"خلفاء راشدین" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «'''خلفاء راشدین''' وہ عنوان ہے جو اہلِ سنت نے رسولِ اکرم ﷺ کے بعد آنے والے ابتدائی حکمرانوں کو دیا ہے۔ خلفائے راشدین بالترتیب یہ ہیں: ابوبکر، عمر، عثمان اور علیؑ ۔ بعض مصادر میں حسن بن علیؑ کو بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا گیا ہے۔ کچھ افراد...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے رجوع مکرر ہٹا کر صفحہ مسودہ:خلفاء راشدین کو خلفاء راشدین کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک ہی صارف کا 3 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
'''خلفاء راشدین''' وہ عنوان ہے جو اہلِ سنت نے رسولِ اکرم ﷺ کے بعد آنے والے ابتدائی حکمرانوں کو دیا ہے۔ خلفائے راشدین بالترتیب یہ ہیں: | [[فائل:خلفای راشدین.jpg|تصغیر|بائیں|]] | ||
کچھ افراد اس اصطلاح کی بنیاد ایک ایسی روایت کو قرار دیتے ہیں جو رسولِ اکرم ﷺ سے منسوب ہے، جس میں آپؐ نے اپنے بعد خلافت کی مدت تیس سال بیان فرمائی ہے۔ اس اصطلاح کے حامی اس تیس سالہ دور کو اسلام کے ابتدائی سنہری دور کے طور پر بیان کرتے ہیں، جس میں ان کے نزدیک ایمان، عدل اور اسلامی فضائل عروج پر تھے۔ | '''خلفاء راشدین''' وہ عنوان ہے جو اہلِ سنت نے رسولِ اکرم ﷺ کے بعد آنے والے ابتدائی حکمرانوں کو دیا ہے۔ خلفائے راشدین بالترتیب یہ ہیں: [[ابوبکر بن ابی قحافہ|ابوبکر]]، [[عمر بن خطاب|عمر]]، [[عثمان بن عفان|عثمان]] اور [[علی ابن ابی طالب|علیؑ]] ۔ بعض مصادر میں [[حسن بن علی|حسن بن علیؑ]] کو بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا گیا ہے۔ | ||
کچھ افراد اس اصطلاح کی بنیاد ایک ایسی روایت کو قرار دیتے ہیں جو رسولِ اکرم ﷺ سے منسوب ہے، جس میں آپؐ نے اپنے بعد خلافت کی مدت تیس سال بیان فرمائی ہے۔ اس اصطلاح کے حامی اس تیس سالہ دور کو [[اسلام]] کے ابتدائی سنہری دور کے طور پر بیان کرتے ہیں، جس میں ان کے نزدیک ایمان، [[عدل]] اور اسلامی فضائل عروج پر تھے۔ | |||
== جانشینانِ پیامبر کو خلفائے راشدین کیوں کہا جاتا ہے؟ == | == جانشینانِ پیامبر کو خلفائے راشدین کیوں کہا جاتا ہے؟ == | ||
اہلِ سنت کے نزدیک خلفائے راشدین سے مراد رسولِ خدا ﷺ کے جانشین ہیں۔ وہ اس عنوان کی بنیاد اس نبوی حدیث کو قرار دیتے ہیں جس میں فرمایا گیا: | اہلِ سنت کے نزدیک خلفائے راشدین سے مراد رسولِ خدا ﷺ کے جانشین ہیں۔ وہ اس عنوان کی بنیاد اس نبوی [[حدیث]] کو قرار دیتے ہیں جس میں فرمایا گیا: | ||
«فعلیکم بسنتی و سنة الخلفاء الراشدین المهدیین» | |||
یعنی: | یعنی: میرے بعد میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو <ref>امام احمد و ابوداود و ترمذی و ابن ماجه</ref>۔ | ||
== راشد کے معنی == | == راشد کے معنی == | ||
لفظ | لفظ راشد کے معنی ہیں: ہدایت یافتہ ہے۔ [[اہل السنۃ والجماعت|اہلِ سنت]] کے نزدیک خلفائے راشدین بالترتیب ابوبکر، عمر، عثمان اور امام علیؑ ہیں <ref>ابن اثیر، النهایة، فی غریب الحدیث و الاثر، ج۲، ص۲۲۵؛ ابن منظور، ذیل راشد</ref>۔ | ||
