مندرجات کا رخ کریں

"حوا" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:حوا کو حوا کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف 7 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 14: سطر 14:
عمرو بن ابی مقدام کہتے ہیں: میں نے [[محمدبن علی|امام باقر (علیہ السلام)]] سے پوچھا: «خداوند نے حوا کو کس چیز سے پیدا کیا؟» امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «لوگ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟» میں نے کہا: «کہتے ہیں خداوند نے حوا کو آدم علیہ السلام کی ایک پسلی سے پیدا کیا۔» فرمایا: «وہ جھوٹ بولتے ہیں، کیا خداوند ناتوان ہے کہ حوا کو آدم کی پسلی کے بغیر پیدا کرے؟» میں نے کہا: «آپ پر قربان جاؤں اے رسول خدا کے بیٹے! تو خداوند نے حوا کو کس چیز سے پیدا کیا؟ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «میرے والد نے اپنے باپ دادا سے نقل کیا کہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول خدا]] صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خداوند متعال نے مٹی کا ایک حصہ لیا اور اسے اپنی قدرت کے ہاتھ سے گوندھا اور اس مٹی سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور پھر اس مٹی سے کچھ بچ گیا، خداوند نے اس بچے ہوئے سے حوا علیہ السلام کو پیدا کیا<ref>تفسیر نور الثقلین، ج ۱، ص ۴۳۰</ref>۔»
عمرو بن ابی مقدام کہتے ہیں: میں نے [[محمدبن علی|امام باقر (علیہ السلام)]] سے پوچھا: «خداوند نے حوا کو کس چیز سے پیدا کیا؟» امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «لوگ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟» میں نے کہا: «کہتے ہیں خداوند نے حوا کو آدم علیہ السلام کی ایک پسلی سے پیدا کیا۔» فرمایا: «وہ جھوٹ بولتے ہیں، کیا خداوند ناتوان ہے کہ حوا کو آدم کی پسلی کے بغیر پیدا کرے؟» میں نے کہا: «آپ پر قربان جاؤں اے رسول خدا کے بیٹے! تو خداوند نے حوا کو کس چیز سے پیدا کیا؟ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «میرے والد نے اپنے باپ دادا سے نقل کیا کہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول خدا]] صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خداوند متعال نے مٹی کا ایک حصہ لیا اور اسے اپنی قدرت کے ہاتھ سے گوندھا اور اس مٹی سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور پھر اس مٹی سے کچھ بچ گیا، خداوند نے اس بچے ہوئے سے حوا علیہ السلام کو پیدا کیا<ref>تفسیر نور الثقلین، ج ۱، ص ۴۳۰</ref>۔»


اور ان دونوں کے ہبوط کے مقام کے بارے میں کہنا چاہیے کہ کچھ لوگوں نے اسے جنوب [[ہندوستان]] میں کوہ سراندیب (سیلون یا سری لنکا) کو ہبوط اور آدم علیہ السلام کا ابتدائی رہائشی مقام بتایا ہے<ref>مجلہ الہلال، سال ۱۳۵۲، نمبر ۷، ص ۹۶۴</ref>۔ اس جزیرے میں ایک پہاڑ ہے جسے پرتگالیوں نے کوہ آدم نام دیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس پہاڑ پر آدم کا قدم ہے۔ اس پہاڑ کی بلندی ۷۴۲۰ فٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس جزیرے میں جو پودا اگتا ہے اس کے پتے وہ ہیں جو آدم اپنے ساتھ جنت سے لائے تھے<ref>تاریخ طبری، ج ۱، ص ۱۲۱ ـ ۱۲۵، ۱۲۶</ref> [[مسلمان|مسلمان]]، [[مسیحیت|مسیحی]] اور [[بدھ مت|بدھ مت]] والے کوہ آدم کی چوٹی پر پتھر پر کندہ آدم کے قدم کی زیارت کو جاتے ہیں۔ <ref>رحلہ ابن بطوطہ، ج ۴، ص ۱۸۱ ـ ۱۸۲</ref>۔
اور ان دونوں کے ہبوط کے مقام کے بارے میں کہنا چاہیے کہ کچھ لوگوں نے اسے جنوب [[ہندوستان]] میں کوہ سراندیب (سیلون یا سری لنکا) کو ہبوط اور آدم علیہ السلام کا ابتدائی رہائشی مقام بتایا ہے<ref>مجلہ الہلال، سال ۱۳۵۲، نمبر ۷، ص ۹۶۴</ref>۔ اس جزیرے میں ایک پہاڑ ہے جسے پرتگالیوں نے کوہ آدم نام دیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس پہاڑ پر آدم کا قدم ہے۔ اس پہاڑ کی بلندی ۷۴۲۰ فٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس جزیرے میں جو پودا اگتا ہے اس کے پتے وہ ہیں جو آدم اپنے ساتھ جنت سے لائے تھے<ref>تاریخ طبری، ج ۱، ص ۱۲۱ ـ ۱۲۵، ۱۲۶</ref> [[مسلمان|مسلمان]]، [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحی]] اور بدھ مت والے کوہ آدم کی چوٹی پر پتھر پر کندہ آدم کے قدم کی زیارت کو جاتے ہیں۔ <ref>رحلہ ابن بطوطہ، ج ۴، ص ۱۸۱ ـ ۱۸۲</ref>۔


