مندرجات کا رخ کریں

"علی الزیدی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسوده: علی الزیدی کو علی الزیدی کی جانب منتقل کیا
 
(2 صارفین 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 4: سطر 4:
| name = علی شاکر محمود الزیدی
| name = علی شاکر محمود الزیدی
| other names = ڈاکٹر علی شاکر محمود الزیدی
| other names = ڈاکٹر علی شاکر محمود الزیدی
| brith year = 1986ء ء
| brith year = 1986ء
| brith date =  
| brith date =  
| birth place = عراق
| birth place = عراق
| death year =   
| death year =   
| death date =   
| death date =   
سطر 13: سطر 13:
| students =  
| students =  
| religion = [[اسلام]]
| religion = [[اسلام]]
| faith = [[شیعه]]  
| faith = [[شیعہ]]
| works =
| works =
| known for = عراقی ایک سرمایہ دار، معاشیات دان اور ایک تکنوکریٹ چہرہ ہے انہیں 27 اپریل 2026ء کو، جو کہ 7 اردیبت ماہ 1405 ش کے برابر ہے، شیعه ہم آہنگی تنظیم نے [[عراق]] کے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر متعارف کرایا اور عراق کے صدر [[نزار آمیدی]] نے انہیں نئے کابینہ کی تشکیل کا حکم دیا۔}}  
| known for = عراقی ایک سرمایہ دار، معاشیات دان اور ایک تکنوکریٹ چہرہ ہے انہیں 27 اپریل 2026ء کو، جو کہ 7 اردیبت ماہ 1405 ش کے برابر ہے، شیعه ہم آہنگی تنظیم نے [[عراق]] کے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر متعارف کرایا اور عراق کے صدر [[نزار آمیدی]] نے انہیں نئے کابینہ کی تشکیل کا حکم دیا۔}}  

حالیہ نسخہ بمطابق 01:52، 3 مئی 2026ء

علی الزیدی
پورا نامعلی شاکر محمود الزیدی
دوسرے نامڈاکٹر علی شاکر محمود الزیدی
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہعراق
مذہباسلام، شیعہ
مناصبعراقی ایک سرمایہ دار، معاشیات دان اور ایک تکنوکریٹ چہرہ ہے انہیں 27 اپریل 2026ء کو، جو کہ 7 اردیبت ماہ 1405 ش کے برابر ہے، شیعه ہم آہنگی تنظیم نے عراق کے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر متعارف کرایا اور عراق کے صدر نزار آمیدی نے انہیں نئے کابینہ کی تشکیل کا حکم دیا۔

علی الزیدی، سرمایہ دار، معاشیات دان اور ایک تکنوکریٹ چہرہ ہے جو عراق سے تعلق رکھتا ہے۔ انہیں 27 اپریل 2026ء کو، جو کہ 7 اردیبت ماہ 1405 ش کے برابر ہے، شیعه ہم آہنگی تنظیم نے عراق کے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر متعارف کرایا اور عراق کے صدر نزار آمیدی نے انہیں نئے کابینہ کی تشکیل کا حکم دیا۔ الزیدی نے سیاست میں آنے سے قبل نجی شعبے، بینکنگ اور اقتصادی انتظام میں طویل تجربہ حاصل کیا ہے۔ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کی صورت مین عراق کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر اعظم بنا هے۔

پیدائش اور تعلیم

علی الزیدی کا تعلق عراق کے جنوبی صوبے ذی قار سے ہے اور 1986ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قانون، مالیات اور بینکنگ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کی اور ان کے پاس قانون میں بیچلر، مالیات اور بینکنگ میں بیچلر اور ماسٹر ڈگریاں ہیں۔ بعض ذرائع یہ بھی اشارہ کرتے ہیں کہ انہوں نے قانون عامه میں پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) بھی حاصل کی ہے۔ الزیدی کو بغیر کسی براہ راست سیاسی پس منظر کے ایک تکنوکریٹ چہرے کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے نجی شعبے میں وسیع انتظامی اور مدیرانہ تجربہ حاصل کیا ہے۔

