مندرجات کا رخ کریں

"حسن طنون" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:حسن طنون کو حسن طنون کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 1: سطر 1:
{{صندوق معلومات شخصیت
 
| عنوان = حسن طنون
{{Infobox person
| تصویر = حسن طنون.jpg
| title =  
| نام = حسن طنون
| image = حسن طنون.jpg
| دیگر نام =  
| name = حسن محمد العشماوی
| سال پیدائش =1916ء
| other names =
| تاریخ پیدائش =  
| brith year = 1916 ء
| مقام پیدائش = [[سوڈان]]
| brith date =  
| سال وفات 1992ء
| birth place =   [[سوڈان]]
| تاریخ وفات =  
| death year 1992 ء 
| مقام وفات = [[کویت]]
| death dat = 1972ء 
| اساتذہ =
| death place = [[کویت]]  
| شاگرد =  
| teachers =  
| مذہب = [[اسلام]]
| students =  
| مسلک = [[اہل سنت]]
| religion = [[اسلام]]
| تصانیف =  
| faith = [[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت و جماعت]]
| خدمات = [[اخوان المسلمین]] کے ساتھ تعاون
| works =
| ویب سائٹ =
| known for = [[اخوان المسلمین]] کے ساتھ تعاون
}}
}}


'''حسن طنون'''، 1916ء میں، [[سوڈان]] کے شہر وادی حلفہ میں پیدا ہوئے اور تعلیم حاصل کی اور نیز [[قرآن مجید]] حفظ کیا۔ انہوں نے علماء، مبلغین اور واعظین کے علمی محافل سے فیض حاصل کیا اور سینئر علماء جیسے: شیخ ''محمد جناح''، شیخ ''ابراہیم الغراباوی''، شیخ ''عبدالحفیظ الشینوی''، شیخ ''محمود ابراہیم تیرہ''، شیخ ''علی رفاعی'' اور دیگر علماء اور واعظین [[مصر]] اور [[سوڈان]] سے استفادہ کیا۔ وہ [[سوڈان]] کے مختلف مقامات پر [[مساجد]]، تکایا اور محافل و مجالس میں وعظ و ارشاد اور درس دیا کرتے تھے اور باقاعدگی سے دروس اور وعظ ہوتا تھا اور وہ [[سوڈان]] کے اکثر شہروں اور دیہات میں جاتے تھے اور لوگوں کو [[اللہ]] کی طرف دعوت دیتے تھے۔
'''حسن طنون'''، 1916ء میں، [[سوڈان]] کے شہر وادی حلفہ میں پیدا ہوئے اور تعلیم حاصل کی اور نیز [[قرآن مجید]] حفظ کیا۔ انہوں نے علماء، مبلغین اور واعظین کے علمی محافل سے فیض حاصل کیا اور سینئر علماء جیسے: شیخ ''محمد جناح''، شیخ ''ابراہیم الغراباوی''، شیخ ''عبدالحفیظ الشینوی''، شیخ ''محمود ابراہیم تیرہ''، شیخ ''علی رفاعی'' اور دیگر علماء اور واعظین [[مصر]] اور [[سوڈان]] سے استفادہ کیا۔ وہ [[سوڈان]] کے مختلف مقامات پر [[مساجد]]، تکایا اور محافل و مجالس میں وعظ و ارشاد اور درس دیا کرتے تھے اور باقاعدگی سے دروس اور وعظ ہوتا تھا اور وہ [[سوڈان]] کے اکثر شہروں اور دیہات میں جاتے تھے اور لوگوں کو [[اللہ]] کی طرف دعوت دیتے تھے۔