اس فکر کا منبع کہ آدم کے اترنے کا مقام جنوب ہندوستان تھا، بعض مفسرین کا گمان ہے جو تورات کے سفر پیدائش میں درج ہے۔ کہ [[جنت]] میں آدم کے پاس چار نہریں بہتی تھیں جن میں سے پہلی فیشون ہے، انہوں نے سوچا کہ رود نیشون دریائے سندھ ہے اور [[جنت عدن]] ہندوستان میں ہے اور آدم اور حوا ہندوستان سے نکلنے کے بعد جزیرہ سراندیب (سیلون) کے جنوب میں [[ہبوط]] ہوئے۔
اس فکر کا منبع کہ آدم کے اترنے کا مقام جنوب ہندوستان تھا، بعض مفسرین کا گمان ہے جو تورات کے سفر پیدائش میں درج ہے۔ کہ جنت میں آدم کے پاس چار نہریں بہتی تھیں جن میں سے پہلی فیشون ہے، انہوں نے سوچا کہ رود نیشون دریائے سندھ ہے اور جنت عدن ہندوستان میں ہے اور آدم اور حوا ہندوستان سے نکلنے کے بعد جزیرہ سراندیب (سیلون) کے جنوب میں ہبوط ہوئے۔


لیکن معتبر اسلامی [[روایات]] کے مطابق، ان کا ہبوط [[مکہ]] میں ہوا تھا: جب آدم اور حوا علیہ السلام کو جنت سے نکالا گیا، تو وہ زمین [[مکہ]] میں اترے، حضرت آدم علیہ السلام [[کوہ صفا]] پر [[کعبہ]] کے پاس اترے اور وہیں سکونت اختیار کی اسی لیے اس پہاڑ کو صفا کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام صفی اللہ (خدا کے منتخب) وہاں داخل ہوئے اور حضرت حوا علیہ السلام [[کوہ مروہ]] (جو کوہ صفا کے قریب ہے) پر اتریں اور وہیں سکونت اختیار کی۔ اس پہاڑ کو مروہ اس لیے کہتے ہیں کہ مرئہ (یعنی عورت جس سے مراد حوا علیہ السلام ہیں) وہاں رہائش پذیر ہوئیں۔ آدم علیہ السلام نے چالیس دن رات [[سجدہ]] کیا اور [[جنت]] کی جدائی میں روتے رہے<ref>علل الشرایع: ص ۴۹۱ – کافی: ج ۶، ص ۵۱۳- نورالثقلین: ج ۱، ص ۶۱</ref>۔
لیکن معتبر اسلامی روایات کے مطابق، ان کا ہبوط [[مکه|مکہ]] میں ہوا تھا: جب آدم اور حوا علیہ السلام کو جنت سے نکالا گیا، تو وہ زمین [[مکه|مکہ]] میں اترے، حضرت آدم علیہ السلام کوہ صفا پر [[کعبہ]] کے پاس اترے اور وہیں سکونت اختیار کی اسی لیے اس پہاڑ کو صفا کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام صفی اللہ (خدا کے منتخب) وہاں داخل ہوئے اور حضرت حوا علیہ السلام کوہ مروہ (جو کوہ صفا کے قریب ہے) پر اتریں اور وہیں سکونت اختیار کی۔ اس پہاڑ کو مروہ اس لیے کہتے ہیں کہ مرئہ (یعنی عورت جس سے مراد حوا علیہ السلام ہیں) وہاں رہائش پذیر ہوئیں۔ آدم علیہ السلام نے چالیس دن رات سجدہ کیا اور جنت کی جدائی میں روتے رہے<ref>علل الشرایع: ص ۴۹۱ – کافی: ج ۶، ص ۵۱۳- نورالثقلین: ج ۱، ص ۶۱</ref>۔


== حضرت حوا قرآن کریم میں ==
== حضرت حوا قرآن کریم میں ==
[[قرآن|قرآن کریم]] میں چند مقامات پر حضرت حوا کی زندگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ [[آیہ|آیات]] کے ہر گروہ میں [[حضرت آدم]] کے قصے کے بیان کے ساتھ اس عورت کی موجودگی اور وجود کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مختلف ثقافتوں اور اقوام میں پہلی خواتین کے مختلف نام ہیں<ref>مثال کے طور پر یونانیوں کے ہاں پاندورا، زرتشتی مذہب میں مشیانہ، جاپانی افسانوں میں یامی اور کینیا کی قوم لویا کے نزد سِلا کہا جاتا ہے۔ رجوع کریں: مہدی رضایی، آفرینش و مرگ در اساطیر، ص ۱۶۷ بہ بعد؛ عباس اشرفی، مقایسہ قصص قرآن و عہدین، ص ۱۴۶</ref>۔
[[قرآن|قرآن کریم]] میں چند مقامات پر حضرت حوا کی زندگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آیات کے ہر گروہ میں [[حضرت آدم]] کے قصے کے بیان کے ساتھ اس عورت کی موجودگی اور وجود کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مختلف ثقافتوں اور اقوام میں پہلی خواتین کے مختلف نام ہیں<ref>مثال کے طور پر یونانیوں کے ہاں پاندورا، زرتشتی مذہب میں مشیانہ، جاپانی افسانوں میں یامی اور کینیا کی قوم لویا کے نزد سِلا کہا جاتا ہے۔ رجوع کریں: مہدی رضایی، آفرینش و مرگ در اساطیر، ص ۱۶۷ بہ بعد؛ عباس اشرفی، مقایسہ قصص قرآن و عہدین، ص ۱۴۶</ref>۔


حوا وہ نام ہے جو اسلامی ادب میں آدم کی بیوی کے لیے رکھا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام عربی اصل نہیں رکھتا<ref>حوا کو عبرانی لفظ قرار دیا گیا ہے۔ محمد جواد مشکور، فرهنگ تطبیقی عربی با زبان‌های سامی و ایرانی، ج ۱، ص ۲۰۳؛ encyclopeadia judaica, 1996, Jerusalem, keter publiching house. V9, p979</ref>۔ لفظ حوا سب سے پہلے [[تورات]] میں ذکر ہوا ہے <ref>سفر پیدایش، ۳\/۲۰؛ ۴\/،1</ref> اور غالباً وہیں سے عربی زبان و ثقافت میں داخل ہوا ہے<ref>کہا جاتا ہے کہ اشعارِ جاہلیت میں تین بار حوا کا نام آیا ہے، دو بار امیہ بن ابی صلت کے شعر میں اور ایک بار عدی بن زیاد مسیحی کے اشعار میں جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں رہتے تھے، دیکھیں encyclopeadia judaica, 9/983</ref>۔
حوا وہ نام ہے جو اسلامی ادب میں آدم کی بیوی کے لیے رکھا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام عربی اصل نہیں رکھتا<ref>حوا کو عبرانی لفظ قرار دیا گیا ہے۔ محمد جواد مشکور، فرهنگ تطبیقی عربی با زبان‌های سامی و ایرانی، ج ۱، ص ۲۰۳؛ encyclopeadia judaica, 1996, Jerusalem, keter publiching house. V9, p979</ref>۔ لفظ حوا سب سے پہلے [[توریت(تورات)|تورات]] میں ذکر ہوا ہے <ref>سفر پیدایش، ۳\/۲۰؛ ۴\/،1</ref> اور غالباً وہیں سے عربی زبان و ثقافت میں داخل ہوا ہے<ref>کہا جاتا ہے کہ اشعارِ جاہلیت میں تین بار حوا کا نام آیا ہے، دو بار امیہ بن ابی صلت کے شعر میں اور ایک بار عدی بن زیاد مسیحی کے اشعار میں جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں رہتے تھے، دیکھیں encyclopeadia judaica, 9/983</ref>۔


قرآن میں حوا کا نام ذکر نہیں کیا گیا اور صرف لفظ «زوج» سے ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے<ref>بقرہ\/ ۳۵؛ نساء\/ ۱؛ اعراف\/ ۱۸۹ و ۱۹۷؛ طہ\/ ۱۱۷؛ زمر\/6</ref>۔ قرآن میں حوا کا نام صرف آدم کی بیوی کے طور پر آیا ہے - جو تخلیق کے منظر پر قدم رکھتی ہیں- <ref>قرآن میں صرف مریم علیہا السلام کا نام ذکر ہوا ہے اور یہ عیسیٰ علیہ السلام کی بندگی کے اثبات کے لیے تھا</ref> حوا مومنہ عورت ہیں اور اپنے زمانے کے نبی پر ایمان رکھتی ہیں، بلند مرتبہ ہیں اور شوہر کے لیے سکون کا باعث ہیں۔ حضرت آدم میں پائی جانے والی تمام انسانی صفات، بشریت کی بزرگ ماں حضرت حوا میں بھی پائی جاتی ہیں<ref>سوائے ان موارد کے جو خاص طور پر آدم کی تکریم کی طرف اشارہ کرتے ہیں</ref>۔
قرآن میں حوا کا نام ذکر نہیں کیا گیا اور صرف لفظ «زوج» سے ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے<ref>بقرہ\/ ۳۵؛ نساء\/ ۱؛ اعراف\/ ۱۸۹ و ۱۹۷؛ طہ\/ ۱۱۷؛ زمر\/6</ref>۔ قرآن میں حوا کا نام صرف آدم کی بیوی کے طور پر آیا ہے - جو تخلیق کے منظر پر قدم رکھتی ہیں- <ref>قرآن میں صرف مریم علیہا السلام کا نام ذکر ہوا ہے اور یہ عیسیٰ علیہ السلام کی بندگی کے اثبات کے لیے تھا</ref> حوا مومنہ عورت ہیں اور اپنے زمانے کے نبی پر ایمان رکھتی ہیں، بلند مرتبہ ہیں اور شوہر کے لیے سکون کا باعث ہیں۔ حضرت آدم میں پائی جانے والی تمام انسانی صفات، بشریت کی بزرگ ماں حضرت حوا میں بھی پائی جاتی ہیں<ref>سوائے ان موارد کے جو خاص طور پر آدم کی تکریم کی طرف اشارہ کرتے ہیں</ref>۔
سطر 33: سطر 33:


'''گندمی رنگت:'''  
'''گندمی رنگت:'''  
آدم مٹی سے پیدا کیے گئے اور حوا، آدم کی وجود سے خلق کی گئی ہیں۔ {{متن قرآن |خَلَقَکمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْها زَوْجَها |سوره = زمر |آیه = 6 }}؛ تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا»۔  {{متن قرآن |هُوَ الَّذِی خَلَقَکمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ وَ جَعَلَ مِنْها زَوْجَها لِیسْکنَ إِلَیها |سوره = اعراف |آیه = 189 }}؛ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون پائے۔ اہل لغت کی رائے کے مطابق جو آدم کو "أدمہ" سے ماخوذ مانتے ہیں جس کا معنی گندمی رنگ ہے، حوا کو بھی گندمی رنگت वाली عورت کہا جا سکتا ہے<ref>مفردات راغب، ج1، ص70</ref>۔
آدم مٹی سے پیدا کیے گئے اور حوا، آدم کی وجود سے خلق کی گئی ہیں۔ خَلَقَکمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْها زَوْجَها سوره زمر/آیه 6 ؛ تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا»۔  هُوَ الَّذِی خَلَقَکمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ وَ جَعَلَ مِنْها زَوْجَها لِیسْکنَ إِلَیها.سوره اعراف/آیه 189 ؛ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون پائے۔ اہل لغت کی رائے کے مطابق جو آدم کو "أدمہ" سے ماخوذ مانتے ہیں جس کا معنی گندمی رنگ ہے، حوا کو بھی گندمی رنگت عورت کہا جا سکتا ہے<ref>مفردات راغب، ج1، ص70</ref>۔


'''گہرے ہونٹ:'''
'''گہرے ہونٹ:'''
سطر 56: سطر 56:


== قبر حضرت حواٰ ==
== قبر حضرت حواٰ ==
[[سید بن طاووس|سید بن طاوس]] نے [[جدہ]] میں حضرت حواٰ (علیہا السلام) کے قبر کے بارے میں روایت کی ہے:
سید بن طاوس نے جدہ میں حضرت حواٰ (علیہا السلام) کے قبر کے بارے میں روایت کی ہے:
«[[حضرت ادریس|ادریسٰ (علیہ السلام)]] کی صحیفوں میں آیا ہے کہ آدم علیہ السلام دس روز تک مرضِ تب میں مبتلا رہے اور ان کی وفات روز جمعہ گیارہویں [[محرم الحرام|محرم]] کو ہوئی اور انہیں [[کوہ ابو قبیس]] کے ایک غار میں دفن کیا گیا اور انہیں قبلہ رخ کیا گیا اور ان کی عمر پیدائش سے وفات تک نو سو تیس سال تھی اور حواٰ علیہا السلام ان کے بعد صرف ایک سال زندہ رہیں، پھر پندرہ روز بیمار رہیں اور اس کے بعد وفات پائی اور انہیں آدم کے پہلو میں دفن کیا گیا<ref>ابن طاوس، علی بن موسی، سعد السعود للنفوس منضود، ص ۳۷، دار الذخائر، قم، پہلی اشاعت، بدون تاریخ</ref>»۔
«حضرت ادریسٰ (علیہ السلام) کی صحیفوں میں آیا ہے کہ آدم علیہ السلام دس روز تک مرضِ تب میں مبتلا رہے اور ان کی وفات روز جمعہ گیارہویں [[محرم |محرم]] کو ہوئی اور انہیں کوہ ابو قبیس کے ایک غار میں دفن کیا گیا اور انہیں قبلہ رخ کیا گیا اور ان کی عمر پیدائش سے وفات تک نو سو تیس سال تھی اور حواٰ علیہا السلام ان کے بعد صرف ایک سال زندہ رہیں، پھر پندرہ روز بیمار رہیں اور اس کے بعد وفات پائی اور انہیں آدم کے پہلو میں دفن کیا گیا<ref>ابن طاوس، علی بن موسی، سعد السعود للنفوس منضود، ص ۳۷، دار الذخائر، قم، پہلی اشاعت، بدون تاریخ</ref>»۔


== متعلقہ مضامین ==
== متعلقہ مضامین ==

حالیہ نسخہ بمطابق 13:50، 15 جون 2026ء

بے فریم
بے فریم

حوا، کو امِ انسانیت اور پہلی خاتون مخلوق کے طور پر بلند مقام حاصل ہے۔ ایسا ہی جیسے اپنے زمانے کے پیغمبر کو الہی خطاب کا مقام ملا اور تمام انسانوں پر ان کا حقِ مادرت ہے۔ اسی لیے انہیں حوا یعنی زندوں کی ماں کہا جاتا ہے۔

الله تعالی نے انہیں پہلی پاک سرشت اور پاکدامن خاتون کے طور پر خاص مٹی سے پیدا کیا۔ کتب عہدین میں درج تحریفات کے برعکس جو داستان سازی کے ساتھ حوا کو شیطان کا ٹھکانہ یا آدم (علیہ السلام) کو بہکانے والا عامل بتاتی ہیں، قرآن ان کے لیے بلند شان اور منزلت قرار دیتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ زمین پر سب سے پہلے کپڑا بننے والا کام حضرت آدم اور حوا نے کیا، اور پہلے مرد جس نے بنا ہوا جبہ پہنا، جناب آدم تھے۔ اور پہلی عورت جس نے قمیض اور خمار پہنا، جناب حوا تھیں اور دونوں بھیڑ کی اون کے تھے۔

حضرت حوا کیسے پیدا ہوئیں

خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن‌ها زَوْجَها. سورہ زمر/آیت ۶ . اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، پھر اس کا جوڑا اس (کی باقی بچی ہوئی مٹی) سے بنایا۔

تـعـبـیر (ثم جعل منها زوج‌ها) دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے آدم کو پیدا کیا پھر ان کا جوڑا ان کی باقی بچی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ اس حساب سے (حوا) کی پیدائش (آدم) کی پیدائش کے بعد ہوئی اور آدم کی اولاد کی پیدائش سے پہلے اور آدم کی بیوی کی پیدائش آدم کے وجود کے اجزاء سے نہیں بلکہ ان کی بچی ہوئی مٹی سے ہوئی، جیسا کہ اسلامی روایات میں اس کی تصریح ہوئی ہے۔ اور جو روایت کہتی ہے کہ (حوا) آدم کی بائیں پسلی سے پیدا ہوئیں یہ بے بنیاد بات ہے جو بعض اسرائیلی روایات سے لی گئی ہے اور موجودہ تحریف شدہ تورات کے (سفر پیدائش) کے دوسرے باب میں موجود مطلب کے مطابق ہے۔

اس کے علاوہ یہ مشاہدہ اور حس کے خلاف ہے کیونکہ اس روایت کے مطابق آدم کی ایک پسلی نکالی گئی اور اس سے حوا پیدا ہوئیں لہذا مردوں کے بائیں جانب ایک پسلی کم ہونی چاہیے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ مرد اور عورت کی پسلیوں کی تعداد میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ فرق ایک افسانہ ہی ہے[1]۔

عمرو بن ابی مقدام کہتے ہیں: میں نے امام باقر (علیہ السلام) سے پوچھا: «خداوند نے حوا کو کس چیز سے پیدا کیا؟» امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «لوگ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟» میں نے کہا: «کہتے ہیں خداوند نے حوا کو آدم علیہ السلام کی ایک پسلی سے پیدا کیا۔» فرمایا: «وہ جھوٹ بولتے ہیں، کیا خداوند ناتوان ہے کہ حوا کو آدم کی پسلی کے بغیر پیدا کرے؟» میں نے کہا: «آپ پر قربان جاؤں اے رسول خدا کے بیٹے! تو خداوند نے حوا کو کس چیز سے پیدا کیا؟ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: «میرے والد نے اپنے باپ دادا سے نقل کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خداوند متعال نے مٹی کا ایک حصہ لیا اور اسے اپنی قدرت کے ہاتھ سے گوندھا اور اس مٹی سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور پھر اس مٹی سے کچھ بچ گیا، خداوند نے اس بچے ہوئے سے حوا علیہ السلام کو پیدا کیا[2]۔»

اور ان دونوں کے ہبوط کے مقام کے بارے میں کہنا چاہیے کہ کچھ لوگوں نے اسے جنوب ہندوستان میں کوہ سراندیب (سیلون یا سری لنکا) کو ہبوط اور آدم علیہ السلام کا ابتدائی رہائشی مقام بتایا ہے[3]۔ اس جزیرے میں ایک پہاڑ ہے جسے پرتگالیوں نے کوہ آدم نام دیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس پہاڑ پر آدم کا قدم ہے۔ اس پہاڑ کی بلندی ۷۴۲۰ فٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس جزیرے میں جو پودا اگتا ہے اس کے پتے وہ ہیں جو آدم اپنے ساتھ جنت سے لائے تھے[4] مسلمان، مسیحی اور بدھ مت والے کوہ آدم کی چوٹی پر پتھر پر کندہ آدم کے قدم کی زیارت کو جاتے ہیں۔ [5]۔

اس فکر کا منبع کہ آدم کے اترنے کا مقام جنوب ہندوستان تھا، بعض مفسرین کا گمان ہے جو تورات کے سفر پیدائش میں درج ہے۔ کہ جنت میں آدم کے پاس چار نہریں بہتی تھیں جن میں سے پہلی فیشون ہے، انہوں نے سوچا کہ رود نیشون دریائے سندھ ہے اور جنت عدن ہندوستان میں ہے اور آدم اور حوا ہندوستان سے نکلنے کے بعد جزیرہ سراندیب (سیلون) کے جنوب میں ہبوط ہوئے۔

لیکن معتبر اسلامی روایات کے مطابق، ان کا ہبوط مکہ میں ہوا تھا: جب آدم اور حوا علیہ السلام کو جنت سے نکالا گیا، تو وہ زمین مکہ میں اترے، حضرت آدم علیہ السلام کوہ صفا پر کعبہ کے پاس اترے اور وہیں سکونت اختیار کی اسی لیے اس پہاڑ کو صفا کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام صفی اللہ (خدا کے منتخب) وہاں داخل ہوئے اور حضرت حوا علیہ السلام کوہ مروہ (جو کوہ صفا کے قریب ہے) پر اتریں اور وہیں سکونت اختیار کی۔ اس پہاڑ کو مروہ اس لیے کہتے ہیں کہ مرئہ (یعنی عورت جس سے مراد حوا علیہ السلام ہیں) وہاں رہائش پذیر ہوئیں۔ آدم علیہ السلام نے چالیس دن رات سجدہ کیا اور جنت کی جدائی میں روتے رہے[6]۔

حضرت حوا قرآن کریم میں

قرآن کریم میں چند مقامات پر حضرت حوا کی زندگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ آیات کے ہر گروہ میں حضرت آدم کے قصے کے بیان کے ساتھ اس عورت کی موجودگی اور وجود کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مختلف ثقافتوں اور اقوام میں پہلی خواتین کے مختلف نام ہیں[7]۔

حوا وہ نام ہے جو اسلامی ادب میں آدم کی بیوی کے لیے رکھا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام عربی اصل نہیں رکھتا[8]۔ لفظ حوا سب سے پہلے تورات میں ذکر ہوا ہے [9] اور غالباً وہیں سے عربی زبان و ثقافت میں داخل ہوا ہے[10]۔

