مندرجات کا رخ کریں

"توریت(تورات)" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 7 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:


تورات ایک معرّب لفظ ہے جو عبرانی لفظ تورا سے ماخوذ ہے۔ <ref>وہ لفظ جسے عربی قالب یا ساخت دی گئی ہو۔</ref> یہودی اس لفظ کو ناموس یا شریعت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا اصل اور دقیق مفہوم تعلیم یا ہدایت ہے۔ <ref>Illustrated Dictionary and Concordance of the Bible، صفحہ 1001</ref> بعض بصری اور کوفی اہلِ لغت کے اقوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ علماء اسے اصل میں عربی لفظ بھی سمجھتے تھے۔
'''تورات''' ، ایک معرّب لفظ ہے جو عبرانی لفظ تورا سے ماخوذ ہے۔ <ref>وہ لفظ جسے عربی قالب یا ساخت دی گئی ہو۔</ref> یہودی اس لفظ کو ناموس یا شریعت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا اصل اور دقیق مفہوم تعلیم یا ہدایت ہے۔ <ref>Illustrated Dictionary and Concordance of the Bible، صفحہ 1001</ref> بعض بصری اور کوفی اہلِ لغت کے اقوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ علماء اسے اصل میں عربی لفظ بھی سمجھتے تھے۔


== کلیات تورات ==
== کلیات تورات ==
تورات بائبل یا کتاب مقدس کے پہلے پانچ اسفار کا نام ہے۔ ان کتابوں کو اسفار خمسہ کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ لفظ توسعاً پورے عہد قدیم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
تورات بائبل یا کتاب مقدس کے پہلے پانچ اسفار کا نام ہے۔ ان کتابوں کو اسفار خمسہ کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ لفظ توسعاً پورے عہد قدیم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔


قاموس کتاب مقدس میں پنج سفر موسیٰ کے تحت ذکر کیا گیا ہے کہ یہ وہ پانچ کتابیں ہیں جو عہد قدیم کے ابتدائی حصے میں واقع ہیں۔ یہودیوں اور مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق یہ کتاب کوہ سینا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر عبرانی زبان میں الواح کی صورت میں نازل ہوئی۔
قاموس کتاب مقدس میں پنج سفر موسیٰ کے تحت ذکر کیا گیا ہے کہ یہ وہ پانچ کتابیں ہیں جو عہد قدیم کے ابتدائی حصے میں واقع ہیں۔ یہودیوں اور [[مسلمان|مسلمانوں]] کے عقیدہ کے مطابق یہ کتاب کوہ سینا پر [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ علیہ السلام]] پر عبرانی زبان میں الواح کی صورت میں نازل ہوئی۔


یہ پانچ کتابیں درج ذیل ہیں۔
یہ پانچ کتابیں درج ذیل ہیں۔
سطر 11: سطر 11:
=== سفر پیدائش (تکوین) ===
=== سفر پیدائش (تکوین) ===


اس کتاب میں تخلیق کائنات سے لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی وفات تک کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں تخلیق عالم، انسان کی نسل، حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی نسل، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خدا کے عہد کا ذکر موجود ہے۔
سفرِ تکوین، جسے سفرِ پیدائش بھی کہا جاتا ہے، تخلیقِ اوّل سے لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی وفات تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں آفرینشِ کائنات کی تفصیل، نوعِ انسانی کا سلسلۂ نسب، حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی اولاد کا نسب نامہ — خصوصاً طوفان کے فرو نشین ہونے کے بعد — بیان کیا گیا ہے۔ نیز اس سفر میں اس عہد کا بھی ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے [[حضرت ابراہیم|حضرت ابراہیم علیہ السلام]] کے ساتھ قائم فرمایا تھا۔


=== سفر خروج ===
=== سفر خروج ===
سفرِ خروج میں کوہِ سینا پر دینی احکام کے قیام اور تشریع کا بیان ملتا ہے۔ اس کے ساتھ بنی اسرائیل کی غلامی اور اسارت کے ابتدائی زمانے کے واقعات بھی مذکور ہیں، اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تورات [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ علیہ السلام]] کو عطا فرمائی۔ 


اس کتاب میں بنی اسرائیل کے مصر سے خروج، غلامی سے نجات، اور کوہ سینا پر شریعت کے نزول کا بیان ہے۔ اسی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے گئے دس احکام کا ذکر ملتا ہے۔ <ref>دکالوگ موسیٰ علیہ السلام</ref>
لفظ «خروج» سے مراد بنی اسرائیل کا مصر سے نکلنا یا وہاں سے ہجرت کرنا ہے۔ اس کتاب میں بہت سے شرعی احکام بیان ہوئے ہیں، اور اسی حصے میں دس احکام، جنہیں احکامِ عشرہ کہا جاتا ہے، بھی مذکور ہیں۔<ref>دکالوگ موسیٰ علیہ السلام</ref>


=== سفر لاویان ===
=== سفر لاویان ===


اس کتاب میں سبط لاوی سے متعلق مذہبی قوانین، عبادات، قربانی کے احکام، کاہنوں کی تقدیس، طہارت اور نجاست کے قوانین، اور مذہبی اعیاد کا بیان موجود ہے۔
ااس کتاب میں معبد میں عبادت کے قوانین و آداب، قربانی کے احکام، کاہنوں کی تقدیس سے متعلق تعلیمات، طہارت و پاکیزگی کے حدود و ضوابط، محارم کے ساتھ زنا اور دیگر ممنوع جنسی تعلقات کی ممانعت، نیز اوقات اور مخصوص مذہبی اعیاد کی تقدیس اور اس سے متعلق دیگر احکام بیان کیے گئے ہیں۔
 
=== سفر اعداد ===
=== سفر اعداد ===


سطر 26: سطر 26:


=== سفر تثنیہ ===
=== سفر تثنیہ ===
سفرِ تثنیہ میں شرائع کی تکرار کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ <ref>قاموس کتاب مقدس</ref> چونکہ یہ کتاب سابقہ اسفار کے احکام اور واقعات کا اعادہ اور خلاصہ پیش کرتی ہے، اس لیے اسے کبھی «تکرارِ تورات» یا «توراتِ مکرر» بھی کہا جاتا ہے۔ 


یہ کتاب سابقہ شرعی احکام کا خلاصہ اور تکرار پیش کرتی ہے، اسی وجہ سے اسے تکرار تورات کہا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ پانچوں اسفار شریعت موسوی کے بنیادی نظام کو واضح کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ پانچوں کتابیں دینِ موسوی، یعنی یہودیت، کے نظام اور قواعد کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔


== تورات کی نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف ==
== [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ علیہ السلام]] کی طرف تورات کی نسبت ==
[[یهودیت|یہودی]] اور [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحی]] روایت میں تورات کی نسبت [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ علیہ السلام]] کی طرف کی جاتی ہے، اور اس انتساب کو وہ اس کے وحیانی پہلو کے منافی نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک تورات کے الفاظ بعینہٖ وحیِ الٰہی نہیں ہیں، بلکہ الہامی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔ اسی بنیاد پر ان کا تصور مسلمانوں سے مختلف ہے۔ 


یہودیت اور مسیحیت میں تورات کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ تاہم وہ اسے لفظ بہ لفظ وحی نہیں سمجھتے بلکہ الہامی تعلیمات کا مجموعہ قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اصل تورات اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی تھی، جس طرح قرآن مجید۔
مسلمانوں کے نزدیک اصل، غیرمحرف تورات تقریباً اسی طرح وحیِ الٰہی کے عین الفاظ پر مشتمل تھی، جس طرح قرآنِ کریم ہے۔


== متن شناسی تورات ==
== متن شناسی تورات ==
جدید ادوار میں کتابِ مقدس کے محققین، نیز تاریخی، باستانی اور متن‌پژوہی کے ماہرین اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ یہ پانچ کتابیں، جو روایتی طور پر کتابِ مقدس کا مقدّس ترین اور اہم ترین حصہ سمجھی جاتی ہیں، الفاظ، اسلوب اور مضامین کے لحاظ سے ایک دوسرے سے قابلِ توجّہ فرق رکھتی ہیں۔


جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسفار خمسہ میں اسلوب اور الفاظ کے لحاظ سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر ایسے اشخاص اور واقعات کا ذکر ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس بنا پر بعض محققین نے تورات کی براہ راست نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔ <ref>Illustrated Dictionary and Concordance of the Bible، صفحہ 772</ref>
بعض دیگر محققین نے اس امر کی بنا پر—کہ تورات میں ان شخصیات کا ذکر ملتا ہے جو [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ علیہ السلام]] کے زمانے کے بعد ظاہر ہوئیں، اور یہ کہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بیان بھی ان اسفار میں موجود ہے—اس مجموعے کی موسیٰ علیہ السلام کی طرف قطعی نسبت پر سوال اٹھایا ہے۔ <ref>Illustrated Dictionary and Concordance of the Bible، صفحہ 772</ref>
 
ان کتابوں کی تاریخِ تالیف کے بارے میں بھی محققین کے درمیان شدید اختلاف ہے، اور بعض کے نزدیک ان کے کچھ حصے تقریباً دس صدی قبلِ مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔  <ref>Encyclopaedia Britannica، مقالہ Biblical Literature، طبع 1990، جلد 14، صفحہ 773</ref>
کچھ محققین کے مطابق تورات کے بعض حصوں کی تالیف دسویں صدی قبل مسیح تک پہنچتی ہے۔ <ref>Encyclopaedia Britannica، مقالہ Biblical Literature، طبع 1990، جلد 14، صفحہ 773</ref>
 
== قرآن میں تورات ==


قرآن مجید میں تورات کا ذکر دو انداز میں آیا ہے۔ ایک وہ الواح جنہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیا گیا، اور دوسرا لفظ تورات بطور کتاب شریعت۔
== [[قرآن]] میں تورات کا ذکر ==
[[قرآن |قرآن مجید]] میں [[یهودیت|یہودیوں]] کی مقدس کتاب کا ذکر دو انداز میں آیا ہے۔ کچھ آیات میں ان الواح کی طرف اشارہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئیں، اور بعض دیگر آیات میں اسی کتاب کے لیے لفظِ «تورات» استعمال ہوا ہے۔ یہودی تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ علیہ السلام]] کو دی گئی الواح میں دس اخلاقی احکام درج تھے، جبکہ موجودہ معروف تورات میں احکام اور اخلاقی تعلیمات کا ایک مجموعہ بیان ہوا ہے۔ تلمود، انہی احکام اور اخلاقیات کی تشریح و توضیح پر مشتمل ایک کتاب ہے۔


یہودی تفاسیر کے مطابق الواح میں دس بنیادی اخلاقی احکام درج تھے، جبکہ موجودہ تورات میں ان احکام کے ساتھ دیگر تاریخی اور قانونی روایات بھی شامل ہیں۔ تلمود دراصل تورات کی تشریحی روایت ہے۔
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ «تورات» عبرانی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی عربی میں شریعت ہے۔ یہودی تاریخ کے مطابق بخت نصر کے حملے <ref>نبوکدنصر: بابل کا ایک بادشاہ</ref> سے لے کر کوروش کے زمانے <ref>کوروش: ایران کا ایک بادشاہ</ref> تک ایک ایسا دور آیا جب بنی اسرائیل کی مقدس کتاب مفقود ہوگئی۔ بعد ازاں، جب وہ بابل کی اسیری سے واپس آئے تو جو متون اور روایات ان کے درمیان زبانی طور پر رائج تھیں، انہیں دوبارہ تحریر کیا گیا۔


[[قرآن کریم|قرآنِ کریم]] میں نازل شدہ آیات کی روشنی میں، اس دور کی تورات کو وہی کتاب سمجھا جا سکتا ہے جو زمانۂ رسالتِ محمدی میں یہودیوں کے پاس موجود تھی۔
=== نسخ موجودہ تورات ===
=== نسخ موجودہ تورات ===


سطر 51: سطر 53:
* تورات سامری   
* تورات سامری   
* تورات یونانی یا سبعینی
* تورات یونانی یا سبعینی
=== توراتِ عبری ===
توراتِ عبری، یا وہ تورات جو [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ علیہ السلام]] کی طرف منسوب کی جاتی ہے، یہودی علماء نے تابوتِ عہد میں محفوظ کر رکھی تھی۔ ہر سات برس بعد اسے تابوت سے نکالا جاتا اور بنی اسرائیل کو پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ تاہم فلسطین میں پیش آنے والے فتنوں اور ہنگاموں کے دوران یہ نسخہ ضائع ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت عزیر نے حجی اور زکریا کے تعاون سے تورات کو دوبارہ جمع کیا، لیکن وہ نسخہ بھی محفوظ نہ رہ سکا۔
<ref>عبرانی نسخہ جو اس وقت دستیاب ہے، نویں صدی عیسوی میں مرتب کیا گیا اور پندرھویں صدی میں شائع ہوا</ref>
<ref>اعلامُ القرآن، صفحہ 264</ref>


=== ترجمہ سبعینی ===
== یونانی ترجمہ ==
یونانی ترجمہ، جسے سبعینی یا ہفتادی بھی کہا جاتا ہے، اسکندریہ کے یہودیوں کی ایک جماعت نے تیار کیا جو بہتر (72) مترجمین پر مشتمل تھی۔ <ref>سبعینی کی تسمیہ اسی وجہ سے ہے</ref> یہ ترجمہ بطلیموس فیلادلفوس کی سرپرستی میں 285 قبلِ مسیح میں انجام پایا۔


یہ ترجمہ 72 یہودی علماء نے اسکندریہ میں بطلیموس فیلادلفوس کی سرپرستی میں تقریباً 285 قبل مسیح میں تیار کیا۔ <ref>اعلام قرآن، صفحہ 266</ref> بعد میں اسی یونانی متن سے لاطینی ترجمہ بھی کیا گیا۔
توراتِ سبعینی کو بعد میں یونانی سے لاطینی زبان میں منتقل کیا گیا، اور کلیسائے مشرق میں آج تک اسے ان کے مذہبی قوانین اور ہدایات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ مسیحیوں نے اس کے بعض مقامات سے استدلال کرکے یہودیوں کے خلاف حجت قائم کی، اس لیے یہودیوں نے اس ترجمے کو ترک کر کے اصل عبرانی متن کی طرف رجوع کیا۔
<ref>ایضاً، صفحہ 266؛ مزید تفصیل کے لیے: کشفُ الظنون، ذیلِ «التوراة»</ref>
 
بعد کے زمانوں میں یونانی ترجمہ دوبارہ لاطینی زبان میں منتقل کیا گیا۔


=== دیگر تراجم ===
=== دیگر تراجم ===
اسی طرح قدیم دَور میں تورات کے اصل متن یا اس کے یونانی ترجمے سے متعدد زبانوں میں ترجمے کیے گئے، جن میں ارمنی، حبشی، لاطینی اور عربی شامل ہیں۔ بہت سے یہودی علما جو [[اسلام]] لے آئے تھے—جیسے وہب بن منبہ، عبداللہ بن سلام اور کعب الاحبار—انہوں نے تورات، دیگر مقدس کتابوں اور ان کی تفسیری روایات کے علوم صدرِ اوّلِ اسلام میں نقل کیے۔ ان کی یہ روایات، جو زیادہ تر قصصی نوعیت کی تھیں، بعد میں «اسرائیلیات» کہلائیں اور اسلامی تفاسیر میں، خصوصاً تفسیر طبری میں داخل ہوئیں۔ بعض محققین ان روایات کو احتیاط کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔
<ref>اسرائیلیات</ref>
مورخ مسعودی<ref>التنبیه و الاشراف، 112</ref>
تورات کے تین عربی تراجم کا ذکر کرتا ہے:
پہلا ترجمہ حنین بن اسحاق (وفات 260 ہجری) کا،
دوسرا ترجمہ یہودی عالم ابو کثیر (وفات 321 یا 329 ہجری) کا،
تیسرا ترجمہ ایک اور یہودی عالم سعد بن یوسف فیومی (وفات 331 ہجری) کا، اور یہی ترجمہ اب بھی موجود ہے۔
(اعلام القرآن، صفحہ 268)
اس کے علاوہ 345 ہجری / 956 عیسوی میں اسپین میں ایک اور ترجمہ، لاطینی سے عربی میں انجام دیا گیا۔ جدید عربی میں بھی تورات کے کئی ترجمے موجود ہیں۔
فارسی زبان میں تورات کے ترجمے—خواہ مستقل طور پر یا پورے بائبل کے ساتھ—انیسویں صدی عیسوی کی پہلی نصف میں لندن اور ایڈنبرا میں شائع ہوئے۔
<ref>فهرست کتاب‌های چاپی فارسی، ذیل تورات و کتاب مقدس</ref>
== تورات کے دیگر نام ==
تورات کے لیے کئی دیگر نام بھی بیان کیے گئے ہیں۔ فارسی اور عربی زبان میں اس کتاب کو عہدِ قدیم بھی کہا جاتا ہے۔ یہودیوں اور مسیحیوں کی مشترکہ مقدس کتابوں کو مجموعی طور پر عہدین کہا جاتا ہے۔ یہودی اپنے پورے صحیفے کو تنخ (Tanakh) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ لفظ اس کتاب کے تین بنیادی حصوں کی نشاندہی کرتا ہے: تورات، نبیئیم (انبیا) اور کتوبیم (نوشتہ جات یا صحائف)۔
تورات کی تقسیم عہدِ قدیم اور عہدِ جدید میں کرنا صرف مسیحی عقائد سے متعلق ہے۔ مسیحی دو عہدوں پر ایمان رکھتے ہیں: پہلا عہد [[حضرت ابراہیم|حضرت ابراہیم علیہ السلام]] کے ساتھ قائم ہوا اور [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ علیہ السلام]] کے زمانے میں اس کی تجدید اور توثیق کی گئی، جبکہ دوسرا عہدِ جدید [[حضرت عیسی|حضرت عیسیٰ علیہ السلام]] کے ظہور کے ساتھ وابستہ ہے۔ 
عہدِ قدیم پوری مقدس کتاب کے تقریباً تین چوتھائی حصے پر مشتمل ہے۔ اس میں مختلف نوع کے مضامین پائے جاتے ہیں، جیسے تاریخ، شریعت، حکمت، مناجات، شاعری اور پیش گوئیاں۔ زیادہ تر کتب عبرانی زبان میں لکھی گئی ہیں، جبکہ کچھ حصے کلدانی اور آرامی زبان میں تحریر ہیں۔ عبادت گاہوں (کنیسوں) میں یہ کتابیں طومار (Scroll) کی صورت میں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔
== تورات کے غیر معقول مطالب ==
تورات کی پانچ کتابوں (اسفارِ خمسہ) کے مضامین میں سے اکثر کو قرآن مجید میں یا تو بیان کیا گیا ہے یا ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، تاہم ان میں کچھ مطالب ایسے ہیں جو عقل، منطق اور شانِ خدا و انبیا سے بعید ہیں۔ ان میں ایسے واقعات بھی شامل ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ حصے بعد میں لکھے گئے اور کچھ میں واضح طور پر غلط بیانی یا خرافات موجود ہیں جن کی قرآن مجید تائید نہیں کرتا۔
مثال کے طور پر، کتابِ پیدایش باب سوم آیت هشتم میں لکھا ہے کہ خدا باغِ عدن میں چلتا پھرتا تھا، اور آدم و حوا اس سے چھپ گئے۔ حالانکہ خدا جسم رکھنے والا نہیں ہے اور [[قرآن]] میں فرمایا گیا ہے: «لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ»۔ 
<ref>سورۂ شوریٰ، آیت 11</ref> 
اسی طرح، سفرِ خروج باب 32 میں لکھا ہے کہ ہارون نے بچھڑا بنایا اور قوم کو اس کی عبادت کی دعوت دی، جب کہ [[قرآن |قرآن مجید]] کے مطابق بچھڑا سامری نے بنایا تھا اور حضرت ہارون خدا کے پیغمبر اور حضرت موسیٰ کے نائب تھے۔ نیز باب 28 اور 40 میں خود خدا نے ہارون کی تعریف کی اور موسیٰ کو اس کے بارے میں تاکید فرمائی۔


تورات کے ارمنی، حبشی، لاطینی، عربی اور فارسی تراجم بھی مختلف ادوار میں کیے گئے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں بعض یہودی علماء جو مسلمان ہوگئے تھے، جیسے وہب بن منبہ، عبداللہ بن سلام اور کعب الاحبار، انہوں نے توراتی روایات نقل کیں جنہیں اسرائیلیات کہا جاتا ہے۔
اسی طرح، باب 32 سفرِ پیدایش میں کہا گیا ہے کہ خدا حضرت یعقوب سے کشتی لڑتا ہے اور غالب نہیں آ سکا، اور یعقوب سے کہتا ہے: “مجھے چھوڑ دے” (العیاذ باللہ). 
اور باب 19 سفرِ پیدایش میں ذکر ہے کہ لوط علیہ السلام کی بیٹیوں نے انہیں شراب پلائی اور ان سے ہمبستر ہوئیں — (نعوذ باللہ). 
اسی طرح، باب 18 سفرِ پیدایش میں لکھا ہے کہ خدا دو اشخاص کے ساتھ ابراہیم کے پاس آیا، ابراہیم خدا کے پاؤں دھونا چاہتا تھا، پھر کھانا پیش کیا اور خدا اپنے رفیقوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا — (معاذ اللہ).


== دیگر نام ==
کتابِ دوم سموئیل باب 11 میں داود علیہ السلام کے بارے میں بے ادبی سے لکھا گیا کہ انہوں نے ایک عورت کو دیکھ کر اسے بلا کر ہمبستر کیا اور وہ حاملہ ہو گئی۔ باب 12 میں ناتان نبی خدا کی جانب سے داود پر ملامت کرتا ہے کہ خدا تمہیں تمہارے گناہ کی سزا دے گا اور تمہاری عورتیں دوسروں کے حوالے کرے گا (معاذ اللہ). 


یہودی اپنی مقدس کتابوں کے مجموعے کو تنخ کہتے ہیں جس میں تورات، نبیئیم اور کتوبیم شامل ہیں۔ مسیحی روایت میں کتاب مقدس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
یہ اور دیگر اس قسم کے قصے تورات میں موجود ہیں، جن میں سے بہت سے داستانی اور غیر واقعی ہیں۔ مرحوم علامہ بلاغی نے اپنی کتاب الرحلة میں ان مثالوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔


* عہد قدیم  
مزید یہ کہ سفرِ تثنیہ باب 34 میں حضرت موسیٰ کی وفات کا ذکر ہے کہ وہ مر گئے، دفن کیے گئے، اور کوئی ان کا قبر نہیں جانتا۔ ان کی عمر 120 سال تھی اور بنی اسرائیل نے ان کے لیے 30 دن ماتم کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ بیانات بعد از موسیٰ لکھے گئے ہیں، اس لیے وحی شدہ تورات نہیں ہو سکتے۔ اسی باب کی آیت 10 میں کہا گیا ہے کہ “ایسا نبی بنی اسرائیل میں نہیں اٹھا جسے خدا نے روبرو پہچانا ہو” — جو خود حضرت موسیٰ کے بعد کے زمانے کا کلام ہے۔  
* عہد جدید


== مطالب محل اعتراض ==
یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ تورات کی پانچ کتابیں حضرت موسیٰ کے بعد مرتب ہوئی ہیں۔


تورات کے بعض مقامات میں ایسے بیانات موجود ہیں جنہیں مسلمان علماء انبیاء کے مقام کے خلاف سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر پیدائش باب 3 میں خدا کے باغ میں چلنے کا بیان، خروج باب 32 میں گوسالہ سازی کی نسبت حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف، پیدائش باب 32 میں حضرت یعقوب علیہ السلام سے کشتی کا واقعہ، اور پیدائش باب 19 میں حضرت لوط علیہ السلام سے متعلق بیان۔
[[سید محمدحسین طباطبایی|علامہ طباطبائی]] نے المیزان فی تفسیر القرآن جلد 3، صفحہ 339 میں بیان فرمایا ہے کہ بخت نصر کے حملے کے دوران تورات ضائع ہو گئی۔ بعد میں جب کوروش، بادشاہ ایران، نے بنی اسرائیل کو آزادی دی اور اجازت دی کہ فلسطین واپس جائیں اور اپنا معبد دوبارہ بنائیں، تب ایک شخص بنام عزیر نے تورات جمع کرنے کی کوشش کی اور اسفارِ خمسہ کو ترتیب دیا۔ توراتِ اصلی تو اس وقت تک معدوم ہو چکی تھی، مگر ممکن ہے کچھ اجزا یا لوحیں لوگوں کے پاس محفوظ رہی ہوں۔


اسی طرح تثنیہ باب 34 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور تدفین کا ذکر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حصہ بعد میں تحریر کیا گیا ہوگا۔
مستر ہاکس، امریکی مصنف، قاموسِ کتابِ مقدس میں لفظ "عزرا" کے تحت لکھتا ہے کہ وہ عبرانی قوم کا مشہور عالم، کاہن اور ماہرِ شریعت تھا۔ اردشیر درازدست بادشاہ نے اس کی مدد کی، اور وہ 457 ق م میں اسیران کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ یروشلم واپس لوٹا۔ مستر ہاکس کے مطابق، عزیر نے تمام کتبِ عہدِ عتیق کو یکجا کر کے تصحیح کی، اور موجودہ تورات کی بنیاد رکھی۔ اسی کتاب کی دیباچہ میں وہ لکھتا ہے کہ مقدس کتاب موجودہ شکل میں 39 مختلف اشخاص نے تقریباً 1500 سال کے عرصے میں لکھا۔


المیزان فی تفسیر القرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ بخت نصر کے حملے کے دوران تورات ضائع ہوگئی تھی اور بعد میں حضرت عزیر علیہ السلام نے اسے دوبارہ جمع کیا۔ <ref>المیزان فی تفسیر القرآن، جلد 3، صفحہ 339</ref>
صدرالدین بلاغی نے اپنی کتاب فرهنگ قصص [[قرآن]] میں اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے اور نتیجہ یہ بیان کیا ہے کہ توراتِ موجودہ کسی ایک شخص کی تصنیف نہیں، بلکہ اسفارِ قانونی مختلف عصور اور ادوار میں تحریر ہوئیں۔ ان کے مطابق، سفرِ خروج کی تالیف نویں صدی ق م، سفرِ تثنیہ کی آٹھویں یا ساتویں صدی ق م میں، اور سفرِ احبار کی تألیف 516 ق م کے بعد ہوئی۔ 


قاموس کتاب مقدس کے مطابق موجودہ بائبل تقریباً 39 مصنفین نے تقریباً 1500 سال کے عرصے میں مرتب کی۔
ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ تورات حتیٰ کہ اسفارِ خمسہ بھی عزیر کی تصنیف نہیں، بلکہ بعد کے ادوار میں مختلف افراد نے انہیں لکھا اور جمع کیا۔


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==

حالیہ نسخہ بمطابق 13:52، 27 اپريل 2026ء

تورات ، ایک معرّب لفظ ہے جو عبرانی لفظ تورا سے ماخوذ ہے۔ [1] یہودی اس لفظ کو ناموس یا شریعت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا اصل اور دقیق مفہوم تعلیم یا ہدایت ہے۔ [2] بعض بصری اور کوفی اہلِ لغت کے اقوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ علماء اسے اصل میں عربی لفظ بھی سمجھتے تھے۔

کلیات تورات

تورات بائبل یا کتاب مقدس کے پہلے پانچ اسفار کا نام ہے۔ ان کتابوں کو اسفار خمسہ کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ لفظ توسعاً پورے عہد قدیم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

قاموس کتاب مقدس میں پنج سفر موسیٰ کے تحت ذکر کیا گیا ہے کہ یہ وہ پانچ کتابیں ہیں جو عہد قدیم کے ابتدائی حصے میں واقع ہیں۔ یہودیوں اور مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق یہ کتاب کوہ سینا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر عبرانی زبان میں الواح کی صورت میں نازل ہوئی۔

یہ پانچ کتابیں درج ذیل ہیں۔

سفر پیدائش (تکوین)

سفرِ تکوین، جسے سفرِ پیدائش بھی کہا جاتا ہے، تخلیقِ اوّل سے لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی وفات تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں آفرینشِ کائنات کی تفصیل، نوعِ انسانی کا سلسلۂ نسب، حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی اولاد کا نسب نامہ — خصوصاً طوفان کے فرو نشین ہونے کے بعد — بیان کیا گیا ہے۔ نیز اس سفر میں اس عہد کا بھی ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ قائم فرمایا تھا۔

سفر خروج

سفرِ خروج میں کوہِ سینا پر دینی احکام کے قیام اور تشریع کا بیان ملتا ہے۔ اس کے ساتھ بنی اسرائیل کی غلامی اور اسارت کے ابتدائی زمانے کے واقعات بھی مذکور ہیں، اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائی۔

لفظ «خروج» سے مراد بنی اسرائیل کا مصر سے نکلنا یا وہاں سے ہجرت کرنا ہے۔ اس کتاب میں بہت سے شرعی احکام بیان ہوئے ہیں، اور اسی حصے میں دس احکام، جنہیں احکامِ عشرہ کہا جاتا ہے، بھی مذکور ہیں۔[3]

سفر لاویان

ااس کتاب میں معبد میں عبادت کے قوانین و آداب، قربانی کے احکام، کاہنوں کی تقدیس سے متعلق تعلیمات، طہارت و پاکیزگی کے حدود و ضوابط، محارم کے ساتھ زنا اور دیگر ممنوع جنسی تعلقات کی ممانعت، نیز اوقات اور مخصوص مذہبی اعیاد کی تقدیس اور اس سے متعلق دیگر احکام بیان کیے گئے ہیں۔

سفر اعداد

اس کتاب میں بنی اسرائیل کے چالیس سالہ صحرائی سفر، کنعان کی سرزمین کی طرف پیش قدمی، اور حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات تک کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔

سفر تثنیہ

سفرِ تثنیہ میں شرائع کی تکرار کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ [4] چونکہ یہ کتاب سابقہ اسفار کے احکام اور واقعات کا اعادہ اور خلاصہ پیش کرتی ہے، اس لیے اسے کبھی «تکرارِ تورات» یا «توراتِ مکرر» بھی کہا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ پانچوں کتابیں دینِ موسوی، یعنی یہودیت، کے نظام اور قواعد کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف تورات کی نسبت

یہودی اور مسیحی روایت میں تورات کی نسبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف کی جاتی ہے، اور اس انتساب کو وہ اس کے وحیانی پہلو کے منافی نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک تورات کے الفاظ بعینہٖ وحیِ الٰہی نہیں ہیں، بلکہ الہامی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔ اسی بنیاد پر ان کا تصور مسلمانوں سے مختلف ہے۔

مسلمانوں کے نزدیک اصل، غیرمحرف تورات تقریباً اسی طرح وحیِ الٰہی کے عین الفاظ پر مشتمل تھی، جس طرح قرآنِ کریم ہے۔

متن شناسی تورات

جدید ادوار میں کتابِ مقدس کے محققین، نیز تاریخی، باستانی اور متن‌پژوہی کے ماہرین اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ یہ پانچ کتابیں، جو روایتی طور پر کتابِ مقدس کا مقدّس ترین اور اہم ترین حصہ سمجھی جاتی ہیں، الفاظ، اسلوب اور مضامین کے لحاظ سے ایک دوسرے سے قابلِ توجّہ فرق رکھتی ہیں۔

بعض دیگر محققین نے اس امر کی بنا پر—کہ تورات میں ان شخصیات کا ذکر ملتا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بعد ظاہر ہوئیں، اور یہ کہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بیان بھی ان اسفار میں موجود ہے—اس مجموعے کی موسیٰ علیہ السلام کی طرف قطعی نسبت پر سوال اٹھایا ہے۔ [5] ان کتابوں کی تاریخِ تالیف کے بارے میں بھی محققین کے درمیان شدید اختلاف ہے، اور بعض کے نزدیک ان کے کچھ حصے تقریباً دس صدی قبلِ مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [6]

قرآن میں تورات کا ذکر

قرآن مجید میں یہودیوں کی مقدس کتاب کا ذکر دو انداز میں آیا ہے۔ کچھ آیات میں ان الواح کی طرف اشارہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئیں، اور بعض دیگر آیات میں اسی کتاب کے لیے لفظِ «تورات» استعمال ہوا ہے۔ یہودی تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی الواح میں دس اخلاقی احکام درج تھے، جبکہ موجودہ معروف تورات میں احکام اور اخلاقی تعلیمات کا ایک مجموعہ بیان ہوا ہے۔ تلمود، انہی احکام اور اخلاقیات کی تشریح و توضیح پر مشتمل ایک کتاب ہے۔

یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ «تورات» عبرانی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی عربی میں شریعت ہے۔ یہودی تاریخ کے مطابق بخت نصر کے حملے [7] سے لے کر کوروش کے زمانے [8] تک ایک ایسا دور آیا جب بنی اسرائیل کی مقدس کتاب مفقود ہوگئی۔ بعد ازاں، جب وہ بابل کی اسیری سے واپس آئے تو جو متون اور روایات ان کے درمیان زبانی طور پر رائج تھیں، انہیں دوبارہ تحریر کیا گیا۔

قرآنِ کریم میں نازل شدہ آیات کی روشنی میں، اس دور کی تورات کو وہی کتاب سمجھا جا سکتا ہے جو زمانۂ رسالتِ محمدی میں یہودیوں کے پاس موجود تھی۔

نسخ موجودہ تورات

خزائلی کے مطابق موجودہ زمانے میں تورات کے تین مشہور نسخے ہیں۔ [9]

  • تورات عبری
  • تورات سامری
  • تورات یونانی یا سبعینی

توراتِ عبری

توراتِ عبری، یا وہ تورات جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کی جاتی ہے، یہودی علماء نے تابوتِ عہد میں محفوظ کر رکھی تھی۔ ہر سات برس بعد اسے تابوت سے نکالا جاتا اور بنی اسرائیل کو پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ تاہم فلسطین میں پیش آنے والے فتنوں اور ہنگاموں کے دوران یہ نسخہ ضائع ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت عزیر نے حجی اور زکریا کے تعاون سے تورات کو دوبارہ جمع کیا، لیکن وہ نسخہ بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ [10] [11]

یونانی ترجمہ

یونانی ترجمہ، جسے سبعینی یا ہفتادی بھی کہا جاتا ہے، اسکندریہ کے یہودیوں کی ایک جماعت نے تیار کیا جو بہتر (72) مترجمین پر مشتمل تھی۔ [12] یہ ترجمہ بطلیموس فیلادلفوس کی سرپرستی میں 285 قبلِ مسیح میں انجام پایا۔

توراتِ سبعینی کو بعد میں یونانی سے لاطینی زبان میں منتقل کیا گیا، اور کلیسائے مشرق میں آج تک اسے ان کے مذہبی قوانین اور ہدایات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ مسیحیوں نے اس کے بعض مقامات سے استدلال کرکے یہودیوں کے خلاف حجت قائم کی، اس لیے یہودیوں نے اس ترجمے کو ترک کر کے اصل عبرانی متن کی طرف رجوع کیا۔ [13]

بعد کے زمانوں میں یونانی ترجمہ دوبارہ لاطینی زبان میں منتقل کیا گیا۔

دیگر تراجم

اسی طرح قدیم دَور میں تورات کے اصل متن یا اس کے یونانی ترجمے سے متعدد زبانوں میں ترجمے کیے گئے، جن میں ارمنی، حبشی، لاطینی اور عربی شامل ہیں۔ بہت سے یہودی علما جو اسلام لے آئے تھے—جیسے وہب بن منبہ، عبداللہ بن سلام اور کعب الاحبار—انہوں نے تورات، دیگر مقدس کتابوں اور ان کی تفسیری روایات کے علوم صدرِ اوّلِ اسلام میں نقل کیے۔ ان کی یہ روایات، جو زیادہ تر قصصی نوعیت کی تھیں، بعد میں «اسرائیلیات» کہلائیں اور اسلامی تفاسیر میں، خصوصاً تفسیر طبری میں داخل ہوئیں۔ بعض محققین ان روایات کو احتیاط کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ [14]

مورخ مسعودی[15] تورات کے تین عربی تراجم کا ذکر کرتا ہے:

پہلا ترجمہ حنین بن اسحاق (وفات 260 ہجری) کا، دوسرا ترجمہ یہودی عالم ابو کثیر (وفات 321 یا 329 ہجری) کا، تیسرا ترجمہ ایک اور یہودی عالم سعد بن یوسف فیومی (وفات 331 ہجری) کا، اور یہی ترجمہ اب بھی موجود ہے۔ (اعلام القرآن، صفحہ 268)

اس کے علاوہ 345 ہجری / 956 عیسوی میں اسپین میں ایک اور ترجمہ، لاطینی سے عربی میں انجام دیا گیا۔ جدید عربی میں بھی تورات کے کئی ترجمے موجود ہیں۔

فارسی زبان میں تورات کے ترجمے—خواہ مستقل طور پر یا پورے بائبل کے ساتھ—انیسویں صدی عیسوی کی پہلی نصف میں لندن اور ایڈنبرا میں شائع ہوئے۔ [16]

تورات کے دیگر نام

تورات کے لیے کئی دیگر نام بھی بیان کیے گئے ہیں۔ فارسی اور عربی زبان میں اس کتاب کو عہدِ قدیم بھی کہا جاتا ہے۔ یہودیوں اور مسیحیوں کی مشترکہ مقدس کتابوں کو مجموعی طور پر عہدین کہا جاتا ہے۔ یہودی اپنے پورے صحیفے کو تنخ (Tanakh) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ لفظ اس کتاب کے تین بنیادی حصوں کی نشاندہی کرتا ہے: تورات، نبیئیم (انبیا) اور کتوبیم (نوشتہ جات یا صحائف)۔

تورات کی تقسیم عہدِ قدیم اور عہدِ جدید میں کرنا صرف مسیحی عقائد سے متعلق ہے۔ مسیحی دو عہدوں پر ایمان رکھتے ہیں: پہلا عہد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ قائم ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں اس کی تجدید اور توثیق کی گئی، جبکہ دوسرا عہدِ جدید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور کے ساتھ وابستہ ہے۔

عہدِ قدیم پوری مقدس کتاب کے تقریباً تین چوتھائی حصے پر مشتمل ہے۔ اس میں مختلف نوع کے مضامین پائے جاتے ہیں، جیسے تاریخ، شریعت، حکمت، مناجات، شاعری اور پیش گوئیاں۔ زیادہ تر کتب عبرانی زبان میں لکھی گئی ہیں، جبکہ کچھ حصے کلدانی اور آرامی زبان میں تحریر ہیں۔ عبادت گاہوں (کنیسوں) میں یہ کتابیں طومار (Scroll) کی صورت میں محفوظ رکھی جاتی ہیں۔

تورات کے غیر معقول مطالب

تورات کی پانچ کتابوں (اسفارِ خمسہ) کے مضامین میں سے اکثر کو قرآن مجید میں یا تو بیان کیا گیا ہے یا ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، تاہم ان میں کچھ مطالب ایسے ہیں جو عقل، منطق اور شانِ خدا و انبیا سے بعید ہیں۔ ان میں ایسے واقعات بھی شامل ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ حصے بعد میں لکھے گئے اور کچھ میں واضح طور پر غلط بیانی یا خرافات موجود ہیں جن کی قرآن مجید تائید نہیں کرتا۔

مثال کے طور پر، کتابِ پیدایش باب سوم آیت هشتم میں لکھا ہے کہ خدا باغِ عدن میں چلتا پھرتا تھا، اور آدم و حوا اس سے چھپ گئے۔ حالانکہ خدا جسم رکھنے والا نہیں ہے اور قرآن میں فرمایا گیا ہے: «لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ»۔ [17] اسی طرح، سفرِ خروج باب 32 میں لکھا ہے کہ ہارون نے بچھڑا بنایا اور قوم کو اس کی عبادت کی دعوت دی، جب کہ قرآن مجید کے مطابق بچھڑا سامری نے بنایا تھا اور حضرت ہارون خدا کے پیغمبر اور حضرت موسیٰ کے نائب تھے۔ نیز باب 28 اور 40 میں خود خدا نے ہارون کی تعریف کی اور موسیٰ کو اس کے بارے میں تاکید فرمائی۔

اسی طرح، باب 32 سفرِ پیدایش میں کہا گیا ہے کہ خدا حضرت یعقوب سے کشتی لڑتا ہے اور غالب نہیں آ سکا، اور یعقوب سے کہتا ہے: “مجھے چھوڑ دے” (العیاذ باللہ). اور باب 19 سفرِ پیدایش میں ذکر ہے کہ لوط علیہ السلام کی بیٹیوں نے انہیں شراب پلائی اور ان سے ہمبستر ہوئیں — (نعوذ باللہ). اسی طرح، باب 18 سفرِ پیدایش میں لکھا ہے کہ خدا دو اشخاص کے ساتھ ابراہیم کے پاس آیا، ابراہیم خدا کے پاؤں دھونا چاہتا تھا، پھر کھانا پیش کیا اور خدا اپنے رفیقوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا — (معاذ اللہ).

کتابِ دوم سموئیل باب 11 میں داود علیہ السلام کے بارے میں بے ادبی سے لکھا گیا کہ انہوں نے ایک عورت کو دیکھ کر اسے بلا کر ہمبستر کیا اور وہ حاملہ ہو گئی۔ باب 12 میں ناتان نبی خدا کی جانب سے داود پر ملامت کرتا ہے کہ خدا تمہیں تمہارے گناہ کی سزا دے گا اور تمہاری عورتیں دوسروں کے حوالے کرے گا (معاذ اللہ).

یہ اور دیگر اس قسم کے قصے تورات میں موجود ہیں، جن میں سے بہت سے داستانی اور غیر واقعی ہیں۔ مرحوم علامہ بلاغی نے اپنی کتاب الرحلة میں ان مثالوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

مزید یہ کہ سفرِ تثنیہ باب 34 میں حضرت موسیٰ کی وفات کا ذکر ہے کہ وہ مر گئے، دفن کیے گئے، اور کوئی ان کا قبر نہیں جانتا۔ ان کی عمر 120 سال تھی اور بنی اسرائیل نے ان کے لیے 30 دن ماتم کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ بیانات بعد از موسیٰ لکھے گئے ہیں، اس لیے وحی شدہ تورات نہیں ہو سکتے۔ اسی باب کی آیت 10 میں کہا گیا ہے کہ “ایسا نبی بنی اسرائیل میں نہیں اٹھا جسے خدا نے روبرو پہچانا ہو” — جو خود حضرت موسیٰ کے بعد کے زمانے کا کلام ہے۔

یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ تورات کی پانچ کتابیں حضرت موسیٰ کے بعد مرتب ہوئی ہیں۔

علامہ طباطبائی نے المیزان فی تفسیر القرآن جلد 3، صفحہ 339 میں بیان فرمایا ہے کہ بخت نصر کے حملے کے دوران تورات ضائع ہو گئی۔ بعد میں جب کوروش، بادشاہ ایران، نے بنی اسرائیل کو آزادی دی اور اجازت دی کہ فلسطین واپس جائیں اور اپنا معبد دوبارہ بنائیں، تب ایک شخص بنام عزیر نے تورات جمع کرنے کی کوشش کی اور اسفارِ خمسہ کو ترتیب دیا۔ توراتِ اصلی تو اس وقت تک معدوم ہو چکی تھی، مگر ممکن ہے کچھ اجزا یا لوحیں لوگوں کے پاس محفوظ رہی ہوں۔

مستر ہاکس، امریکی مصنف، قاموسِ کتابِ مقدس میں لفظ "عزرا" کے تحت لکھتا ہے کہ وہ عبرانی قوم کا مشہور عالم، کاہن اور ماہرِ شریعت تھا۔ اردشیر درازدست بادشاہ نے اس کی مدد کی، اور وہ 457 ق م میں اسیران کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ یروشلم واپس لوٹا۔ مستر ہاکس کے مطابق، عزیر نے تمام کتبِ عہدِ عتیق کو یکجا کر کے تصحیح کی، اور موجودہ تورات کی بنیاد رکھی۔ اسی کتاب کی دیباچہ میں وہ لکھتا ہے کہ مقدس کتاب موجودہ شکل میں 39 مختلف اشخاص نے تقریباً 1500 سال کے عرصے میں لکھا۔

صدرالدین بلاغی نے اپنی کتاب فرهنگ قصص قرآن میں اس موضوع پر مفصل بحث کی ہے اور نتیجہ یہ بیان کیا ہے کہ توراتِ موجودہ کسی ایک شخص کی تصنیف نہیں، بلکہ اسفارِ قانونی مختلف عصور اور ادوار میں تحریر ہوئیں۔ ان کے مطابق، سفرِ خروج کی تالیف نویں صدی ق م، سفرِ تثنیہ کی آٹھویں یا ساتویں صدی ق م میں، اور سفرِ احبار کی تألیف 516 ق م کے بعد ہوئی۔

ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ تورات حتیٰ کہ اسفارِ خمسہ بھی عزیر کی تصنیف نہیں، بلکہ بعد کے ادوار میں مختلف افراد نے انہیں لکھا اور جمع کیا۔

حوالہ جات

  1. وہ لفظ جسے عربی قالب یا ساخت دی گئی ہو۔
  2. Illustrated Dictionary and Concordance of the Bible، صفحہ 1001
  3. دکالوگ موسیٰ علیہ السلام
  4. قاموس کتاب مقدس
  5. Illustrated Dictionary and Concordance of the Bible، صفحہ 772
  6. Encyclopaedia Britannica، مقالہ Biblical Literature، طبع 1990، جلد 14، صفحہ 773
  7. نبوکدنصر: بابل کا ایک بادشاہ
  8. کوروش: ایران کا ایک بادشاہ
  9. اعلام قرآن، صفحہ 264
  10. عبرانی نسخہ جو اس وقت دستیاب ہے، نویں صدی عیسوی میں مرتب کیا گیا اور پندرھویں صدی میں شائع ہوا
  11. اعلامُ القرآن، صفحہ 264
  12. سبعینی کی تسمیہ اسی وجہ سے ہے
  13. ایضاً، صفحہ 266؛ مزید تفصیل کے لیے: کشفُ الظنون، ذیلِ «التوراة»
  14. اسرائیلیات
  15. التنبیه و الاشراف، 112
  16. فهرست کتاب‌های چاپی فارسی، ذیل تورات و کتاب مقدس
  17. سورۂ شوریٰ، آیت 11