== کویت کا سفر ==
== کویت کا سفر ==
پھر چھ کی دہائی کے آخر میں وہ [[کویت]] روانہ ہوئے اور [[کویت]] کے لوگوں نے ان کا بہترین انداز میں استقبال اور میزبانی کی۔ اور [[مسلمانوں]] کی بڑی تعداد [[مساجد]] میں امڈ پڑی، خاص طور پر نوجوان جو ان سے محبت کرتے تھے اور ان سے وابستہ تھے اور ان کے وعظ سے متاثر ہوتے تھے اور [[اللہ]] نے ان کے ہاتھوں ان کی ہدایت کی۔ انہوں نے اپنی عمر [[سوڈان]] میں تبلیغ و ارشاد و اصلاح میں اور تقریباً تیس سال [[کویت]] میں گزاری اور موت تک وہیں مقیم رہے۔
پھر چھ کی دہائی کے آخر میں وہ [[کویت]] روانہ ہوئے اور [[کویت]] کے لوگوں نے ان کا بہترین انداز میں استقبال اور میزبانی کی۔ اور [[مسلمانوں]] کی بڑی تعداد [[مساجد]] میں امڈ پڑی، خاص طور پر نوجوان جو ان سے محبت کرتے تھے اور ان سے وابستہ تھے اور ان کے وعظ سے متاثر ہوتے تھے اور [[اللہ]] نے ان کے ہاتھوں ان کی ہدایت کی۔ انہوں نے اپنی عمر [[سوڈان]] میں تبلیغ و ارشاد و اصلاح میں اور تقریباً تیس سال [[کویت]] میں گزاری اور موت تک وہیں مقیم رہے۔


== ہم کار ==
== ہم کار ==
دعوتی کاموں میں ان کے ہم کار جو ''حسن طنون'' کے نقطہ نظر اور طریقے کی پیروی کرتے تھے، وہ یہ ہیں: ''محمد غزالی''، ''حسن ایوب''، ''محمد متولی الشعراوی''، ''عبد الحمید کشک''۔
دعوتی کاموں میں ان کے ہم کار جو ''حسن طنون'' کے نقطہ نظر اور طریقے کی پیروی کرتے تھے، وہ یہ ہیں: ''محمد غزالی''، ''حسن ایوب''، ''محمد متولی الشعراوی''، ''عبد الحمید کشک''۔


== کار حادثہ ==
== کار حادثہ ==
[[حج]] کی زیارت کے دوران کار حادثے کا شکار ہوئے اور ان کی گاڑی الٹ گئی اور وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کے جسم کا نچلا حصہ نیم فلج ہو گیا اور پندرہ سال سے زائد اس بیماری پر صبر کیا۔ تمام لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور [[کویت]] کے عوام، خواہ بزرگ ہوں یا جوان، ان کے قدر دان تھے اور اصرار کرتے تھے کہ وہ زخمی ہونے اور معذوری کے باوجود [[کویت]] میں ہی رہیں۔ وہ اس بحرانی دور میں بھی رہے جب [[کویت]] [[عراق]] کے قبضے کے خطرے میں تھا اور وہاں کے لوگوں سے وفاداری کی وجہ سے وہاں نہیں چھوڑا۔
[[حج]] کی زیارت کے دوران کار حادثے کا شکار ہوئے اور ان کی گاڑی الٹ گئی اور وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کے جسم کا نچلا حصہ نیم فلج ہو گیا اور پندرہ سال سے زائد اس بیماری پر صبر کیا۔ تمام لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور [[کویت]] کے عوام، خواہ بزرگ ہوں یا جوان، ان کے قدر دان تھے اور اصرار کرتے تھے کہ وہ زخمی ہونے اور معذوری کے باوجود [[کویت]] میں ہی رہیں۔ وہ اس بحرانی دور میں بھی رہے جب [[کویت]] [[عراق]] کے قبضے کے خطرے میں تھا اور وہاں کے لوگوں سے وفاداری کی وجہ سے وہاں نہیں چھوڑا۔


== وفات ==
== وفات ==
ان کا انتقال جمعہ کی شام 11/6/1992ء کو شہر [[کویت]] میں ہوا۔
ان کا انتقال جمعہ کی شام 11/6/1992ء کو شہر [[کویت]] میں ہوا۔


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
سطر 49: سطر 39:
[[زمرہ:اخوان المسلمین]]
[[زمرہ:اخوان المسلمین]]
[[زمرہ:سوڈان]]
[[زمرہ:سوڈان]]
[[fa:حسن طنون]]

حالیہ نسخہ بمطابق 18:25، 10 جون 2026ء

حسن طنون
پورا نامحسن محمد العشماوی
ذاتی معلومات
پیدائش1916 ء
پیدائش کی جگہسوڈان
وفات1992 ء
وفات کی جگہکویت
مذہباسلام، اہل سنت و جماعت
مناصباخوان المسلمین کے ساتھ تعاون

حسن طنون، 1916ء میں، سوڈان کے شہر وادی حلفہ میں پیدا ہوئے اور تعلیم حاصل کی اور نیز قرآن مجید حفظ کیا۔ انہوں نے علماء، مبلغین اور واعظین کے علمی محافل سے فیض حاصل کیا اور سینئر علماء جیسے: شیخ محمد جناح، شیخ ابراہیم الغراباوی، شیخ عبدالحفیظ الشینوی، شیخ محمود ابراہیم تیرہ، شیخ علی رفاعی اور دیگر علماء اور واعظین مصر اور سوڈان سے استفادہ کیا۔ وہ سوڈان کے مختلف مقامات پر مساجد، تکایا اور محافل و مجالس میں وعظ و ارشاد اور درس دیا کرتے تھے اور باقاعدگی سے دروس اور وعظ ہوتا تھا اور وہ سوڈان کے اکثر شہروں اور دیہات میں جاتے تھے اور لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے تھے۔

کویت کا سفر

پھر چھ کی دہائی کے آخر میں وہ کویت روانہ ہوئے اور کویت کے لوگوں نے ان کا بہترین انداز میں استقبال اور میزبانی کی۔ اور مسلمانوں کی بڑی تعداد مساجد میں امڈ پڑی، خاص طور پر نوجوان جو ان سے محبت کرتے تھے اور ان سے وابستہ تھے اور ان کے وعظ سے متاثر ہوتے تھے اور اللہ نے ان کے ہاتھوں ان کی ہدایت کی۔ انہوں نے اپنی عمر سوڈان میں تبلیغ و ارشاد و اصلاح میں اور تقریباً تیس سال کویت میں گزاری اور موت تک وہیں مقیم رہے۔

ہم کار

دعوتی کاموں میں ان کے ہم کار جو حسن طنون کے نقطہ نظر اور طریقے کی پیروی کرتے تھے، وہ یہ ہیں: محمد غزالی، حسن ایوب، محمد متولی الشعراوی، عبد الحمید کشک۔

کار حادثہ

حج کی زیارت کے دوران کار حادثے کا شکار ہوئے اور ان کی گاڑی الٹ گئی اور وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کے جسم کا نچلا حصہ نیم فلج ہو گیا اور پندرہ سال سے زائد اس بیماری پر صبر کیا۔ تمام لوگ ان سے محبت کرتے تھے اور کویت کے عوام، خواہ بزرگ ہوں یا جوان، ان کے قدر دان تھے اور اصرار کرتے تھے کہ وہ زخمی ہونے اور معذوری کے باوجود کویت میں ہی رہیں۔ وہ اس بحرانی دور میں بھی رہے جب کویت عراق کے قبضے کے خطرے میں تھا اور وہاں کے لوگوں سے وفاداری کی وجہ سے وہاں نہیں چھوڑا۔

وفات

ان کا انتقال جمعہ کی شام 11/6/1992ء کو شہر کویت میں ہوا۔

حوالہ جات

  • دیکھیں: ویکی اخوان میں حسن طنون کا مدخل؛ ikhwanwiki.com..