قرآن میں حوا کا نام ذکر نہیں کیا گیا اور صرف لفظ «زوج» سے ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے[11]۔ قرآن میں حوا کا نام صرف آدم کی بیوی کے طور پر آیا ہے - جو تخلیق کے منظر پر قدم رکھتی ہیں- [12] حوا مومنہ عورت ہیں اور اپنے زمانے کے نبی پر ایمان رکھتی ہیں، بلند مرتبہ ہیں اور شوہر کے لیے سکون کا باعث ہیں۔ حضرت آدم میں پائی جانے والی تمام انسانی صفات، بشریت کی بزرگ ماں حضرت حوا میں بھی پائی جاتی ہیں[13]۔

حضرت حوا کی صفات اور خصوصیات

مادی خصوصیات

قرآن چون کہانی سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا، اپنی قصص کی شخصیات کا بیان داستان کی کتابوں کی طرح مادی خصوصیات کی تفصیل میں نہیں جاتا۔ حوا کے بارے میں بھی، مشکل سے دو مادی خصوصیات مل سکتی ہیں۔

گندمی رنگت: آدم مٹی سے پیدا کیے گئے اور حوا، آدم کی وجود سے خلق کی گئی ہیں۔ خَلَقَکمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْها زَوْجَها سوره زمر/آیه 6 ؛ تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا»۔ هُوَ الَّذِی خَلَقَکمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ وَ جَعَلَ مِنْها زَوْجَها لِیسْکنَ إِلَیها.سوره اعراف/آیه 189 ؛ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون پائے۔ اہل لغت کی رائے کے مطابق جو آدم کو "أدمہ" سے ماخوذ مانتے ہیں جس کا معنی گندمی رنگ ہے، حوا کو بھی گندمی رنگت عورت کہا جا سکتا ہے[14]۔

گہرے ہونٹ:

اگر لفظ «حو» کے معنی پر غور کیا جائے تو یہ سرخی کو کہتے ہیں جو سیاہی مائل ہو۔ نیز گہرے ہونٹوں پر بھی بولا جاتا ہے۔ اس لیے مرد اور عورت کے لیے گہرے ہونٹوں والا کہا جاتا ہے: «رجل أَحْوَی و امرأَة حَوَّاء[15]» لہذا ہم غلطی پر نہیں ہیں اگر حوا کو گندمی رنگت اور گہرے سرخ ہونٹوں والی عورت مانیں۔

معنوی خصوصیات

حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہم پلہ

کچھ لوگ حوا کو آدم کے سڑے ہوئے گل کے فضلے سے پیدا شدہ مانتے ہیں یا آدم کی مٹی سے پست اور بدبو دار مٹی سے، یا آدم کی بائیں پسلی سے۔ حالانکہ قرآن حوا کو آدم کی جان سے اور اسی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو آدم کی تھی۔ «وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون پائے[16]»۔

تورات میں آدم کی خلقت کے بیان میں یوں آیا ہے: «خدا نے آدم پر نیند طاری کر دی، تاکہ وہ کچھ محسوس نہ کرے، پھر اس کے سینے کی ایک پسلی نکال لی، اس کی جگہ گوشت رکھ دیا، پھر خدا نے اس ایک پسلی سے عورت بنائی اور اسے آدم کے پاس لایا، آدم نے کہا: یہ بار استخوانی از استخوان‌هایم، و گوشتی از گوشت‌هایم را دیدم، اور اسے امرأة کہنا مناسب ہے، کیونکہ یہ میرے امر سے لی گئی ہے اور اسی لیے مرد اپنے باپ ماں کو چھوڑ کر اپنی بیوی سے مل جاتا ہے تاکہ ایک جسم بن جائیں، اس دن آدم اور اس کی بیوی ننگے تھے اور اپنی برہنگی سے شرمندہ نہ تھے[17]۔

حضرت حوا، مہربان بیوی

جب بھی خداوند نے قرآن میں بیوی کے لیے لفظ زوج استعمال کیا ہے، میاں بیوی کے درمیان جذباتی تعلق مراد لیا ہے۔ یہاں آدم کی بیوی کے لیے لفظ زوج استعمال ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم اور حوا کے درمیان شادی شدہ تعلقات اور محبت و رحمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے[18]۔

حضرت حوا کا بلند مقام

قرآن کے منظر سے، حوا کا مقام بلند ہے۔ اس حد تک کہ خداوند ان سے خطاب کرتا ہے یہ توجہ طلب ہے کہ قرآن نے کبھی کسی نبی کو اس کی بیوی کے ساتھ مل کر خطاب نہیں کیا، ہمیشہ خطاب نبی اور اس کی قوم کی طرف ہے۔ شاید ایسے بیان کا راز زوجیت کے مرکز کی طرف توجہ دلانا ہے جو انسانی زندگی کے بقا کا باعث ہے[19]۔ یہ توجہ طلب ہے کہ خداوند نے حوا پر خاص توجہ کی کیونکہ محض آدم کی خلقت مکمل ہوتے ہی اسے ان کے سکون کے لیے پیدا کیا۔

حضرت حوا، مہربان بیوی

جب بھی خداوند نے قرآن میں بیوی کے لیے لفظ زوج استعمال کیا ہے، میاں بیوی کے درمیان جذباتی تعلق مراد لیا ہے۔ یہاں آدم کی بیوی کے لیے لفظ زوج استعمال ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم اور حوا کے درمیان شادی شدہ تعلقات اور محبت و رحمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے[20]۔

قبر حضرت حواٰ

سید بن طاوس نے جدہ میں حضرت حواٰ (علیہا السلام) کے قبر کے بارے میں روایت کی ہے: «حضرت ادریسٰ (علیہ السلام) کی صحیفوں میں آیا ہے کہ آدم علیہ السلام دس روز تک مرضِ تب میں مبتلا رہے اور ان کی وفات روز جمعہ گیارہویں محرم کو ہوئی اور انہیں کوہ ابو قبیس کے ایک غار میں دفن کیا گیا اور انہیں قبلہ رخ کیا گیا اور ان کی عمر پیدائش سے وفات تک نو سو تیس سال تھی اور حواٰ علیہا السلام ان کے بعد صرف ایک سال زندہ رہیں، پھر پندرہ روز بیمار رہیں اور اس کے بعد وفات پائی اور انہیں آدم کے پہلو میں دفن کیا گیا[21]»۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. تفسیر نمونہ؛ آیت اللہ مکارم شیرازی؛ ج۱۹ص۳۸۰
  2. تفسیر نور الثقلین، ج ۱، ص ۴۳۰
  3. مجلہ الہلال، سال ۱۳۵۲، نمبر ۷، ص ۹۶۴
  4. تاریخ طبری، ج ۱، ص ۱۲۱ ـ ۱۲۵، ۱۲۶
  5. رحلہ ابن بطوطہ، ج ۴، ص ۱۸۱ ـ ۱۸۲
  6. علل الشرایع: ص ۴۹۱ – کافی: ج ۶، ص ۵۱۳- نورالثقلین: ج ۱، ص ۶۱
  7. مثال کے طور پر یونانیوں کے ہاں پاندورا، زرتشتی مذہب میں مشیانہ، جاپانی افسانوں میں یامی اور کینیا کی قوم لویا کے نزد سِلا کہا جاتا ہے۔ رجوع کریں: مہدی رضایی، آفرینش و مرگ در اساطیر، ص ۱۶۷ بہ بعد؛ عباس اشرفی، مقایسہ قصص قرآن و عہدین، ص ۱۴۶
  8. حوا کو عبرانی لفظ قرار دیا گیا ہے۔ محمد جواد مشکور، فرهنگ تطبیقی عربی با زبان‌های سامی و ایرانی، ج ۱، ص ۲۰۳؛ encyclopeadia judaica, 1996, Jerusalem, keter publiching house. V9, p979
  9. سفر پیدایش، ۳\/۲۰؛ ۴\/،1
  10. کہا جاتا ہے کہ اشعارِ جاہلیت میں تین بار حوا کا نام آیا ہے، دو بار امیہ بن ابی صلت کے شعر میں اور ایک بار عدی بن زیاد مسیحی کے اشعار میں جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں رہتے تھے، دیکھیں encyclopeadia judaica, 9/983
  11. بقرہ\/ ۳۵؛ نساء\/ ۱؛ اعراف\/ ۱۸۹ و ۱۹۷؛ طہ\/ ۱۱۷؛ زمر\/6
  12. قرآن میں صرف مریم علیہا السلام کا نام ذکر ہوا ہے اور یہ عیسیٰ علیہ السلام کی بندگی کے اثبات کے لیے تھا
  13. سوائے ان موارد کے جو خاص طور پر آدم کی تکریم کی طرف اشارہ کرتے ہیں
  14. مفردات راغب، ج1، ص70
  15. لسان العرب، ج1، ص207
  16. اعراف، آیت 189
  17. فصل دوم از سفر اول که سفر خلقت است به نقل از ترجمه المیزان، ج 1، ص214
  18. دقائق الفروق اللغویه، ص97
  19. القصص القرآنی، ص 35
  20. دقائق الفروق اللغویه، ص97
  21. ابن طاوس، علی بن موسی، سعد السعود للنفوس منضود، ص ۳۷، دار الذخائر، قم، پہلی اشاعت، بدون تاریخ