"حضرت یوسف" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:حضرت یوسف کو حضرت یوسف کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 48: | سطر 48: | ||
== حضرت یوسف کا مدفن == | == حضرت یوسف کا مدفن == | ||
طبرسی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ جب حضرت یوسف کا انتقال ہوا، تو [[ مصر|مصر]] کے لوگوں میں اختلاف ہو گیا اور ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یوسف کی لاش ان کے علاقے میں دفن ہو، تاکہ ان کی قبر ان کی زندگی کے لیے باعث برکت بنے۔ بالآخر فیصلہ ہوا کہ پیغمبر یوسف کی لاش کو دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ نیل کا پانی اس کے اوپر سے گزرے اور تمام شہروں تک پہنچے تاکہ لوگ اس فائدے میں برابر رہیں اور ان حضرت کی برکت تمام لوگوں تک مساوی پہنچے لہذا حضرت یوسف کی وفات کے بعد، انہیں سنگ مرمر کے تابوت میں رکھ کر دریائے نیل میں دفن کر دیا گیا<ref>مجمع البیان، ج 5، ص 266۔</ref>. | |||
== حضرت یوسف کے مزار کی منتقلی کی داستان اور موجودہ مقام == | == حضرت یوسف کے مزار کی منتقلی کی داستان اور موجودہ مقام == | ||
حضرت یوسف کی لاش کافی عرصے تک دریائے نیل میں دفن رہی، یہاں تک کہ کچھ عرصے تک (گھنے بادلوں کی وجہ سے) بنی اسرائیل پر چاند طلوع نہیں ہوا، خداوند نے [[حضرت موسیٰ]] (علیہ السلام) پر | حضرت یوسف کی لاش کافی عرصے تک دریائے نیل میں دفن رہی، یہاں تک کہ کچھ عرصے تک (گھنے بادلوں کی وجہ سے) بنی اسرائیل پر چاند طلوع نہیں ہوا، خداوند نے [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ]] (علیہ السلام) پر وحی کی کہ یوسف کی ہڈیوں کو قبر سے نکال لیں تاکہ ان پر چاند طلوع ہو سکے۔ | ||
[[حضرت موسی|موسیٰ (علیہ السلام)]] نے لوگوں سے پوچھا کہ حضرت یوسف کے مدفن کی خبر کس کو ہے؟ لوگوں نے کہا: ایک بوڑھی عورت کو خبر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس بوڑھی عورت کو جو بڑھاپے سے کمزور اور نابینا ہو چکی تھی، ان کے پاس لایا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا:«کیا تم یوسف کی قبر کو جانتی ہو؟» بوڑھی عورت نے عرض کیا: جی ہاں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا:ہمیں اس کی اطلاع دو۔ اس نے کہا: میں اطلاع نہیں دوں گی جب تک میری چار ضرورتیں پوری نہ کرو: | [[حضرت موسی|موسیٰ (علیہ السلام)]] نے لوگوں سے پوچھا کہ حضرت یوسف کے مدفن کی خبر کس کو ہے؟ لوگوں نے کہا: ایک بوڑھی عورت کو خبر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس بوڑھی عورت کو جو بڑھاپے سے کمزور اور نابینا ہو چکی تھی، ان کے پاس لایا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا:«کیا تم یوسف کی قبر کو جانتی ہو؟» بوڑھی عورت نے عرض کیا: جی ہاں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا:ہمیں اس کی اطلاع دو۔ اس نے کہا: میں اطلاع نہیں دوں گی جب تک میری چار ضرورتیں پوری نہ کرو: | ||
| سطر 57: | سطر 57: | ||
* دوم: یہ کہ میں بڑھاپے سے واپس آ جاؤں اور جوان ہو جاؤں۔ | * دوم: یہ کہ میں بڑھاپے سے واپس آ جاؤں اور جوان ہو جاؤں۔ | ||
* سوم: یہ کہ میری آنکھیں بینا کر دو۔ | * سوم: یہ کہ میری آنکھیں بینا کر دو۔ | ||
* چہارم: یہ کہ مجھے اپنے ساتھ | * چہارم: یہ کہ مجھے اپنے ساتھ جنت لے چلو۔ | ||
خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) پر | خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی ہوئی کہ اس کی ضرورتیں پوری کرو۔ بوڑھی عورت کی ضرورتیں پوری ہو گئیں۔ پھر اس نے یوسف (علیہ السلام) کی قبر کی جگہ بتائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دریائے نیل میں سے یوسف (علیہ السلام) کی لاش جو مرمر کے تابوت میں تھی، نکال لی اور پھر چاند طلوع ہو گیا<ref>علل الشرایع، ص 107 بحار، ج 13، ص 127۔</ref>. | ||
یاقوت حموی چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کے مؤرخ کے بقول، حضرت موسیٰ نے حضرت یوسف کی لاش کو [[فلسطین]] میں دفن کیا<ref>یاقوت حموی، معجم البلدان، 1995ء، ج1، ص478۔</ref>۔ حضرت یوسف نبی (علیہ السلام) کا مزار اب فلسطین کے شہر نابلس کے قریب اور [[بیت المقدس]] سے چھ فرسخ کے فاصلے پر، قدس خلیل نامی مقام پر ہے。 | یاقوت حموی چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کے مؤرخ کے بقول، حضرت موسیٰ نے حضرت یوسف کی لاش کو [[فلسطین]] میں دفن کیا<ref>یاقوت حموی، معجم البلدان، 1995ء، ج1، ص478۔</ref>۔ حضرت یوسف نبی (علیہ السلام) کا مزار اب فلسطین کے شہر نابلس کے قریب اور [[بیت المقدس]] سے چھ فرسخ کے فاصلے پر، قدس خلیل نامی مقام پر ہے。 | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 13:56، 14 جون 2026ء
| حضرت یوسف | |
|---|---|
![]() | |
| نام | یوسف |
| تاریخ ولادت | هبوط آدم سے۳۵۵۶ سال بعد |
| جائے ولادت | بین النهرین |
| القاب |
|
| والد ماجد | حضرت یعقوب |
| والدہ ماجدہ | راحیل |
| عمر | 120 سال |
| مدفن | فلسطین جامع الخلیل |
حضرت یوسف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ فرزندوں میں سے ایک ہیں۔ قرآن نے ان کی زندگی کا تفصیلی ذکر ان کے نام سے منسوب سورہ میں کیا ہے۔ اس سورہ کے مطابق یوسف کو بچپن میں ان کے بھائیوں نے حسد کی وجہ سے کنویں میں پھینک دیا۔ لیکن ایک قافلے نے انہیں پایا اور مصر لے گیا جہاں عزیز مصر نے انہیں خرید لیا۔ جب یوسف جوان ہوئے تو زلیخا کی محبت سے بچنے کی وجہ سے قید خانہ گئے اور کئی سالوں بعد مصر کے حاکم کے خواب کی تعبیر بتانے کی وجہ سے ان کی توجہ حاصل کی اور عزیز مصر بن گئے۔ قرآن کے مطابق اللہ نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا اور خوابوں کی تعبیر (علم تعبیر خواب) سکھائی۔
یوسف کی تسمیہ کی وجہ
یوسف: (یاء اور سین کے ضم کے ساتھ) یعنی اضافہ کرے گا اور ان کی والدہ نے اس اعتقاد کی وجہ سے کہ اللہ انہیں ایک اور بیٹا عطا فرمائے گا ان کا نام یوسف رکھا[1].
حضرت یوسف کا نسب
یوسف فرزند یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) ہیں[2].
حضرت یوسف کی سوانح حیات
قرآن کی سورہ یوسف میں یوسف کی زندگی کا داستان تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن نے ان کی داستان کو احسن القصص (سب سے بہترین داستان) کہا ہے[3]. اور اسے بچپن، کنویں میں پھینکنے، عزیز مصر کو بیچنے، زلیخا اور یوسف کے واقعے، قید خانہ جانے اور والد اور بھائیوں سے ملاقات اور مصر میں ان کی حکومت کی تفصیلات کے ساتھ بیان کیا ہے[4].
قصص القرآن کی کتابوں میں یوسف کو بہت خوبصورت نوجوان بیان کیا گیا ہے[5]. اسی لیے زلیخا عزیز مصر کی بیوی ان پر فریفتہ ہو گئی اور مسلسل انہیں گناہ کی دعوت دیتی رہی لیکن یوسف نے خودداری کا مظاہرہ کیا اور زلیخا کی خواہش کو قبول نہیں کیا[6]. یہ واقعہ شہر کے لوگوں تک پہنچا اور شہر کی کئی خواتین نے زلیخا کو ملامت کی۔ اس نے ایک محفل کا اہتمام کیا، شہر کی اشراف خواتین کو مدعو کیا اور انہیں چاقو اور پھل تھما دیے۔ پھر یوسف کو محفل میں بلایا۔ جب وہ داخل ہوئے تو خواتین ان کی خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ ان کے ہاتھ کٹ گئے[7].
اس واقعے کے بعد چونکہ روزانہ خواتین یوسف سے غیر قانونی تعلق کی درخواست کرتی تھیں، انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان سے نجات کے لیے انہیں قید خانہ میں ڈال دے۔ کچھ عرصے بعد زلیخا کے حکم پر انہیں قید خانہ میں ڈال دیا گیا[8].
قرآن میں حضرت یوسف
حضرت یوسف (علیہ السلام) فرزند حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا نام قرآن میں ۲۷ بار آیا ہے، اور قرآن کی ایک سورہ یعنی قرآن کی بارہویں سورہ سورہ یوسف کے نام سے ہے جس میں ۱۱۱ آیات ہیں اور ابتدا سے انتہا تک یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی تھے، اور صرف ایک بھائی کے ساتھ جس کا نام بنیامین تھا ہم مادر تھے، یوسف بنیامین کے علاوہ تمام بھائیوں سے چھوٹے تھے اور اپنے والد یعقوب (علیہ السلام) کے بہت لاڈلے تھے[9].
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب دیکھنا
حضرت یوسف (علیہ السلام) جب نو سال کے تھے، ایک دن والد کے پاس آئے اور کہا: «اے والد! میں نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند میرے سامنے سجدہ کر رہے ہیں۔» یعقوب جو خواب کی تعبیر جانتے تھے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا: «بیٹا! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان مت کرنا کہ وہ تمہارے لیے خطرناک منصوبہ بنائیں گے، کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، اور اس طرح تمہارا پروردگار تمہیں منتخب کرتا ہے، اور خوابوں کی تعبیر تمہیں سکھاتا ہے، اور اپنی نعمت تم پر اور یعقوب کی آل پر پوری کرتا ہے، جیسے اس سے پہلے تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق (علیہ السلام) پر پوری کی، یقیناً تمہارا پروردگار جاننے والا اور حکمت والا ہے[10].»
اس خواب کی یہ دلالت تھی، کہ ایک دن حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر کی حکومت اور بادشاہت کے سربراہ بنیں گے، گیارہ بھائی اور والد اور والدہ ان کے شاندار تخت کے پاس آئیں گے اور یوسف کو تعظیم و تکریم کریں گے[11] اور شکر کا سجدہ کریں گے[12] اور بعض روایات کے مطابق یعقوب کی بعض بیویوں نے یوسف کے خواب دیکھنے کا موضوع سنا اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو خبر دی، اس لیے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی حسادت بڑھ گئی یہاں تک کہ انہوں نے ان کے بارے میں خطرناک فیصلہ کیا.
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسود بھائیوں کی چال
یوسف کے بھائیوں نے ایک خفیہ اجلاس میں اور لاوی (یا: روبین، یا یہودا) کی تجویز پر جس نے بھائیوں کو یوسف (علیہ السلام) کے قتل سے منع کیا انہیں اس کنویں میں پھینک دیا جو قافلوں کے راستے میں تھا تاکہ کچھ راہگیر جو پانی کھینچنے کے لیے اس کنویں کے پاس آتے ہیں، یوسف کو پائیں اور انہیں اپنے ساتھ دور علاقوں میں لے جائیں اور نتیجتاً ہمیشہ کے لیے ان کی والد کی آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں گے[13].
حضرت یوسف کے اخلاق، فضائل اور خصوصیات
الله نے یوسف (علیہ السلام) کو مخلصین، صدیقین اور محسنین میں سے قرار دیا ہے اور انہیں حکمت اور علم عطا کیا اور احادیث کی تاویل سکھائی، انہیں منتخب کیا، ان پر اپنی نعمت کامل کی اور انہیں صالحین میں شامل کیا، (یہ وہ تعریفیں ہیں جو سورہ یوسف میں ان کے بارے میں کی گئی ہیں) اور سورہ انعام میں جہاں آل حضرت نوح اور حضرت ابراهیم (علیہما السلام) کی تعریف کی گئی ہے، وہاں ان کا نام بھی انہی میں شامل کیا ہے[14].
حضرت یوسف کا مدفن
طبرسی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ جب حضرت یوسف کا انتقال ہوا، تو مصر کے لوگوں میں اختلاف ہو گیا اور ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یوسف کی لاش ان کے علاقے میں دفن ہو، تاکہ ان کی قبر ان کی زندگی کے لیے باعث برکت بنے۔ بالآخر فیصلہ ہوا کہ پیغمبر یوسف کی لاش کو دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ نیل کا پانی اس کے اوپر سے گزرے اور تمام شہروں تک پہنچے تاکہ لوگ اس فائدے میں برابر رہیں اور ان حضرت کی برکت تمام لوگوں تک مساوی پہنچے لہذا حضرت یوسف کی وفات کے بعد، انہیں سنگ مرمر کے تابوت میں رکھ کر دریائے نیل میں دفن کر دیا گیا[15].
حضرت یوسف کے مزار کی منتقلی کی داستان اور موجودہ مقام
حضرت یوسف کی لاش کافی عرصے تک دریائے نیل میں دفن رہی، یہاں تک کہ کچھ عرصے تک (گھنے بادلوں کی وجہ سے) بنی اسرائیل پر چاند طلوع نہیں ہوا، خداوند نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی کی کہ یوسف کی ہڈیوں کو قبر سے نکال لیں تاکہ ان پر چاند طلوع ہو سکے۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں سے پوچھا کہ حضرت یوسف کے مدفن کی خبر کس کو ہے؟ لوگوں نے کہا: ایک بوڑھی عورت کو خبر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس بوڑھی عورت کو جو بڑھاپے سے کمزور اور نابینا ہو چکی تھی، ان کے پاس لایا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا:«کیا تم یوسف کی قبر کو جانتی ہو؟» بوڑھی عورت نے عرض کیا: جی ہاں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا:ہمیں اس کی اطلاع دو۔ اس نے کہا: میں اطلاع نہیں دوں گی جب تک میری چار ضرورتیں پوری نہ کرو:
- اول: یہ کہ میرے پاؤں ٹھیک کر دو۔
- دوم: یہ کہ میں بڑھاپے سے واپس آ جاؤں اور جوان ہو جاؤں۔
- سوم: یہ کہ میری آنکھیں بینا کر دو۔
- چہارم: یہ کہ مجھے اپنے ساتھ جنت لے چلو۔
خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی ہوئی کہ اس کی ضرورتیں پوری کرو۔ بوڑھی عورت کی ضرورتیں پوری ہو گئیں۔ پھر اس نے یوسف (علیہ السلام) کی قبر کی جگہ بتائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دریائے نیل میں سے یوسف (علیہ السلام) کی لاش جو مرمر کے تابوت میں تھی، نکال لی اور پھر چاند طلوع ہو گیا[16].
یاقوت حموی چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کے مؤرخ کے بقول، حضرت موسیٰ نے حضرت یوسف کی لاش کو فلسطین میں دفن کیا[17]۔ حضرت یوسف نبی (علیہ السلام) کا مزار اب فلسطین کے شہر نابلس کے قریب اور بیت المقدس سے چھ فرسخ کے فاصلے پر، قدس خلیل نامی مقام پر ہے。
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ حجة التفاسیر و بلاغ الإکسیر، جلد اول، مقدمہ، ص۱۹۴۔
- ↑ اسوہهای قرآنی و شیوههای تبلیغی آنان (مصطفی عباسی مقدم)۔
- ↑ سورہ یوسف، آیت ۳۔
- ↑ سورہ یوسف، آیات ۸ تا ۱۰۰۔
- ↑ جزایری، النور المبین، ۱۴۲۳ق، ص۲۱۷؛ بلاغی، قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۹۸؛ صحفی، قصههای قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۴و۱۱۵۔
- ↑ صحفی، قصههای قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۵و۱۱۶؛ نیز دیکھیں سورہ یوسف، آیت ۲۳
- ↑ صحفی، قصههای قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۷و۱۱۸؛ نیز دیکھیں سورہ یوسف، آیت ۳۰و۳۱۔
- ↑ جزایری، النور المبین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۱؛ نیز دیکھیں سورہ یوسف، آیت ۳۳تا۳۵۔
- ↑ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۴۱۰۔
- ↑ یوسف/سورہ۱۲،آیات۵-۶۔
- ↑ یوسف/سورہ۱۲، آیت۱۰۰۔
- ↑ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۴۱۰۔
- ↑ مجمع البیان، تفسیر صافی، جامع الجوامع و نور الثقلین، ذیل آیات ۹-۱۰ سورہ یوسف۔
- ↑ ترجمہ المیزان (سید محمد باقر موسوی ہمدانی)، ج11، ص356۔
- ↑ مجمع البیان، ج 5، ص 266۔
- ↑ علل الشرایع، ص 107 بحار، ج 13، ص 127۔
- ↑ یاقوت حموی، معجم البلدان، 1995ء، ج1، ص478۔