خدمات و سرگرمیاں

الزیدی کے پاس معاشی، تعلیمی اور طبی اداروں کے انتظام میں متنوع تجربات موجود ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • قومی ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین: وہ ایک بڑی نجی سرمایہ کاری گروپ کی قیادت کر رہے ہیں جو مختلف سرگرمیوں والی متعدد کمپنیوں کا مالک اور منتظم ہے۔
  • جنوبی عراق بینک کے چیئرمین: ان کے پاس ملک کے اہم بینکوں میں سے ایک کی قیادت کرنے کا تجربہ ہے۔
  • جامعۃ الشعب کے صدر: الزیدی نے بغداد میں ایک نجی یونیورسٹی کی صدارت بھی کی ہے۔
  • طبی اداروں کا انتظام: ان کے پاس “عشتر الطبي” انسٹی ٹیوٹ کے انتظام میں بھی تجربہ ہے۔
  • قانونی اور مالیاتی تجربات: ان کے پاس قانونی، مالیاتی اور انتظامی شعبوں میں متعدد تجربات موجود ہیں۔

دیگر بہت سے امیدواروں کے برعکس جن کے پاس طویل سیاسی پس منظر تھا، الزیدی نے کبھی بھی کوئی رسمی سیاسی یا حکومتی عہدہ سنبھالا نہیں ہے اور صرف تقریباً ایک ماہ پہلے سے ان کا نام عراق کے سیاسی بحرانوں سے نکلنے کے حل کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔

حکومت تشکیل کرنے کا مشن

انتخاب اور مأموریت

سال ۲۰۲۵ء کی پارلیمانی انتخابات کے بعد عراق میں طویل سیاسی رکاوٹوں کے بعد، اور سابق امیدواروں جیسے کہ نوری المالکی (امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے) اور باسم البدري کی ناکامی کے باوجود، ہم آہنگی فریم ورک (شیعہ ائتلاف) بالآخر اتفاق رائے پر پہنچ گیا۔ نوری المالکی نے تین امیدواروں پر مشتمل ایک فہرست پیش کی، جن میں سے محمد شیاع سودانی کے گروہ نے علی الزیدی کے نام کو قبول کیا۔ 27 اپریل 2026 کو، عراق کے صدر نزار آمیدی نے الزیدی کو اکثریت کی فراکشن کی جانب سے نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے مقرر کیا۔ آمیدی نے تمام سیاسی گروہوں سے مطالبہ کیا کہ وہ آئینی ذمہ داریوں کو جلد از جلد پورا کرنے کے لیے الزیدی کی حمایت کریں۔ عراق کے پارلیمنٹ کے سپیکر ہیبت الحلبوسی نے بھی اس مأموریت کا خیرمقدم کیا۔

منصوبے اور نظریات

الزیدی نے مأموریت حاصل کرنے کے بعد اپنے پہلے بیان میں تمام سیاسی گروہوں کے ساتھ تعاون پر زور دیا تاکہ شہریوں کی خواہشات کے مطابق جوابدہ حکومت تشکیل دی جا سکے۔ ان کے منصوبے درج ذیل امور پر مرکوز ہیں:

  • ساختی اصلاحات: سرکاری اداروں میں جامع اصلاحات۔
  • معاشی ترقی: پائیدار معاشی ترقی اور تیل کی آمدنی کو مستحکم کرنا۔
  • جوانوں کی شمولیت: معاشرے میں جوانوں کی فعال کردار ادا کرنا اور تعلیمی نظام اور بازارِ کار کے درمیان مؤثر رابطے قائم کرنا۔
  • بین الاقوامی حیثیت: عراق کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر متوازن اور اثر و رسوخ والا ملک بنانا۔
  • الزیدی نے اعلان کیا کہ داخلی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ، بشمول علاقائی اختلافات (خاص طور پر امریکہ اور ایران) کی وجہ سے سیکیورٹی کشیدگی، ان کے کام کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے پاس کابینہ تشکیل دینے اور اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے مجلسِ شوریٰ میں پیش کرنے کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات