مندرجات کا رخ کریں

"انور سادات" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:انور سادات کو انور سادات کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 15: سطر 15:
| faith = [[اہل سنت]]
| faith = [[اہل سنت]]
| works =   
| works =   
| known for =  مصر کا تیسرا صدر |[[معاہدہ کیمپ ڈیوڈ|معاہدہ کیمپ ڈیوڈ]] اور اسرائیل کے ساتھ امن |مصری زمینی افواج }}
| known for =  مصر کا تیسرا صدر |[[معاہدہ کیمپ ڈیوڈ|معاہدہ کیمپ ڈیوڈ]] اور اسرائیل کے ساتھ امن |مصری زمینی افواج
}}
}}


سطر 96: سطر 96:
[[زمرہ:اسلامی ممالک کے سربراہان]]
[[زمرہ:اسلامی ممالک کے سربراہان]]
[[زمرہ:مصر]]
[[زمرہ:مصر]]
[[fa: انور سادات]]

حالیہ نسخہ بمطابق 14:04، 30 مئی 2026ء

انور سادات
پورا نامانور سادات
دوسرے ناممحمد انور السادات
ذاتی معلومات
پیدائش1918 ء
پیدائش کی جگہمیت ابوالکوم گاؤں
وفات1981 ء
وفات کی جگہقاہرہ
مذہباسلام، اہل سنت
مناصبمصر کا تیسرا صدر

محمد انور السادات ایک مصری سیاست دان اور فوجی افسر تھے۔ وہ مصر کے تیسرے صدر تھے اور یہ عہدہ ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۰ء سے لے کر ۶ اکتوبر ۱۹۸۱ء کو جہاد اسلامی مصر کے ہاتھوں ان کے قتل تک ان کے پاس رہا۔ وہ پہلے عرب حکمران تھے جنہوں نے اسرائیل کی ریاست کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے اور اسے تسلیم کیا؛ اسی کوششوں کی بدولت انہیں ۱۹۷۸ء میں نوبل فاؤنڈیشن کی طرف سے نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ اگرچہ مغرب اور اسرائیل کی عوامی رائے میں یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا اور انور سادات کو ایک امن پسند شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، لیکن زیادہ تر عرب اور مسلمان عوام اس معاہدے کے مخالف تھے۔ ستمبر ۱۹۸۱ء میں، سادات نے مصر کے حالات کو پرسکون اور مکمل کنٹرول میں لانے کے لیے مختلف سیاسی گروہوں کو کچلنے اور گرفتار کرنے کا اقدام کیا، جس کی وجہ سے مصر سے باہر گرفتاریوں کی اس لہر پر بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی۔

انور سادات کی سوانح حیات

محمد انور سادات ۲۵ دسمبر ۱۹۱۸ء کو پیدا ہوئے۔ مصر میں اپنے دورِ فعالیت کے دوران انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی، نائب صدر اور وزیر اعظم جیسے عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ مصر کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن تھے اور ان کا فوجی عہدہ کرنل تھا۔

انور سادات کی سیاسی زندگی کا آغاز

انور سادات نے ۱۹۶۰ء میں مصر کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے طور پر اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور ۹ سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ جمال عبدالناصر کے دور میں اس منصب پر پہنچے اور اس کے بعد ۱۹۶۹ء میں جمال عبدالناصر کے دور میں نائب صدر جیسے انتظامی عہدوں پر بھی فائز ہوئے۔

معاہدہ کیمپ ڈیوڈ

بی‌قاب|چپ چھ روزہ جنگ کے بعد جس میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان تصادم ہوا اور جس کے نتیجے میں فلسطین اور عرب سرزمین کے وسیع علاقے ضائع ہو گئے، اکتوبر 1973ء میں مصر کے اس وقت کے صدر انور سادات نے صحرائے سینا کو اسرائیل سے واپس لینے اور عربوں کی سابقہ شکستوں کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل کے خلاف ایک نئی جنگ کا آغاز کیا۔

تاہم، ابتدائی کامیابیوں کے باوجود، امریکہ کی اسرائیل کو امداد کی وجہ سے یہ جنگ بھی اسرائیل کے حق میں ختم ہوئی۔ انور سادات نے اس بار اسرائیل کے ساتھ صلح اور مصالحت کا راستہ اپنایا اور نومبر 1977ء میں بیت المقدس کے ایک غیر متوقع دورے اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں تقریر کر کے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ سادات کی یہ صلح کی پہل، جسے عرب دنیا میں غصے اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا اور جس کے نتیجے میں مصر کو اتحادیه عرب سے خارج کر دیا گیا، 1979ء میں امریکی صدر کارٹر، سادات اور بگین کے درمیان کیمپ ڈیوڈ (امریکی صدر کے ییلاقی قیام گاہ) میں ایک ثلاثی کانفرنس کے انعقاد کا باعث بنی۔

اور اسرائیلیوں نے مصر کے ساتھ الگ سے صلح کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد، جس میں مصر کی طرف سے اسرائیل کی باضابطہ شناخت شامل تھی، 1982ء کے آخر تک صحرائے سینا کو خالی کر دیا۔ اکتوبر 1981ء میں مصر کے صدر انور سادات کو کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے پر دستخط کرنے، عربوں اور مسلمانوں سے غداری کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی وجہ سے کیپٹن خالد اسلامبولی نے شہید کر دیا[1]۔ اس کے بعد مزید تفصیل اور پس منظر کو سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات پیش کیے جاتے ہیں: ان اہم سیاسی مسائل میں سے جو مظلوم فلسطین کی قوم کے خلاف اور غاصب اسرائیل اور یہودیوں کے حق میں سابقہ دور سے اٹھائے جاتے رہے ہیں، صیہونیت کے حامی ممالک کی طرف سے صلح اور صلح نامے کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

کیمپ ڈیوڈ کے صلح کے منصوبے سے پہلے، 1948ء (1327 ہجری شمسی) میں سوئڈن، امریکہ، چکسلواکی اور ہند کی طرف سے ایک تجویز پیش کی گئی تھی جس کا مقصد فلسطین کی سرزمین پر دو آزاد عرب اور یہودی ریاستوں کا قیام تھا – جس کے تحت شہر بیت المقدس بین الاقوامی تنظیم کی نگرانی میں ہونا تھا – لیکن اس تجویز پر عمل درآمد سے پہلے ہی اسرائیل نے اپنی جارحیت جاری رکھی، یہاں تک کہ 1967ء (1346 ہجری شمسی) کی بڑی جنگ سے پہلے اس نے تقریباً 1036 مربع کلومیٹر خشکی اور تقریباً 1050 مربع کلومیٹر فلسطین کے مختلف علاقوں پر اپنی فوجی قبضہ جما لیا۔

ایران کے معزول شاہ نے اپنے آقا امریکہ کی خواہش پر، ہند اور چکسلواکی کے ہمراہ ایک ایسے صلح کے منصوبے کی حمایت کی جس میں مسلمان اور یہودیان فلسطین کی سرزمین پر ایک وفاقی ریاست کی صورت میں رہیں! البتہ، معزول شاہ اور اس کے امریکی ہم خیالوں کی غاصب صیہونیت کی حمایت اتنی حیرت انگیز نہیں تھی؛ بلکہ حیرت تو اس بات پر ہونی چاہیے کہ مرحوم انور سادات نے اس ذلت آمیز کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے میں حصہ لیا جو براہ راست کارٹر اور بگین کی طرف سے پیش کیا گیا تھا، اور اس نے ان تمام تجاوزات کو نظر انداز کر دیا جو غاصب اسرائیل نے جمال عبدالناصر کے دور میں مصر پر کیے تھے – جن کے نشانات ابھی تک مٹے نہیں ہیں – اور مصر کو امریکہ کی نگرانی میں دے دیا۔

یہاں درج ذیل نکات پر توجہ دینی چاہیے تاکہ کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے اور طرح فهد کے درمیان مماثلت واضح ہو سکے:

  1. دونوں منصوبوں کا محور اور بنیاد رژیم صهیونیستی کی حاکمیت، آزادی اور سیاسی و علاقائی سالمیت کی تسلیمی تھی۔
  2. فہد کے منصوبے اور کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے میں مظلوم فلسطینی عوام کے نمائندے کے طور پر فلسطینی آزادی پسند تنظیموں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ صرف مغربی کنارے اور نوار غزہ کے باشندوں کا ذکر کیا گیا تھا، ساتھ ہی قدس کی تقسیم کا بھی، جسے فہد کے منصوبے میں مشرقی القدس کہا گیا تھا۔
  3. کیمپ ڈیوڈ کے منصوبے میں پانچ سال کی عبوری مدت تجویز کی گئی تھی، جبکہ فہد کے منصوبے میں چند مہینوں کی مدت تجویز کی گئی تھی؛ اور دونوں منصوبوں میں اقوام متحدہ کی افواج یا دیگر ممالک کی فوجوں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔
  4. امریکہ کے حامیوں کے بیانات سے یہ بات واضح ہے کہ فہد کے منصوبے اور انور سادات کے صلح نامے کا نتیجہ سوئڈن، چکسلواکی اور ہند کی طرف سے پیش کردہ صلح کی تجاویز جیسا ہی ہے، جو سب بین الاقوامی صیہونیوں کے مفادات کے مطابق ہیں۔

جمال عبدالناصر کی مرگ کے بعد، 1964ء (1343 ہجری شمسی) میں انور سادات برسر اقتدار آیا (310) اور اس کے بعد، خائن انور سادات نے دنیا کے مشہور دہشت گرد اور 1948ء (1327 ہجری شمسی) میں دیر یاسین کے قتل عام کا ذمہ دار مناخیم بگین کو مصر مدعو کیا، جس کے بعد مصر اور اسرائیل کے درمیان صلح کا عمل شروع ہوا۔ اور ان ملاقاتوں کے سلسلے میں، 1981ء (1360 ہجری شمسی) میں اسرائیل کے صدر اسحاق ناون نے مصر کا دورہ کیا اور سادات کے جانشین حسنی مبارک کو اسرائیل کے دورے کی دعوت دی۔ تاہم، حسنی مبارک نے اس ملاقات کے حوالے سے کہا: ہمیں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؛ لیکن مصر اور اسرائیل کی مشترکہ خواہش اور امریکہ کی مدد سے ہم اتفاق رائے تک پہنچ جائیں گے!!

انور سادات کی شہرت کی بلندی

انور سادات نے اپنی سرگرمیوں کے دوران اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق کئی اقدامات کیے اور اس ملک کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا، جس کی وجہ سے 1978ء میں نوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے انہیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا، حالانکہ اس اقدام کے خلاف عوامی رائے اور عرب دنیا کا بڑا حصہ شدید مخالف تھا۔

انور سادات کی شہادت

پریڈ کی تقریب کے لیے، جو ہر سال 6 اکتوبر کو منعقد ہوتی تھی، تمام حفاظتی انتظامات مکمل کیے گئے تھے۔ اس شاندار پریڈ میں مختلف قسم کے بھاری اور جدید فوجی ہتھیاروں کی نمائش ہونی تھی، اور صدر اپنے بہترین فوجی لباس میں، جو ان کے ذاتی درزی 'پیئر گارڈن' نے لندن میں تیار کیا تھا، فخر اور شان کے ساتھ اس تقریب کا مشاہدہ کرنے والے تھے۔ لباس انور کے جسم پر اتنا خوبصورتی سے جچ رہا تھا کہ حتیٰ کہ ہمیشہ کے برخلاف، سادات نے عالمی مشوروں کے باوجود اپنی اہلیہ کو گولیوں سے بچاؤ والی جیکٹ پہننے سے منع کر دیا، تاکہ اس لباس میں ان کی خوبصورتی متاثر نہ ہو۔

غیر ملکی مہمانوں، اہم ممالک کے سربراہان اور ان کی اہلیہ نے انور سادات کا خصوصی پلیٹ فارم پر ساتھ دیا۔ وہ دن صرف مصر کے صدر کے لیے خاص نہیں تھا۔ ایک اور شخص بھی تھا جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ 6 اکتوبر 1981 کی پریڈ کو مصر کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کرنے والا تھا۔

انور سادات نے نہ صرف اپنے ملک کے لوگوں پر ظلم و استبداد کیا بلکہ ایک ذلت آمیز معاہدے پر بھی دستخط کیے، جس کے تحت اسرائیل اور مصر کے درمیان امن قائم ہوا۔ یہ ایسی ذلت آمیز فضا تھی کہ حتیٰ کہ اس وقت کے قابض رژیم کے وزیر اعظم میناخیم بیگن بھی ان سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں تھے۔ مصری قوم کے لیے، جنہوں نے جمال عبدالناصر کے شاندار دور کا تجربہ کیا تھا، ایسی ذلت آمیز تصاویر دیکھنا ایک بڑا صدمہ تھا۔

یہاں تک کہ ان ہی نوجوانوں میں سے ایک نے 27 سال کی عمر میں فیصلہ کیا کہ مصری نوجوانوں کے خون سے عزت و شرف کو واپس لایا جائے۔ کسی کو تو سامنے آنا ہی تھا جو مصر کے اس سرکش فرعون کو، جو اپنی قوم کے لیے شیر تھا لیکن غیر ملکیوں کے سامنے سر جھکا لیتا تھا، اس کے مقام پر بٹھا دے۔

لیفٹیننٹ خالد بن احمد شوقی الاسلامبولی، جو اخوان المسلمین سے وابستہ تھے، نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک سے اس داغِ ننگ کو مٹا دیں گے۔ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت تھا اور وہ کامیابی کے ساتھ تمام حفاظتی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

دوپہر کے 12 بج چکے تھے جب پریڈ کا آغاز ہوا۔ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہو رہا تھا اور تقریباً آدھی تقریب مکمل ہو چکی تھی۔ اب باری تھی اس ٹرک کی جو ایک 130 ملی میٹر کا روسی اینٹی ٹینک گن لے جا رہا تھا اور جسے صدر کے خصوصی پلیٹ فارم کے سامنے سے گزرنا تھا۔ لیکن گاڑی رک گئی۔ کچھ لوگوں نے سوچا کہ شاید یہ خراب ہو گیا ہے اور وہ اپنے راستے پر چل پڑے۔

سادات، جو غور سے منظر کا مشاہدہ کر رہے تھے، کچھ ہی لمحوں بعد خود کو تین ایسے مردوں کے سامنے پایا جو ہتھیاروں کے ساتھ ان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جہان سادات، ان کی اہلیہ، نے اپنی یادداشتوں کی کتاب میں اس لمحے کو یوں بیان کیا ہے: "فوجی پریڈ کے دوران اچانک ایک ٹرک توپ خانے کی قطار سے نکل کر حکام کے پلیٹ فارم کے سامنے پہنچ گیا اور تین مرد مشین گنیں تھامے پلیٹ فارم کی طرف دوڑ پڑے۔ اسی لمحے میں ایک گرینیڈ کے دھماکے کی آواز سنی جو ہمارے سروں پر اڑتے جیٹ طیاروں کے غرش میں گم ہو گئی۔ دھواں ہوا میں پھیل گیا، میں نے فوراً انور کی طرف دیکھا جو اب کھڑا ہو چکا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اپنے محافظوں سے کہہ رہا ہے کہ جاؤ ان کا راستہ روکو؛ یہ وہ آخری تصویر ہے جو میرے ذہن میں میرے شوہر کی موجود ہے۔"

"حسین عباس محمد"، خالد کے ساتھیوں میں سے ایک، نے گولیاں چلانی شروع کیں۔ ان کی گولیوں سے مصری آمر نے اپنے شاندار لباس میں زندگی کے آخری لمحات خون آلود کیے۔ خالد پوری کوشش کر رہے تھے کہ مصر کا فرعون زندہ بچ نہ سکے۔ یہ تصاویر تمام حاضرین کو اتنا حیران کر چکی تھیں کہ حتیٰ کہ حفاظتی دستے، جن پر بیس ملین ڈالر خرچ کیے گئے تھے، اس صدمے کی گھڑی میں ہل بھی نہ سکے۔ کچھ ہی دیر بعد ایک ہیلی کاپٹر سادات کی لاش کو ہسپتال لے گیا۔ آخرکار، ان نوجوانوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔

زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور ان میں سے 5 کو موت کی سزا سنائی گئی۔ انہیں لوہے کے پنجرے میں بند کر کے عدالت لایا گیا۔ خالد نے عدالت میں داخل ہوتے ہی چیخ کر کہا: "انا خالد الاسلامبولی، انا قاتل السادات، انا قاتل الفرعون، انا قاتل الطاغوت، فی سبیل الله قمنا ..."

بالآخر، اسی عدالت میں ان کی موت کی سزا کی تصدیق ہوئی اور 15 اپریل 1982ء، بمطابق 26 فروردین 61 شمسی، ان مصری نوجوانوں کو پھانسی دے دی گئی، جبکہ ان میں سے کسی کی لاش ان کے خاندانوں کے حوالے نہیں کی گئی اور وہ ایک قبرستان میں گمنامی میں دفنا دیے گئے۔

شہید خالد بن احمد شوقی الاسلامبولی کی وصیت نامے کے ایک حصے میں لکھا ہے: "ہم نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہم مصر کے فرعون کو قتل کریں گے، شاید خداوند اس عمل کی وجہ سے ہمیں صیہونیوں سے دوستی کے داغ سے، جو ہمیں گھیر چکا ہے، اور سادات اور ان کی اہلیہ کی روحانی و اخلاقی بدعنوانیوں سے، جو معاشرے میں آشکار ہو چکی ہیں، نجات دے۔ اشهد انّ لا اله الا الله و اشهد انّ محمّدا رسول الله"

جمہوریہ اسلامی ایران نے اس مصری نوجوان کے مقام و مرتبے کے اعتراف میں اپنے ایک شارع کا نام ان کے نام پر تبدیل کر دیا ہے۔

مزید تلاشیں

حوالہ جات

  1. ر. ک: محمود طلوعی، فرهنگ جامع سیاسی، ص 161 - 160.

ماخذ