اکثر معاصر مصنفین بھی خلفائے راشدین کے عنوان سے صرف پہلے چار خلفاء ہی کا ذکر کرتے | اکثر معاصر مصنفین بھی خلفائے راشدین کے عنوان سے صرف پہلے چار خلفاء ہی کا ذکر کرتے ہیں <ref>حسن ابراهیم حسن، تاریخ الاسلام: السیاسی و الدینی و الثقافی و الاجتماعی، ج۱، صص۲۰۳- ۲۷۴؛ باسورث، صص۱- ۲</ref>۔ | ||
== خلفائے راشدین کی تعداد == | == خلفائے راشدین کی تعداد == | ||
زمانی ترتیب کے مطابق بعض قدیم مؤرخین نے | زمانی ترتیب کے مطابق بعض قدیم مؤرخین نے امام حسنؑ کو بھی—جن کی خلافت کی مدت دس ماہ سے کم تھی—خلفائے راشدین میں شمار کیا ہے۔ ان میں مسعودی بھی شامل ہیں <ref>مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب (بیروت)، ج۳، ص۱۸۴</ref>۔ | ||
انہوں نے رسولِ اکرم ﷺ سے منقول اس روایت کا حوالہ دیا ہے: میرے بعد تیس سال تک خلافت ہوگی*۔ مسعودی کے مطابق خلافتِ ابوبکر کے آغاز سے لے کر امام حسنؑ کی خلافت کے اختتام تک کی مدت پورے تیس سال بنتی ہے۔ ابنِ بابویہ کی روایت کے مطابق <ref>ابنبابویه، محمد علی، کمالالدین و تمام النعمة، ج۲، ص۴۶۲، چاپ علیاکبر غفاری، قم ۱۳۶۳ش</ref>۔ | |||
[[حسن بن علی بن محمد|امام حسن عسکریؑ]] نے سعد بن عبداللہ اشعری (متوفی 301ھ) کو—جو مکتبِ خلافت کے ماننے والوں میں اس حدیث کو مقبول سمجھتے تھے—اس حدیث کی طرف متوجہ کیا اور وضاحت فرمائی کہ ان کے نزدیک اس حدیث سے مراد پہلے چار خلفاء کا دورِ خلافت ہے۔ | |||
یوں محسوس ہوتا ہے کہ عنوان | بعض افراد نے عمر بن عبدالعزیز (اموی خلافت کے آٹھویں خلیفہ، حکمرانی: 99–101ھ) کو پانچواں خلیفۂ راشد بھی شمار کیا ہے <ref>ابنعبدالبر، یوسف بن عبدالله، الانتقاء فی فضائل الائمة الثلاثة الفقهاء، ج۱، ص۱۳۶-۱۳۷، چاپ عبدالفتاح ابوغُدّه، حلب ۱۴۱۷/۱۹۹۷</ref>۔ | ||
اس کے بعد اہلِ سنت کے محدثین اور مصنفین نے اس عمومی عنوان کو پہلے چار خلفاء کے لیے استعمال کیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنتِ نبویؐ کی پیروی کی اور اسے محفوظ | |||
شیعہ حدیثی متون میں کبھی کبھار یہی عنوان | یوں محسوس ہوتا ہے کہ عنوان خلفائے راشدین کی اصل بنیاد ایک اور حدیث ہے جو معمولی اختلاف کے ساتھ اہلِ سنت کے حدیثی مجموعوں میں نقل ہوئی ہے <ref>ابنماجه، محمد بن یزید، سنن ابنماجة، ج۱، ص۱۶، چاپ محمدفؤاد عبدالباقی، قاهره ۱۳۷۳/ ۱۹۵۴، چاپ افست بیروت، بیتا</ref>۔ | ||
اس کے بعد اہلِ سنت کے محدثین اور مصنفین نے اس عمومی عنوان کو پہلے چار خلفاء کے لیے استعمال کیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنتِ نبویؐ کی پیروی کی اور اسے محفوظ رکھا <ref>ابنخُزیمه، ابوبکر، صحیح ابنخُزیمة، ج۴، ص۳۲۵، چاپ محمد مصطفی اعظمی، بیروت ۱۴۱۲/۱۹۹۲</ref>۔ | |||
شیعہ حدیثی متون میں کبھی کبھار یہی عنوان شیعہ کے بارہ ائمہؑ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے مجلسی، <ref>محمدباقر، بحار الانوار، ج۲۵، ص۱۷۴</ref>۔ | |||
