح، ص5.</ref>. خواجہ نصیر نے اس کتاب میں کلام کو فلسفہ کے ساتھ ملایا اور کلامی مسائل کو فلسفیانہ طریقے سے حل کیا ہے<ref>نصیر الدین طوسی، تجرید الاعتقاد، 1407ق، مقدمہ محقق، ص71.</ref>. | ||
# اساس الاقتباس: یہ کتاب منطق کے موضوع پر اور فارسی زبان میں ہے<ref>مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص420.</ref>. بعض نے اس کتاب کو کتاب شفاء بوعلی سینا کے منطق کے حصے کے بعد، اس موضوع پر لکھی گئی اہم ترین کتاب قرار دیا ہے<ref>مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص420.</ref>. | # اساس الاقتباس: یہ کتاب منطق کے موضوع پر اور فارسی زبان میں ہے<ref>مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص420.</ref>. بعض نے اس کتاب کو کتاب شفاء بوعلی سینا کے منطق کے حصے کے بعد، اس موضوع پر لکھی گئی اہم ترین کتاب قرار دیا ہے<ref>مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص420.</ref>. | ||
# شرح الاشارات و التنبیہاتِ | # شرح الاشارات و التنبیہاتِ ابوعلی سینا: یہ کتاب حکمت مشاء کے نصابی متون میں سے ہے<ref>علامہ حلی، کشف المراد، 1413ق، مقدمہ مصحح، ص5.</ref>. | ||
# اخلاق ناصری: ابن مسکویہ کی کتاب طہارت الاعراق کا ترجمہ اضافات کے ساتھ<ref> مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص9.</ref>. | # اخلاق ناصری: ابن مسکویہ کی کتاب طہارت الاعراق کا ترجمہ اضافات کے ساتھ<ref> مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص9.</ref>. | ||
# آغاز و انجام: یہ کتاب مبدأ اور [[معاد]] کے بارے میں ہے جس میں قیامت، جنت اور جہنم کی حالتوں سے متعلق مباحث عرفانی طریقے سے پیش کیے گئے ہیں<ref>بخش فلسفہ و کلام دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، «آغاز وانجام»، ص440.</ref>. | # آغاز و انجام: یہ کتاب مبدأ اور [[معاد]] کے بارے میں ہے جس میں قیامت، جنت اور جہنم کی حالتوں سے متعلق مباحث عرفانی طریقے سے پیش کیے گئے ہیں<ref>بخش فلسفہ و کلام دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، «آغاز وانجام»، ص440.</ref>. | ||
| سطر 67: | سطر 67: | ||
== وفات == | == وفات == | ||
خواجہ نصیر کا انتقال 18 | خواجہ نصیر کا انتقال 18 ذی الحجہ سن 672 ق کو اس حالت میں ہوا کہ وہ اوقاف اور دانشمندان کے امور کی ترتیب کے لیے بغداد میں مقیم تھے۔ انہوں نے اپنی وصیت کے مطابق حرم کاظمین میں دفن ہوئے<ref> نعمت، فلاسفۃ الشیعۃ: حیاتہم و آراؤہم، 1987ء، ص531؛ امین، اعیان الشیعۃ، 1986ء، ج9، ص418؛ البتہ ابن کثیر نے البدایۃ و النہایۃ میں ان کی وفات کا دن بارہویں ذی الحجہ لکھا ہے (البدایۃ و النہایۃ، 1997ء، ج17، ص514).</ref>. | ||
انہوں نے یہ بھی وصیت کی تھی کہ ان کی قبر پر ان کی علمی خصوصیات کی طرف کوئی اشارہ نہ کیا جائے اور صرف عبارت | انہوں نے یہ بھی وصیت کی تھی کہ ان کی قبر پر ان کی علمی خصوصیات کی طرف کوئی اشارہ نہ کیا جائے اور صرف عبارت و کَلبُهُم باسِطٌ ذِراعَیهِ بِالوَصید |سورہ کہف/آیت 18 اور ان کا کتا [غار کے] دروازے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے تھا۔ ان کی قبر کے پتھر پر لکھا جائے<ref>عزیزی، فضائل و سیرت چودہ معصومین(ع) در آثار استاد علامہ حسن زادہ آملی، 1381ش، ص402.</ref>. | ||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
{{حوالہ جات}} | {{حوالہ جات}} | ||
[[زمرہ: | [[زمرہ:شخصیات]] | ||
[[زمرہ:شیعہ علماء]] | [[زمرہ:شیعہ علماء]] | ||
[[زمرہ:ایران]] | [[زمرہ:ایران]] | ||
[[fa:خواجه نصیرالدین طوسی]] | [[fa:خواجه نصیرالدین طوسی]] | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 17:14، 16 جون 2026ء
| خواجہ نصیر الدین طوسی | |
|---|---|
| پورا نام | خواجہ نصیر الدین طوسی |
| دوسرے نام | استاد البشر، عقل حادی عشر |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 597 ق |
| پیدائش کی جگہ | طوس، ایران |
| وفات | 672 ق |
| وفات کی جگہ | بغداد، عراق |
| شاگرد | علامه حلی، ابن میثم بحرانی، قطب الدین شیرازی، سید رکنالدین استرآبادی، و ... |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات | اساس الاقتباس، تجرید الاعتقاد، شرح اشارات، قواعدالعقائد، تحریر اصول اقلیدس، اخلاق ناصری، زیج ایلخانی، و... |
| مناصب | فلسفی، سائنسدان، منطقی، متکلم |
خواجہ نصیر الدین طوسی فلسفی، متکلم، اور بڑے ایرانی ریاضی دان ہیں جو ساتویں صدی ہجری میں ہوئے ہیں اور جنہوں نے مختلف موضوعات پر کئی کتب اور علمی رسالے تحریر کیے۔ خواجہ نصیر طوسی کو علم میں ابوعلی سینا کا ہم پلہ سمجھا جاتا ہے، جیسے ابوعلی سینا طب میں سرآمد تھے، ویسے ہی خواجہ نصیر بھی ریاضیات میں سرآمد تھے۔
انہیں علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا اور انہوں نے جوانی کے دور میں ہی علوم ریاضی، نجوم اور حکمت میں مہارت حاصل کر لی اور اپنے زمانے کے مشہور دانشمندوں میں شمار ہونے لگے۔ طوسی تاریخ اسلام کی سب سے مشہور اور با اثر شخصیات میں سے ایک ہیں۔
انہوں نے دینی علوم اور عملی علوم اپنے والد کی نگرانی میں سیکھے اور منطق اور حکمت اپنے ماموں، بابا افضل ایوبی کاشانی سے سیکھی۔ انہوں نے اپنی تعلیم نیشابور میں مکمل کی اور وہاں ایک امتیازی دانشمند کے طور پر مشہور ہوئے۔
علامه حلی جو خواجہ نصیر الدین طوسی کے شاگردوں میں سے ہیں، ان کے بارے میں کہتے ہیں: خواجہ نصیر الدین طوسی ہمارے دور کے بہترین تھے اور ان کے پاس علوم عقلیہ و نقلیہ کی بہت سی تصنیفات تھیں۔ وہ ان اشرف شخصیات میں سے ہیں جنہیں ہم نے پایا ہے۔ ملک کے سرکاری کیلنڈر میں پانچواں اسفند کا دن خواجہ نصیر الدین طوسی کے یوم بزرگداشت اور یوم انجینئر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
جائے پیدائش اور ولادت
سرزمین طوس خراسان بزرگ کا ایک علاقہ ہے جو بڑے اور تاریخ ساز دانشوروں کا جنم گاہ رہا ہے۔ قدیم ایران کی جغرافیہ میں، طوس مختلف شہروں جیسے نوقان، طابران اور اردکان پر مشتمل تھا اور حضرت علی بن موسیٰ الرضا(علیہالسّلام) کا مطہر مزار شہر نوقان کے مضافات میں سناباد نامی گاؤں میں واقع تھا جو اس کی توسیع کے بعد آج کل شہر مشهد کے محلے میں شمار ہوتا ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک بار شیخ وجیہ الدین محمد بن حسن جو قم کے بزرگان اور دانشوروں میں سے تھے اور قم کے توابع میں جہرود گاؤں میں رہتے تھے[1]۔ اپنے خاندان کے ساتھ آٹھویں امام شیعیان کی زیارت کے شوق میں مشهد روانہ ہوئے اور زیارت کے بعد واپسی پر اپنی بیوی کی بیماری کی وجہ سے شہر طوس کے ایک محلے میں رہائش اختیار کی۔ کچھ عرصے بعد محلے کے لوگوں کی درخواست پر انہوں نے مسجد میں نماز جماعت کی امامت کے علاوہ مدرسہ علمیہ میں تدریس بھی شروع کر دی۔ گیارہویں جمادی الاول سن 597 ہجری کی صبح سورج نکلتے وقت، سپیدہ صبح کھل اٹھی اور ساتویں صدی کا حکمت اور ریاضی کا سب سے چمکتا چہرہ دنیا میں قدم رکھا[2].
والد نے قرآن کریم سے فال نکال کر اپنے تیسرے فرزند کا نام محمد رکھا۔ بعد میں ان کی کنیت ابو جعفر ہوئی، اور وہ (نصیر الدین)، محقق طوسی، استاد البشر اور خواجہ جیسے القاب سے مشہور ہوئے۔
تحصیلات
خواجہ نصیر کو علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ انہوں نے شہر طوس میں بچپن کے دنوں میں، دینی علوم اور عملی علوم (اخلاق، قرآن، صرف اور نحو اور فقہ) اپنے والد کی نگرانی میں اور منطق اور حکمت اپنے ماموں سے سیکھی[3].
اور والد کی رہنمائی میں «کمالالدین محمد حاسب» کی خدمت میں جو ریاضیات کے مشہور دانشوروں میں سے تھے، تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے شہر طوس میں اپنے استاد «نصیرالدین عبدالله بن حمزه» کے ہاتھوں علماء دین کا لباس پہنا اور استاد کی طرف سے «نصیر الدین» کا لقب پایا۔
اس کے بعد انہوں نے اپنے والد کے ماموں نصیرالدین عبدالله بن حمزه کی رہنمائی میں نیشاپور ہجرت کی اور «فریدالدین داماد نیشاپوری»، «اشارات بوعلی» جیسے بڑے اساتذہ کی خدمت سے اور «قطبالدین مصری» جو فخر رازی کے شاگرد تھے، سے قانون ابن سینا سیکھا۔ انہوں نے مذکورہ بالا کتابوں کے علاوہ اس خطے کے مشہور عارف «عطار نیشابوری» (متوفی ۶۲۷ق) سے بھی فائدہ اٹھایا[4].
انہوں نے اپنی تعلیم نیشاپور میں آٹھ سال تک مکمل کی اور وہاں ایک امتیازی دانشمند کے طور پر مشہور ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے عراق جانے کا ارادہ کیا اور سن ۶۱۹ ہجری یعنی 22 سال کی عمر میں، اجازت نامہ روایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے[5].
جیسا کہ لکھا گیا ہے خواجہ نے کچھ عرصہ «علامہ حلی» سے فقہ سیکھی اور علامہ نے بھی بدلے میں خواجہ سے حکمت کا درس سیکھا۔ «کمالالدین موصلی» جو شہر موصل (عراق) کے رہائشی تھے، ان دانشمندوں میں سے تھے جنہوں نے خواجہ کو علم نجوم اور ریاضی سکھایا اور اس طرح محقق طوسی نے تعلیمی دور مکمل کیا، اور کئی سال وطن اور خاندان سے دوری کے بعد طوس واپس آئے[6].
مشہور شاگرد
- علامہ حلی شیعہ فقیہ اور بزرگ متکلم (متوفی 726ھ)، نے حکمت خواجہ طوسی سے سیکھی[7]. اور خواجہ نصیر کی کتاب تجرید الاعتقاد کی شرح کشف المراد کے عنوان سے لکھی۔ یہ کتاب تجرید کی مشہور ترین شروحات میں سے ہے[8].
- ابن میثم بحرانی، کتاب شرح نہج البلاغہ کے مصنف، حکیم، ریاضی دان، متکلم اور فقیہ تھے جو حکمت میں خواجہ نصیر کے شاگرد اور فقہ میں ان کے استاد تھے[9].
- قطب الدین شیرازی (متوفی 710ق)، جب خواجہ ہلاکو کے ہمراہ قزوین گئے تو ان کے ساتھ ہو لیے، ان کے ہمراہ مراغہ گئے اور خواجہ نصیر کے شاگرد بنے ہیئت، ریاضی، فلسفہ اور طب میں۔ خواجہ انہیں قطب فلک الوجود کہتے تھے[10].
- سید رکن الدین (حسن بن محمد بن شرفشاہ علوی)، خواجہ کے شاگردوں میں سے تھے اور ان کے بعض آثار کی شرح لکھی ہے[11].
- کمال الدین عبدالرزاق شیبانی بغدادی (642ـ723 ق) معروف بہ ابن الفوطی، ساتویں صدی کے مؤرخین میں سے ہیں اور کتابیں «معجم الآداب» اور «الحوادث الجامعہ» ان کے آثار ہیں۔ انہوں نے کتابخانہ رصدخانہ مراغہ کی کتابداری کی اور عمر کے آخری حصے میں کتابخانہ مستنصریہ کی ذمہ داری سنبھالی[12].
- عماد الدین حربوی معروف بہ ابن الخوام (643ـ728 ق)، حساب اور طب میں اپنے زمانے کے سرآمد تھے اور کتابیں «فوائد بہائیہ فی قواعد حسابیہ» اور «مقدمہ بر طب» ان سے یادگار ہیں[13].
آثار
خواجہ نصیر الدین طوسی کی مختلف موضوعات پر کتابوں اور علمی رسالوں کی تعداد 184 سے زائد بتائی جاتی ہے[14]. بعض محققین کا ماننا ہے کہ اسماعیلیان کے قلعوں میں ان کی مجبورانه زندگی کو دیکھتے ہوئے، ان کی بہت سی کتابیں خراب معاشی حالات میں لکھی گیں۔ خواجہ نصیر نے شرح اشارات کے مقدمے میں کتاب کی تالیف کے وقت اپنی کثیر تکلیف اور بڑھتے ہوئے غم کا ذکر کیا ہے[15].
ان کے بعض آثار
- تجرید الاعتقاد: یہ کتاب تالیف کے وقت سے اب تک حوزہہائے علمیہ شیعہ میں کلام کے شعبے میں پڑھائی جانے والی کتابوں میں سے ہے[16]. خواجہ نصیر نے اس کتاب میں کلام کو فلسفہ کے ساتھ ملایا اور کلامی مسائل کو فلسفیانہ طریقے سے حل کیا ہے[17].
- اساس الاقتباس: یہ کتاب منطق کے موضوع پر اور فارسی زبان میں ہے[18]. بعض نے اس کتاب کو کتاب شفاء بوعلی سینا کے منطق کے حصے کے بعد، اس موضوع پر لکھی گئی اہم ترین کتاب قرار دیا ہے[19].
- شرح الاشارات و التنبیہاتِ ابوعلی سینا: یہ کتاب حکمت مشاء کے نصابی متون میں سے ہے[20].
- اخلاق ناصری: ابن مسکویہ کی کتاب طہارت الاعراق کا ترجمہ اضافات کے ساتھ[21].
- آغاز و انجام: یہ کتاب مبدأ اور معاد کے بارے میں ہے جس میں قیامت، جنت اور جہنم کی حالتوں سے متعلق مباحث عرفانی طریقے سے پیش کیے گئے ہیں[22].
- تحریر اصول اقلیدس: کتاب «اصول الهندسہ و الحساب» ایک کتاب ہے جو تقریباً تین سو سال قبل از مسیح توسط اقلیدس، یونانی مشہور ریاضی دان اور منجم نے تصنیف کی ہے اور ریاضی دانوں کے نصابی متون میں سے رہی ہے[23]. خواجہ طوسی نے اس کتاب کے اپنے سے پہلے کے تراجم اور ان کے درمیان موازنے کی بنیاد پر، اس اثر کو تحریر اور شرح کیا ہے اور اس میں اشکال اور گزارے بھی اضافہ کیے ہیں[24].