== خلفائے راشدین کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ == | == خلفائے راشدین کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ == | ||
[[اثنی عشریہ|اثنا عشری شیعہ]] اور [[اسماعیلیہ|اسماعیلی]]، پہلے تین خلفاء کی حکومت کو درست نہیں مانتے <ref>الشافی فی الامامة ج ۱ شریف المرتضی ص ۱۸۲ ۱۸۲</ref>۔ | |||
اثنا عشری شیعہ اور | |||
جبکہ | جبکہ [[زیدیہ]] اس نظریے کے قائل ہیں کہ بہتر فرد کی موجودگی میں بھی اچھے فرد کی خلافت درست ہو سکتی ہے؛ یعنی ان کے نزدیک علیؑ خلافت کے سب سے زیادہ حق دار تھے، لیکن وہ ابوبکر، عمر اور عثمان کی خلافت کو بھی قبول کرتے ہیں <ref>المزار شیخ مفید ص ۱۵۴</ref>۔ | ||
== شیعہ عقیدے میں خلفائے ثلاثہ == | == شیعہ عقیدے میں خلفائے ثلاثہ == | ||
شیعوں کا ایک گروہ پہلے تین خلفاء—یعنی ابوبکر بن ابی قحافہ، عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان —کو خلفائے ثلاثہ کے نام سے یاد کرتا ہے، تاکہ علی بن ابی طالبؑ اور حسن بن علیؑ کو دیگر تین خلفاء سے الگ نمایاں کیا جا سکے۔ | |||
==متعلقہ تلاشیں== | |||
* [[قرآن]] | |||
* [[شیعہ]] | |||
* [[اہل سنت]] | |||
* [[علی ابن ابی طالب]] | |||
== حوالہ جات== | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ:تصورات اور اصطلاحات]] | |||
[[زمرہ:اسلامی تصورات اور اصطلاحات]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 13:52، 12 مئی 2026ء

خلفاء راشدین وہ عنوان ہے جو اہلِ سنت نے رسولِ اکرم ﷺ کے بعد آنے والے ابتدائی حکمرانوں کو دیا ہے۔ خلفائے راشدین بالترتیب یہ ہیں: ابوبکر، عمر، عثمان اور علیؑ ۔ بعض مصادر میں حسن بن علیؑ کو بھی خلفائے راشدین میں شمار کیا گیا ہے۔ کچھ افراد اس اصطلاح کی بنیاد ایک ایسی روایت کو قرار دیتے ہیں جو رسولِ اکرم ﷺ سے منسوب ہے، جس میں آپؐ نے اپنے بعد خلافت کی مدت تیس سال بیان فرمائی ہے۔ اس اصطلاح کے حامی اس تیس سالہ دور کو اسلام کے ابتدائی سنہری دور کے طور پر بیان کرتے ہیں، جس میں ان کے نزدیک ایمان، عدل اور اسلامی فضائل عروج پر تھے۔
جانشینانِ پیامبر کو خلفائے راشدین کیوں کہا جاتا ہے؟
اہلِ سنت کے نزدیک خلفائے راشدین سے مراد رسولِ خدا ﷺ کے جانشین ہیں۔ وہ اس عنوان کی بنیاد اس نبوی حدیث کو قرار دیتے ہیں جس میں فرمایا گیا: «فعلیکم بسنتی و سنة الخلفاء الراشدین المهدیین» یعنی: میرے بعد میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو [1]۔
راشد کے معنی
لفظ راشد کے معنی ہیں: ہدایت یافتہ ہے۔ اہلِ سنت کے نزدیک خلفائے راشدین بالترتیب ابوبکر، عمر، عثمان اور امام علیؑ ہیں [2]۔ اکثر معاصر مصنفین بھی خلفائے راشدین کے عنوان سے صرف پہلے چار خلفاء ہی کا ذکر کرتے ہیں [3]۔
خلفائے راشدین کی تعداد
زمانی ترتیب کے مطابق بعض قدیم مؤرخین نے امام حسنؑ کو بھی—جن کی خلافت کی مدت دس ماہ سے کم تھی—خلفائے راشدین میں شمار کیا ہے۔ ان میں مسعودی بھی شامل ہیں [4]۔
انہوں نے رسولِ اکرم ﷺ سے منقول اس روایت کا حوالہ دیا ہے: میرے بعد تیس سال تک خلافت ہوگی*۔ مسعودی کے مطابق خلافتِ ابوبکر کے آغاز سے لے کر امام حسنؑ کی خلافت کے اختتام تک کی مدت پورے تیس سال بنتی ہے۔ ابنِ بابویہ کی روایت کے مطابق [5]۔
امام حسن عسکریؑ نے سعد بن عبداللہ اشعری (متوفی 301ھ) کو—جو مکتبِ خلافت کے ماننے والوں میں اس حدیث کو مقبول سمجھتے تھے—اس حدیث کی طرف متوجہ کیا اور وضاحت فرمائی کہ ان کے نزدیک اس حدیث سے مراد پہلے چار خلفاء کا دورِ خلافت ہے۔
بعض افراد نے عمر بن عبدالعزیز (اموی خلافت کے آٹھویں خلیفہ، حکمرانی: 99–101ھ) کو پانچواں خلیفۂ راشد بھی شمار کیا ہے [6]۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ عنوان خلفائے راشدین کی اصل بنیاد ایک اور حدیث ہے جو معمولی اختلاف کے ساتھ اہلِ سنت کے حدیثی مجموعوں میں نقل ہوئی ہے [7]۔
اس کے بعد اہلِ سنت کے محدثین اور مصنفین نے اس عمومی عنوان کو پہلے چار خلفاء کے لیے استعمال کیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنتِ نبویؐ کی پیروی کی اور اسے محفوظ رکھا [8]۔ شیعہ حدیثی متون میں کبھی کبھار یہی عنوان شیعہ کے بارہ ائمہؑ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے مجلسی، [9]۔
خلفائے راشدین کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ
اثنا عشری شیعہ اور اسماعیلی، پہلے تین خلفاء کی حکومت کو درست نہیں مانتے [10]۔
جبکہ زیدیہ اس نظریے کے قائل ہیں کہ بہتر فرد کی موجودگی میں بھی اچھے فرد کی خلافت درست ہو سکتی ہے؛ یعنی ان کے نزدیک علیؑ خلافت کے سب سے زیادہ حق دار تھے، لیکن وہ ابوبکر، عمر اور عثمان کی خلافت کو بھی قبول کرتے ہیں [11]۔
شیعہ عقیدے میں خلفائے ثلاثہ
شیعوں کا ایک گروہ پہلے تین خلفاء—یعنی ابوبکر بن ابی قحافہ، عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان —کو خلفائے ثلاثہ کے نام سے یاد کرتا ہے، تاکہ علی بن ابی طالبؑ اور حسن بن علیؑ کو دیگر تین خلفاء سے الگ نمایاں کیا جا سکے۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ امام احمد و ابوداود و ترمذی و ابن ماجه
- ↑ ابن اثیر، النهایة، فی غریب الحدیث و الاثر، ج۲، ص۲۲۵؛ ابن منظور، ذیل راشد
- ↑ حسن ابراهیم حسن، تاریخ الاسلام: السیاسی و الدینی و الثقافی و الاجتماعی، ج۱، صص۲۰۳- ۲۷۴؛ باسورث، صص۱- ۲
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب (بیروت)، ج۳، ص۱۸۴
- ↑ ابنبابویه، محمد علی، کمالالدین و تمام النعمة، ج۲، ص۴۶۲، چاپ علیاکبر غفاری، قم ۱۳۶۳ش
- ↑ ابنعبدالبر، یوسف بن عبدالله، الانتقاء فی فضائل الائمة الثلاثة الفقهاء، ج۱، ص۱۳۶-۱۳۷، چاپ عبدالفتاح ابوغُدّه، حلب ۱۴۱۷/۱۹۹۷
- ↑ ابنماجه، محمد بن یزید، سنن ابنماجة، ج۱، ص۱۶، چاپ محمدفؤاد عبدالباقی، قاهره ۱۳۷۳/ ۱۹۵۴، چاپ افست بیروت، بیتا
- ↑ ابنخُزیمه، ابوبکر، صحیح ابنخُزیمة، ج۴، ص۳۲۵، چاپ محمد مصطفی اعظمی، بیروت ۱۴۱۲/۱۹۹۲
- ↑ محمدباقر، بحار الانوار، ج۲۵، ص۱۷۴
- ↑ الشافی فی الامامة ج ۱ شریف المرتضی ص ۱۸۲ ۱۸۲
- ↑ المزار شیخ مفید ص ۱۵۴