- زیج ایلخانی: ایک کتاب جس میں ستاروں کی حالتیں اور حرکات وغیرہ جو ان کا رصد کرنے سے معلوم ہوتی ہیں، درج کی جاتی ہیں۔
- التذکرة فی علم الهیئة: حاجی خلیفہ کے قول کے مطابق یہ کتاب اس فن کے مسائل اور اس سے متعلق دلائل کا خلاصہ ہے[25].
وفات
خواجہ نصیر کا انتقال 18 ذی الحجہ سن 672 ق کو اس حالت میں ہوا کہ وہ اوقاف اور دانشمندان کے امور کی ترتیب کے لیے بغداد میں مقیم تھے۔ انہوں نے اپنی وصیت کے مطابق حرم کاظمین میں دفن ہوئے[26]. انہوں نے یہ بھی وصیت کی تھی کہ ان کی قبر پر ان کی علمی خصوصیات کی طرف کوئی اشارہ نہ کیا جائے اور صرف عبارت و کَلبُهُم باسِطٌ ذِراعَیهِ بِالوَصید |سورہ کہف/آیت 18 اور ان کا کتا [غار کے] دروازے پر اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے تھا۔ ان کی قبر کے پتھر پر لکھا جائے[27].
حوالہ جات
- ↑ فوائد الرضویہ، شیخ عباس قمی، ص 603.
- ↑ یہ شخصیت شیخ الطائفہ طوسی اور خواجہ نظام الملک سے مختلف ہے。
- ↑ پژوہشگاہ حوزه و دانشگاه، تاریخ تفکر اندیشہ اجتماعی در اسلام، ص۱۳۹-۱۴۰، تہران، سمت، ۱۳۸۷، چاپ ہفتم.
- ↑ خوانساری، محمدباقر، روضات الجنات، ج۶، ص۵۸۲.
- ↑ مدرسی زنجانی، محمد، سرگزشت و عقاید فلسفی خواجہ نصیرالدین طوسی، ص۲۸، تہران، امیرکبیر، ۱۳۶۳.
- ↑ سبحانی، جعفر، موسوعه طبقات فقہا، ج۷، ص۲۴۳.
- ↑ مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص238.
- ↑ صدرائی خوئی، کتابشناسی تجرید الاعتقاد، 1382ش، ص35.
- ↑ خوانساری، روضات الجنات، 1390ق، ج6، ص302.
- ↑ مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص241و242.
- ↑ مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص249.
- ↑ مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص252تا257.
- ↑ مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص257تا261.
- ↑ فرحات، اندیشہہائے فلسفی و کلامی خواجہ نصیر الدین طوسی، 1389ش، ص71.
- ↑ نصیر الدین طوسی، شرح اشارات، ج2، ص146.
- ↑ علامہ حلی، کشف المراد، 1413ق، مقدمہ مصحح، ص5.
- ↑ نصیر الدین طوسی، تجرید الاعتقاد، 1407ق، مقدمہ محقق، ص71.
- ↑ مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص420.
- ↑ مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص420.
- ↑ علامہ حلی، کشف المراد، 1413ق، مقدمہ مصحح، ص5.
- ↑ مدرسی رضوی، احوال و آثار خواجہ نصیر الدین، 1354ش، ص9.
- ↑ بخش فلسفہ و کلام دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، «آغاز وانجام»، ص440.
- ↑ رمضانی، مروری بر آثار و تالیفات علامہ حسن زادہ آملی، 1374ش، ص117.
- ↑ متقی، حسین، «کتابشناسی اصول هندسہ اقلیدس، با تأکید بر تحریر خواجہ نصیر الدین طوسی» .
- ↑ ویدہمان، آیلهارد، «خواجہ نصیر الدین طوسی» ، 1391ش، ص32.
- ↑ نعمت، فلاسفۃ الشیعۃ: حیاتہم و آراؤہم، 1987ء، ص531؛ امین، اعیان الشیعۃ، 1986ء، ج9، ص418؛ البتہ ابن کثیر نے البدایۃ و النہایۃ میں ان کی وفات کا دن بارہویں ذی الحجہ لکھا ہے (البدایۃ و النہایۃ، 1997ء، ج17، ص514).
- ↑ عزیزی، فضائل و سیرت چودہ معصومین(ع) در آثار استاد علامہ حسن زادہ آملی، 1381ش، ص402.